بلدیاتی انتخابات میں پی پی کی حکمت عملی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے لئے چار رخی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ پیپلزپارٹی شدید دباؤ کے باوجود دو اہم صوبوں میں انتخابات میں بھرپور طریقے لڑنا چاہتی ہے اور اس موقع کو اپنا دفاع کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارا جائے گا اور وہ سندھ اور پنجاب میں ڈیڑھ درجن کے قرب جلسے کریں گے۔ یہ پہلے موقعہ ہوگا کہ آصف علی زرداری ملک میں موجود نہیں ہونگے، اور انتخابی مہم پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرادری چلائیں گے۔ اگرچہ ان کے والد دبئی بیٹھ کر اس مہم کی مانیٹرنگ کرتے رہیں گے اور ان کی مدد بھی کریں گے۔
دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سندھ میں رینجرز اور نیب کی کارروائیوں کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔ پارٹی مسلسل ان کارروایوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ اوراپنے حالیہ اجلاس مین بھی ایف آئی اے اور نیب کی کارروایوں کو انتقامی قرار دیا ہے۔وہ اس معاملے کو عوام میں لے جائے گی کہ سندھ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے کرپشن کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ اور اس کی ذمہ داری نواز لیگ حکومت پر ڈالتی رہی ہے۔ یہ آپشن بھی زیر غور ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو رینجرز کے اختیارات کم کرنے کے لئے اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا۔ نیب اور ایف آئی اے کی کارروئیاں روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کای جائے گا۔
پارٹی ان تمام کارروایوں کے لئے نواز شریف کی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہے۔ اس کے ردعمل میں پارٹی مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہو چکی ہے۔ اب خاص طور پر پنجاب میں اس مہم کے دوران نواز شریف اور شہباز شریف تنقید کا نشانہ رہیں گے۔حکمت عملی یہ ہے کہ ان کاررویوں کے خلاف وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔قومی اسمبلی اور سنیٹ میں آواز اٹھائی جائے گی۔ اس کے باوجود یہ کارروایاں بند نہ ہوئیں تو سندھ بھر میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ یہ نواز شریف کے لئے پیغام ہوگا کہ وہ اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں؟
تیسرا نقطہ جس پر سندھ خواہ پنجاب میں فوکس کیا جائے گا وہ یہ کہ کرپشن کے نام پر امتیازی کارروائی کی بات کی جائے۔ جبکہ نواز شریف اور اس کی پارٹی کے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔ پیپلزپارٹی کے اس طرح کے حکمت عملی پر ضیا دور کا ولی کان کا نعرہ یاد آرہا ہے کہ پہلے احتساب بعد میں انتخاب۔
پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے بہت ہی پتے کی بات کی ہے کہ سیاستدانوں کا احتساب ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مصیبت یہ ہے کہ سیایس نظام ایک مکینزم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس میں عوام کے پاس احتساب کی قوت ہی نہیں۔ اس ضمن میں دو مثالیں ابھی تازہ ہیں۔ اول یہ کہ سیاسی وڈیروں کی اولادوں کی بڑے پیمانے پر بلدیاتی منصبوں پر امیدواری۔ یعنی نچلی سطح پر بھی متوسط یا نچلے طبقے کا کوئی فرد تھوڑے سے اختیار کا بھی مالک نہ ہو۔ دوسری مثال سندھ میں بلدیاتی اداروں کی حلقہ بندیاں ہیں۔ جو اس سیاسی مکینزم کو عیاں کرتی ہیں جس میں عوام احتساب ہی نہیں کر پاتا۔ اس معاملے کا عکس سندھ ہائی کورٹ کے میں متحدہ قومی موومنٹ اور فنکشنل لیگ کی درخواستوں پر فیصلے میں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی جزوی ہے کیونکہ عدالت میں چند اضلاع کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنروں اور تحصیلداروں کی جانب سے بنائی گئی یونین کونسل اور یونین کمیٹیوں کی حلقہ بندیوں کو مسترد کردیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہی ہونگے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ پانچ روز کے اندر حلقہ بندیوں کے معاملے کو دیکھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
انتخابات خواہ کسی بھی سطح کے ہوں حکمرانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدام نہ کرے جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت الیکشن کمیشن یا الیکشن پر اثرانداز ہورہی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جو بھی حکموت اقتدار میں ہوتی ہے اسکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ انتخابی عمل کچھ اس طرح سے ڈیزائین ہو کہ اس کے حامی لازمی طور پر منتخب ہو سکیں۔ سندھ میں کی گئی حلقہ بندی بھی اسی زمرے میں آتی ہے ۔ نتیجے میں بعض متاثرہ لوگوں کو عدلات کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ وہ شاید اس وجہ سے بھی کہ حکومت جس ادارے کے کہنے پر یہ انتخابات کرارہی ہے اس کی بات ضرور مانے گی۔ یہ حلقہ بندیاں ڈپٹی کمشنروں اور تحصٰلداروں کے ذریعے کرائی گئی ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ضلع انتظامیہ کے یہ افسران کسی منقط کے بجائے ان کے کہنے پر کریں گے جنہوں نے انہیں یہاں تعینات کیا ہے۔ بنیادی طور پر انتخابات کے اپنے ضوابط ہوتے ہیں۔ جس طرح سے انتخابی مہم چلانے کے لئے خرچ کی حد مقرر ہے، ایک مقررہ وقت کے بعد انتخابی مہم نہیں چلائی جاسکتی، اسی طرح سے کوئی ایک سیاسی جماعت اپنے طور پر حلقہ بندی نہیں کر سکتی۔ نئی حلقہ بندیوں کے لئے عوامی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں ، عام لوگوں اور علاقے کی سیاسی جماعتوں سے رائے لی جاتی ہے۔ جس کے بعد حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات براہ راست مقامی مسائل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے ذریعے حلقہ بندیاں کر کے ان انتخابات کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم او رمحکمہ اینٹی کرپشن کی کارویوں میں ہاتھ ہلکا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ناراضگی کی وجہ سے ان دونوں محکموں کو باقی شہروں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ جس کے بعد محکمہ تعلیم اور بلدیاتی اداروں میں جاری تحقیقات رک گئی۔ محکمہ تعلیم میں پچاس کروڑ کے گھپلے اور بلدیات میں چار ہزار ملازمین کی ناجائز بھرتیوں کے خلاف تحقیقات ہو رہی تھی۔
پیپلزپارٹی کا ایک اور رنگ سامنے آیا ہے۔ وہ ہے بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتوں سے اتحاد۔ بظاہر پارٹی نے یہ رائے قائم کی ہے کہ پنجاب میں مقامی سطح پر جے یو آئی، مسلم لیگ قاف،، پی ٹی آئی، اور نواز شریف مخلاف گروپوں سے اتحاد کیا جائے۔ سندھ میں تو اس پر عمل درآآمد شروع ہے۔ لاڑکانہ، شکارپور وغیرہ میں پیپلزپارٹی جے یو آئی سے اتحاد کے ہوئے ہے۔