Tuesday, June 7, 2016

سیاسی کرپشن اور ووٹر کے رویے


 نئی بات ۔ سیاسی کرپشن اور ووٹر کے رویے 

    میرے دل میرے مسافر ۔ سہیل سانگی 

اگرچہ 2018 کے عام انتخابات میں ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی اب تمام حکمت عملیاں اس انتخابی مہم کا حصہ ہونگی یا ان پر کسی نہ کسی طریقے سے اثر انداز ہونگی۔ اب ملک میں جو بھی سیاست ہوگی وہ ان انتخابات کو نظر میں رکھ کر ہوگی اور وہ بڑی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔ 


 دو لمحے کے لئے سوچیئے کہ آج کیا صورتحال ہے اور ڈیڑھ سال بعد کیا صورتحال بنے گی؟ 

تمام الزامات اور کوتاہیوں کے باوجود نہیں لگتا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے قلعہ میں کوئی بیس کھویا ہے یا ا سے پنجاب میں کوئی خطرہ نہیں۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک جاتے ہیں کہ نواز لیگ کے ووٹ بینک میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ سیاست اور ووٹ کو ہلانے والے محرکات مثلا بڑے خاندان، بیوروکریسی، میڈیا کے ایک بڑے حصہ کو قابو میں رکھا ہوا ہے۔ 

یہ صحیح ہے کہ ٹاک شوز کے دنگل ہوتے رہے۔ لیکن یہ سب ووٹ ڈالنے کے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکے ہیں۔ پھر صوبوں کی ان شکایات میں بھی وزن ہے کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ دراصل صرف ایک ہی صوبے کے لئے ہے۔


 نواز لیگ ایک ہی نقطے پر کام کر رہی ہے کہ پنجاب قابو میں ہے تو اسلام آناد تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ کبھی نواز لیگ میں دراڑیں ڈالنے کی باتیں ہو رہی تھی۔ اب ان ہوں نے دم توڑ دیا ہے۔ 70 اور 80 کے عشرے کی پنجاب میں مقبول پیپلزپارٹی اب بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ 

پاناما لیکس کے بعد اپنی نئی حکمت عملی میں وہ اپوزیشن کے طور پر اپنی پوزیشن بچا سکی ہے لیکن پنجاب میں کچھ حاصل نہیں کر سکی ہے۔ 


 سندھ میں پیپلز پارٹی کی خراب حکمرانی بحچ طلب نہ سہی لیکن کوئی متبادل نہیں۔ یہاں نواز لیگ دانست طور پر اپنا راستہ نہیں بنا پائی۔ تحریک انصاف نے تین نیم ”سنجیدہ “ کوششیں کیں۔ لیکن کوئی بریک تھر و کرنے میں ناکام رہی۔ 


ایم کیو ایم آپریشن کا سامنا کرتی رہی، دو تین ضمنی انتخابات میں آزمائش ہوئی ، پتہ چلا کہ اس کو بھی شہری علاقوں میں کوئی بڑا چیلینج نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے ماحول تو بنایا لیکن معاملہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکا۔


 خیبر پختونخوا میں لگ بھگ وہی صورتحال رہے گی۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا مخلوط حکومت کا فارمولا جاری رہ سکتا ہے۔ جے یو آئی براہ راست حکومت کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت کے مزے لے رہی ہے۔ 

ویسے بھی اس کی اور اے این پی کی باری تب آنی ہے جب مرکز میں پیپلزپارٹی ہو۔ بلوچستان میں کسی سیاست کی بہت کم گنجائش ہے۔ 


 یہ ایک اجمالی جائزہ بتاتا ہے کہ آئندہ انتخابات کا انیس بیس فرق کے ساتھ یہی منظر نامہ بننے جا رہا ہے۔ تا وقتیکہ کہ کوئی بڑا واقعہ نہ ہو جو کہ صورتحال کو تبدیل کردے۔ 



 نواز شریف فیملی پر آف شور کمپنیاں بنانے اور کرپشن کے الزامات ہیں تاہم ان کا قانونی طور پر ثابت ہونا باقی بھی ہے اور مشکل بھی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن ، خراب حکمرانی وغیرہ کے حوالے سے بہت ساری چیزیں مارکیٹ میں ہیں جن میں سے اکثر باتوں میں وزن بھی ہے۔ 

ایم کیو ایم نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کا سامنا کیا۔ جس نے اس کے لئے ہمدردی کا ووٹ پیدا کر لیا۔ 

عمران خان عجیب و غریب مطالبات کے ساتھ صورتحال کو پریشان کن حد تک لے گئے اور بعد میں خود بھی پریشان ہوئے۔ لیکن ا س تمام مشق میں صورتحال وہی کی وہیں کھڑی ہے۔ ناامیدی کا معاملہ نہیں۔ لیکن حقائق سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتی۔ 



مطلب یہ کہ لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے رویے میں کوئی تبدیلی نظرنہیں آ رہی۔ آخر رویہ تبدیل کیوں نہیں ہو رہا کہ کرپٹ لوگ انتخابات جیت جاتے ہیں ؟ 

دراصل ہمارے ملک میں بدتریج ایک مکینزم تشکیل ہو چکا ہے۔ عام لوگ اس مکینزم سے باہر رہ کر گزارا نہیں کر پاتے۔ ایک وقت تھا کہ لوگوں نے باہر رہ کر بھی دیکھا لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ سوائے اپنا نقصان کرنے کے۔ 



قصہ یہ ہے کہ میرٹ ، قانون کی حکمرانی نام کی چیزیں شاید اب پاکستان کی کتباوں میں بھی باقی نہیں رہیں۔ مزید برآں یہ کہ حکومت کی خراب کارکردگی اور خدمات کی وجہ سے عام لوگوں تک سرکاری سہولیات کی رسائی نہیں ہو پاتی۔عام شخص سرکاری نوکری ہو، یا مقدمہ درج کرانا ہو۔ روینیو میں زمین کے کاغذات درست کرانے ہوں میں پھنسا ہوا ہے۔ 



سیاستدان کی بیورکریسی تک چونکہ رسائی ہوتی ہے لہٰذا وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اپنے لوگوں اور ووٹر تک یہ سہولیات پہنچا دیتا ہے۔ اس پورے نظام کی کرپشن کا آغاز اس سیاسی رشوت سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ووٹر پر احسان کر دیتا ہے اور بعد میں اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے ووٹ لے لیتا ہے۔ 



یعنی ساتھ دو گے تو تمام سہولیات تمہاری نہیں، نہیں دوگے تو تمہارا استحقاق ہی نہیں کہ تم یہ سہولیات حاصل کر سکو۔ جیسے کہ یہ لوگ پاکستان کے شہری ہی نہ ہوں۔ عدلیہ اپنی تمام تر ایکٹوازم کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کر پائی۔



 یہ نظام اس طرح کرپشن کو جنم دیتا ہے برداشت کرتا ہے اور اس کو پروان چڑھاتا ہے۔ اسکول میں استاد آ رہے ہیں، پڑھا رہے ہیں یا نہیں، سرکاری ہسپتال یا دوسری کسی سرکاری سہولت کی کیا صورتحال ہے؟ 

ان سب کو مجموعی طور پر ٹھیک ہو نا چاہئے، یا یہ کہ یہ سب کچھ عام آدمی کا حق ہے۔ یہ سوچ اب نہیں رہی۔ پورے مکینزم نے ایک ہی بیانیہ از بر کرا دیا ہے کہ مجھے ملنا چاہئے یہ اہم ہے۔



اچھے سیاستداں شازو نازہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے میدان کھلا نہیں رہتا ہے جو اصلاحات چاہتے ہیں۔لوگوں کے پاس یہ بھی تاریخی تجربہ ہے کہ کوئی شخص واحد پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ لوگ انامیدواروں اور گروپوں کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے مندرجہ بالا ذاتی کام آتے ہیں۔ لوگ غربت، قانون سے آگاہی نہ ہونے اور بیوروکریسی کے سرخ فیتے وغیرہ کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ان کی سرپرستی کے بغیر وہ گزارا نہیں کر سکتے۔ 

حکومت یا ریاست کی جانب سے ان کے حصے میں بھلے کتنی ہی چیزیں آتی رہیں۔ لیکن وہ سب اسے تب تک نہیں ملیں گی جب تک وہ ایسے چالاک سیاستدان کو بیچ میں نہیں ڈالیں گے۔ اس میں مزید اضافہ اس وقت ہو جاتا ہے جب منتخب نمائندے اپنے علاقوں میں ہر بنیادی محکمے میں اپنی پسند کا افسر مقرر کرا لیتے ہیں۔ 



دیہی علاقوں میں یہ مکینزم عام ہے لیکن شہری آبادی کا بھی بڑا حصہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں شہری آبادی کا مڈل کلاس کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ جو کہ بقول ہمارے ویزر خزانہ اسحاق ڈار کے اب تقریبا چالیس فیصد تک ہنچ چکا ہے۔ شاید شہری علاقوں کے لوگ ایک حد تک اسی مکینزم کا شکار ہیں۔ 


2008 کے انتخابات میں شہری متوسط طبقے نے ان کو ووٹ دیا جو اصلاحات کی بات کر رہے تھے۔ لیکن ان کو بھی ووٹ ملے جو اصلاحات میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ کتنے بچے اسکول نہیں جاتے؟ اور جو اسکول نہیں جاتے کل کو وہ کیا کریں گے؟ ۔ یہ بات شہری علاقوں میں رہنے والوں کے لئے باعث تشویش نہیں۔

شہری علاقوں کے لوگ سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں سے مایوس ہیں یہی وجہ ہے کہ دو تین عشرے قبل وہ ان سرکاری سہولیات سے الگ ہو گئے ہیں۔ اس کو خدمات کی مقدار اور اور معیار پر بھی تشویش نہیں۔ اس سوچ نے صحت اور تعلیم کو مکمل طور پر پرائیویٹائز کردیا ہے۔ 

شہر کی ہر گلی کوچے میں نجی ا سکول موجود ہے چاہے اس کا معیار کچھ بھی ہو۔ علاقے میں نجی ہسپتال موجود ہے۔ 
اس کو سب سے بڑی فکر ٹریفک جام، بجلی یا گیس کی لوڈ شیڈنگ کی ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ میٹرو ، چوڑے روڈ وغیرہ اس کی ترجیح اور دلچسپی ہے۔ 


 یہ صحیح ہے پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا مکینزم شہری اور دیہی علاقوں میں مختلف ہے۔ شہری متوسط طبقہ خراب ساکھ رکھنے والوں کو کیوں ووٹ دیتے ہیں؟ ایک امکان یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن یا چوائس نہیں ہوتی۔ عام طور پر دونوں امیدوار خراب ساکھ رکھنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/07-06-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg

1 comment:

  1. Main editorial page link: http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

    ReplyDelete