Friday, February 1, 2019

این ایف سی ایوارڈ اور دو صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قراردادیں



این ایف سی ایوارڈ بدلنے میں مشکلات 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
این ایف سی ایوارڈ اور دو صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قرار دادیں
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
مالیاتی ایوارڈ اور وفاق کی جانب سے صوبوں کو گرانٹس پاکستان میں موضوع بحث رہی ہیں۔وسائل پر مرکزیت کی وجہ سے صوبے خود کو وفاق کے رحم و کرم پر سمجھتے رہے۔اس صورتحال میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ کے بعد ایک حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جب مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ایوارڈ کو آئینی تحفظ بھی دیا گیا کہ کہ صوبوں کا حصہ آئین میں ترمیم کے بغیر کم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایوارڈ اگرچہ پیپلزپارٹی کے دور حکومتیں دیا گیا تھا لیکن اس وقت ملک کی دوسری بڑی پارٹی نواز لیگ اپوزیشن میں اور پنجاب میں حکومت میں تھی۔لہٰذا یہ ایوارڈ پوری چھان پھٹک کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ 
2009 میں دیئے گئے اس ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا دیا گیا تھا۔اس ایوارڈ کے آنے کے بعد آئی ایم ایف اور سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ صوبوں سے اتنی بڑی رقومات کی صوبوں کو منتقلی پر سوالیہ نشان ڈالتی رہی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے گزشتہ سال این ایف سی ایوارڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لئے کہا تھا تاکہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ 
آئی ایم ایف کے تین بڑے مشورے ہیں: ۱) مشترکہ مفادات کی کونسل کے ماتحت ٹیکنوکریٹس کی کی ایک مالیاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ۲) وفاق اور صوبوں کے مشترکہ نگرانی میں مستقل کانٹیجنسی فنڈ قائم کیا جائے۔ ۳) صوبوں اور وفاق کے مشترکہ دائرہ اختیار میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے نیشنل ٹیکس کمیشن قائم کیا جائے۔ آئی ایم ایفپاکستان کی مالی صورتحال پر اس لئے بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ پاکستان اس کا گاہک ہے۔ ابھی بھی اس کا مقروض ہے اورآئندہ بھی قرضہ دینے کا خواہشمند ہے۔ اس کو پاکستان کے عوام یا صوبوں سے زیادہ اپنے قرضے اور منافع کی فکر زیادہ رہتی ہے۔ 
موجودہ این ایف سی جس کو صوبوں کے حق میں زیادہ سمجھا جاتا ہے اس کا جھکاؤ بھی چھوٹے صوبوں کی طرف کم ہے۔ وفاق اور صبوں کے درمیان تقسیم کے بعد جو رقم بچ جاتی ہے وہ قابل تقسیم پول کہلاتا ہے۔قابل تقسیم پول میں سے پانچ فیصد روینیو جمع کرنے 10.3 فیصد غربت پر،2.7 فیصد آبادی کا دباؤ کم کرنے پر خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ 
عملی صورتحال یہ ہے کہ ساتویں مالیاتی ایوارڈ میں س 42.5 فیصد وفاقی حکومت کو دیا گیا۔ باقی 57.5 فیصد صبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نتیجے میں پنجاب کو 51.7 فیصد۔ سندھ کو 24.55 فیصد ، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد دیا گیا ہے ۔
سندھ تقسیم کے موجودہ فارمولا کی مخالفت کرتا ہے ، جس میں بڑا عنصر آبادی ہی ہے۔ و ہ سمجھتا ہے کہ وہ قومی خزانہ میں 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ اسے 24.55 فیصد ملتا ہے۔ 
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس چھ فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ملک کی موجودہ مالی صورتحال اور بعض حلقوں کی جانب سے ساتویں ایوارڈ پر تحفظات کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ایک طرف اس اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ساتویں ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جومالی اور سیاسی توازن قائم ہوا ہے اس میں کوئی بگاڑ نہ آجائے۔دو سری طرف ایک دوسرے کے مقابل دلائل ہیں۔اس ضمن میں سندھ کا رول زیادہ ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔کیونکہ سندھ میں ایسی جماعت کی حکومت ہے جووفاق میں اپوزیشن میں ہے۔ دوسرے یہ کہ سندھ قدرتی گیس، تیل کی پیداوار زیادہ دیتا ہے اور سیلز ٹیکس کی وصولی بھی یہاں سے دوسرے صوبوں کے مقابے میں زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کی مرکز اور دو صوبوں میں حکومت ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے۔ چھوٹے صوبوں کے حق میں اقتدار کا جھکاؤ نہیں ہے۔ 
وفاق کا موقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کی ایڈ جسٹمنٹ کرنی ہے، اس میں صوبوں کا اپنا حصہ کم کریں گے اور فاٹا کو 3 فیصد دیں گے، وزیر اعظم نیفوری طور پر این ایف سی ایوارڈ کے طریقہ کار پر نظرثانی کا کہا ہے۔
سندھ اسمبلی نے گزشتہ ماہ متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایین ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کا اعلان کیا جائے۔ 
گزشتہ نومبر میں وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورسلیم جھگڑا نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی مخالفت کرے گی،اٹھارویں ترمیم بہترین قانون سازی ہے ۔وفاقی اکائیوں کو زیادہ خودمختار بنانا ہے تو انکو ترقی کے لیے زیادہ پیسہ بھی دینا ہے ۔ انہوں نے فرمائش کی کہ سندھ فاٹا کے لیے این ایف سی کا حصہ نہیں دینا چاہتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ وہ ہماری مدد کریں۔
موجودہ بلوچستان اسمبلی نے اکتوبر میں این ایف سی ایوارڈ پر بحث کی تکمیل پر بلوچستان اسمبلی کے ایوان نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نویں این ایف سی ایوارڈ میں رقبہ، آبادی، غربت و پسماندگی، قدرتی وسائل، ساحلی ترقی اور ایس ڈی جیز کے حصول کو وسائل کی تقسیم کے فارمولے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ چار صوبوں میں سے دو کی اسمبلیاں نئے ایوارڈ میں صوبوں کو زیادہ حصہ دینے کا مطلابہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی فرمائش کیسے پوری ہوسکتی ہے؟
پیپلزپارٹی کا یہ موقف ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کے ساتھ چھیڑ خانی کا خیال دل سے نکال دے، کوئی فیصلہ کرنے سے قبل آئین کا مطالعہ بھی کر لیا کرے، آئین میں واضح ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھے گا کم نہیں ہوگا۔ 
جماعت اسلامی پاکستا ن کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ حکومت صوبوں پر مالیاتی کٹوتی نہ لگائے۔ این ایف سی ایوارڈ پر قومی اتفا ق رائے کیا گیا ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ سے ملک میں بے یقینی اور مرکز گریز رجحانات بڑھیں گے۔ 
سندھ کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کرنے کے بجائے صوبوں کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھا آمدنی بڑھانے پر متعلقہ صوبے کو زیادہ حصہ دیا جائے۔ 
اگرچہ ہول سیل اور رٹیل سیلز خدمات کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن وفاقی روینیو بورڈ سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کام سندھ روینیو بورڈ زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ سندھ یہ بھی تجویز رکھتا ہے کہ سیلز ٹیکس اگر صوبوں کو نہ دیا جائے تو یہ کام کم از کم سندھ میں صوبائی روینیو بورڈ وفاق کی جانب سے کر سکتا ہے۔ وصولی پراٹھنے والے اخراجات منہا کر کے باقی رقم وفاق کو دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سے وفاقی حکومت غیر منقولہ جائداد پر کیپٹل گین ٹیکس وصول کرتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ٹیکس صوبائی دارے میں آتا ہے۔ گیس انفرا اسٹرکچر ڈولپمنٹ سیس بھی صوبوں کو منتقل کیا جائے کیونکہ یہ بھی صوبائی دارے کا اسم ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ کو اس ضمن میں وصول کی جانے والے ٹیکس میں سے کبھی بھی اس کا جائز حصہ نہیں ملا ہے۔ سندھ یہ بھی چاہتا ہے کہ قدرتی گیس پر ایکسائیز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے۔ 
خام تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی وفاق وصول کرتا ہے اور اس کے لئے دو فیصد رقم وصولی کی مد میں اپنے پاس رکھتا ہے۔ یہ رائلٹی وصول کرنے کا اختیار بھی صوبوں کو دیا جائے۔ 
آکٹرائے اور ضلع ٹیکس تصرف کا ٹیکس ہے جس میں سندھ کا حصہ 46 فیصد بنتا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کے پاس اس کی تقسیم جانے کے بعد اس کو کم رقم دی جاتی ہے۔ 
اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کی تھی۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ 2010 میں اس مد میں رقم کی تقسیم کو بھی این ایف سی ایوارڈ کے تناسب سے دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس سے سندھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سندھ چاہتا ہے کہ اس مد میں سندھ کے حصہ میں دو فیصد اضافہ کیا جائے۔ 
این ایف سی ایوارڈ طویل عرصے تک التوا کا شکار رہا۔ نواز لیگ حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی میں سے ایک یہ بھی ہے۔ اب سخت معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت این ایف سی ایوارڈ کی طرف جارہی ہے۔ 
اب آئینی طور پرسوشل سیکٹر صوبوں کا دائرہ اختیار ہے۔ لہٰذا زیادہ وسائل مرکز سے صوبوں کو جانے چاہئیں۔ ان کو اپنے پسماندی علاقوں کو ترقی دلانے ہے غربت کے خاتمے کے اقدامات کرنے ہیں۔ اس کے للئے بھی وسائل کی ضرورت ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو یہ شکایت بھی موجود ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے صوبائی خود مختاری ایک خالی کاغذی تحریر بن گئی ہے۔ بعض محکمے اور ان کے اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے لئے صوبے کی صلاحیت کا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کا عموما ذکر بھی کیا جاتا ہے لیکن سندھ اور دیگر صوبوں کے لئے صلاحیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس لئے سندھ اختیارات کی اٹھارویں ترمیم کے مطابق مکمل منتقلی چاہتا ہے۔ 
این ایف سی کے آئندہ اجلاس میں سندھ نے مذکورہ بالا نکات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کسی طرح بھی صوبوں کو اس منتقلی میں کمی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔تحریک ناصاف کی حکومت آئینی بندشوں کی موجودگی میں ایوارڈ کیسے تبدیل کر پائے گی؟ جبکہ حکمران جماعت کی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ شدید سیاسی کشیدگی چل رہی ہے۔ یہ ایک سیاسی سوال ہے۔ تاہم اگر کوئی اور مکینزم بھی بنایا جاتا ہے تو بھی نیا ایوارڈ ایسا ہو کہ صوبوں کو زیادہ ترغیب ملے کہ وہ اپنے سوشل سیکٹر کو بہتر بنائیں۔ 
این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ کم کرنے سے صوبے میں غربت مزید بڑھے گی۔



Difficulties in new NFC award - Sohail Sangi - Nai Baat Feb 1, 2019

NFC Award - Sindh

https://www.naibaat.pk/31-Jan-2019/20714

No comments:

Post a Comment