Wednesday, June 29, 2016

سندھ میں پھرنئے صوبے کا مطالبہ کیوں؟



سندھ میں پھرنئے صوبے کا مطالبہ کیوں؟

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 

سندھ اسمبلی نے صوبائی بجٹ منظور کرنے کی رسم ادا کر لی۔ اسمبلی کابجٹ سیشن کم اور تقریری مقابلہ زیادہ لگ رہا تھا جس میں ان باتوں کو بھی زیر بحث لایا گیا جن کا بجٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ بجٹ سیشن کی اہم واقعات میں ایوان کے اندر کیمرا لانے پر پابندی ، طویل تقاریر، سندھ کے عام آدمی کو درپیش مسائل سے چشم پوشی، سیاسی معاملات کو چھیڑنا، غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال ، اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے بعض اعترافات شامل ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارالحسن جو کہ اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ان کا خطاب کل 3 گھنٹے 23منٹ پر مشتمل تھا ۔ اس سے قبل وزیر خزانہ نے تین گھنٹے تک تقریر کی۔ 

ایم کیو ایم کے اراکین روز سندھ کی تقسیم اور الگ صوبے کا مطالبہ یا ذکر کرتے تھے، جوابا پیپلزپارٹی کے اراکین اسی لہجے میں ان کو جواب دیتے تھے۔ اپوزیشن لیڈر اظہار الحسن نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارا لحسن نے کہا کہ اگر میئر اور ڈپٹی میئر کو اختیارات نہیں ملیں گے، مہاجروں کو حقوق نہیں ملیں گے تو ”آدھا تمہارا آدھا ہمارا “ کا نعرہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت ہماری ہوگی، مہاجر، پٹھان، پنجابی کوئی بھی وزیراعلیٰ ہو سکتا ہے۔

 اگرچہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہار الحسن کی جارحانہ تقریر تھی لیکن اس کے دوران سرکاری بنچوں سے کوئی شور شرابہ نہیں ہوا۔ شاید انہیں پہلے ہی سمجھا دیا گیا تھا۔ کیونکہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ سندھ کو تقاریر کرنی تھیں۔ حکمران جماعت چاہتی تھی کہ ان کے دو اہم رہنماﺅں کی تقاریر کے دوران شور شرابہ نہ ہو۔ یہ المیہ ہے کہ ایم کیو ایم کے محفوظ یار خان نے ماحول کو جذباتی بنا دیا اور کہا کہ کراچی صوبہ تحریک دوبارہ شروع کرنی پڑے گی۔ یوں ان کی تقریر کے بعد ایوان سندھ کی تقسیم کے مطالبے کے حوالے ہو گیا۔

 جواب میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی خوب اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ سیاسی مجبوری کے باعث دونوں جماعتیں سندھ کی تقسیم پر کھل کر بات کر رہی تھیں۔ متحدہ کا کوئی ممبر اپنی تقریر میں روز یہ بات چھیڑتا تھا اور جواب میں پیپلزپارٹی کے اراکین اسی لہجے میں جواب دیتے تھے۔ اور جذباتی تقریر کر کے اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی چھپا لیتا تھا۔ 

 وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے الگ صوبے کے نعرے کا جواب دیا ”سندھ میں ہوگا ایسے گزارا، سارا ہمارا سارا ہمارا، ہم سب کی ہے دھرتی مل کے کرنا ہے گزارا۔ آپ سندھ کو own کرو۔ اس دھرتی کو اپنی ماں مانو۔ “ فنکشنل لیگ جو اپوزیشن میں ہے، لیکن وہ ایم کیو ایم سے الگ کھڑی رہی بلکہ فنکشنل لیگ کے رکن نند کمار نے ایم کیو ایم کے الگ صوبے کے مطالبے کی مخالفت کی اور کہا کہ قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کو سندھ کے لوگوں نے دل میں جگہ دی املاک اور وسائل دیئے۔ اب وہ یہ احسان بھول گئے ہیں اور سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نند کمار کی اس تقریر پر حکمران جماعت نے ڈیسکیں بجا کر خیر مقدم کیا۔ 

سندھ اسمبلی کے اندر سیاسی تقسیم دلچسپ ہے۔ اپوزیشن کی سیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے۔ ایوان میں فنکشنل لیگ، نواز لیگ شیرازی گروپ سمیت سندھی اراکین اسمبلی خود کو گومگو کی صورتحال میں پا تے ہیں۔ یہ ممبران تعداد میں بھی کم ہیں اور ان کا تعلق الگ پارٹیوں سے ہے۔ لہٰذا موقع محل کے مطابق حکمران جماعت یا ایم کیو ایم کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ 

 اپوزیشن میں بیٹھے سندھی اراکین نے اپنی الگ شناخت کرانے کا موقعہ ڈھونڈ لیا جب صوبائی وزیر مماز جکھرانی نے ایم آرڈی میں اہم کردار ادا کرنے والے فاضل راہو کا ذکر کرتے ہوئے ان بیٹے اسماعیل راہو کو طعنہ دیا کہ وہ نواز لیگ میں کیوں شامل ہیں۔ اپوزیشن کے سندھ ممبران نے اس پر احتجاج کیا تاہم ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ 

میر ہزار خان بجارانی جنہیں وزیر تعلیم بنایا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ وزارت لینے انکار کردیا تھا۔ ان کی ناراضگی تاحال چل رہی ہے، سابق وزیر تعلیم پیرمظہرالحق کے بیٹے پیر مجیب، اور ذولفقار مرزا کے حسنین مرزا بھی میر ہزار خان بجارانی کی طرح خود کو دور ہی رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دوری بجٹ اجلاس کے دوران بھی نظر آئی۔ 

 سندھ میں الگ صوبے کا مطالبہ شروع سے ہی متنازع اور جذباتی رہا ہے۔ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ باہر سے آکر آباد ہونے والے لوگ ان کی دھرتی کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں، ایم کیو ایم گاہے بگاہے یہ مطالبہ اٹھاتی رہی ہے۔ خاص طور پر جب وہ تنگ گلی میں پہنچتی ہے یا پھر جب اپنے دوسرے مطالبات منوانے ہوتے ہیں تو اس مطالبے کو بطور آلہ استعمال کرتی رہی ہے۔ 

یہ بدقسمتی ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر لسانی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ جواب میں پیپلزپارٹی کو بھی قوم پرستانہ انداز اختیار کرنا پڑا۔ اس وقت کراچی میں میئرکے انتخابات متوقع ہیں۔

 ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ اسے آزادی سے اپنا میئر منتخب کرنے دیا جائے اور یہ بھی کہ میئر اور ڈپٹی میئر کو اختیارات بھی دینے جائیں۔ یہ مطالبہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہارالحسن نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی واضح طور پر کیا۔ ایم کیوایم نے اس مرتبہ یہ مطالبہ اس لئے بھی کیا کہ ا سے اپنے ”باغیوں“ کی پاک سرزمین پارٹی سے بھی خطرہ ہے۔ جو کراچی میں لبرل اور معتدل سیاست کرنے کا دعوا کرتی ہے اور یہ موقف رکھتی ہے کہ ایم کیو ایم کی انتہا پسندانہ سیاست اور نعروں نے مہاجروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اور تنہا کیا ہے۔ 

اگرچہ مصطفیٰ کمال کی یہ جماعت تاحال عوامی سطح پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ بتدریج اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم کسی طور پر بھی نہیں چاہے گی کہ اس جماعت کو جگہ ملے۔ 

بجٹ سیشن کے دوران اس حساس بحث کو سامنے لانے کا فائدہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں کو ملا، جو ماضی میں ایک دوسرے کی حلیف بھی رہی ہیں اور حریف بھی۔ پیپلزپارٹی کو یہ موقعہ ملا کہ وہ جذباتی تقاریر کر کے اپنے حلقہ انتخاب کو خوش کر لے جو کسی طور پر بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ناقص کارکردگی، کرپشن وغیرہ کے معاملات پر آسانی سے پردہ ڈال سکے اور جوابدہی سے بچ سکے ۔

 اچھی حکمرانی قائم کرنے اور اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کے بجائے متنازع معاملات کو اٹھایا جارہا ہے جس کا براہ راست بجٹ یاعوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ ایم کیو ایم صوبے کی اپوزیشن کارول ادا کرنے کے بجائے خود کو کراچی یا پھر لسانی حد تک محدود کررہی ہے۔ اس کی سوئی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایک جگہ پر اٹکی ہوئی ہے۔ بعض اراکین کی جانب سے یہ بھی رائے آئی کہ نئے صوبے کا معاملہ ایک حساس اشو ہے جس پر اس طرح سے بحث پر پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ اس سے تلخیاں بڑھتی ہیں اور اصل معاملات زیر بحث نہیں آپاتے۔ 


 وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کے دوران اپنی حکومت کی کرکردگی کی تفصیلات بتائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض اعترافات بھی کئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میںکراچی پولیس میں بھرتیاں ایم کیو ایم کی دی گئی لسٹ کے مطابق کی گئیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر یہ بھرتیاں غلط تھیں تو اس ضمن میں حکومت نے کیا اقدامات کئے؟

 انہوں نے 12 مئی 2007 کے سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12 مئی کے سانحے کے ملزمان کو جانتے ہیں لیکن ان کے نام نہیں لوں گا۔ چیف جسٹس چوہدری افتخار محمدکو روکنے کے لئے روڈ بلاک کئے گئے پولیس سے اسلح لے لیا گیا۔ انسانوں کا پرندوں کی طرح شکار کیا گیا۔ لیکن ایک بھی گرفتاری نہیں کی۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ایم کیو ایم پر احسان جاتاتے ہوئے کہا کہ سب کچھ پتہ ہوتے ہوئے بھی ان کی حکومت نے نہ کوئی تحقیقات کی اور نہ کوئی ایکشن لیا۔ وزیراعلیٰ کا یہ ایم کیو ایم پر تو احسان ہو سکتا ہے لیکن ان کی حکومت کی ناکامی اور سیاسی مصلحت پسندی کا اعتراف ہے۔ اس طرح کی کئی ناانصافیاں پیپلزپارٹی کی حکومت کی مصلحت پسندی کی وجہ سے پس وپیش ڈال دی گئی ہونگی۔ س کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 

 اگر پیپلزپارٹی اس طرح کے واقعات بھی نظرانداز کرتی رہی جو آگے چل کر رینجرز کو مزید اختیارات دینے، کراچی آپریشن، اور وفاق کی مداخلت کا باعث بنے۔ اب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سندھ پولیس میں بھرتیاں کس طرح سے ہوں یہ بھی وفاقی وزیر داخلہ طے کر رہے ہیں۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/29-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 

http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 



Wednesday, June 22, 2016

جمہوریت کا خسارہ

For Nai Baat June  21, 2016 

 جمہوریت کا خسارہ

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

جب پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوتیں ایک ساتھ مل کر ملکی معاملات چلا رہی تھیں، اپوزیشن بھی جس طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔ ایسے میں اچانک علامہ طاہرلاقادری کی آمد ہوئی ہے۔ ان کی آمد اور عید کے بعد دھرنا دینے کے اعلان نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔ وہ آرمی چیف سے ہی مطلابہ کر رہے ہیں کہ ماڈل ٹاﺅن ک سانحے کے لواحقین کو انصاف دلائیں۔ علامہ قادری نے یاد دلایا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایات پر ہی دو سال قبل اس واقعے میں مرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکنوں کی قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ 

جنرل مشرف نے جو ملک کے سیاسی ڈھانچے اور مکینزم کو تبدیل کیا تھا۔ اس کے بعد ایک منتخب حکومت آئی اور جوں توں کر کے اپنی مدت پوری کر لی۔ اس کے بعد دوسری منتخب حکومت لنگڑاتی ہوئی مدت پوری کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 

یہ درست ہے کہ ملک میں منتخب حکومت ہے۔ لیکن یہ جمہوریت بے مقصد سی بن کر رہ گئی ہے۔ مشرف کے جانے کے بعد خیال تھا کہ جمہوری اور آئین اصلاحات آئیں گی۔ اور طاقت کا توازن جمہوریت اور عوام کے حق میں آ جائے گا۔ آئینی اصلاھات ہونگی۔ جمہوریت جڑیں پکڑے گی۔ اور تبدیلیاں کچھ گہری ہونگی۔ 

پہلا دور پیپلزپارٹی کا تھا ۔ اگرچہ امیدوں پر پورا نہیں اترا لیکن پھر بھی کچھ حاصلات ہوئیں۔ باقی دوسرے دور کے لئے چیزیں چھوڑ دی گئیں۔شایداس لئے بھی کہ دوسرا دور نواز لیگ کا ہوگا جس کا آبائی صوبہ پنجاب بنتا ہے، اس لئے وہ کچھ مزید چیزیں کر لے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ملکی معیشت میں بہتری، لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع ، انڈیا سے تعلقات اور ترجیحات میں برابری کے معاملات کو وزیراعظم نواز شریف ٹھیک سے دیکھ نہ سکے۔ 

اس کی ایک توضیح یہ بھی ہے کہ اس کے سکرو ٹائیٹ ہوتے رہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن سیاسی طور پر وہ کچھ کر سکتے تھے۔ ایسا کچھ جس سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں۔ سیاسی قوتوں سے جڑے رہنے کی پالیسی پر مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہتے۔ اصل میں یہ جمہوریت کا ہی خسارہ اور کمی تھی جس کی وجہ سے میاں صاحب نے اپنا نقصان جو کیا سو کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پورے نظام کا اور تسلسل کا بھی نقصان کیا۔ اب بھی کوئی لمبی چوڑی امید نہیں کہ جمہوریت کے اس خسارے کا ازالہ کریں گے۔ 

جمہویرت تسلسل اور تبدیلی دونوں کا نام ہوتی ہے۔ اور اس جمہویرت کی جھلک طرز حکمرانی کے ساتھ اپرٹی کے اندر اور فیصلے سازی میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کو میاں نواز شریف قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پارٹی اپنا پارلیمانی لیڈر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 

 سال رواں کے دوران یہ سیاسی سرگرمی کا دوسرا راﺅنڈ ہوگا۔ پہلا راﺅنڈ پاناما لیکس کے خلاف چل چکا ہے۔ اس دوران ملک ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلتا رہا۔ وزیراعظم ہارٹ سرجری کے حوالے سے لندن میں ہیں اور وہیں سے وہ احکامات بھی جاری کر رہے ہیں۔ کابینہ کے جلاس کی بھی صدارت کر رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری دبئی یا لندن سے ملکی سیاست اور سندھ حکومت چلا رہے ہیں۔ سندھ کابینہ کے اجلاس بھی دبئی میں ہونے لگے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تو کئی برسوں سے معاملات ایسے ہی چلاتے رہے ہیں۔ عمران خان بھی اکثر ملک سے باہر جاتے رہتے ہیں۔ 

 ایک طرف ہم کہہ رہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ خطے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بیرونی خطرات کی بھی بات ہو رہی ہے۔ انڈیا کے ساتھ تعلاقت کی جو سورتحال تھی سو تھی، اب امریکہ اور افغانستان کے سات بھی معاملات خاصے خراب ہو چکے ہیں۔ کیا اس طرح سے ملکی معاملات چلائے جا سکتے ہیں؟ پورے ملک میں ایک ہی شخص سرگرم نظر آتے ہیں اور وہ ہیں جرنل راحیل شریف۔ تعجب ہے کہ باقی لیڈرشپ کہاں ہے؟ 

 اب جب علامہ صاحب جو مطالبات اور طریقہ کار لیکر دوبارہ آئے ہیں تو ایک بار پھر اصل اشوز دب جائیں گے۔ سرحدوں کی صورتحال خاصا اہم معاملہ ہے۔ سوائے چین کے باقی تمام پڑوسی ہم سے ناخوش ہیں۔ افغانستان سے تعلقات خراب ہونے کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ ان فغانیوں کو واپس بھیجنے کی بات ہو رہی ہے جنہوں نے پاکستان میں اپنے گھر کاروبار وغیرہ بنا لئے ہیں اور اپنے اسٹیک بڑھا لئے ہیں۔ ایک پوری نسل یہاں پر پل کر جوان ہوئی ہے۔ وہ افغانستان کیوں جائیں گے؟ 

علامہ قادری کی وطن واپسی میں کوئی بہت زہادہ پر اسراریت نہیں۔ کیونکہ پاناما لیکس کا معاملہ پارلیمنٹ کے اندر جانے کے بعد کچھ زیادہ بچا نہیں۔ اس ضمن میں ٹی او آرز ابھی نہیں تو عید کے بعد بن جائیں گے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ یہ کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی معاملے کو اس حد تک لے جانا نہیں چاہتی کہ بال کورٹ سے باہر چلی جائے۔ 

پیپلزپارٹی کی دو چیزوں میں زیادہ دلچسپی ہے۔ ایک یہ کہ پنجاب میں پارٹی کی بحالی، دوسرا یہ کہ نواز شریف کو اتنا کمزور کیا جائے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کے سامنے بطور آپشن نہ موجود نہ ہو۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ وہ عمران خان کے مقابلے میں اسٹبلشمنٹ اور دیگر قوتوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ 

بہرحال اسٹبلشمنٹ ان تینوں کو متوازی طور پر رکھ رہی ہے۔ نہ میاں نواز شریف اور نہ ہی زرادری کے خلاف کارروائی کا قصہ بن رہا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کو قابو میں رکھنے کے جتن کئے جاتے رہے ہیں جو اب بھی جاری ہیں۔ 

 پیپلزپارٹی کی اس میں بھی دلچسپی ہو سکتی ہے کہ نواز لیگ اپنی قیادت تبدیل کرے۔ بلاول بھٹو زرداری کے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں بیانات سے وہ یہ دکھانا چاہ رہی ہے کہ نواز لیگ اب متحد نہیں۔ لیکن ابھی تک نواز شریف مطمئن ہیں کہ پارٹی کے اندر کوئی ایسی صورت نہیں کہ وہ پارلیمانی لیڈر تبدیل کرے۔ 

 پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آزمائے ہوئے ہیں۔ بہت سارا یجنڈا جو ان کے ذمہ آتا تھا نہیں کر پائے ہیں۔ عمران خان کو آزمایا نہیں یگا ہے۔ لیکن ان سے بھی کسی بنیادی تبدیلیوں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ چوتھا آپشن یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ قدم اٹھائے اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں لےا آئے۔ لیکن اس کے امکانات بھی ختم ہو چکے ہیں۔ سیاستدانوں کا کھیل سیاستدانوں کو ہی کھیلنا ہے۔ 

 ملک میں صرف بجٹ کا ہی خسارہ نہیں۔ جمہوریت کا بھی خسارہ ہے۔ اس خسارے کو سیاسی قوتیں پورا کرنے کی پوزیشن نہیں لے رہی ہیں۔ اصل میں عوام کی طرف سے دباﺅ نہیں۔ سیاسی قوتیں عوام کو متحرک کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یہ جن اگر بوتل سے نکل آیا تو سیاسی طبقے کے قابو میں ہی نہیں آئے گا۔ عوامی دباﺅ کی عدم موجودگی میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کچھ ایسا نہیں کر سکیں جو عوام کو فائدہ دے سکے۔ اور جمہوریت میں عوام کے اسٹیک بڑھتے اور وہ اس میں بطور فریق کے کھڑے ہو سکتے تھے۔ 

ہاں ایک آپشن ہے۔ وہ ہے انتخابات۔ لیکن یہ انتخابات وسطی مدت میں کیسے ہوں؟ یہ موجودہ بنائے ہوئے آئینی ڈھانچے سے باہر کی بات ہو جاتی ہے۔ اور اس کے لئے احتجاج اور بعض غیر معمولی اقدامات کرنے پڑیں گے جو تسلسل کو توڑ دیں گے۔ تو کیا حکومت کی آئینی مدت کم کر کے چار سال کرنے پر غور کیا جارہا ہے؟ اس فارمولے سے جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟ 

اصل بات عوام کی شرکت، ان کے حقوق اور مسائل ہیں۔ ان کی فیصلہ سازی میں شرکت ہے۔ اور ایسی گورننس اور مکینزم ہے کہ عوامی ایجنڈے پر عمل ہو۔ اگر مدت کم کرنے سے مسئلہ حل ہوتا تو نوے
کے عشرے میں خواہ غلط طور پر ہی سہی، چار مرتبہ حکومتوں کی مدت کم کی گئی تھی۔ 





http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/22-06-2016/details.aspx?id=p12_06.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

Saturday, June 18, 2016

سندھ بجٹ

For Nai Baat June 13, 2016

سندھ بجٹ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
پیپلزپارٹی یقیننا اس پر خوش ہورہی ہوگی کہ اس نے 869 ارب روپے کا سندھ کا نواں بجٹ پیش کیا ہے۔9 سال کا عرصہ بہت بڑا ہوتا ہے۔اگر صحیح منصوبہ بندی اور حکمت عملی ہوتی اور اس پر ایماندارانہ طور پر عمل درآمد کیا جاتا تو آج یہ صوبہ ترقی یافتہ نہ سہی، ترقی پذیر ضرور ہوتا۔زمینی حقائق دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ تینوں چیزیں غائب ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹے خواہ بڑے شہروں میں بنیادی شہری سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ کوئی بڑا انفا اسٹرکچر نہیں بن سکا جو صوبے کی معیشت پر مثبت اور دور رس اثرات ڈالتا۔ 

کوئی بھی سیاسی جماعت جب انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے وہ اقتدار میں آرہی ہے، اس کے پاس ایک ویزن ہوتا ہے۔ اور یہ ویزن اس کی معاشی اور مالی پالیسیوں میں منعکس ہوتا ہے۔ ان9 بجٹوں میں پارٹی کا کیا ویزن رہا ؟ تمام بجٹوں کے مطالعے سے کوئی ویزن سامنے نہیں آیا۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے صوبے کے کسی بھی شعبے کو کسوٹی بنایا جاسکتا ہے۔ جس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ سندھ ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 

بجٹ کی دنیا بھر میں مانی ہوئی تعریف یہ ہے کہ یہ اخراجات، آمدنی اور وسائل کا ایسا تخمینہ اور حساب کتاب ہے جو مستقبل کی مالی حالت اور مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ یہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعے مقررہ مقاصد ایکشن پلان کے ذریعے حاصل کئے جاتے ہیں۔اس حوالے سے بجٹ کارکردگی ناپنے کا معیار ہے۔ اور اس کے ذریعے مسقبل کے خراب صورتحال کا بھی اندازہ کیا جاتا ہے۔ 

 سندھ کا بجٹ کسی بھی طور پر اس تعریف کے دائرے میں نہیں آتا۔ کچھ اندازہ نہیں کہ صوبہ معاشی طور پر کس رخ میں جارہا ہے؟ اور یہ بھی پتہ نہیں کہ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت و تجارت، یا کسی بھی صوبے میں کہاں کھڑا ہے؟ کیونکہ گزشتہ برسوں کی طرح رواں سال بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں کیا یا حاصلات ہوئیں؟ اور کیا ٹارگیٹ رہ گئے؟ یعنی حکومت عملی طور پر حساب کتاب دینے کے لئے تیار نہیں۔ 
دنیا بھر میں حاصلات اور مس ہونے والے ٹارگیٹ بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ صوبائی حکومت نے وفاق، عالمی اداروں یا بینکوں سے کتنا قرضہ ماضی میں یا رواں مالی سال میں لیا؟ اس مد میں کتنی ادئگی کی گئی۔ یہ سب کچھ کارکردگی اور احتساب دونوں کے دائرے میں آتا ہے۔ اگر کارکردگی ہوتی تو یقیننا وزیر خزانہ بھی سینہ ٹھونک کر بتاتے اور یہ بجٹ دستاویز میں بھی ظاہر ہوتا۔

 اصل میں حکومت اپنی کارکردگی سے خود آنکھیں چرانا چاہ رہی ہے۔ یا اس کا اپنا مانیٹرنگ سسٹم اور نگرانی کرنے کا شعبہ اتنا کمزور ہے کہ خود حکومت کو بھی نہیں پتہ کہ گزشتہ 9 سال کے دوران جو منصوبے اور ترقیاتی پروگرام شروع کئے گئے وہ اب کس مرحلے میں ہیں؟ وہ مطلوبہ سہولیات اور کراکردگی دے رہے ہیں یا نہیں؟ 

 ستر فیصد انتظامی اور جاری ااخراجات پر ہے اور بشمکل تیس فیصد ترقیاتی پروگرام پر ہے۔ گزشتہ سالہا سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے رقومات میں سے چالیس فیصد خرچ ہی نہیں ہو پاتی ہیں۔ کیونکہ حکومت میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ یہ رقم خرچ کر سکے۔ جو ترقیاتی پروگرام پر بجٹ خرچ بھی ہوتی ہے اس کا ایک بہت بڑا حصہ کرپشن اور کمینشوں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ لہٰذا دراصل جو رقم ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوتی ہے وہ بہت ہی معمولی ہوتی ہے۔ 

 بجٹ دستاویز کے مطابق 266 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ انتظامی اور جاری اخراجات کے لئے 573 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ یعنی ستر فیصد انتظامی اور جاری ااخراجات پر ہیں اور بشمکل تیس فیصد ترقیاتی پروگرام کے لئے ہے۔

 گزشتہ چندسال کیا تجربہ بتاتا ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے رقومات میں سے چالیس فیصد خرچ ہی نہیں ہو پاتی ہیں۔ کیونکہ حکومت میں فیصلہ سازی کی اور من پسند بھرتیوں اور تقریوں کی وجہ سے بیوروکریسی میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ یہ رقم خرچ کر سکے۔یہ شکایات بھی عام ہیں کہ جو ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہونے والے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ کرپشن اور کمیشنوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا دراصل جو رقم ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوتی ہے وہ بہت ہی معمولی ہوتی ہے۔ اور اگر اس رقم کو صوبے کے باشندوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کے حصے میں چند روپے ہی آئیں گے۔ 

صوبے کی آمدنی کا بھی یہی حال ہے۔ آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ این ایف سی کے قابل تقسیم پول ہے جہاں سے سندھ کو 561 ارب روپے ملیں گے۔ لیکن سندھ حکومت دوسرے صوبوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کو راضی نہ کر سکی کہ وہ رقم کی تقسیم کے لئے نیا مالیاتی ایوارڈ دے۔ اس میں جہاں وفاق کی گڑبڑ ہے وہاں صوبائی حکومت کو بھی بری الذمہ نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ صوبے کے اپنے وسائل سے ہونے والی آمدن صوبائی ٹیکس سے 162 ارب روپے ہے۔ دیگر گرانٹس بشمول عالمی اداروں کی گرانٹس اور قرضوں کی مد میں 44 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت سے 12 ارب روپے اور مقامی بینکوں سے قرضے کی صورت میں 22 ارب روپے ملیں گے۔
 مطلب سندھ کو نئے مالی سال کے دوران کل 34 ارب روپے قرجہ لینا پڑے گا۔ جبکہ14 فیصد بجٹ کا خسارہ اس کے علاوہ ہے۔ قرضے کو آمدن میں شمار کیا گیا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ بھی خسارہ ہی ہے۔ لہٰذا کل خسارہ 48 ارب روپے ہے۔ اگر بیرونی گرانٹس کی رقم بھی اس میں شامل کی جائے تو پتہ چلے گا کہ تمام بجٹ ادھار کا ہے۔ سندھ اپنے وسائل سے زیادہ وصولی کر سکتی ہے۔ لیکن ایکسائیز، روینیو اور محکمہ آبپاشی میں وصولی کاکا نظام تباہ ہے ۔ ان محکموں میں اقربا پروری، پسند ناپسند پر تقرریاں اور تبادلے اور پھر ایسی تقرریوں کی وجہ سے کرپشن نے مزید وسائل کم کر دیئے ہیں۔ 

بجٹ میں پچاس ہزار نئی ملازمتیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں سے پچیس ہزار ملازمتیں محکمہ پولیس میں دس ہزار تعلیم میں ساڑھے تین ہزار محکمہ صحت میں دی جائیں گی ۔ سب سے زیادہ ملازمتیں پولیس میں دی جائیں گی۔ یعنی صوبہ امن و امان کے گھن چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ حکومت کوئی بھی معاشی، سماجی اور سیاسی حکمت عملی نہیں بنا پائی ہے کہ لوگوں میں عدم تحفظ ختم ہو، اور زیادہ بھرتیاں شہریوں کو بنایدی سہولیات پہنچانے کے شعبوں میں کی جاسکیں۔ یہ ملازمتیں کس حد تک میرٹ پر دی جائیں گی؟ 
آج بھی سندھ بھر میں تیس ہزار کے لگ بھگ متنازع بھرتیان موجود ہیں جن میں سے اکثر معاملات عدلیہ کے زیر سماعت ہیں۔ ان بھرتیوں کو کس طرح سے شفاف بنایا جائے گا؟ میرٹ کو کس طرح سے عزت دی جائے گی؟ واقعی اہل اور مستحق لوگوں کو ہی ملازمتیں ملیں گی یا وزراءاور اسمبلی ممبران کے عزیز رشتہ داروں کو یا پھر سفارش اور پیسوں پر دی جائیں گی؟ یہ سوال اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ ماضی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا جس کو سندھ حکومت خواہ حکمران جماعت روکنے میں ناکام رہی۔ بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے روکنا ہی نہیں چاہا تھا۔ 

 ملازمتیں دینے والی حکومت مقبول حکومت مانی جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے انتظامی اخراجات اتنے بڑھ جاتے ہین اور خود انتظام چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل حکومت کا کام ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ صنعتکاری، سرمایہ کاری تجارت اور چھوٹی صنعتوں کے مواقع بڑھیں۔ نوجوان جدید علوم اور ٹیکنالاجی سے بہرہ ور ہو کر روزگار کے نئے مواقع تلاش کریں۔ 

اس کام کے لئے ویزن چاہئے، منصوبہ بندی چاہئے اور نیک نیتی چاہئے۔ ان تینوں چیزوں کا شدید فقدان ہے ۔ اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لئے سرکاری ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال حکومت سندھ نے سالانہ ہ ترقیاتی پروگرام 162 ارب روپے کا رکھا گیا تو جو بعد میں کم کر کے 142 ارب روپے کیا گیا۔ جس کا بشمکل 51 فیصد خرچ ہو سکا ہے۔ جس طرح سے میزانیہ میں دکھایا گیا ہے اس حساب سے باقی انیس روز میں 70 ارب روپے کیسے خرچ کئے جائیں گے؟ 

 ایک مرتبہ پھر ان شکوک کو مدد لتی ہے کہ سال بھر تک ترقیاتی اخراجات روکے جاتے ہیں۔ اور آخری ماہ میں جلدی جلدی میں رقومات جاری کردی جاتی ہیں ۔ ایسی صورت میں نہ قانونی ضابطے پورے ہو پاتے ہیں اور نہ صحیح طریقے سے کام ہو پاتا ہے۔ حکومت ان کاموں کی مانیٹرنگ بھی نہیں کر پاتی۔ 

 نئے بجٹ میں 996 اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال 553 نئی اسکیموں کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ نہیں معلوم کہ ان اسکیموں کا کیا ہوا؟ ڈویزنل پیکیجز کے نام سے مختلف اسکیمیں ملا کر سیاسی پاوئنٹ اسکور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بڑی رقومات رکھی گئی ہیں۔ 

بلاول بھٹو نے وفاقی بجٹ کو ایک مخصوص صوبے کا بجٹ قرار دیا ہے۔ کیا انہوں نے غور فرمایا ہے کہ خود سندھ بجٹ بھی صوبے کے چند اضلاع لاڑکانہ، سکھر، خیرپور اور نوابشاہ تک ہی محدود ہے؟ اس میں تھر کے قحط زدہ علاقے اور اس کی ترقی کے لئے کوئی رقم موجود نہیں اور نہ ہی کوئی خصوصی پیکیج دیا گیا جہاں سے روز معصوم بچوں کی اموات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ سندھ کو جو وسائل دستیاب تھے ان کا کتنا ایماندارانہ اور موثر استعمال ہوا ہے؟ آخر یہ بھی تو ان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ 

 سندھ حکومت یہ عذر لنگ پیش کر رہی ہے کہ نیب کی کارروایوں کی وجہ سے افسران کام کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے بھی کام کم ہوئے ہیں۔ دو منٹ کے لئے اس بات کو مان بھی لیا جائے، لیکن یہ تو سب رواں مالی سال کے دوران ہوا تھا۔ باقی آٹھ بجٹوں کاتو حساب دیں۔ 


سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نئے حاکمین

 سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نئے حاکمین 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

 چند ماہ قبل پیپلزپارٹی کی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو” بااختیار“ بنانے کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے سندھ کے اضلاع اور دیگر نچلی سطح کی پارٹی تظیمیں توڑنے اور پارٹی کو از سرنو منظم کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے پرانے جیالے خوش ہوئے کہ اب پارٹی مختلف ڈگر پر چلے گی۔ لیکن یہ راز تب افشا ہوا جب ضلع اور بڑے شہروں کے بلدیاتی اداروں کے چیئرمنوں کی نامزدگی کا معاملہ سامنے آیا۔ 

یہ بلدیاتی عہدے حاصل کرنے کے لئے پارٹی کے بااثر افراد کے درمیان سکٹ تگ ودو ہوری تھی ۔ جو کہ اختلافات کی شکل میں سامنے آرہی تھی۔ 

اب پارٹی رہنماﺅں بلدیاتی عہدے کے ساتھ پارٹی عہدہ کا بھی آپشن رکھا گیا۔ پارٹی کی از سرنو تنظیم سازی کے حوالے سے نہ نئی میمبرسازی کی مہم چلائی گئی اور نہ بڑے پیمانے پر کوئی سرگرمی دکھائی دی۔ نہ شہر، ضلع یا ڈویزنل سطح پر کنوینشن منعقد ہوئے مطلب پارٹی کارکنوں کو نچلے سطح پر سنا ہی نہیں گیا۔ پارٹی میں موجود مخلتف گورپوں اور لابیوں کے افراد کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ مشاورت وہی چار پانچ لوگ جو کہ پارٹی کی صوبائی قیادت میں شامل ہیں۔ مختلف اضلاع کا دورہ کر کے آئے۔

 پارٹی نے صوبے کے 19 اضلاع کے منتخب سربراہان کے نام فائنل کر دیئے ہیں جبکہ پانچ اضلاع ابھی بھی باقی ہے جن پر فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ اس طرح سے کسی حد تک مختلف لابیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ پتہ چلا ہے کہ منگل کے روز آصف علی زرداری کی ہمشیرہ بیگم فریال تالپور کو ایک پریس کانفرنس میں ان ناموں کا باقاعدہ اعلان کرنا تھا لیکن بعض اضلاع میں پارٹی کے اندر موجود گروپوں کو قیادت مطمئن نہیں کر سکی۔ لہٰذا یہ پریس کانفرنس ملتوی ہو گئی۔ 

یہ دلچسپ امر ہے کہ پارٹی میں خواہ میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پارٹی امور سے متعلق فیصلے ا بلاول بھٹو خود کریں گے اور وہ ایسا کرنے میں خود مختار ہونگے۔ اور یہ بھی کہا جاتا رہا کہ بلاول بھٹو اپنی پھوپھی کی حکمت علی، فیصلوں اور پارٹی معاملات میں مداخلت سے ناخوش ہیں۔ ناخوش ہونے کی لیول یہ باتی جاتی رہی کہ وہ ان کو ان معاملات سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن بلدیاتی سربراہان کی نامزدگی کے لئے جو لابنگ اور سرگرمی ہوتی رہی اس کا تمام تر مرکز میڈم فریال تالپور ہی رہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں ناموں کا حتمی اعلان بھی انہیں ہی کرنا تھا۔ 

فریال تالپور پارٹی کا کوئی عہدہ نہ رکھنے کے باوجودگزشتہ آٹھ سال سے سندھ میں عملی طور پر فیصلہ سازی کرتی رہی ہیں جس کی آصف علی زرداری کی جانب سے بھرپور آشیرواد حاصل رہی۔ اس مرتبہ بلدیاتی سربراہان کی نامزدگی کے معاملے پر یہ بات سامنے آئی کہ بیگم فریال تالپور ابھی بھی سندھ میں اتنی بااختیار ہیں جتنی پہلے تھے۔ 

 الیکشن کمیشن کے چار اراکین کی ریٹائرمنٹ کے بعد کمیشن غیر فعال قرار د ی گئی ہے لہٰذا مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندگان کی حلف برداری کو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دے دیاہے۔ اب یہ عمل تب شروع ہوگا جب الیکشن کمیشن کے نئے اراکین کا تتقرر ہوگا اس تقرر کے لئے ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ کیونکہ یہ تقرری حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے پیپلزپارٹی کی” ضمانت“ کرادی ۔ اور بدلاتی انتخابات کا عمل جو مکمل یوں جن اضلاع میں فیصلہ نہیں ہو سکا ہے اس کے لئے پارٹی قیادت کو وقت مل گیا۔ 

پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ بلدیاتی سربراہان کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتہ پتہ چلتا ہے کہ اقتدار پر وہی خاندان اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہیں جو سالہا سال سے پیپلزپارٹی یا کسی دوسری حکمران جماعت کے ساتھ رہ کر اقتدار کے مزے لیتے رہے ہیں۔ گھوٹکی میں سابق وزیراعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے بیٹے کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنایا جارہا ہے۔ علی محمد مہر خود سردار بھی ہیں اور ان کے بھائی صوبائی ویزر ہیں جبکہ ان کے والد سردار غلام محمد مہر ایم این اے اور ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ 

شکارپور میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانے کے بھائی مسیح الدین آغا کو ضلع کونسل کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ضلع کونسل کشمور کے میرہزار خان بجارانی کے بیٹے محبوب بجارانی کا نام فائنل کیا گیا ہے۔ بجارانی بھٹو دور سے ایم پی اے، وزیر اور سنیٹر رہتے آئے ہیں۔ 

خیرپور میں صوبائی وزیر منظور وسان کے بھتیجے شہریار وسان جو کہ ان کے داماد بھی ہیں کو ضلع کونسل کی سربراہی دی جارہی ہے۔ 

میر پورخاص میں میر انور تالپور اور شجاع احمد شاہ میں سے کسی ایک کو نامزد کیا جارہا ہے۔ میر انور تالپورآصف علی زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور کے بھائی ہیں۔ جبکہ شجاع شاہ پیپلزپارٹی کے سابق وزیر علی نواز شہ کے بیٹے ہیں۔ سکھر کی ضلع وائیس چیئرمین کے لئے پارٹی کے سابق ایم پی اے انور مہر کے بیٹے اختر مہر اور سکھر کی میئر شپ کے لئے سابق سنیٹر اسلام الدین شیخ کے بیٹے ارسلان شیخ کو نامزد کیا گیا ہے۔ ارسلام شیخ یم این اے نعمان شیخ کے بھائی ہیں۔

 جامشورو کو ایک بار پھر ملک خاندان کے حوالے کیا گیا ہے جہاں ملک اسد سکندر کے بھائی ملک شاہنواز کو نامزد کیا گیا ہے۔ 

صرف چند ایک اضلاع میں معمولی تبدیلی نظر آئی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ وہ لوگ بھی مختلف ادوار میں حکمران جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب پیپلزپارٹی میں سائیڈ لائین لگائے ہوئے تھے۔ یہاں پر بھی دو حریف گروپوں کی آپس میں نہ بننے کے بعد تیسے آپشن کے طور پر بعض افراد کو لیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ان روایتی گروپوں کو پیغام ہے کہ آپس میں نہیں بنیں گے تو پارٹی تیسرے آپشن پر چلی جائے گی۔

 تیسرے آپشن میں ایسے لوگ لائے جارہے ہیں جن کی وفاداری یا قربت پارٹی کی اعلای قیادت کے ساتھ ہے۔

 دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اکثر اراکین اسمبلی کی ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ لہٰذا اقتدار واقعة چند خاندانوں کی جاگیر بنا ہوا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جو بھی ضلع کونسل یا میونسپلٹی کے سربراہ منتخب ہو کر آئیں گے وہ پیپلزپارٹی کے کسی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر یا سابق وزیر کے بیٹے ہونگے۔ بلدیاتی اداروں اور ان کے انتخابات کا مقصد اقتدار و اختیار کو نچلی سطح پر لانا ہے۔ لیکن سندھ میں ایسی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آرہی۔ اقتدار و اختیار ان بلدایتی انتخابات کے بعد بھی اوپر کے طبقات کے پاس پھنسا ہوا ہے۔ اور اختیار و اقتدار، خواہ وسائل بھی انہی خاندانوں کے پاس ہی رہیں گے۔ 

 ان لوگوں کے آنے سے بلدیاتی اداروں میں کوئی فرق آئے گا؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ بلدیاتی اداروں کا کام یہ ہے کہ 
بلدیاتی ادارے کسی ضلع یا شہر کی سیلف گورنمنٹ کا دارہ ہوتے ہیں۔ ان کا کام لوگوں کو شہری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جوخاندان سالہا سال تک اقتدار پر حاوی رہے ہیں اور عوام کو کچھ نہیں دے سکے ہیں کیا ان سے امید کی جاسکتی ہے کہ اس مرتبہ لوگوں کو وہ سلہولیات دے پائیں گے جو بلدیاتی اداروں کا مینڈیٹ ہے۔


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/17-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 

http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 

منتخب نمائندے کیا نمائندگی کرتے ہیں؟

ہمارے منتخب نمائندے کیا نمائندگی کرتے ہیں؟ 

 میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی 

آئین کی شق نمبر 123, 130, 141, 142, میں اراکین صوبائی اسمبلی کے رول اور ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق ایک ایم پی اے کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ صوبائی محکموں کے بارے میں ہونے والی قانون سازی اور پالیسی سازی کے بحث میں سرگرمی سے حصہ لے۔ دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ صوبے کے مالی معاملات پر بھی نظر رکھے کہ وہ قوائد و ضوابط کے تحت خرچ ہو رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی مجموعی طور پر صوبائی حکومت کے مالی معاملات پر چیک رکھتی ہے۔ ہر رکن صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اخراجات، پالیسیوں، عمل اور کارکردگی پر اس طرح سے نظر رکھے کہ یہ سب کچھ آئین، قانون اور مقرر کردہ ضوابط کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں ۔آئین کے تحت صوبائی کابینہ مشترکہ طور پر صوبائی اسمبل کے سامنے جوابدہ ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفاد عامہ کے معاملات پر اسمبلی میں بحث کریں، بات کریں اور اٹھائیں۔ سوالات، تحریک التوا، توجہ دلاﺅ نوٹس، عام بحث، قراردادوں کے ذریعے اٹھائیں۔ 

 منتخب نمائندے اس بات کے پابند ہیں کہ ہر معاملے میں عوام کی نمائندگی کریں اپنے حلقے کے لوگوں سے ملیں۔ مسلسل رابطے میں رہیں۔ عوامی شکایات ایوان میں پیش کریں ۔ خود کو سرکاری اجلاسوں میں شرکت، مختلف رپورٹس کے مطالعہ اور میڈیا کی مانیٹرنگ کے ذریعے حالات اور واقعات سے آگاہ رکھے۔ 

 سنھد میں کیا ہو رہا ہے؟ سندھ کے منتخب نمائندے کیا کر رہے ہیں؟ اس کے بارے میں اس حقائق سامنے نہیں آئے ہیں تاہم جو سرکاری طور پر چیزیں آئی ہیں وہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ ایوان کے اندر کس رکن اسمبلی نے کس قدر نمائندگی کی؟ اپنا آئین اور قانونی فرض پورا کیا اس کا اندازہ اسمبلی سیکریٹریٹ کی تیار کی گئی رپورٹ سے ہو سکتا ہے اس رپورٹ کے بعض ھصوں تک میڈٰا کی رسائی ہو پائی ہے۔ 

کل راکین میں سے چھتیس سے زئاد اراکین ایسے رہے جنہوں نے تین سال کے اندر ایوان میں زبان نہیں کھولی سوائے سلام دعا، ہنسی مذاق اور شاید اپنے کسی ذاتی کام کے۔ 

اس طویل فہرست میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے نادر علی مگسی، فضل حسین شاہ، حسنین مرزا، علی نواز شاہ، عادل صدیقی، عبدالرﺅف کھوسو، سلیم جلبانی، غلام مجتبیٰ اسران، سردار خان چانڈیو، مخدوم جمیل الزماں، مخدوم رفیق الزماں، مخدوم نعمت اللہ، عبدالکریم سومرو، امداد پتافی، اعجاز شاہ بخاری، بشیر ہالیپوتہ، میر اللہ بخش تالپور، فیصل صدیق، حاجی خدابخش راجڑ کے نام قابل ذکر ہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارباب غلام رحیم، وریام فقیر، شاہ حسین شیرازی اور غلام رسول جتوئی،نے بھی نہ کسی بحث میں حصہ لیا، نہ سوالات پوچھے اور نہ توجہ دلاﺅ نوٹس، قرارداد، بل یا تحریک التوا کی شکل میں اپنے حلقے کا کوئی مسئلہ اٹھایا۔ 

 شرجیل میمن، جام شورو اورسکندر مندرو چونکہ وزیر رہے ہیں لہٰذا نہوں نے سرکاری طور ایوان میں جو بات کی وہ الگ ہے لیکن اپنے حلقہ انتخاب کے بارے میں ایوان میں کوئی معاملہ نہیں اٹھایا۔ 
جن علاقوں سے یہ ممبران تعلق رکھتے ہیں وہ بہت ہی زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ تھرپارکر جو مسلسل قحط سالی کا شکار ہے وہاں سے تعلق رکھنے والے مخدوم نعمت اللہ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم شاید ہی کسی اجلاس میںشریک ہوئے ہوں۔ تھر کا قحط اور وہاں بچوں کی اموات کا معاملہ میڈیا، عدلیہ اور رائے عامہ کے دیگر اداروں کی توجہ کا مرکز رہا۔ حکومت کم از کم آٹھ کمیٹیاں اس مسئلہ پر قائم کر چکی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ 

ٹھٹہ اور بدین کے ساحلی اضلاع جہاں بمع پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور یہاں کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز سکندر مندرو،حسنین مرزا اور اللہ بخش تالپور، بشیر پالیپوتہ شاہ حسین شیرازی، ملکانی نے مصیبت زدہ حلقوں کے ووٹرز کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ 

حسنین مرزا پیپلز پارٹی کے باغی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا جو کہ ابھی رکن اسمبلی نہیں، وہ باہر رہ کر پیپلزپارٹی پر خوب گرجتے رہتے ہیں لیکن ایوان میں ان کے صاحبزادے خاموش رہے۔ ہالہ کا مخدوم خاندان بڑی سیاست کرنے میں لگا رہا اور انہیں اپنے حلقہ کے لوگ یاد نہیں آئے، جہاں آبپاشی پانی کی کمی اور دیگر مسائل سر اٹھائے ہوئے ہیں اور اس زرخیز خطے کی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہی صورتحال دیگر چپ کا روزہ رکھنے والے دیگر اراکین اسمبلی کی ہے۔ 

اس سے پہلے یہ بھیانک انکشافات بھ سامنے آچکے ہیں کہ اپریل کے اختتام تک پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ میں رواں مالی سال کے دوران بمشکل تیس فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کر سکی ہے۔ ابھی یہ خبر سندھ کے لوگ ہضم ہی نہیں کر پائے تھے کہ ان پر ایک اور انکشاف کا پہاڑ ٹوٹا۔ وہ یہ کہ حکومت سندھ نے 108 ایم پی ایز کو چار چار کروڑ روپے کے حساب سے تین ارب 87 کروڑ 75 لاکھ روپے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے جاری کئے۔  صرف چھ ایم پی ایز نے یہ فنڈ خرچ کئے جبکہ باقی 102 ایم پی ایز نے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا۔ 

جن منتخب نمائندوں نے رقم خرچ نہیں کی اس میں خود وزیراعلیٰ سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، بعض وزراء منظور وسان، جام شورو، دوست علی راہموں، علی نواز مہر، شر جیل میمن، صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین سلیم رضا جلبانی، طارق مسعود آرائیں، فصیح شاہ، غلام قادر چانڈیو، بہادر ڈاہری اور اعجاز شاہ شیرازی بھی شامل ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں کا یہ عالم رہا، دوسری جانب میرٹ کو ٹھکرا نا۔ تقرر ہو یا تبادلہ، یا پھر کوئی ترقیاتی کام کا ٹھیکہ معمول بنا رہا۔پسندیدہ اور ناتجربیکار افراد کو نوازا گیا۔ کہیں بھی میرٹ نہیں نظر آئی۔ ان سب بے قاعدگیوں کو منتخب اراکین براہ راست یا بلواسطہ طور پر چیک کرنے میں ناکام رہے۔ خاص طور پر دیہی علاقو ں میں پولیس اور بااثر افراد کی عام لوگوں سے زیادتیاں معمول بنی رہی۔ نیب، ایف آئی اے، اور سندھ حکومت کے محکمہ انسداد رشوت ستانی کی سرگرمیوں کے باوجود ہر چھوٹے بڑت سرکاری دفتر میں کرپشن کا بازار گرم رہا۔ یہ گرمی آج کل سندھ میں پڑنے والی گرمی سے کہیں زیادہ ہے۔

 ان میں اکثریت ان کی ہے جو بار بار منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اور ہر بار ان کی کارکردگی یہی رہتی ہے۔ ان پر نہ سیاسی جماعتوں کا چیک اینڈ بیلنس ہے اور نہ ہی ووٹرز کا۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے افراد کو کیوں نامزد کرتی ہیں؟ نوے کے عشرے میں ”الیکٹ ایبل“ بہت ہی غیر سیاسی اور غیر جمہوری لفظ سیاست کی ڈکشنری میں آیا جو مسلسل پریکٹس میں بھی ہے۔ چند گنے چنے خاندان جن کا پس منظر زمیندار طبقے سے ہے یا اب اس نے خود کو بڑا زمنیدار بنا دیا ہے ،انتخابات ان خاندانوں کے ممبران کا دائرہ اختیار ہے۔ باقی کے لئے عملا شجر ممنوع ہے۔ دوسرے یہ کہ خود سیاسی جماعتیں بھی نہیں چاہتی کہ کہ کوئی ایسا بندہ ایوان میں آئے جو سوالات کرے یا حلقے اور اپنے ووٹروں کی بات کرے۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے ” خاموش“ اور ”رخنہ نہ ڈالنے والے“ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ سال 1997 سے سندھ اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی مدد کے لئے ایک سیل موجود ہے جس میں عملے کی ایک کھیپ موجود ہے۔ اس سیل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف اراکین کی مدد کریں اور مطلوبہ حوالے یا اعداد و شمار بھی مہیا کریں۔ گزشتہ تین سال کے دوران اس سیل سے رابطہ کرنے والوں کی تعداد نصف درجن بھی نہیں۔ 

ہمارے منتخب نمائندوں کی کارکردگی ایک طرف ہے اور ان کو جو سرکاری طور پر تنخواہین، الوئنسز اور دیگر سہولیات ملتی ہیں اس کا حساب لگایا جائے توماہانہ خرچ کروڑوں روپے ہوتا ہے۔ ایک اسمبلی ممبر پر خواہ وہ سرکاری بنچ کا ہو یا اپوزیشن کا حکومت ماہانہ پانچ لاکھ روپے خرچ
 کرتی ہے۔ کل اراکین کی تعداد 168 ہے۔ اس میں و فوائد اور مراعات شامل نہیں جو ان کو کسی خصوصی پیکیج، تقرر، تبادلوں، ملازمتوں میں کوٹے یا ترقیاتی کاموں کے نام پر دی جاتی ہیں۔ 

 سندھ میں سہولیات کی کمی، غربت، پسماندگی اور دیگر ایسے درجنوں مسائل کی اصل جڑ ان نمائندوں کی عدم کارکردگی یا خاموشی ہے۔ 
 اراکین اسمبلی کی اس کارکردگی کو دیکھ کر سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ اراکین اسمبلی آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں؟ کم از کم جو اصول ، رول اور ذمہ داریاں آئین کی اور دی گئی شقوں میں بیان کی گئی ہیں ، ان کے تحت یہ لوگ ایک طرح سے آئین اور مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ 

اسپیکر جو کہ منتخب ایوان کا کسٹوڈین ہوتا ہے انہوں نے بھی کبھی زحمت نہیں فرمائی کہ وہ اراکین اسمبلی سے پوچھے اور یاد الائے کہ ایسے اراکین اسمبلی کا عمل آئین اور قانون کے دائرے سے بالاتر ہے۔ اسپیکر کا کام صرف اتنا نہیں کہ ”آپ بات کرو“ ” آپ بیٹھ جاﺅ“ ۔ 

 معاملہ صرف سندھ کا نہیں۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی خواہ سنیٹ میں تھوڑے ہت فرق کے ساتھ صورتحال یہی ہے۔ عوام کو کس طرح سے یہ حق ملے کہ وہ اپنے منتخب نمائندے کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کر سکے؟ ایسا کوئی قانون نہیں ہے، سوائے آئندہ انتخابات کے۔ انتخابات ایک مختلف کھیل اور مکینزم ہے۔

Nai Baat June 10, 2016 
 Sohail Sangi Column  








http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/10-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

Tuesday, June 7, 2016

سیاسی کرپشن اور ووٹر کے رویے


 نئی بات ۔ سیاسی کرپشن اور ووٹر کے رویے 

    میرے دل میرے مسافر ۔ سہیل سانگی 

اگرچہ 2018 کے عام انتخابات میں ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی اب تمام حکمت عملیاں اس انتخابی مہم کا حصہ ہونگی یا ان پر کسی نہ کسی طریقے سے اثر انداز ہونگی۔ اب ملک میں جو بھی سیاست ہوگی وہ ان انتخابات کو نظر میں رکھ کر ہوگی اور وہ بڑی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔ 


 دو لمحے کے لئے سوچیئے کہ آج کیا صورتحال ہے اور ڈیڑھ سال بعد کیا صورتحال بنے گی؟ 

تمام الزامات اور کوتاہیوں کے باوجود نہیں لگتا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے قلعہ میں کوئی بیس کھویا ہے یا ا سے پنجاب میں کوئی خطرہ نہیں۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک جاتے ہیں کہ نواز لیگ کے ووٹ بینک میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ سیاست اور ووٹ کو ہلانے والے محرکات مثلا بڑے خاندان، بیوروکریسی، میڈیا کے ایک بڑے حصہ کو قابو میں رکھا ہوا ہے۔ 

یہ صحیح ہے کہ ٹاک شوز کے دنگل ہوتے رہے۔ لیکن یہ سب ووٹ ڈالنے کے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکے ہیں۔ پھر صوبوں کی ان شکایات میں بھی وزن ہے کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ دراصل صرف ایک ہی صوبے کے لئے ہے۔


 نواز لیگ ایک ہی نقطے پر کام کر رہی ہے کہ پنجاب قابو میں ہے تو اسلام آناد تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ کبھی نواز لیگ میں دراڑیں ڈالنے کی باتیں ہو رہی تھی۔ اب ان ہوں نے دم توڑ دیا ہے۔ 70 اور 80 کے عشرے کی پنجاب میں مقبول پیپلزپارٹی اب بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ 

پاناما لیکس کے بعد اپنی نئی حکمت عملی میں وہ اپوزیشن کے طور پر اپنی پوزیشن بچا سکی ہے لیکن پنجاب میں کچھ حاصل نہیں کر سکی ہے۔ 


 سندھ میں پیپلز پارٹی کی خراب حکمرانی بحچ طلب نہ سہی لیکن کوئی متبادل نہیں۔ یہاں نواز لیگ دانست طور پر اپنا راستہ نہیں بنا پائی۔ تحریک انصاف نے تین نیم ”سنجیدہ “ کوششیں کیں۔ لیکن کوئی بریک تھر و کرنے میں ناکام رہی۔ 


ایم کیو ایم آپریشن کا سامنا کرتی رہی، دو تین ضمنی انتخابات میں آزمائش ہوئی ، پتہ چلا کہ اس کو بھی شہری علاقوں میں کوئی بڑا چیلینج نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے ماحول تو بنایا لیکن معاملہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکا۔


 خیبر پختونخوا میں لگ بھگ وہی صورتحال رہے گی۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا مخلوط حکومت کا فارمولا جاری رہ سکتا ہے۔ جے یو آئی براہ راست حکومت کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت کے مزے لے رہی ہے۔ 

ویسے بھی اس کی اور اے این پی کی باری تب آنی ہے جب مرکز میں پیپلزپارٹی ہو۔ بلوچستان میں کسی سیاست کی بہت کم گنجائش ہے۔ 


 یہ ایک اجمالی جائزہ بتاتا ہے کہ آئندہ انتخابات کا انیس بیس فرق کے ساتھ یہی منظر نامہ بننے جا رہا ہے۔ تا وقتیکہ کہ کوئی بڑا واقعہ نہ ہو جو کہ صورتحال کو تبدیل کردے۔ 



 نواز شریف فیملی پر آف شور کمپنیاں بنانے اور کرپشن کے الزامات ہیں تاہم ان کا قانونی طور پر ثابت ہونا باقی بھی ہے اور مشکل بھی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن ، خراب حکمرانی وغیرہ کے حوالے سے بہت ساری چیزیں مارکیٹ میں ہیں جن میں سے اکثر باتوں میں وزن بھی ہے۔ 

ایم کیو ایم نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کا سامنا کیا۔ جس نے اس کے لئے ہمدردی کا ووٹ پیدا کر لیا۔ 

عمران خان عجیب و غریب مطالبات کے ساتھ صورتحال کو پریشان کن حد تک لے گئے اور بعد میں خود بھی پریشان ہوئے۔ لیکن ا س تمام مشق میں صورتحال وہی کی وہیں کھڑی ہے۔ ناامیدی کا معاملہ نہیں۔ لیکن حقائق سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتی۔ 



مطلب یہ کہ لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے رویے میں کوئی تبدیلی نظرنہیں آ رہی۔ آخر رویہ تبدیل کیوں نہیں ہو رہا کہ کرپٹ لوگ انتخابات جیت جاتے ہیں ؟ 

دراصل ہمارے ملک میں بدتریج ایک مکینزم تشکیل ہو چکا ہے۔ عام لوگ اس مکینزم سے باہر رہ کر گزارا نہیں کر پاتے۔ ایک وقت تھا کہ لوگوں نے باہر رہ کر بھی دیکھا لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ سوائے اپنا نقصان کرنے کے۔ 



قصہ یہ ہے کہ میرٹ ، قانون کی حکمرانی نام کی چیزیں شاید اب پاکستان کی کتباوں میں بھی باقی نہیں رہیں۔ مزید برآں یہ کہ حکومت کی خراب کارکردگی اور خدمات کی وجہ سے عام لوگوں تک سرکاری سہولیات کی رسائی نہیں ہو پاتی۔عام شخص سرکاری نوکری ہو، یا مقدمہ درج کرانا ہو۔ روینیو میں زمین کے کاغذات درست کرانے ہوں میں پھنسا ہوا ہے۔ 



سیاستدان کی بیورکریسی تک چونکہ رسائی ہوتی ہے لہٰذا وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اپنے لوگوں اور ووٹر تک یہ سہولیات پہنچا دیتا ہے۔ اس پورے نظام کی کرپشن کا آغاز اس سیاسی رشوت سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ووٹر پر احسان کر دیتا ہے اور بعد میں اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے ووٹ لے لیتا ہے۔ 



یعنی ساتھ دو گے تو تمام سہولیات تمہاری نہیں، نہیں دوگے تو تمہارا استحقاق ہی نہیں کہ تم یہ سہولیات حاصل کر سکو۔ جیسے کہ یہ لوگ پاکستان کے شہری ہی نہ ہوں۔ عدلیہ اپنی تمام تر ایکٹوازم کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کر پائی۔



 یہ نظام اس طرح کرپشن کو جنم دیتا ہے برداشت کرتا ہے اور اس کو پروان چڑھاتا ہے۔ اسکول میں استاد آ رہے ہیں، پڑھا رہے ہیں یا نہیں، سرکاری ہسپتال یا دوسری کسی سرکاری سہولت کی کیا صورتحال ہے؟ 

ان سب کو مجموعی طور پر ٹھیک ہو نا چاہئے، یا یہ کہ یہ سب کچھ عام آدمی کا حق ہے۔ یہ سوچ اب نہیں رہی۔ پورے مکینزم نے ایک ہی بیانیہ از بر کرا دیا ہے کہ مجھے ملنا چاہئے یہ اہم ہے۔



اچھے سیاستداں شازو نازہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے میدان کھلا نہیں رہتا ہے جو اصلاحات چاہتے ہیں۔لوگوں کے پاس یہ بھی تاریخی تجربہ ہے کہ کوئی شخص واحد پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ لوگ انامیدواروں اور گروپوں کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے مندرجہ بالا ذاتی کام آتے ہیں۔ لوگ غربت، قانون سے آگاہی نہ ہونے اور بیوروکریسی کے سرخ فیتے وغیرہ کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ان کی سرپرستی کے بغیر وہ گزارا نہیں کر سکتے۔ 

حکومت یا ریاست کی جانب سے ان کے حصے میں بھلے کتنی ہی چیزیں آتی رہیں۔ لیکن وہ سب اسے تب تک نہیں ملیں گی جب تک وہ ایسے چالاک سیاستدان کو بیچ میں نہیں ڈالیں گے۔ اس میں مزید اضافہ اس وقت ہو جاتا ہے جب منتخب نمائندے اپنے علاقوں میں ہر بنیادی محکمے میں اپنی پسند کا افسر مقرر کرا لیتے ہیں۔ 



دیہی علاقوں میں یہ مکینزم عام ہے لیکن شہری آبادی کا بھی بڑا حصہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں شہری آبادی کا مڈل کلاس کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ جو کہ بقول ہمارے ویزر خزانہ اسحاق ڈار کے اب تقریبا چالیس فیصد تک ہنچ چکا ہے۔ شاید شہری علاقوں کے لوگ ایک حد تک اسی مکینزم کا شکار ہیں۔ 


2008 کے انتخابات میں شہری متوسط طبقے نے ان کو ووٹ دیا جو اصلاحات کی بات کر رہے تھے۔ لیکن ان کو بھی ووٹ ملے جو اصلاحات میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ کتنے بچے اسکول نہیں جاتے؟ اور جو اسکول نہیں جاتے کل کو وہ کیا کریں گے؟ ۔ یہ بات شہری علاقوں میں رہنے والوں کے لئے باعث تشویش نہیں۔

شہری علاقوں کے لوگ سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں سے مایوس ہیں یہی وجہ ہے کہ دو تین عشرے قبل وہ ان سرکاری سہولیات سے الگ ہو گئے ہیں۔ اس کو خدمات کی مقدار اور اور معیار پر بھی تشویش نہیں۔ اس سوچ نے صحت اور تعلیم کو مکمل طور پر پرائیویٹائز کردیا ہے۔ 

شہر کی ہر گلی کوچے میں نجی ا سکول موجود ہے چاہے اس کا معیار کچھ بھی ہو۔ علاقے میں نجی ہسپتال موجود ہے۔ 
اس کو سب سے بڑی فکر ٹریفک جام، بجلی یا گیس کی لوڈ شیڈنگ کی ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ میٹرو ، چوڑے روڈ وغیرہ اس کی ترجیح اور دلچسپی ہے۔ 


 یہ صحیح ہے پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا مکینزم شہری اور دیہی علاقوں میں مختلف ہے۔ شہری متوسط طبقہ خراب ساکھ رکھنے والوں کو کیوں ووٹ دیتے ہیں؟ ایک امکان یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن یا چوائس نہیں ہوتی۔ عام طور پر دونوں امیدوار خراب ساکھ رکھنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/07-06-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg

Monday, June 6, 2016

بلاول بھٹو کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟

Nai Baat May 17, 20017
 بلاول بھٹو کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے موقع پر بلاول بھٹو کی علی طور پر لانچنگ کی وجہ سے پارٹی کے جیالے خوش ہیں کہ اب ایک بار پھر پارٹی ملک بھر میں خاص طور پر پنجاب میں ابھر کر سامنے آجائے گی اور گزشتہ انتخابات میں اس نے جو پوزیشن نواز لیگ اور عمران خان کے ہاتھوں کھوئی ہے وہ دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ 

بلاول بھٹو زرادری کو پارٹی کے تمام اختیارات دینے کا فیصلہ گزشتہ سال ستمبر کیا گیا تھا۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہی ہو سکا۔ اس میں دو چیزوں کی وجہ سے پیش رفت ہو پائی۔ ایک یہ کہ پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی خود ساختہ جلاوطنی، کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ انہیں کرپشن اور دیگر مقدمات میں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ ان کی غیر موجودگی میں یہ رول فریال تالپور کو دینے کی کوششوں کے نتائج نہیں برآمد ہو سکے۔ لہیذابلاول بھٹو کا سرگرم رول نکل آیا۔ دوسرے یہ کہ مخدوم امین فہیم کے انتقال کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں پیپلپز پارٹی پارلیمینٹرین کے چیرئمین کا عہدہ آصف علی زرداری نے لے لیا۔ اور پیپلزپارٹی اپنے اصل نام سے الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر ہوگئی جس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ 

 بلاول بھٹو کی آزاد کشمیر کے انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کو اس لئے بھی اہمیت دی جارہی ہے کہ اول یہ کہ انہوں نے پہلی مرتبہ کشمیر کے حق میں اور انڈیا کے خلاف اس لہجے میں بات کی جس لہجے میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کیا کرتے تھے۔ بلاول بھٹو خود کو کہاں کھڑا کرتے ہیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ کیونکہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی پالیسی تہذیبوں کے ٹکراﺅ سے بچنا اور پڑوسیوں سے بہتر تعلقات قائم کرنا رہی۔ اور دنیا بھر میں کشیدگی اور تصادم کے بجائے امن قائم کرنا تھی۔ 

 ذوالفقار علی بھٹو جس دور میں سیاست کر رہے تھے وہ سرد جنگ کے عروج اور محنت کش طبقے کی بڑی تحریکوں اور نوآبادیاتی نظام سے مختلف ممالک کی آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے عالمی اور خطے کے تضادات مختلف تھے۔ بھٹو نے ان تضادات کو سامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی بنائی اور اس میں اضافہ یہ کیا کہ عوامی رنگ بھر دیا، یہ وہ رنگ تھا جو پاکستان کی کسی بھی پارٹی نے اس سے پہلے نہیں دیا تھا۔ بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کی ایک حد تک یہ کوشش رہی لیکن وہ اس کو وسائل کی کمی اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نہیں کر سکے۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ بھٹو کو بہت ہی محدود مدت کے لئے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ کیونکہ ایوب خان کے خلاف جو لاوا پک رہا تھا وہ پھٹنے شروع ہو چکا تھا۔ بھٹو نے اس کو ایک خوبصورت موڑ دے دیا۔ 

 بینظیر بھٹو کا امعاملہ مختلف تھا۔ بنیظیر نے جب سیاست آغاز کیا تب ملک میں ضیاالحق کی آمریت اور سخت ترین مارشل لاءکا دور تھا۔عالمی طور پر سرد جنگ ختم ہونے جارہی تھی۔ اور افغانستان اس کا آخری مورچہ بنا ہوا تھا۔ بنظیر کو بھٹو کے مقابلے میں سخت اور زیادہ مدت تک جدوجہدکرنی پڑی۔ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور جنیوا معاہدے کے بعد ایک نئی دنیا نے بھرنا شروع کیا تھا۔ یہ دنیا گلوبلائزیشن کی تھی۔ جس میں کشیدگیوں، تصادمات اور جنگ جو پالیسیوں کی گنجائش کم ہو رہی تھی یہ مصالحت اور مل جل کر رہنے کی پالیسی تھی۔ بنیظیر نے اسی پالیسی کو اپنایا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کا عوامی رنگ اور طریقہ کار بررار رکھا جو ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔ 

 نوے کے عشرے میں سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی اور اس کے نتیجے میں منتخب اداروں کو کمزور کرنے اور سویلین اسپیس کے سکڑنے نے انہیں بہت کچھ سکھایا۔ چارٹر آف ڈیموکریسی اسی سبق کا نتیجہ تھا۔ 

زرداری ایک ایسے دور میں آئے جب نائن الیون کا واقعہ رونما ہو چکا تھا۔ دنیا میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ لڑی جارہی تھی۔دنیا میںایک نئی سیاسی و معاشی ترتیب کی طرف لے جانے کی جنگ ہو رہی تھی۔ اس دور کے تضاضے اور تضادات اپنے تھے۔ امریکہ اپنی بالادستی کو مضبوط اور متحکم کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ افغانستان میں امریکہ فوجیں اتار چکا تھا۔ ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔وہ پڑوسیوں سے جنگ نہ کرنے وغیرہ کی پالیسی کے حوالے سے بینظیر کی ہی پالیسی پر چلے لیکن خراب حکمرانی، کرپشن کے واقعات اور پارٹی کو کلوزڈ کلب بنانے اور پارٹی کی عوام سے دوری نے گھمبھیر صورتحال پیدا کردی۔ سیاسی خواہ تنظیمی حوالے سے ایک خلاءپیدا ہو گیا۔ 

بلاول بھٹو ایسے دور میں سیاست کرنے جارہے ہیں جب خطے کے خواہ عالمی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ اب دنیا جنگ کے بجائے تجارتی اور کاروباری معیشت کی کروٹ کے رہی ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس جارہی ہیں۔ ہمارے خطے میں امریکہ کی آشیرواد سے چین معاشی طور پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ اب جنگ کی نہیں معیشت، کاروبار اور تجارت کی بات چلے گی۔ 

بلاول بھٹو زرداری جب سیاست کر رہے ہیں ، وہ پالیسی کے حوالے سے کس کے نقش قدم پر چلیں گے؟ اپنے نانا کے نقش قدم پر جو بھارت سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کرتے تھے؟ والدہ کے نقش قدم پر جو ٹکراﺅ کے بجائے مصلحت اور مفاہمت کی پالیسی اپنائے ہوئے تھی، اور انتہا پسندی کے خلاف تھی۔ یا والد کے قدم پر جس کا مختصرا یہ نچوڑ ہے کہ جس بات میں فائدہ ہو وہ کرو یا اس کا ساتھ دو۔ 
بلاول بھٹو کو اس تبدیل شدہ صورتحال کا ادراک کرنا پڑے گا، اور ملکی، خواہ خطے اورعملی حوالے سے تبدیل شدہ صورتحال کیا ہے اس کے تقاضے اور تضادات کیا ہیں اس کا بھی صحیح طور پر جائزہ لینا پڑے گا۔ اور اس کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور پالیسی بنانی پڑے گی۔ اب یہ پرانے نعرے اور پرانا بیانیہ زیادہ اپیل نہیں رکھتا۔ جمہوری لبرل ایجنڈا چاہئے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے اپروچ میں وہی عوامی رنگ اختیار کرنا پڑے گا جوزرداری صاحب سے پہلے پیپلزپارٹی کا خاصہ رہا ہے۔ انہیں بالکل اسی طرح سے اپنی ٹیم بنانی پڑے گی جس طرح سے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنائی تھی، یعنی تمام تر تنقید کے باوجود اپنے انکلز سے جان چھڑائی تھی۔ نئے لوگوں کے لئے راہ ہموار کی تھی۔ 

 ایسا کرناے کے لئے انہیں پیپلزپارٹی ایک تجربیگاہ کے طور پر دی گئی ہے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین ایک الگ پارٹی کے طور پر رجسٹرڈ بھی ہے اور منتخب ایوانوں میں موجود ممبران اسی پارٹی کے ہیں۔ یہ یک ہی شناخت رکھنے والی وہ پڑوسیوں سے جنگ نہ کرنے وغیرہ کی پالیسی کے حوالے سے بینظیر کی ہی پالیسی پر چلے لیکن خراب حکمرانی، پارٹی کو کلوزڈ کلب بنانے اور پارٹی کی عوام سے دوری نے گھمبھیر صورتحال پیدا کردی۔ سیاسی خواہ تنظیمی حوالے سے ایک خلاءپیدا ہو گیا۔ دو چیزوں کی ایک ہی شناخت ہے ۔ بلاول بھٹو پیپلزپارٹی چلا رہے ہیں اور پارلیمنٹرین کی شناخت والی ونگ کو آصف علی زرداری صاحب ہی چلارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاناما لیکس کے خلاف ملک میں اٹھی ہوئی تحریک کو پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ یا اعتزاز احسن ہی ڈیل کر رہے ہیں۔ اس میں بلاول بھٹو کا کوئی زیادہ عمل دخل نہیں ہے۔ یعنی اصل پارلیمانی سیاست اور قوت زرداری کے پاس ہی ہے۔ باقی پیپلزپارٹی کے اندر بلاول بھٹو جو کچھ کریں بھلے کریں۔ 

پاک امریکی تعلقات :نئے زاویے

For Nai Baat June 3, 2016

 پاک امریکی تعلقات: نئے زاویے 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
صدر ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بعض اہم نکات کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ان نکات کی خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف کرداروں کے بدلتے رول ، اتحادیوں کی ایک دوسرے سے توقعات اور شکوے شکایات کی وجہ سے بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس ضمن میں پاک امریکی تعلقات کی نوعیت اور اس کا ذکر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاک امریکی تعلقات میں بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں جن کو دور رکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور نقصان کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ صدر کی تقریر میں بعض امید افزا باتیں بھی تھیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بہتر اقدامات کے ذریعے معاملات کو درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات ایک بحران سے گزر رہے ہیں۔

 پچاس کے عشرے سے لیکر حکمت عملی کے حوالے سے امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا اتحادی رہاہے۔ اب اسکے ساتھ تعلقات نیچے کی طرف گئے ہیں ۔ پاک امریکی تعلقات میں اتار چڑھاﺅ آتا رہا ہے۔ اس مرتبہ کا اتار کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری میزائیلوں (چھوٹی رینج اور درمیانی رینج کے بلاسٹک میزائیل بنانا )کے پروگرام پر تشویش ہے۔ دوسرے یہ ک الزام کہ پاکستان اپنی سرزمین سے حقانی نیٹ ورک کی نرسریاں ختم کرنے کے لئے مطلوبہ کوششیں نہیں کر رہا۔ چند ماہ قبل یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ چار ممالک پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین مل کر افغان طالبان کو ایک میز پر لانے کی کوشش کریں گے۔ اس ضمن میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی۔ 

 لیکن پاکستان کے بارے میں امریکی خدشات دور نہیں ہو سکے۔ ن خدشات کے بعد امریکی کانگریس نے پاکستان کو آٹھ ایف 16 جہاز کی فنڈنگ کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحادی سپورٹ فنڈ کی رقم میں بھی کٹوتی کردی گئی۔دریں اثناء پاکستان کو اندیشہ ہے کہ اس کا ایک طویل مدت تک اتحادی ملک امریکہ کا جھکاﺅ اب بھارت کی طرف ہو رہا ہے ۔ اور وہ اس کی روایتی اور جوہری صالحیت کو بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔ 

ان تعلقات میں اس وقت مزید دباﺅ پڑا جب افغان طالبان چیف ملا اختر منصور کو بلوچستان کے علاقے میںامریکہ نے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان نے ملا منصور کو راضی کر رہا تھا کہ وہ خود اور دیگر افغان گروپ امن مذاکرات میں شریک ہوں۔ صدر نے اگرچہ اپنی تقریر میں اس ڈرون حملے کا براہ راست ذکر نہیں کیا لیکن کہا کہ حالیہ واقعات کی وجہ افغانستان میں امن کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ 

اس سے قبل آرمی چیف بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہامریکی ڈرون حملہ میں افغان طالبان لیڈر ملا منصور کو مارنا امن کوششوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ بہرحال آرمی چیف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان دونوں کے اظہار سے نہیں لگتا کہ مذاکرات کا عمل ختم یا بند ہو چکا ہے۔ 

پاک امریکہ تعلقات میں مختلف موڑ آتے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات یکجا تھے تب ان تعلقات میں عروج رہا۔ خاص طور پر سوویت یونین کے خلاف ”افغان جہاد“ کے موقع پر یہ اظہار دیکھا گیا۔ 

بعد میں جب پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے انکار کیا تو اسے سخت امریکی معاشی اور فوجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سخت عدم اعتمادی اور اس الزام کا سامنا کرنا پڑا کہ پاکستان اس جنگ میں ڈبل گیم کر رہا ہے۔ جب مشرف دور میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو پارٹنر بنایا گیا تو اس کے بہت سارے قصانات بھی ملک کے حصے میں آئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی سویلین اور فوجی مارے گئے۔ پاکستان کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ 

2011 میں رائمنڈ ڈیوس کے واقعہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کی گئی کارروائی، اور ایک ڈرون حملے میں 26 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد پاسکتان سے ناٹو کی سپلائیز معطل کردی گئیں۔ 

 رواں سال آرمی چیف نے امریکہ پندرہ روزہ دورہ کیا۔ اور انکی امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات ہوئی۔ جس سے سلام آباد اور پینٹاگون کے درمیان روایتی تعلقات کو بحال کرنے یا بہتر بنانے میں مدد ملی۔ 

ملا منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغان ریجن میں سکییورٹی کی مساوات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان پر یہ الزام آرہا ہے کہ ملا منصور پاکستان میں موجود تھا جس سے پاکستان کے ادارے آگاہ تھے۔ اور ملا منصور کی کوششوں کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی کہ وہ دوسرے افغان شدت پسند گروپوں سے رابطے کرے اور انہیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایک میز پر لے آئے۔ لیکن امریکہ اس معاملے کو برعکس سمجھتا رہا۔ 

 اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے اور انہیں امریکی اپیشک ٹاسک فور نے کارروای کر کے قتل کیا۔ ملا عمر کا انتقال بھی پاکستان میں ہوا۔ اور اب ملا منصور کی موت بھی ڈرون حملے میں پاکستان میں ہوئی۔ یہ سب تعجب خیز لگتا ہے۔ 

پاکستان یہ تاثر دیتا رہا کہ انہیں طالبان پر خواہ کنٹرول نہ ہو تاہم ایک اثر ضرور رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے افغان لیڈر کو یہاں پناہ ملتی رہی۔ ملا منصور پاکستان میں آزادی سے گھوم پھر رہے تھے۔اگر یہ پناہ نہیں ملتی تو پاکستان کا اثر بھی نہیں ہوتا۔ جب کہ بیرونی دنیا پاکستان پر طالبان کی حمایت کے الزامات بھی نہیں لگاتی۔ 

 پاکستان کو توقع نہیں تھی کہ اس کی سرزمین پر فوجی کارروائی ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس وہ اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے تھا کہ افغان طالبان کی ان کی سرزمین پر موجودگی اور سرگرمی اس کے مفادات میں نہیں۔ یہ بات افغانستان، پاکستان، اور خطے خواہ عالمی طاقتوں کے بھی مفاد مین ہے کہ افغان معاملہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ لیکن امریکی کھلم کھلا کہتے ہیں کہ طالبان لیڈر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ اس لئے انہیں ختم کردیا گیا۔ یہ پتہ لگانا اور اس پر یقین کرنا مشکل معاملہ تھا اگر طالبان متحددبھی ہوں کس گروپ کے ساتھ بات چیت کرنا زیادہ مفید اور دیرپا ہوگا۔ 

 ان تمام واقعات اور تجربات کے بعد پاکستان کوامریکی پالیسیوں کو نئے سرے سے سجھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نئے رکاوٹوں کے بعد پاکستان کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کیا کر سکتا ہے، کیادے سکتا ہے اور اس کے لئے حقیقی معنوں میں توقعات وابستہ کی جائیں ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا توخطے کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

Thursday, June 2, 2016

چاہبہار کے پاکستان پر متوقع اثرات

Naib Baat May 28, 2016

 چابہار وسطی ایشیا کے لئے متبادل گزرگاہ 
چابہار مقابل گوادر 
چاہبہار کے پاکساتن پر متوقع اثرات
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

جپان اس پورٹ کے پاس صنعتی شہر تعمیر کرنے ے لئے تیار ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا کا دوسرا گیٹ وے بنے گا۔ امریکہ بھی اپنے بعض تحفظات کے باوجود اس پورٹ کی حمایت کر رہا ہے۔

چہ بہار اور گودار کو ملانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس ضمن میں ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کے موقع پر بات چیت ہوئی۔ اپسکتان میں ایرانی سفیر نے اس منصوبے میں اپکستان کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

چینی اقتصادی راہدری کس مرحلے میں ہے؟ اس کا صحیح اندازہ ریاستی اداروں کو ہی ہوگا۔ لیکن خطے میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوچکی ہے، جس کی بہت پہلے سے توقع تھی۔ وہ ہے ایران،افغانستان اور انڈیا کے درمیان چابہار سمندری بندرگاہ کی راہداری کا معاہدہ۔ یہ معاہدہ بھارتی ویزراعظم کے تہران کے حالیہ دورے کے موقع پر کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم کے دورہ ایران کا اگر پاکستانی وزیزراعظم کے دورے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ میاں نواز شریف کا دورہ خوش خیر عافیت معلوم کرنے سے زیادہ نہیں تھا۔ 
پاکستانی وزیر اعظم مزید کچھ نہیں کر پائے شاید اس ملک کی خارجہ پالیسی اس کے بس میں نہیں۔ یا پھر وہ بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھ نہ سکے۔ 

 ایران پر سے پابندیاں ختم ہونے کے بعد ہ پاکستان اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کرتا۔ تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر پاکستان قدرتی گیس کے ایک حصہ تعمیر کر چکا ہوتا۔ اور اب وہ اس سے گیس حاصل کر رہا ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں ویزراعظم نواز شریف کا رواں سال جنوری کا دورہ ایران شاید ہی کسی کو یاد ہو۔ کیونکہ اس دورے سے نہ کچھ خاصؒ کیا گیا اور انہ ہی اس کی اہمیت تھی۔ اس دورے کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان سے فرمائش کی کہ وہ اپنے تئیں یہ پابندیاں ہٹائے۔ 

مارچ میں ایرانی صدر جب پاکستان کے دورے پر آئے تو یہ ایک دوسرا موقعہ تھا جس سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ ایک بار پھر پاکستان نے موقعہ ضیاع کیا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ملک کے ایک اہم ادارے نے بھارتی ایجنٹ کے ایران سے آنے سے متعلق ایک ٹوئیٹ بھیجا ۔ جس پر ایران کی طرف سے رد عمل آیا۔ 

2033 میں ایران اور انڈیا نے پاکستان کو ایک طرف چھوڑ کر اس منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مغرب کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ سست رفتاری کا شکار رہا۔ اس بندرگاہ کی توسیع سے انڈیا کی وسطی ایشیا اور خلیج کے ممالک تک برآمدات کی رسائی میں قیمت کم کر دے گا۔ یہ بندرگاہ انڈیا کو آسان سمندری راستہ مہیا کرتا ہے۔ انڈیا افغانستان کے صوبے نمروز میں 220 کلو میٹر سڑک کی تعمیر پر 100 ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ سڑک اب چابہار بندرگاہ تک بنائی جاے گی۔ ۔ اس بندرگاہ کو متبادل گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنے کے لئے اب سہ فریقی معاہدہ ہوگا۔
 اس بندرگاہ کی اسٹریٹیجک نوعیت یہ ہے کہ یہ چین کی مالی مدد سے پاکستان میں تعمیر ہونے والے گوادر بندرگاہ کے قریب ہے۔ انڈیاٰا اس منصوبے کو جلد مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں جلدی اس وجہ سے بھی کر رہا ہے کہ چینی صدر کی پاکستان آمد اور اس موقعہ پر 45 ارب ڈالر کے توانائی اور مواصلات کے معاہدے کر لئے تھے۔ بظاہر امریکہ انڈیا کی اس سرگرمی میں تیزی دکھانے پر خوش نہیں۔ لیکن انڈیا اس منصوبے اور اس سے متعلق دیگر کام تیزی کے ساتھ نمٹا رہا ہے۔

انڈیا چابہار کے قریب اسی طرح سے فری زون قائم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے جس طرح سے چین پاکستان میں گوادر کے قریب کرنا چاہتا ہے۔ 
 واہگہ کے ذریعے افغانستان سے تجارت میں پاکستان کی ا کی سے بعض رکاوٹیں محسوس کر رہا تھا اس کی وجہ سے انڈیا افغانستان کو معاشی اور حکمت عملی میں اپنے ساتھ جوڑنے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ اب اس نے ایرانی بندرگاہ کے ذریعے اس کا توڑ نکال دیا ہے۔ 

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں سے بلاوجہ دوری اختیار کریں۔ جب کہ دسری طرف گنجائش موجود ہو کہ پڑوسی سے خوشگوار تعلقات سے آپ کو بہت سارے فوائد ہو رہے ہوں۔

چبہار بندرگاہ اور اس کو ملانے والی سڑکوں کا جال جو ایران، افغانستان اور انڈٰا تعمیر کر رہے ہیں کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ جس کو ہم نظر انداز کر لیں۔ پاکستان کے پاس جواز اور ضرورت موجود ہے کہ وہ اس تعاون کا حصة بنے۔ 

یہ امر انتہائی اہم ہے کہ خطے میں تعاون کے اثرات بہت بڑے ہیں جو خطے کی جنگی حکمت عملی کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

. اس خطے میں اب بجلی اور توانائی کی تجارت کی ایک نئی لہر اٹھنے والی ہے۔ جو ٹرانسپورٹ اور مجموعی طور پر تجارت اور معیشت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دے گی۔ 
مثال کے طور پر ٹراسمیشن لائین جو کرغیز اور تاکستان سے بجلی لے کر پاکستان پہنچائے گی۔ اس سے بجلی اور اس کی ٹرانسمیشن کی ایران سمیت ایک نئی مارکیٹ بن رہی ہے۔ جو کہ آگے انڈیا تک بھی جائے گی۔ چین تھر کول میں بجلی گھر بنانے کے ذریعے پاکستان کو بجلی دینا چہاتا ہے۔ جس کاا فتتاح وزیراعظم کو گزشتہ ماہ کرنا تھا لیکن عین وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔ 
بجلی کی علاقائی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ گیس کی بھی علاقائی مارکیٹ بن رہی ہے۔ ہائی ویز کا نیٹ ورک خطے کے مختلف شہروں کو ملائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ یوں پورے خطے میں تجارت پھیلنے والی ہے۔
انڈیا سمجھتا ہے کہ چبہار بندرگا وسطی ایشیا کے لینڈ لاک ممالک کو تجارت کی گزرگاہ مہیا کرے گا جو پاکستان کو بائی پاس کر دے گا۔ یہ ایرانی بندرگاہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے قریب ہے۔ جو کہ وسطی ایشیا اور افغانستان کو تجارتی گزرگاہ فراہم کرے گا۔ جس کے بعد یہ وسطی ایشیا کی ریاستیں چین یا پاکستانی بندرگاہ گوادر کی محتاج نہیں رہیں گی۔

ایران کا خیال ہے کہ گیس اور تیل کی صنعت دہلی اور تہران کے درمیان تعاون کا بنیادی نقطہ رہے گا۔ انڈیا کے معدنی وسائل اور ایران کے توانائی کے وسائل الیومینم، اسٹیل اور پٰترو کمیکل صنعتوں کے ئے راہ ہموار کریں گی۔ ایران کا انڈیاا پر چھ ارب روپے تیل کے بقایاجات ہیں۔ جن میں سے 750 ملین ڈالر وہ رواں ہفتے ہی ادا کر دے گا۔ 2012 میں ایران کے کچے تیل کی انڈیا کی برآمدات کی دوسری بڑی منڈی تھی ۔

صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کے ساتھ کچھ معاملات ہیں بھی تو ان کو مغرب میں ہونے والی مواقع ضایع نہیں کرنے چاہئیں۔ اس ضمن میں جو دلائل دیئے جا رہے ہیں ان کو دو ھصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 
پہلا یہ کہ ایران انڈیا سے تعلقات بڑھا رہا ہے، لہٰذا ہمیں اس سے دور رہنا چاہئے۔ کیا یہی فارمولا ہم سعودی عرب کی کیس میں بی بھی لاگو کرتے ہیں؟ جو انڈیا کی پانچویں بڑی برآمدات کی مارکیٹ ہے؟ 
اپریل میں بھارتی وزیراعظم مودی نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اور سعودی حکومت نے انہیں ایک خطاب سے بھی نوازا تھا۔ اس موقعہ پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے تجارت، کاروبار اور تعاون بڑھانے کے معاہدے بھی کئے ۔ اگر انڈیا مخالفت کی ہی منطق ہے تو پر ہمیں سعودی عرب سے اپنے تعلقات ختم کرد ینے چاہئیں ؟ اگر ایسا کیا گیا تو ہم پورا میدان انڈیا کے ہی ہاتھ میں چھوڑ رہے ہیں۔ جو کہ کسی طور پر بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ خطے میں ہمیں چین کے علاوہ اور کوئی پارٹنر نہیں چاہئے۔ مطلب ہم سب انڈے ایک ہی ٹوکری میں کیوں ڈال رہے ہیں۔ 

ہم اب سرد جنگ کے زمانے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ اپنے چار پڑوسیوں میں سے صرف ایک ہی سے تعلقات کیوں بنائیں؟ دوسرے پڑوسی ممالک سے تعلقات بڑھانے میں ہمارے کئے اور آپشن اور مواقع بھی نکلیں گے اور اس کے ساتھ ہماری سودہ کاری کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ ہامری الگ سے ایک پہچان بنے گی۔ یہ تینو ں باتیں مجموعی طور پر ملکی مفاد میں جاتی ہیں۔

ایک اور بھی دلیل میں سیکیورٹی اور معاشی فائد کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ ملکی سالمیت اور حفاظت اچھی بات ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ہم ا پنی معیشت مضبوط ہی نہ کر سکے اور کوئی معاشی نظام ہی نہ بنا سکے۔ یہی وجہ رہی ہے کہ ہم چند ڈالرز کے پچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ اور آئی ایم ایف کے مزید مقروض ہوتے جار ہے ہیں۔ ایف 16 جہازوں کی خریداری کا قصہ ابھی تازہ ہی ہے۔ یہ ہوتی ہے صورتحال جب ہم مضبوط معیشت کے بغیر اپنی سیکیورٹی کے معاملات چلاتے ہیں۔ یا اسکے بارے میں دلائل دیتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے پڑوس میں ہونے والی سرگرمیوں کو سمجھیں ۔ تعوان اور تجارت و معیشت کی بنیاد پر تعلقات بنانے کی کوشش کریں۔ یہ طے ہے کہ کوئی ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔ ترقی کا راستہ تعاون اور خطے میں موجود مواقع کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ ہم دنیا سے رابطہ چاہتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کے ساتھ ربطہ اور تعلق بھی ضروری ہے۔