Monday, September 7, 2015

عمران خان سندھ میں کوئی بڑی وکٹ نہیں گرا سکے : سہیل سانگی


عمران خان سندھ میں کوئی بڑی وکٹ نہیں گرا سکے 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یک مرتبہ پھر سندھ میں پارٹی کے لءئے جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے دو روزہ دورے کے دوران کوئی بڑی وکٹ گرا نہ سکے ۔سندھ میں مختلف مقامات پر اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی طاقتور اور بااثر حلقے تبدیلی اور قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہیں۔ ہر مرتبہ وہی چہرے بھیس بدل کرآتے ہیں اور حکمرانی کرتے ہیں۔لیکن عملا وہ اس کے برعکس کر رہے ہیں ۔ حالیہ دورے میں ان کا تمام تر زور گھوٹکی کے سرداروں کو اپنے ساتھ جوڑنے اور پارٹی میں شمولیت پر رہا۔ اس عمل کو نہایت ہی غور سے دیکھا جرہا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار عمران خان سندھ میں پارٹی کی حمایت سرداروں میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ 

گھوٹکی سرداروں کا ضلع سمجھا جاتا ہے، جہاں دو قبائل مہر اور لونڈ کے سرداروں کے درمیان سیاسی و سماجی کشمکش رہتی ہے۔ آج کل مہر پیپلزپارٹی میں ہیں اور لونڈ پیپلزپارٹی سے باہر ہیں یعنی ماضی میں لونڈ گروپ اب پی ٹیّ ئی کی شکل میں اب مہر گروپ کے سامنے کھڑا ہے۔

عمران خان نے سندھ میں اپنی نئی کوشش کا آغاز دو حوالوں سے متناع معاملات سے شروع کیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے دورہ سندھ سے پہلے کالاباغ ڈیم کے حق میں بیان دیا ۔یہ بیان دے کر انہوں نے پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ پنجاب کے مفادات پر سودے بازی نہیں کرنے جارہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم کے معاملے میں سندھ بہت ہی حساس ہے۔ خواہ قوم پرست پارٹی، ہو پیپلزپارٹی یا کوئی اور وفاق پرست پارٹی سب کے سب پانی کے اس منصوبے کی مخالف ہیں۔ جس کا اظہار وہ بارہا اسمبلی کے اندر خواہ باہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس موقعہ پر ڈیم میں حمایت میں اپنے موقف کا اظہار کر کے اپنے لئے جگہ کم کردی۔ 
دوسرا متنازع معاملہ پیر آف بھرچونڈی عبدالحق عرف میاں مٹھو کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی کوششیں۔ اگرچہ تحریک انصاف نے میاں مٹھو کی پارٹی میں شمولیت کی تردید کی ہے لیکن عمران خان ان کے پاس چل کر گئے تھے۔ اور بعد میں جن بااثر لوگوں سے انہوں نے ملاقات کی ان میں میاں مٹھو بھی شامل ہیں ۔ میاں مٹھو پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے ہیں ۔ ان پرہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرانے کا الزام ہے ۔ اس ضمن میں نوجوان لڑکی رینکل کماری کو مذہب تبدیل کرا کے شادی کرانے کا کیس زیادہ مشہور ہوا۔ ان کی شمولیت کے معاملے پر سندھ کے روشن خیال اور اقلیتوں کو تحفظات ہیں۔ 
لہذا خان صاحب کسی مقبول نعرے اور مقبولیت شخصیت کے ذریعے سندھ میں آتے تو ان کے لئے شیاد زیادہ کھلا میدان ہوتا۔ کالا باغ ڈٰم کے حوالے سے چاہے وہ کتنا بھی پنجاب کے مخصوص مفادت کو پورا کرنے کا وعدہ کریں ،لیکن ایس اہو نہیں سکتا۔ کیونکہ جنرل پرویز مشرف جیسے پاور فل حکمران بھی ڈیم نہیں بنا سکے۔ 
عمران خان نے اس دورے کے دوران پیپلزپارٹی مخالف افراد کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔ معاملہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ ان رہنماؤں میں اکثر وہ شامل ہیں جو پہلے پیپلزپارٹی میں تھے۔ بعد میں اختلافات یا ناراضگیوں کی وجہ سے علحدہ ہوگئے۔ یہ لوگ بعد میں کسی دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے یا پھر بطور آزاد امیدوار انتخابات لڑتے رہے۔ اب ان لوگوں کو پی ٹی آئی میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٍ ملاقات کرنے والوں میں پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے میاں عبدلاحق مٹھو، سابق ایم این اے سردار خان کے بھتیجے افتخار احمد لونڈ ، اوباوڑو سے صوبائی ا سمبلی پر انتخاب لڑںے والے شہریار خان شر ، مرحوم سردار احمد یار شر کے بتھیجے اسفندیار شر، شکارپور سے افتخار سومرو شامل ہیں مل ہیں ۔
سردار احمد علی پتافی لونڈ سردار کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ لیکن وہ فی الوقت ایسا نہیں کریں گے وہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کا انتظار کریں گے۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ ان کے پیپلزپارٹی سے اختلافات ہیں اور سردار لونڈ سے قربت بڑھی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران سردار پتافی کے بھتیجے کے قتل کیس میں نامزد تحریک انصاف سندھ کے رہنما نادر اکمل لغاری کے ساتھ مصؒ حت ہوگئی ہے۔ اس مصلحت کرانے میں سردار خالد لونڈ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پارٹی میں شمولیت پر خود سردار خالد لونڈ جنہوں نے اس دورے کا ہتمام کیا تھا، انہوں نے بھی دو ٹوک فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوستوں سے مشورے کے بعد اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کے حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ان شخصٰات کو شمولیت کی دعوت دی ہے ، یہ لوگ باضابطہ اعلان ایک ماہ بعد جلسہ عام میں عمران خان کی موجودگی میں کریں گے۔ 
عمران خان کے دورے پر پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ منتازع معمالات کے علاوہ یہ بھی اہم امر ہے کہ عمران خاں صرف انتخابی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں ۔ وہ پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے صرف انتخابات جیتنے یا پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ ابالفاظ دیگر وہ سرداروں کے ذریعے سندھ میں سیاست کرنا چاہ رہے ہیں۔

ان سرداروں کی جانب سے ایک ماہ کی ’’مہلت‘‘ کا مطلب یہ ہے کہوہ کوئی عجلت میں فیصلہ کرنے کے بجائے حالات میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور ایم کیو ایم حوالے سے جو تبدیلی آرہی ہے، اس کو دیکھنا چاہتے 
ہیں ۔ اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو بھی دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
Nai Baat
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%DA%91%DB%8C-%D9%88%DA%A9%D9%B9-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D8%B1%D8%A7 
urdu columns online
http://www.urducolumnsonline.com/print-column-210308 
bathak
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-sep-9-2015-38223 
.facebook
https://www.facebook.com/permalink.php?id=1502357430018738&story_fbid=1645565239031289



No comments:

Post a Comment