Monday, September 21, 2015

بلدیاتی انتخابات میں پی پی کی حکمت عملی


بلدیاتی انتخابات میں پی پی کی حکمت عملی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے لئے چار رخی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ پیپلزپارٹی شدید دباؤ کے باوجود دو اہم صوبوں میں انتخابات میں بھرپور طریقے لڑنا چاہتی ہے اور اس موقع کو اپنا دفاع کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارا جائے گا اور وہ سندھ اور پنجاب میں ڈیڑھ درجن کے قرب جلسے کریں گے۔ یہ پہلے موقعہ ہوگا کہ آصف علی زرداری ملک میں موجود نہیں ہونگے، اور انتخابی مہم پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرادری چلائیں گے۔ اگرچہ ان کے والد دبئی بیٹھ کر اس مہم کی مانیٹرنگ کرتے رہیں گے اور ان کی مدد بھی کریں گے۔ 
دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سندھ میں رینجرز اور نیب کی کارروائیوں کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔ پارٹی مسلسل ان کارروایوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ اوراپنے حالیہ اجلاس مین بھی ایف آئی اے اور نیب کی کارروایوں کو انتقامی قرار دیا ہے۔وہ اس معاملے کو عوام میں لے جائے گی کہ سندھ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے کرپشن کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ اور اس کی ذمہ داری نواز لیگ حکومت پر ڈالتی رہی ہے۔ یہ آپشن بھی زیر غور ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو رینجرز کے اختیارات کم کرنے کے لئے اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا۔ نیب اور ایف آئی اے کی کارروئیاں روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کای جائے گا۔ 
پارٹی ان تمام کارروایوں کے لئے نواز شریف کی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا رہی ہے۔ اس کے ردعمل میں پارٹی مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہو چکی ہے۔ اب خاص طور پر پنجاب میں اس مہم کے دوران نواز شریف اور شہباز شریف تنقید کا نشانہ رہیں گے۔حکمت عملی یہ ہے کہ ان کاررویوں کے خلاف وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔قومی اسمبلی اور سنیٹ میں آواز اٹھائی جائے گی۔ اس کے باوجود یہ کارروایاں بند نہ ہوئیں تو سندھ بھر میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ یہ نواز شریف کے لئے پیغام ہوگا کہ وہ اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ 
تیسرا نقطہ جس پر سندھ خواہ پنجاب میں فوکس کیا جائے گا وہ یہ کہ کرپشن کے نام پر امتیازی کارروائی کی بات کی جائے۔ جبکہ نواز شریف اور اس کی پارٹی کے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔ پیپلزپارٹی کے اس طرح کے حکمت عملی پر ضیا دور کا ولی کان کا نعرہ یاد آرہا ہے کہ پہلے احتساب بعد میں انتخاب۔ 
پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے بہت ہی پتے کی بات کی ہے کہ سیاستدانوں کا احتساب ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مصیبت یہ ہے کہ سیایس نظام ایک مکینزم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس میں عوام کے پاس احتساب کی قوت ہی نہیں۔ اس ضمن میں دو مثالیں ابھی تازہ ہیں۔ اول یہ کہ سیاسی وڈیروں کی اولادوں کی بڑے پیمانے پر بلدیاتی منصبوں پر امیدواری۔ یعنی نچلی سطح پر بھی متوسط یا نچلے طبقے کا کوئی فرد تھوڑے سے اختیار کا بھی مالک نہ ہو۔ دوسری مثال سندھ میں بلدیاتی اداروں کی حلقہ بندیاں ہیں۔ جو اس سیاسی مکینزم کو عیاں کرتی ہیں جس میں عوام احتساب ہی نہیں کر پاتا۔ اس معاملے کا عکس سندھ ہائی کورٹ کے میں متحدہ قومی موومنٹ اور فنکشنل لیگ کی درخواستوں پر فیصلے میں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی جزوی ہے کیونکہ عدالت میں چند اضلاع کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنروں اور تحصیلداروں کی جانب سے بنائی گئی یونین کونسل اور یونین کمیٹیوں کی حلقہ بندیوں کو مسترد کردیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہی ہونگے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ پانچ روز کے اندر حلقہ بندیوں کے معاملے کو دیکھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ 



انتخابات خواہ کسی بھی سطح کے ہوں حکمرانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدام نہ کرے جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت الیکشن کمیشن یا الیکشن پر اثرانداز ہورہی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جو بھی حکموت اقتدار میں ہوتی ہے اسکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ انتخابی عمل کچھ اس طرح سے ڈیزائین ہو کہ اس کے حامی لازمی طور پر منتخب ہو سکیں۔ سندھ میں کی گئی حلقہ بندی بھی اسی زمرے میں آتی ہے ۔ نتیجے میں بعض متاثرہ لوگوں کو عدلات کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ وہ شاید اس وجہ سے بھی کہ حکومت جس ادارے کے کہنے پر یہ انتخابات کرارہی ہے اس کی بات ضرور مانے گی۔ یہ حلقہ بندیاں ڈپٹی کمشنروں اور تحصٰلداروں کے ذریعے کرائی گئی ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ضلع انتظامیہ کے یہ افسران کسی منقط کے بجائے ان کے کہنے پر کریں گے جنہوں نے انہیں یہاں تعینات کیا ہے۔ بنیادی طور پر انتخابات کے اپنے ضوابط ہوتے ہیں۔ جس طرح سے انتخابی مہم چلانے کے لئے خرچ کی حد مقرر ہے، ایک مقررہ وقت کے بعد انتخابی مہم نہیں چلائی جاسکتی، اسی طرح سے کوئی ایک سیاسی جماعت اپنے طور پر حلقہ بندی نہیں کر سکتی۔ نئی حلقہ بندیوں کے لئے عوامی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں ، عام لوگوں اور علاقے کی سیاسی جماعتوں سے رائے لی جاتی ہے۔ جس کے بعد حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات براہ راست مقامی مسائل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے ذریعے حلقہ بندیاں کر کے ان انتخابات کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ 
بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم او رمحکمہ اینٹی کرپشن کی کارویوں میں ہاتھ ہلکا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ناراضگی کی وجہ سے ان دونوں محکموں کو باقی شہروں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ جس کے بعد محکمہ تعلیم اور بلدیاتی اداروں میں جاری تحقیقات رک گئی۔ محکمہ تعلیم میں پچاس کروڑ کے گھپلے اور بلدیات میں چار ہزار ملازمین کی ناجائز بھرتیوں کے خلاف تحقیقات ہو رہی تھی۔ 
پیپلزپارٹی کا ایک اور رنگ سامنے آیا ہے۔ وہ ہے بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتوں سے اتحاد۔ بظاہر پارٹی نے یہ رائے قائم کی ہے کہ پنجاب میں مقامی سطح پر جے یو آئی، مسلم لیگ قاف،، پی ٹی آئی، اور نواز شریف مخلاف گروپوں سے اتحاد کیا جائے۔ سندھ میں تو اس پر عمل درآآمد شروع ہے۔ لاڑکانہ، شکارپور وغیرہ میں پیپلزپارٹی جے یو آئی سے اتحاد کے ہوئے ہے۔ 

Friday, September 18, 2015

بڑوں کے پاس اسمبلی کی نشستیں چھوٹوں کے پاس بلدیاتی منصب


میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

بلدیاتی انتخابات واقعی کچھ تبدیل کردیں گے؟ بظاہر ایسے آثار نظر نہیں آتے۔سیاسی وڈیرے تمام اہم منصب اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اس عمل میں ان کی معان و مددگار بن رہی ہیں۔ سندھ میں لگتا ہے کہ اختیار و اقتدار سیاسی بھوتاروں کا حسبی نسبی حق بن گیا ہے۔ وہ صرف اسمبلیوں میں ہی نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے اچھے منصب بھی اپنے ہی خاندان میں رکھنا چاہ رہے ہیں۔ بڑوں کے پاس اسمبلی کی نشستیں ہونگی۔ اور چھوٹوں کے پاس بلدیاتی منصب۔ بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہیں۔آٹھ اضلاع میں کاغذات نامزدگی داخل کئے جاچکے ہیں۔ جو نام سامنے آرہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ ضلع کی چیئرمنی سے لیکر تحصیل کونسل اور یونین کونسل تک کے عہدے اپنے ہی خاندانوں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ دہائیوں سے حریف خاندان بھی آپس میں اتحاد کرکے شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ نئی صف بندی ہورہی ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ان جدی پشتی بھوتاروں کی مرضی بلکہ کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی نتائج طے کر لئے جائیں۔ 

بالادست طبقہ حاکمانہ ذہنیت کی وجہ سے متوسط اور نچلی طبقات کو عملا شرکت سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ سیاسی وڈیرے آپس میں عہدوں اور منصبوں کی بندر بانٹ کرکے عوام کے لئے کوئی اور آپشن چھوڑنا نہیں چاہتے۔ 

بلدیاتی انتخابات کے لئے یہ خیال ہے کہ اس سے عام لوگوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اور اختیار و اقتدار نچلی سطح تک آسکتا ہے۔ لیکن سندھ میں جو وہ نچلی سطح بھ خاصی اونچی کھڑی ہوئی ہے۔ نہیں لگتا کہ کسی طور پر اختیار و اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ہو سکے گی۔ بلکہ یہ اختیار انہی خاندانوں کے پاس ہی رہے گا۔ سندھ کا بااثر خاندان اور وڈیرے اختیارات اور مال جمع کرنے والے تمام عہدے اور منصب اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ 
اگرچہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کے خاندان سے ہٹ کر کارکنوں ٹکٹ دی جائے گی۔ لیکن زمین پر حقائق پارٹی چیئرمین کے اعلان کے برعکس ہے۔ آٹھ اضلاع میں جو امیدوار سامنے آئے ہیں وہ پارٹی چیئرمین کے اعلان مذاق اڑا رہے ہیں پارٹی کی قیادت کو بھی پتہ ہے۔ میڈیا میں خبریں بھی شایع ہورہی ہیں۔ لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس اعلان کی انحرافی کا نوٹس لینے کے لئے تیار نہیں۔ 
آئیے ایک نظر چند امیدواروں پر ڈالتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، اور فنکشنل مسلم لیگ کے صدر پیر صدرالدین شاہ کے فرزندان گرامی بھی میدان میں ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے بھتیجے سید امجد علی شاہ نے بلدیہ خیرپور کی چیئرمینی کے لئے ، ان کے بھانجے یعنی سابق ایم این اے سید جاوید علی شاہ کے بیٹے سید فہد علی شاہ نے یونین کونسل پیر جو گوٹھ کے چیئرمین کے لئے امیدوار ہیں۔ سابق ایم پی اے سید فضل علی شاہ کے دو چچازاد بھائیوں سابق ضلع ناظم سید نیاز علی شاہ اور فیاض شاہ جیلانی نے ضلع کونسل کے رکنیت کے لئے کاغذات داخل کئے ہیں۔ صوبائی وزیر منظور حسین وسان کے دو بھتیجے اور ایک بھانجہ ضلع کونسل کی رکنیت کے لئے امیدوار ہیں۔ اسی خاندان کے تین اور افراد ساجن علی وسان، ریاض وسان اور تنویر وسان بھی میدان میں ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے نعیم کھرل کے شاہ حسین کھرل، اسفندیار کھرل، اور جانی کھرل ممبر ضلع کونسل اور یونین کونسل کے چیئرمین شپ کے لئے امیدوار ہیں ۔ ایم این اے کاظم علی شاہ کے بھانجے سید عباس علی شاہ ک نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔ ایم این اے علی گوہر کے بیٹے حاجی خان مہر ممبر ضلع کونسل، اور ان کے دوسرے بیٹے علی احمد مہر نے ٹاؤن کمیٹی خانپور کے چیئرمین شپ کے امیدوار ہیں۔
لاڑکانہ میں صوبائی وزیر دخلہ سہیل انور سیال کے بھائی طارق انور سیال ضلع کونسل کے چیئرمین شپ کے امیدوار ہیں۔ ان کے مقابلے میں سابق ایم پی اے حزب اللہ بگھیو کے بیٹے اور سابق صوبائی وزیر الطاف انڑ کے بیٹے نے فارم جمع کرائے ہیں۔ یہاں عباسی فیمیلی سے دو امیدوار ہیں۔ 
یہ صورتحال سندھ کی حکمران پارٹی تک محدود نہیں، دیگر پارٹیاں بھی اسی راستے پر چل رہی ہیں۔ حالیہ جوڑ توڑ کے نتیجے میں گھوم پھر کے وہی چہرے سامنے آنے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو عوام کئی مرتبہ آزما چکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ فرق یہ آئے گا کہ باپ کی جگہ بیٹا یا بڑے بھائی کی جگہ چھوٹا بھائی ہوگا۔ کہیں کہیں بھانجا بھتیجا یا داماد بھی ہو گا۔ 
فنکشنل لیگ کے صدر پیر صدرالدین شاہ کے بیٹے پیر اسماعیل شاہ اور قریبی رشتہ دار پیر نجیب راشدی بھی رکن ضلع کونسل بننا چاہتے ہیں۔ گھوٹکی میں سابق وفاقی وزیر خالد لونڈ کے بیٹے شہباز لونڈ رکن ضلع کونسل کے امیدوار ہیں۔ سابق ایم این اے میاں مٹھو کے بیٹے میاں رفیق، اور صوبائی وزیر مہتاب ڈہر کے بھتیجے یاسر ڈہر نے فارم داخل کئے ہیں۔ 
شکارپور میں سابق ایم این اے غوث بخش مہر کے بیٹے عارف مہر (سابق ضلع ناظم)، اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کے بھائی مسیح الدین درانی ، سابق ایم پی اے ہمت علی کماریو کے بیٹے امیر علی کماریو، سابق صوبائی وزیر عابد حسین جتوئی کے بیٹے امیر علی جتوئی، بھی امیدوار ہیں شکارپور کی بھیو خاندان کے بھی امیدوار ہیں۔ شکارپور بلدیہ کے لئے شہید اللہ بخش کے پوتے عقیل سومرو، سابق ایم پی اے مقبول شیخ کے دو بیٹے، سابق صوبائی وزیر امتیاز شیخ کے بیٹے امیدوار ہیں۔ 



مشرف دور میں جب ضلع ناظم کا انتخاب ہو رہے تھے تب ایک گروپ چھایا ہوا تھا۔ اب دوسرا گروپ حکمرانی کرے گا۔ میوزیکل چیئر کا کھیل ہے جو وقفے سے جاری رہے گا۔




Sohail Sangi

Sept 14, 2015 written for Nai Baat
 15/09/2015   بڑے خاندانوں کے افراد پھر میدان میں
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/31560

صرف زرداری ہی نہیں نواز شریف بھی۔۔۔


صرف زرداری ہی نہیں نواز شریف بھی۔۔۔

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
آصف زرادری کے گزشتہ دنوں کے اس بیان نے کہ سندھ میں تمام معاملات کو خراب کرنے کئے نواز شریف ذمہ دار ہیں۔ اچانک میاں نواز شریف کو سندھ یاد آیا اور یہاں اپنی پارٹی کے بچے کھچے باقیات بھی یاد آئے۔انہوں نے آصف زرداری کے بیان کا نوٹس لینے کے بعد مسلم لیگ نون کے اراکین سے اسلام آباد میں ملاقات کر کے سندھ میں پارٹی کو فعال بنانے کی ہدایات دیں۔ یہ اجلاس اور اس میں دی گئی ہدایات دراصل آصف زرداری کے چیلینج کا مقابل کرنے کے لئے تھے۔ کہ اگر پیپلزپارٹی نواز حکومت کے ساتھ گڑبڑ کرے گی تو نواز لیگ جو سندھ میں پیپلزپارٹی کو فری ہینڈ دئے ہوئے ہے، وہ بھی اپنا رول ادا کرے گی۔ 



سچی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف نے بہت عرصہ پہلے سندھ سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ اور اس صوبے کو یوں سمجھیں کہ غیر تحریری معاہدے کے تحت پیپلزپارٹی کو لکھ کر دے دیا تھا۔گزشتہ انتخابات کے موقع پرہم نے یہ بات واضح طور پر لکھی تھی کہ نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں بن رہے ہیں۔ وہ قوم پرستوں کی پراکسی کے ذریعے پیپلزپارٹی کا قد گھٹانے یا اسکو سندھ میں ہی مصروف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


انہوں نے اس موقعہ پر قوم پرستوں کے ساتھ ہنی مون بھی کیا، جس کی مدت صرف انتخابات تک ہی رہی۔ جب ہنی مون ختم ہوا تو وہ سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کئے گئے وعدے اور اتحاد کے لئے ساتھ چلنے کے قدم اقتدار میں آنے کے بعد وہ بھول گئے۔ 


اقتدار میں آنے کے لئے دوسرے صوبوں کی حمایت لازمی ہوتی ہے۔ اس کے لئے نواز لیگ نے یہ حکمت عملی بنائی کہ سندھ میں عام رائے بٹی ہوئی ہے۔ صرف پیپلزپارٹی اس جنگل کی شیر نہیں۔ ہم نہیں تو ہمارے اتحادی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے اتحادیوں کو بعد میں گیدڑ بنادیا گیا تو وہ خاموش رہے۔ 


اب وفاقی حکومت ایک سینگ پر کھڑی ہے۔ وہ ہے پنجاب ۔ کیا وفاقی حکومت یک صوبے کے کھمبے پر کھڑا سکتا ہے ؟ جہاں تک سندھ کا معاملہ ہے اگر نواز شریف انتخابات کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کو مثبت جواب دیتے، سندھ کے حوالے سے کچھ چیزیں دیتے تو سندھ میں یہ احساس اتنی شدت سے نہیں ابھرتا ۔ جو لوگ مالک اور قوم کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں وہ ووٹ یا ووٹروں کے سر نہیں گنتے۔


دراصل اس کے لئے ایک لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لگاؤ ملنے والے ووٹوں سے مشروط نہیں ہوتا۔تاریخ میں جو لوگ زندہ رہتے ہیں اور اسٹیتس مین کہلاتے ہیں ان کے نزدیک کسی ایک یا دو انتخابات میں ووٹ کا ملنا یا نہ ملنا بڑی بات نہیں۔ ایک الیکشن میں ووٹ نہ ملے تو دوسری میں مل جائیں گے۔ اصل بات حکمت عملی اور لوگوں اور ملک سے لگاؤ کی ہے۔ لیکن یہاں تو عوام سے محبت ووٹوں سے مشروط ہے۔تاریخ بتاتی ہے مشروط سیاست کرنے والے کبھی بھی عوام میں خوشحالی نہیں لاسکتے اور نہ ہی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کا اقتدار بھی کوئی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہتا۔ 


یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں ووٹ تو گنے جاتے ہیں لیکن عوام کے زخم نہیں گنے جاتے۔ آج سندھ کا عوام سیاستدانوں کے بیانات میں تماشہ بنا ہوا ہے۔ یہاں کی دو بڑی جماعتیں جن کو عوام نے ووٹ دیا مختلف الزامات کے تحت زیر عتاب ہیں۔ یہ صوبہ ترقی سے کوسوں دور کھڑا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بظاہر کرپشن کے الزامات کے خوف سے صوبے کے 36 محکموں میں ترقیاتی بجٹ کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو سکا ہے۔ حالانکہ ان محکموں کے لئے تقریبا پچیس ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔ 


آصف زرداری صاحب نواز شریف پر سیاسی الزامات عائد کرتے ہیں۔ اس شکوہ شکایت میں پیپلزپارٹی اور اس کے لوگ تو موجود ہیں لیکن عوام غائب ہے۔ اس میں عوام کی کوئی دلچسپی نہیں۔ عوام کی دلچسپی اس میں ہے کہ ان کو واقعی کیا ملا؟ 


شاید نواز شریف کے پاس بھی اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوگا کہ انہوں نے سندھ کے لئے کیا کیا؟ وہ تو اس معاملے میں خود کو نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ نواز شریف نے قوم پرستوں کو کٹھا کرکے پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائیم دینے کا سوچا تھا۔تب انہوں نے سندھ کے مفادات کے خلاف کوئی سودے بازی نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ بھول گئے ہر بات ۔ ان پر یہ خوف چھایا رہا کہ اگر انہوں نے سندھ میں پارٹی منظم کی یا سندھ کے لئے کچھ کیا تو پیپلزپارٹی انہیں ٹف ٹائیم دے گی۔ اور کہے گی کہ صوبائی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے۔ لیکن ابھی وہی ہو رہا ہے۔ سو پیاز بھی کھائے اور سو ڈنڈے بھی۔ پیپلزپارٹی تو کہہ رہی کہ وفاق مداخلت کر رہا ہے ۔
مسلم لیگ نون کی قیادت نے شعوری طور پر سندھ میں پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے غیر سرگرم اور غیر فعال رکھا۔ جب انہیں یہ پتہ تھا کہ ایک صوبے کے سہارے پر اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے ، ایسے میں سندھ کے گورکھ دھندے میں کیوں پڑے؟ سندھ میں پارٹی کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، قوم پرستوں سے ہاتھ اٹھلیا گیا۔ اور صوبے کو جاگیرداروں اور ایک شہری تنظیم کے حوالے کردیا گیا۔ 



آج پیپلزپارٹی احتساب اور کرپشن کے الزامات کی تپش محسوس کر رہی ہے، اور کراچی آپریشن کے باعث جو سیاسی تنگی پیدا ہوئی ہے تب آصف علی زرداری براہ راست نواز شریف سے مخاطب ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس پورے آپریشن، احتساب اور عمل میں میاں صاحب خود کتنے بے بس ہیں۔ یہ بات سمجھتے ہوئے بھی آصف علی زرداری اسٹبلشمنٹ کے بجائے نواز شریف کو تمام معاملات کے لئے ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں اور تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ بتا سکیں کہ سندھ مظلوم ہے۔


زرداری کی اس حکمت عملی کے توڑ کے طور پر نواز شریف نے مسلم لیگ نون سندھ کی قیادت کو اسلام آباد طلب کیا۔ سندھ کے یہ رہنما بھی وہاں پہنچے کہ بڑے دنوں کے بعد چٹھی آئی ہے۔ سندھ واقعی مظلوم ہے لیکن اس کے لئے صرف زرداری ہی ذمہ دار نہیں۔ بلکہ خود میاں نواز شیرف کا بھی حصہ ہے۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ بطور وفاقی حکومت کے سربراہ کے اب تک سندھ کے لئے انہوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ پیپلزپارٹی کے وفاق میں پانچ سالہ دور اقتدار کو اچھوڑیں، صرف گزشتہ دو دو برسوں میں جب سندھ میں کرپشن عروج پر تھی، وفاقی حکومت کیوں آنکھیں بند کر کے بیٹھی تھی؟ جب پنجاب میں زور شور سے ترقیاتی کام ہو رہے تھے، تب سندھ میں ٹیکسوں کی کم ادایگی کی آڑ میں فنڈز کیوں روکے گئے؟ کیا واقعی سندھ ٹیکسوں کی ادائگی کے معاملے میں پنجاب سے پیچھے رہا ہے۔


سندھ میں کرپشن کے معاملات ڈھکے چھپے نہیں۔ سندھ میں یہ تاثر پختہ ہوتا رہا کہ میاں صاحب وفاق کے بجائے صرف بڑے صوبے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں ۔ 


شاید سندھ کے اراکین نے وزیراعظم سے اپنی حالیہ ملاقات میں پوچھا ہو کہ سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا سندھ کو اس لئے نظرانداز کیا جارہا ہے کہ یہاں سے ان کو ووٹ یا مینڈیٹ نہیں ملا؟ یہ روایت کسی بھی وفاقی نمائندگی کرنے والے عہدیدار کے لئے اچھی نہیں۔ ویسے گزشتہ دس سال کے دوران نواز لیگ نے سندھ میں نہ بطور فریق آئی اور نہ ہی پارٹی کو منظم کیا۔ یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔ 


سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں لیکن نواز لیگ بطور پارٹی کے ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ دو منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ سندھ سے انہیں مینڈیٹ ملا۔ کیا آئندہ انتخابات میں بھی وہ یہاں سے ووت لینے کے لئے نہیں آئیں گے؟ 


۱۲ ستمبر کو نئی بات کے لئے لکھا گیا
Sohail Sangi 
  13/09/2015
In ColumnsNai Baat

http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%B2%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94 

جمہوریت کا تحفظ ، مگر کیسے؟ سہیل سانگی

جمہوریت کا تحفظ ، مگر کیسے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
ملک میں ایک بار پھر فوجی ٹیک اوور کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ دونوں سنیٹ میں سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ کے بیان پر بحث کے دوران مخلتف سیاسی جماعتوں کا موقف ان کے سنیٹر صاحبان کے ذریعے سامنے آیا۔ چیئرمین سنیٹ رضا ربانی نے متنبیہ کیا ہے کہ سول اور فوجی تعلقات میں کشیدگی کے بعدآئین میں موجود فوجی ٹیک اوور سے تحفظ کے معاملات ازکار رفتہ ہوگئے۔ ان کا خیال ہے کہ آرٹیکل 6 غیر موثر ہو چکا ہے ۔ آئین کے اس فقرے پر پیپلزپارٹی مشرف کے حوالے سے عمل درآمد نہیں کراسکی۔ اب صرف کمزوریوں کا اعتراف کررہی ہے۔

پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ فوج اور سول حکومت ایک صفحے پر نہیں۔ایسی صورت میں جمہویرت کو خطرہ ہے اور ٹیک اوور ہو سکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کا یہ شکوہ یک طرفہ یاسلیکٹیو احتساب کی وجہ سے ہے۔

نواز لیگ کا یہ موقف ہے کہ سول ملٹری تعلقات کی وجہ سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق نظام میں نقائص ہو سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تسلسل ہے۔ ان کا دعوا ہے کہ جمہوریت کسی بھی چلینج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
اقباال جھگڑا کے دعوے کا جواب فرحت اللہ بابر یوں دیتے ہیں کہ ہم بھی جب حکومت میں تھے تو یہی کہتے تھے کہ فوج اور سول حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہی دعوا آج نواز لیگ کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کا اس معاملے میں یہ موقف رہا کہ آئین کو توڑنا غداری ہے۔ لیکن اس پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔ بظاہر ان کا حوالہ بھی مشرف کی طرف تھا۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ملٹری ٹیک اوور کے لئے ذمہ دار سیاستدان ہیں ۔ منتخب ایوان میں بیٹھے بلوچ نمائندوں کا خیال ہے کہ لوگوں کا جمہوریت میں اعتماد بحال کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔ اگر لوگ سیاستدانوں اور اپنے لیڈروں پر اعتماد کرتے ہیں تو جمہویرت کو کوئی خطرہ نہیں۔ خواہ کتنی بھی خراب حکمران ہو، کسی بھی ادارے کو آئین یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ٹیک اوور کر لے۔ سنیٹ میں یہ بات بھی ہوئی کہ جنرل راحیل شریف ملک کی مقبول شخصیت ہیں۔ یہ باتیں عام ہیں کہ دراصل جنرل راحیل ہی حکومت چلا رہے ہیں۔

یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ کیا ملک آئین کے تقاضوں کے مطابق چل رہا ہے؟کون حکومت کر رہا ہے؟کراچی آپریشن، افغان حکومت اور افغان طالبان سے تعلقات اوانڈیا کے ساتھ تعلقات وغیرہ۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ ملٹری بڑی حد تک سویلین دائرے میں کو تجاوز کیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جب 2008 میں مشرف کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ صدر کے عہدے سے استعیفا دیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ ایک دن میں یا کسی ایک وجہ سے نہیں ہوا۔

جمہوریت اور ٹرانسپرنسی سے متعلق ادارے پلڈاٹ نے بظاہر خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پرعوامی اعتماد برقرار ہے۔

پلڈاٹ نے جون 2014سے مئی 2015کے درمیان پاکستان میں معیار جمہوریت پر عوامی سروے کیا تھا۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق 66فیصد پاکستانیوں نے مجموعی طور پر جمہوریت پر اعتماد کا اظہا ر کیا۔ 64فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ جمہوری طورپر منتخب حکومتوں نے پاکستان میں بہتر نظام تشکیل دیاہے ، فقط 20 فیصد لوگوں نے فوجی حکومت کو پاکستان کیلئے بہتر قرار دیا۔عوام کی بڑی تعداد نے سیاستدانوں کے بجائے بیوروکریسی کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیا، فقط 33فیصد پاکستانیوں نے بیوروکریسی کی کارکردگی کومثبت انداز سے دیکھا۔ملک گیر سروے کا انعقاد 2سے 12جون 2015 کے درمیان کیا گیاجس میں پاکستان بھر میں قومی سطح پر 3231شہریوں کی رائے لی گئی۔ عوامی سروے کے مطابق فوج پاکستان کے تمام ریاستی اداروں میں سب سے زیادہ مقبول رہی ہے جس کی 75فیصد اپ رول ریٹنگ رہی۔ سپریم اور ہائی کورٹس کی اپ رول ریٹنگ 62فیصد رہی۔

کیا پیپلزپارٹی جو خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے، وہ اس لئے کہ پارٹی پریشر میں ہے؟ آج پیپلزپارٹی قومی سطح پر فوجی مداخلت کا بھوت اس لئے دکھا رہی ہے کہ سندھ میں اس کی کرپشن کے معاملات پر فوج نے ہاتھ ڈالا ہے۔ جہاں تک سندھ کے معاملات کا تعلق ہے پیپلزپارٹی کسی ’’اعلان ن جنگ‘‘ سے پہلے اپنی حکمرانی اور کرپشن کے رکارڈ کو درست کرتی۔سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا یہ بیان حاصلہ افزا ہے کہ کسی بھیی ادارے کو اس کے آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

داراصل جمہوریت کو بچانے اور اس کو استحکام دینے کا شاید اس سے زیادہ اچھا اور موثر نسخہ نہیں ہوگا کہ سیاسی قیادت اچھی حکمرانی پر توجہ دے۔ اور حکمران ووٹروں کو صاف ستھرے نظر آئیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی آئینی شق جمہوریت کو نہیں بچا سکتی۔ صرف عوام ہی جمہویرت کو بچا سکتے ہیں ۔لہٰذا یسی حالات پیدا کئے جائیں کہ لوگ اس نظام کو اپنا سمجھیں اس کا تحفظ ا پنی ملکیت کے طور پر کریں۔ نظام کو واقعی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق لانے کی ضرورت ہے۔ صرف ایسا نظام جو عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے گا، اور یہ کام شفافیت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہی فوجی مداخلت کے آگے حصار بن سکتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو اقربا پروری، کرپشن پر کھڑا ہوگا وہ رکاوٹ بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ لہذا ریت کے محافظوں کو عوام کو دینے کے لئے اور خود کو سدھارنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ستمبر ۱۷ کو نئی بات کے لئے لکھا گیا

Sohail Sangi
Written on Sept 17, 2015 for Nai Baat
جمہوریت کا تحفظ ، مگر کیسے؟ 
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%81%D8%B8-%D8%8C-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92%D8%9F
http://www.bathak.com/column/column-sohail-saangi-sep-18-2015-39663

Monday, September 7, 2015

عمران خان سندھ میں کوئی بڑی وکٹ نہیں گرا سکے : سہیل سانگی


عمران خان سندھ میں کوئی بڑی وکٹ نہیں گرا سکے 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یک مرتبہ پھر سندھ میں پارٹی کے لءئے جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے دو روزہ دورے کے دوران کوئی بڑی وکٹ گرا نہ سکے ۔سندھ میں مختلف مقامات پر اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی طاقتور اور بااثر حلقے تبدیلی اور قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہیں۔ ہر مرتبہ وہی چہرے بھیس بدل کرآتے ہیں اور حکمرانی کرتے ہیں۔لیکن عملا وہ اس کے برعکس کر رہے ہیں ۔ حالیہ دورے میں ان کا تمام تر زور گھوٹکی کے سرداروں کو اپنے ساتھ جوڑنے اور پارٹی میں شمولیت پر رہا۔ اس عمل کو نہایت ہی غور سے دیکھا جرہا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار عمران خان سندھ میں پارٹی کی حمایت سرداروں میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ 

گھوٹکی سرداروں کا ضلع سمجھا جاتا ہے، جہاں دو قبائل مہر اور لونڈ کے سرداروں کے درمیان سیاسی و سماجی کشمکش رہتی ہے۔ آج کل مہر پیپلزپارٹی میں ہیں اور لونڈ پیپلزپارٹی سے باہر ہیں یعنی ماضی میں لونڈ گروپ اب پی ٹیّ ئی کی شکل میں اب مہر گروپ کے سامنے کھڑا ہے۔

عمران خان نے سندھ میں اپنی نئی کوشش کا آغاز دو حوالوں سے متناع معاملات سے شروع کیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے دورہ سندھ سے پہلے کالاباغ ڈیم کے حق میں بیان دیا ۔یہ بیان دے کر انہوں نے پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ پنجاب کے مفادات پر سودے بازی نہیں کرنے جارہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم کے معاملے میں سندھ بہت ہی حساس ہے۔ خواہ قوم پرست پارٹی، ہو پیپلزپارٹی یا کوئی اور وفاق پرست پارٹی سب کے سب پانی کے اس منصوبے کی مخالف ہیں۔ جس کا اظہار وہ بارہا اسمبلی کے اندر خواہ باہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس موقعہ پر ڈیم میں حمایت میں اپنے موقف کا اظہار کر کے اپنے لئے جگہ کم کردی۔ 
دوسرا متنازع معاملہ پیر آف بھرچونڈی عبدالحق عرف میاں مٹھو کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی کوششیں۔ اگرچہ تحریک انصاف نے میاں مٹھو کی پارٹی میں شمولیت کی تردید کی ہے لیکن عمران خان ان کے پاس چل کر گئے تھے۔ اور بعد میں جن بااثر لوگوں سے انہوں نے ملاقات کی ان میں میاں مٹھو بھی شامل ہیں ۔ میاں مٹھو پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے ہیں ۔ ان پرہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرانے کا الزام ہے ۔ اس ضمن میں نوجوان لڑکی رینکل کماری کو مذہب تبدیل کرا کے شادی کرانے کا کیس زیادہ مشہور ہوا۔ ان کی شمولیت کے معاملے پر سندھ کے روشن خیال اور اقلیتوں کو تحفظات ہیں۔ 
لہذا خان صاحب کسی مقبول نعرے اور مقبولیت شخصیت کے ذریعے سندھ میں آتے تو ان کے لئے شیاد زیادہ کھلا میدان ہوتا۔ کالا باغ ڈٰم کے حوالے سے چاہے وہ کتنا بھی پنجاب کے مخصوص مفادت کو پورا کرنے کا وعدہ کریں ،لیکن ایس اہو نہیں سکتا۔ کیونکہ جنرل پرویز مشرف جیسے پاور فل حکمران بھی ڈیم نہیں بنا سکے۔ 
عمران خان نے اس دورے کے دوران پیپلزپارٹی مخالف افراد کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔ معاملہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ ان رہنماؤں میں اکثر وہ شامل ہیں جو پہلے پیپلزپارٹی میں تھے۔ بعد میں اختلافات یا ناراضگیوں کی وجہ سے علحدہ ہوگئے۔ یہ لوگ بعد میں کسی دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے یا پھر بطور آزاد امیدوار انتخابات لڑتے رہے۔ اب ان لوگوں کو پی ٹی آئی میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٍ ملاقات کرنے والوں میں پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے میاں عبدلاحق مٹھو، سابق ایم این اے سردار خان کے بھتیجے افتخار احمد لونڈ ، اوباوڑو سے صوبائی ا سمبلی پر انتخاب لڑںے والے شہریار خان شر ، مرحوم سردار احمد یار شر کے بتھیجے اسفندیار شر، شکارپور سے افتخار سومرو شامل ہیں مل ہیں ۔
سردار احمد علی پتافی لونڈ سردار کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ لیکن وہ فی الوقت ایسا نہیں کریں گے وہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کا انتظار کریں گے۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ ان کے پیپلزپارٹی سے اختلافات ہیں اور سردار لونڈ سے قربت بڑھی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران سردار پتافی کے بھتیجے کے قتل کیس میں نامزد تحریک انصاف سندھ کے رہنما نادر اکمل لغاری کے ساتھ مصؒ حت ہوگئی ہے۔ اس مصلحت کرانے میں سردار خالد لونڈ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پارٹی میں شمولیت پر خود سردار خالد لونڈ جنہوں نے اس دورے کا ہتمام کیا تھا، انہوں نے بھی دو ٹوک فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوستوں سے مشورے کے بعد اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کے حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ان شخصٰات کو شمولیت کی دعوت دی ہے ، یہ لوگ باضابطہ اعلان ایک ماہ بعد جلسہ عام میں عمران خان کی موجودگی میں کریں گے۔ 
عمران خان کے دورے پر پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ منتازع معمالات کے علاوہ یہ بھی اہم امر ہے کہ عمران خاں صرف انتخابی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں ۔ وہ پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے صرف انتخابات جیتنے یا پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ ابالفاظ دیگر وہ سرداروں کے ذریعے سندھ میں سیاست کرنا چاہ رہے ہیں۔

ان سرداروں کی جانب سے ایک ماہ کی ’’مہلت‘‘ کا مطلب یہ ہے کہوہ کوئی عجلت میں فیصلہ کرنے کے بجائے حالات میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور ایم کیو ایم حوالے سے جو تبدیلی آرہی ہے، اس کو دیکھنا چاہتے 
ہیں ۔ اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو بھی دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
Nai Baat
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%DA%91%DB%8C-%D9%88%DA%A9%D9%B9-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D8%B1%D8%A7 
urdu columns online
http://www.urducolumnsonline.com/print-column-210308 
bathak
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-sep-9-2015-38223 
.facebook
https://www.facebook.com/permalink.php?id=1502357430018738&story_fbid=1645565239031289



زرداری کی نئی حکمت عملی : سہیل سانگی


زرداری کی نئی حکمت عملی 

میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی 
پیپلزپارٹی کے شیرک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ’’سخت ‘‘ دفاعی لائین اختیار کرنے کے باوجود سندھ اور پیپلزپارٹی پر دباؤ کم نہیں ہوا ہے بلکہ بڑھ گیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کی وجہ سے خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔ عسکری قوتوں نے تین صوبائی وزراء کو تفتیش کے لئے پیش کرنے کی فرمائش کردی ہے۔ محسوس ہو رہا ہے کہ عسکری قوتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد پارٹی ایک بار پھر سندھ کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہی ہے۔ جون کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی نکا جلاس ہوا ہے جس کی صدارت بلاول بھٹو نے کی۔ بلدیاتی انخابات کے پس منظر میں عمران خان سندھ کے دورے پر نکل پڑے ہیں۔ جس سے پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔ زرداری حالیہ بیان بیان کے بعد ایم کیو ایم کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اور وہ استعیفوں پر مصر ہے۔ ایک بار پھر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم قریب آگئی ہیں۔ گورنر سندھ زرادری صاحب سے ملاقات کے لئے دبئی میں ہیں۔ وفاقی وزیر ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کو نواز لیگ حکومت کے نمائندے کے طور پر نہیں لیا گیا۔ یہاں تک کہ خود ریٹائرڈ جنرل بلوچ نے بھی واضح کیا کہ یہ ملاقات ذاتی حیثیت میں کی تھی۔ لگتا ہے کہ انہوں نے ذات طور پر سید قائم علی شاہ کو مشورہ دیا یا کوئی ذاتی پیغام پہنچایا ہے۔ 
کیا پیپلزپارٹی جن مسائل اور بحران میں گھری ہوئی ہے، اس کا مقابلہ کرنے یا اس سے نکلنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بنا پائی ہے؟ سندھ میں یہ معاملہ بھی زیر بحث ہے کہ جب پارٹی اور سندھ اتنی تکلیف میں ہیں ایسے وقت میں قیادت بیرون ملک سے بیانات دے رہی ہے۔ 
جون کے وسط میں جب عسکری اسٹبلشمنٹ نے سندھ میں اعلیٰ سطح پر کرپشن کا حوالہ دیا تو زرادری صاحب عسکری اسٹبلشمنٹ پر برس پڑے تھے۔ اور کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے۔ لیکن حالیہ بیان میں وہ اب زرداری صاحب فوج کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اور اسکے بجائے نواز شریف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف پر بدعنوانی، خراب حکمرانی کے الزامات عائد کئے۔ تاہم انہوں نے سندھ میں کرپشن اور خراب حکمرانی اور اس کو ٹھیک کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ان کا پورا زور اس پر تھا کہ دوسرے بھی کرپشن کر رہے ہیں۔ صرف ہمیں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 



معاملہ کا ایک اور رخ بھی ہے۔ نواز لیگ حکومت سندھ میں آپریشن کو کس طرح سے چلا رہی ہے۔ بطور پارٹی کے اس کے پاس کوئی منصوبہ یا حکمت عملی نہیں کہ آپریشن کے کیا نتائج نکل رہے ہیں؟ آنے والے وقتوں میں کیا کرنا ہے؟ ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک اچھے سرکاری ملازم کے طور پر صرف فرائض کی بجاوری کر رہے ہیں۔ زرداری کے اتنا مشتعل ہونے پر نواز لیگ کو جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے اس موضوع پر فراریت اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ 
فوج کے خلاف بیان کے حوالے سے زرداری کی حکمت عملی نے کام نہیں دکھایا تو انہوں نے اپنی توپوں کا رخ جنرلوں کے بجائے وفاقی حکومت کی جانب کیا۔ زرداری صاحب نے نواز لیگ کے ساتھ اپنی طویل قربت اور مفاہمت کو خیر باد کہا اور اب نواز شریف کو بے وفائی کا طعنہ دے رہے ہیں۔ زرداری کا تازہ غصہ ان کے قریبی ساتھ ڈاکٹر عاصم کی کرپشن اور دہشتگردی کے لئے فنڈنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری کے بعد ظاہر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف ہی ان کے اس غصے کا واقعی ان کا نشانہ ہیں؟ یا دراصل سیکیورٹی فورس ہیں جو یہ کریک ڈاؤن کر رہی ہیں؟ اگرچہ کچھ عرصے سے پیپیلزپارٹی کا گھیراؤ تنگ ہورہا تھا لیکن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے پارٹی قیادت کے اندرطوفان برپا کر دیا۔ 
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ کا لہجہ بھی تیز ہوگیا تھا۔ لیکن زرداری کا بیان اپنی پارٹی کے دفاع کیبجائے دراصل نواز لیگ کو ایک چارج شیٹ تھی۔ زرداری کو پہلے سے اس حملے کا پتہ تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل عسکری قوتوں کے خلاف نہایت ہی سخت لہجے میں اظہار کیا تھا۔ انہوں نے عقلمندی یہ کی کہ بیرون ملک چلے گئے۔ اور اس علقمندی کی پیروی ان کے بعد دیگر رفقاء نے بھی کی۔ اب انہوں بھلے نواز شریف پر غصہ دکھایا ہے لیکن وہ بھی اور سب متعلقہ لوگ جانتے ہیں کہ آپریشن کے پیچھے نواز لیگ کی حکومت نہیں رینجرز ہے۔ 
ان کی نئی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ نواز شریف پر دباؤ ڈالنا چاہ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف فیصلہ کریں کہ وہ کونسی سائڈ میں کھڑے ہونا چاہتیہیں۔ نہیں لگتا کہ آصف علی زرداری کی یہ حکمت عملی اور دباؤ نواز شریف اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان کراچی آپریشن کے حوالے سے کوئی دراڑ ڈال سکے گا۔ زرداری کے اس بیان کے بعد نواز شریف نے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی کی یہ حکمت عملی فوجی قیادت کو اپنا موقف سخت کرنے کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ زرداری کے گزشتہ بیان کے بعد سندھ حکومت کے دفاتر پر رینجرز اور نیب کے چھاپوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر عاصم اس یقین دہانی پر حال ہی میں بیرون ملک سے وطن لوٹے تھے کہ ان کا نام مطلوبہ افراد کی لسٹ میں شامل نہیں۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ رینجرز کی مطلوبہ افراد کی لسٹ سے وزیراعلیٰ کو بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ اور وزیراعلیٰ نے اسی حوالے سے کہا تھا کہ کم از کم ہمیں بھی بتایا جاتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنی پوزیشن پارٹی کے پاس کلیئر کر رہے تھے۔ 
سوال یہ ہے کہ اب کس کی باری ہے؟ پیپلزپارٹی کے لئے یہ صدمے کی بات ہے کہ ان کا پیٹرولیم وزیر انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کرفتار ہے۔ انسداد دہشتگردی کا قانون رینجرز کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو بھتہ خوری اور کرپشن میں ملوث ہونے پر گرفتار کر سکتا ہے۔ اب پیپلزپارٹی صرف اتنا ہی کر سکتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عاصم کے دفاع کے لئے عدالتی جنگ لڑے۔ رینجرز کو زیادہ اختیارات نے آپریشن کا دائرہ سیاسی کارکنوں تک بڑھا دیا ہے۔ جو بھتہ خوری، زمین پر قبضے اور دیگر کرائیم میں ملوث ہیں۔ اس کا آغاز ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو سے ہوا تھا۔ جہاں سے درجنوں کارکنان گرفتار ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ایجنسیوں کے اس عمل کو درست قرار دیتی رہی ۔ 
کچھ ہی عرصے بعد توپوں کا رخ پیپلزپارٹی طرف ہو گیا۔ کرپٹ افسران کو نیٹ میں لانے کے لئے بہت سارا مواد موجود تھا۔ 
فوج کی نگرانی میں جاری کراچی آپریشن کی وجہ سے شہر میں تشدد کے واقعات میں نمایاں میں آئی ہے۔ جو ملک کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کمی ٹارگیٹ کلنگ، مختلف جرائم کی مافیاؤں کی سرگرمیوں میں بھی آئی ہے جو اپنا اثر اور دائرہ اختیار بڑھانے کے لئے لڑ رہی تھیں۔ 



لیکن یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ کیا عسکری اسٹبلشمنٹ سیاسی دندل میں تو نہیں پھنس رہی؟ آپریشن کا دائر بڑھنے کی وجہ سے وہ صوبے کی دو طاقتور سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں آگئی ہے۔ 
حکومت ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہے کہ وہ اسمبلیوں سے اپنے استعیفے واپس لے۔ لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ خود کو آپریشن کریک ڈاؤن سے الگ کر لے۔ اب جب پیپلزپارٹی بھی میدان میں آ گئی ہے تو صورتحال کچھ مزید گڑبڑ ہو گئی ہے۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی نے حساب لگا کر کھیل شروع کیا ہے۔ لیکن وہ اس میں ہار سکتی ہے۔ وفاقی حکومت اس عمل میں عسکری اسٹبلشمنٹ کو مزید اسپیس دے سکتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے زور دینے پر کرپشن کے خلاف کارروائی کا دائرہ صرف سندھ 
تک محدود نہ رہے اور پنجاب وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں۔ 


 sent on - 
Sohail Sangi
 published on Sept 7, 2015 Nai Baat

Friday, September 4, 2015

کرپشن معاملات: بلا امتیاز کارروائی کی ضرورت: سہیل سانگی

سہیل سانگی  

کرپشن معاملات: بلا امتیاز کارروائی کی ضرورت

کراچی میں جاری آپریشن اب آہستہ آہستہ پیپلزپارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا تھا، تب اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ آنے والے وقتوں میں یہ آپریشن پیپلزپارٹی کو بھی اپنے حصار میں لے گا۔ ایم کیو ایم کے خلاف قتل، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائم اور دیگر اس طرح کے الزامات کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ اس دائرے میں ایم کیو ایم کے نچلی سطح کے کارکنان آرہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں کارکنوں کے بجائے ہائی پروفائیل شخصیات پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ اس ضمن میں بعض افسران کی گرفتاری اور بعض کی بعد گرفتاری رہائی اہمیت کی حامل ہے۔ صوبائی دارلحکومت میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ ان گرفتار شدگان سے تفصیلات جمع کی گئیں اور و بیانات ریکارڈ کر لئے گئے ہیں۔اور اب یہ رسی آہستہ آہستہ سرکتی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قاسم ضیا اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم گرفتاری ہو چکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں ۔آخر کچھ تو محسوس کیا گیا کہ کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراور پارٹی کے سنیئر رہنما سید خورشید شاہ کو یہ دھمکی دینی پڑی کہ اگر آصف زرادری پر ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ ہوگی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی، مرتضیٰ بھٹو کا پر اسرار حالات میں قتل ہوا، بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، تب اس طرح کی جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اور جمہوریت بہترین انتقام ہے اور مفاہمت بہترین آلہ ہے کی اصطلاحات نہ صرف ایجاد ہوئیں بلکہ ان پر بھرپور طریقے سے عمل بھی کیا گیا۔
یہ درست ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ سندھ کے معاملات پر میڈیا سے لیکر تمام وفاقی اداروں اور حکومت کی نظر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صرف پیپلزپارٹی نے ہی کرپشن کی ہے؟ یا یہ کہ صرف سندھ میں ہی کرپشن ہوئی ہے؟ کیا نواز لیگ کے سرکردہ رہنما اس الزام سے پاک ہیں۔ کیا سندھ کے
علاوہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، یا وفاق میں کام کرنے والی بیوروکریسی اور ادارے کرپشن سے بالاتر ہیں ؟ اس کا مطلب یہ نہیں لیا جائے کہ پیپلزپارٹی کے ہائی پروفائیل شخصیات نے کرپشن نہیں کی یا ان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ کرپشن کے معاملے کو بلا امتیاز سب کے خلاف ہونا چاہئے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کرائم اور کرپشن کے خاتمے کے لئے شروع کی گئی مہم کو نقصان پہنچے گا۔ اس آپریشن کی جو عوامی سطح پر واہ واہ ہوئی ہے اس کو بھی دھچکہ لگے گی۔ اس کے سیاسی معنی اور مفہوم بدل جاتے ہیں اور صورتحال یہ بنتی ہے کہ پھر ظلم کی اور مظلوموں کی داستانیں شروع ہو جاتی ہیں۔
نواز لیگ حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ ایک طرف پنڈی سے تعلقات میں بہتری نہیںآسکی۔ جس کا اظہار سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ اور خواجہ آصف کے بیانات سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف اپنے قبیلے یعنی سیاستدانوں سے بھی تعلقات میں گرمجوشی اور خوشگواری نہیں۔ یعنی پارلیمنٹ میں موجواکثر سیاسی جماعتوں سے بگاڑی ہوئی ہے۔ پہلے تحریک انصاف تھی، اس کے بعد ایم کیو ایم کا اس میں اضافہ ہوا۔ اور اب اس نظام میں نواز لیگ کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی زیر عتاب آگئی ہے۔ نواز شریف کے لئے یہ بھی مسئلہ ہے کہ کسی کے بھی خلاف کارروائی کرنے یا روکنے کے اختیارات عملاً ان کے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایم کیو ایم کے بعد پیپلزپارٹی بھی اس لپیٹ میں ہے۔ اس سے پیپلز پارٹی کو بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ اس نے پارٹی اور حکومت کے اندر خود احتسابی عمل کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ نہ صرف اتنا بلکہ پارٹی اور اس کی قیادت نے خود کو اقتدار کے ایوانوں میں مقید کر لیا۔ پارٹی کو ایسے خطوط پر استوار کیا جس میں عوام سے دوری اور موقع پرست اور اقتدار پسند مخصوص مفادات رکھنے والوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ ملا۔
ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ کسی ایک دو سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مطالبے پر کارروائی کی جاتی تھی۔ اس مرتبہ طریقہ کار مختلف اختیار کیا گیا ہے۔یعنی اس کارروائی کی تمام سیاسی جماعتوں سے منظوری لی گئی ہے۔ سندھ میں آپریشن کے انچارج وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہیں اور ان کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یہ کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اتنی بڑی کارروائی پر ہمیں مطلع ہی نہیں کیا جاتا۔ وزیراعلیٰ یہاں تک کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ سندھ پر حملہ ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنا از حد ضروری ہے کہ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم یا سندھ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ مقتدرہ حلقوں کو اس آپریشن کو شفاف بنانا ہوگا۔ مختلف شکوک شبہات دور کرنے پڑیں گے۔اصل میں بحران کئی رخوں اور جہتوں میں چلا گیا ہے۔ اس کے سیاسی، آئینی ، امن و امان ، کرائم اور کرپشن کے پہلو بھی ہیں تو انتظامی بھی ہیں۔ ایسے بھی بہت ہی احتیاط سے فیصلے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کرپشن کے خلاف کارروائی کو صرف ایک صوبے یا ایک دو پارٹی تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے برابر ہی اس بات کی اہمیت ہے کہ ہر ادارے کو اپنے آئینی ا ختیارات میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔

زرداری کی نئی حکمت عملی


زرداری کی نئی حکمت عملی 
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی 
پیپلزپارٹی کے شیرک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ’’سخت ‘‘ دفاعی لائین اختیار کرنے کے باوجود سندھ اور پیپلزپارٹی پر دباؤ کم نہیں ہوا ہے بلکہ بڑھ گیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کی وجہ سے خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔ عسکری قوتوں نے تین صوبائی وزراء کو تفتیش کے لئے پیش کرنے کی فرمائش کردی ہے۔ محسوس ہو رہا ہے کہ عسکری قوتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد پارٹی ایک بار پھر سندھ کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہی ہے۔ جون کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی نکا جلاس ہوا ہے جس کی صدارت بلاول بھٹو نے کی۔ بلدیاتی انخابات کے پس منظر میں عمران خان سندھ کے دورے پر نکل پڑے ہیں۔ جس سے پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔ زرداری حالیہ بیان بیان کے بعد ایم کیو ایم کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اور وہ استعیفوں پر مصر ہے۔ ایک بار پھر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم قریب آگئی ہیں۔ گورنر سندھ زرادری صاحب سے ملاقات کے لئے دبئی میں ہیں۔ وفاقی وزیر ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کو نواز لیگ حکومت کے نمائندے کے طور پر نہیں لیا گیا۔ یہاں تک کہ خود ریٹائرڈ جنرل بلوچ نے بھی واضح کیا کہ یہ ملاقات ذاتی حیثیت میں کی تھی۔ لگتا ہے کہ انہوں نے ذات طور پر سید قائم علی شاہ کو مشورہ دیا یا کوئی ذاتی پیغام پہنچایا ہے۔ 
کیا پیپلزپارٹی جن مسائل اور بحران میں گھری ہوئی ہے، اس کا مقابلہ کرنے یا اس سے نکلنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بنا پائی ہے؟ سندھ میں یہ معاملہ بھی زیر بحث ہے کہ جب پارٹی اور سندھ اتنی تکلیف میں ہیں ایسے وقت میں قیادت بیرون ملک سے بیانات دے رہی ہے۔ 
جون کے وسط میں جب عسکری اسٹبلشمنٹ نے سندھ میں اعلیٰ سطح پر کرپشن کا حوالہ دیا تو زرادری صاحب عسکری اسٹبلشمنٹ پر برس پڑے تھے۔ اور کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے۔ لیکن حالیہ بیان میں وہ اب زرداری صاحب فوج کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اور اسکے بجائے نواز شریف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف پر بدعنوانی، خراب حکمرانی کے الزامات عائد کئے۔ تاہم انہوں نے سندھ میں کرپشن اور خراب حکمرانی اور اس کو ٹھیک کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ان کا پورا زور اس پر تھا کہ دوسرے بھی کرپشن کر رہے ہیں۔ صرف ہمیں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 

معاملہ کا ایک اور رخ بھی ہے۔ نواز لیگ حکومت سندھ میں آپریشن کو کس طرح سے چلا رہی ہے۔ بطور پارٹی کے اس کے پاس کوئی منصوبہ یا حکمت عملی نہیں کہ آپریشن کے کیا نتائج نکل رہے ہیں؟ آنے والے وقتوں میں کیا کرنا ہے؟ ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک اچھے سرکاری ملازم کے طور پر صرف فرائض کی بجاوری کر رہے ہیں۔ زرداری کے اتنا مشتعل ہونے پر نواز لیگ کو جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے اس موضوع پر فراریت اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ 
فوج کے خلاف بیان کے حوالے سے زرداری کی حکمت عملی نے کام نہیں دکھایا تو انہوں نے اپنی توپوں کا رخ جنرلوں کے بجائے وفاقی حکومت کی جانب کیا۔ زرداری صاحب نے نواز لیگ کے ساتھ اپنی طویل قربت اور مفاہمت کو خیر باد کہا اور اب نواز شریف کو بے وفائی کا طعنہ دے رہے ہیں۔ زرداری کا تازہ غصہ ان کے قریبی ساتھ ڈاکٹر عاصم کی کرپشن اور دہشتگردی کے لئے فنڈنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری کے بعد ظاہر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف ہی ان کے اس غصے کا واقعی ان کا نشانہ ہیں؟ یا دراصل سیکیورٹی فورس ہیں جو یہ کریک ڈاؤن کر رہی ہیں؟ اگرچہ کچھ عرصے سے پیپیلزپارٹی کا گھیراؤ تنگ ہورہا تھا لیکن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے پارٹی قیادت کے اندرطوفان برپا کر دیا۔ 
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ کا لہجہ بھی تیز ہوگیا تھا۔ لیکن زرداری کا بیان اپنی پارٹی کے دفاع کیبجائے دراصل نواز لیگ کو ایک چارج شیٹ تھی۔ زرداری کو پہلے سے اس حملے کا پتہ تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل عسکری قوتوں کے خلاف نہایت ہی سخت لہجے میں اظہار کیا تھا۔ انہوں نے عقلمندی یہ کی کہ بیرون ملک چلے گئے۔ اور اس علقمندی کی پیروی ان کے بعد دیگر رفقاء نے بھی کی۔ اب انہوں بھلے نواز شریف پر غصہ دکھایا ہے لیکن وہ بھی اور سب متعلقہ لوگ جانتے ہیں کہ آپریشن کے پیچھے نواز لیگ کی حکومت نہیں رینجرز ہے۔ 
ان کی نئی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ نواز شریف پر دباؤ ڈالنا چاہ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف فیصلہ کریں کہ وہ کونسی سائڈ میں کھڑے ہونا چاہتیہیں۔ نہیں لگتا کہ آصف علی زرداری کی یہ حکمت عملی اور دباؤ نواز شریف اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان کراچی آپریشن کے حوالے سے کوئی دراڑ ڈال سکے گا۔ زرداری کے اس بیان کے بعد نواز شریف نے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی کی یہ حکمت عملی فوجی قیادت کو اپنا موقف سخت کرنے کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ زرداری کے گزشتہ بیان کے بعد سندھ حکومت کے دفاتر پر رینجرز اور نیب کے چھاپوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر عاصم اس یقین دہانی پر حال ہی میں بیرون ملک سے وطن لوٹے تھے کہ ان کا نام مطلوبہ افراد کی لسٹ میں شامل نہیں۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ رینجرز کی مطلوبہ افراد کی لسٹ سے وزیراعلیٰ کو بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ اور وزیراعلیٰ نے اسی حوالے سے کہا تھا کہ کم از کم ہمیں بھی بتایا جاتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنی پوزیشن پارٹی کے پاس کلیئر کر رہے تھے۔ 
سوال یہ ہے کہ اب کس کی باری ہے؟ پیپلزپارٹی کے لئے یہ صدمے کی بات ہے کہ ان کا پیٹرولیم وزیر انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کرفتار ہے۔ انسداد دہشتگردی کا قانون رینجرز کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو بھتہ خوری اور کرپشن میں ملوث ہونے پر گرفتار کر سکتا ہے۔ اب پیپلزپارٹی صرف اتنا ہی کر سکتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عاصم کے دفاع کے لئے عدالتی جنگ لڑے۔ رینجرز کو زیادہ اختیارات نے آپریشن کا دائرہ سیاسی کارکنوں تک بڑھا دیا ہے۔ جو بھتہ خوری، زمین پر قبضے اور دیگر کرائیم میں ملوث ہیں۔ اس کا آغاز ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو سے ہوا تھا۔ جہاں سے درجنوں کارکنان گرفتار ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ایجنسیوں کے اس عمل کو درست قرار دیتی رہی ۔ 
کچھ ہی عرصے بعد توپوں کا رخ پیپلزپارٹی طرف ہو گیا۔ کرپٹ افسران کو نیٹ میں لانے کے لئے بہت سارا مواد موجود تھا۔ 
فوج کی نگرانی میں جاری کراچی آپریشن کی وجہ سے شہر میں تشدد کے واقعات میں نمایاں میں آئی ہے۔ جو ملک کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کمی ٹارگیٹ کلنگ، مختلف جرائم کی مافیاؤں کی سرگرمیوں میں بھی آئی ہے جو اپنا اثر اور دائرہ اختیار بڑھانے کے لئے لڑ رہی تھیں۔ 

لیکن یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ کیا عسکری اسٹبلشمنٹ سیاسی دندل میں تو نہیں پھنس رہی؟ آپریشن کا دائر بڑھنے کی وجہ سے وہ صوبے کی دو طاقتور سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں آگئی ہے۔ 
حکومت ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہے کہ وہ اسمبلیوں سے اپنے استعیفے واپس لے۔ لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ خود کو آپریشن کریک ڈاؤن سے الگ کر لے۔ اب جب پیپلزپارٹی بھی میدان میں آ گئی ہے تو صورتحال کچھ مزید گڑبڑ ہو گئی ہے۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی نے حساب لگا کر کھیل شروع کیا ہے۔ لیکن وہ اس میں ہار سکتی ہے۔ وفاقی حکومت اس عمل میں عسکری اسٹبلشمنٹ کو مزید اسپیس دے سکتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے زور دینے پر کرپشن کے خلاف کارروائی کا دائرہ صرف سندھ تک محدود نہ رہے اور پنجاب وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں۔