میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی انتخابات واقعی کچھ تبدیل کردیں گے؟ بظاہر ایسے آثار نظر نہیں آتے۔سیاسی وڈیرے تمام اہم منصب اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اس عمل میں ان کی معان و مددگار بن رہی ہیں۔ سندھ میں لگتا ہے کہ اختیار و اقتدار سیاسی بھوتاروں کا حسبی نسبی حق بن گیا ہے۔ وہ صرف اسمبلیوں میں ہی نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے اچھے منصب بھی اپنے ہی خاندان میں رکھنا چاہ رہے ہیں۔ بڑوں کے پاس اسمبلی کی نشستیں ہونگی۔ اور چھوٹوں کے پاس بلدیاتی منصب۔ بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہیں۔آٹھ اضلاع میں کاغذات نامزدگی داخل کئے جاچکے ہیں۔ جو نام سامنے آرہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ ضلع کی چیئرمنی سے لیکر تحصیل کونسل اور یونین کونسل تک کے عہدے اپنے ہی خاندانوں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ دہائیوں سے حریف خاندان بھی آپس میں اتحاد کرکے شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ نئی صف بندی ہورہی ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ان جدی پشتی بھوتاروں کی مرضی بلکہ کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی نتائج طے کر لئے جائیں۔
بالادست طبقہ حاکمانہ ذہنیت کی وجہ سے متوسط اور نچلی طبقات کو عملا شرکت سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ سیاسی وڈیرے آپس میں عہدوں اور منصبوں کی بندر بانٹ کرکے عوام کے لئے کوئی اور آپشن چھوڑنا نہیں چاہتے۔
بلدیاتی انتخابات کے لئے یہ خیال ہے کہ اس سے عام لوگوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اور اختیار و اقتدار نچلی سطح تک آسکتا ہے۔ لیکن سندھ میں جو وہ نچلی سطح بھ خاصی اونچی کھڑی ہوئی ہے۔ نہیں لگتا کہ کسی طور پر اختیار و اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ہو سکے گی۔ بلکہ یہ اختیار انہی خاندانوں کے پاس ہی رہے گا۔ سندھ کا بااثر خاندان اور وڈیرے اختیارات اور مال جمع کرنے والے تمام عہدے اور منصب اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔
اگرچہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کے خاندان سے ہٹ کر کارکنوں ٹکٹ دی جائے گی۔ لیکن زمین پر حقائق پارٹی چیئرمین کے اعلان کے برعکس ہے۔ آٹھ اضلاع میں جو امیدوار سامنے آئے ہیں وہ پارٹی چیئرمین کے اعلان مذاق اڑا رہے ہیں پارٹی کی قیادت کو بھی پتہ ہے۔ میڈیا میں خبریں بھی شایع ہورہی ہیں۔ لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس اعلان کی انحرافی کا نوٹس لینے کے لئے تیار نہیں۔
آئیے ایک نظر چند امیدواروں پر ڈالتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، اور فنکشنل مسلم لیگ کے صدر پیر صدرالدین شاہ کے فرزندان گرامی بھی میدان میں ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے بھتیجے سید امجد علی شاہ نے بلدیہ خیرپور کی چیئرمینی کے لئے ، ان کے بھانجے یعنی سابق ایم این اے سید جاوید علی شاہ کے بیٹے سید فہد علی شاہ نے یونین کونسل پیر جو گوٹھ کے چیئرمین کے لئے امیدوار ہیں۔ سابق ایم پی اے سید فضل علی شاہ کے دو چچازاد بھائیوں سابق ضلع ناظم سید نیاز علی شاہ اور فیاض شاہ جیلانی نے ضلع کونسل کے رکنیت کے لئے کاغذات داخل کئے ہیں۔ صوبائی وزیر منظور حسین وسان کے دو بھتیجے اور ایک بھانجہ ضلع کونسل کی رکنیت کے لئے امیدوار ہیں۔ اسی خاندان کے تین اور افراد ساجن علی وسان، ریاض وسان اور تنویر وسان بھی میدان میں ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے نعیم کھرل کے شاہ حسین کھرل، اسفندیار کھرل، اور جانی کھرل ممبر ضلع کونسل اور یونین کونسل کے چیئرمین شپ کے لئے امیدوار ہیں ۔ ایم این اے کاظم علی شاہ کے بھانجے سید عباس علی شاہ ک نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔ ایم این اے علی گوہر کے بیٹے حاجی خان مہر ممبر ضلع کونسل، اور ان کے دوسرے بیٹے علی احمد مہر نے ٹاؤن کمیٹی خانپور کے چیئرمین شپ کے امیدوار ہیں۔
لاڑکانہ میں صوبائی وزیر دخلہ سہیل انور سیال کے بھائی طارق انور سیال ضلع کونسل کے چیئرمین شپ کے امیدوار ہیں۔ ان کے مقابلے میں سابق ایم پی اے حزب اللہ بگھیو کے بیٹے اور سابق صوبائی وزیر الطاف انڑ کے بیٹے نے فارم جمع کرائے ہیں۔ یہاں عباسی فیمیلی سے دو امیدوار ہیں۔
یہ صورتحال سندھ کی حکمران پارٹی تک محدود نہیں، دیگر پارٹیاں بھی اسی راستے پر چل رہی ہیں۔ حالیہ جوڑ توڑ کے نتیجے میں گھوم پھر کے وہی چہرے سامنے آنے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو عوام کئی مرتبہ آزما چکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ فرق یہ آئے گا کہ باپ کی جگہ بیٹا یا بڑے بھائی کی جگہ چھوٹا بھائی ہوگا۔ کہیں کہیں بھانجا بھتیجا یا داماد بھی ہو گا۔
فنکشنل لیگ کے صدر پیر صدرالدین شاہ کے بیٹے پیر اسماعیل شاہ اور قریبی رشتہ دار پیر نجیب راشدی بھی رکن ضلع کونسل بننا چاہتے ہیں۔ گھوٹکی میں سابق وفاقی وزیر خالد لونڈ کے بیٹے شہباز لونڈ رکن ضلع کونسل کے امیدوار ہیں۔ سابق ایم این اے میاں مٹھو کے بیٹے میاں رفیق، اور صوبائی وزیر مہتاب ڈہر کے بھتیجے یاسر ڈہر نے فارم داخل کئے ہیں۔
شکارپور میں سابق ایم این اے غوث بخش مہر کے بیٹے عارف مہر (سابق ضلع ناظم)، اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کے بھائی مسیح الدین درانی ، سابق ایم پی اے ہمت علی کماریو کے بیٹے امیر علی کماریو، سابق صوبائی وزیر عابد حسین جتوئی کے بیٹے امیر علی جتوئی، بھی امیدوار ہیں شکارپور کی بھیو خاندان کے بھی امیدوار ہیں۔ شکارپور بلدیہ کے لئے شہید اللہ بخش کے پوتے عقیل سومرو، سابق ایم پی اے مقبول شیخ کے دو بیٹے، سابق صوبائی وزیر امتیاز شیخ کے بیٹے امیدوار ہیں۔
مشرف دور میں جب ضلع ناظم کا انتخاب ہو رہے تھے تب ایک گروپ چھایا ہوا تھا۔ اب دوسرا گروپ حکمرانی کرے گا۔ میوزیکل چیئر کا کھیل ہے جو وقفے سے جاری رہے گا۔
Sohail Sangi
Sept 14, 2015 written for Nai Baat
15/09/2015 بڑے خاندانوں کے افراد پھر میدان میں
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/31560
No comments:
Post a Comment