Tuesday, August 2, 2016

مراد علی شاہ سندھ میں کیا معجزہ دکھائیں گے؟


 مراد علی شاہ سندھ میں کیا معجزہ دکھائیں گے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
 سندھ میں نئے ویزراعلیٰ کے انتخاب کے بعد نئی کابینہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ نو رکنی کابینہ میں سات پرانے اور صرف دو نئے چہرے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چار مشیر بھی نامزد کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے صاف ستھرا کراچی شہر، سر سبز تھر اور محفوظ سندھ کا ایک خوبصورت نعرہ دیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے انتخاب کے بعد یہ کہا تھا کہ تعلیم، صحت اور امن ومان ان کی ترجیحات ہونگے۔ 
وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ترجیحات اور عزم واقعی قابل تحسین ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے یہ اہداف اس کابینہ کے ساتھ پورے کرنے میں کامیاب ہونگے؟ وہ کیا رکاوٹیں تھیں جن کی وجہ سے یہی کابینہ کے اراکین سید قائم علی شاہ کی قیادت میں پوری نہ کر سکے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سندھ میں بحث ہو رہی ہے۔ 
 نئی کابینہ میں جام مہتاب ڈہر کو تعلیم کا قلمدان دیا گیا ہے جو پہلے نثار احمد کھڑو کے پاس تھا۔ جام مہتاب پہلے وزیر صحت رہے ہیں۔ ان کے ہی دور میں تھر میں بچوں کی اموات واقع ہوتی رہیں، خسرے کی بیماری صوبے کے بعض علاقوں میں وبائی شکل اختیار کر گئی۔ بعض ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بوریاں بھر بھر کے مختلف ادویات اس وجہ سے پھینکی گئیں کہ وہ استعمال نہیں ہو سکیں۔ صوبے میں ہیپٹائٹس کی بیماری کا تناسب کئی گنا بڑھ گیا۔رواں سال جنوری میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں تیس لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

 صوبے کی مختلف بڑی ہسپتالوں میں وقتا فوقتا بدنظمی کی بڑے پیمانے پر شکایات آتی رہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈ یکل عملے کی کمی رہی ، جسے محکمہ صحت پورا نہیں کر سکا۔ صرف ڈاکٹروں کی ہزاروں میں منظور شدہ اسامیاں خالی رہیں۔ جب کہ نئے ہسپتال کھولنا یا موجود ہسپتالوں کو اپگریڈ کرنا دور کی بات ہے۔ ڈاکٹروں کی ہسپتالوں میں حاضری اور صحیح معنوں میں فرائض کی ادائگی بھی سوالیہ نشانی بنی رہی۔ یہ سوالات اپنی جگہ پر ہیں ۔ ممکن ہے کہ نئے وزیراعلیٰ نے جام مہتاب ڈہر میں کوئی ایسی خصوصیت اور صلاحیت دیکھی ہو کہ ان کے حوالے ایک صحت جیسا ہی حساس شعبہ سپرد کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا نیٹ ورک اور ملازمین کی تعداد وغیرہ محکمہ صحت سے کہیں زیادہ ہے۔

 محکمہ تعلیم غیر حاضر اساتذہ کی وجہ سے خاصا بدنام رہا ہے۔ اس محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مختلف سرکاری احکامات و ہدایات ناکام رہین ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ عدلیہ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی اور ججوں نے اسکولوں پر چھاپے بھی مارے لیکن سب کچھ لاحاصل رہا۔ ان کی محکمہ صحت کی کارکردگی کو ایک طرف رکھ کردیکھنا یہ ہے کہ نیا وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کس طرح سے سندھ میں تباہ شدہ تعلیم کو صحیح راہ پر لاتا ہے۔

 محکمہ صحت ڈاکٹر سکندر مندھرو کو دیا گیا ہے۔ مندھرو پارٹی کے پرانے جیالے ہیں اور طویل عرصہ تک بیرون ملک اپنے پشے سے متعلق ملازمت کرے رہے اور کوئی دس سال پہلے واپس وطن آئے ہیں۔ وہ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر پارلیمانی امور رہے۔ جہاں پر ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں رہی۔ کیونکہ ایوان کو سنبھالنے کے لئے اور ایوان کا بزینس چلانے کے لئے سکی زیادہ مستعد شخص کی ضرورت تھی۔ 
ایوان میں صرف چند اسمبلی ممبران اور طے شدہ کارروائی کو ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ان کو اب محکمہ صحت دیا گیا ہے، جہاں زیادہ مستعدی کی ضرورت ہے۔ یہاں صرف ملازمین اور صحت سے متعلق اداروں کا بہت بڑا نیت ورک ہی نہیں بلکہ یہ محکمہ براہ راست ”پبلک ڈیلنگ“ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس محکمہ کے لئے ڈاکٹر مندھرو جیسے بزرگ کے انتخاب سے نہیں لگتا کہ صورتحال میں کوئی بہتری آئے گی۔ 

نثار احمد کھڑو ایک اچھے پارلیمنٹرین اور تجربیکار سیاستدان رہے ہیں۔ ان کو پارلیمانی امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔ یہ انتخاب صحیح لگتا ہے۔ کھڑو صاحب کو اس کے ساتھ محکمہ خوراک بھی دیا گیا ہے۔ 

 نئی کابینہ میں محکمہ زراعت کا قلمدان سابق وزیر داخلا سہیل انور سیال کے حوالے کیا گیا ہے۔ جولائی کے وسط میں رینجرز کے ساتھ صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ انہیں قرار دیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی مارکیٹ میں یہ بات گرم تھی کہ انہیں نئی کابینہ میں نہیں لیا جائے گا۔ لیکن وہ اتنے بااثر ثابت ہوئے کہ کابینہ کے رکن بن گئے۔ یہاں تک کہ میڈیا کے سوالات پر وزیراعلی سید مراد علی شاہ ے یہ کہہ کر ان کا دفاع کیا کہ کارکردگی کی وجہ سے انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سیال صاحب کی کارکردگی اتنی ہی اچھی تھی تو انہیں محکمہ داخلا کا قلمدان کیوں نہیں دیا گیا؟ زراعت وہ شعبہ ہے جس پر پوری توجہ نہ دینے کی وجہ سے گزشتہ سال ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں کمی رونما ہوگئی تھی۔ اسی شعبے کے زوال کی وجہ سے اندرون سندھ غربت میں اضافہ وہ رہا ہے۔ 

سنیٹر غنی سعید کو محکمہ محنت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا اس محکمے کے حوالے سے پس من نظر بھی ہے۔ یہ شعبہ بھی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ سوشل ویکیورٹی سے لیکر ملازمین کے حالات کار اور تنخواہوں کے تعین تک، اور سماجی تحفظ کے اداروں کے غیر سرگرم ہونے کی وجہ سے محنت کشوں کو نہ تحفظ ہے اور نہ سہولیات حاصل ہیں یہاں تک کہ مروجہ قوانین پر بھی عمل نہیں ہوتا۔غیر ہنرمند مزدور کی تنخواہ سرکاری طور پر تیرہ ہزار وپے ہے لیکن نجی شعبے میں سات ہزار سے دس ہزار روپے تک بمشکل ملتی ہے۔ نجی شعبے میں یونین سازی عملا ختم ہے۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کی سودے کاری کی قوت ختم ہوگئی ہے۔ غنی سعید سرگرم شخص ہے۔ وہ اگر اس ضمن میں سو چار قدم بھی آگے بڑھائیں گے تو صوبے میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کا بھلا ہوگا۔ 

کابینہ میں ایک نیا چہرہ سید سردار علی شاہ بھی ہیں۔ عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار شاہ نوجوان اور علمی اور ادبی حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں سیاحت اور ثقافت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے وہ اس شعبے میں عملی طور پر کارکردگی دکھائیں گے۔ سندھ میں سیاحت کے درجوں مقامات کے باوجود ان کی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ یہ شعبہ ان کی دلچسپی کے حوالے سے مناب لگتا ہے۔ 

سابق وزیر بلدیات جام شورو کو واپس بلدیات کا ہی محکمہ دیا گیا ہے۔ گزشتہ بروسوں میں صوبے کے شہروں میں صفائی، سیوریج وغیرہ کی صورتحال بہت ہی خراب رہی ہے۔ چھوٹے خواہ بڑے شہر کھنڈرات کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں گھپلوں کی بھی خبریں آتی رہی ہیں۔ بلدیاتی ادروں میں اب انتخابات ہو چکے ہیں ان کے چیئرمین وغیرہ کے انتخابات باقی ہے۔ جام شورو گزشتہ تین سال میں شہروں کو چکھ نہیں دے سکے ہیں۔ ممکن ہے باقی دو سال میں وہ کچھ کارکردگی دکھائیں۔ 

 مجموعی طور پر نئی سندھ کابینہ میں ماسوائے وزیراعلیٰ کے عزم اور نعرے کے کچھ بھی نیاپن نہیں۔ 

تعجب کی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کو آٹھ سال کے بعد خیال آیا کہ صوبے میں معاملات صحیح نہیں چل رہے ہیں اور اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ لیکن اس اصلاح اس پورے کلچر کو ختم کئے بغیر ممکن نہیں جو گزشتہ آٹھ سال کے دوران پلتا رہا اور اب پل کر بڑا ہو چکا ہے۔ اس کلچر کو اس پرانی ٹیم کے ذریعے ختم کرنا ایک بڑا چیلینج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سید مراد علی شاہ اس ٹیم کے ذریعے کیا معجزہ دکھاتے ہیں۔
 http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/02-08-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx


No comments:

Post a Comment