جمہوریت کا تحفظ ، مگر کیسے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
ملک میں ایک بار پھر فوجی ٹیک اوور کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ دونوں سنیٹ میں سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ کے بیان پر بحث کے دوران مخلتف سیاسی جماعتوں کا موقف ان کے سنیٹر صاحبان کے ذریعے سامنے آیا۔ چیئرمین سنیٹ رضا ربانی نے متنبیہ کیا ہے کہ سول اور فوجی تعلقات میں کشیدگی کے بعدآئین میں موجود فوجی ٹیک اوور سے تحفظ کے معاملات ازکار رفتہ ہوگئے۔ ان کا خیال ہے کہ آرٹیکل 6 غیر موثر ہو چکا ہے ۔ آئین کے اس فقرے پر پیپلزپارٹی مشرف کے حوالے سے عمل درآمد نہیں کراسکی۔ اب صرف کمزوریوں کا اعتراف کررہی ہے۔
پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ فوج اور سول حکومت ایک صفحے پر نہیں۔ایسی صورت میں جمہویرت کو خطرہ ہے اور ٹیک اوور ہو سکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کا یہ شکوہ یک طرفہ یاسلیکٹیو احتساب کی وجہ سے ہے۔
نواز لیگ کا یہ موقف ہے کہ سول ملٹری تعلقات کی وجہ سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق نظام میں نقائص ہو سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تسلسل ہے۔ ان کا دعوا ہے کہ جمہوریت کسی بھی چلینج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
اقباال جھگڑا کے دعوے کا جواب فرحت اللہ بابر یوں دیتے ہیں کہ ہم بھی جب حکومت میں تھے تو یہی کہتے تھے کہ فوج اور سول حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہی دعوا آج نواز لیگ کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی کا اس معاملے میں یہ موقف رہا کہ آئین کو توڑنا غداری ہے۔ لیکن اس پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔ بظاہر ان کا حوالہ بھی مشرف کی طرف تھا۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ملٹری ٹیک اوور کے لئے ذمہ دار سیاستدان ہیں ۔ منتخب ایوان میں بیٹھے بلوچ نمائندوں کا خیال ہے کہ لوگوں کا جمہوریت میں اعتماد بحال کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔ اگر لوگ سیاستدانوں اور اپنے لیڈروں پر اعتماد کرتے ہیں تو جمہویرت کو کوئی خطرہ نہیں۔ خواہ کتنی بھی خراب حکمران ہو، کسی بھی ادارے کو آئین یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ٹیک اوور کر لے۔ سنیٹ میں یہ بات بھی ہوئی کہ جنرل راحیل شریف ملک کی مقبول شخصیت ہیں۔ یہ باتیں عام ہیں کہ دراصل جنرل راحیل ہی حکومت چلا رہے ہیں۔
یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ کیا ملک آئین کے تقاضوں کے مطابق چل رہا ہے؟کون حکومت کر رہا ہے؟کراچی آپریشن، افغان حکومت اور افغان طالبان سے تعلقات اوانڈیا کے ساتھ تعلقات وغیرہ۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ ملٹری بڑی حد تک سویلین دائرے میں کو تجاوز کیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جب 2008 میں مشرف کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ صدر کے عہدے سے استعیفا دیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ ایک دن میں یا کسی ایک وجہ سے نہیں ہوا۔
جمہوریت اور ٹرانسپرنسی سے متعلق ادارے پلڈاٹ نے بظاہر خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پرعوامی اعتماد برقرار ہے۔
پلڈاٹ نے جون 2014سے مئی 2015کے درمیان پاکستان میں معیار جمہوریت پر عوامی سروے کیا تھا۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق 66فیصد پاکستانیوں نے مجموعی طور پر جمہوریت پر اعتماد کا اظہا ر کیا۔ 64فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ جمہوری طورپر منتخب حکومتوں نے پاکستان میں بہتر نظام تشکیل دیاہے ، فقط 20 فیصد لوگوں نے فوجی حکومت کو پاکستان کیلئے بہتر قرار دیا۔عوام کی بڑی تعداد نے سیاستدانوں کے بجائے بیوروکریسی کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیا، فقط 33فیصد پاکستانیوں نے بیوروکریسی کی کارکردگی کومثبت انداز سے دیکھا۔ملک گیر سروے کا انعقاد 2سے 12جون 2015 کے درمیان کیا گیاجس میں پاکستان بھر میں قومی سطح پر 3231شہریوں کی رائے لی گئی۔ عوامی سروے کے مطابق فوج پاکستان کے تمام ریاستی اداروں میں سب سے زیادہ مقبول رہی ہے جس کی 75فیصد اپ رول ریٹنگ رہی۔ سپریم اور ہائی کورٹس کی اپ رول ریٹنگ 62فیصد رہی۔
کیا پیپلزپارٹی جو خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے، وہ اس لئے کہ پارٹی پریشر میں ہے؟ آج پیپلزپارٹی قومی سطح پر فوجی مداخلت کا بھوت اس لئے دکھا رہی ہے کہ سندھ میں اس کی کرپشن کے معاملات پر فوج نے ہاتھ ڈالا ہے۔ جہاں تک سندھ کے معاملات کا تعلق ہے پیپلزپارٹی کسی ’’اعلان ن جنگ‘‘ سے پہلے اپنی حکمرانی اور کرپشن کے رکارڈ کو درست کرتی۔سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا یہ بیان حاصلہ افزا ہے کہ کسی بھیی ادارے کو اس کے آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔
داراصل جمہوریت کو بچانے اور اس کو استحکام دینے کا شاید اس سے زیادہ اچھا اور موثر نسخہ نہیں ہوگا کہ سیاسی قیادت اچھی حکمرانی پر توجہ دے۔ اور حکمران ووٹروں کو صاف ستھرے نظر آئیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی آئینی شق جمہوریت کو نہیں بچا سکتی۔ صرف عوام ہی جمہویرت کو بچا سکتے ہیں ۔لہٰذا یسی حالات پیدا کئے جائیں کہ لوگ اس نظام کو اپنا سمجھیں اس کا تحفظ ا پنی ملکیت کے طور پر کریں۔ نظام کو واقعی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق لانے کی ضرورت ہے۔ صرف ایسا نظام جو عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے گا، اور یہ کام شفافیت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہی فوجی مداخلت کے آگے حصار بن سکتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو اقربا پروری، کرپشن پر کھڑا ہوگا وہ رکاوٹ بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ لہذا ریت کے محافظوں کو عوام کو دینے کے لئے اور خود کو سدھارنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
ستمبر ۱۷ کو نئی بات کے لئے لکھا گیا
Sohail Sangi
Written on Sept 17, 2015 for Nai Baat
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
ملک میں ایک بار پھر فوجی ٹیک اوور کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ دونوں سنیٹ میں سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ کے بیان پر بحث کے دوران مخلتف سیاسی جماعتوں کا موقف ان کے سنیٹر صاحبان کے ذریعے سامنے آیا۔ چیئرمین سنیٹ رضا ربانی نے متنبیہ کیا ہے کہ سول اور فوجی تعلقات میں کشیدگی کے بعدآئین میں موجود فوجی ٹیک اوور سے تحفظ کے معاملات ازکار رفتہ ہوگئے۔ ان کا خیال ہے کہ آرٹیکل 6 غیر موثر ہو چکا ہے ۔ آئین کے اس فقرے پر پیپلزپارٹی مشرف کے حوالے سے عمل درآمد نہیں کراسکی۔ اب صرف کمزوریوں کا اعتراف کررہی ہے۔
پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ فوج اور سول حکومت ایک صفحے پر نہیں۔ایسی صورت میں جمہویرت کو خطرہ ہے اور ٹیک اوور ہو سکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کا یہ شکوہ یک طرفہ یاسلیکٹیو احتساب کی وجہ سے ہے۔
نواز لیگ کا یہ موقف ہے کہ سول ملٹری تعلقات کی وجہ سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق نظام میں نقائص ہو سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تسلسل ہے۔ ان کا دعوا ہے کہ جمہوریت کسی بھی چلینج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
اقباال جھگڑا کے دعوے کا جواب فرحت اللہ بابر یوں دیتے ہیں کہ ہم بھی جب حکومت میں تھے تو یہی کہتے تھے کہ فوج اور سول حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہی دعوا آج نواز لیگ کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی کا اس معاملے میں یہ موقف رہا کہ آئین کو توڑنا غداری ہے۔ لیکن اس پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔ بظاہر ان کا حوالہ بھی مشرف کی طرف تھا۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ملٹری ٹیک اوور کے لئے ذمہ دار سیاستدان ہیں ۔ منتخب ایوان میں بیٹھے بلوچ نمائندوں کا خیال ہے کہ لوگوں کا جمہوریت میں اعتماد بحال کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔ اگر لوگ سیاستدانوں اور اپنے لیڈروں پر اعتماد کرتے ہیں تو جمہویرت کو کوئی خطرہ نہیں۔ خواہ کتنی بھی خراب حکمران ہو، کسی بھی ادارے کو آئین یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ٹیک اوور کر لے۔ سنیٹ میں یہ بات بھی ہوئی کہ جنرل راحیل شریف ملک کی مقبول شخصیت ہیں۔ یہ باتیں عام ہیں کہ دراصل جنرل راحیل ہی حکومت چلا رہے ہیں۔
یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ کیا ملک آئین کے تقاضوں کے مطابق چل رہا ہے؟کون حکومت کر رہا ہے؟کراچی آپریشن، افغان حکومت اور افغان طالبان سے تعلقات اوانڈیا کے ساتھ تعلقات وغیرہ۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ ملٹری بڑی حد تک سویلین دائرے میں کو تجاوز کیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جب 2008 میں مشرف کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ صدر کے عہدے سے استعیفا دیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ ایک دن میں یا کسی ایک وجہ سے نہیں ہوا۔
جمہوریت اور ٹرانسپرنسی سے متعلق ادارے پلڈاٹ نے بظاہر خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پرعوامی اعتماد برقرار ہے۔
پلڈاٹ نے جون 2014سے مئی 2015کے درمیان پاکستان میں معیار جمہوریت پر عوامی سروے کیا تھا۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق 66فیصد پاکستانیوں نے مجموعی طور پر جمہوریت پر اعتماد کا اظہا ر کیا۔ 64فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ جمہوری طورپر منتخب حکومتوں نے پاکستان میں بہتر نظام تشکیل دیاہے ، فقط 20 فیصد لوگوں نے فوجی حکومت کو پاکستان کیلئے بہتر قرار دیا۔عوام کی بڑی تعداد نے سیاستدانوں کے بجائے بیوروکریسی کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیا، فقط 33فیصد پاکستانیوں نے بیوروکریسی کی کارکردگی کومثبت انداز سے دیکھا۔ملک گیر سروے کا انعقاد 2سے 12جون 2015 کے درمیان کیا گیاجس میں پاکستان بھر میں قومی سطح پر 3231شہریوں کی رائے لی گئی۔ عوامی سروے کے مطابق فوج پاکستان کے تمام ریاستی اداروں میں سب سے زیادہ مقبول رہی ہے جس کی 75فیصد اپ رول ریٹنگ رہی۔ سپریم اور ہائی کورٹس کی اپ رول ریٹنگ 62فیصد رہی۔
کیا پیپلزپارٹی جو خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے، وہ اس لئے کہ پارٹی پریشر میں ہے؟ آج پیپلزپارٹی قومی سطح پر فوجی مداخلت کا بھوت اس لئے دکھا رہی ہے کہ سندھ میں اس کی کرپشن کے معاملات پر فوج نے ہاتھ ڈالا ہے۔ جہاں تک سندھ کے معاملات کا تعلق ہے پیپلزپارٹی کسی ’’اعلان ن جنگ‘‘ سے پہلے اپنی حکمرانی اور کرپشن کے رکارڈ کو درست کرتی۔سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا یہ بیان حاصلہ افزا ہے کہ کسی بھیی ادارے کو اس کے آئینی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔
داراصل جمہوریت کو بچانے اور اس کو استحکام دینے کا شاید اس سے زیادہ اچھا اور موثر نسخہ نہیں ہوگا کہ سیاسی قیادت اچھی حکمرانی پر توجہ دے۔ اور حکمران ووٹروں کو صاف ستھرے نظر آئیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی آئینی شق جمہوریت کو نہیں بچا سکتی۔ صرف عوام ہی جمہویرت کو بچا سکتے ہیں ۔لہٰذا یسی حالات پیدا کئے جائیں کہ لوگ اس نظام کو اپنا سمجھیں اس کا تحفظ ا پنی ملکیت کے طور پر کریں۔ نظام کو واقعی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق لانے کی ضرورت ہے۔ صرف ایسا نظام جو عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے گا، اور یہ کام شفافیت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہی فوجی مداخلت کے آگے حصار بن سکتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو اقربا پروری، کرپشن پر کھڑا ہوگا وہ رکاوٹ بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ لہذا ریت کے محافظوں کو عوام کو دینے کے لئے اور خود کو سدھارنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
ستمبر ۱۷ کو نئی بات کے لئے لکھا گیا
Sohail Sangi
Written on Sept 17, 2015 for Nai Baat
جمہوریت کا تحفظ ، مگر کیسے؟
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%81%D8%B8-%D8%8C-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92%D8%9Fhttp://www.bathak.com/column/column-sohail-saangi-sep-18-2015-39663
No comments:
Post a Comment