جدو جہد کا دوسرا نام: کسان لیڈر ماندھل شر
سہیل سانگی
دو روز قبل کامریڈ ماندھل شر کے شہزادے جمال ناصر نے فیس بک پر اسٹیٹس رکھا کہ ’’ بابا کی طبیعت نازک ہے‘‘ ۔ لیکن مجھے ہمیشہ کی طرح لگا کہ ماندھل شر اس نازک حالت سے بھی نکل آئیں گے۔ کیونکہ وہ اتنا باہمت، اور بہادر تھے کہ کسی لمحے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنی آسانی سے موت انہیں اٹھا لے گی۔ ان کے حوصلے اتنے بلند ہوتے تھے کہ مایوسی ان کے نزدیک کفر تھی۔ لیکن بدھ کی دو پہر سے پرانے ساتھیوں کے موبائل فون پر پیغامات آنے لگے کہ کامریڈ ماندھل شر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ماندھل شر کو میں نے over estimate کیا۔ ورنہ اس سے قبل کئی مرتبہ ان کی طبع کی خرابی اور آپریشن وغیرہ کے مراحل سے وہ گزرتے رہے۔ لیکن چند روز کے بعد وہ ٹھیک ہو جاتے تھے اور واپس اپنے کام میں مصروف ہو جاتے تھے۔
گھوٹکی اور اس کے ارد گرد کا علاقہ سرداروں کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ ماڑی گیس کے ذخائر کی دریافت بہت بعد کی بات ہے۔ اس سے پہلے یہ علاقہ کامریڈ ماندھل شر کی وجہ سے بھی مشہور ہوا۔ جو صف اول کے ہاری رہنما اور انقلابی تھے۔ ایسے انقلابی جو دنیا میں سیاست اور نظریات کی تیز طوفانوں اور چمک کی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے نظریات اور جدوجہد پر ڈتے رہے۔
آخری وقت تک انہوں نے اپنی آنکھوں میں آخری گھڑی تک انقلاب کے خواب سجائے رکھے تھے کہ انقلاب تو آنا ہے، تبدیلی تو آنی ہے۔ یہ سب کچھ ہمیشہ کے لئے یوں نہیں چل سکتا۔
آخری وقت تک انہوں نے اپنی آنکھوں میں آخری گھڑی تک انقلاب کے خواب سجائے رکھے تھے کہ انقلاب تو آنا ہے، تبدیلی تو آنی ہے۔ یہ سب کچھ ہمیشہ کے لئے یوں نہیں چل سکتا۔
ماندھل شر نے سندھ پنجاب سرحد کے قریب ڈہرکی شہر کے گاؤں کھروہی میں حر تحریک کے ایک کارکن کے گھر میں جنم لیا۔
ساٹھ کے عشرے میں روشن خیالی کی تحریک نے انہیں متاثر کیا۔ کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، مزدور رہنما مولابخش سے ملاقاتوں نے ان کی سیاسی کایا پلٹ دی اور وہ کمیونسٹ ہو گئے۔
ساٹھ کے عشرے میں روشن خیالی کی تحریک نے انہیں متاثر کیا۔ کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، مزدور رہنما مولابخش سے ملاقاتوں نے ان کی سیاسی کایا پلٹ دی اور وہ کمیونسٹ ہو گئے۔
اپنے حافظے کو آزمائش میں ڈالنے کے باوجود ٹھیک سے یاد نہیں آرہا کہ ماندھل شر سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی۔ بالکل اس طرح سے یاد نہیں کہ بعد میں کتنی ساری ملاقاتیں ہوئیں۔ 1970 کا ہی زمانہ تھا۔ جب بنگال میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ اور سندھ کے انقلابی اور جمہوری قوتیں اس آپریشن کو سیاسی غلطی قرار دے کر مخالفت کر رہی تھیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت ہو یا ضیاء لاحق کی مارشل لاء یا پھر مشرف کا دور ماندھل شر جیل یا لاکپ میں ہوتے تھے یا پھر روپوش۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ہاریوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔ گڈو بیراج کی زمینیں انعام اور نیلام میں بااثر شخصیٰات کو دینے کے بجائے مقامی بے زمین ہاریوں کو دینے کی تحریک چلا رہے تھے۔ان کی جدوجہد کی حکمت عملی کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی طرح انتظامی اور عدالتی سطح پر پر بھی تھی، تو اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی تھی۔
انہوں نے کسانوں کو منظم یا اور احتجاج کے لئے سڑکوں پر لے آئے۔ ان کا قصور یہ بھی تھا کہ سندھ کے مجموعی حقوق کے لئے بھی برسرپیکار رہتے تھے۔ ان کا یہ بھی قصور تھا کہ ملک کی کمیونسٹ تحریک سے وابستہ تھے۔ اس طرح سے ان کے کھاتے میں ایسے کئی جرائم تھے جو عوام دوستی کے تھے۔
انہوں نے کسانوں کو منظم یا اور احتجاج کے لئے سڑکوں پر لے آئے۔ ان کا قصور یہ بھی تھا کہ سندھ کے مجموعی حقوق کے لئے بھی برسرپیکار رہتے تھے۔ ان کا یہ بھی قصور تھا کہ ملک کی کمیونسٹ تحریک سے وابستہ تھے۔ اس طرح سے ان کے کھاتے میں ایسے کئی جرائم تھے جو عوام دوستی کے تھے۔
عام آدمی کے حالات زندگی تبدیل کرنے کے تھے۔ ان کے نظریات، اور سیاسی عمل نے انکو ریاست کے پاس ’’ ہسٹری شیٹر‘‘ بنا دیا تھا کہ جب بھی کہیں کوئی جمہوری تحریک یا کسانوں، مزدوروں یا طلبہ کی تحریک چلتی تھی پولیس سب سے پہلے انہیں ہی پکڑنے آتی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہس پولیس کے اس تحرک کے بعد انہیں پتہ چلتا تھا کہ کہیں کوئی تحریک اٹھ رہی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہس پولیس کے اس تحرک کے بعد انہیں پتہ چلتا تھا کہ کہیں کوئی تحریک اٹھ رہی ہے۔
انہوں نے مسلسل حکمران طبقے کے جبر، تشدد کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا۔ اور خود کو منوایا۔ نہ کبھی اپنا سر جھکایا اور نہ کبھی اپنے ساتھیوں کا سر نیچے ہونے دیا۔ اور یہ بھی کہ ان اپنی ساتھیوں کی اس طرح سے’’ خبر گیری‘‘ کی جس طرح سے بعض نے سیاسی کارکن گرفتاری کے بعد پورے کام اور اپنے نیٹ ورک کو ظاہر کر دیتے ہیں۔
سندھ کے تمام بڑے جیل، لاکپ، اور اذیت گاہوں کی وہ کئی مرتبہ یاترا کر چکے تھے اور ہر مرتبہ سرخرو ہو کر آتے تھے۔
سندھ کے تمام بڑے جیل، لاکپ، اور اذیت گاہوں کی وہ کئی مرتبہ یاترا کر چکے تھے اور ہر مرتبہ سرخرو ہو کر آتے تھے۔
انہیں جیل، لاکپ، اور اذیت گاہوں میں گزارنے کا آرٹ آچکا تھا۔ جیل ہو یا لاک اپ یا اذیت گاہ وہ ضرورت پڑنے پر بھوک ہڑتال بھی کر تے تھے۔ یہ آرٹ صرف ان کو ہی نہیں ان کے اہل خانہ نے بھی سیکھ لیا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے مشکل اور طویل جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو یہ آرٹ سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ حالات کہ گھر کے کامنے والے کی گرفتاری کے بعد حالات کا کس طر ح مقابلہ کرنا ہے۔ قید ی کی ضروریات، ملاقات کا بندوبست اور اس کو سامان کی راسئی کس طرح کرنی ہے۔ وغیرہ۔
بڑی بات یہ بھی تھی کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں ، ماندھل شر خواہ بہت خراب حالت میں ہوں انہوں نے دوستوں سے نہ کبھی شکوہ کیا کہ انہوں نے مشکل وقت میں خبر نہیں لی۔
دو تین سال پہلے ایک ملاقات میں ہم لوگ ماضی کے جھروکوں میں پہنچ کر گپ شپ کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ دوران قید و بند کبھی ساتھیوں سے شکایت کیوں رہی؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ کر رہا تھا یا اب کر رہا ہوں وہ اس لئے کہ میں اس کو ٹھیک اور درست سمجھتا ہوں۔ اور اپنے عمل اور نظریے سے مطمئن ہوں۔ یہ کام کرنے کا میرا اپنا فیصلہ ہے۔ کسی کے کہنے پر نہیں مطمئن ہو کر کر رہا ہوں۔ اپنا فرض سمجھ کر۔ کسی پراحسان سمجھ کر نہیں۔ اگر ایسے میں سر پر آ جائے تو خود کو ہی نبھانا چاہئے۔
ان کے ان الفاظ سے مجھے یہ بات سمجھ میں آئی وہ کیوں اتنی بہادری سے جدوجہد کرتے تھے۔ اور مطمئن رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص کی طبیعت کو سمجھنا ہو تو اس کے ساتھ جیل یا ریل کا سفر کرو۔ اس شخص میں عزت نفس اور بلا کی خود داری تھی۔ جس کا مشاہدہ ان کے ساتھ سیاسی کام کرتے وقت بھی ہوا۔ ایم آرڈی تحریک کے دوران جب وہ سینٹرل جیل کراچی منتقل ہوئے تو چند ہفتے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا۔ تب ان کی ذاتی صفات ار بردباری کا مزید مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا۔
اپنی جدوجہد اور صحیح راہ پر ہونے کا انہیں پختہ یقین تھا۔ شروع سے ہی وہ جس انقلابی جتھے کے ساتھ جڑے اس کے ساتھ آخر دم تک رہے۔ ایک سچے انقلابی اور کمیونسٹ کے طور پر ان کے کمینٹمنٹ میں کبھی لرزش یا کمی نظر نہیں آئی۔
ماڑی گیس انتظامیہ اور مقامی آبادی اور کسانوں کے درمیان تنازع کو کامریڈماندھل شر نے ایک تحریک میں تبدیل کر دیا۔ کئی روز تک کی جدوجہد کے بعد ضلع حکومت نے ثالثی کی اور باضابطہ تحریک چلانے والوں اور ماڑی گیس انتظامیہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا۔
اس تحریک کی کامیابی کے چند روز بعد جب میں اس تحریک کا مطالعہ کرنے کے لئے ڈہرکی پہچا اور پھر ماندھل کے آبائی گاؤں کھروہی اور دیگر دیہات میں گیا۔ تو ماندھل نے مجھے وہ تمام مقامات دکھائے جہاں پولیس اور کسانوں کا مقابل ہوتا رہا۔ وہ لوہے کی پل بھی دکھائی، جس کو شر قبیلے کی خواتین نے خاص طور پر اسٹالن گراڈ بنا دیا تھا۔ اور پولیس کی پیش رفت روک دی تھی ۔
انہوں نے اس تحریک کے دوران پولیس کی پیشگی اطلاع کے کمیونیکیشن سسٹم بھی سمجھایا کہ کس طرح سے مستری مارکہ ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے گاؤں والوں کو پولیس کی آمد کی پیشگی اطلاع ملتی تھی۔
مقامی طور پر پندرہ سو دو ہزار روپے میں مقامی مستری ایسا ریڈیو سسٹم بنا دیتے تھے جس کی نشریات ڈیڑھ دو میل تک سنی جا سکتی تھی۔ یہ اس دور میں ڈہرکی اور دیگر علاقوں میں معمول تھا۔
اس سسٹم پر لوگ گانے اور تفریحی پروگرام بھی پیش کرتے تھے۔
مقامی طور پر پندرہ سو دو ہزار روپے میں مقامی مستری ایسا ریڈیو سسٹم بنا دیتے تھے جس کی نشریات ڈیڑھ دو میل تک سنی جا سکتی تھی۔ یہ اس دور میں ڈہرکی اور دیگر علاقوں میں معمول تھا۔
اس سسٹم پر لوگ گانے اور تفریحی پروگرام بھی پیش کرتے تھے۔
یہ سب دیکھ کر میں خود کو ایک مختلف دنیا میں محسوس کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا:’’ کامریڈ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اس طرح بھی لڑنا جانتے ہو؟‘‘ انہوں نے قہقہ لگایا اور کہا کہ کامریڈ یہ بات آپ مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ سائیں! اگر آپ کو پیچھے دھکیل دیا جائے اور مجبور کیا جائے تو آپ کے پاس اپنی بقا کے لئے لڑنے کے علاوہ کیا آپشن ہے؟ ہم تو اپنی بقا کے لئے اپنے وسائل اور حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ آپ ہمیں دیں، تو ہمیں کیا پڑی ہے لڑنے کی‘‘۔
کامریڈ ماندھل کی بات اتنی بھاری تھی کہ جس نے مجھے چپ کرادیا۔
پانچ سال قبل ان سے حیدرآباد میں ملاقات ہوئی۔ وہ سندھ کی مختلف تیل اور گیس کی فیلڈز میں کسانوں اور مقامی آبادی کے حقوق کے حوالے سے بھرپور تحریک چلانے کے لئے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ باقی مقامات تو ٹھیک ہیں دادو والے لوگ مجھے سمجھ میں نہیں آئے۔
ماندھل شر کے پاس بہت بڑا اور مختلف نوع کا جدوجہد کرنے کا تجربہ تھا۔ ان کے پاس سندھ کی انقلابی تحریک کی تاریخ کے بارے میں بھی بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ آخری دو تین ملاقاتوں میں میں نے ان سے فرمائش کی کہ آپ اپنی یادشتیں لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ لکھنا لکھانا آپ لوگوں کا کام ہے۔ ہم اگر اس کام میں لگ جائیں گے تو فیلڈ میں سیاسی کام کون کرے گا۔
میرے ضد پر انہوں نے کہا کہ ہم تو بڑا ٹیڑھا میڑا لکھیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ لکھیں یہ وعدہ ہے کہ میں اسکو’’ سیدھا‘‘ کر دوں گا۔ پھر ایک روز ہم نے ایک خاکہ بھی بنایا کہ وہ اپنی یادیں کس طرح لکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے لکھا ضرور ہوگا۔ لیکن ان کی کوئی تحریر ’’سیدھا‘‘ کرنے کے لئے مجھ تک نہیں پہنچی۔
چند ماہ قبل فیس بک پر پڑھا کہ ماندھل شر پانی کی قلت کے خلاف کسانوں اور کاشتکاروں کے ساتھ ملکر دھرنا دے رہے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی ان کی طبیعت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہوگی۔ لیکن جب تک جان میں جان ہے باقی کے بقول وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے مصروف رہے۔
مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی ان کی طبیعت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہوگی۔ لیکن جب تک جان میں جان ہے باقی کے بقول وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے مصروف رہے۔
چھوٹے قد کے اس بڑے آدمی کی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ ہمالیہ کی طرح بہت قدآور لگتا ہے جو نہ کبھی جھکا نہ سودے بازی کی اور نہ کبھی تھکاوٹ دکھائی۔ زندگی کی آخری گھڑی تک ان خابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے لڑتے رہے۔ ماندھل شر نہیں بلکہ سراپا جدوجہد تھے۔
http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/237027/kisan-leader-mandhal-shar-jadojehad-ka-dausra-naam
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/36285/Sohail-Sangi/Kisan-Leader-Mandhal-Shar-Jadojehad-Ka-Dausra-Naam.aspx
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-08-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-08-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg







No comments:
Post a Comment