میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگیسندھ میں پیپلزپارٹی کے مخالف پیرپاگارا کی قیادت میں قائم اتحاد گرینڈ نشیل الائنس نے بھی 26 نومبر کو سکھر میں بہت بڑا اجتماع کیا ۔تقریبا سوا دو سال پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں ، شخصیات اور گروپوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا۔ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد میں بنیادی طور پر پارٹیوں سے زیادہ شخصیات کا اتحاد ہے۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام گروپ شامل تھے۔ البتہ قوم پرستوں میں سے ایاز لطیف پلیجو، اور ممتاز بھٹو شامل ہوئے تھے۔ رواں سال عمراں خان کی جانب سے ’’سندھ پر توجہ‘‘ دینے کے بعد ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے تحریک انصاف میں شمولیت کرلی۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اتحاد میں شامل نہیں۔ جسکی وجہ سے یہ اتحاد صوبے کی اردو بولنے والے ہو یا سندھی، بولنے والی شہری آبادی سے خالی تھا۔ قومی پرستوں میں قومی عوامی تحریک کا یاز لطیف پلیجو کا گروپ شامل ہے جبکہ جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے جلال محمود شاہ اور روسل بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کا حصہ شامل نہیں۔ بظاہر نواز لیگ بھی شامل تھی۔ لیکن بعد میں پارٹی کی حکمت عملی تبدیل ہونے کے بعد اس نے خود کو اتحاد کے اندر غیر فعال کردیا۔لیکن ارباب غلام رحیم شامل رہے جنہوں نے سکھر میں منعقدہ جلسے میں نواز لیگ سے علحدگی کا اعلان کردیا۔
پیپلزپارٹی مخالف اتحاد اس وقت قائم ہوا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ تاثر بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے جارہی ہے۔ سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔
اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس سے قبل اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔ ستمبر 2016 میں اس اتحاد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔
ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔ اس مرتبہ قوم پرست عنصر غائب ہے۔ جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو الگ کھڑے ہیں۔
پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔
گرینڈ نشیل الائنس کی حالیہ سرگرمی فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر ہی ہوئی ہے۔ گرینڈ نشنل الئنس نے پہلے لاڑکانہ سکھر وغیرہ میں بڑی ریلی نکالنے کو منصوبہ بنایا تھا۔ جس کو بعد میں سکھر کے قریب ’’کرپشن سے پاک متحدہ سندھ‘‘ کے نام سے ایک جلسے میں تبدیل کردیا گیا۔
گرینڈ اتحاد کی اہم حکمت عملی اور پالیسی کا اظہار پیر پاگارا، اور ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کی تقاریر سے ہوتا ہے بااثر شخصیات کے اس وسیع تر اتحاد کے مطالبات کو ان الفاظ میں سمویا جاسکتا ہے ہ پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی ،سندھ میں گنے کی قیمتوں اور آبپاشی کے پانی تقسیم کی شکایات، گندم کے لئے باردانہ کی عدم فراہمی ۔ سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر کڑی تنقید کی۔ اتحاد نے خود کو نواز شریف کے خلاف کھڑا کیا۔ جو لوگ مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ان کا حکومت میں رہنا ممکن نہیں۔ یوں خود کو مذہبی جماعتوں کے قریب موقف رکھا۔
فکشنل لیگ کی قیادت جو کہ اتحاد میں شامل فریقین کو یکجا کرنے کی اہم قوت سمجھی جاتی ہے اس نے فوج کے تمام اقدامات کو سراہا۔ پیر پاگارا نے کہا کہ لوگ فوج اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ موقف ملک میں موجودہ منظر نامے میں نواز لیگ مخالف تصور کیاجائے گا۔ لیکن بڑے پیرپاگارا بھی خود کو فوج کا آدمی کہتے تھے۔ یہی بات موجودہ پیر پاگارا نے بھی دہرائی ہے۔ اس سے مراد اقتدار کے منظر بااثر افراد کے لئے اپنے اتحاد میں کشش پیدا کرنا رہی ہے ۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو کس طرح شکست دی جائے؟ اقتدار کی سطح پرمتبادل کیسے پیدا ہو؟یہ تاثر عام تھا کہ جب تک بااثر افراد اور ایلکیٹ ایبل کو یقین نہیں ہو جاتا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت نہیں بنا رہی تب تک پیپلزپارٹی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس تاثر کو توڑنے کے لئے جلسے میں یہ یقین دلایا گیا کہّ آئندہ حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔ اور اتحاد خود کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرائے گا۔
فنکشنل مسلم لیگ اس اتحاد کے ذریعے خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔ یہی وہ ہے کہ جلسے سے ایک روز پہلے پیر صدرالدین شاہ نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے حوالے وہ فردا فراد رابطے کرنے کے بجائے ان سے رجوع کریں۔ گرینڈ ینشنل الائنس بنیادی طور پر سندھ کے وڈیروں کا اتحدا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطالبات میں بھی بڑے مطالبات زراعت سے متعلق ہیں۔ یہ ان نئے بطقات کی بات نہیں کرتا جو زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی حوالے سے کوئی بڑا نقصان پنچا سکے۔
Nai Baat
Column Sohail Sangi
GDA, Grand national Alliance, Pir Pagara, Functional League,
پیپلزپارٹی مخالف اتحاد اس وقت قائم ہوا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ تاثر بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے جارہی ہے۔ سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔
اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس سے قبل اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔ ستمبر 2016 میں اس اتحاد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔
ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔ اس مرتبہ قوم پرست عنصر غائب ہے۔ جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو الگ کھڑے ہیں۔
پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔
گرینڈ نشیل الائنس کی حالیہ سرگرمی فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر ہی ہوئی ہے۔ گرینڈ نشنل الئنس نے پہلے لاڑکانہ سکھر وغیرہ میں بڑی ریلی نکالنے کو منصوبہ بنایا تھا۔ جس کو بعد میں سکھر کے قریب ’’کرپشن سے پاک متحدہ سندھ‘‘ کے نام سے ایک جلسے میں تبدیل کردیا گیا۔
گرینڈ اتحاد کی اہم حکمت عملی اور پالیسی کا اظہار پیر پاگارا، اور ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کی تقاریر سے ہوتا ہے بااثر شخصیات کے اس وسیع تر اتحاد کے مطالبات کو ان الفاظ میں سمویا جاسکتا ہے ہ پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی ،سندھ میں گنے کی قیمتوں اور آبپاشی کے پانی تقسیم کی شکایات، گندم کے لئے باردانہ کی عدم فراہمی ۔ سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر کڑی تنقید کی۔ اتحاد نے خود کو نواز شریف کے خلاف کھڑا کیا۔ جو لوگ مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ان کا حکومت میں رہنا ممکن نہیں۔ یوں خود کو مذہبی جماعتوں کے قریب موقف رکھا۔
فکشنل لیگ کی قیادت جو کہ اتحاد میں شامل فریقین کو یکجا کرنے کی اہم قوت سمجھی جاتی ہے اس نے فوج کے تمام اقدامات کو سراہا۔ پیر پاگارا نے کہا کہ لوگ فوج اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ موقف ملک میں موجودہ منظر نامے میں نواز لیگ مخالف تصور کیاجائے گا۔ لیکن بڑے پیرپاگارا بھی خود کو فوج کا آدمی کہتے تھے۔ یہی بات موجودہ پیر پاگارا نے بھی دہرائی ہے۔ اس سے مراد اقتدار کے منظر بااثر افراد کے لئے اپنے اتحاد میں کشش پیدا کرنا رہی ہے ۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو کس طرح شکست دی جائے؟ اقتدار کی سطح پرمتبادل کیسے پیدا ہو؟یہ تاثر عام تھا کہ جب تک بااثر افراد اور ایلکیٹ ایبل کو یقین نہیں ہو جاتا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت نہیں بنا رہی تب تک پیپلزپارٹی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس تاثر کو توڑنے کے لئے جلسے میں یہ یقین دلایا گیا کہّ آئندہ حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔ اور اتحاد خود کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرائے گا۔
فنکشنل مسلم لیگ اس اتحاد کے ذریعے خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔ یہی وہ ہے کہ جلسے سے ایک روز پہلے پیر صدرالدین شاہ نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے حوالے وہ فردا فراد رابطے کرنے کے بجائے ان سے رجوع کریں۔ گرینڈ ینشنل الائنس بنیادی طور پر سندھ کے وڈیروں کا اتحدا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطالبات میں بھی بڑے مطالبات زراعت سے متعلق ہیں۔ یہ ان نئے بطقات کی بات نہیں کرتا جو زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی حوالے سے کوئی بڑا نقصان پنچا سکے۔
Nai Baat
Column Sohail Sangi
GDA, Grand national Alliance, Pir Pagara, Functional League,
