Sunday, August 28, 2016

ایم کیو ایم کا نیا موڑ


ایم کیو ایم کا نیا موڑ

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی ’’آزادی‘‘ کا اعلان کر دیا اور الطاف حسین نے اس علحدگی یا لاتعلقی کو قبول بھی کر لیا۔ جو بات سالہا سال تک نہ ہو سکی وہ راتو رات رونما ہو گئی۔ یہ’’ معجزہ ‘‘ سیاستکار اور تجزیہ نگار سبھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ متحدہ کے اندر ایک عرصے سے مختلف تضادات چل رہے تھے۔ اور مختلف گروپ قیادت حاصل کرنے کے لئے لڑ جھگڑ بھی رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود الطاف حسین اپنی بالادستی اور کمانڈ کسی نہ کسی طرح سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ حالیہ آپریشن کے بعد پارٹی پر دباؤ بڑھ گیا۔اور پارٹی مسلسل سیاسی تنہائی کا شکار ہوتی رہی۔ 



گمشدہ کارکنوں کے حوالے سے تادم مرگ بھوک ہڑتال نے صورتحال کو نیا رخ دیا۔ کیونکہ اس سے پارٹی سیاسی طور پر زندہ ہو گئی۔ نواز لیگ سے لیکر پیپلزپارٹی تک تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اظہار یکجہتی کے طور بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا۔ وزیرعظم نواز شریف نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو کراچی بھیجا جہاں انہوں نے پنجاب ہاؤس میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور گرفتار کاکنوں کی رہائی اور انہیں ظاہر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بھوک ہڑتال ختم ہونے پر لندن سے لطاف حسین نے پاکستان کے خلاف خطاب کیا جس سے صورتحال میں ایک اور موڑ آیا۔
میڈیا ہاؤسز پر حملے کے بعد فاروق ستار گرفتار ہوگئے اور صبح ہونے سے پہلے انہوں نے پارٹی کے لندن سیکریٹریٹ سے علحدگی اور لاتعلقی کا فیصلہ کیا۔ جس کا اعلان دوسرے دن پریس کانفرنس میں کیا۔ 



لاتعلقی کو لندن میں موجود پارٹی کے سربراہ نے قبولیت دینے کے باوجود غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے کہ لندن میں موجود قیادت کا اب رول کیا ہوگا؟ ۔ فاروق ستار کی قیادت میں رابطہ کمیٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا الطاف حسین کی واقعی اس فیصلے پر آشیرواد حاصل ہے؟ یا یہ پارٹی کے اندر بغاوت ہے جس کو انہوں نے وقتی طور پر قبول کر کے مناسب وقت پر رد عمل کا فیصلہ کیا ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات ہیں۔ 



فاروق ستار کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہو سکتی ہے؟ اس کا انحصار اس پر ہے کہ اسٹبلشمنٹ ان کو کتنا اسپیس دیتی ہے۔ ان کی اس کوشش کو اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے پارٹی کو مشکل وقت سے نکالنے کا فارمولا سمجھا جارہا ہے۔ 



یہ رائے غالب ہے کہاالطاف حسین ابھی بھی پارٹی کارکنوں اور مہاجر کمیونٹی میں موثر ہیں اور پاکستان میں موجود قیادت کو پارٹی میں قبولیت اور مہاجروں میں مقبولیت اتنی ہی ملے گی جتنی ان کے لندن میں موجود رہنما چاہیں گے۔ حاصل ہے جنتی الظاف حسین انہیں دینگے۔ وہ ابھی بھی اتنا اثر اور قوت رکھتے ہیں کہ کسی فرد یا گروپ کے خلاف اقدام اٹھاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں فاروق ستار کی منگل کے روز پریس کانفرنس کا خاص طور پر حوالہ دیا جارہا ہے جس میں انہوں نے لاتعلقی کا ظاہر ضرور کیا لیکن مذمت نہیں کی۔ 
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ فاروق ستار کے لاتعلقی کے اعلان کو پارٹی کے اندر ایک ہی روز میں قبولیت مل گئی۔ اور پارٹی کے کونسلرز نے ڈسپلن اور اتحاد ا مظاہرہ کرتے ہوئے میئر کا الیکشن جیت لیا۔ کراچی میں میئر کا انتخاب بڑی اکثیرت سے جیتنے کے باوجود پارٹی کے رہنما پر امید نہیں ہیں کہ اسٹبلشمنٹ انہیں پارٹی کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو سے کام کرنے دے گی۔ 



اس کنفیوزن کو دور کرنے کے لئے واسع جلیل نے یہ بیان جاری کیا کہ الطاف حسین رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق اور حمایت کرتے رہیں گے۔ الطاف حسین خود نے کہا کہ انہوں نے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کو دے دیئے ہیں۔ 



اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس ’’مائنس ون فارمولا ‘‘ کے اور کوئی آپشن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے یہ فیصلہ اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بعد کیا ہے۔ ان کا اشارہ تادم مرگ بھوک ہڑتال سے متعلق نواز لیگ، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ملاقاتوں کی طرف تھا۔ پیپلزپارٹی کے اندر مائنس ون فارمولا کے بارے میں دو قسم کی رائے ہے۔ اعتزاز احسن خورشید شاہ کی رائے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ مائنس ون فارمولا اس سے پہلے مختلف پارٹیوں کے لئے بھی آزمانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ نسخہ کامیاب نہیں ہوا۔ 



سیاستکار خواہ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ لندن میں موجود قیادت اس پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔مہاجر سیاست کرنے والوں کا خیال ہے کہ الطاف حسین بڑی شخصیت ہیں انکی حمایت کے بغیر کوئی بھی لیڈر نہیں چل سکتا۔ ایم کیو ایم کا المیہ اس کی مسلح ونگ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ وہ کراچی کو سندھ کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ ایک الگ شناخت کے طور پر دیکھتی ہے۔ بغیر مسلح ونگ کے ایم کیو ایم بطور سیاسی جماعت وجود رکھے اور جمہوری سیاست کرے یہ بڑا چیلیج ہے۔ ایک عرصے تک مخصوص قسم کی سیاست اور نعروں کی وجہ سے کراچی میں ایک خاص قسم کی ذہنیت بنی ہے۔ جو کہ آگے چل کر الطاف حسین کی قیادت میں واپسی اور فاروق ستار کے فارمولے کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر نئی سوچ نے جنم لیا ہے فاروق ستار کا فارمولا تھوڑی بہت رد و بدل کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے۔ اور صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ اس حوالے سے یہ کثیر جہتی ٹاسک ہے۔ جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کرادر ادا کرنا پڑے گا۔ ورنہ راتوں رات کی تبدیلی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔



تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان اختیارت کی منتقلی کے باوجود آگے چل کر فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والوں کو یا اپنی الگ پارٹی بنانی
پڑے گی یا پھر ایم کیو ایم میں رہتے ہوئے الطاف حسین سے مکمل طور پر قطع تعلق کرنا پڑے گا۔ اس طرح کا اشارہ فارق ستار نے لندن کی قیادت سے لاتعلقی والی پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ فاروق ستار کے اس فیصلے نے ایم کیو ایم کو بچا لیا ہے۔ اس کا اظہار میر کے انتخاب کے دوران نظر آیا۔ 



فاروق ستار کے لئے دو طرح کے امتحان ہیں ایک یہ کہ وہ کس حد تک اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے کچھ حاصل کر سکتے ہیں دوسرا یہ کہ اگر الطاف حسین ان کے اس قدام کو بغاوت سمجھتے ہیں اور ردعمل دکھاتے ہیں تو اس کا مقابلہ کس طرح سے کریں گے؟ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فاروق ستار نے مکمل طور پر پارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ 

سندھ کے اقتداری ڈھانچے میں بعض تبدیلیاں



سندھ کے اقتداری ڈھانچے میں بعض تبدیلیاں

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 



نئی سندھ کابینہ کی وجہ سے سندھ کے اندرونی اقتداری ڈھانچے میں بعض تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ جن کا اثر اقتدار میں شامل گرپوں اور لابیوں پر پڑے گا لیکن عوام کے وسیع تر حلقے اس سے متاثر نہیں ہونگے۔ سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہاں اور سندھ کابینہ میں ایک ہی وقت توسیع کی وجہ سے بعض گروپوں اور لابیوں کو زیادہ فائدہ پہنچا جب کہ بعض گروپ اس اقتداری کھیل میں پیچھے رہ گئے۔ 
سندھ کے 37 وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین کی کابینہ میں پہلی مرتبہ سات غیر منتخب افراد کو شامل کیا گیا ہے جس میں مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو، مرتضیٰ وہاب، اصغر جونیجو، بابر افندی، برہان چانڈیو، عمررحمان ملک، سید قاسم نوید، ذوالفققار بیہن، نادر خواجہ، نوید اینتھونی شامل ہیں۔ 



سات وزارء کے پاس دو دو محکموں کے قلمدان ہیں، قائم علی شاہ کابینہ کے 19 افراد بطور وزیر، مشیر نئی کابینہ میں شامل ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود لگتا ہے کہ سندھ کے اقتداری سیٹ اپ میں اندرونی طور پر بعض اختلافات اور تبدیلیاں ناگزیر ہو اجئیں گی۔
سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہان کا انتخاب، وزیراعلیٰ کی تبدیلی، اور نئی سندھ کابینہ کی تشکیل ایک ہی وقت ہوئی۔ اس کی وجہ سے پارٹی کے پاس مختلف بااثر گروپوں کو اکموڈیٹ کرنے میں سہولت پیدا ہوگئی۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے چند ہفتے قبل پارٹی کے ضلعی عہدیداران کے تقرر کا معاملہ بھی آیا تھا۔ یہاں پر بھی بعض حلقوں کو جگہ دے دی گئی۔ 



اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو پارٹی قیادت نے وزارت اعلیٰ کی تبدیلی خواہ نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے میں دور رکھا گیا اور ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ نہ ہی ان کا کوئی قریبی ساتھی ایم پی اے وزیر بن سکا۔ یہاں تک کہ ان کے بھتیجے اویس شاہ جو ایم پی اے بھی تھے انہیں بھی ویزر نہیں بنایا گیا۔ اویس شاہ کو سید خورشید شاہ سیاسی وارث کے طور پر ابھارنا چاہتے ہیں۔ سکھر سے ناصر شاہ اور جام اکرام دھاریجو کو وزارتیں دی گئی، جس میں خورشید شاہ کی کوئی مشاورت شامل نہیں تھی۔ ضلع چیئرمین کا عہدہ اسلم شیخ کو دلانے کے لئے خورشید شاہ اور مہر برادران ساتھ تھے۔ سکھر ضلع کونسل کی وائیس چیئرمین کا عہدہ جاوید شاہ کے بیٹے شاہ زیب شاہ کو خورشید شاہ کی مرضی کے بغیر دیا گیا۔ جاوید شاہ کو وزیرعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ مراد علی شاہ اور خورشید شاہ کے درمیان اختلافات کی خبریں ایک عرصے سے سیاسی مارکیٹ میں چل رہی تھیں۔ خورشید شاہ نے ان سے مشاورت نہ کرنے کا برملا اظہار کیا ۔ دبئی اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰ کی تبدیلی کی خبر انہیں میڈیا کے ذریعے پتہ چلی۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لئے نامزدگی کے بعد مراد علی شاہ کورشید شاہ کو منانے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔ سکھر کی مئر کا عہدہ اسلام الدین شیخ کے بیٹے ارسلان کے حصے میں آیا۔ اس پر پیپپلزپارٹی کے کسی بھی گروپ کو اعتراض نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے دو مرتبہ ایم پی اے رہنے والے انور علی مہر کے بیٹے اختر مہر کا نام ضلع کونسل کی وائیس چیئرمین کے لئے آرہا تھا۔ لیکن عین وقت پر ان کا پتہ کٹ گیا۔ 



سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع میں صورتحال دلچسپ رہی۔ سید قائم علی شاہ اور ان کے حامی ایم پی ایز پیرفضل شاہ جیلانی، ساجد بانبھن، اور نعیم کھرل کی کوشش تھی کہ ضلع کونسل کی چیئرمنی ساجد بانبھن کے بھائی کاشف بانبھن کو ملے۔ وسان لابی یہاں پر بھی زور نکلی۔ منظور وسان کا بھتیجا شہریار وسان ضلع کونسل کا چیئرمین بن گیا اور سید قائم علی شاہ کی لابی کے حصے میں وائیس چیئرمین کا عہدہ آیا۔ ان تبدیلیوں کے اثرات خیرپور ضع میں منظور وسان کے حق میں رہے۔ جہاں پر ان کے خاندان کے علاوہ نہ کوئی وزیر ہے، نہ مشیر اور نہ ہی خصوصی معاون، مزید یہ کہ ضلع کونسل کی چیئرمنی بھی ان کے پاس ہے۔ 



گھوٹکی ضلع میں مہر، ڈہر اور پتافی تین بڑے سردار اور بااثر شخصیات ہیں۔ مہر ور ڈہران کو برابر کا حصہ دیا گیا۔ لیکن پتافی خاندان گھاتے میں رہا۔ سردار محمد بخش مہر کو کابینہ کا ھصہ بنایا گیا۔ علی گوہر کے بیٹے حاجی خان مہر کو ضلع کونسل کے چیئرمین کے لئے نامزد کیا گیا۔ وائیس چیئرمین کا عہدہ جام مہتاب کے قریبی ساتھی صفدر چاچڑ کو وائیس چیئرمین بنایا گیا۔ اگرچہ وہ ضلعی کونسلر کی نشست ہار گئے تھے لیکن انہیں مخصوص نشست سے کامیاب کراکر وائیس چیئرمین بنا دیا گیا۔ جام مہتاب گزشتہ کابینہ میں بطور وزیر صحت تھے اور اب انہیں محکمہ تعلیم کا اہم قلمدان سونپا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے غیر اعلانیہ باغی تصور کئے جانے والے سردار احمد علی پتافی کو بلدیاتی انتخبات خواہ صوبائی کابینہ میں دور رکھا گیا ہے۔ 



لاڑکانہ میں سہیل انور شاہ خود کو کابینہ میں شامل کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی ساتھی خان سانگھرو کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنا دیا۔ نثار کھڑو خود کابینہ میں شامل ہو گئے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے حامی اسلم شیخ کو لاڑکانہ کا میئر بنوا دیا۔
سندھ کے سابق وزیر قانون اور موجودہ رکن قومی اسمبلی ایاز سومرو کو بلدیاتی انتخابات میں دور ہی رکھا گیا۔ ان کی کوشش تھی کہ لاڑکانہ کے میئر یا ضلع کونسل کی سربراہی کا عہدہ ان کے کسی حامی کو ملے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔ ایاز سومرو سندھ حکومت خواہ ضلع کے معاملات میں کافی عرصے سے نظرانداز ہیں۔ 



قمبر شہدادکوٹ ضلع میں پارٹی کی قیادت میں طویل عرصے سے بحران ہے۔ ضلع کونسل کے چیئرمنی ے لئے سردار خان چانڈیو نے اپنے بھائی برہان چانڈیو کا نام دیا۔ لیکن پارٹی کی اندرونی کشمکش کی وجہ سے یہ قرع محمد قاسم کھوسو کے نام نکلا جو قدرے کم معروف ہیں۔ پارٹی نے سردار خان چانڈیو کو خوش کرنے کے لئے ان کے بھائی برہان چانڈیو کو نارکوٹکس کا خصوصی معاون بنا دیا گیا۔ 



نادر مگسی بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے تک نظر انداز ہوتے رہے۔ ان کے آبائی حلقہ شہدادکوٹ کی میونسپلٹی کی سربراہی ان کی شدید مخالفت کے باوجود ان کے حریف گروپ کو دی گئی۔ اسی طرح دوسری بڑی بلدیہ قمبر کی سربراہی بھی سردار خان چانڈیو کے حامی کو دی گئی۔ نادر مسگی کو سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں بھی کوئی حصہ داری نہیں تھی۔ نادر مگسی کو پارٹی سے دور رکھنا پارٹی کے لئے آئندہ انتخابات میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 



شکارپور میں اس وقت سخت مقابلے کی صورتحال بن گئی تھی جب سردار غوث بخش مہر نے اسپیکر آغا سراج درانی کے بھای آغا مسیح الدین کو ضلع چیئرمن پر ٹف ٹائیم دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں آغا سراج درانی کو غوث بخش مہر سے معاہدہ کرنا پڑا۔ تب جا کر ان کے بھائی ضلع چیئرمین ہو پائے۔ ایم پی اے بابل بھیو اپنے بھائی کے لئے وائیس چیئرمنی کا عہدہ مانگ رہے تھے۔ ان کے بھائی عابد بھیو کو وزیراعلیٰ کا خصوصی معاون بنا کر انہیں خوش کر دیا گیا۔ غوث بخش مہر اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ معاہدہ کے دور رس نتائج تب نکلیں گے جب آئندہ انتخابات میں غوث بخش مہر اور ان کے بیٹے ایم پی اے شہریار مہر بھی امیدوار ہونگے۔ تب پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم ایک مشکل امتحان بن جائے گا۔



پارٹی نے کشمور کندھ کوٹ ضلع میں پارٹی کے اہم رکن میر ہزار خان بجارانی کو وزارت دے کر اور ان کے بیٹے کو ضلع کی چیئرمنی دے کر راضی کر لیا ہے۔ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وہ وزیر بننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ اس ضلع میں مزاری گروپ کابینہ اور بلدیاتی اداروں کی سربراہی سے باہر ہیں ۔ جیکب آباد میں جکھرانی خاندان دوبارہ وزارت حاصؒ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ 



میرپور خاص کے سید اور پیر لابی یعنی سید علی نواز شاہ اور پیر آفتاب جیلانی گزشتہ کابینہ کی طرح اس مرتبہ بھی نظر انداز رہے۔ یوسف تالپور جو پارٹی سے مسلسل ناراض تھے ان کے بیٹے میر تیمور کو وزارت دے کر خوش کردیا گیا ہے ۔ مخدوم خاندان کی سروری جماعت کو سانگھڑ خواہ عمرکوٹ میں مناسب حصہ نہیں مل سکا ہے۔ 



تھرپارکر میں کسی کو کابینہ میں نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ چیئرمین اور وائیس چیئرمین کے عہدے غلام حیدر سمیجو اور رانا ۃمیر سنگھ کے بیٹے کرنی سنگھ کو دیئے گئے ہیں یہ دونوں صاحبان ارباب غلام رحیم کے سخت حامی رہے ہیں۔ جامشورو کے بے تاج بادشاہ سمجھنے والے ملک اسد سکندر کو چار وزارتوں سے گھٹا کر صرف ضلع کونسل کی چیئرمنی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ 



یہ سب معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئے وزراء و مشیران کی نامزدگی مکمل طور پر سیاسی لحاظ سے کی گئی ہے اور مختلف گروپوں اور لابیوں کو اکموڈیت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک کوشش ضرور نظر آئی ہے کہ کچھ گروپ قائم علی شاہ کی وزارت میں اقتدار سے باہر تھے ان کو کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود علی نواز شاہ، پیر آفتاب جیلانی، احمد علی
پتافی، سید خورشید احمد شاہ کابینہ اور نئے بلدیاتی سیٹ اپ کا براہ راست حصہ نہیں لگتے۔ 
نئے وزیراعلیٰ کی مہارت ، قابلیت اور خلوص پر شک نہیں۔ لیکن یہ سب تقرریاں مصلحت سے خالی نہیں۔ کیا ایسی مصلحتوں کی بنیاد پر کی گئی تقرریاں اچھے ناتئج دے سکتی ہیں جن کا وزیر اعلٰ عزم رکھتے ہیں اور لوگ امید رکھتے ہیں ۔

سندھ پیپلزپارٹی کی بادشاہت کے دہانے پر



سندھ پیپلزپارٹی کی بادشاہت کے دہانے پر

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ظاہر کر دیا تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں کوئی بھی پارٹی یا اتحاد مضبوط شکل میں سامنے نہیں آ پایا ہے۔ یوں صوبے میں معاملہ یکطرفہ بن رہا تھا۔ پیپلزپارٹی کے خلاف عام رائے اورتاثر خراب ہونے کے باوجود پارٹی سیاسی حوالے سے اپنی پوزیشن مضبوط بنائے ہوئی تھی۔ لیکن صوبے میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے بعدیہ تبدیلی زیادہ نمایاں ہوئی۔ 



اول یہ کہ پارٹی کے اندر جو ناراض گروپ یا خاندان تھے ان کو کابینہ ، بلدیاتی اداروں کی سربراہی یا پارٹی عہدوں میں ایڈجسٹ کیا۔ اور اقدار میں حصہ پتی دے کر شراکت کا احساس دلایا۔ یوسف تالپور جو ایک عرصے تک پارٹی سے دوری رکھے ہوئے تھے جن کے لئے سیاسی مارکٹ میں یہ باتیں چل رہی تھیں کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہیں۔ نئی کابینہ میں بیٹے کی شمولیت پر واپس پارٹی کے قریب آگئے ہیں۔ اسی طرح سے میر ہزار خان بجارانی کو بھی خوش کردیا گیا۔ 



پارٹی کے اندر معاملات ٹھیک کرنے کی یقیننا اہمیت ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ اندرون سندھ کی دوسری بڑی پارٹی سمجھی جانے والی مسلم لیگ فنکشنل کے لوگ پیپلزپارٹی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ معاملے کا آغا ز کچھ اس طرح سے ہوا کہ دبئی میں جب پیپلزپارٹی نے سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تب وہ دبئی میں موجود پیرپاگارا کے آشیرواد لینے پہنچ گئے۔ اس آشیر واد ملنے کے بعدفنکشنل لیگ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ۔ بلکہ تحریک انصاف کے امیدوار کو بھی ووٹ نہیں کیا اور ووٹنگ کے وقت اس کے راکین ایوان سے باہر نکل آئے۔یہی فیصلہ ایم کیو ایم اور نواز لیگ نے بھی کیا۔ بہر حال ٹھٹہ کے شیرازی اور نوشہروفیروز کے جتوئی خاندانوں نے جو بظاہر نواز لیگ میں تھے انہوں نے ایک ووٹ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو دیا۔ 



نواز لیگ اس پورے سین کے دوران غائب رہی۔ سندھ میں سیاسی طور پر خواہ کم وزن رکھنے کے باوجود تحریک انصاف نے اسٹینڈ کیا جبکہ ایم کیو ایم، نواز لیگ اور فنکشنل لیگ تینوں نے اس طرح کوئی اسٹینڈ نہیں لیا۔ جو کہ پارلیمانی سیاست میں اپنے وجود کو منوانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ 
اگرچہ فنکشنل لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بلدیاتی انتخابات کے دوران خیرپور اور سانگھڑ میں سخت کشیدگی رہی اور خیرپور کے شہر درازاں کے پولنگ اسٹیشن پر تصادم میں ایک درجن کے لگ بھگ فنکشنل لیگ کے اہم کارکن مارے گئے تھے۔ 



بلدیاتی انتخابات کے سربراہان کے انتخابات کے موقع پر خاص طور پر ضلع شکارپور میں بڑے پیمانے پر ایڈجسٹ مینٹ نظر آیا۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر ضلع کونسل کے چیئرمن تھے۔ اس مرتبہ بھی غوث بخش مہراس عہدہ اپنے دوسرے بیٹے کو لانا چاہ رہے تھے۔ لیکن اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اپنے بھائی مسیح الدین خان درانی کو چیئرمین کا عہدہ دلانے کے لئے مہر سے سمجھوتہ کرلیا۔ دوسرا سمجھوتہ یہ ہوا کہ فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے تاؤن کی چیئرمن شپ کے لئے اپنے بیٹے کو پیپلزپارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار کرا دیا۔ 



گزشتہ مرتبہ جب پیپلزپارٹی حکومت میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہی تھی تو سندھ میں پیر پاگارا کی قیادت میں ایک بڑا الائنس بنا تھا۔ جس میں نواز لیگ، اکثر قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں۔اور کچھ سندھی دانشور بھی اس دھارے میں بہہ گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔



اگرچہ ابھی عام انتخابات میں تقریبا ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے خلاف کسی پارٹی کی بڑے پیمانے پر سرگرمی یا کسی اتحاد کے قیام کی صورتحال دور کی بات ہے، بلکہ مختلف جماعتوں کے رہنما ٹوٹ کر پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق فنکشنل لیگ کے اہم رہنما امتیاز شیخ پارٹی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ اسی طرح سے فنکشنل لیگ کے رہنما غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر جو کہ سندھ اسمبلی میں فنکشنل لیگ کے پارلیمانی لیڈر ہیں وہ بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ نوشہروفیروز کے جتوئی اور ٹھٹہ کے شیرازی برادران سے مذاکرات چل رہے ہیں اسی طرح سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے لاڑکانہ میں شفقت انڑ ، گھوٹکی کے نادر اکمل لغاری اور فیاض لنڈ سے بھی مذاکرات چل رہے ہیں۔ 



جام خاندان کے جام مددعلی فنکشنل لیگ میں ہیں لیکن امتیاز شیخ اور شکارپور کے مہروں کے بعد وہ بھی پیپلزپارٹی میں جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اس ضمن میں میڈم مہتاب اکبر راشدی، اور مٹیاری کے جاموٹ برادران کے بھی نام آرہے ہیں۔ یہ سب لوگ فنکشنل لیگ سے اس وجہ سے بھی جڑے تھے کہ یہ سیاسی جماعت کے طور پر عمل کرے گی اور سیاسی رویہ رکھے گی۔ اب جب فنکشنل لیگ کا سیاسی رنگ اڑ گیا تو ا یہ سب لوگ خود کو یہاں ٖت نہیں سمجھ رہے ہیں۔ 



فکشنل لیگ کا دعوا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ساڑھے بائیس لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔یہ جماعت خود کو پی پی پی کا متبادل سمجھتی ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کا کوئی واضح پروگرام یا منشور کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس کی تنظیم کاری بھی جمہوری اصولوں پر مبنی نہیں۔ سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عملا یہ مریدوں کی جماعت ہے۔



فنکشنل لیگ کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران کم از کم دو مرتبہ موقعہ ملا تھا کہ وہ سندھ میں متبادل کے طور پر آگے آئے۔ لیکن دونوں مرتبہ وہ ایسا نہیں کر سکی۔ اس نے سیاسی جماعت کے بجائے روحانی جماعت کے طور پر خود کو ثابت کیا جہاں حر جماعت کے خلیفوں کی اہمیت تھی۔ نہ پارٹی کا کوئی باضابطہ ڈھانچہ بنایا گیا۔ 



امتیاز شیخ ، غوث بخش مہر اور دیگر افراد یہ سمجھ کر شامل ہوئے تھے کہ یہ سیاسی جماعت کے طور پر عمل کرے گی۔ جس میں سیاسی موقف، سیاسی نقط نظر کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر تنظیم سازی اور فیصلہ سازی کے معاملات شامل تھے۔ لیکن یہ جماعت ایسا نہیں کر سکی۔ فنکشل لیگ اسی وجہ سے cold and mould ہوتی رہی۔ میں نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے ایک کالم میں تفصیل سے لکھا تھا :’’کیا فنکشنل لیگ کا اب کوئی رول باقی ہے؟‘‘ ۔ یہ بات اب سچ ثابت ہو رہی ہے۔



صورتحال یہ بنی کہ فنکشنل لیگ اپنے حروں کے ضلع سانگھڑ میں بھی ضلع کونسل کی چیئرمین شپ حاصل نہ کر سکی۔ فنکشنل لیگ کی عملی طور پر وہی صورتحال بن رہی ہے جو شہری علاقوں میں مولانا نورانی کی جمیعت علمائے پاکستان کی تھی۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ فنکشنل لیگ کے بانی بڑے پیر پاگارا صاحب اور مولانا نورانی دو نوں اچھے دوست تھے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی اور دیگر شکایات انتہا پر ہیں لیکن ر زمین پر اس کی سیاسی مخالفت موجود نہیں۔ 



کشمیر میں انتخابی شکست اور پنجاب سمیت باقی صوبوں میں کسی بڑی توقع نہ ہونے کے بعد پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو صوبہ ان کے ہاتھ میں ہے اس پر گرفت مضبوط کی جائے۔اسی بنیاد پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاملات اورباقی سیاست چلائی جائے۔ اس کے دو طریقے ہو سکتے تھے۔ پہلا یہ کہ براہ راست عوام سے رابطہ کیا جائے جو بھٹو اور بینظیر کا اسٹائل تھا۔ دوسرا یہ کہ electables کو قابو میں کیا جائے۔ 



پہلی صورت میں در در جا کر عوام سے رجوع کرنا اور براہ راست رابطہ کرنا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت اپنے بس میں نہیں سمجھتی۔یہ زیادہ محنت، خرچ ، برادشت کا کام ہے۔ یہ کام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹوہی کر سکتے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری ایک نئے ڈاکٹرین کے تحت 2018 کے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ ہے الیکشن بغیر اپوزیشن کے۔ یعنی جو لوگ بااثر ہیں انتخابات لڑ سکتے ہیں انہیں اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنما یہ دعوا کر رہے ہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی آج اتنی مقبول ہے جتنی بینظیر بھٹو کے دور میں بھی نہیں تھی۔ 



تحریک انصاف، نواز لیگ وغیرہ جن کا ’’ آبائی صوبہ‘‘ سندھ نہیں، سندھ میں تنظیم سازی یا پارٹی کا سرگرم وجود ان کی ترجیح نہیں۔ یہ
جماعتیں پیپلزپارٹی کے مخالف شخصیات یا انفرادی طور پر بعض افرادپر تکیہ کرتی رہیں۔لہٰذا ن وجود صوبے میں خال خال ہی ہے۔ نیتجے میں سندھ کے اس جنگل میں اب پیپلزپارٹی اکیلے شیر ہے۔ اب سندھ میں پیپلزپارٹی کی بادشاہت قائم ہو رہی ہے جس میں پارٹی کی پالیسیاں او ر حکمت عملی کے بجائے دیگر پارٹیوں کی کوتاہیوں کا عمل دخل زیادہ ہے۔ 

Saturday, August 20, 2016

Choudhry Nisar aur Nawaz league ke policy

Aug 16, 2016 Naibaat


























































































http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/236796/ch-nesar-aur-nawaz-league-key-policy 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/36171/Sohail-Sangi/Ch-Nesar-Aur-Nawaz-League-Key-Policy.aspx

Friday, August 19, 2016

جدو جہد کا دوسرا نام: کسان لیڈر ماندھل شر


جدو جہد کا دوسرا نام: کسان لیڈر ماندھل شر 

سہیل سانگی 

دو روز قبل کامریڈ ماندھل شر کے شہزادے جمال ناصر نے فیس بک پر اسٹیٹس رکھا کہ ’’ بابا کی طبیعت نازک ہے‘‘ ۔ لیکن مجھے ہمیشہ کی طرح لگا کہ ماندھل شر اس نازک حالت سے بھی نکل آئیں گے۔ کیونکہ وہ اتنا باہمت، اور بہادر تھے کہ کسی لمحے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنی آسانی سے موت انہیں اٹھا لے گی۔ ان کے حوصلے اتنے بلند ہوتے تھے کہ مایوسی ان کے نزدیک کفر تھی۔ لیکن بدھ کی دو پہر سے پرانے ساتھیوں کے موبائل فون پر پیغامات آنے لگے کہ کامریڈ ماندھل شر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ 

یہ پہلا موقعہ تھا کہ ماندھل شر کو میں نے over estimate کیا۔ ورنہ اس سے قبل کئی مرتبہ ان کی طبع کی خرابی اور آپریشن وغیرہ کے مراحل سے وہ گزرتے رہے۔ لیکن چند روز کے بعد وہ ٹھیک ہو جاتے تھے اور واپس اپنے کام میں مصروف ہو جاتے تھے۔ 



گھوٹکی اور اس کے ارد گرد کا علاقہ سرداروں کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ ماڑی گیس کے ذخائر کی دریافت بہت بعد کی بات ہے۔ اس سے پہلے یہ علاقہ کامریڈ ماندھل شر کی وجہ سے بھی مشہور ہوا۔ جو صف اول کے ہاری رہنما اور انقلابی تھے۔ ایسے انقلابی جو دنیا میں سیاست اور نظریات کی تیز طوفانوں اور چمک کی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے نظریات اور جدوجہد پر ڈتے رہے۔ 
آخری وقت تک انہوں نے اپنی آنکھوں میں آخری گھڑی تک انقلاب کے خواب سجائے رکھے تھے کہ انقلاب تو آنا ہے، تبدیلی تو آنی ہے۔ یہ سب کچھ ہمیشہ کے لئے یوں نہیں چل سکتا۔ 



ماندھل شر نے سندھ پنجاب سرحد کے قریب ڈہرکی شہر کے گاؤں کھروہی میں حر تحریک کے ایک کارکن کے گھر میں جنم لیا۔ 
ساٹھ کے عشرے میں روشن خیالی کی تحریک نے انہیں متاثر کیا۔ کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، مزدور رہنما مولابخش سے ملاقاتوں نے ان کی سیاسی کایا پلٹ دی اور وہ کمیونسٹ ہو گئے۔ 



اپنے حافظے کو آزمائش میں ڈالنے کے باوجود ٹھیک سے یاد نہیں آرہا کہ ماندھل شر سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی۔ بالکل اس طرح سے یاد نہیں کہ بعد میں کتنی ساری ملاقاتیں ہوئیں۔ 1970 کا ہی زمانہ تھا۔ جب بنگال میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ اور سندھ کے انقلابی اور جمہوری قوتیں اس آپریشن کو سیاسی غلطی قرار دے کر مخالفت کر رہی تھیں۔ 



ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت ہو یا ضیاء لاحق کی مارشل لاء یا پھر مشرف کا دور ماندھل شر جیل یا لاکپ میں ہوتے تھے یا پھر روپوش۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ہاریوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔ گڈو بیراج کی زمینیں انعام اور نیلام میں بااثر شخصیٰات کو دینے کے بجائے مقامی بے زمین ہاریوں کو دینے کی تحریک چلا رہے تھے۔ان کی جدوجہد کی حکمت عملی کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی طرح انتظامی اور عدالتی سطح پر پر بھی تھی، تو اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی تھی۔ 
انہوں نے کسانوں کو منظم یا اور احتجاج کے لئے سڑکوں پر لے آئے۔ ان کا قصور یہ بھی تھا کہ سندھ کے مجموعی حقوق کے لئے بھی برسرپیکار رہتے تھے۔ ان کا یہ بھی قصور تھا کہ ملک کی کمیونسٹ تحریک سے وابستہ تھے۔ اس طرح سے ان کے کھاتے میں ایسے کئی جرائم تھے جو عوام دوستی کے تھے۔ 



عام آدمی کے حالات زندگی تبدیل کرنے کے تھے۔ ان کے نظریات، اور سیاسی عمل نے انکو ریاست کے پاس ’’ ہسٹری شیٹر‘‘ بنا دیا تھا کہ جب بھی کہیں کوئی جمہوری تحریک یا کسانوں، مزدوروں یا طلبہ کی تحریک چلتی تھی پولیس سب سے پہلے انہیں ہی پکڑنے آتی تھی۔
 یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہس پولیس کے اس تحرک کے بعد انہیں پتہ چلتا تھا کہ کہیں کوئی تحریک اٹھ رہی ہے۔



انہوں نے مسلسل حکمران طبقے کے جبر، تشدد کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا۔ اور خود کو منوایا۔ نہ کبھی اپنا سر جھکایا اور نہ کبھی اپنے ساتھیوں کا سر نیچے ہونے دیا۔ اور یہ بھی کہ ان اپنی ساتھیوں کی اس طرح سے’’ خبر گیری‘‘ کی جس طرح سے بعض نے سیاسی کارکن گرفتاری کے بعد پورے کام اور اپنے نیٹ ورک کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ 
سندھ کے تمام بڑے جیل، لاکپ، اور اذیت گاہوں کی وہ کئی مرتبہ یاترا کر چکے تھے اور ہر مرتبہ سرخرو ہو کر آتے تھے۔ 



انہیں جیل، لاکپ، اور اذیت گاہوں میں گزارنے کا آرٹ آچکا تھا۔ جیل ہو یا لاک اپ یا اذیت گاہ وہ ضرورت پڑنے پر بھوک ہڑتال بھی کر تے تھے۔ یہ آرٹ صرف ان کو ہی نہیں ان کے اہل خانہ نے بھی سیکھ لیا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے مشکل اور طویل جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو یہ آرٹ سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ حالات کہ گھر کے کامنے والے کی گرفتاری کے بعد حالات کا کس طر ح مقابلہ کرنا ہے۔ قید ی کی ضروریات، ملاقات کا بندوبست اور اس کو سامان کی راسئی کس طرح کرنی ہے۔ وغیرہ۔ 



بڑی بات یہ بھی تھی کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں ، ماندھل شر خواہ بہت خراب حالت میں ہوں انہوں نے دوستوں سے نہ کبھی شکوہ کیا کہ انہوں نے مشکل وقت میں خبر نہیں لی۔ 



دو تین سال پہلے ایک ملاقات میں ہم لوگ ماضی کے جھروکوں میں پہنچ کر گپ شپ کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ دوران قید و بند کبھی ساتھیوں سے شکایت کیوں رہی؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ کر رہا تھا یا اب کر رہا ہوں وہ اس لئے کہ میں اس کو ٹھیک اور درست سمجھتا ہوں۔ اور اپنے عمل اور نظریے سے مطمئن ہوں۔ یہ کام کرنے کا میرا اپنا فیصلہ ہے۔ کسی کے کہنے پر نہیں مطمئن ہو کر کر رہا ہوں۔ اپنا فرض سمجھ کر۔ کسی پراحسان سمجھ کر نہیں۔ اگر ایسے میں سر پر آ جائے تو خود کو ہی نبھانا چاہئے۔ 



ان کے ان الفاظ سے مجھے یہ بات سمجھ میں آئی وہ کیوں اتنی بہادری سے جدوجہد کرتے تھے۔ اور مطمئن رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص کی طبیعت کو سمجھنا ہو تو اس کے ساتھ جیل یا ریل کا سفر کرو۔ اس شخص میں عزت نفس اور بلا کی خود داری تھی۔ جس کا مشاہدہ ان کے ساتھ سیاسی کام کرتے وقت بھی ہوا۔ ایم آرڈی تحریک کے دوران جب وہ سینٹرل جیل کراچی منتقل ہوئے تو چند ہفتے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا۔ تب ان کی ذاتی صفات ار بردباری کا مزید مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا۔ 



اپنی جدوجہد اور صحیح راہ پر ہونے کا انہیں پختہ یقین تھا۔ شروع سے ہی وہ جس انقلابی جتھے کے ساتھ جڑے اس کے ساتھ آخر دم تک رہے۔ ایک سچے انقلابی اور کمیونسٹ کے طور پر ان کے کمینٹمنٹ میں کبھی لرزش یا کمی نظر نہیں آئی۔ 



ماڑی گیس انتظامیہ اور مقامی آبادی اور کسانوں کے درمیان تنازع کو کامریڈماندھل شر نے ایک تحریک میں تبدیل کر دیا۔ کئی روز تک کی جدوجہد کے بعد ضلع حکومت نے ثالثی کی اور باضابطہ تحریک چلانے والوں اور ماڑی گیس انتظامیہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا۔ 



اس تحریک کی کامیابی کے چند روز بعد جب میں اس تحریک کا مطالعہ کرنے کے لئے ڈہرکی پہچا اور پھر ماندھل کے آبائی گاؤں کھروہی اور دیگر دیہات میں گیا۔ تو ماندھل نے مجھے وہ تمام مقامات دکھائے جہاں پولیس اور کسانوں کا مقابل ہوتا رہا۔ وہ لوہے کی پل بھی دکھائی، جس کو شر قبیلے کی خواتین نے خاص طور پر اسٹالن گراڈ بنا دیا تھا۔ اور پولیس کی پیش رفت روک دی تھی ۔



انہوں نے اس تحریک کے دوران پولیس کی پیشگی اطلاع کے کمیونیکیشن سسٹم بھی سمجھایا کہ کس طرح سے مستری مارکہ ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے گاؤں والوں کو پولیس کی آمد کی پیشگی اطلاع ملتی تھی۔ 
مقامی طور پر پندرہ سو دو ہزار روپے میں مقامی مستری ایسا ریڈیو سسٹم بنا دیتے تھے جس کی نشریات ڈیڑھ دو میل تک سنی جا سکتی تھی۔ یہ اس دور میں ڈہرکی اور دیگر علاقوں میں معمول تھا۔ 
اس سسٹم پر لوگ گانے اور تفریحی پروگرام بھی پیش کرتے تھے۔ 



یہ سب دیکھ کر میں خود کو ایک مختلف دنیا میں محسوس کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا:’’ کامریڈ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اس طرح بھی لڑنا جانتے ہو؟‘‘ انہوں نے قہقہ لگایا اور کہا کہ کامریڈ یہ بات آپ مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ سائیں! اگر آپ کو پیچھے دھکیل دیا جائے اور مجبور کیا جائے تو آپ کے پاس اپنی بقا کے لئے لڑنے کے علاوہ کیا آپشن ہے؟ ہم تو اپنی بقا کے لئے اپنے وسائل اور حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ آپ ہمیں دیں، تو ہمیں کیا پڑی ہے لڑنے کی‘‘۔ 

کامریڈ ماندھل کی بات اتنی بھاری تھی کہ جس نے مجھے چپ کرادیا۔ 



پانچ سال قبل ان سے حیدرآباد میں ملاقات ہوئی۔ وہ سندھ کی مختلف تیل اور گیس کی فیلڈز میں کسانوں اور مقامی آبادی کے حقوق کے حوالے سے بھرپور تحریک چلانے کے لئے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ باقی مقامات تو ٹھیک ہیں دادو والے لوگ مجھے سمجھ میں نہیں آئے۔ 



ماندھل شر کے پاس بہت بڑا اور مختلف نوع کا جدوجہد کرنے کا تجربہ تھا۔ ان کے پاس سندھ کی انقلابی تحریک کی تاریخ کے بارے میں بھی بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ آخری دو تین ملاقاتوں میں میں نے ان سے فرمائش کی کہ آپ اپنی یادشتیں لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ لکھنا لکھانا آپ لوگوں کا کام ہے۔ ہم اگر اس کام میں لگ جائیں گے تو فیلڈ میں سیاسی کام کون کرے گا۔ 



میرے ضد پر انہوں نے کہا کہ ہم تو بڑا ٹیڑھا میڑا لکھیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ لکھیں یہ وعدہ ہے کہ میں اسکو’’ سیدھا‘‘ کر دوں گا۔ پھر ایک روز ہم نے ایک خاکہ بھی بنایا کہ وہ اپنی یادیں کس طرح لکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے لکھا ضرور ہوگا۔ لیکن ان کی کوئی تحریر ’’سیدھا‘‘ کرنے کے لئے مجھ تک نہیں پہنچی۔ 



چند ماہ قبل فیس بک پر پڑھا کہ ماندھل شر پانی کی قلت کے خلاف کسانوں اور کاشتکاروں کے ساتھ ملکر دھرنا دے رہے ہیں۔ 
مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی ان کی طبیعت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہوگی۔ لیکن جب تک جان میں جان ہے باقی کے بقول وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے مصروف رہے۔ 



چھوٹے قد کے اس بڑے آدمی کی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ ہمالیہ کی طرح بہت قدآور لگتا ہے جو نہ کبھی جھکا نہ سودے بازی کی اور نہ کبھی تھکاوٹ دکھائی۔ زندگی کی آخری گھڑی تک ان خابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے لڑتے رہے۔ ماندھل شر نہیں بلکہ سراپا جدوجہد تھے۔


http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/237027/kisan-leader-mandhal-shar-jadojehad-ka-dausra-naam 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/36285/Sohail-Sangi/Kisan-Leader-Mandhal-Shar-Jadojehad-Ka-Dausra-Naam.aspx 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-08-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

Tuesday, August 2, 2016

مراد علی شاہ سندھ میں کیا معجزہ دکھائیں گے؟


 مراد علی شاہ سندھ میں کیا معجزہ دکھائیں گے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
 سندھ میں نئے ویزراعلیٰ کے انتخاب کے بعد نئی کابینہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ نو رکنی کابینہ میں سات پرانے اور صرف دو نئے چہرے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چار مشیر بھی نامزد کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے صاف ستھرا کراچی شہر، سر سبز تھر اور محفوظ سندھ کا ایک خوبصورت نعرہ دیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے انتخاب کے بعد یہ کہا تھا کہ تعلیم، صحت اور امن ومان ان کی ترجیحات ہونگے۔ 
وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ترجیحات اور عزم واقعی قابل تحسین ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے یہ اہداف اس کابینہ کے ساتھ پورے کرنے میں کامیاب ہونگے؟ وہ کیا رکاوٹیں تھیں جن کی وجہ سے یہی کابینہ کے اراکین سید قائم علی شاہ کی قیادت میں پوری نہ کر سکے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سندھ میں بحث ہو رہی ہے۔ 
 نئی کابینہ میں جام مہتاب ڈہر کو تعلیم کا قلمدان دیا گیا ہے جو پہلے نثار احمد کھڑو کے پاس تھا۔ جام مہتاب پہلے وزیر صحت رہے ہیں۔ ان کے ہی دور میں تھر میں بچوں کی اموات واقع ہوتی رہیں، خسرے کی بیماری صوبے کے بعض علاقوں میں وبائی شکل اختیار کر گئی۔ بعض ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بوریاں بھر بھر کے مختلف ادویات اس وجہ سے پھینکی گئیں کہ وہ استعمال نہیں ہو سکیں۔ صوبے میں ہیپٹائٹس کی بیماری کا تناسب کئی گنا بڑھ گیا۔رواں سال جنوری میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں تیس لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

 صوبے کی مختلف بڑی ہسپتالوں میں وقتا فوقتا بدنظمی کی بڑے پیمانے پر شکایات آتی رہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈ یکل عملے کی کمی رہی ، جسے محکمہ صحت پورا نہیں کر سکا۔ صرف ڈاکٹروں کی ہزاروں میں منظور شدہ اسامیاں خالی رہیں۔ جب کہ نئے ہسپتال کھولنا یا موجود ہسپتالوں کو اپگریڈ کرنا دور کی بات ہے۔ ڈاکٹروں کی ہسپتالوں میں حاضری اور صحیح معنوں میں فرائض کی ادائگی بھی سوالیہ نشانی بنی رہی۔ یہ سوالات اپنی جگہ پر ہیں ۔ ممکن ہے کہ نئے وزیراعلیٰ نے جام مہتاب ڈہر میں کوئی ایسی خصوصیت اور صلاحیت دیکھی ہو کہ ان کے حوالے ایک صحت جیسا ہی حساس شعبہ سپرد کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا نیٹ ورک اور ملازمین کی تعداد وغیرہ محکمہ صحت سے کہیں زیادہ ہے۔

 محکمہ تعلیم غیر حاضر اساتذہ کی وجہ سے خاصا بدنام رہا ہے۔ اس محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مختلف سرکاری احکامات و ہدایات ناکام رہین ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ عدلیہ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی اور ججوں نے اسکولوں پر چھاپے بھی مارے لیکن سب کچھ لاحاصل رہا۔ ان کی محکمہ صحت کی کارکردگی کو ایک طرف رکھ کردیکھنا یہ ہے کہ نیا وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کس طرح سے سندھ میں تباہ شدہ تعلیم کو صحیح راہ پر لاتا ہے۔

 محکمہ صحت ڈاکٹر سکندر مندھرو کو دیا گیا ہے۔ مندھرو پارٹی کے پرانے جیالے ہیں اور طویل عرصہ تک بیرون ملک اپنے پشے سے متعلق ملازمت کرے رہے اور کوئی دس سال پہلے واپس وطن آئے ہیں۔ وہ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر پارلیمانی امور رہے۔ جہاں پر ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں رہی۔ کیونکہ ایوان کو سنبھالنے کے لئے اور ایوان کا بزینس چلانے کے لئے سکی زیادہ مستعد شخص کی ضرورت تھی۔ 
ایوان میں صرف چند اسمبلی ممبران اور طے شدہ کارروائی کو ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ان کو اب محکمہ صحت دیا گیا ہے، جہاں زیادہ مستعدی کی ضرورت ہے۔ یہاں صرف ملازمین اور صحت سے متعلق اداروں کا بہت بڑا نیت ورک ہی نہیں بلکہ یہ محکمہ براہ راست ”پبلک ڈیلنگ“ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس محکمہ کے لئے ڈاکٹر مندھرو جیسے بزرگ کے انتخاب سے نہیں لگتا کہ صورتحال میں کوئی بہتری آئے گی۔ 

نثار احمد کھڑو ایک اچھے پارلیمنٹرین اور تجربیکار سیاستدان رہے ہیں۔ ان کو پارلیمانی امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔ یہ انتخاب صحیح لگتا ہے۔ کھڑو صاحب کو اس کے ساتھ محکمہ خوراک بھی دیا گیا ہے۔ 

 نئی کابینہ میں محکمہ زراعت کا قلمدان سابق وزیر داخلا سہیل انور سیال کے حوالے کیا گیا ہے۔ جولائی کے وسط میں رینجرز کے ساتھ صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ انہیں قرار دیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی مارکیٹ میں یہ بات گرم تھی کہ انہیں نئی کابینہ میں نہیں لیا جائے گا۔ لیکن وہ اتنے بااثر ثابت ہوئے کہ کابینہ کے رکن بن گئے۔ یہاں تک کہ میڈیا کے سوالات پر وزیراعلی سید مراد علی شاہ ے یہ کہہ کر ان کا دفاع کیا کہ کارکردگی کی وجہ سے انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سیال صاحب کی کارکردگی اتنی ہی اچھی تھی تو انہیں محکمہ داخلا کا قلمدان کیوں نہیں دیا گیا؟ زراعت وہ شعبہ ہے جس پر پوری توجہ نہ دینے کی وجہ سے گزشتہ سال ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں کمی رونما ہوگئی تھی۔ اسی شعبے کے زوال کی وجہ سے اندرون سندھ غربت میں اضافہ وہ رہا ہے۔ 

سنیٹر غنی سعید کو محکمہ محنت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا اس محکمے کے حوالے سے پس من نظر بھی ہے۔ یہ شعبہ بھی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ سوشل ویکیورٹی سے لیکر ملازمین کے حالات کار اور تنخواہوں کے تعین تک، اور سماجی تحفظ کے اداروں کے غیر سرگرم ہونے کی وجہ سے محنت کشوں کو نہ تحفظ ہے اور نہ سہولیات حاصل ہیں یہاں تک کہ مروجہ قوانین پر بھی عمل نہیں ہوتا۔غیر ہنرمند مزدور کی تنخواہ سرکاری طور پر تیرہ ہزار وپے ہے لیکن نجی شعبے میں سات ہزار سے دس ہزار روپے تک بمشکل ملتی ہے۔ نجی شعبے میں یونین سازی عملا ختم ہے۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کی سودے کاری کی قوت ختم ہوگئی ہے۔ غنی سعید سرگرم شخص ہے۔ وہ اگر اس ضمن میں سو چار قدم بھی آگے بڑھائیں گے تو صوبے میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کا بھلا ہوگا۔ 

کابینہ میں ایک نیا چہرہ سید سردار علی شاہ بھی ہیں۔ عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار شاہ نوجوان اور علمی اور ادبی حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں سیاحت اور ثقافت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے وہ اس شعبے میں عملی طور پر کارکردگی دکھائیں گے۔ سندھ میں سیاحت کے درجوں مقامات کے باوجود ان کی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ یہ شعبہ ان کی دلچسپی کے حوالے سے مناب لگتا ہے۔ 

سابق وزیر بلدیات جام شورو کو واپس بلدیات کا ہی محکمہ دیا گیا ہے۔ گزشتہ بروسوں میں صوبے کے شہروں میں صفائی، سیوریج وغیرہ کی صورتحال بہت ہی خراب رہی ہے۔ چھوٹے خواہ بڑے شہر کھنڈرات کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں گھپلوں کی بھی خبریں آتی رہی ہیں۔ بلدیاتی ادروں میں اب انتخابات ہو چکے ہیں ان کے چیئرمین وغیرہ کے انتخابات باقی ہے۔ جام شورو گزشتہ تین سال میں شہروں کو چکھ نہیں دے سکے ہیں۔ ممکن ہے باقی دو سال میں وہ کچھ کارکردگی دکھائیں۔ 

 مجموعی طور پر نئی سندھ کابینہ میں ماسوائے وزیراعلیٰ کے عزم اور نعرے کے کچھ بھی نیاپن نہیں۔ 

تعجب کی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو آٹھ سال کے بعد خیال آیا کہ صوبے میں معاملات صحیح نہیں چل رہے ہیں اور اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ لیکن اس اصلاح اس پورے کلچر کو ختم کئے بغیر ممکن نہیں جو گزشتہ آٹھ سال کے دوران پلتا رہا اور اب پل کر بڑا ہو چکا ہے۔ اس کلچر کو اس پرانی ٹیم کے ذریعے ختم کرنا ایک بڑا چیلینج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سید مراد علی شاہ اس ٹیم کے ذریعے کیا معجزہ دکھاتے ہیں۔
 http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/02-08-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx


سندھ میں کاسمیٹک تبدیلی


نئی بات 
سندھ میں کاسمیٹک تبدیلی 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بالآخر پیپلزپارٹی نے سندھ میں ویزراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ جہاں تین سال رواں مدت اور پانچ سال گزشتہ دور کی مدت کل آٹھ سال عہدہ رکھنے والے سید قائم شاہ کو وزارت اعلیٰ سے الگ کیا جارہا ہے۔ اور ان کی جگہ پر جن شخصیات کے نام لئے جارہے ہیں ان میں صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کا نام بھاری ہے۔ سید مراد علی شاہ سابق وزیراعلیٰ سید عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں۔ ان کو سید لابی اور بلاول بھٹو دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ سندھ کے اقتداری ایوان میں سید لابی اپنا اثر رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پارٹی نے سید مراد علی شاہ کا نام فائنل کیا تو انہوں نے دبئی میں موجود پیر پاگارا سے ملاقات کی اور ”آشیرواد“ لی۔

 مراد علی شاہ کا نام اچانک سامنے نہیں آیا۔ان کا نام 2008 کے انتخابات کے بعد مسلسل لسٹ پر رہا ہے۔ لیکن سید قائم علی شاہ کا سیاسی تجربہ، بھٹو دور سے پارٹی سے وابستہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کے اندر نچلی سطح پر ان براہ راست جان پہچان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرادعلی شاہ کے پاس دہری شہریت رکھنے کا معاملہ تھا۔

 ان کی دہری شہریت کا معاملہ طے ہونے کے بعد سندھ میں جب بھی سیاسی یا انتظامی بحران آیا تو سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی تجاویز سامنے آتی رہی۔ تھر میں قحط کے سوال پر کم از کم تین مرتبہ ان کو ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ قحط کی معاملے پرصورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ سید قائم علی شاہ کو سندھ کے بااثر مخدوم خاندان کے دو افراد کو وزیر بحالیات مخدوم جمیل الزماں اور ڈی سی او تھر مخدوم عقیل الزماں کو معطل کرنا پڑا۔ اس سے پارٹی میں بحران پیدا ہو گیا۔ اور پارٹی کے وائیس چیئرمین مخدوم امین فہیم جو اس وقت بقید حیات تھے ان کو کھلے عام اپنی ناراضگی کا اعلان اور اظہار کرنا پڑا۔تب خود وزیراعلیٰ کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

 بعد میں آصف زرادری بیچ میں آئے ، اور سید قائم علی شاہ مخدوم صاحب کے پاس پہنچ گئے اور یوں معافی تلافی ہوگئی۔ لیکن مخدوم خاندان کی یہ ناراضگی عملی طور پر آج تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح تھر میں قحط کا مسئلہ اور ہاں ایسے اقدامات کرنا جو پائدار ترقی کا سب بنیں ان کا بھی آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ 

حکومت گزشتہ تین سال سے تھر میں بعض امدادی کاررویاں تو کر رہی ہے لیکن باضابطہ قحط کا اعلان نہیں کر رہی ہے۔شاید اس لئے کہ ایسا کرنے سے منطقی امر یہ بنے گا کی قحط 2013 سے موجود ہے جس کے لئے بروقت اقدامات نہیں کئے گئے۔ یوں بات واپس مخدوم خاندان کے خلاف چلی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہاپنی ہی قائم کردہ آٹھ کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹس اور ان کی سفارشات کے باوجود تھر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اسی طرح سے سیلاب، صوبے میں خسرے کی بیماری پھیلنے کے موقعہ پر قائم علی شاہ سخت دباﺅ میں رہے۔

 2012-13 میں صوبے کے تعلیم، صحت، بلدیات، پولیس، اطلاعات سمیت مختلف محکموں میں ہزاروں میں بھرتیاں کی گئیں۔ جن میں سے بیشتر بھرتیاں بعد میں غیر قانونی قرار پائیں۔یا بعض کا معاملہ ابھی تک عدلیہ یا تحقیقات کے مرحلوں میں لٹکا ہوا ہے۔ یہ بھرتیاں اور تقرر و تبادلے مبینہ طور پر پیسوں کے عوض یا سیاسی سفارشوں پر کی گئیں۔ یہی صورتحال مختلف چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبوں ، بدلیاتی اداروں کو ماہانہ باقاعدگی سے ملنے والی رقومات کے حوالے سے بنی۔ اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کو اکثر بھرتیوں کا پتہ ہی نہیں تھا۔ ”صوبے میں ہر جگہ پر کرپشن ہے“ کی بحث عام ہوگئی۔ 

قائم علی شاہ کو نئی مدت کے شروع ہوتے ہی بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ وفاق نے کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔
 وزیراعظم نواز شریف بعض اہم وفاقی کابینہ کے اراکین اور عسکری اداروں کے ساتھ کراچی پہنچے اور سندھ حکومت سے آپریشن کرنے پر آمادہ کر لیا۔ بظاہر قائم علی شاہ کو آپریشن کا کپتان بنایا گیا لیکن عملاآپریشن شروع ہوتے ہی ان کی حکومت کی صوبے میں رٹ کمزور ہونا شروع ہوئی۔ 

صورتحال اس وقت گمبھیرہوئی جب اس کرپشن کا رینجرز ، نیب، ایف آئی اے نے نوٹس لیا۔ اور وائیٹ کالر جرائم کو دہشتگردی سے جوڑ کر سرکاری دفاترپر چھاپے مارنے اور گرفتاریوں کی کارروائیاں شروع کیں۔ نتیجے میں ایک درجن سے زائد اعلیٰ افسران یا تو بیرون ملک چلے گئے یا انہوں نے ہائی کورٹ سے ضمانتیں کرالیں۔ 
ایک ماہ کے لگ بھگ ایسا بھی گزرا کہ سندھ حکومت کی معمول کی کارگزاری معطل رہی۔ سندھ حکومت کے بعض وزراءنے ان کارروائیوں کو سندھ پر وفاقی حکومت کے حملہ کے مترادف قرار دیا۔

 آصف علی زرادری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم، عذیر بلوچ اور بعض افسران کی گرفتاری، شرجیل میمن سمیت چار وزراءکی گرفتاری کے خطرے نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ۔ سید قائم علی شاہ کی حکومت بیانات دیتی رہی، لیکن عملا ان کاررائیوں کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

 پیپلزپارٹی نے وزیراعظم نواز شریف پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے کوئی مدد کرنے سے بے بسی اور معذرت کا اظہار کردیا۔ یہاں سے پیپلزپارتی نے وفاق میں نواز حکومت کی کھل کر مخالفت کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ دھرنے لگانے والے عمران خان کے ساتھ جا کر کھڑی ہوئی۔ اس حکمت عملی نے پیپلزپارٹی کو فائدہ پہنچایا۔ کیونکہ وزیراعظم نواز شریف پنامالیکس کی وجہ سے سخت دباﺅ میں آگئے تھے۔ 

 پیپلزپارٹی انتظار میں تھی کہ رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سامنے آئے۔ گزشتہ سال دسمبر میں یہ موقعہ آ ہی گیا اور سندھ حکومت نے اختیارات میں توسیع کے بجائے معاملہ کو اسمبلی میں لے گئی اور ایک قراداد کے ذریعے رینجرز کے اختیارات کم کرنے کی سفارش کی اور بعض یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد اختیارات کی مدت میں توسیع کردی۔ 

رواں ماہ کی 19 تاریخ کو صورتحال مزید پیچدہ ہوگئی۔ کیونکہ صرف رینجرز کو آپریشن کے بعد دیئے گئے اختیارات میں توسیع کی مدت ہی نہیں بلکہ نوے کے عشرے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب کردہ رینجرز کی صوبے میں تعینات کی مدت بھی ختم ہو رہی تھی۔ لہٰذا یہ تنازع شدید ہو گیا۔

بعض وفاقی اداروں کی جانب سے صوبائی کابینہ کے ایک بااثر رکن وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی تبدیلی ایک عرصے سے تقاضا کیا جارہا تھا۔ رینجرز نے اختیارات ختم ہونے سے دو چار روز پہلے ان کے قریبی ساتھیوں میں ہاتھ ڈالا۔ اور لاڑکانہ میں ان کے رہائشگاہ کا محاصرہ کیا۔یوں رینجرز اور سندھ حکومت دونوں آمنے سامنے آگئیں۔ اور سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا معاملہ آخری موڑ پر پہنچ گیا۔ 

 تعلیم، امن و مان، تقرر تبادلوں کے معاملات سپریم کورٹ تک گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں امن و امان کی بدترین صورتحال رہی، 2010 اور 2011 کے سیلاب ، تھر میں قحط، تعلیم کی تباہی اور ہر محکمے میں کرپشن، غلط بھرتیوں نے گورننس کے سوال میں اتنی شدت پیدا کردی تھی کہ ہر چیز ” ٹاک آف دی ٹاﺅن“ بن گئی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت کچھ تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس میں سائیں قائم علی شاہ کا قصور کم اور قیادت کی براہ راست مداخلت اور ہر چیز کی اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی ہو رہی تھی ، ایم پی ایز کو بجائے وزیراعلیٰ ڈیل کرتے پارٹی کی قیادت ہی دیکھ رہی تھی۔

 وزراءاور ایم پی ایز کے قریبی رشتہ داروں یا فیورٹ افسران کی اہم عہدوں پر فائز اچھی خاصی موجودگی ہے، جن کو نہ کوئی وزیر اور یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ معاملات نہ سید قائم علی شاہ کے بس میں تھے نہ اختیار میں۔ 

ان سب چیزوں کے باوجود پیپلزپارٹی نے تب تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جب خود اس کو سر پر پڑی ہے۔ اس سے پہلے وہ کسی طور پر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ یہ درست ہے کہ قائم علی شاہ حکومت نے قانون سازی سب سے زیادہ کی۔ لیکن اصل معاملہ نئے خواہ پرانے قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ جس سے گورننس اور کارکردگی ناپی جاسکتی ہے۔ ان معاملات میں چیزیں صرف کے برابر رہیں۔ 
پنجاب اور دیگر صوبوں میں 2013 کے انتخابات میں واژ ہو انے کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے موقعہ تھا کہ سندھ میں اپنی حکومت کی موجودگی میں کارکردگی دکھاتی۔ اور اس کے ذریعے ملک بھر میں ساکھ بناتی۔ لیکن پارٹی کے لئے یہ سبق ناکافی تھا۔ وہ نہیں سیکھ پائی۔ صورتحال یہاں تک چلی گئی کشمیر بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں پارٹی نے پہلا الیکشن لڑا اور ہار گئی۔ پیپلزپارٹی کے پاس کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کو دینے یا دکھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ 

کیا پیپلزپارٹی سندھ میں واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہ رہی ہے؟ موجودہ صورتحال میں مشکل لگتا ہے کہ صرف وزیراعلیٰ تبدیل کرنے کچھ تبدیل ہوگا۔ سائیں قائم علی شاہ کی ایک طرح سے قربانی دی جارہی ہے کہ ان کی وجہ سے بہت ساری چیزیں نہیں ہو سکیں۔ اور ان کے کھاتے میں سب ” برائیاں“ لکھنے کی کوشش کرے۔ 

سچ تو یہ ہے کہ چاچا قائم علی شاہ جو کچھ کر رہے تھے، یا جو کچھ نہ بھی کر رہے تھے وہ پارٹی قیادت کی ہدایات اور منظور ی کے تحت ہی کر رہے تھے۔ سید مراد علی شاہ سندھ کابینہ کے اہم رکن رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی مختلف فیصلوں پر اثرنداز ہوتے رہے ہیں۔ نئی کابینہ میں سوائے قلمدانوں کی تبدیلی کے ایک آدھ کو چھور کر وہی وزراءشامل ہونگے جو پہلے بھی موجود تھے۔ پارٹی قیادت کی اپروچ اور صوبے میں موجود حقائق کو تسلیم کرنے اور وزیراعلیٰ کو بااختیار بنائے بغیر یہ کاسمیٹک تبدیلی ہوگی۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/26-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg