Friday, September 18, 2015

صرف زرداری ہی نہیں نواز شریف بھی۔۔۔


صرف زرداری ہی نہیں نواز شریف بھی۔۔۔

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
آصف زرادری کے گزشتہ دنوں کے اس بیان نے کہ سندھ میں تمام معاملات کو خراب کرنے کئے نواز شریف ذمہ دار ہیں۔ اچانک میاں نواز شریف کو سندھ یاد آیا اور یہاں اپنی پارٹی کے بچے کھچے باقیات بھی یاد آئے۔انہوں نے آصف زرداری کے بیان کا نوٹس لینے کے بعد مسلم لیگ نون کے اراکین سے اسلام آباد میں ملاقات کر کے سندھ میں پارٹی کو فعال بنانے کی ہدایات دیں۔ یہ اجلاس اور اس میں دی گئی ہدایات دراصل آصف زرداری کے چیلینج کا مقابل کرنے کے لئے تھے۔ کہ اگر پیپلزپارٹی نواز حکومت کے ساتھ گڑبڑ کرے گی تو نواز لیگ جو سندھ میں پیپلزپارٹی کو فری ہینڈ دئے ہوئے ہے، وہ بھی اپنا رول ادا کرے گی۔ 



سچی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف نے بہت عرصہ پہلے سندھ سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ اور اس صوبے کو یوں سمجھیں کہ غیر تحریری معاہدے کے تحت پیپلزپارٹی کو لکھ کر دے دیا تھا۔گزشتہ انتخابات کے موقع پرہم نے یہ بات واضح طور پر لکھی تھی کہ نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں بن رہے ہیں۔ وہ قوم پرستوں کی پراکسی کے ذریعے پیپلزپارٹی کا قد گھٹانے یا اسکو سندھ میں ہی مصروف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


انہوں نے اس موقعہ پر قوم پرستوں کے ساتھ ہنی مون بھی کیا، جس کی مدت صرف انتخابات تک ہی رہی۔ جب ہنی مون ختم ہوا تو وہ سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کئے گئے وعدے اور اتحاد کے لئے ساتھ چلنے کے قدم اقتدار میں آنے کے بعد وہ بھول گئے۔ 


اقتدار میں آنے کے لئے دوسرے صوبوں کی حمایت لازمی ہوتی ہے۔ اس کے لئے نواز لیگ نے یہ حکمت عملی بنائی کہ سندھ میں عام رائے بٹی ہوئی ہے۔ صرف پیپلزپارٹی اس جنگل کی شیر نہیں۔ ہم نہیں تو ہمارے اتحادی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے اتحادیوں کو بعد میں گیدڑ بنادیا گیا تو وہ خاموش رہے۔ 


اب وفاقی حکومت ایک سینگ پر کھڑی ہے۔ وہ ہے پنجاب ۔ کیا وفاقی حکومت یک صوبے کے کھمبے پر کھڑا سکتا ہے ؟ جہاں تک سندھ کا معاملہ ہے اگر نواز شریف انتخابات کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کو مثبت جواب دیتے، سندھ کے حوالے سے کچھ چیزیں دیتے تو سندھ میں یہ احساس اتنی شدت سے نہیں ابھرتا ۔ جو لوگ مالک اور قوم کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں وہ ووٹ یا ووٹروں کے سر نہیں گنتے۔


دراصل اس کے لئے ایک لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لگاؤ ملنے والے ووٹوں سے مشروط نہیں ہوتا۔تاریخ میں جو لوگ زندہ رہتے ہیں اور اسٹیتس مین کہلاتے ہیں ان کے نزدیک کسی ایک یا دو انتخابات میں ووٹ کا ملنا یا نہ ملنا بڑی بات نہیں۔ ایک الیکشن میں ووٹ نہ ملے تو دوسری میں مل جائیں گے۔ اصل بات حکمت عملی اور لوگوں اور ملک سے لگاؤ کی ہے۔ لیکن یہاں تو عوام سے محبت ووٹوں سے مشروط ہے۔تاریخ بتاتی ہے مشروط سیاست کرنے والے کبھی بھی عوام میں خوشحالی نہیں لاسکتے اور نہ ہی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کا اقتدار بھی کوئی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہتا۔ 


یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں ووٹ تو گنے جاتے ہیں لیکن عوام کے زخم نہیں گنے جاتے۔ آج سندھ کا عوام سیاستدانوں کے بیانات میں تماشہ بنا ہوا ہے۔ یہاں کی دو بڑی جماعتیں جن کو عوام نے ووٹ دیا مختلف الزامات کے تحت زیر عتاب ہیں۔ یہ صوبہ ترقی سے کوسوں دور کھڑا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بظاہر کرپشن کے الزامات کے خوف سے صوبے کے 36 محکموں میں ترقیاتی بجٹ کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو سکا ہے۔ حالانکہ ان محکموں کے لئے تقریبا پچیس ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔ 


آصف زرداری صاحب نواز شریف پر سیاسی الزامات عائد کرتے ہیں۔ اس شکوہ شکایت میں پیپلزپارٹی اور اس کے لوگ تو موجود ہیں لیکن عوام غائب ہے۔ اس میں عوام کی کوئی دلچسپی نہیں۔ عوام کی دلچسپی اس میں ہے کہ ان کو واقعی کیا ملا؟ 


شاید نواز شریف کے پاس بھی اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوگا کہ انہوں نے سندھ کے لئے کیا کیا؟ وہ تو اس معاملے میں خود کو نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ نواز شریف نے قوم پرستوں کو کٹھا کرکے پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائیم دینے کا سوچا تھا۔تب انہوں نے سندھ کے مفادات کے خلاف کوئی سودے بازی نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ بھول گئے ہر بات ۔ ان پر یہ خوف چھایا رہا کہ اگر انہوں نے سندھ میں پارٹی منظم کی یا سندھ کے لئے کچھ کیا تو پیپلزپارٹی انہیں ٹف ٹائیم دے گی۔ اور کہے گی کہ صوبائی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے۔ لیکن ابھی وہی ہو رہا ہے۔ سو پیاز بھی کھائے اور سو ڈنڈے بھی۔ پیپلزپارٹی تو کہہ رہی کہ وفاق مداخلت کر رہا ہے ۔
مسلم لیگ نون کی قیادت نے شعوری طور پر سندھ میں پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے غیر سرگرم اور غیر فعال رکھا۔ جب انہیں یہ پتہ تھا کہ ایک صوبے کے سہارے پر اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے ، ایسے میں سندھ کے گورکھ دھندے میں کیوں پڑے؟ سندھ میں پارٹی کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، قوم پرستوں سے ہاتھ اٹھلیا گیا۔ اور صوبے کو جاگیرداروں اور ایک شہری تنظیم کے حوالے کردیا گیا۔ 



آج پیپلزپارٹی احتساب اور کرپشن کے الزامات کی تپش محسوس کر رہی ہے، اور کراچی آپریشن کے باعث جو سیاسی تنگی پیدا ہوئی ہے تب آصف علی زرداری براہ راست نواز شریف سے مخاطب ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس پورے آپریشن، احتساب اور عمل میں میاں صاحب خود کتنے بے بس ہیں۔ یہ بات سمجھتے ہوئے بھی آصف علی زرداری اسٹبلشمنٹ کے بجائے نواز شریف کو تمام معاملات کے لئے ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں اور تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ بتا سکیں کہ سندھ مظلوم ہے۔


زرداری کی اس حکمت عملی کے توڑ کے طور پر نواز شریف نے مسلم لیگ نون سندھ کی قیادت کو اسلام آباد طلب کیا۔ سندھ کے یہ رہنما بھی وہاں پہنچے کہ بڑے دنوں کے بعد چٹھی آئی ہے۔ سندھ واقعی مظلوم ہے لیکن اس کے لئے صرف زرداری ہی ذمہ دار نہیں۔ بلکہ خود میاں نواز شیرف کا بھی حصہ ہے۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ بطور وفاقی حکومت کے سربراہ کے اب تک سندھ کے لئے انہوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ پیپلزپارٹی کے وفاق میں پانچ سالہ دور اقتدار کو اچھوڑیں، صرف گزشتہ دو دو برسوں میں جب سندھ میں کرپشن عروج پر تھی، وفاقی حکومت کیوں آنکھیں بند کر کے بیٹھی تھی؟ جب پنجاب میں زور شور سے ترقیاتی کام ہو رہے تھے، تب سندھ میں ٹیکسوں کی کم ادایگی کی آڑ میں فنڈز کیوں روکے گئے؟ کیا واقعی سندھ ٹیکسوں کی ادائگی کے معاملے میں پنجاب سے پیچھے رہا ہے۔


سندھ میں کرپشن کے معاملات ڈھکے چھپے نہیں۔ سندھ میں یہ تاثر پختہ ہوتا رہا کہ میاں صاحب وفاق کے بجائے صرف بڑے صوبے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں ۔ 


شاید سندھ کے اراکین نے وزیراعظم سے اپنی حالیہ ملاقات میں پوچھا ہو کہ سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا سندھ کو اس لئے نظرانداز کیا جارہا ہے کہ یہاں سے ان کو ووٹ یا مینڈیٹ نہیں ملا؟ یہ روایت کسی بھی وفاقی نمائندگی کرنے والے عہدیدار کے لئے اچھی نہیں۔ ویسے گزشتہ دس سال کے دوران نواز لیگ نے سندھ میں نہ بطور فریق آئی اور نہ ہی پارٹی کو منظم کیا۔ یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔ 


سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں لیکن نواز لیگ بطور پارٹی کے ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ دو منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ سندھ سے انہیں مینڈیٹ ملا۔ کیا آئندہ انتخابات میں بھی وہ یہاں سے ووت لینے کے لئے نہیں آئیں گے؟ 


۱۲ ستمبر کو نئی بات کے لئے لکھا گیا
Sohail Sangi 
  13/09/2015
In ColumnsNai Baat

http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%B2%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94 

1 comment:

  1. http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%B2%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94

    ReplyDelete