ایم کیو ایم کا نیا موڑ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی ’’آزادی‘‘ کا اعلان کر دیا اور الطاف حسین نے اس علحدگی یا لاتعلقی کو قبول بھی کر لیا۔ جو بات سالہا سال تک نہ ہو سکی وہ راتو رات رونما ہو گئی۔ یہ’’ معجزہ ‘‘ سیاستکار اور تجزیہ نگار سبھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ متحدہ کے اندر ایک عرصے سے مختلف تضادات چل رہے تھے۔ اور مختلف گروپ قیادت حاصل کرنے کے لئے لڑ جھگڑ بھی رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود الطاف حسین اپنی بالادستی اور کمانڈ کسی نہ کسی طرح سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ حالیہ آپریشن کے بعد پارٹی پر دباؤ بڑھ گیا۔اور پارٹی مسلسل سیاسی تنہائی کا شکار ہوتی رہی۔
گمشدہ کارکنوں کے حوالے سے تادم مرگ بھوک ہڑتال نے صورتحال کو نیا رخ دیا۔ کیونکہ اس سے پارٹی سیاسی طور پر زندہ ہو گئی۔ نواز لیگ سے لیکر پیپلزپارٹی تک تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اظہار یکجہتی کے طور بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا۔ وزیرعظم نواز شریف نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو کراچی بھیجا جہاں انہوں نے پنجاب ہاؤس میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور گرفتار کاکنوں کی رہائی اور انہیں ظاہر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بھوک ہڑتال ختم ہونے پر لندن سے لطاف حسین نے پاکستان کے خلاف خطاب کیا جس سے صورتحال میں ایک اور موڑ آیا۔
میڈیا ہاؤسز پر حملے کے بعد فاروق ستار گرفتار ہوگئے اور صبح ہونے سے پہلے انہوں نے پارٹی کے لندن سیکریٹریٹ سے علحدگی اور لاتعلقی کا فیصلہ کیا۔ جس کا اعلان دوسرے دن پریس کانفرنس میں کیا۔
لاتعلقی کو لندن میں موجود پارٹی کے سربراہ نے قبولیت دینے کے باوجود غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے کہ لندن میں موجود قیادت کا اب رول کیا ہوگا؟ ۔ فاروق ستار کی قیادت میں رابطہ کمیٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا الطاف حسین کی واقعی اس فیصلے پر آشیرواد حاصل ہے؟ یا یہ پارٹی کے اندر بغاوت ہے جس کو انہوں نے وقتی طور پر قبول کر کے مناسب وقت پر رد عمل کا فیصلہ کیا ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات ہیں۔
فاروق ستار کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہو سکتی ہے؟ اس کا انحصار اس پر ہے کہ اسٹبلشمنٹ ان کو کتنا اسپیس دیتی ہے۔ ان کی اس کوشش کو اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے پارٹی کو مشکل وقت سے نکالنے کا فارمولا سمجھا جارہا ہے۔
یہ رائے غالب ہے کہاالطاف حسین ابھی بھی پارٹی کارکنوں اور مہاجر کمیونٹی میں موثر ہیں اور پاکستان میں موجود قیادت کو پارٹی میں قبولیت اور مہاجروں میں مقبولیت اتنی ہی ملے گی جتنی ان کے لندن میں موجود رہنما چاہیں گے۔ حاصل ہے جنتی الظاف حسین انہیں دینگے۔ وہ ابھی بھی اتنا اثر اور قوت رکھتے ہیں کہ کسی فرد یا گروپ کے خلاف اقدام اٹھاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں فاروق ستار کی منگل کے روز پریس کانفرنس کا خاص طور پر حوالہ دیا جارہا ہے جس میں انہوں نے لاتعلقی کا ظاہر ضرور کیا لیکن مذمت نہیں کی۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ فاروق ستار کے لاتعلقی کے اعلان کو پارٹی کے اندر ایک ہی روز میں قبولیت مل گئی۔ اور پارٹی کے کونسلرز نے ڈسپلن اور اتحاد ا مظاہرہ کرتے ہوئے میئر کا الیکشن جیت لیا۔ کراچی میں میئر کا انتخاب بڑی اکثیرت سے جیتنے کے باوجود پارٹی کے رہنما پر امید نہیں ہیں کہ اسٹبلشمنٹ انہیں پارٹی کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو سے کام کرنے دے گی۔
اس کنفیوزن کو دور کرنے کے لئے واسع جلیل نے یہ بیان جاری کیا کہ الطاف حسین رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق اور حمایت کرتے رہیں گے۔ الطاف حسین خود نے کہا کہ انہوں نے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کو دے دیئے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس ’’مائنس ون فارمولا ‘‘ کے اور کوئی آپشن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے یہ فیصلہ اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بعد کیا ہے۔ ان کا اشارہ تادم مرگ بھوک ہڑتال سے متعلق نواز لیگ، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ملاقاتوں کی طرف تھا۔ پیپلزپارٹی کے اندر مائنس ون فارمولا کے بارے میں دو قسم کی رائے ہے۔ اعتزاز احسن خورشید شاہ کی رائے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ مائنس ون فارمولا اس سے پہلے مختلف پارٹیوں کے لئے بھی آزمانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ نسخہ کامیاب نہیں ہوا۔
سیاستکار خواہ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ لندن میں موجود قیادت اس پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔مہاجر سیاست کرنے والوں کا خیال ہے کہ الطاف حسین بڑی شخصیت ہیں انکی حمایت کے بغیر کوئی بھی لیڈر نہیں چل سکتا۔ ایم کیو ایم کا المیہ اس کی مسلح ونگ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ وہ کراچی کو سندھ کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ ایک الگ شناخت کے طور پر دیکھتی ہے۔ بغیر مسلح ونگ کے ایم کیو ایم بطور سیاسی جماعت وجود رکھے اور جمہوری سیاست کرے یہ بڑا چیلیج ہے۔ ایک عرصے تک مخصوص قسم کی سیاست اور نعروں کی وجہ سے کراچی میں ایک خاص قسم کی ذہنیت بنی ہے۔ جو کہ آگے چل کر الطاف حسین کی قیادت میں واپسی اور فاروق ستار کے فارمولے کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر نئی سوچ نے جنم لیا ہے فاروق ستار کا فارمولا تھوڑی بہت رد و بدل کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے۔ اور صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ اس حوالے سے یہ کثیر جہتی ٹاسک ہے۔ جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کرادر ادا کرنا پڑے گا۔ ورنہ راتوں رات کی تبدیلی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان اختیارت کی منتقلی کے باوجود آگے چل کر فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والوں کو یا اپنی الگ پارٹی بنانی
پڑے گی یا پھر ایم کیو ایم میں رہتے ہوئے الطاف حسین سے مکمل طور پر قطع تعلق کرنا پڑے گا۔ اس طرح کا اشارہ فارق ستار نے لندن کی قیادت سے لاتعلقی والی پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ فاروق ستار کے اس فیصلے نے ایم کیو ایم کو بچا لیا ہے۔ اس کا اظہار میر کے انتخاب کے دوران نظر آیا۔
فاروق ستار کے لئے دو طرح کے امتحان ہیں ایک یہ کہ وہ کس حد تک اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے کچھ حاصل کر سکتے ہیں دوسرا یہ کہ اگر الطاف حسین ان کے اس قدام کو بغاوت سمجھتے ہیں اور ردعمل دکھاتے ہیں تو اس کا مقابلہ کس طرح سے کریں گے؟ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فاروق ستار نے مکمل طور پر پارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔










