Naib Baat May 28, 2016
چابہار وسطی ایشیا کے لئے متبادل گزرگاہ
چابہار مقابل گوادر
چاہبہار کے پاکساتن پر متوقع اثرات
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جپان اس پورٹ کے پاس صنعتی شہر تعمیر کرنے ے لئے تیار ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا کا دوسرا گیٹ وے بنے گا۔ امریکہ بھی اپنے بعض تحفظات کے باوجود اس پورٹ کی حمایت کر رہا ہے۔
چہ بہار اور گودار کو ملانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس ضمن میں ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کے موقع پر بات چیت ہوئی۔ اپسکتان میں ایرانی سفیر نے اس منصوبے میں اپکستان کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
چینی اقتصادی راہدری کس مرحلے میں ہے؟ اس کا صحیح اندازہ ریاستی اداروں کو ہی ہوگا۔ لیکن خطے میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوچکی ہے، جس کی بہت پہلے سے توقع تھی۔ وہ ہے ایران،افغانستان اور انڈیا کے درمیان چابہار سمندری بندرگاہ کی راہداری کا معاہدہ۔ یہ معاہدہ بھارتی ویزراعظم کے تہران کے حالیہ دورے کے موقع پر کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم کے دورہ ایران کا اگر پاکستانی وزیزراعظم کے دورے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ میاں نواز شریف کا دورہ خوش خیر عافیت معلوم کرنے سے زیادہ نہیں تھا۔
پاکستانی وزیر اعظم مزید کچھ نہیں کر پائے شاید اس ملک کی خارجہ پالیسی اس کے بس میں نہیں۔ یا پھر وہ بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھ نہ سکے۔
پاکستانی وزیر اعظم مزید کچھ نہیں کر پائے شاید اس ملک کی خارجہ پالیسی اس کے بس میں نہیں۔ یا پھر وہ بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھ نہ سکے۔
ایران پر سے پابندیاں ختم ہونے کے بعد ہ پاکستان اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کرتا۔ تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر پاکستان قدرتی گیس کے ایک حصہ تعمیر کر چکا ہوتا۔ اور اب وہ اس سے گیس حاصل کر رہا ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں ویزراعظم نواز شریف کا رواں سال جنوری کا دورہ ایران شاید ہی کسی کو یاد ہو۔ کیونکہ اس دورے سے نہ کچھ خاصؒ کیا گیا اور انہ ہی اس کی اہمیت تھی۔ اس دورے کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان سے فرمائش کی کہ وہ اپنے تئیں یہ پابندیاں ہٹائے۔
مارچ میں ایرانی صدر جب پاکستان کے دورے پر آئے تو یہ ایک دوسرا موقعہ تھا جس سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ ایک بار پھر پاکستان نے موقعہ ضیاع کیا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ملک کے ایک اہم ادارے نے بھارتی ایجنٹ کے ایران سے آنے سے متعلق ایک ٹوئیٹ بھیجا ۔ جس پر ایران کی طرف سے رد عمل آیا۔
مارچ میں ایرانی صدر جب پاکستان کے دورے پر آئے تو یہ ایک دوسرا موقعہ تھا جس سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ ایک بار پھر پاکستان نے موقعہ ضیاع کیا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ملک کے ایک اہم ادارے نے بھارتی ایجنٹ کے ایران سے آنے سے متعلق ایک ٹوئیٹ بھیجا ۔ جس پر ایران کی طرف سے رد عمل آیا۔
2033 میں ایران اور انڈیا نے پاکستان کو ایک طرف چھوڑ کر اس منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مغرب کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ سست رفتاری کا شکار رہا۔ اس بندرگاہ کی توسیع سے انڈیا کی وسطی ایشیا اور خلیج کے ممالک تک برآمدات کی رسائی میں قیمت کم کر دے گا۔ یہ بندرگاہ انڈیا کو آسان سمندری راستہ مہیا کرتا ہے۔ انڈیا افغانستان کے صوبے نمروز میں 220 کلو میٹر سڑک کی تعمیر پر 100 ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ سڑک اب چابہار بندرگاہ تک بنائی جاے گی۔ ۔ اس بندرگاہ کو متبادل گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنے کے لئے اب سہ فریقی معاہدہ ہوگا۔
اس بندرگاہ کی اسٹریٹیجک نوعیت یہ ہے کہ یہ چین کی مالی مدد سے پاکستان میں تعمیر ہونے والے گوادر بندرگاہ کے قریب ہے۔ انڈیاٰا اس منصوبے کو جلد مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں جلدی اس وجہ سے بھی کر رہا ہے کہ چینی صدر کی پاکستان آمد اور اس موقعہ پر 45 ارب ڈالر کے توانائی اور مواصلات کے معاہدے کر لئے تھے۔ بظاہر امریکہ انڈیا کی اس سرگرمی میں تیزی دکھانے پر خوش نہیں۔ لیکن انڈیا اس منصوبے اور اس سے متعلق دیگر کام تیزی کے ساتھ نمٹا رہا ہے۔
انڈیا چابہار کے قریب اسی طرح سے فری زون قائم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے جس طرح سے چین پاکستان میں گوادر کے قریب کرنا چاہتا ہے۔
واہگہ کے ذریعے افغانستان سے تجارت میں پاکستان کی ا کی سے بعض رکاوٹیں محسوس کر رہا تھا اس کی وجہ سے انڈیا افغانستان کو معاشی اور حکمت عملی میں اپنے ساتھ جوڑنے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ اب اس نے ایرانی بندرگاہ کے ذریعے اس کا توڑ نکال دیا ہے۔
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں سے بلاوجہ دوری اختیار کریں۔ جب کہ دسری طرف گنجائش موجود ہو کہ پڑوسی سے خوشگوار تعلقات سے آپ کو بہت سارے فوائد ہو رہے ہوں۔
چبہار بندرگاہ اور اس کو ملانے والی سڑکوں کا جال جو ایران، افغانستان اور انڈٰا تعمیر کر رہے ہیں کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ جس کو ہم نظر انداز کر لیں۔ پاکستان کے پاس جواز اور ضرورت موجود ہے کہ وہ اس تعاون کا حصة بنے۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ خطے میں تعاون کے اثرات بہت بڑے ہیں جو خطے کی جنگی حکمت عملی کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ خطے میں تعاون کے اثرات بہت بڑے ہیں جو خطے کی جنگی حکمت عملی کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
. اس خطے میں اب بجلی اور توانائی کی تجارت کی ایک نئی لہر اٹھنے والی ہے۔ جو ٹرانسپورٹ اور مجموعی طور پر تجارت اور معیشت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دے گی۔
مثال کے طور پر ٹراسمیشن لائین جو کرغیز اور تاکستان سے بجلی لے کر پاکستان پہنچائے گی۔ اس سے بجلی اور اس کی ٹرانسمیشن کی ایران سمیت ایک نئی مارکیٹ بن رہی ہے۔ جو کہ آگے انڈیا تک بھی جائے گی۔ چین تھر کول میں بجلی گھر بنانے کے ذریعے پاکستان کو بجلی دینا چہاتا ہے۔ جس کاا فتتاح وزیراعظم کو گزشتہ ماہ کرنا تھا لیکن عین وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔
بجلی کی علاقائی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ گیس کی بھی علاقائی مارکیٹ بن رہی ہے۔ ہائی ویز کا نیٹ ورک خطے کے مختلف شہروں کو ملائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ یوں پورے خطے میں تجارت پھیلنے والی ہے۔
بجلی کی علاقائی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ گیس کی بھی علاقائی مارکیٹ بن رہی ہے۔ ہائی ویز کا نیٹ ورک خطے کے مختلف شہروں کو ملائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ یوں پورے خطے میں تجارت پھیلنے والی ہے۔
انڈیا سمجھتا ہے کہ چبہار بندرگا وسطی ایشیا کے لینڈ لاک ممالک کو تجارت کی گزرگاہ مہیا کرے گا جو پاکستان کو بائی پاس کر دے گا۔ یہ ایرانی بندرگاہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے قریب ہے۔ جو کہ وسطی ایشیا اور افغانستان کو تجارتی گزرگاہ فراہم کرے گا۔ جس کے بعد یہ وسطی ایشیا کی ریاستیں چین یا پاکستانی بندرگاہ گوادر کی محتاج نہیں رہیں گی۔
ایران کا خیال ہے کہ گیس اور تیل کی صنعت دہلی اور تہران کے درمیان تعاون کا بنیادی نقطہ رہے گا۔ انڈیا کے معدنی وسائل اور ایران کے توانائی کے وسائل الیومینم، اسٹیل اور پٰترو کمیکل صنعتوں کے ئے راہ ہموار کریں گی۔ ایران کا انڈیاا پر چھ ارب روپے تیل کے بقایاجات ہیں۔ جن میں سے 750 ملین ڈالر وہ رواں ہفتے ہی ادا کر دے گا۔ 2012 میں ایران کے کچے تیل کی انڈیا کی برآمدات کی دوسری بڑی منڈی تھی ۔
صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کے ساتھ کچھ معاملات ہیں بھی تو ان کو مغرب میں ہونے والی مواقع ضایع نہیں کرنے چاہئیں۔ اس ضمن میں جو دلائل دیئے جا رہے ہیں ان کو دو ھصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
پہلا یہ کہ ایران انڈیا سے تعلقات بڑھا رہا ہے، لہٰذا ہمیں اس سے دور رہنا چاہئے۔ کیا یہی فارمولا ہم سعودی عرب کی کیس میں بی بھی لاگو کرتے ہیں؟ جو انڈیا کی پانچویں بڑی برآمدات کی مارکیٹ ہے؟
اپریل میں بھارتی وزیراعظم مودی نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اور سعودی حکومت نے انہیں ایک خطاب سے بھی نوازا تھا۔ اس موقعہ پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے تجارت، کاروبار اور تعاون بڑھانے کے معاہدے بھی کئے ۔ اگر انڈیا مخالفت کی ہی منطق ہے تو پر ہمیں سعودی عرب سے اپنے تعلقات ختم کرد ینے چاہئیں ؟ اگر ایسا کیا گیا تو ہم پورا میدان انڈیا کے ہی ہاتھ میں چھوڑ رہے ہیں۔ جو کہ کسی طور پر بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔
پہلا یہ کہ ایران انڈیا سے تعلقات بڑھا رہا ہے، لہٰذا ہمیں اس سے دور رہنا چاہئے۔ کیا یہی فارمولا ہم سعودی عرب کی کیس میں بی بھی لاگو کرتے ہیں؟ جو انڈیا کی پانچویں بڑی برآمدات کی مارکیٹ ہے؟
اپریل میں بھارتی وزیراعظم مودی نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اور سعودی حکومت نے انہیں ایک خطاب سے بھی نوازا تھا۔ اس موقعہ پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے تجارت، کاروبار اور تعاون بڑھانے کے معاہدے بھی کئے ۔ اگر انڈیا مخالفت کی ہی منطق ہے تو پر ہمیں سعودی عرب سے اپنے تعلقات ختم کرد ینے چاہئیں ؟ اگر ایسا کیا گیا تو ہم پورا میدان انڈیا کے ہی ہاتھ میں چھوڑ رہے ہیں۔ جو کہ کسی طور پر بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ خطے میں ہمیں چین کے علاوہ اور کوئی پارٹنر نہیں چاہئے۔ مطلب ہم سب انڈے ایک ہی ٹوکری میں کیوں ڈال رہے ہیں۔
ہم اب سرد جنگ کے زمانے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ اپنے چار پڑوسیوں میں سے صرف ایک ہی سے تعلقات کیوں بنائیں؟ دوسرے پڑوسی ممالک سے تعلقات بڑھانے میں ہمارے کئے اور آپشن اور مواقع بھی نکلیں گے اور اس کے ساتھ ہماری سودہ کاری کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ ہامری الگ سے ایک پہچان بنے گی۔ یہ تینو ں باتیں مجموعی طور پر ملکی مفاد میں جاتی ہیں۔
ہم اب سرد جنگ کے زمانے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ اپنے چار پڑوسیوں میں سے صرف ایک ہی سے تعلقات کیوں بنائیں؟ دوسرے پڑوسی ممالک سے تعلقات بڑھانے میں ہمارے کئے اور آپشن اور مواقع بھی نکلیں گے اور اس کے ساتھ ہماری سودہ کاری کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ ہامری الگ سے ایک پہچان بنے گی۔ یہ تینو ں باتیں مجموعی طور پر ملکی مفاد میں جاتی ہیں۔
ایک اور بھی دلیل میں سیکیورٹی اور معاشی فائد کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ ملکی سالمیت اور حفاظت اچھی بات ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ہم ا پنی معیشت مضبوط ہی نہ کر سکے اور کوئی معاشی نظام ہی نہ بنا سکے۔ یہی وجہ رہی ہے کہ ہم چند ڈالرز کے پچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ اور آئی ایم ایف کے مزید مقروض ہوتے جار ہے ہیں۔ ایف 16 جہازوں کی خریداری کا قصہ ابھی تازہ ہی ہے۔ یہ ہوتی ہے صورتحال جب ہم مضبوط معیشت کے بغیر اپنی سیکیورٹی کے معاملات چلاتے ہیں۔ یا اسکے بارے میں دلائل دیتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے پڑوس میں ہونے والی سرگرمیوں کو سمجھیں ۔ تعوان اور تجارت و معیشت کی بنیاد پر تعلقات بنانے کی کوشش کریں۔ یہ طے ہے کہ کوئی ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔ ترقی کا راستہ تعاون اور خطے میں موجود مواقع کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ ہم دنیا سے رابطہ چاہتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کے ساتھ ربطہ اور تعلق بھی ضروری ہے۔
No comments:
Post a Comment