Friday, November 17, 2017

کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے



Nai Baat Nov 14, 2017

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
اشارے مل رہے ہیں کہ ملک میں کچھ تبدیل ہونے جارہا ہے۔ مذہبی سیاسی اتحاد میں شامل چھ جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں ہوگا۔
 سابق ڈکیٹیٹر پرویز مشرف نے اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کی چھتری میں عوامی اتحاد کے نام سے 23 جماعتوں کا اتحاد بنایا ہے۔اس اتحاد میں بھی بعض چھوٹی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ مشرف کے اعلان کردہ اتحاد سے بعض جماعتوں نے یہ کہہ کرلاتعلقی کا اعلان کردیا ہے کہ ان سے پوچھا ہی نہیں گیا تھا۔ مشرف کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ابھی تک آرمی چیف کے اختیارات رکھتے ہیں، کہ بغیر پوچھے بعض جماعتوں کا اتحاد بنا سکتے ہیں۔

 دو روز قبل روز ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے اتحاد بنایا اور بعد میں یہ اتحا د صرف ایک رات کا ثابت ہوا۔ ایک دوسرے پرتمام تر الزام تراشی کے باوجود پی ایس پی اور ایم کیو ایم ابھی تک ایک نقطے پر قائم ہیں کہ اتحاد ہونا چاہئے۔ یہ کراچی کے ووٹرز کا دباﺅ ہے یا اسٹلبمشنٹ کا؟ 
ریٹائرڈ جنرل مشرف بھی مہاجر اتحاد کے حامی ہیں۔ وہ کراچی میں اپنا حلقہ انتخاب ہی نہیں بلکہ سیاسی کارڈ کے طور پرکھیلنا چاہ رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پی ایس پی کے صدر مصطفیٰ کمال نے کھلم کھلا کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ایم کیو ایم سے اتحاد کیا تھا۔ تاحال اس کی تردید نہیں ہوئی ہے۔ 
سندھ میں ممتاز بھٹو نے اپنے سندھ نیشنل فرنٹ کو تحریک انصاف میںضم کردیا ہے۔ یہ پانچواں موقعہ ہے کہ ممتاز بھٹو نے فرنٹ کو کسی جماعت میں ضم کیا ہے۔ 
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم اے اے کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان دسمبر میں کراچی میں شاہ اویس نورانی کی رہائش گاہ پر کیاجائےگا۔ جو جماعتیں لاہور میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ان سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

 جماعت اسلامی آئین کے مطابق وقت پر انتخابات چاہتی۔ مذہبی جماعتوں نے 2002 میں بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف دور میں ایم ایم اے کے نام سے سیاسی اتحاد قائم کیا تھا۔اور مولانا فضل الرحمٰن کو ایم ایم اے کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا۔ 2002 کے عام انتخابات میں ایم ایم اے نے 63 نشستیں حاصل کی تھیں اور قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی۔ 2002 میں بننے والے اس مذہبی سیاسی اتحاد میں جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، تحریک جعفریہ پاکستان، جماعت اہلِ حدیث اور متحدہ دینی محاذ شامل تھے۔ 
مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بظاہر2005 میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں اختلافات کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ دراصل ملک میں تبدیل شدہ حالات میں اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا رول تبدیل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے یہ اتحاد مزید عرصہ نہیں چل سکا۔ تبدیل شدہ حالات میں نئی صف بندی ہونے جارہی تھی۔ جس میں اقتدار پیپلزپارٹی کو ملنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا لیکن دیر سے۔ 
 ایم ایم اے کی بحالی کے بعد کتنی موثر ہوگی؟ 
جماعت اسلامی فی الحال خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میںتحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نواز لیگ کے اتحادی ہیں۔ دونوں دو الگ انتہا پر ہیں۔ ایم ایم اے ایک الگ انتہا ہے۔ 
 آج ایم کیو ایم اور اس سے علحدگی اختیار کرنے والے گروپوں کا یکجا ہونا اور متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ جنرل مشرف کا سرگرم ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ایک بار پھر کوئی ایسا فارمولا وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مشرف کے دور میں تھا۔ 
اس فارمولے کے تحت پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں آﺅٹ تھیں۔ ایم کیو ایم اور ایم ایم اے میدان میں تھیں۔ سابق صدر مشرف نے نواز لیگ کو دو حصوں میں کرکے چوہدری برادران کی قیادت میں مسلم لیگ قاف بنوا لی تھی۔ متحدہ شکل میں اقتدار کا حصہ تھی۔ اور وہ صرف صوبے کے دارلحکومت میں ہی نہیں بلکہ سندھ بھر میں سفید و سیاہ کی مالک تھی۔ 
یہ وہی فارمولا ہے جس کا ذکر گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ افتخار۔ کیانی فارمولا نہیں چلنے دیا جائے گا۔ 
سیاسی حلقے اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو سزا ہو جائے گی ۔ جس کے بعد نواز لیگ کو ایک بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس مشکل میں پارٹی کو متحدہ رکھنا، قیادت نامزد کرنا، اور انتخابات جیتنا تینوں شامل ہیں۔پیپلزپارٹی اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہے گی کہ نواز لیگ سے نکلنے والے بااثر افراد کو اپنے پاس جگہ دے۔لیکن اس کے لئے پیپلزپارٹی کو یقنینی بنانا پڑے گا کہ آئندہ حکومت اسی کی بن رہی ہے۔ اگر یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو نواز لیگ چھوڑنے والے پیپلزپارٹی کے بجائے تحریک انصاف میں شمولیت کو ترجیح دیں گے۔ 
عمران خان اور مشرف دونوں نے یہ پڑھ لیا ہے کہ نئے امکانی سیٹ اپ میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں نہیں۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ صرف نواز لیگ نئے سیٹ اپ میں نہیں ہے۔ 
غداری کے مقدمے سے بھاگے ہوئے مشرف کی خواہش ہے کہ بغیر انتخابات کے اقتدار ان کو دیا جائے، کیونکہ ووٹ کے ذریعے وہ نہیں جیت سکتے۔ وہ انتخابات سے ہٹ کر اپنی سیاسی حمایت میں کچھ سیاسی ، لسانی اور مذہبی جماعتوں کو کھڑا کر سکتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار دیا جائے۔ اس لئے ان کی کوشش ہے کہ سیاسی دھند کے درون ہی وقت سے پہلے انتخابات کا فیصلہ وہ جائے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلان نے کپتان خان کی قبل از وقت انتخابات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ 
اسلام آباد میں بعض مذہبی جماعتوں کے ایک ہفتے سے جاری دھرنے نے وفاقی دارلحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کی معمول زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔مقتدرہ حلقے جو کراچی میں ایک روز کی ہڑتال کے آگے بند باندھ چکے ہیں وہ اسلام آباد کی شہری اور معمول کی زندگی مفلوج ہونے پر خاموش ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کے آخری دھرنے کا عدلیہ نے بھی نوٹس لیا تھا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک میں ایک بار پھر قدامت پسندی کا غلبہ تو نہیں ہو رہا؟ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر روشن خیالی جمہوری عمل، شہری آزادیوں سے دور کر دے گی۔
 یہ تجزیہ نگار ایم ایم اے کی بحالی کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ اگر اسلام آباد کا دھرنا حکومت کو مطالبات منوانے کے ذریعے جھکا لیتا ہے یا یہ تحریک کسی طور پر پورے ملک کو لپیٹ میں لیتی ہے تو ملک بھر میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی تنظیم کاری اور سیاسی شناخت صرف ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کی موجود ہے۔ لہٰذا ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے مقتدرہ حلقے بھی ایم ایم اے میں شامل جماعتوں پر زیادہ بھروسہ کرلیں۔ کیونکہ ان جماعتوں نے ماضی میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کام کیا ہوا ہے۔ 

Nai Baat Nov 14, 2017
Sohail Sangi Column

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52068/Sohail-Sangi/Kuch-Tabdeel-Hone-Ja-Raha-Hai.aspx

No comments:

Post a Comment