سندھ کے اقتداری ڈھانچے میں بعض تبدیلیاں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
نئی سندھ کابینہ کی وجہ سے سندھ کے اندرونی اقتداری ڈھانچے میں بعض تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ جن کا اثر اقتدار میں شامل گرپوں اور لابیوں پر پڑے گا لیکن عوام کے وسیع تر حلقے اس سے متاثر نہیں ہونگے۔ سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہاں اور سندھ کابینہ میں ایک ہی وقت توسیع کی وجہ سے بعض گروپوں اور لابیوں کو زیادہ فائدہ پہنچا جب کہ بعض گروپ اس اقتداری کھیل میں پیچھے رہ گئے۔
سندھ کے 37 وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین کی کابینہ میں پہلی مرتبہ سات غیر منتخب افراد کو شامل کیا گیا ہے جس میں مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو، مرتضیٰ وہاب، اصغر جونیجو، بابر افندی، برہان چانڈیو، عمررحمان ملک، سید قاسم نوید، ذوالفققار بیہن، نادر خواجہ، نوید اینتھونی شامل ہیں۔
سات وزارء کے پاس دو دو محکموں کے قلمدان ہیں، قائم علی شاہ کابینہ کے 19 افراد بطور وزیر، مشیر نئی کابینہ میں شامل ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود لگتا ہے کہ سندھ کے اقتداری سیٹ اپ میں اندرونی طور پر بعض اختلافات اور تبدیلیاں ناگزیر ہو اجئیں گی۔
سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہان کا انتخاب، وزیراعلیٰ کی تبدیلی، اور نئی سندھ کابینہ کی تشکیل ایک ہی وقت ہوئی۔ اس کی وجہ سے پارٹی کے پاس مختلف بااثر گروپوں کو اکموڈیٹ کرنے میں سہولت پیدا ہوگئی۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے چند ہفتے قبل پارٹی کے ضلعی عہدیداران کے تقرر کا معاملہ بھی آیا تھا۔ یہاں پر بھی بعض حلقوں کو جگہ دے دی گئی۔
اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ کو پارٹی قیادت نے وزارت اعلیٰ کی تبدیلی خواہ نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے میں دور رکھا گیا اور ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ نہ ہی ان کا کوئی قریبی ساتھی ایم پی اے وزیر بن سکا۔ یہاں تک کہ ان کے بھتیجے اویس شاہ جو ایم پی اے بھی تھے انہیں بھی ویزر نہیں بنایا گیا۔ اویس شاہ کو سید خورشید شاہ سیاسی وارث کے طور پر ابھارنا چاہتے ہیں۔ سکھر سے ناصر شاہ اور جام اکرام دھاریجو کو وزارتیں دی گئی، جس میں خورشید شاہ کی کوئی مشاورت شامل نہیں تھی۔ ضلع چیئرمین کا عہدہ اسلم شیخ کو دلانے کے لئے خورشید شاہ اور مہر برادران ساتھ تھے۔ سکھر ضلع کونسل کی وائیس چیئرمین کا عہدہ جاوید شاہ کے بیٹے شاہ زیب شاہ کو خورشید شاہ کی مرضی کے بغیر دیا گیا۔ جاوید شاہ کو وزیرعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ مراد علی شاہ اور خورشید شاہ کے درمیان اختلافات کی خبریں ایک عرصے سے سیاسی مارکیٹ میں چل رہی تھیں۔ خورشید شاہ نے ان سے مشاورت نہ کرنے کا برملا اظہار کیا ۔ دبئی اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰ کی تبدیلی کی خبر انہیں میڈیا کے ذریعے پتہ چلی۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لئے نامزدگی کے بعد مراد علی شاہ کورشید شاہ کو منانے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔ سکھر کی مئر کا عہدہ اسلام الدین شیخ کے بیٹے ارسلان کے حصے میں آیا۔ اس پر پیپپلزپارٹی کے کسی بھی گروپ کو اعتراض نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے دو مرتبہ ایم پی اے رہنے والے انور علی مہر کے بیٹے اختر مہر کا نام ضلع کونسل کی وائیس چیئرمین کے لئے آرہا تھا۔ لیکن عین وقت پر ان کا پتہ کٹ گیا۔
سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع میں صورتحال دلچسپ رہی۔ سید قائم علی شاہ اور ان کے حامی ایم پی ایز پیرفضل شاہ جیلانی، ساجد بانبھن، اور نعیم کھرل کی کوشش تھی کہ ضلع کونسل کی چیئرمنی ساجد بانبھن کے بھائی کاشف بانبھن کو ملے۔ وسان لابی یہاں پر بھی زور نکلی۔ منظور وسان کا بھتیجا شہریار وسان ضلع کونسل کا چیئرمین بن گیا اور سید قائم علی شاہ کی لابی کے حصے میں وائیس چیئرمین کا عہدہ آیا۔ ان تبدیلیوں کے اثرات خیرپور ضع میں منظور وسان کے حق میں رہے۔ جہاں پر ان کے خاندان کے علاوہ نہ کوئی وزیر ہے، نہ مشیر اور نہ ہی خصوصی معاون، مزید یہ کہ ضلع کونسل کی چیئرمنی بھی ان کے پاس ہے۔
گھوٹکی ضلع میں مہر، ڈہر اور پتافی تین بڑے سردار اور بااثر شخصیات ہیں۔ مہر ور ڈہران کو برابر کا حصہ دیا گیا۔ لیکن پتافی خاندان گھاتے میں رہا۔ سردار محمد بخش مہر کو کابینہ کا ھصہ بنایا گیا۔ علی گوہر کے بیٹے حاجی خان مہر کو ضلع کونسل کے چیئرمین کے لئے نامزد کیا گیا۔ وائیس چیئرمین کا عہدہ جام مہتاب کے قریبی ساتھی صفدر چاچڑ کو وائیس چیئرمین بنایا گیا۔ اگرچہ وہ ضلعی کونسلر کی نشست ہار گئے تھے لیکن انہیں مخصوص نشست سے کامیاب کراکر وائیس چیئرمین بنا دیا گیا۔ جام مہتاب گزشتہ کابینہ میں بطور وزیر صحت تھے اور اب انہیں محکمہ تعلیم کا اہم قلمدان سونپا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے غیر اعلانیہ باغی تصور کئے جانے والے سردار احمد علی پتافی کو بلدیاتی انتخبات خواہ صوبائی کابینہ میں دور رکھا گیا ہے۔
لاڑکانہ میں سہیل انور شاہ خود کو کابینہ میں شامل کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی ساتھی خان سانگھرو کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنا دیا۔ نثار کھڑو خود کابینہ میں شامل ہو گئے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے حامی اسلم شیخ کو لاڑکانہ کا میئر بنوا دیا۔
سندھ کے سابق وزیر قانون اور موجودہ رکن قومی اسمبلی ایاز سومرو کو بلدیاتی انتخابات میں دور ہی رکھا گیا۔ ان کی کوشش تھی کہ لاڑکانہ کے میئر یا ضلع کونسل کی سربراہی کا عہدہ ان کے کسی حامی کو ملے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔ ایاز سومرو سندھ حکومت خواہ ضلع کے معاملات میں کافی عرصے سے نظرانداز ہیں۔
قمبر شہدادکوٹ ضلع میں پارٹی کی قیادت میں طویل عرصے سے بحران ہے۔ ضلع کونسل کے چیئرمنی ے لئے سردار خان چانڈیو نے اپنے بھائی برہان چانڈیو کا نام دیا۔ لیکن پارٹی کی اندرونی کشمکش کی وجہ سے یہ قرع محمد قاسم کھوسو کے نام نکلا جو قدرے کم معروف ہیں۔ پارٹی نے سردار خان چانڈیو کو خوش کرنے کے لئے ان کے بھائی برہان چانڈیو کو نارکوٹکس کا خصوصی معاون بنا دیا گیا۔
نادر مگسی بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے تک نظر انداز ہوتے رہے۔ ان کے آبائی حلقہ شہدادکوٹ کی میونسپلٹی کی سربراہی ان کی شدید مخالفت کے باوجود ان کے حریف گروپ کو دی گئی۔ اسی طرح دوسری بڑی بلدیہ قمبر کی سربراہی بھی سردار خان چانڈیو کے حامی کو دی گئی۔ نادر مسگی کو سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں بھی کوئی حصہ داری نہیں تھی۔ نادر مگسی کو پارٹی سے دور رکھنا پارٹی کے لئے آئندہ انتخابات میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
شکارپور میں اس وقت سخت مقابلے کی صورتحال بن گئی تھی جب سردار غوث بخش مہر نے اسپیکر آغا سراج درانی کے بھای آغا مسیح الدین کو ضلع چیئرمن پر ٹف ٹائیم دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں آغا سراج درانی کو غوث بخش مہر سے معاہدہ کرنا پڑا۔ تب جا کر ان کے بھائی ضلع چیئرمین ہو پائے۔ ایم پی اے بابل بھیو اپنے بھائی کے لئے وائیس چیئرمنی کا عہدہ مانگ رہے تھے۔ ان کے بھائی عابد بھیو کو وزیراعلیٰ کا خصوصی معاون بنا کر انہیں خوش کر دیا گیا۔ غوث بخش مہر اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ معاہدہ کے دور رس نتائج تب نکلیں گے جب آئندہ انتخابات میں غوث بخش مہر اور ان کے بیٹے ایم پی اے شہریار مہر بھی امیدوار ہونگے۔ تب پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم ایک مشکل امتحان بن جائے گا۔
پارٹی نے کشمور کندھ کوٹ ضلع میں پارٹی کے اہم رکن میر ہزار خان بجارانی کو وزارت دے کر اور ان کے بیٹے کو ضلع کی چیئرمنی دے کر راضی کر لیا ہے۔ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وہ وزیر بننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ اس ضلع میں مزاری گروپ کابینہ اور بلدیاتی اداروں کی سربراہی سے باہر ہیں ۔ جیکب آباد میں جکھرانی خاندان دوبارہ وزارت حاصؒ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
میرپور خاص کے سید اور پیر لابی یعنی سید علی نواز شاہ اور پیر آفتاب جیلانی گزشتہ کابینہ کی طرح اس مرتبہ بھی نظر انداز رہے۔ یوسف تالپور جو پارٹی سے مسلسل ناراض تھے ان کے بیٹے میر تیمور کو وزارت دے کر خوش کردیا گیا ہے ۔ مخدوم خاندان کی سروری جماعت کو سانگھڑ خواہ عمرکوٹ میں مناسب حصہ نہیں مل سکا ہے۔
تھرپارکر میں کسی کو کابینہ میں نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ چیئرمین اور وائیس چیئرمین کے عہدے غلام حیدر سمیجو اور رانا ۃمیر سنگھ کے بیٹے کرنی سنگھ کو دیئے گئے ہیں یہ دونوں صاحبان ارباب غلام رحیم کے سخت حامی رہے ہیں۔ جامشورو کے بے تاج بادشاہ سمجھنے والے ملک اسد سکندر کو چار وزارتوں سے گھٹا کر صرف ضلع کونسل کی چیئرمنی تک محدود کر دیا گیا ہے۔
یہ سب معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئے وزراء و مشیران کی نامزدگی مکمل طور پر سیاسی لحاظ سے کی گئی ہے اور مختلف گروپوں اور لابیوں کو اکموڈیت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک کوشش ضرور نظر آئی ہے کہ کچھ گروپ قائم علی شاہ کی وزارت میں اقتدار سے باہر تھے ان کو کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود علی نواز شاہ، پیر آفتاب جیلانی، احمد علی
پتافی، سید خورشید احمد شاہ کابینہ اور نئے بلدیاتی سیٹ اپ کا براہ راست حصہ نہیں لگتے۔
نئے وزیراعلیٰ کی مہارت ، قابلیت اور خلوص پر شک نہیں۔ لیکن یہ سب تقرریاں مصلحت سے خالی نہیں۔ کیا ایسی مصلحتوں کی بنیاد پر کی گئی تقرریاں اچھے ناتئج دے سکتی ہیں جن کا وزیر اعلٰ عزم رکھتے ہیں اور لوگ امید رکھتے ہیں ۔
No comments:
Post a Comment