For Nai Baat June 21, 2016
جمہوریت کا خسارہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
جب پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوتیں ایک ساتھ مل کر ملکی معاملات چلا رہی تھیں، اپوزیشن بھی جس طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔ ایسے میں اچانک علامہ طاہرلاقادری کی آمد ہوئی ہے۔ ان کی آمد اور عید کے بعد دھرنا دینے کے اعلان نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔ وہ آرمی چیف سے ہی مطلابہ کر رہے ہیں کہ ماڈل ٹاﺅن ک سانحے کے لواحقین کو انصاف دلائیں۔ علامہ قادری نے یاد دلایا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایات پر ہی دو سال قبل اس واقعے میں مرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکنوں کی قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔
جنرل مشرف نے جو ملک کے سیاسی ڈھانچے اور مکینزم کو تبدیل کیا تھا۔ اس کے بعد ایک منتخب حکومت آئی اور جوں توں کر کے اپنی مدت پوری کر لی۔ اس کے بعد دوسری منتخب حکومت لنگڑاتی ہوئی مدت پوری کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ ملک میں منتخب حکومت ہے۔ لیکن یہ جمہوریت بے مقصد سی بن کر رہ گئی ہے۔ مشرف کے جانے کے بعد خیال تھا کہ جمہوری اور آئین اصلاحات آئیں گی۔ اور طاقت کا توازن جمہوریت اور عوام کے حق میں آ جائے گا۔ آئینی اصلاھات ہونگی۔ جمہوریت جڑیں پکڑے گی۔ اور تبدیلیاں کچھ گہری ہونگی۔
پہلا دور پیپلزپارٹی کا تھا ۔ اگرچہ امیدوں پر پورا نہیں اترا لیکن پھر بھی کچھ حاصلات ہوئیں۔ باقی دوسرے دور کے لئے چیزیں چھوڑ دی گئیں۔شایداس لئے بھی کہ دوسرا دور نواز لیگ کا ہوگا جس کا آبائی صوبہ پنجاب بنتا ہے، اس لئے وہ کچھ مزید چیزیں کر لے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ملکی معیشت میں بہتری، لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع ، انڈیا سے تعلقات اور ترجیحات میں برابری کے معاملات کو وزیراعظم نواز شریف ٹھیک سے دیکھ نہ سکے۔
اس کی ایک توضیح یہ بھی ہے کہ اس کے سکرو ٹائیٹ ہوتے رہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن سیاسی طور پر وہ کچھ کر سکتے تھے۔ ایسا کچھ جس سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں۔ سیاسی قوتوں سے جڑے رہنے کی پالیسی پر مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہتے۔ اصل میں یہ جمہوریت کا ہی خسارہ اور کمی تھی جس کی وجہ سے میاں صاحب نے اپنا نقصان جو کیا سو کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پورے نظام کا اور تسلسل کا بھی نقصان کیا۔ اب بھی کوئی لمبی چوڑی امید نہیں کہ جمہوریت کے اس خسارے کا ازالہ کریں گے۔
جمہویرت تسلسل اور تبدیلی دونوں کا نام ہوتی ہے۔ اور اس جمہویرت کی جھلک طرز حکمرانی کے ساتھ اپرٹی کے اندر اور فیصلے سازی میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کو میاں نواز شریف قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پارٹی اپنا پارلیمانی لیڈر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔
سال رواں کے دوران یہ سیاسی سرگرمی کا دوسرا راﺅنڈ ہوگا۔ پہلا راﺅنڈ پاناما لیکس کے خلاف چل چکا ہے۔ اس دوران ملک ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلتا رہا۔ وزیراعظم ہارٹ سرجری کے حوالے سے لندن میں ہیں اور وہیں سے وہ احکامات بھی جاری کر رہے ہیں۔ کابینہ کے جلاس کی بھی صدارت کر رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری دبئی یا لندن سے ملکی سیاست اور سندھ حکومت چلا رہے ہیں۔ سندھ کابینہ کے اجلاس بھی دبئی میں ہونے لگے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تو کئی برسوں سے معاملات ایسے ہی چلاتے رہے ہیں۔ عمران خان بھی اکثر ملک سے باہر جاتے رہتے ہیں۔
ایک طرف ہم کہہ رہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ خطے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بیرونی خطرات کی بھی بات ہو رہی ہے۔ انڈیا کے ساتھ تعلاقت کی جو سورتحال تھی سو تھی، اب امریکہ اور افغانستان کے سات بھی معاملات خاصے خراب ہو چکے ہیں۔ کیا اس طرح سے ملکی معاملات چلائے جا سکتے ہیں؟ پورے ملک میں ایک ہی شخص سرگرم نظر آتے ہیں اور وہ ہیں جرنل راحیل شریف۔ تعجب ہے کہ باقی لیڈرشپ کہاں ہے؟
اب جب علامہ صاحب جو مطالبات اور طریقہ کار لیکر دوبارہ آئے ہیں تو ایک بار پھر اصل اشوز دب جائیں گے۔ سرحدوں کی صورتحال خاصا اہم معاملہ ہے۔ سوائے چین کے باقی تمام پڑوسی ہم سے ناخوش ہیں۔ افغانستان سے تعلقات خراب ہونے کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ ان فغانیوں کو واپس بھیجنے کی بات ہو رہی ہے جنہوں نے پاکستان میں اپنے گھر کاروبار وغیرہ بنا لئے ہیں اور اپنے اسٹیک بڑھا لئے ہیں۔ ایک پوری نسل یہاں پر پل کر جوان ہوئی ہے۔ وہ افغانستان کیوں جائیں گے؟
علامہ قادری کی وطن واپسی میں کوئی بہت زہادہ پر اسراریت نہیں۔ کیونکہ پاناما لیکس کا معاملہ پارلیمنٹ کے اندر جانے کے بعد کچھ زیادہ بچا نہیں۔ اس ضمن میں ٹی او آرز ابھی نہیں تو عید کے بعد بن جائیں گے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ یہ کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی معاملے کو اس حد تک لے جانا نہیں چاہتی کہ بال کورٹ سے باہر چلی جائے۔
پیپلزپارٹی کی دو چیزوں میں زیادہ دلچسپی ہے۔ ایک یہ کہ پنجاب میں پارٹی کی بحالی، دوسرا یہ کہ نواز شریف کو اتنا کمزور کیا جائے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کے سامنے بطور آپشن نہ موجود نہ ہو۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ وہ عمران خان کے مقابلے میں اسٹبلشمنٹ اور دیگر قوتوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہو سکتے ہیں۔
بہرحال اسٹبلشمنٹ ان تینوں کو متوازی طور پر رکھ رہی ہے۔ نہ میاں نواز شریف اور نہ ہی زرادری کے خلاف کارروائی کا قصہ بن رہا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کو قابو میں رکھنے کے جتن کئے جاتے رہے ہیں جو اب بھی جاری ہیں۔
پیپلزپارٹی کی اس میں بھی دلچسپی ہو سکتی ہے کہ نواز لیگ اپنی قیادت تبدیل کرے۔ بلاول بھٹو زرداری کے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں بیانات سے وہ یہ دکھانا چاہ رہی ہے کہ نواز لیگ اب متحد نہیں۔ لیکن ابھی تک نواز شریف مطمئن ہیں کہ پارٹی کے اندر کوئی ایسی صورت نہیں کہ وہ پارلیمانی لیڈر تبدیل کرے۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آزمائے ہوئے ہیں۔ بہت سارا یجنڈا جو ان کے ذمہ آتا تھا نہیں کر پائے ہیں۔ عمران خان کو آزمایا نہیں یگا ہے۔ لیکن ان سے بھی کسی بنیادی تبدیلیوں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ چوتھا آپشن یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ قدم اٹھائے اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں لےا آئے۔ لیکن اس کے امکانات بھی ختم ہو چکے ہیں۔ سیاستدانوں کا کھیل سیاستدانوں کو ہی کھیلنا ہے۔
ملک میں صرف بجٹ کا ہی خسارہ نہیں۔ جمہوریت کا بھی خسارہ ہے۔ اس خسارے کو سیاسی قوتیں پورا کرنے کی پوزیشن نہیں لے رہی ہیں۔ اصل میں عوام کی طرف سے دباﺅ نہیں۔ سیاسی قوتیں عوام کو متحرک کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یہ جن اگر بوتل سے نکل آیا تو سیاسی طبقے کے قابو میں ہی نہیں آئے گا۔ عوامی دباﺅ کی عدم موجودگی میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کچھ ایسا نہیں کر سکیں جو عوام کو فائدہ دے سکے۔ اور جمہوریت میں عوام کے اسٹیک بڑھتے اور وہ اس میں بطور فریق کے کھڑے ہو سکتے تھے۔
ہاں ایک آپشن ہے۔ وہ ہے انتخابات۔ لیکن یہ انتخابات وسطی مدت میں کیسے ہوں؟ یہ موجودہ بنائے ہوئے آئینی ڈھانچے سے باہر کی بات ہو جاتی ہے۔ اور اس کے لئے احتجاج اور بعض غیر معمولی اقدامات کرنے پڑیں گے جو تسلسل کو توڑ دیں گے۔ تو کیا حکومت کی آئینی مدت کم کر کے چار سال کرنے پر غور کیا جارہا ہے؟ اس فارمولے سے جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟
اصل بات عوام کی شرکت، ان کے حقوق اور مسائل ہیں۔ ان کی فیصلہ سازی میں شرکت ہے۔ اور ایسی گورننس اور مکینزم ہے کہ عوامی ایجنڈے پر عمل ہو۔ اگر مدت کم کرنے سے مسئلہ حل ہوتا تو نوے
کے عشرے میں خواہ غلط طور پر ہی سہی، چار مرتبہ حکومتوں کی مدت کم کی گئی تھی۔
کے عشرے میں خواہ غلط طور پر ہی سہی، چار مرتبہ حکومتوں کی مدت کم کی گئی تھی۔
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/22-06-2016/details.aspx?id=p12_06.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

No comments:
Post a Comment