وڈیرے اور ووٹ کا احترام
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز وائرل ہوئی۔ ایک میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاسراج درانی اپنے ووٹروں سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ووٹ پر ہم۔۔۔۔ ( پیشاب) کرتے ہیں۔ دوسری ویڈیو میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ میڈم فریال تالپور شہداد کوٹ میں ضلع میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہی ہیں۔ جس میں ان کا لہجہ تحکمانہ ہے۔ یہ دونوں ویڈیو سندھ میں بحث ک موضوع بنے ہوئے ہیں۔
گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان کے اس تخاطب نے نہ صرف سندھ کی بلکہ پورے ملک کے سیاسی و نظام حکمرانی کی قلعی کھول دی ہے۔
گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان کے اس تخاطب نے نہ صرف سندھ کی بلکہ پورے ملک کے سیاسی و نظام حکمرانی کی قلعی کھول دی ہے۔
آغا سراج درانی صاحب کوئی عام میمبر نہیں، اور نہ ہی اسمبلی میں یا پارٹی میں بیک بینچر ہیں۔ وہ پارٹی کیایسے سرکردہ رہنما ہیں جو متعدد بار وزیر رہ چکے ہیں اور موجودہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر یعنی کسٹوڈین ہیں۔ جہاں آئے دن اراکین اسمبلی اپنے استحقاق مجروح ہونے کی تحاریک پیش کرتے ہیں ۔ ان کا استحقا اس لئے مجروح سمجھا جاتا ہے کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں ، لہٰذا ان کی قدر و منرلت زیادہ ہے۔اس وجہ سے انہیں زیادہ استحقاق حاصل ہو جاتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ یہ منتخب اراکین استحقاق مجروح ہونے کی شکایت کرتے ہیں اور منتخب ایوان میں سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ان کو منتخب کرتے ہیں یا جن کے ووٹ کی وجہ سے ان کا یہ استحقا ق حاصل ہو جاتا ہے ان کے استحقاق کو مانا ہی نہیں جاتا۔ آغا صاحب تقریبا اسمبلی کے ہر اجلاس میں متعدد بار اراکین اسمبلی کو غیر مہذب زبان استعمال کرنے سے روکتے ہیں اور بسااوقات ایسے غیر مہذب الفاظ اور جملے کارروائی سے حذف کردیتے ہیں۔
جاگیردارنہ ذہنیت، اقتدار کا نشہ اور پارٹی کو کوئی چیلینج نہ ہونے کی وجہ سے آغا صاحب نے ایسے ا لفاظ استعمال کئے جو تاریخ کے صفحات پر کند ہیں جو حذف نہیں ہوسکتے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیونے کے بعد سیاسی و اہل فکر حلقوں میں سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس کو مخصوص جاگیردارانہ ذہنیت کا اظہار قرار دیا گیا۔
پیپلزپارٹی کی مخالفت میں ایک اور دلیل ٹھوس شکل میں ابھرنے لگی۔ دلیل مضبوط تھی وہ تمام ووٹر جو جو گرمی ہو یا سردی اپنے عمر رسیدہ بزرگوں، خواتین سمیت پولنگ کے دن لائین میں کھڑا کیا جاتا ہے جیسے حاضری لگائی جارہی ہو۔ اس روز یہ سب ووٹر ووٹ ڈال کر ایسے جاگیردار کو بلینک چیک دے دیتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی مخالفت میں ایک اور دلیل ٹھوس شکل میں ابھرنے لگی۔ دلیل مضبوط تھی وہ تمام ووٹر جو جو گرمی ہو یا سردی اپنے عمر رسیدہ بزرگوں، خواتین سمیت پولنگ کے دن لائین میں کھڑا کیا جاتا ہے جیسے حاضری لگائی جارہی ہو۔ اس روز یہ سب ووٹر ووٹ ڈال کر ایسے جاگیردار کو بلینک چیک دے دیتے ہیں۔
جہاں تک سندھ کی صورتحال ہے موثر متبادل نہ ہونے کی وجہ سے ان وڈیروں کی اکثریت نہ ووٹر کو اہمیت دیتی ہے نہ ان کو انسانی حقوق کا احساس ہوتا ہے۔ یہ تبصرے بھی سامنے آئے ہیں کہ ان وڈیروں کو انتخاب جیتنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ سندھ کے لوگ کوشش کے باوجود اس دلدل سے نہیں نکل سکے ہیں۔ معاملہ صرف پیپلزپارٹی کا نہیں، پیپلزپارٹی کے علاوہ بھی جو بااثر افراد متخب ہو کر آتے رہے ہیں ان کا مزاج اور سوچ بھی عملا یہی رہی ہے ۔
صرف سندھ میں ہی ایسا نہیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہر حلقہ انتخاب میں ایسا ہی ہے۔ ملک کے اکثرعلاقوں میں ہر حلقہ انتخاب میں ایک ایسا ہی درانی بیٹھا ہے ۔ جو کم و بیش ووٹر کے لئے یہی رائے رکھتا ہے اور یہی سلوک کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہوئی ہے کہ آغا صاحب نے کھلے بندوں اس کا ظہار کردیا،ا ور وہ بھی ویڈیو میں ریکارڈ کرلیا گیا۔
صرف سندھ میں ہی ایسا نہیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہر حلقہ انتخاب میں ایسا ہی ہے۔ ملک کے اکثرعلاقوں میں ہر حلقہ انتخاب میں ایک ایسا ہی درانی بیٹھا ہے ۔ جو کم و بیش ووٹر کے لئے یہی رائے رکھتا ہے اور یہی سلوک کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہوئی ہے کہ آغا صاحب نے کھلے بندوں اس کا ظہار کردیا،ا ور وہ بھی ویڈیو میں ریکارڈ کرلیا گیا۔
جیسے سرمایہ داری میں انسان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار کے لئے کام کرکے اس کے منافع میں اضافہ کرے۔ اور اس کی بنائی ہوئی مصنوعات استعمال کرے۔اسی طرح سے ہمارے سیاسی نظام میں ایک عام آدمی کی یہ اہمیت ہے کہ وہ ووٹ ڈال کر بالادست طبقے کے بااثر افراد کو منتخب کرے۔ اور ان افراد کے اختیار و قاتدار میں اضافہ کرے۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق آغا صاحب نے اپنے ان الفاظ پر معذرت بھی کی ہے۔ کیا یہ زبانی معافی تسلیم کی جانی چاہئے؟ اصل معاملہ عمل اور بعض حقائق کو دل سے تسلیم کرنے کا ہے، جس کا اظہار سوچ اور عمل سے ہونا چاہئے۔
قصہ یہ ہے کہ ووٹ کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ اس سے ووٹر اور ووٹ لینے والے بھی آگاہ نہیں۔ اس کی اصل وجہ ہمارا نظام ہے۔
ایک زمانہ تھا جب دنیا میں بادشاہتیں ہوتی تھی۔ اور نیچے عوام ہوتا تھا۔ ایسے نظاموں میں چونکہ عوام کے حقوق نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا یہ عوام نہیں بلکہ رعایا ہوتی تھی۔ بعد میں جوسیاسی اور معاشی نظاموں میں تبدیلی آئی، تو بتدیج عوام کو یہ حیثیت ملنا شروع ہوئی،اس تبدیلی کا بڑا آغاز فرانس انقلاب کے بعد ہوا۔ اگرچہ یہ ایک ناکام انقلاب تھا۔ لیکن اس کی وجہ سے دنیا میں طرز اور نظام حکمرانی میں بڑی تبدیلیاں ہوئی۔ ان تبدیلیوں کی روء سے عوام سے یہ پوچھا جانے لگا کہ ان کا حاکم کون ہو؟ ان کو کس طرح کا نظام چاہئے۔
یہ الگ بات ہے کہ اشرافیہ نے مختلف طریقوں سے مزاحمت کی کہ عوام کی رائے کی کم سے کم شرکت و شمولیت ہو۔ کئی رکاوٹیں کھڑی ہوتی رہی۔ ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور توڑنے کے لئے دنیا بھر میں تحاریک چلیں، جدوجہدہوئی۔
بعض اوقات لڑائیاں بھی لڑی گئیں۔ آج جو براہ راست جمہوریت یا ہر آدمی کو ووٹ کا حق ہے وہ کئی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ قربانیاں پاکستان و برصغیر سمیت دنیا کے ہر ملک اور ہر حصے کے لوگوں نے دی۔ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ جدوجہد جاری ہے۔
بعض اوقات لڑائیاں بھی لڑی گئیں۔ آج جو براہ راست جمہوریت یا ہر آدمی کو ووٹ کا حق ہے وہ کئی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ قربانیاں پاکستان و برصغیر سمیت دنیا کے ہر ملک اور ہر حصے کے لوگوں نے دی۔ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ جدوجہد جاری ہے۔
جمہوری نظام کے تحت عوام ایک محدود مدت کے لئے اپنے ووٹ کے ذریعے حق حکمرانی دیتا ہے۔ ان حکمرانوں کو عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہے۔ یعنی یہ اختیار محدود ہے۔ کیونکہ اصل حکمران عوام ہیں۔ لہٰذا یہ رائے عامہ کا اظہار امانت ہے۔ ہم اس وجہ سے جمہوریت کی عملی شکل اور اس کے بنایدی تصور اور جوہر سے اس وجہ سے بھی محروم ہیں کہ یہاں جمہوریت کے نام پر عملا اشرافیہ کی بادشاہت ہے۔
پچاس کے عشرے کے بعد تقریبا چونتیس سال تک ملک میں براہ راست آمریت رہی۔ باقی عرصہ ملاوٹ شدہ جمہوریت۔ جس میں ایسا مکینزم بنایا گیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ نتائج پر عوام سے ووٹ کا ٹھپہ لگوا جاتا ہے۔ موجود نظام کی ایک اور بھی خصوصیت ہے کہ یہ نظام سیاسی اور معاشی حوالے سے نابرابری کا نظام ہے۔ جب نابرابری کا نظام ہوتا ہے تو یہ نابرابری کسی ایک جگہ نہیں ہوتی۔یہ نابرابری صوبوں کے اختیار اور حقوق میں بھی نظر آتی ہے۔ ہامرے حکمرانی اور اقتدار کی اصل مالک اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے فیصلے اور منصوبہ بندی ہی چلتی ہے۔ وہ کبھی معاشرے کے ایک پرت کو تو کبھی دوسرے کو اپنا پارٹنر بنا دیتی ہے۔
پچاس کے عشرے کے بعد تقریبا چونتیس سال تک ملک میں براہ راست آمریت رہی۔ باقی عرصہ ملاوٹ شدہ جمہوریت۔ جس میں ایسا مکینزم بنایا گیا ہے کہ پہلے سے طے شدہ نتائج پر عوام سے ووٹ کا ٹھپہ لگوا جاتا ہے۔ موجود نظام کی ایک اور بھی خصوصیت ہے کہ یہ نظام سیاسی اور معاشی حوالے سے نابرابری کا نظام ہے۔ جب نابرابری کا نظام ہوتا ہے تو یہ نابرابری کسی ایک جگہ نہیں ہوتی۔یہ نابرابری صوبوں کے اختیار اور حقوق میں بھی نظر آتی ہے۔ ہامرے حکمرانی اور اقتدار کی اصل مالک اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے فیصلے اور منصوبہ بندی ہی چلتی ہے۔ وہ کبھی معاشرے کے ایک پرت کو تو کبھی دوسرے کو اپنا پارٹنر بنا دیتی ہے۔
موجودہ سیاسی نظام جمہوریت ہو یا آمریت وہ وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں، سرمایہ داروں ، بڑے تاجروں کی حکمرانی یا بالادستی کا نام ہے جس کو ہم ان کی بادشاہت بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بالادست طبقوں کی حکمرانی ہے۔ وڈیرہ سندھ کا ہو یا کسی اور صوبے کا اس کی بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے۔ وہ اس نظام کا ایک کل پرزہ ہے۔
ہمارا سیاسی نظام ہو یا حکمرانی کا نظام وہ دراصل عوام کی رائے اور اس کی اہمیت کو سپورٹ ہی نہیں کرتا۔ یہ دراصل ریاست کی ناکامی، عوام کو لاوارث چھوڑنے کی صورتحال ہے جس میں حکومت بیوروکریسی کو مقامی وڈیرے کے تابع کردیتی ہے۔ پھر فیصلہ سازی بھی ہی طبقات کرتے ہیں اور عمل درآمد بھی وہی کرتے ہیں۔ پوری انتظامی مشنری ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
ہمارا سیاسی نظام ہو یا حکمرانی کا نظام وہ دراصل عوام کی رائے اور اس کی اہمیت کو سپورٹ ہی نہیں کرتا۔ یہ دراصل ریاست کی ناکامی، عوام کو لاوارث چھوڑنے کی صورتحال ہے جس میں حکومت بیوروکریسی کو مقامی وڈیرے کے تابع کردیتی ہے۔ پھر فیصلہ سازی بھی ہی طبقات کرتے ہیں اور عمل درآمد بھی وہی کرتے ہیں۔ پوری انتظامی مشنری ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سیاسی نظام کی بنیادیں تبدیل کی جائیں۔ ووٹ دینے کے محرکات تبدیل ہوں، ووٹ کی حقیقی معنوں میں اہمیت اور وقار کو تسلیم کیا جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا اسی طرح سے کوئی اور سراج درانی کسی اور مقام پر عوام کی ووٹر کی یوں تذلیل کرتا رہے گا۔
Vote ka Ehtram by Sohail Sangi - Column Nai Baat Oct 20, 2017
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51018/Sohail-Sangi/Wadere-Leader-Vote-Ke-Taqadus-Ko-Nahi-Mante.aspx
Published in Nayi Baat, 20 October 2017
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-oct-20-2017-141232
No comments:
Post a Comment