Friday, November 24, 2017

نواز لیگ آپشنز اور سیاست

 PMLN Options and Politics 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
نواز لیگ آپشنز  اور  سیاست

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اداروں کے سیاسی کردار کا چرچا عروج پر ہے۔ یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کے پیچھے درپردہ قوتیں ہیں۔ اپنی نااہلی کے بعد نوازشریف کسی بھی ادارے پر اعتماد کرنے کوتیار نہیں۔ نواز شریف بھی کسی طاقتور اداروں پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ چند ہفتے قبل سنیٹ چیئرمین رضا ربانی نے عسکری اداروں اور پارلیمنٹ کے درمیاں ڈائیلاگ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن اس کا بھی کسی فریق نے مثبت جواب نہیں دیا۔ یعنی کوئی ایک فریق مصالحت کی پالیسی پر آنے کے لئے تیار نہیں۔

نواز شریف کے خلاف حکمت عملی کے ایک مرحلے پر تو عمل ہو گیا یعنی انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس حکمت عملی کے باقی مراحل میں مشکل ہو رہی ہے۔ نوازشریف کی نااہلی کے باوجود پارٹی ٹوٹ نہیں سکی اور اس کا ووٹر بدستور اس کے ساتھ کھڑا ہے۔اگرچہ کچھ اختلافات ضرور سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دعوے اپنی جگہ پر لیکن نواز لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی نہیں چھوڑ سکے ہیں۔ یہی صورت حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔ ایسے میں نوازشریف ایسے حالات میں سرنڈر نہیں کرنے کو تیار نہیں چاہتے۔ وہ ایک جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ حکمت عملی کے دوسرے مرحلے میں تحریک انصاف کو حکومت میں لانا تھا۔مگر زمینی حقائق ساتھ نہیں دے رہے۔ زمینی حقائق یہ بھی ہیں کہ نواز شریف کو عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے چار ریفرنس مقدمات کی صورت میں زیر سماعت ہیں۔ دیکھا جائے توسابق وزیراعظم کے مستقبل اور ان کی سیاست کے تمام راستے وہاں سے ہوکر گزرتے ہیں جہاں سپریم کورٹ کھڑی ہے۔ ’’جہاں بھی جاؤں تیری محفل ہے‘‘ کا معاملہ ہے۔
 
نواز شریف کو اقامہ کی وجہ سے کسی عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ اب کرپشن کے الزامات میں ان کو سزا دینا باقی ہے جس کے لئے احتساب عدالت میں چار مقدمات چل رہے ہیں۔ مارچ میں سنیٹ کے انتخابات ہونے ہیں۔ نواز لیگ ہر صورت میں چاہے گی کہ حالیہ صورتحال تب تک جاری رہے۔ اور اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے۔ کیونکہ سنیٹ میں اس کی اکثریت مجموعی طور پر مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہوگی۔ اور اگر یہ جماعت اقتدار میں نہیں بھی آتی ہے تو بھی ایک موثر قوت کے طور پر اقتدار کے ایوان میں موجود رہے گی، جہاں ہر قسم کی قانون سازی کے لئے وقت کی حکومت کو سنیٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ 

سنیٹ میں چار صوبوں کی نشستیں خالی ہونگی۔ نواز لیگ صرف ایک صوبے یعنی پنجاب میں اکثریت رکھتی ہے اور کسی حد تک بلوچستان میں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد نواز لیگ بعض آئینی ترامیم لانا چاہتی ہے۔ جس کے ذریعے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بچایا جاسکتا ہے۔ 


 آئین کو تبدیل کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں الگ الگ دوتہائی اکثریت چاہئے۔ سنیٹ سے نواز شریف کی بہت امیدیں بندھی ہوئی ہیں۔ کیایہ پوزیشن نواز لیگ کو حاصل ہو سکتی؟
 
اس صورتحال میں مختلف آپشنز ہیں۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض مفروضوں پر آجاتے ہیں۔ فرض کریں کہ نواز شریف اپنے لئے آئین میں ایسی ترمیم کرالیتے ہیں، جس میں وہ سزا کے اثرات سے بچ سکیں۔ سنیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ ایسی ترمیم منظور کرالیتے ہیں تواگر ایسی ترمیم یہ ترمیم سپریم کورٹ میں چلینج ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ اکیسویں آئینی ترمیم میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ کونسی آئینی ترمیم آئینی ہوگی اور کونسی نہیں ہوگی۔
 
فرض کریں کہ عدالت سے بھی یہ ترمیم بچ جاتی ہے۔ لیکن پھر احتساب عدالت میں چلنے والے مقدمات ہیں۔ ایک مرتبہ پھر فرض کرلیتے ہیں کہ احتساب عدالت سے اگر انہیں سزا نہیں ہوتی، لیکن نااہلی اپنی جگہ پر رہتی ہے۔ اگر انہیں سزا ہو جاتی ہے تو بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ انہیں سزا کے بعد جیل بھیج دیا جائے۔ 


اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نواز شریف کے جیل میں ہوتے ہوئے نواز لیگ الیکشن لڑ رہی ہوگی ۔ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر پارٹی چلا رہے ہونگے۔اس صورت میں میاں صاحب کسی اور کو وزیراعظم کے لئے نامزد کرنا پڑے گا دوسرا کون ہوسکتا ہے؟ یہ دوسرا شہباز شریف ہوگا۔ اس صورت میں شہباز شریف نواز شریف کی جانب سے انتخابی مہم چلا رہا ہوگا۔ وہ چھوٹے بھائی کے طور پر۔ ویسے بھی نواز شریف کے علاوہ سوائے شہباز شریف کے اور کوئی اتنا بڑا پروفائیل رکھنے والا نہیں۔
ا یک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نواز شریف کو سزا تو ہوجاتی ہے لیکن انہیں جیل نہیں بھیجا جاتا۔ کوئی معجزہ ہو جاتا ہے۔ مثلا صدر سزا معاف کر دیتے ہیں وغیرہ۔ لیکن اس صورت میں بھی انتخابات کے موقعہ پر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان پر سزا کا ٹھپہ برقرار رہے گا۔ نواز شریف کاغذات مسترد ہونے کو عدالت میں چیلینج کرتے ہیں۔ اگر کوئی رٹرننگ افسر ان کے کاغذات قبول کر لیتا ہے۔ ان کا کوئی بھی حریف اس کو چیلینج کرسکتا ہے۔ یہ چلینج کرنا بھی سپریم کورٹ میں آکر ختم ہوگا۔ یہ راستہ بھی سپریم کورٹ کو ہی جاتاہے۔
کوئی بعید نہیں کہ نوازشریف اداروں سے ٹکرانے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے اور ایک مرتبہ پھر ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بن کر سامنے آئے۔
کیا نواز شریف کی گل مک گئی ہے؟ اس قانونی گورکھ دھندے سے ہٹ کر سیاست کو لیتے ہیں۔ میدان میں مریم نواز اور حمزہ شریف بھی ہیں۔ مریم نواز وزیراعظم بننا چاہتی ہیں، وہ اس امر کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ انہیں نواز شریف کی بھی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے پارٹی کے اندر خواہ عام لوگوں میں اپنا ایک حلقہ قائم کر لیا ہے ۔ میڈیا میں بھی پروفائیل بنایا ہے۔لیکن اس سے شریف خاندان کے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ پہلی مرتبہ ایم این اے بننے والی براہ راست وزیراعظم ہاؤس پہنچ جائے گی۔ 


شاید پارٹی کے اندر ان کے نام پر ا تفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو جائے۔مریم کبھی بھی کسی عہدے پر نہیں رہی۔ انہیں صرف ایک انتخابی مہم کا تجربہ ہے۔ جو انہوں نے جیت لی تھی۔ لیکن چند ماہ کے دورانہیں یہ سب کچھ سیکھنا ہوگا کہ کس طرح سے قومی سطح کے امیدوار کو عمل کرنا چاہئے؟ کیا وریہ رکھنا چاہئے؟ نواز شریف اور مریم نواز کے لئے یہ امتحان ہوگا، کیونکہ اس طرح کی صورتحال میں اس طرح کے کئی امیدوار ہونگے جو وزیراعظم ہاؤس جانا چاہ رہے ہونگے۔ حمزہ شریف کا آپشن بھی بعض اضافی اور بعض منفی نکات رکھتا ہے۔ وہ ماضی میں اپنے والد اور انکل کی جانب سے پارٹی کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی یا امیدواروں سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ 

اگرچہ حمزہ کو پارٹی کے معاملات دیکھنے کا تجربہ ہے تو اسے قومی سطح کا ایکسپوزر نہیں۔ پردے کے پیچھے رہ کر امیدواروں سے ڈیل کرنا ایک بات ہے اور ان جان اور بغیر پہچان والے ووٹر سے رابطہ دوسری بات ہے۔
 
اگر یہ صورتحال بن رہی ہے کہ نواز شریف منظر پر موجود نہیں مریم کو لانے میں خاندانی، تنظیمی اور دیگر اقسام کی مختلف رکاوٹیں ہیں۔، حمزہ سے معاملہ زور ہے اور باقی میدان میں صرف شہباز ہی رہ جاتے ہیں۔
 
نواز لیگ میدان میں کھڑی ہے، لیکن اس کو نہ ختم ہونیو الے بحران کا سامنا ہے۔ جس نے بڑی حد تک پارٹی کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ طے ہے کہ نواز لیگ اپنے’’ زوال یا بحران‘‘ کے دوران سخت دھاڑ مقابل کرے گی۔
 
اس آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ شہباز اور عمران کان کے درمیان براہ راست مقابلہ۔نواز لیگ اس آپشن کے لئے تیار ہے۔ اس لئے بھی کہ اس کے علاوہ اسکے پاس کوئی بہتر آپشن نہیں۔ اس صورت میں سندھ اور پیپلزپارٹی کا کیا کریں گے؟ اور یہ بھی کہ صرف اسٹبلشمنٹ اور نواز شریف ہی منظر نامے میں نہیں عدلیہ بھی ہے۔ 
 PMLN Options and Politcs 
 Nai Baat Nov 20, 2017
Sohail Sangi Column
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52366/Sohail-Sangi/Nawaz-League-Options-Aur-Siyasat.aspx  

No comments:

Post a Comment