سندھ میں پھرنئے صوبے کا مطالبہ کیوں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ اسمبلی نے صوبائی بجٹ منظور کرنے کی رسم ادا کر لی۔ اسمبلی کابجٹ سیشن کم اور تقریری مقابلہ زیادہ لگ رہا تھا جس میں ان باتوں کو بھی زیر بحث لایا گیا جن کا بجٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ بجٹ سیشن کی اہم واقعات میں ایوان کے اندر کیمرا لانے پر پابندی ، طویل تقاریر، سندھ کے عام آدمی کو درپیش مسائل سے چشم پوشی، سیاسی معاملات کو چھیڑنا، غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال ، اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے بعض اعترافات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارالحسن جو کہ اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ان کا خطاب کل 3 گھنٹے 23منٹ پر مشتمل تھا ۔ اس سے قبل وزیر خزانہ نے تین گھنٹے تک تقریر کی۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارالحسن جو کہ اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ان کا خطاب کل 3 گھنٹے 23منٹ پر مشتمل تھا ۔ اس سے قبل وزیر خزانہ نے تین گھنٹے تک تقریر کی۔
ایم کیو ایم کے اراکین روز سندھ کی تقسیم اور الگ صوبے کا مطالبہ یا ذکر کرتے تھے، جوابا پیپلزپارٹی کے اراکین اسی لہجے میں ان کو جواب دیتے تھے۔ اپوزیشن لیڈر اظہار الحسن نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارا لحسن نے کہا کہ اگر میئر اور ڈپٹی میئر کو اختیارات نہیں ملیں گے، مہاجروں کو حقوق نہیں ملیں گے تو ”آدھا تمہارا آدھا ہمارا “ کا نعرہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت ہماری ہوگی، مہاجر، پٹھان، پنجابی کوئی بھی وزیراعلیٰ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہار الحسن کی جارحانہ تقریر تھی لیکن اس کے دوران سرکاری بنچوں سے کوئی شور شرابہ نہیں ہوا۔ شاید انہیں پہلے ہی سمجھا دیا گیا تھا۔ کیونکہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ سندھ کو تقاریر کرنی تھیں۔ حکمران جماعت چاہتی تھی کہ ان کے دو اہم رہنماﺅں کی تقاریر کے دوران شور شرابہ نہ ہو۔ یہ المیہ ہے کہ ایم کیو ایم کے محفوظ یار خان نے ماحول کو جذباتی بنا دیا اور کہا کہ کراچی صوبہ تحریک دوبارہ شروع کرنی پڑے گی۔ یوں ان کی تقریر کے بعد ایوان سندھ کی تقسیم کے مطالبے کے حوالے ہو گیا۔
جواب میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی خوب اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ سیاسی مجبوری کے باعث دونوں جماعتیں سندھ کی تقسیم پر کھل کر بات کر رہی تھیں۔ متحدہ کا کوئی ممبر اپنی تقریر میں روز یہ بات چھیڑتا تھا اور جواب میں پیپلزپارٹی کے اراکین اسی لہجے میں جواب دیتے تھے۔ اور جذباتی تقریر کر کے اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی چھپا لیتا تھا۔
جواب میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی خوب اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ سیاسی مجبوری کے باعث دونوں جماعتیں سندھ کی تقسیم پر کھل کر بات کر رہی تھیں۔ متحدہ کا کوئی ممبر اپنی تقریر میں روز یہ بات چھیڑتا تھا اور جواب میں پیپلزپارٹی کے اراکین اسی لہجے میں جواب دیتے تھے۔ اور جذباتی تقریر کر کے اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی چھپا لیتا تھا۔
وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے الگ صوبے کے نعرے کا جواب دیا ”سندھ میں ہوگا ایسے گزارا، سارا ہمارا سارا ہمارا، ہم سب کی ہے دھرتی مل کے کرنا ہے گزارا۔ آپ سندھ کو own کرو۔ اس دھرتی کو اپنی ماں مانو۔ “ فنکشنل لیگ جو اپوزیشن میں ہے، لیکن وہ ایم کیو ایم سے الگ کھڑی رہی بلکہ فنکشنل لیگ کے رکن نند کمار نے ایم کیو ایم کے الگ صوبے کے مطالبے کی مخالفت کی اور کہا کہ قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کو سندھ کے لوگوں نے دل میں جگہ دی املاک اور وسائل دیئے۔ اب وہ یہ احسان بھول گئے ہیں اور سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نند کمار کی اس تقریر پر حکمران جماعت نے ڈیسکیں بجا کر خیر مقدم کیا۔
سندھ اسمبلی کے اندر سیاسی تقسیم دلچسپ ہے۔ اپوزیشن کی سیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے۔ ایوان میں فنکشنل لیگ، نواز لیگ شیرازی گروپ سمیت سندھی اراکین اسمبلی خود کو گومگو کی صورتحال میں پا تے ہیں۔ یہ ممبران تعداد میں بھی کم ہیں اور ان کا تعلق الگ پارٹیوں سے ہے۔ لہٰذا موقع محل کے مطابق حکمران جماعت یا ایم کیو ایم کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں۔
اپوزیشن میں بیٹھے سندھی اراکین نے اپنی الگ شناخت کرانے کا موقعہ ڈھونڈ لیا جب صوبائی وزیر مماز جکھرانی نے ایم آرڈی میں اہم کردار ادا کرنے والے فاضل راہو کا ذکر کرتے ہوئے ان بیٹے اسماعیل راہو کو طعنہ دیا کہ وہ نواز لیگ میں کیوں شامل ہیں۔ اپوزیشن کے سندھ ممبران نے اس پر احتجاج کیا تاہم ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔
میر ہزار خان بجارانی جنہیں وزیر تعلیم بنایا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ وزارت لینے انکار کردیا تھا۔ ان کی ناراضگی تاحال چل رہی ہے، سابق وزیر تعلیم پیرمظہرالحق کے بیٹے پیر مجیب، اور ذولفقار مرزا کے حسنین مرزا بھی میر ہزار خان بجارانی کی طرح خود کو دور ہی رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دوری بجٹ اجلاس کے دوران بھی نظر آئی۔
سندھ میں الگ صوبے کا مطالبہ شروع سے ہی متنازع اور جذباتی رہا ہے۔ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ باہر سے آکر آباد ہونے والے لوگ ان کی دھرتی کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں، ایم کیو ایم گاہے بگاہے یہ مطالبہ اٹھاتی رہی ہے۔ خاص طور پر جب وہ تنگ گلی میں پہنچتی ہے یا پھر جب اپنے دوسرے مطالبات منوانے ہوتے ہیں تو اس مطالبے کو بطور آلہ استعمال کرتی رہی ہے۔
یہ بدقسمتی ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر لسانی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ جواب میں پیپلزپارٹی کو بھی قوم پرستانہ انداز اختیار کرنا پڑا۔ اس وقت کراچی میں میئرکے انتخابات متوقع ہیں۔
یہ بدقسمتی ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر لسانی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ جواب میں پیپلزپارٹی کو بھی قوم پرستانہ انداز اختیار کرنا پڑا۔ اس وقت کراچی میں میئرکے انتخابات متوقع ہیں۔
ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ اسے آزادی سے اپنا میئر منتخب کرنے دیا جائے اور یہ بھی کہ میئر اور ڈپٹی میئر کو اختیارات بھی دینے جائیں۔ یہ مطالبہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارالحسن نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی واضح طور پر کیا۔ ایم کیوایم نے اس مرتبہ یہ مطالبہ اس لئے بھی کیا کہ ا سے اپنے ”باغیوں“ کی پاک سرزمین پارٹی سے بھی خطرہ ہے۔ جو کراچی میں لبرل اور معتدل سیاست کرنے کا دعوا کرتی ہے اور یہ موقف رکھتی ہے کہ ایم کیو ایم کی انتہا پسندانہ سیاست اور نعروں نے مہاجروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اور تنہا کیا ہے۔
اگرچہ مصطفیٰ کمال کی یہ جماعت تاحال عوامی سطح پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ بتدریج اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم کسی طور پر بھی نہیں چاہے گی کہ اس جماعت کو جگہ ملے۔
اگرچہ مصطفیٰ کمال کی یہ جماعت تاحال عوامی سطح پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ بتدریج اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم کسی طور پر بھی نہیں چاہے گی کہ اس جماعت کو جگہ ملے۔
بجٹ سیشن کے دوران اس حساس بحث کو سامنے لانے کا فائدہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں کو ملا، جو ماضی میں ایک دوسرے کی حلیف بھی رہی ہیں اور حریف بھی۔ پیپلزپارٹی کو یہ موقعہ ملا کہ وہ جذباتی تقاریر کر کے اپنے حلقہ انتخاب کو خوش کر لے جو کسی طور پر بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ناقص کارکردگی، کرپشن وغیرہ کے معاملات پر آسانی سے پردہ ڈال سکے اور جوابدہی سے بچ سکے ۔
اچھی حکمرانی قائم کرنے اور اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کے بجائے متنازع معاملات کو اٹھایا جارہا ہے جس کا براہ راست بجٹ یاعوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ ایم کیو ایم صوبے کی اپوزیشن کارول ادا کرنے کے بجائے خود کو کراچی یا پھر لسانی حد تک محدود کررہی ہے۔ اس کی سوئی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایک جگہ پر اٹکی ہوئی ہے۔ بعض اراکین کی جانب سے یہ بھی رائے آئی کہ نئے صوبے کا معاملہ ایک حساس اشو ہے جس پر اس طرح سے بحث پر پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ اس سے تلخیاں بڑھتی ہیں اور اصل معاملات زیر بحث نہیں آپاتے۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کے دوران اپنی حکومت کی کرکردگی کی تفصیلات بتائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض اعترافات بھی کئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میںکراچی پولیس میں بھرتیاں ایم کیو ایم کی دی گئی لسٹ کے مطابق کی گئیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر یہ بھرتیاں غلط تھیں تو اس ضمن میں حکومت نے کیا اقدامات کئے؟
انہوں نے 12 مئی 2007 کے سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12 مئی کے سانحے کے ملزمان کو جانتے ہیں لیکن ان کے نام نہیں لوں گا۔ چیف جسٹس چوہدری افتخار محمدکو روکنے کے لئے روڈ بلاک کئے گئے پولیس سے اسلح لے لیا گیا۔ انسانوں کا پرندوں کی طرح شکار کیا گیا۔ لیکن ایک بھی گرفتاری نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ایم کیو ایم پر احسان جاتاتے ہوئے کہا کہ سب کچھ پتہ ہوتے ہوئے بھی ان کی حکومت نے نہ کوئی تحقیقات کی اور نہ کوئی ایکشن لیا۔ وزیراعلیٰ کا یہ ایم کیو ایم پر تو احسان ہو سکتا ہے لیکن ان کی حکومت کی ناکامی اور سیاسی مصلحت پسندی کا اعتراف ہے۔ اس طرح کی کئی ناانصافیاں پیپلزپارٹی کی حکومت کی مصلحت پسندی کی وجہ سے پس وپیش ڈال دی گئی ہونگی۔ س کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اگر پیپلزپارٹی اس طرح کے واقعات بھی نظرانداز کرتی رہی جو آگے چل کر رینجرز کو مزید اختیارات دینے، کراچی آپریشن، اور وفاق کی مداخلت کا باعث بنے۔ اب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سندھ پولیس میں بھرتیاں کس طرح سے ہوں یہ بھی وفاقی وزیر داخلہ طے کر رہے ہیں۔
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/29-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx





