Tuesday, November 28, 2017

فنکشنل مسلم لیگ کا سکھر میں شو

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں پیپلزپارٹی کے مخالف پیرپاگار
ا کی قیادت میں قائم اتحاد گرینڈ نشیل الائنس نے بھی 26 نومبر کو سکھر میں بہت بڑا اجتماع کیا ۔تقریبا سوا دو سال پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں ، شخصیات اور گروپوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا۔ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد میں بنیادی طور پر پارٹیوں سے زیادہ شخصیات کا اتحاد ہے۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام گروپ شامل تھے۔ البتہ قوم پرستوں میں سے ایاز لطیف پلیجو، اور ممتاز بھٹو شامل ہوئے تھے۔ رواں سال عمراں خان کی جانب سے ’’سندھ پر توجہ‘‘ دینے کے بعد ممتاز بھٹو اور لیاقت جتوئی نے تحریک انصاف میں شمولیت کرلی۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اتحاد میں شامل نہیں۔ جسکی وجہ سے یہ اتحاد صوبے کی اردو بولنے والے ہو یا سندھی، بولنے والی شہری آبادی سے خالی تھا۔ قومی پرستوں میں قومی عوامی تحریک کا یاز لطیف پلیجو کا گروپ شامل ہے جبکہ جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے جلال محمود شاہ اور روسل بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کا حصہ شامل نہیں۔ بظاہر نواز لیگ بھی شامل تھی۔ لیکن بعد میں پارٹی کی حکمت عملی تبدیل ہونے کے بعد اس نے خود کو اتحاد کے اندر غیر فعال کردیا۔لیکن ارباب غلام رحیم شامل رہے جنہوں نے سکھر میں منعقدہ جلسے میں نواز لیگ سے علحدگی کا اعلان کردیا۔

پیپلزپارٹی مخالف اتحاد اس وقت قائم ہوا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ تاثر بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے جارہی ہے۔ سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔

اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس سے قبل اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔ ستمبر 2016 میں اس اتحاد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔

ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔ اس مرتبہ قوم پرست عنصر غائب ہے۔ جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو الگ کھڑے ہیں۔
پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔
گرینڈ نشیل الائنس کی حالیہ سرگرمی فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر ہی ہوئی ہے۔ گرینڈ نشنل الئنس نے پہلے لاڑکانہ سکھر وغیرہ میں بڑی ریلی نکالنے کو منصوبہ بنایا تھا۔ جس کو بعد میں سکھر کے قریب ’’کرپشن سے پاک متحدہ سندھ‘‘ کے نام سے ایک جلسے میں تبدیل کردیا گیا۔
گرینڈ اتحاد کی اہم حکمت عملی اور پالیسی کا اظہار پیر پاگارا، اور ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کی تقاریر سے ہوتا ہے بااثر شخصیات کے اس وسیع تر اتحاد کے مطالبات کو ان الفاظ میں سمویا جاسکتا ہے ہ پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی ،سندھ میں گنے کی قیمتوں اور آبپاشی کے پانی تقسیم کی شکایات، گندم کے لئے باردانہ کی عدم فراہمی ۔ سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کی حکومت اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر کڑی تنقید کی۔ اتحاد نے خود کو نواز شریف کے خلاف کھڑا کیا۔ جو لوگ مذہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ان کا حکومت میں رہنا ممکن نہیں۔ یوں خود کو مذہبی جماعتوں کے قریب موقف رکھا۔
فکشنل لیگ کی قیادت جو کہ اتحاد میں شامل فریقین کو یکجا کرنے کی اہم قوت سمجھی جاتی ہے اس نے فوج کے تمام اقدامات کو سراہا۔ پیر پاگارا نے کہا کہ لوگ فوج اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ موقف ملک میں موجودہ منظر نامے میں نواز لیگ مخالف تصور کیاجائے گا۔ لیکن بڑے پیرپاگارا بھی خود کو فوج کا آدمی کہتے تھے۔ یہی بات موجودہ پیر پاگارا نے بھی دہرائی ہے۔ اس سے مراد اقتدار کے منظر بااثر افراد کے لئے اپنے اتحاد میں کشش پیدا کرنا رہی ہے ۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو کس طرح شکست دی جائے؟ اقتدار کی سطح پرمتبادل کیسے پیدا ہو؟یہ تاثر عام تھا کہ جب تک بااثر افراد اور ایلکیٹ ایبل کو یقین نہیں ہو جاتا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت نہیں بنا رہی تب تک پیپلزپارٹی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس تاثر کو توڑنے کے لئے جلسے میں یہ یقین دلایا گیا کہّ آئندہ حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔ اور اتحاد خود کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کرائے گا۔

فنکشنل مسلم لیگ اس اتحاد کے ذریعے خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔ یہی وہ ہے کہ جلسے سے ایک روز پہلے پیر صدرالدین شاہ نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے حوالے وہ فردا فراد رابطے کرنے کے بجائے ان سے رجوع کریں۔ گرینڈ ینشنل الائنس بنیادی طور پر سندھ کے وڈیروں کا اتحدا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطالبات میں بھی بڑے مطالبات زراعت سے متعلق ہیں۔ یہ ان نئے بطقات کی بات نہیں کرتا جو زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی حوالے سے کوئی بڑا نقصان پنچا سکے۔


Nai Baat
Column Sohail Sangi
 GDA, Grand national Alliance, Pir Pagara, Functional League,

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52637/Sohail-Sangi/Sindh-Peoples-Party-Ko-Kese-Shikast-Di-Jaye.aspx



Friday, November 24, 2017

سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت

Dharna, PMLN, Faizabad,

Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017
سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی


وزیراعظم کو ناہل قرا دے دیا گیا ہے۔احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات اپنی جگہ پر، ان کی پارٹی کو ان سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ حکمران جماعت نواز لیگ سیاسی جماعتوں کے قانون میں پارلیمنٹ سے ترمیم کراکے اس قدم کو روک چکی ہے۔ ایک بار پھر ناکام کوشش ہوئی کہ اس ترمیم کو ختم کرکے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے روکا جائے۔ 
یہ ترمیم گزشتہ روز پیپلزپارٹی اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔ نااہل قرار پانے کے بعد نواز شریف نے عدالتی فیصلے اور عمران خان کی سیاسی مقبولیت کے مظاہروں کا توڑ جی ٹی روڈ کا راستے لاہور جانے کے سفر کے ذریعے نکالا۔ مقتدرہ حلقوں اور اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیا کہ وہ عوام میں اب بھی مقبول ہیں۔
دوسرا پیغام پارلیمنٹ کے ذریعے دیا جہاں نااہلی کے باوجود پارٹی کا عہدہ رکھنے سے متعلق ترمیم منظور کرائی۔ چاہے آپ سابق وزیراعظم کی سیاست سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں سیاسی راستے تھے۔ ان دو اقدامات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سیاسی طور پر انہیں شکست نہیں دی جا سکی ہے۔ اس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں فیض آباد کا دھرنا ہے۔
فیض آباد کا دھرنا دو چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اول یہ کہ اگر نواز شریف عوام سے بارہ راست رجوع کر سکتے ہیں تو کسی جذباتی نعرے پر ان کا اس طرح بھی راستہ روکا جاسکتا ہے۔ اور پارلیمنٹ اور اس کے فیصلے کو ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سابق وزیراعظم اور ان کی پارٹی جس طرح سے ملک کی تجارتی اور خارجہ پالیسی خاص طور پر پڑوسی ملک سے تعلقات کے حوالے سے اختیار کرنا چاہتی ہے اس کے آگے بھی بند باندھا جاسکتا ہے۔ اور ملک میں مذہبی اور جذباتی ماحول بنا کر اس کو اس طرح کی پالیسیوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ 
ملک کا حالیہ بحران جس نہج پر پہنچا ہے اس کو حل کرنے کے ماہرین چار نسخے تجویز کر رہے ہیں۔ اول یہ کہ تمام معاملات منتخب ادارے یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوں۔ دوسرا یہ کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔ یعنی احتجاجی سیاست۔ تیسرا یہ کہ کوئی عدالتی حل ڈھونڈھا جائے۔ چوتھا فوج کی مداخلت ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تینوں نسخوں میں بالآخر بات دیر یا سویر انتخابات کرانے پر جاتی ہے۔ 
درحقیقت آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر یقین کا اظہار ہیں۔آج کے اطلاعاتی اور ٹیکنالاجی کے دور میں اگر کوئی یہ سمجھتاہے کہ کروڑوں عوام کے منتخب ادارے پر کسی اور ادارے یا مخصوص افراد کو مسلط یا حاوی کیا جاسکتا ہے تو یہ عملا ممکن نہیں اور دیرپا بھی نہیں۔ 
وزیر اعظم پر دباؤ ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کرائیں۔ لیکن صورتحال ایسی بنائی گئی ہے کہ حکومت کے لئے یہ دھرنا نہ نہ نگلنے کی اور نہ نکالنے کی چیز ہو گئی ہے۔ 
سنیئر مسلم لیگی رہنما ر ظفرالحق رپورٹ کی رپورٹ آنے کے بعد اس ضمن میں مطالبے کا اب کوئی جواز نہیں۔ رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق شق میں تبدیلی کا فیصلہ پہلے 16رکنی ذیلی کمیٹی نے اور پھر 34رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کیا اور پھر ایوان نے منظوری دی۔ یہ کسی فردِ واحد کا کام نہیں تھا ۔ کیا پوری پارلیمنٹ کو غلط قرر دیا جاسکتا ہے؟ اب تو عدالتِ عظمیٰ بھی یہ کہہ رہی ہے کہ یہ کونسا دین ہے جو لوگوں کو تکالیف پہنچانے راستے بند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 
ایک اور تبدیل رونما یہ ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نئے نتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کیخلاف دائردرخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کردیئے، چیف جسٹس نے نااہل شخص کی پارٹی سربراہی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقررکرنیکا حکم دیدیا۔ اس سے قبل ۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ2017ء کیخلاف دائر پیپلز پارٹی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سمیت مختلف افراد کی جانب سے دائر9درخواستوں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر ہدایت کی تھی کہ درخواست گذارمتعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ 
بعد میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے اپنے چیمبرمیں کی اور ہدایت کی کہ درخواستوں کو3رکنی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقررکیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کھلی عدالت میں ہوگا۔
مردم شماری کے بعد نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیوں کا معاملہ ضرری ہو گیا ہے۔ چونکہ سیاسی تناؤ اور صف بندی کی وجہ سے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں حل نہیں ہو پارہا ہے۔ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے بعد لیکن مطلوبہ اعداد (دو تہائی اکثریت) نہ ہونے کی وجہ سے اسے سینیٹ نہیں بھیجا جا رہا۔ واضح رہے کہ سنیٹ میں حکمران جماعت نواز لیگ کو اکثریت حاصل نہیں۔
اب یہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے ۔ یہ ایک اور کوشش ہے کہ سیاسی معاملہ سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کے بجائے عدالیہ کو زحمت دی جارہی ہے۔ جس سے پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بعض ماہرین اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ مردم شماری کے نتائج کو فی الحال نہ چھیڑا جائے اور عدالت کے ذریعے یہ فیصلہ لیا جا ئے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ کیا جائے یا پھر عبوری حکومت کی مدت میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجوزہ حل کوقبول نہ کیا گیا تو آئندہ عام انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ 
موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ بظاہر حکمران جماعت نواز لیگ کے حق میں نظرآتا ہے، لیکن کیا یہ جماعت مزید عرصے تک اپوزیشن کا مسلسل دباؤ برداشت کرتے ہوئے اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکے گی؟ اس اضافی مدت میں مزید کیا کیا تبدیلیاں ہونگی؟ یہ سب کچھ تاحال ڈبے میں بند ہے۔ اگر عبوری حکومت کی مدت میں اضافہ کیا جاتا ہے ، یہ معاملہ کسی بھی طور رپ نواز لیگ کے حق میں نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی عبوری حکومت طویل عرصے تک کسی مینڈیٹ اور مکمل اختیارات کے ساتھ رکھی جائے گی، اگر مینڈیٹ ہوگا تو اس کو کئی سخت فیصلے کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ کیا ہم اہم فیصلے چاہے سخت ہو یا نرم ایک غیر منتخب حکومت کے ذریعے کرانے جارہے ہیں؟ 
آئین کے ا مطابق قومی اسمبلی میں نشستیں مردم شماری کے حتمی نتائج کے تحت آبادی کی بنیاد پر ہر صوبے، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات اور دارالحکومت کیلئے متعین کی جائیں گی۔ محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ عبوری نتائج کے پیش نظر ضروری ہوگیاہے کہ وفاقی وحدتوں میں آبادی کے لحاظ سے تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی اسمبلی اور ساتھ ہی صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ یا ان کی ری ایلوکیشن کی جا سکے۔ اس وجہ سے حلقہ بندیاں بھی ازسرنو ہونی ہیں۔ جس کے لئے مطلوبہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ 
اس وقت حکومت اور اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی ملک میں مقررہ وقت پر آ ئندہ عام انتخابات چاہتی ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی سنیٹ میں اکثریت کا سیاسی فائدہ لینا چاہتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بلامشروط آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں۔ اگرچہ انہیں شکوہ ہے پیپلزپارٹی نے عدالتوں سے ناہل قراردیئے گئے شخص کوپارٹی صدارت سے روکنے کا بل اسمبلی میں لانے پر تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ سیاسی معاملات سیاسی پلیٹ فارم سے ہی طے ہونے چاہئیں۔ اس امر کو سیاسی جماعتوں، عدلیہ سمیت ملک کے اہم داروں کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ کیونکہ ملک کے اندر سیاسی نظام کو بنانے یا از سرنو ترتیب دینے میں انکا کردار اہم ہوتا ہے۔ 
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب کے حالیہ بیان کو اسی حوالے سے لیا جاسکتا ہے۔ اس سے سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ میں آسکتے ہیں۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کو بھی چاہئے کہ وہ اس کا مثبت جواب دے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی بحران سے نکلنے کے باقی نسخے مثلا عوام سے رجوع کرنا یعنی احتجاجی سیاست۔ کوئی عدالتی حل ڈھونڈنا۔ یا فوج کی مداخلت کبھی بھی ملک اور قوم کے مفاد میں کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017 
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52490/Sohail-Sangi/Siyasi-Moamlat-Parliament-Mein-Lane-Ki-Zaroorat.aspx 

Kawish Nov 24, 2017

نواز لیگ آپشنز اور سیاست

 PMLN Options and Politics 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
نواز لیگ آپشنز  اور  سیاست

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اداروں کے سیاسی کردار کا چرچا عروج پر ہے۔ یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کے پیچھے درپردہ قوتیں ہیں۔ اپنی نااہلی کے بعد نوازشریف کسی بھی ادارے پر اعتماد کرنے کوتیار نہیں۔ نواز شریف بھی کسی طاقتور اداروں پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ چند ہفتے قبل سنیٹ چیئرمین رضا ربانی نے عسکری اداروں اور پارلیمنٹ کے درمیاں ڈائیلاگ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن اس کا بھی کسی فریق نے مثبت جواب نہیں دیا۔ یعنی کوئی ایک فریق مصالحت کی پالیسی پر آنے کے لئے تیار نہیں۔

نواز شریف کے خلاف حکمت عملی کے ایک مرحلے پر تو عمل ہو گیا یعنی انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس حکمت عملی کے باقی مراحل میں مشکل ہو رہی ہے۔ نوازشریف کی نااہلی کے باوجود پارٹی ٹوٹ نہیں سکی اور اس کا ووٹر بدستور اس کے ساتھ کھڑا ہے۔اگرچہ کچھ اختلافات ضرور سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دعوے اپنی جگہ پر لیکن نواز لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی نہیں چھوڑ سکے ہیں۔ یہی صورت حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔ ایسے میں نوازشریف ایسے حالات میں سرنڈر نہیں کرنے کو تیار نہیں چاہتے۔ وہ ایک جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ حکمت عملی کے دوسرے مرحلے میں تحریک انصاف کو حکومت میں لانا تھا۔مگر زمینی حقائق ساتھ نہیں دے رہے۔ زمینی حقائق یہ بھی ہیں کہ نواز شریف کو عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے چار ریفرنس مقدمات کی صورت میں زیر سماعت ہیں۔ دیکھا جائے توسابق وزیراعظم کے مستقبل اور ان کی سیاست کے تمام راستے وہاں سے ہوکر گزرتے ہیں جہاں سپریم کورٹ کھڑی ہے۔ ’’جہاں بھی جاؤں تیری محفل ہے‘‘ کا معاملہ ہے۔
 
نواز شریف کو اقامہ کی وجہ سے کسی عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ اب کرپشن کے الزامات میں ان کو سزا دینا باقی ہے جس کے لئے احتساب عدالت میں چار مقدمات چل رہے ہیں۔ مارچ میں سنیٹ کے انتخابات ہونے ہیں۔ نواز لیگ ہر صورت میں چاہے گی کہ حالیہ صورتحال تب تک جاری رہے۔ اور اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے۔ کیونکہ سنیٹ میں اس کی اکثریت مجموعی طور پر مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہوگی۔ اور اگر یہ جماعت اقتدار میں نہیں بھی آتی ہے تو بھی ایک موثر قوت کے طور پر اقتدار کے ایوان میں موجود رہے گی، جہاں ہر قسم کی قانون سازی کے لئے وقت کی حکومت کو سنیٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ 

سنیٹ میں چار صوبوں کی نشستیں خالی ہونگی۔ نواز لیگ صرف ایک صوبے یعنی پنجاب میں اکثریت رکھتی ہے اور کسی حد تک بلوچستان میں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد نواز لیگ بعض آئینی ترامیم لانا چاہتی ہے۔ جس کے ذریعے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بچایا جاسکتا ہے۔ 


 آئین کو تبدیل کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں الگ الگ دوتہائی اکثریت چاہئے۔ سنیٹ سے نواز شریف کی بہت امیدیں بندھی ہوئی ہیں۔ کیایہ پوزیشن نواز لیگ کو حاصل ہو سکتی؟
 
اس صورتحال میں مختلف آپشنز ہیں۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض مفروضوں پر آجاتے ہیں۔ فرض کریں کہ نواز شریف اپنے لئے آئین میں ایسی ترمیم کرالیتے ہیں، جس میں وہ سزا کے اثرات سے بچ سکیں۔ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ ایسی ترمیم منظور کرالیتے ہیں تواگر ایسی ترمیم یہ ترمیم سپریم کورٹ میں چلینج ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ اکیسویں آئینی ترمیم میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ کونسی آئینی ترمیم آئینی ہوگی اور کونسی نہیں ہوگی۔
 
فرض کریں کہ عدالت سے بھی یہ ترمیم بچ جاتی ہے۔ لیکن پھر احتساب عدالت میں چلنے والے مقدمات ہیں۔ ایک مرتبہ پھر فرض کرلیتے ہیں کہ احتساب عدالت سے اگر انہیں سزا نہیں ہوتی، لیکن نااہلی اپنی جگہ پر رہتی ہے۔ اگر انہیں سزا ہو جاتی ہے تو بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ انہیں سزا کے بعد جیل بھیج دیا جائے۔ 


اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نواز شریف کے جیل میں ہوتے ہوئے نواز لیگ الیکشن لڑ رہی ہوگی ۔ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر پارٹی چلا رہے ہونگے۔اس صورت میں میاں صاحب کسی اور کو وزیراعظم کے لئے نامزد کرنا پڑے گا دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ یہ دوسرا شہباز شریف ہوگا۔ اس صورت میں شہباز شریف نواز شریف کی جانب سے انتخابی مہم چلا رہا ہوگا۔ وہ چھوٹے بھائی کے طور پر۔ ویسے بھی نواز شریف کے علاوہ سوائے شہباز شریف کے اور کوئی اتنا بڑا پروفائیل رکھنے والا نہیں۔
ا یک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نواز شریف کو سزا تو ہوجاتی ہے لیکن انہیں جیل نہیں بھیجا جاتا۔ کوئی معجزہ ہو جاتا ہے۔ مثلا صدر سزا معاف کر دیتے ہیں وغیرہ۔ لیکن اس صورت میں بھی انتخابات کے موقعہ پر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان پر سزا کا ٹھپہ برقرار رہے گا۔ نواز شریف کاغذات مسترد ہونے کو عدالت میں چیلینج کرتے ہیں۔ اگر کوئی رٹرننگ افسر ان کے کاغذات قبول کر لیتا ہے۔ ان کا کوئی بھی حریف اس کو چیلینج کرسکتا ہے۔ یہ چلینج کرنا بھی سپریم کورٹ میں آکر ختم ہوگا۔ یہ راستہ بھی سپریم کورٹ کو ہی جاتاہے۔
کوئی بعید نہیں کہ نوازشریف اداروں سے ٹکرانے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے اور ایک مرتبہ پھر ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بن کر سامنے آئے۔
کیا نواز شریف کی گل مک گئی ہے؟ اس قانونی گورکھ دھندے سے ہٹ کر سیاست کو لیتے ہیں۔ میدان میں مریم نواز اور حمزہ شریف بھی ہیں۔ مریم نواز وزیراعظم بننا چاہتی ہیں، وہ اس امر کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ انہیں نواز شریف کی بھی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے پارٹی کے اندر خواہ عام لوگوں میں اپنا ایک حلقہ قائم کر لیا ہے ۔ میڈیا میں بھی پروفائیل بنایا ہے۔لیکن اس سے شریف خاندان کے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ پہلی مرتبہ ایم این اے بننے والی براہ راست وزیراعظم ہاؤس پہنچ جائے گی۔ 


شاید پارٹی کے اندر ان کے نام پر ا تفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو جائے۔مریم کبھی بھی کسی عہدے پر نہیں رہی۔ انہیں صرف ایک انتخابی مہم کا تجربہ ہے۔ جو انہوں نے جیت لی تھی۔ لیکن چند ماہ کے دورانہیں یہ سب کچھ سیکھنا ہوگا کہ کس طرح سے قومی سطح کے امیدوار کو عمل کرنا چاہئے؟ کیا وریہ رکھنا چاہئے؟ نواز شریف اور مریم نواز کے لئے یہ امتحان ہوگا، کیونکہ اس طرح کی صورتحال میں اس طرح کے کئی امیدوار ہونگے جو وزیراعظم ہاؤس جانا چاہ رہے ہونگے۔ حمزہ شریف کا آپشن بھی بعض اضافی اور بعض منفی نکات رکھتا ہے۔ وہ ماضی میں اپنے والد اور انکل کی جانب سے پارٹی کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی یا امیدواروں سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ 

اگرچہ حمزہ کو پارٹی کے معاملات دیکھنے کا تجربہ ہے تو اسے قومی سطح کا ایکسپوزر نہیں۔ پردے کے پیچھے رہ کر امیدواروں سے ڈیل کرنا ایک بات ہے اور ان جان اور بغیر پہچان والے ووٹر سے رابطہ دوسری بات ہے۔
 
اگر یہ صورتحال بن رہی ہے کہ نواز شریف منظر پر موجود نہیں مریم کو لانے میں خاندانی، تنظیمی اور دیگر اقسام کی مختلف رکاوٹیں ہیں۔، حمزہ سے معاملہ زور ہے اور باقی میدان میں صرف شہباز ہی رہ جاتے ہیں۔
 
نواز لیگ میدان میں کھڑی ہے، لیکن اس کو نہ ختم ہونیو الے بحران کا سامنا ہے۔ جس نے بڑی حد تک پارٹی کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ طے ہے کہ نواز لیگ اپنے’’ زوال یا بحران‘‘ کے دوران سخت دھاڑ مقابل کرے گی۔
 
اس آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ شہباز اور عمران کان کے درمیان براہ راست مقابلہ۔نواز لیگ اس آپشن کے لئے تیار ہے۔ اس لئے بھی کہ اس کے علاوہ اسکے پاس کوئی بہتر آپشن نہیں۔ اس صورت میں سندھ اور پیپلزپارٹی کا کیا کریں گے؟ اور یہ بھی کہ صرف اسٹبلشمنٹ اور نواز شریف ہی منظر نامے میں نہیں عدلیہ بھی ہے۔ 
 PMLN Options and Politcs 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52366/Sohail-Sangi/Nawaz-League-Options-Aur-Siyasat.aspx  

Friday, November 17, 2017

کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے



Nai Baat Nov 14, 2017

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
اشارے مل رہے ہیں کہ ملک میں کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے۔ مذہبی سیاسی اتحاد میں شامل چھ جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں ہوگا۔
 سابق ڈکیٹیٹر پرویز مشرف نے اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کی چھتری میں عوامی اتحاد کے نام سے 23 جماعتوں کا اتحاد بنایا ہے۔اس اتحاد میں بھی بعض چھوٹی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ مشرف کے اعلان کردہ اتحاد سے بعض جماعتوں نے یہ کہہ کرلاتعلقی کا اعلان کردیا ہے کہ ان سے پوچھا ہی نہیں گیا تھا۔ مشرف کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ابھی تک آرمی چیف کے اختیارات رکھتے ہیں، کہ بغیر پوچھے بعض جماعتوں کا اتحاد بنا سکتے ہیں۔

 دو روز قبل روز ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے اتحاد بنایا اور بعد میں یہ اتحا د صرف ایک رات کا ثابت ہوا۔ ایک دوسرے پرتمام تر الزام تراشی کے باوجود پی ایس پی اور ایم کیو ایم ابھی تک ایک نقطے پر قائم ہیں کہ اتحاد ہونا چاہئے۔ یہ کراچی کے ووٹرز کا دباﺅ ہے یا اسٹلبمشنٹ کا؟ 
ریٹائرڈ جنرل مشرف بھی مہاجر اتحاد کے حامی ہیں۔ وہ کراچی میں اپنا حلقہ انتخاب ہی نہیں بلکہ سیاسی کارڈ کے طور پرکھیلنا چاہ رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پی ایس پی کے صدر مصطفیٰ کمال نے کھلم کھلا کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ایم کیو ایم سے اتحاد کیا تھا۔ تاحال اس کی تردید نہیں ہوئی ہے۔ 
سندھ میں ممتاز بھٹو نے اپنے سندھ نیشنل فرنٹ کو تحریک انصاف میںضم کردیا ہے۔ یہ پانچواں موقعہ ہے کہ ممتاز بھٹو نے فرنٹ کو کسی جماعت میں ضم کیا ہے۔ 
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم اے اے کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان دسمبر میں کراچی میں شاہ اویس نورانی کی رہائش گاہ پر کیاجائےگا۔ جو جماعتیں لاہور میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ان سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

 جماعت اسلامی آئین کے مطابق وقت پر انتخابات چاہتی۔ مذہبی جماعتوں نے 2002 میں بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف دور میں ایم ایم اے کے نام سے سیاسی اتحاد قائم کیا تھا۔اور مولانا فضل الرحمٰن کو ایم ایم اے کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا۔ 2002 کے عام انتخابات میں ایم ایم اے نے 63 نشستیں حاصل کی تھیں اور قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی۔ 2002 میں بننے والے اس مذہبی سیاسی اتحاد میں جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، تحریک جعفریہ پاکستان، جماعت اہلِ حدیث اور متحدہ دینی محاذ شامل تھے۔ 
مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بظاہر2005 میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں اختلافات کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ دراصل ملک میں تبدیل شدہ حالات میں اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا رول تبدیل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے یہ اتحاد مزید عرصہ نہیں چل سکا۔ تبدیل شدہ حالات میں نئی صف بندی ہونے جارہی تھی۔ جس میں اقتدار پیپلزپارٹی کو ملنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا لیکن دیر سے۔ 
 ایم ایم اے کی بحالی کے بعد کتنی موثر ہوگی؟ 
جماعت اسلامی فی الحال خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میںتحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نواز لیگ کے اتحادی ہیں۔ دونوں دو الگ انتہا پر ہیں۔ ایم ایم اے ایک الگ انتہا ہے۔ 
 آج ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپوں کا یکجا ہونا اور متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ جنرل مشرف کا سرگرم ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ایک بار پھر کوئی ایسا فارمولا وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مشرف کے دور میں تھا۔ 
اس فارمولے کے تحت پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آﺅٹ تھیں۔ ایم کیو ایم اور ایم ایم اے میدان میں تھیں۔ سابق صدر مشرف نے نواز لیگ کو دو حصوں میں کرکے چوہدری برادران کی قیادت میں مسلم لیگ قاف بنوا لی تھی۔ متحدہ شکل میں اقتدار کا حصہ تھی۔ اور وہ صرف صوبے کے دارلحکومت میں ہی نہیں بلکہ سندھ بھر میں سفید و سیاہ کی مالک تھی۔ 
یہ وہی فارمولا ہے جس کا ذکر گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ افتخار۔ کیانی فارمولا نہیں چلنے دیا جائے گا۔ 
سیاسی حلقے اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو سزا ہو جائے گی ۔ جس کے بعد نواز لیگ کو ایک بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس مشکل میں پارٹی کو متحدہ رکھنا، قیادت نامزد کرنا، اور انتخابات جیتنا تینوں شامل ہیں۔پیپلزپارٹی اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہے گی کہ نواز لیگ سے نکلنے والے بااثر افراد کو اپنے پاس جگہ دے۔لیکن اس کے لئے پیپلزپارٹی کو یقنینی بنانا پڑے گا کہ آئندہ حکومت اسی کی بن رہی ہے۔ اگر یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو نواز لیگ چھوڑنے والے پیپلزپارٹی کے بجائے تحریک انصاف میں شمولیت کو ترجیح دیں گے۔ 
عمران خان اور مشرف دونوں نے یہ پڑھ لیا ہے کہ نئے امکانی سیٹ اپ میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں نہیں۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ صرف نواز لیگ نئے سیٹ اپ میں نہیں ہے۔ 
غداری کے مقدمے سے بھاگے ہوئے مشرف کی خواہش ہے کہ بغیر انتخابات کے اقتدار ان کو دیا جائے، کیونکہ ووٹ کے ذریعے وہ نہیں جیت سکتے۔ وہ انتخابات سے ہٹ کر اپنی سیاسی حمایت میں کچھ سیاسی ، لسانی اور مذہبی جماعتوں کو کھڑا کر سکتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار دیا جائے۔ اس لئے ان کی کوشش ہے کہ سیاسی دھند کے درون ہی وقت سے پہلے انتخابات کا فیصلہ وہ جائے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان نے کپتان خان کی قبل از وقت انتخابات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ 
اسلام آباد میں بعض مذہبی جماعتوں کے ایک ہفتے سے جاری دھرنے نے وفاقی دارلحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کی معمول زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔مقتدرہ حلقے جو کراچی میں ایک روز کی ہڑتال کے آگے بند باندھ چکے ہیں وہ اسلام آباد کی شہری اور معمول کی زندگی مفلوج ہونے پر خاموش ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کے آخری دھرنے کا عدلیہ نے بھی نوٹس لیا تھا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک میں ایک بار پھر قدامت پسندی کا غلبہ تو نہیں ہو رہا؟ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر روشن خیالی جمہوری عمل، شہری آزادیوں سے دور کر دے گی۔
 یہ تجزیہ نگار ایم ایم اے کی بحالی کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ اگر اسلام آباد کا دھرنا حکومت کو مطالبات منوانے کے ذریعے جھکا لیتا ہے یا یہ تحریک کسی طور پر پورے ملک کو لپیٹ میں لیتی ہے تو ملک بھر میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی تنظیم کاری اور سیاسی شناخت صرف ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کی موجود ہے۔ لہٰذا ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے مقتدرہ حلقے بھی ایم ایم اے میں شامل جماعتوں پر زیادہ بھروسہ کرلیں۔ کیونکہ ان جماعتوں نے ماضی میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کام کیا ہوا ہے۔ 

Nai Baat Nov 14, 2017
Sohail Sangi Column

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52068/Sohail-Sangi/Kuch-Tabdeel-Hone-Ja-Raha-Hai.aspx

Monday, November 13, 2017

کراچی کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی

Nai Baat Nov 10, 2017
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی

کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ مہاجر نعرے پر کام کرنے والی دوجماعتوں ، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی نے کھل کر ساتھ چلنے کا اعلان کردیا ہے۔ 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے مہاجروں کے حقوق کے نام پر قائم ہونے والی جماعت نے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کا روپ لیا۔ اس میں پہلی دھڑے بندی نوے کے عشرے میں ہوئی جب آفاق احمد اور عامر خان کی قیادت میں ایک گروپ نے ایم کیو ایم حقیقی میں گروپ بنایا۔اس کے بعد کئی متوازی رجحانات اور گروپ اندرون خانہ چلتے رہے۔

 کراچی میں 2013 میں شروع ہونے والے حالیہ آپریشن کے بعد اس توڑ پھوڑ میں اضافہ ہوا۔ فاروق ستار کی قیادت میں ایک بہت بڑے حصے نے ایم کیو ایم پاکستان کا قائم کرنے اور لندن سے علحدگی کا اعلان کیا۔ تین جون 2016 کو مصطفیٰ کمال نے وطن واپسی پر ایم کیو ایم چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دونوں جماعتیں متوازی چلتی رہی، اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہی۔ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم تمام تر اعلانات اور بیانات کے باوجود خود کو الگ ثابت نہیں کر سکی۔ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کو توڑا تھا اب واپس اس وک جوڑ رہے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں سے فاروق ستار کے بیانات لگ رہا تھا کہ این پر سخت دباﺅ ہے۔ حکمت عملی کے حوالے سے ان کا آخری بیان یہ تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب اراکین کو پی ایس پی میں شامل کرایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اگر برابری کی بنیاد پر کھنے دیا جائے تو ان کی قیادت میں چلنے والا گروپ زیادہ طاقتور ہے۔ ان کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ کراچی کی سیاست میں نئی صف بندی میں اپنا حصہ زیادہ مانگ رہے تھے اور بالادستی چہاتے تھے۔ لیکن ان کی شاید ایک بھی نہیں مانی گئی۔ اس کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا یہ موقف شیاع ہوا کہ اب ایم کیو ایم کا نام بھی نہیں رہے گا۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے بعض رہنماﺅں نے نجی محفلوں میں یہ بھی کہا کہ ہمیں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ اگر نام اور جھنڈہ ت تبدیل نہیں کریں گے تو ہمارے سب لوگ پی ایس پی میں چلے جائیں گے۔ ہر حال میں نام بدل کر نئی پارٹی بنانی پڑے گی۔بلدیہ فیکٹری کے آتش زدگی کے واقعہ کے ایک ملزم محمد حماد کی گرفتاری نے بھی ڈرا دیا۔
 کراچی کے ڈپٹی میئر ارشد وہرا کی پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت کے بعد ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی رہنماﺅں کے بیانات میں شدت آگئی تھی، یہ بیان بازی اتنی بڑھی کہ گزشتہ روز پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا تھا کہ اعلانیہ کہہ رہاہوں کہ ایم کیوایم کو دفن کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے خفیہ رابطے بھی چلتے رہے۔ مختلف آپشنز بھی زیر غور رہے یعنی انضمام ہو کہ اتحاد ہو؟ یا مل کر کوئی نئی پارٹی بنائی جائے؟ 

 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس میں پاک سرزمین پارٹی سے مفاہمتی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فاروق ستار نے نیا سیاسی منصوبہ رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیا ہے ،جس کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی اتحاد پھر انضمام کیا جائے گا۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ فاروق ستار نے پاک سرسبر پارٹی کے ساتھ چلنے کا تو فیصلہ کر لیا۔ لیکن خود ان کی پارٹی میں سب کچھ صحیح نہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر عامر خان کہتے ہیں کہ صورت حال سامنے آئی ہے اس پر تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو طے ہوا تھا وہ یہ نہیں تھا، صورتحال اس سے مختلف ہے۔ مطلب فاروق ستار اور دیگر کو مذاکرات کے لیے جو مینڈٹ دیا گیا تھا وہ اس فیصلے سے مختلف تھا۔ 
متحدہ اور پی ایس پی کے ایک ہونے پر شبیرقائم خانی اور کشور زہرہ ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ ایم این اے علی رضاعابدی نے ایم کیوایم پاکستان چھوڑنے اور ایم این اے کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کردیا۔ایم کیو ایم رہنما شبیر قائم خانی کا نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سب کرنا تھا تو پہلے ہی کردیتے۔
 پی ایس پی کا دعوا ہے کہ انہوں نے ایم کیوایم سے نہیں بلکہ ایم کیوایم نے پی ایس پی سے رابطہ کیا ہے۔ پی ایس پی کو ایم کیو ایم کا نام کسی صورت قبول نہیں ہے لیکن فوری انضام بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ یعنی معاملات مرحلیوار طے ہوں۔
 ایم کیو ایم لندن اس اتحاد کو ایم کیو ایم ختم کرنے کی سازش سمجھ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 23 اگست کا فاروق ستار نے اعلان ایم کیو ایم کو بچانے کے نام پر کیا تھا ۔ لیکن اب بات کہاں جا پہنچی ہے؟
سوال یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اگر انضمام کی طرف جاتی ہیں تو قیادت کون کرےگا؟ یہ ایک متنازع معاملہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی گروپ دوسرے گروپ کے لیڈر کی قیادت میں چلنے کے لئے تیار نہیں۔ 
سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے ا نام ٹاپ لسٹ پر ہیں۔ عشرت العباد گورنری کے عہدے سے متسعفی ہونے کے بعد دبئی میں رہائش پزیر ہیں۔عشرت العباد نے ماضی میں مختلف جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی تھی تاکہ ان میں ہم آنگی پیدا ہو۔ لیکن وہ فی لاحال اس صورتحال سے خود کو لاتعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں میں کسی سے بھی رابطے میں نہیں، البتہ ان دونوں پارٹیوں میں ہی اچھے لوگ موجود ہیں۔ وہ اس اقدام کو بہرحال مثبت سمجھتے ہیں انہیں امید ہے کہ ملک اور شہر کے لیے مثبت اور مل کر کام کریں آپس میں لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔سابق گورنر سندھ فی الحال ممکنہ قیادت کے لیے ذہنی طور پر آمادہ ہی نہیں ہوں۔ وہ ایم کیو ایم حقیقی کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے یہ دونوں پارٹیاں حقیقی کو نہ بھی ساتھ ملائیں تو بھی ورکنگ ریلیشن شپ توہو ہی سکتی ہے۔
 ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سب سے زیادہ خوشی ہے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے دونوں گروپوں کے ایک ساتھ ہونے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ملک میں ان کے خلاف زیر سماعت مقد مات کے باوجود آج کل بیرون ملک ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو مضبوط کیا تھا۔ ان کے ترجمان کے ذریعے موقف سامنے آیا ہے ۔ کہ جنرل ریٹائر مشرف کی اپنی پارٹی ہے، وہ اس پر توجہ دے رہے ہیں،قیادت عوام کی خواہش پر کی جاتی ہے۔ مہاجروں کے اتحاد پرخوشی ہے، ہمدردی ایم کیوایم کےساتھ نہیں مہاجروں کےساتھ ہے،مہاجر قوم کو اکٹھاہوکر ایک نئی طاقت کو ابھر کر سامنے آنا چاہیے۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم نا اپنے آپ کوپاکستان بھرمیں بدنام کر دیا ہے، اس کا کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا۔انہوں نے دونوں متحد ہونے والی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔
یعنی عشرت العباد اور پرویز مشرف دونوں مہاجروں کا بڑا اتحاد چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم کے نام اور کام سے وابستہ پرانا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا نام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کے خیالات پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال سے ملتے ہیں۔جنہوں نے مہاجر سیاست کی بنیاد پر کراچی سے باہر صوبے اور ملک میں سیاسی رول ادا کرنے کی بات کی ہے۔

ایم کیو ایم کے سابق رہنما سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور آفاق احمد ایک ہوجائیں ورنہ مہاجروں کا مینڈیٹ تقسیم ہو جائے گا۔وہ آج کل مہاجر اتحاد تحریک کے چیئر مین سلیم حیدر کے ہمراہ ہیں۔ کراچی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے وہ آئندہ چند روز میں مہاجر الائنس کے اتحاد کیلئے گرینڈ مہاجر کنونشن بلا رہے ہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا یہ اتحاد آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتا ہے؟ اور مہاجر نام پر کی جانے والی سیاست میں مزید کیا پیچ وخم آنے والے ہیں۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ 
اگرچہ پیپلز پارٹی ی کا فوری ردعمل ہی ہے کہ ایم کیو ایم کے دھڑے مل جائیں تو اچھا ہوگا۔ لیکن ریٹائرڈ جنرل مشرف یہ مشورہ اہم ہے کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔یا مصطفٰ کمال کا یہ کہنا کہ مہاجر متحد ہوں تو ویزراعلیٰ کیا وزارت عظمیٰ کا بھی عہدہ لے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف گرپوں کو کٹھا کر کے شہری سیاست کے نام پر بننے والی نئی تنظیم کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ لیکن اسٹبلشمنٹ اس فارمولے کو نئی شکل میں آزما سکتی ہے۔

Sohail Sangi Column 
Nai Baat Nai Baat Nov 10, 2017


Tuesday, November 7, 2017

نئی صف بندی کی سیاست

نئی صف بندی کی سیاست
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

لندن میٹنگ کی حکمت عملی کے ملکی صورتحال کو نیا رخ اختیار کیا ہے۔ چند ہفتے قبل مارکیٹ میں آئین سے بالاتر فارمولے لائے جارہے تھے۔ کبھی مارشل لاء کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ تو کبھی مالی خسارے کے نام پر ملک میں معاشی ایمرجنسی کی باتیں ہو رہی تھی۔چند روز بعد ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے کی قیاس آرائیاں ہونے گئی۔ 
ابھی ان فارمولوں کی سموگ ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ انتخابات اپریل میں منعقد کرانے کا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔ سیاسی جماعتیں کبھی ایک نقط پر متفق ہوتی ہیں دو روز بعد اس موقف سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کے فیصلوں سے سیاسی جماعتوں کی توقیر میں کمی ہی آرہی ہے۔

ملکی صورتحال میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، یکم نومبر کو
 قومی اسمبلی میں موجود تمام پارٹیوں کا نمائندہ اجلاس قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا جس میں نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کے بارے میں ” معاہدہ“ ہو اور طے پایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ تاہم حلقہ بندی نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں کی جائے گی۔ 

 جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا تو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے یہ کہہ کر اس بل کی مخالفت کردی کہ یہ نئی مردم شماری کو حساب میں میں نہیں لے آتا۔ اور سندھ سے تعلق رکھنے والی ان دونوں جماعتوں نے مردم شماری کے نتائج کو ہی متنازع بنایا۔ 
اب مردم شماری کے معاملے پر ایم کیو ایم باقاعدہ تحریک شروع کر رہی ہے۔ تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کردی ہے کہ انتخابات پرانی مردم شماری اور پرانی حلقہ بندی کی بنیاد پر اکرئے جائیں۔

 چند ہفتے قبل تک ملک میں یہ ماحول تھا کہ سویلین بالادستی کا نعرہ اور مطالبہ مقبول تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں اگرچہ نواز لیگ کے ساتھ نہیں تھی، لیکن ماسوائے تحریک انصاف کے اس نقطے پر متفق تھیں۔ جس سے نواز شریف کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سیاسی قوتوں کے اس اتحاد کا اظہار قانون سازی کے لئے دو اہم بلوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے صورت میں کیا۔ ایک بل تھا ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب سے کیا جائے۔ دوسرا حلقہ بندی کے لئے آئینی ترمیم ۔

 لیکن دو روز کے اندر حکومت سے باہر سیاسی جماعتیںججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب کرنے اور حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے موقف سے ہٹ گئی۔ اور اس کی مخالفت کرنے لگیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی، جس نے نواز لیگ کو سیاسی طور پر اکیلا کر دیا۔ َ
 الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی لازمی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا حلقہ بندی اور نشستوں سے متعلق قانون سازی کی جائے تاکہ ازسرنو حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کا کام شروع کیا جائے۔ اگر نشستوں کی تعداد 272 ہی رکھی جاتی ہے تو مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندی کی صورت میں پنجاب کی 9 نشستیں کم ہونگی۔ 

خیبر پختونخوا میں پانچ، بلوچستان میں تین، اور وفاقی دارالحکومت کی ایک نشست کا اضافہ ہوگا۔ جبکہ سندھ اور فاٹا کی نشستیں میں نہ کمی ہوگی اور نہ ہی اضافہ ہوگا۔الیکشن کمیشن کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر نئی مردم شماری کی روشنی میں حلقہ بندی نہیں ہوتی، پنجاب کی نمائندگی زمینی حقائق سے زیادہ ہوگی۔ اور اس صورتحال میں کوئی بھی ان حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلینج کر سکتا ہے۔ 

 ایوان بالا سینیٹ نے 2015میں ججوں اور جرنیلوں سمیت سب کا بلاامتیاز احتساب کرنے کے لئے ایک اجمع رپورٹ کی منظوری دی تھی۔ جس میں نئے احتسابی نظام کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نیا احتسابی نظام تجویز کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ آخر کار اس کمیٹی نے ججوں اور جرنیلوں کو نئے احتسابی نظام کے دائرہ کار میں لانے کے خیال کو ترک کردیا۔

تقریباً تمام سیاسی جماعتیں، جنہوں نے پہلے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں۔ لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں دو اہم اداروں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ کیونکہ اب یہ دو ہی ادارے ہیں جو ہر معاملے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔لہٰذاکسی امکانی ردعمل سے بچنے کے لئے اپنے مطالبے سے دستبردار ہوگئیں ہیں۔

 سینیٹ کمیٹی نے موجودہ احتسابی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور نیب کی کارکردگی، تحقیقات اورپراسیکیوشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس رپورٹ میں وفاقی سطح پر ایک انٹی کرپشن ادارہ کے قیام اور ایسے احتسابی نظام کی تشکیل پر زور دیا گیا تھا جس کو اعلیٰ سطح کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کا آزادانہ اختیار ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی اقدار، طرز حکمرانی میں شفافیت اور سرکاری ریکارڈ تک عام آدمی کی رسائی کے معاملات کو بھی اہم گردانا گیا تھا۔ 

یہ ایک ایسی رپورٹ تھی جس پر قانون سازی ملک کے مقتدرہ حلقوں اور ادروں
 کے اختیارات اور عمل کے طریقے پر ایک چیک اینڈ بلینس آرہا تھا۔ رپورٹ اور قرارداد موقف یا اصولی امر کو ظاہر کرتے ہیں لیکن قانون سازی سے سبھی کتراتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق رپورٹ کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے سے سیاسی نظام میں ایک غیر محسوس تبدیلی پنہاں تھی۔

نئی صف بندی میں ایک بار پھر سیاستدانوں اور سیاست کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ مشرف دور کے بعد جو سیاسی عمل شروع ہوا تھا کہیں وہ اختتام پذیر تو نہیں ہو رہا؟ اس نظام میں دو بڑی جماعتوں کی حیثیت اور اہمیت ہے۔ اگر ان جماعتوں کی اہمیت ختم یا کم نہیں ہوتی تو گزشتہ چار سال کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں مانی جائیں گی۔

ایک طریقہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا ہے۔ لیکن یہ نسخہ فوج اور عدلیہ کی حمایت کے بغیر قابل عمل یا قابل استعمال نہیں۔ طویل مدتی ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کا مقصد سیاست کا نیا رخ متعین کرنے اور نئی سیاسی قیادت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ 

ایوب خان ن، جنرل ضیا اور مشرف تینوں نے یہی کیا ۔پاک فوج کے ترجمان نے کسی ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت کے قیام کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے ۔ اگرچہ اس کی آٓئین میں گنجائش نہیں لیکن اس کا توڑ ممکن ہے کہ عدلیہ کے ذریعے نکالا جائے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کا توڑ حکومت اس طرح بھی نکال سکتی ہے کہ اپنے ساتھ کچھ ٹیکنوکریٹ شامل کرلے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ٹیکنوکریٹس چاہئیں۔

عمران خان کے اپریل میں انتخابات کرانے کے مطالبے کی وجہ سے حکمران جماعت نواز لیگ کا بتدیل شدہ صورتحال میں یہ کہنا ہے کہ ماضی میں دھرنوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کئی ناکام کوششوں کے بعد اب سینیٹ کے آئندہ انتخابات کو سبوتاڑ کرناچاہتی ہے۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔

 عوام میں اس تاثر کو مضبوط کیا گیا ہے کہ ملک کو اس ڈگر پر ڈالا جا ئے کہ کڑا احتساب ہو اور اس کی مدت بھلے طویل ہو جائے۔ آج کی صورتحال میں ماسوائے تحریک انصاف کے کوئی بھی سیاسی جماعت خوش نہیں۔

نواز لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم کو احتساب عدالت میں کرپشن کے الزامات
 کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنماﺅں کے احتساب کرنے کے پکے انتظامات ہو رہے ہیں۔ جس میں سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی گرفتاری پہلی کڑی ہے۔

 پیپلزپارٹی کے لئے نواز شریف کی حمایت کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے اور اس سیاسی عمل کو لپیٹنا بھی مشکل، جس میں نواز لیگ اور خود پیپلزپارٹی اہم ستون ہیں۔ قاف لیگ کے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الاہی کے خلاف بھی ریفرنسز کھل گئے ہیں۔ 

عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی غیر اہم قرار دی جاچکی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ( ف) نواز لیگ کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ سب مشرف دور کے بعد جو سیاسی نظام بنا اس کے چھوٹے یا بڑے ستون ہیں۔ ایم کیو ایم بھی پرانے لاٹ کی سیاسی پارٹیوں کی فہرست میں ہے اورپہلے ہی خود کو زیرعتاب سمجھتی ہے۔

 جماعت اسلامی پارلیمانی سیاست میں موجود دوسری بڑی مذہبی جماعت ہے جس کا مشرف دور میں متحدہ مجلس عمل کی معرفت اور بعد میں خیبرپختونخوا میں مخلوط حکومت میں شامل رہی۔اس نے خود کو مشرف دور اور بعد از مشرف دور دونوں میں شامل رکھا۔ یہ جماعت احتساب کے موجودہ عمل پر خوش ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات ایسے نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اسکو کوئی بڑا سیاسی کردار سونپ سکے۔ لیکن اس کی بھرپور کوشش ہے کہ سیاست میں مذہبی بیانیہ حاوی رہے۔ جس کا اس کو دیر سویر فائدہ ہوگا۔

اس  کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ ہ موجودہ سیاسی عمل جاری رہے ۔ آئندہ عام انتخابات کا انعقاد بھی ہو گا اور پاکستان تحریک انصاف کو اس صورت حال سے فائدہ ہو گا۔ 

یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو غیر
 موثر کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کو آگے لانے کی مبینہ طور پر جو منصوبہ بندی کر رہی تھی اسکو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسدانوں کی پرانی لاٹ کو میدان سے آﺅٹ کر رہی ہے تاکہ نئے کھلاڑی اور پاور بروکرز میدان میں آسکیں۔کل کیا ہوگا؟ یہ کہنا قبل از وقت ہوسکتا ہے۔
 لیکن آج بھی گیم پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ہاتھ میں ہے۔وہ دیکھیں وہ اپنے اپنے کارڈ کس طرح کھیلتی ہیں؟

روزنامہ نئی بات ۔۔۔ میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ کالم ۔۔ سہیل سانگی
Nai Baat Nov 7, 2017
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-nov-7-2017-143571

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51770/Sohail-Sangi/Nai-Siyasat-Ki-Saf-Bandi.aspx

Monday, November 6, 2017

پیپلز پارٹی بمقابلہ تحریک انصاف

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-oct-24-2017-141701
پیپلز پارٹی بمقابلہ تحریک انصاف

سندھ میں کرپشن پر نیب کی از سرنو کارروائی


 سندھ میں کرپشن پر نیب کی از سرنو کارروائی 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی عدلیہ کی حدود سے ”ڈرامائی“ گرفتاری جس کے کچھ منظر ٹی وی کی اسکرین پر بھی دکھائے گئے تھے اس نے یہ پیغام دیا ہے کہ اب نیب سندھ میںکرپشن کے الزامات میں ملوث اہلکاروں و عہدیداران کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ شرجیل میمن کی گرفتاری پونے چھ ارب روپے مالیت کی اشتہاری مہم میں کرپشن کا کیس ہے جس میں سیکریٹری اطلاعات بھی شامل ہیں۔ 

ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے گریڈ 17 میں 42 سے زائد انفرمیشن افسران کی بھرتی نہ صرف سندھ پبلک سروس کمیشن کو ایک طرف رکھ کر کی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی۔ بلکہ امیدواروں کی اہلیت ماس کمیونیکشن یا جرنلزم کی ڈگری کے بجائے سوشل سائنسز رکھی اور اشتہار ڈمی اخبارات میں شایع کرایا۔ان بھرتیوں نہ صرف ان کے بعض رشتہ دار بلکہ بعض
 وزراءاور اسمبلی ممبران کے رشتہ داروں کو بھی نوازا گیا۔ 

بتایا جاتا ہے کہ پلان یہ تھا کہ انفرمیشن ڈپارٹمنٹ میں 17 گریڈ میں بھرتی کے بعد، ترمیم شدہ سندھ سول سروسز ایکٹ کے تحت انہیں بعض چکنے محکموں میں منتقل کردیا جائے گا۔لیکن متاثرہ امیدوار عدالت میں چلے گئے تو معاملہ رک گیا۔

 رواں سال ان انفرمیشن افسران کو حرفت بازی کے ذریعے مستقل کردیا گیا۔ اگرچہ اس معاملے میں چار سے زائد درخواستیں سندھ ہائی کورٹ کے کراچی، حیدرآباد اور سکھر بینچوں میں تاحال موجود ہیں جنہیں نمٹائے بغیر سندھ حکومت نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
 شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد سندھ حکومت کے ایک ہزار کے لگ بھگ افسران سخت پریشان ہیں۔ کیونکہ ان پر نیب یا صوبائی محمکہ انسداد رشوت ستانی کے انکوائریز اور مقدمات ہیں۔ احتساب عدالت ملیر کراچی نے 77 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے الزام میں ڈپٹی کمشنر شوکت جوکھیو سمیت ساتھ افسران کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
 ایک میگا کرپشن بینظیر بھٹو ہاو ¿سنگ اسکیم میں بھی کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میںہر سال چھ ہزار بے گھر افراد کو گھر تعمیر کر نے تھے۔ معاملہ وزیراعلیٰ سندھ تک پہنچا تو انہوں نے رپورٹ طلب کی۔ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ میں سیاسی سفارش پر گھر تعمیر کے دینے کی تصدیق ہوئی۔

 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس اسکیم میں بہت بڑی کرپشن ہوئی ہے اور پیسے بٹورے گئے ہیں۔ ٹھٹہ، سجاول، بدین اور دادو میں غیر معیاری گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں وڈیروں نے اپنے کارندوں اور منظور نظر لوگوں کو گھر دیئے ہیں۔ جو اب بطور اوطاق کے استعمال ہو رہے ہیں۔ افسران اور سیاسی شخصیتوں نے گھروں کی تعمیر کے میں مبینہ طور کرپشن کی ہے۔
یہ معاملہ رواں سال جولائی میں سامنے آیا تھا۔ نیب اس معاملے میں ہاتھ نہیں ڈال سکی کیونکہ سندھ حکومت نے صوبائی نیب کا قانون پاس کرلیا تھا۔ بہرحال سندھ کے لوگ انتظار میں ہیں کہ بینظیر بھٹو کے نام پر قائم کی گئی غریب لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دینے کی اس اسکیم کرپشن کے بارے میں مزید کیا اقدامات اٹھائے گئے؟
 سندھ حکومت عمومی طور پرکرپشن کی کہانیوں کو مخالفین کی پروپیگنڈہ قرار دے کرمسترد کرتی رہی ہے۔ سینکڑوں ایسے افسران اور اہلکار ہیں جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کیا۔ لہٰذاکرپشن کے ذریعے کمائی کے کچھ حصے کی نیب کو ”رضاکارانہ“ ادا کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔عدالت نے کرپشن کرکے ” یوں رضاکارانہ ادائگی“ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ نیب کو کرپشن کے ذریعے ہڑپ کی گئی رقم کی”رضاکارانہ طور“ پرواپسی اور عدلیہ کے نوٹس لینے نے پریشانی پیدا کردی۔

 صوبائی حکومت نے ان افسران کو ملازمین ملازمت سے فارغ کرنے یا ”ہلکا ہاتھ رکھنے “اور کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے صوبائی محکمہ قانون اور سرکاری ماہرین قانون سے رائے طلب کی ۔ مقصد ان افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنا تھا۔ حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ سندھ نیب کا قانون آنے کے بعد وفاقی ادارہ صوبائی افسران کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے خط لکھ کر صوبائی محکمہ قانون کو آگاہ کیا کہ نیب آرڈیننس مجریہ 1999 اٹھارویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ لہٰذا نیب کی 2010 کے بعد کی تمام کارروایاں غیر قانونی ہیں۔ 

ایڈووکیٹ جنرل نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ نیب قانون بھی ایمرجنسی کے دور میں نافذ کیا گیا تھا، لہٰذا یہ بھی غیر قانونی ہے۔ لیکن صوبائی نیب قانون کوعدالت میں چیلینج کیا جا چکا ہے اور اس قانون پر عمل
 درآمد معطل ہے۔ 
ایسے میں سندھ حکومت ان افسران کے خلاف عدالتی ہدایات کے مطابق تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ 462 بدستور اپنے عہدوں پر فائز ہیں۔ جس میں سیکریٹری سطح سے لے کر گریڈ 11تک کے افسران و اہلکار شامل ہیں۔ 
 وفاقی نیب کے دوبارہ سرگرم ہونے کے بعد محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ سرگرم ہو گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ وفاقی ادارے کو بتا یا جاسکے کہ صوبائی حکومت اور یہ محکمہ اس طرح کی شکایات کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ 

گزشتہ روز محکمہ کے ایک اجلاس میں بعض بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ کے مطابق ہیپٹائٹس پروگرام، خیرپور سرکٹ ہاﺅس اور اسلام کوٹ ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت 240 انکوائریز محکمہ انسداد رشوت ستانی کے پاس جاری ہیں۔ ان الزامات میں 904 افسران ملوث ہیں۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات میں 2012 اور 2013 میں کی گئی میں غیر قانونی بھرتیوں کے معاملات بھی تاحال زیر تفتیش ہی ہیں۔ 

 تھر میں پینے کے پانی سے متعلق آر او پلانٹس میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات کی محکمہ جاتی تحقیقات میں بعض سقم سامنے آئے ہیں۔ اس سطح کی بڑی کرپشن مختلف محکموں کے افسران اپنے طور پر نہیں کر سکتی۔ ان کے پیچھے حکمران جماعت کے بعض بااثر افراد کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔
شرجیل میمن اور محکمہ روینیوسات افسران کی گرفتاری سندھ میں مبینہ کرپشن کے خلاف سنجیدہ کارروائی ہے تو اس ضمن میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ان واقعات کو عزیر بلوچ کے حالیہ اعترافات اوردورہ سندھ کے موقع پر عمران خان کے بیانات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ جس میں انہوں نے عزیر بلوچ کے اعترافات کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت کو لپیٹنے کی کوشش کی تھی۔ اور کہا تھا کہ اب پیپلزپارٹی اور سندھ کی باری ہے۔ جب نواز لیگ کے خلاف اقدامات کئے جا رہے تھے تو پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کی حمایت کر رہی تھی۔

 تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسٹبلشمنٹ صرف اس وقت پیپلزپارٹی میں ہاتھ ڈال سکتی ہے جب نواز لیگ سے وہ کوئی ڈیل کر تی ہے۔ کیونکہ ایک ہی وقت سب کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی اچھے نتائج نہیں دیتی۔ 


 URDU COLUMNS of Sohail Sangi 
Published in Nayi Baat, 31 October 2017
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51484/Sohail-Sangi/Sindh-Corruption-Ke-Ilzaam-Mein-NAB-Ki-Karwai.aspx




نواز لیگ کا لندن پلان

Nai Baat Nov 2, 2017

نواز لیگ کا لندن پلان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے لندن میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سمیت ساتھ وزراء کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں پارٹی اور حکومت کو درپیش مسائل یہاں تک کہ آئندہ انتخابات تک کا خاکہ بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔بظاہر مائنس ون فارمولا کو کسترد کردیا ہے۔ تاہم اس کی پیش بندی کے طور پر حکمت عملی میں آپشن رکھے گئے ہیں۔ 


دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روز کے بعد سابق وزیراعظم واپس وطن آرہے تھے جہاں انہیں احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے۔ عدالت نے ان کے قابل گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے ملک کے اندر پارٹی رہنماؤں سے اجلاس یا مشورہ کرنے کے بجائے بیرون ملک لندن میں حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کئے۔ اس مقصد کے لئے وزیراعظم اور دیگر اہم رہنماؤں کو لندن طلب کیا تھا۔ انہوں نے ملک کے اندر شاید اہم معاملات پر مشورہ کرنا نامناسب یا غیر محفوظ سمجھا۔ یا پھر یہ کہ ان کے ذہن میں احتساب عدالت میں فی الحال ھاضر نہ ہونے کا آپشن تھا۔

سیاسی اصطلاحات بنانے والوں اور ان اصطلاحات کو معنی پہنانے والے نواز لیگ کے اس اجلاس کو لندن پلان کا نام دے رہے ہیں۔

شکر کریں کہ یہ اجلاس پنجاب سے تعلق رکھنے والی پارٹی اور ان کے رہنما کر رہے ہیں۔ اگر سندھ بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے رہنما لندن میں اس طرح کا اجلاس کرتے تو انہیں دن میں تارے نظر آجاتے۔ لندن ماضی میں بھی پاکستانی سیاسی رہنماؤں کا ٹھکانہ رہا ہے۔ جہاں وہ مل کر مختلف وقتوں میں ملکی سیاست سے متعلق مختلف فیصلے کرتے رہے ہیں۔ ساٹھ کے عشرے میں نیشنل عوامی پارٹی پر لندن پلان کا الزام لگا کر اسکے رہنماؤں کو ملک دشمن قرار دیا گیا۔ شیخ مجیب الررحمان کے خلاف قائم کئے گئے اگرتلہ سازش کیس کے ایک حصے کا تعلق بھی لندن کی ایک میٹنگ سے بتایا گیا۔

ممتاز بھٹو اور حفیظ پیرزادہ نے کنفیڈریشن کا تصور بھی لندن میں بیٹھ کر دیا۔ اور اس مقصد کے لئے سندھی بلوچ پشتون محاذ بنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ محاز اڑان بھی نہ کر سکا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ایک عرصے تک لندن سے ہدایات حاصل کرتے رہے۔ 
مشرف دور میں محترمہ بینظیر بھٹو نے نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی لندن میں کیا تھا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لندن کی ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے۔ نہیں معلوم، سیاست دان لندن میں خود کو زیادہ آزاد محسوس کرتے ہیں یا ان کی تخلیقی صلاحیتیں زیادہ کام کرتی ہیں۔ یہاں وہ شاید آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں، آپس میں بغیر روک ٹوک اور جواسوسی کے مل سکتے ہیں آزادی سے سوچ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ سب ماحول یہاں اپنے ملک میں میسر نہ ہوتا ہو۔
بہرحال نواز لیگ کے اس اجلاس کو ہم لندن پلان نہیں سمجھتے۔ میڈیا کیا طلاعات کے مطابق حکمران جماعت کے سرکردہ رہنماؤں نے اس اجلاس میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں جاری مقدمات، اور ان مقدمات کے امکانی فیصلوں، پارٹی کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی روش، مجموعی سیاسی صورتحال، ملک کی سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کی موجودہ اور امکانی موقف اور حمت عملیوں پر غور کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پارٹی کی قیادت کے حوالے سے بھی غور و فکر کیا گیا۔ کاص طور پر سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے نیویارک ٹائیمز میں حال ہی شایع ہونے والے انٹریو کے بارے میں بھی غور کیا گیا جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ان خاتون کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر نظر ہے۔

مریم کے انٹرویو پر شریف خاندان اور پارٹی کے حلقوں میں بے چینی پائی گئی۔ اس بے چینی کا اظہار اس شکل میں کیا جارہا تھا کہ مریم نواز کے بیانات اور پالیسی پارٹی کو ملک کے بعض اہم اداروں سے محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جس کا پارٹی کو نہ موجودہ ھالات میں فائدہ ہے اور نہ ہی آنے والے وقت میں۔ لہٰذا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مصالحت کی پالیسی اپنائی جائے۔ 
لندن اجلاس کے غیر سمی طور پر جو فیصلے سامنے ؤئے ہیں ان مندرجہ ذیل نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے:

(۱) میاں نواز شریف واپس وطن لوٹیں گے اور آکر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ (۲) پارٹی اسٹبلشمنٹ اور دیگر اداروں کے ساتھ مھاذ آرائی کی پالیسی ترک کر دے گی۔ اس کے بجائے اپنی نظر آئندہ انتخابات پر رکھے گی۔ (۳) شہباز شریف کو اجازت دی گئی کہ وہ مقتدرہ حلقوں سے مصالحت کی پالیسی پر گامزن ہوں۔ (۴) آئندہ انتخابات کے بعدشہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے۔
ابھی تک اس اہم اجلاس کے جو فیصلے سامنے آئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ درمیانی راستہ کے حامیوں کے خیال کو مانا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ پارٹی کی باگ دوڑ بدستور میاں نواز شریف کے پاس ہی ہے۔ نواز شریف پارٹی کے صدر رہیں، یہ امر نہ صرف نواز شریف کے لئے بلکہ پارٹی کے لئے بھی فائدمند ہے۔ کیونکہ ان کی قیادت میں پارٹی میں موجود مختلف لابیاں اور رجحانات متحد ہیں۔ اور پارٹی کے اندر اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ نہیں۔
 دوئم یہ کہ آئندہ انتخابات میں نواز شیرف کی مظلومیت پر ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل صرف پیپلزپارٹی ہی مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ لیتی رہی ہے لیکن اب اس تقسیم میں نواز لیگ بھی شریک ہو جائے گی۔

ویسے مصلحت پسندوں اور درمیان راستہ کے حامیوں کو ووٹ ملنے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ خواہ یہ ووٹ کسی بھی طرح سے ملیں؟ لہٰذا پارٹی کی حکومتی کارکردگی کے ساتھ ایک اور کشش مل جائے گی۔
ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کے متنازع بیانات کے باوجودنواز شریف اگرعدالت اور سیاست کے میدان میں موجود ہیں ، ایسے میں مجموعی طور پر یہ تاثر بنتا ہے کہ نواز شریف جمہوریت اور سولین بالادستی کے لئے کھڑے ہیں۔ لہٰذاجمہوریت پسند کہلانے والے بھی نواز شریف کو ووٹ دیں گے۔ 
لیکن عملی طور پر صورتحال اتنی بھی سادہ نہیں۔ بعض مقامات پر رولا موجود ہے۔ اگر احتساب عدالت سابق وزیر اعظم کو سزا سنا دیتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ پارٹی کے لئے مشکل ہو جائے گا کہ وہ ایک سزا یافتہ رہنما کی قیادت میں الیکشن میں جائے۔ لیکن پارٹی کے پاس بظاہر کوئی اور آپشن بھی نہیں۔ 
یہ درست ہے کہ جب تک احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں آتا، پارٹی اور حکومتمیاں صاحب کے کنٹرول میں ہیں۔ اگر انہیں سزا لگ جاتی ہے تو صورتحال تبدیل ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقتدرہ حلقوں کی برہمی ختم نہیں ہوئی ہے۔

یہ صورتحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لئے بڑا ماتحان ہوگا۔ ایک طرف وہ بطور وزیراعظم اپنے اختیارات کرنا چاہیں گے۔ دوسری طرف ان پر میاں صاحب کی طرف سے دباؤ ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ دباؤ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ہو گا، جو چاہے گی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے دائرہ اثر سے نکل کر فیصلے کریں۔

نواز لیگ کی اس غیر اعلانیہ حکمت عملی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پارٹی ایک ہی حکمت عملی پر کھڑی ہو گئی ہے۔ اور اسی پر عمل پیرا رہے گی۔ مثلا شہباز شریف کے ذمے جو مصالحت کے حوالے سے ٹاسک دیئے گئے ہیں ان میں کیا پیش رفت ہوتی ہے؟ اس حکمت عملی پر سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کا کیا ردعمل اور اور جوابی حکمت عملی ہے؟
ایک اہم فیکٹر خو دعدلیہ بھی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف سیاسی فضا پر چھائے رہے گے۔ ہاں یہ بھی ہوگا کہ عدالتی کارروائی اور اس کے فیصلہ کا بھی سیاسی منظر سایہ پڑتا رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف، ان کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اور شہباز شریف کس کاریگری کے ساتھ پورے گیم کو اپنے حق میں کر سکتے ہیں؟ اور پارٹی کی حکومت کو جون میں متوقع انتخابات تک کے جا سکتے ہیں ۔ اپنے لئے موزون نگراں حکومت تشکیل دے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

Nawaz League's London Plan ..  Nai Baat Nov 2, 2017  .. Sohail Sangi

Friday, November 3, 2017

وڈیرے اور ووٹ کا احترام


وڈیرے اور ووٹ کا احترام 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز وائرل ہوئی۔ ایک میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاسراج درانی اپنے ووٹروں سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ووٹ پر ہم۔۔۔۔ ( پیشاب) کرتے ہیں۔ دوسری ویڈیو میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ میڈم فریال تالپور شہداد کوٹ میں ضلع میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہی ہیں۔ جس میں ان کا لہجہ تحکمانہ ہے۔ یہ دونوں ویڈیو سندھ میں بحث ک موضوع بنے ہوئے ہیں۔

گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان کے اس تخاطب نے نہ صرف سندھ کی بلکہ پورے ملک کے سیاسی و نظام حکمرانی کی قلعی کھول دی ہے۔ 


آغا سراج درانی صاحب کوئی عام میمبر نہیں، اور نہ ہی اسمبلی میں یا پارٹی میں بیک بینچر ہیں۔ وہ پارٹی کیایسے سرکردہ رہنما ہیں جو متعدد بار وزیر رہ چکے ہیں اور موجودہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر یعنی کسٹوڈین ہیں۔ جہاں آئے دن اراکین اسمبلی اپنے استحقاق مجروح ہونے کی تحاریک پیش کرتے ہیں ۔ ان کا استحقا اس لئے مجروح سمجھا جاتا ہے کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں ، لہٰذا ان کی قدر و منرلت زیادہ ہے۔اس وجہ سے انہیں زیادہ استحقاق حاصل ہو جاتا ہے۔

تعجب کی بات ہے کہ یہ منتخب اراکین استحقاق مجروح ہونے کی شکایت کرتے ہیں اور منتخب ایوان میں سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ان کو منتخب کرتے ہیں یا جن کے ووٹ کی وجہ سے ان کا یہ استحقا ق حاصل ہو جاتا ہے ان کے استحقاق کو مانا ہی نہیں جاتا۔ آغا صاحب تقریبا اسمبلی کے ہر اجلاس میں متعدد بار اراکین اسمبلی کو غیر مہذب زبان استعمال کرنے سے روکتے ہیں اور بسااوقات ایسے غیر مہذب الفاظ اور جملے کارروائی سے حذف کردیتے ہیں۔ 

جاگیردارنہ ذہنیت، اقتدار کا نشہ اور پارٹی کو کوئی چیلینج نہ ہونے کی وجہ سے آغا صاحب نے ایسے ا لفاظ استعمال کئے جو تاریخ کے صفحات پر کند ہیں جو حذف نہیں ہوسکتے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیونے کے بعد سیاسی و اہل فکر حلقوں میں سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس کو مخصوص جاگیردارانہ ذہنیت کا اظہار قرار دیا گیا۔

پیپلزپارٹی کی مخالفت میں ایک اور دلیل ٹھوس شکل میں ابھرنے لگی۔ دلیل مضبوط تھی وہ تمام ووٹر جو جو گرمی ہو یا سردی اپنے عمر رسیدہ بزرگوں، خواتین سمیت پولنگ کے دن لائین میں کھڑا کیا جاتا ہے جیسے حاضری لگائی جارہی ہو۔ اس روز یہ سب ووٹر ووٹ ڈال کر ایسے جاگیردار کو بلینک چیک دے دیتے ہیں۔

جہاں تک سندھ کی صورتحال ہے موثر متبادل نہ ہونے کی وجہ سے ان وڈیروں کی اکثریت نہ ووٹر کو اہمیت دیتی ہے نہ ان کو انسانی حقوق کا احساس ہوتا ہے۔ یہ تبصرے بھی سامنے آئے ہیں کہ ان وڈیروں کو انتخاب جیتنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ سندھ کے لوگ کوشش کے باوجود اس دلدل سے نہیں نکل سکے ہیں۔ معاملہ صرف پیپلزپارٹی کا نہیں، پیپلزپارٹی کے علاوہ بھی جو بااثر افراد متخب ہو کر آتے رہے ہیں ان کا مزاج اور سوچ بھی عملا یہی رہی ہے ۔

صرف سندھ میں ہی ایسا نہیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہر حلقہ انتخاب میں ایسا ہی ہے۔ ملک کے اکثرعلاقوں میں ہر حلقہ انتخاب میں ایک ایسا ہی درانی بیٹھا ہے ۔ جو کم و بیش ووٹر کے لئے یہی رائے رکھتا ہے اور یہی سلوک کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہوئی ہے کہ آغا صاحب نے کھلے بندوں اس کا ظہار کردیا،ا ور وہ بھی ویڈیو میں ریکارڈ کرلیا گیا۔

جیسے سرمایہ داری میں انسان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار کے لئے کام کرکے اس کے منافع میں اضافہ کرے۔ اور اس کی بنائی ہوئی مصنوعات استعمال کرے۔اسی طرح سے ہمارے سیاسی نظام میں ایک عام آدمی کی یہ اہمیت ہے کہ وہ ووٹ ڈال کر بالادست طبقے کے بااثر افراد کو منتخب کرے۔ اور ان افراد کے اختیار و قاتدار میں اضافہ کرے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق آغا صاحب نے اپنے ان الفاظ پر معذرت بھی کی ہے۔ کیا یہ زبانی معافی تسلیم کی جانی چاہئے؟ اصل معاملہ عمل اور بعض حقائق کو دل سے تسلیم کرنے کا ہے، جس کا اظہار سوچ اور عمل سے ہونا چاہئے۔ 
قصہ یہ ہے کہ ووٹ کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ اس سے ووٹر اور ووٹ لینے والے بھی آگاہ نہیں۔ اس کی اصل وجہ ہمارا نظام ہے۔

ایک زمانہ تھا جب دنیا میں بادشاہتیں ہوتی تھی۔ اور نیچے عوام ہوتا تھا۔ ایسے نظاموں میں چونکہ عوام کے حقوق نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا یہ عوام نہیں بلکہ رعایا ہوتی تھی۔ بعد میں جوسیاسی اور معاشی نظاموں میں تبدیلی آئی، تو بتدیج عوام کو یہ حیثیت ملنا شروع ہوئی،اس تبدیلی کا بڑا آغاز فرانس انقلاب کے بعد ہوا۔ اگرچہ یہ ایک ناکام انقلاب تھا۔ لیکن اس کی وجہ سے دنیا میں طرز اور نظام حکمرانی میں بڑی تبدیلیاں ہوئی۔ ان تبدیلیوں کی روء سے عوام سے یہ پوچھا جانے لگا کہ ان کا حاکم کون ہو؟ ان کو کس طرح کا نظام چاہئے۔
یہ الگ بات ہے کہ اشرافیہ نے مختلف طریقوں سے مزاحمت کی کہ عوام کی رائے کی کم سے کم شرکت و شمولیت ہو۔ کئی رکاوٹیں کھڑی ہوتی رہی۔ ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور توڑنے کے لئے دنیا بھر میں تحاریک چلیں، جدوجہدہوئی۔

بعض اوقات لڑائیاں بھی لڑی گئیں۔ آج جو براہ راست جمہوریت یا ہر آدمی کو ووٹ کا حق ہے وہ کئی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ قربانیاں پاکستان و برصغیر سمیت دنیا کے ہر ملک اور ہر حصے کے لوگوں نے دی۔ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ جدوجہد جاری ہے۔
جمہوری نظام کے تحت عوام ایک محدود مدت کے لئے اپنے ووٹ کے ذریعے حق حکمرانی دیتا ہے۔ ان حکمرانوں کو عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہے۔ یعنی یہ اختیار محدود ہے۔ کیونکہ اصل حکمران عوام ہیں۔ لہٰذا یہ رائے عامہ کا اظہار امانت ہے۔ ہم اس وجہ سے جمہوریت کی عملی شکل اور اس کے بنایدی تصور اور جوہر سے اس وجہ سے بھی محروم ہیں کہ یہاں جمہوریت کے نام پر عملا اشرافیہ کی بادشاہت ہے۔

پچاس کے عشرے کے بعد تقریبا چونتیس سال تک ملک میں براہ راست آمریت رہی۔ باقی عرصہ ملاوٹ شدہ جمہوریت۔ جس میں ایسا مکینزم بنایا گیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ نتائج پر عوام سے ووٹ کا ٹھپہ لگوا جاتا ہے۔ موجود نظام کی ایک اور بھی خصوصیت ہے کہ یہ نظام سیاسی اور معاشی حوالے سے نابرابری کا نظام ہے۔ جب نابرابری کا نظام ہوتا ہے تو یہ نابرابری کسی ایک جگہ نہیں ہوتی۔یہ نابرابری صوبوں کے اختیار اور حقوق میں بھی نظر آتی ہے۔ ہامرے حکمرانی اور اقتدار کی اصل مالک اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے فیصلے اور منصوبہ بندی ہی چلتی ہے۔ وہ کبھی معاشرے کے ایک پرت کو تو کبھی دوسرے کو اپنا پارٹنر بنا دیتی ہے۔
موجودہ سیاسی نظام جمہوریت ہو یا آمریت وہ وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں، سرمایہ داروں ، بڑے تاجروں کی حکمرانی یا بالادستی کا نام ہے جس کو ہم ان کی بادشاہت بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بالادست طبقوں کی حکمرانی ہے۔ وڈیرہ سندھ کا ہو یا کسی اور صوبے کا اس کی بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے۔ وہ اس نظام کا ایک کل پرزہ ہے۔

ہمارا سیاسی نظام ہو یا حکمرانی کا نظام وہ دراصل عوام کی رائے اور اس کی اہمیت کو سپورٹ ہی نہیں کرتا۔ یہ دراصل ریاست کی ناکامی، عوام کو لاوارث چھوڑنے کی صورتحال ہے جس میں حکومت بیوروکریسی کو مقامی وڈیرے کے تابع کردیتی ہے۔ پھر فیصلہ سازی بھی ہی طبقات کرتے ہیں اور عمل درآمد بھی وہی کرتے ہیں۔ پوری انتظامی مشنری ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سیاسی نظام کی بنیادیں تبدیل کی جائیں۔ ووٹ دینے کے محرکات تبدیل ہوں، ووٹ کی حقیقی معنوں میں اہمیت اور وقار کو تسلیم کیا جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا اسی طرح سے کوئی اور سراج درانی کسی اور مقام پر عوام کی ووٹر کی یوں تذلیل کرتا رہے گا۔ 

Vote ka Ehtram by Sohail Sangi - Column Nai Baat Oct 20, 2017
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51018/Sohail-Sangi/Wadere-Leader-Vote-Ke-Taqadus-Ko-Nahi-Mante.aspx
Published in Nayi Baat, 20 October 2017

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-oct-20-2017-141232