Tuesday, August 2, 2016

سندھ میں کاسمیٹک تبدیلی


نئی بات 
سندھ میں کاسمیٹک تبدیلی 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بالآخر پیپلزپارٹی نے سندھ میں ویزراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ جہاں تین سال رواں مدت اور پانچ سال گزشتہ دور کی مدت کل آٹھ سال عہدہ رکھنے والے سید قائم شاہ کو وزارت اعلیٰ سے الگ کیا جارہا ہے۔ اور ان کی جگہ پر جن شخصیات کے نام لئے جارہے ہیں ان میں صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کا نام بھاری ہے۔ سید مراد علی شاہ سابق وزیراعلیٰ سید عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں۔ ان کو سید لابی اور بلاول بھٹو دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ سندھ کے اقتداری ایوان میں سید لابی اپنا اثر رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پارٹی نے سید مراد علی شاہ کا نام فائنل کیا تو انہوں نے دبئی میں موجود پیر پاگارا سے ملاقات کی اور ”آشیرواد“ لی۔

 مراد علی شاہ کا نام اچانک سامنے نہیں آیا۔ان کا نام 2008 کے انتخابات کے بعد مسلسل لسٹ پر رہا ہے۔ لیکن سید قائم علی شاہ کا سیاسی تجربہ، بھٹو دور سے پارٹی سے وابستہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کے اندر نچلی سطح پر ان براہ راست جان پہچان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرادعلی شاہ کے پاس دہری شہریت رکھنے کا معاملہ تھا۔

 ان کی دہری شہریت کا معاملہ طے ہونے کے بعد سندھ میں جب بھی سیاسی یا انتظامی بحران آیا تو سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی تجاویز سامنے آتی رہی۔ تھر میں قحط کے سوال پر کم از کم تین مرتبہ ان کو ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ قحط کی معاملے پرصورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ سید قائم علی شاہ کو سندھ کے بااثر مخدوم خاندان کے دو افراد کو وزیر بحالیات مخدوم جمیل الزماں اور ڈی سی او تھر مخدوم عقیل الزماں کو معطل کرنا پڑا۔ اس سے پارٹی میں بحران پیدا ہو گیا۔ اور پارٹی کے وائیس چیئرمین مخدوم امین فہیم جو اس وقت بقید حیات تھے ان کو کھلے عام اپنی ناراضگی کا اعلان اور اظہار کرنا پڑا۔تب خود وزیراعلیٰ کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

 بعد میں آصف زرادری بیچ میں آئے ، اور سید قائم علی شاہ مخدوم صاحب کے پاس پہنچ گئے اور یوں معافی تلافی ہوگئی۔ لیکن مخدوم خاندان کی یہ ناراضگی عملی طور پر آج تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح تھر میں قحط کا مسئلہ اور ہاں ایسے اقدامات کرنا جو پائدار ترقی کا سب بنیں ان کا بھی آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ 

حکومت گزشتہ تین سال سے تھر میں بعض امدادی کاررویاں تو کر رہی ہے لیکن باضابطہ قحط کا اعلان نہیں کر رہی ہے۔شاید اس لئے کہ ایسا کرنے سے منطقی امر یہ بنے گا کی قحط 2013 سے موجود ہے جس کے لئے بروقت اقدامات نہیں کئے گئے۔ یوں بات واپس مخدوم خاندان کے خلاف چلی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہاپنی ہی قائم کردہ آٹھ کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹس اور ان کی سفارشات کے باوجود تھر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اسی طرح سے سیلاب، صوبے میں خسرے کی بیماری پھیلنے کے موقعہ پر قائم علی شاہ سخت دباﺅ میں رہے۔

 2012-13 میں صوبے کے تعلیم، صحت، بلدیات، پولیس، اطلاعات سمیت مختلف محکموں میں ہزاروں میں بھرتیاں کی گئیں۔ جن میں سے بیشتر بھرتیاں بعد میں غیر قانونی قرار پائیں۔یا بعض کا معاملہ ابھی تک عدلیہ یا تحقیقات کے مرحلوں میں لٹکا ہوا ہے۔ یہ بھرتیاں اور تقرر و تبادلے مبینہ طور پر پیسوں کے عوض یا سیاسی سفارشوں پر کی گئیں۔ یہی صورتحال مختلف چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبوں ، بدلیاتی اداروں کو ماہانہ باقاعدگی سے ملنے والی رقومات کے حوالے سے بنی۔ اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کو اکثر بھرتیوں کا پتہ ہی نہیں تھا۔ ”صوبے میں ہر جگہ پر کرپشن ہے“ کی بحث عام ہوگئی۔ 

قائم علی شاہ کو نئی مدت کے شروع ہوتے ہی بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ وفاق نے کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔
 وزیراعظم نواز شریف بعض اہم وفاقی کابینہ کے اراکین اور عسکری اداروں کے ساتھ کراچی پہنچے اور سندھ حکومت سے آپریشن کرنے پر آمادہ کر لیا۔ بظاہر قائم علی شاہ کو آپریشن کا کپتان بنایا گیا لیکن عملاآپریشن شروع ہوتے ہی ان کی حکومت کی صوبے میں رٹ کمزور ہونا شروع ہوئی۔ 

صورتحال اس وقت گمبھیرہوئی جب اس کرپشن کا رینجرز ، نیب، ایف آئی اے نے نوٹس لیا۔ اور وائیٹ کالر جرائم کو دہشتگردی سے جوڑ کر سرکاری دفاترپر چھاپے مارنے اور گرفتاریوں کی کارروائیاں شروع کیں۔ نتیجے میں ایک درجن سے زائد اعلیٰ افسران یا تو بیرون ملک چلے گئے یا انہوں نے ہائی کورٹ سے ضمانتیں کرالیں۔ 
ایک ماہ کے لگ بھگ ایسا بھی گزرا کہ سندھ حکومت کی معمول کی کارگزاری معطل رہی۔ سندھ حکومت کے بعض وزراءنے ان کارروائیوں کو سندھ پر وفاقی حکومت کے حملہ کے مترادف قرار دیا۔

 آصف علی زرادری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم، عذیر بلوچ اور بعض افسران کی گرفتاری، شرجیل میمن سمیت چار وزراءکی گرفتاری کے خطرے نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ۔ سید قائم علی شاہ کی حکومت بیانات دیتی رہی، لیکن عملا ان کاررائیوں کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

 پیپلزپارٹی نے وزیراعظم نواز شریف پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے کوئی مدد کرنے سے بے بسی اور معذرت کا اظہار کردیا۔ یہاں سے پیپلزپارتی نے وفاق میں نواز حکومت کی کھل کر مخالفت کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ دھرنے لگانے والے عمران خان کے ساتھ جا کر کھڑی ہوئی۔ اس حکمت عملی نے پیپلزپارٹی کو فائدہ پہنچایا۔ کیونکہ وزیراعظم نواز شریف پنامالیکس کی وجہ سے سخت دباﺅ میں آگئے تھے۔ 

 پیپلزپارٹی انتظار میں تھی کہ رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سامنے آئے۔ گزشتہ سال دسمبر میں یہ موقعہ آ ہی گیا اور سندھ حکومت نے اختیارات میں توسیع کے بجائے معاملہ کو اسمبلی میں لے گئی اور ایک قراداد کے ذریعے رینجرز کے اختیارات کم کرنے کی سفارش کی اور بعض یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد اختیارات کی مدت میں توسیع کردی۔ 

رواں ماہ کی 19 تاریخ کو صورتحال مزید پیچدہ ہوگئی۔ کیونکہ صرف رینجرز کو آپریشن کے بعد دیئے گئے اختیارات میں توسیع کی مدت ہی نہیں بلکہ نوے کے عشرے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب کردہ رینجرز کی صوبے میں تعینات کی مدت بھی ختم ہو رہی تھی۔ لہٰذا یہ تنازع شدید ہو گیا۔

بعض وفاقی اداروں کی جانب سے صوبائی کابینہ کے ایک بااثر رکن وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی تبدیلی ایک عرصے سے تقاضا کیا جارہا تھا۔ رینجرز نے اختیارات ختم ہونے سے دو چار روز پہلے ان کے قریبی ساتھیوں میں ہاتھ ڈالا۔ اور لاڑکانہ میں ان کے رہائشگاہ کا محاصرہ کیا۔یوں رینجرز اور سندھ حکومت دونوں آمنے سامنے آگئیں۔ اور سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا معاملہ آخری موڑ پر پہنچ گیا۔ 

 تعلیم، امن و مان، تقرر تبادلوں کے معاملات سپریم کورٹ تک گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں امن و امان کی بدترین صورتحال رہی، 2010 اور 2011 کے سیلاب ، تھر میں قحط، تعلیم کی تباہی اور ہر محکمے میں کرپشن، غلط بھرتیوں نے گورننس کے سوال میں اتنی شدت پیدا کردی تھی کہ ہر چیز ” ٹاک آف دی ٹاﺅن“ بن گئی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت کچھ تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس میں سائیں قائم علی شاہ کا قصور کم اور قیادت کی براہ راست مداخلت اور ہر چیز کی اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی ہو رہی تھی ، ایم پی ایز کو بجائے وزیراعلیٰ ڈیل کرتے پارٹی کی قیادت ہی دیکھ رہی تھی۔

 وزراءاور ایم پی ایز کے قریبی رشتہ داروں یا فیورٹ افسران کی اہم عہدوں پر فائز اچھی خاصی موجودگی ہے، جن کو نہ کوئی وزیر اور یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ معاملات نہ سید قائم علی شاہ کے بس میں تھے نہ اختیار میں۔ 

ان سب چیزوں کے باوجود پیپلزپارٹی نے تب تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جب خود اس کو سر پر پڑی ہے۔ اس سے پہلے وہ کسی طور پر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ یہ درست ہے کہ قائم علی شاہ حکومت نے قانون سازی سب سے زیادہ کی۔ لیکن اصل معاملہ نئے خواہ پرانے قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ جس سے گورننس اور کارکردگی ناپی جاسکتی ہے۔ ان معاملات میں چیزیں صرف کے برابر رہیں۔ 
پنجاب اور دیگر صوبوں میں 2013 کے انتخابات میں واژ ہو انے کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے موقعہ تھا کہ سندھ میں اپنی حکومت کی موجودگی میں کارکردگی دکھاتی۔ اور اس کے ذریعے ملک بھر میں ساکھ بناتی۔ لیکن پارٹی کے لئے یہ سبق ناکافی تھا۔ وہ نہیں سیکھ پائی۔ صورتحال یہاں تک چلی گئی کشمیر بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں پارٹی نے پہلا الیکشن لڑا اور ہار گئی۔ پیپلزپارٹی کے پاس کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کو دینے یا دکھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ 

کیا پیپلزپارٹی سندھ میں واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہ رہی ہے؟ موجودہ صورتحال میں مشکل لگتا ہے کہ صرف وزیراعلیٰ تبدیل کرنے کچھ تبدیل ہوگا۔ سائیں قائم علی شاہ کی ایک طرح سے قربانی دی جارہی ہے کہ ان کی وجہ سے بہت ساری چیزیں نہیں ہو سکیں۔ اور ان کے کھاتے میں سب ” برائیاں“ لکھنے کی کوشش کرے۔ 

سچ تو یہ ہے کہ چاچا قائم علی شاہ جو کچھ کر رہے تھے، یا جو کچھ نہ بھی کر رہے تھے وہ پارٹی قیادت کی ہدایات اور منظور ی کے تحت ہی کر رہے تھے۔ سید مراد علی شاہ سندھ کابینہ کے اہم رکن رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی مختلف فیصلوں پر اثرنداز ہوتے رہے ہیں۔ نئی کابینہ میں سوائے قلمدانوں کی تبدیلی کے ایک آدھ کو چھور کر وہی وزراءشامل ہونگے جو پہلے بھی موجود تھے۔ پارٹی قیادت کی اپروچ اور صوبے میں موجود حقائق کو تسلیم کرنے اور وزیراعلیٰ کو بااختیار بنائے بغیر یہ کاسمیٹک تبدیلی ہوگی۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/26-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

No comments:

Post a Comment