Monday, June 6, 2016

بلاول بھٹو کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟

Nai Baat May 17, 20017
 بلاول بھٹو کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
 آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے موقع پر بلاول بھٹو کی علی طور پر لانچنگ کی وجہ سے پارٹی کے جیالے خوش ہیں کہ اب ایک بار پھر پارٹی ملک بھر میں خاص طور پر پنجاب میں ابھر کر سامنے آجائے گی اور گزشتہ انتخابات میں اس نے جو پوزیشن نواز لیگ اور عمران خان کے ہاتھوں کھوئی ہے وہ دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ 

بلاول بھٹو زرادری کو پارٹی کے تمام اختیارات دینے کا فیصلہ گزشتہ سال ستمبر کیا گیا تھا۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہی ہو سکا۔ اس میں دو چیزوں کی وجہ سے پیش رفت ہو پائی۔ ایک یہ کہ پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی خود ساختہ جلاوطنی، کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ انہیں کرپشن اور دیگر مقدمات میں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ ان کی غیر موجودگی میں یہ رول فریال تالپور کو دینے کی کوششوں کے نتائج نہیں برآمد ہو سکے۔ لہیذابلاول بھٹو کا سرگرم رول نکل آیا۔ دوسرے یہ کہ مخدوم امین فہیم کے انتقال کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں پیپلپز پارٹی پارلیمینٹرین کے چیرئمین کا عہدہ آصف علی زرداری نے لے لیا۔ اور پیپلزپارٹی اپنے اصل نام سے الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر ہوگئی جس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ 

 بلاول بھٹو کی آزاد کشمیر کے انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کو اس لئے بھی اہمیت دی جارہی ہے کہ اول یہ کہ انہوں نے پہلی مرتبہ کشمیر کے حق میں اور انڈیا کے خلاف اس لہجے میں بات کی جس لہجے میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کیا کرتے تھے۔ بلاول بھٹو خود کو کہاں کھڑا کرتے ہیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ کیونکہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی پالیسی تہذیبوں کے ٹکراﺅ سے بچنا اور پڑوسیوں سے بہتر تعلقات قائم کرنا رہی۔ اور دنیا بھر میں کشیدگی اور تصادم کے بجائے امن قائم کرنا تھی۔ 

 ذوالفقار علی بھٹو جس دور میں سیاست کر رہے تھے وہ سرد جنگ کے عروج اور محنت کش طبقے کی بڑی تحریکوں اور نوآبادیاتی نظام سے مختلف ممالک کی آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے عالمی اور خطے کے تضادات مختلف تھے۔ بھٹو نے ان تضادات کو سامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی بنائی اور اس میں اضافہ یہ کیا کہ عوامی رنگ بھر دیا، یہ وہ رنگ تھا جو پاکستان کی کسی بھی پارٹی نے اس سے پہلے نہیں دیا تھا۔ بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کی ایک حد تک یہ کوشش رہی لیکن وہ اس کو وسائل کی کمی اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نہیں کر سکے۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ بھٹو کو بہت ہی محدود مدت کے لئے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ کیونکہ ایوب خان کے خلاف جو لاوا پک رہا تھا وہ پھٹنے شروع ہو چکا تھا۔ بھٹو نے اس کو ایک خوبصورت موڑ دے دیا۔ 

 بینظیر بھٹو کا امعاملہ مختلف تھا۔ بنیظیر نے جب سیاست آغاز کیا تب ملک میں ضیاالحق کی آمریت اور سخت ترین مارشل لاءکا دور تھا۔عالمی طور پر سرد جنگ ختم ہونے جارہی تھی۔ اور افغانستان اس کا آخری مورچہ بنا ہوا تھا۔ بنظیر کو بھٹو کے مقابلے میں سخت اور زیادہ مدت تک جدوجہدکرنی پڑی۔ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور جنیوا معاہدے کے بعد ایک نئی دنیا نے بھرنا شروع کیا تھا۔ یہ دنیا گلوبلائزیشن کی تھی۔ جس میں کشیدگیوں، تصادمات اور جنگ جو پالیسیوں کی گنجائش کم ہو رہی تھی یہ مصالحت اور مل جل کر رہنے کی پالیسی تھی۔ بنیظیر نے اسی پالیسی کو اپنایا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کا عوامی رنگ اور طریقہ کار بررار رکھا جو ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔ 

 نوے کے عشرے میں سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی اور اس کے نتیجے میں منتخب اداروں کو کمزور کرنے اور سویلین اسپیس کے سکڑنے نے انہیں بہت کچھ سکھایا۔ چارٹر آف ڈیموکریسی اسی سبق کا نتیجہ تھا۔ 

زرداری ایک ایسے دور میں آئے جب نائن الیون کا واقعہ رونما ہو چکا تھا۔ دنیا میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ لڑی جارہی تھی۔دنیا میںایک نئی سیاسی و معاشی ترتیب کی طرف لے جانے کی جنگ ہو رہی تھی۔ اس دور کے تضاضے اور تضادات اپنے تھے۔ امریکہ اپنی بالادستی کو مضبوط اور متحکم کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ افغانستان میں امریکہ فوجیں اتار چکا تھا۔ ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔وہ پڑوسیوں سے جنگ نہ کرنے وغیرہ کی پالیسی کے حوالے سے بینظیر کی ہی پالیسی پر چلے لیکن خراب حکمرانی، کرپشن کے واقعات اور پارٹی کو کلوزڈ کلب بنانے اور پارٹی کی عوام سے دوری نے گھمبھیر صورتحال پیدا کردی۔ سیاسی خواہ تنظیمی حوالے سے ایک خلاءپیدا ہو گیا۔ 

بلاول بھٹو ایسے دور میں سیاست کرنے جارہے ہیں جب خطے کے خواہ عالمی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ اب دنیا جنگ کے بجائے تجارتی اور کاروباری معیشت کی کروٹ کے رہی ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس جارہی ہیں۔ ہمارے خطے میں امریکہ کی آشیرواد سے چین معاشی طور پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ اب جنگ کی نہیں معیشت، کاروبار اور تجارت کی بات چلے گی۔ 

بلاول بھٹو زرداری جب سیاست کر رہے ہیں ، وہ پالیسی کے حوالے سے کس کے نقش قدم پر چلیں گے؟ اپنے نانا کے نقش قدم پر جو بھارت سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کرتے تھے؟ والدہ کے نقش قدم پر جو ٹکراﺅ کے بجائے مصلحت اور مفاہمت کی پالیسی اپنائے ہوئے تھی، اور انتہا پسندی کے خلاف تھی۔ یا والد کے قدم پر جس کا مختصرا یہ نچوڑ ہے کہ جس بات میں فائدہ ہو وہ کرو یا اس کا ساتھ دو۔ 
بلاول بھٹو کو اس تبدیل شدہ صورتحال کا ادراک کرنا پڑے گا، اور ملکی، خواہ خطے اورعملی حوالے سے تبدیل شدہ صورتحال کیا ہے اس کے تقاضے اور تضادات کیا ہیں اس کا بھی صحیح طور پر جائزہ لینا پڑے گا۔ اور اس کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور پالیسی بنانی پڑے گی۔ اب یہ پرانے نعرے اور پرانا بیانیہ زیادہ اپیل نہیں رکھتا۔ جمہوری لبرل ایجنڈا چاہئے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے اپروچ میں وہی عوامی رنگ اختیار کرنا پڑے گا جوزرداری صاحب سے پہلے پیپلزپارٹی کا خاصہ رہا ہے۔ انہیں بالکل اسی طرح سے اپنی ٹیم بنانی پڑے گی جس طرح سے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنائی تھی، یعنی تمام تر تنقید کے باوجود اپنے انکلز سے جان چھڑائی تھی۔ نئے لوگوں کے لئے راہ ہموار کی تھی۔ 

 ایسا کرناے کے لئے انہیں پیپلزپارٹی ایک تجربیگاہ کے طور پر دی گئی ہے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین ایک الگ پارٹی کے طور پر رجسٹرڈ بھی ہے اور منتخب ایوانوں میں موجود ممبران اسی پارٹی کے ہیں۔ یہ یک ہی شناخت رکھنے والی وہ پڑوسیوں سے جنگ نہ کرنے وغیرہ کی پالیسی کے حوالے سے بینظیر کی ہی پالیسی پر چلے لیکن خراب حکمرانی، پارٹی کو کلوزڈ کلب بنانے اور پارٹی کی عوام سے دوری نے گھمبھیر صورتحال پیدا کردی۔ سیاسی خواہ تنظیمی حوالے سے ایک خلاءپیدا ہو گیا۔ دو چیزوں کی ایک ہی شناخت ہے ۔ بلاول بھٹو پیپلزپارٹی چلا رہے ہیں اور پارلیمنٹرین کی شناخت والی ونگ کو آصف علی زرداری صاحب ہی چلارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاناما لیکس کے خلاف ملک میں اٹھی ہوئی تحریک کو پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ یا اعتزاز احسن ہی ڈیل کر رہے ہیں۔ اس میں بلاول بھٹو کا کوئی زیادہ عمل دخل نہیں ہے۔ یعنی اصل پارلیمانی سیاست اور قوت زرداری کے پاس ہی ہے۔ باقی پیپلزپارٹی کے اندر بلاول بھٹو جو کچھ کریں بھلے کریں۔ 

No comments:

Post a Comment