Friday, September 4, 2015

کرپشن معاملات: بلا امتیاز کارروائی کی ضرورت: سہیل سانگی

سہیل سانگی  

کرپشن معاملات: بلا امتیاز کارروائی کی ضرورت

کراچی میں جاری آپریشن اب آہستہ آہستہ پیپلزپارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا تھا، تب اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ آنے والے وقتوں میں یہ آپریشن پیپلزپارٹی کو بھی اپنے حصار میں لے گا۔ ایم کیو ایم کے خلاف قتل، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائم اور دیگر اس طرح کے الزامات کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ اس دائرے میں ایم کیو ایم کے نچلی سطح کے کارکنان آرہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں کارکنوں کے بجائے ہائی پروفائیل شخصیات پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ اس ضمن میں بعض افسران کی گرفتاری اور بعض کی بعد گرفتاری رہائی اہمیت کی حامل ہے۔ صوبائی دارلحکومت میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ ان گرفتار شدگان سے تفصیلات جمع کی گئیں اور و بیانات ریکارڈ کر لئے گئے ہیں۔اور اب یہ رسی آہستہ آہستہ سرکتی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قاسم ضیا اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم گرفتاری ہو چکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں ۔آخر کچھ تو محسوس کیا گیا کہ کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراور پارٹی کے سنیئر رہنما سید خورشید شاہ کو یہ دھمکی دینی پڑی کہ اگر آصف زرادری پر ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ ہوگی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی، مرتضیٰ بھٹو کا پر اسرار حالات میں قتل ہوا، بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، تب اس طرح کی جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اور جمہوریت بہترین انتقام ہے اور مفاہمت بہترین آلہ ہے کی اصطلاحات نہ صرف ایجاد ہوئیں بلکہ ان پر بھرپور طریقے سے عمل بھی کیا گیا۔
یہ درست ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ سندھ کے معاملات پر میڈیا سے لیکر تمام وفاقی اداروں اور حکومت کی نظر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صرف پیپلزپارٹی نے ہی کرپشن کی ہے؟ یا یہ کہ صرف سندھ میں ہی کرپشن ہوئی ہے؟ کیا نواز لیگ کے سرکردہ رہنما اس الزام سے پاک ہیں۔ کیا سندھ کے
علاوہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، یا وفاق میں کام کرنے والی بیوروکریسی اور ادارے کرپشن سے بالاتر ہیں ؟ اس کا مطلب یہ نہیں لیا جائے کہ پیپلزپارٹی کے ہائی پروفائیل شخصیات نے کرپشن نہیں کی یا ان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ کرپشن کے معاملے کو بلا امتیاز سب کے خلاف ہونا چاہئے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کرائم اور کرپشن کے خاتمے کے لئے شروع کی گئی مہم کو نقصان پہنچے گا۔ اس آپریشن کی جو عوامی سطح پر واہ واہ ہوئی ہے اس کو بھی دھچکہ لگے گی۔ اس کے سیاسی معنی اور مفہوم بدل جاتے ہیں اور صورتحال یہ بنتی ہے کہ پھر ظلم کی اور مظلوموں کی داستانیں شروع ہو جاتی ہیں۔
نواز لیگ حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ ایک طرف پنڈی سے تعلقات میں بہتری نہیںآسکی۔ جس کا اظہار سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ اور خواجہ آصف کے بیانات سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف اپنے قبیلے یعنی سیاستدانوں سے بھی تعلقات میں گرمجوشی اور خوشگواری نہیں۔ یعنی پارلیمنٹ میں موجواکثر سیاسی جماعتوں سے بگاڑی ہوئی ہے۔ پہلے تحریک انصاف تھی، اس کے بعد ایم کیو ایم کا اس میں اضافہ ہوا۔ اور اب اس نظام میں نواز لیگ کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی زیر عتاب آگئی ہے۔ نواز شریف کے لئے یہ بھی مسئلہ ہے کہ کسی کے بھی خلاف کارروائی کرنے یا روکنے کے اختیارات عملاً ان کے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایم کیو ایم کے بعد پیپلزپارٹی بھی اس لپیٹ میں ہے۔ اس سے پیپلز پارٹی کو بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ اس نے پارٹی اور حکومت کے اندر خود احتسابی عمل کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ نہ صرف اتنا بلکہ پارٹی اور اس کی قیادت نے خود کو اقتدار کے ایوانوں میں مقید کر لیا۔ پارٹی کو ایسے خطوط پر استوار کیا جس میں عوام سے دوری اور موقع پرست اور اقتدار پسند مخصوص مفادات رکھنے والوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ ملا۔
ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ کسی ایک دو سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مطالبے پر کارروائی کی جاتی تھی۔ اس مرتبہ طریقہ کار مختلف اختیار کیا گیا ہے۔یعنی اس کارروائی کی تمام سیاسی جماعتوں سے منظوری لی گئی ہے۔ سندھ میں آپریشن کے انچارج وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہیں اور ان کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یہ کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اتنی بڑی کارروائی پر ہمیں مطلع ہی نہیں کیا جاتا۔ وزیراعلیٰ یہاں تک کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ سندھ پر حملہ ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنا از حد ضروری ہے کہ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم یا سندھ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ مقتدرہ حلقوں کو اس آپریشن کو شفاف بنانا ہوگا۔ مختلف شکوک شبہات دور کرنے پڑیں گے۔اصل میں بحران کئی رخوں اور جہتوں میں چلا گیا ہے۔ اس کے سیاسی، آئینی ، امن و امان ، کرائم اور کرپشن کے پہلو بھی ہیں تو انتظامی بھی ہیں۔ ایسے بھی بہت ہی احتیاط سے فیصلے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کرپشن کے خلاف کارروائی کو صرف ایک صوبے یا ایک دو پارٹی تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے برابر ہی اس بات کی اہمیت ہے کہ ہر ادارے کو اپنے آئینی ا ختیارات میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔

No comments:

Post a Comment