حیدر بخش جتوئی نے ہاری کمیٹی کو ایک طبقاتی
تنظیم کے طورپر منظم کیا۔ یہ ہاری کمیٹی کی کئی پہلوؤں سے ترقی کا دور تھا۔
آج سندھ میں ہاری
تحریک یا ہاری سوال کا ذکرفکر نہیں، لیکن یہ کل ہی کی بات ہے کہ تقریباً چالیس برس
تک یہ ایک مضبوط تحریک کے طور پر موجود تھی، جو سیاسی عمل اور فکر پر بھرپور طریقے
سے اثرانداز ہوتی تھی۔ ہاری تحریک کے کمزور ہونے کے معروضی خواہ موضوعی دونوں
اسباب ہیں۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی کی دانشمندی، بہادری اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث
ہاری کمیٹی سے ہاری تحریک بنی۔ان کی برسی کے موقع پر ہاری تحریک کا جائزہ لیں گے۔
سندھ ہاری کمیٹی برصغیر میں ترقی پسند تحریک کے تسلسل اور آل انڈیا
کسان سبھا کے حصے کے طور پروجود میں آئی۔ جس کے قیام میں کمیونسٹوں کے علاوہ اس
وقت کے روشن خیال اور حقیقی جمہوریت پسندوں جی ایم سید، جمشید نرسوانجی اور دیگر
رہنماؤں نے اپنا کردار ادا کیا۔
سندھ کی ہاری جدوجہد کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔
پہلا دور 1930ء کا عشرہ ہے جس میں ابتدائی طور پر تنظیم سازی، فکری بحث اور اجلاس
ہوتے رہے۔ ہاری کمیٹی کے پہلے اور دوسرے دور میں روشن خیال اور جمہوریت پسند حلقوں
کا اثر نمایاں تھا جس کی وجہ سے اس کے مطالبے میں سرکاری زمینیں کسانوں میں تقسیم
کرنے اور کسانوں سے منصفانہ رویہ رکھنے پر زور تھا۔ جبکہ کمیونسٹوں کی جانب سے
جاگیرداری ختم کرنے کا مطالبہ تھا۔ یہ دونوں رجحان ہاری کمیٹی کے ساتھ آخر تک چلتے
رہے۔
دوسرا دور 1940ء کا ہے۔جس میں جیٹھ مل پرسرام اور قادر بخش نظامانی
جیسی شخصیات نے ہاریوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1946ء میں
ٹنڈوالیٰہار میں ہاریوں نے تالپوروں اور لغاریوں کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ جس کا ذکر
آل انڈیا کسان سبھا کے ریکارڈ سے ملتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے لگتا ہے کہ ہاری تحریک
میں شدت پسندی اور ہیروازم داخل ہوگیا تھا۔
کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت چھوڑکر ہاری کمیٹی میں
شمولیت اختیار کی تو اس تنظیم میں نیا جوش اورولولہ آگیا۔ کامریڈ جتوئی مارکسسٹ
تھے۔ انہوں نے ہاری کمیٹی کو ایک طبقاتی تنظیم کے طورپر منظم کیا۔ یہ ہاری کمیٹی
کی کئی پہلوؤں سے ترقی کا دور تھا۔
پرانے ہاری ورکر، شاعر اور صحافی منصور میرانی کامریڈ جتوئی کے
ساتھی کامریڈ رمضان شیخ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس دور میں ضلعی سطح پر ہاری
حقدار کے نام سے دفاتر ہوا کرتے تھے، جہاں باقاعدگی سے ہاری کارکن ڈیوٹی دیتے تھے۔
ان دفاتر میں ہاریوں کی بے دخلیوں، زمینداروں اور پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں
شکایات نوٹ کی جاتی تھیں۔ اور اس ضمن میں متعلقہ حکام سے خط و کتابت کی جاتی تھی۔
اور عوامی سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا جاتا تھا۔
تیسرے دور میں سب سے بڑا کام سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری تھا۔
1950ء میں سندھ ہاری کمیٹی کے پلیٹ فارم پر صوبے بھر سے کسانوں نے کراچی پہنچ کر
سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا۔ یہ دھرنا اتنا مضبوط تھا کہ اسمبلی ممبران ایوان کے
اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ یہاں تک کہ باہر سے ان تک کھانے پینے کی اشیاء بھی
نہیں پہنچ پارہی تھیں۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ بہت بڑا کارنامہ تھا کیونکہ ملک کی تاریخ
میں پہلی مرتبہ کسان اور زمیندار کو زراعت میں برابر کا حصہ دار تسلیم کیا گیاتھا۔
بیج، کھاد، زرعی اشیاء اور پیداوارمیں دونوں فریقین میں پچاس پچاس فیصد تقسیم کا
فارمولا دیا گیاتھا۔
اسی دور میں سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی کو نواب
سلطان احمد خان چانڈیو کے مقابے میں الیکشن میں کھڑا کیا۔ اس الیکشن ورک میں ممتاز
انقلابی شاعر حبیب جالب سمیت ملک بھر کے ترقی پسند کارکنوں نے شرکت کی۔ جالب نے
کامریڈ جتوئی کی انتخابی مہم کے لیے خصوصی نظمیں بھی لکھیں ۔سردار چانڈیو کے لوگوں
نے ہاری کارکنوں پر کتے چھوڑے جس میں کامریڈ رمضان شیخ اور دیگر کارکن بری طرح
زخمی ہوئے ۔ کتوں کے کاٹنے کے نشانات کامریڈ رمضان کی ٹانگ پر مرتے دم تک رہے۔
جرأتمندانہ جدوجہد کی وجہ سے ہاری سوال سیاسی بحث کا حصہ بنا۔ اس
دور میں چینی وزیراعظم چو این لائی پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے پاکستان
حکومت سے فرمائش کی کہ ان کی ملاقات کامریڈ حیدربخش جتوئی سے کرائی جائے۔
1957ء میں اپر سندھ میں پہلی ہاری کانفرنس تحصیل گڑھی یاسین کے
گاؤں آرائیں میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس تاریخ میں آرائیں کانفرنس کہلاتی ہے۔ اس
کانفرنس میں شیخ ایاز اور کراچی میں اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم
طالب علموں نے شرکت کی۔ اس دور میں مختلف اضلاع میں دفاتر اور کارکنوں کا نیٹ ورک
سوائے ہاری کمیٹی کے کسی اور پارٹی کے پاس نہیں تھا۔
اس دور کے ہاری لیڈرپڑھے لکھے اور عالم فاضل تھے، ہاری کمیٹی میں
مذہبی پس منظر والے کمیونسٹ اور کانگریس کے حامی سب لوگ تھے۔ لیکن سب مل کر اس طرح
کام کرتے تھے کہ ان کی سیاسی وابستگی یا فکر کبھی بھی آڑے نہیں آئی۔ کئی کا پس
منظر مذہبی تھا اور وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے فکر سے متاثر ہوکر ہاری کمیٹی میں
شامل ہوئے تھے۔ کامریڈ مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی، عبدالرحمان
عیسانی، محمد عالم منگریو اس دور کے اہم لیڈر تھے جوبالائی سندھ میں ہر وقت گھومتے
رہتے تھے اور ہاری جدوجہد کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔
دوسری اہم بات یہ تھی کہ سندھ ہاری کمیٹی صوبے میں کام کرنے والی
تمام سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ مورچہ تھی۔ جی ایم سید ہوں یا اللہ بخش سومرو سب
ہاری کمیٹی کے مدگار تھے۔
پچاس کی دہائی میں جو بھی ہاری کانفرنس ہوئی وہ سندھ میں سیاسی
ہلچل کے حوالے سنگ میل ثابت ہوئی۔ ایسی ہی ایک کانفرنس میں جام ساقی (جو بعد میں
کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنے ) کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ صوبے میں طلباء
تنظیم منظم کریں۔
شہیدوں کا قافلہ:
یہ وہ دور تھا جب زمیندار ہاریوں اور ہاری کارکنوں پر تشدد کرتے
تھے۔ زمینداروں کی ننگی زیادتیوں کا کئی ہاری کارکن شکار ہوئے۔ ان پر قاتلانہ حملے
ہوئے جس میں ایک درجن کارکن شہید بھی ہوئے۔ قتل کے زیادہ تر واقعات بٹائی تحریک کے
دوران ہوئے جب قانون منظور ہرنے کے بعد بھی زمیندار عمل نہیں کر رہے تھے۔ ٹنڈو
باگو کے ہاری پٹھائی انڑ کو اس وجہ سے قتل کردیا گیا کہ انہوں نے اپنا حق حاصل
کرنے کے لیے قانون کی مدد لی۔ انہوں نے بٹائی میں اپنا قانونی حصہ تو لے لیا مگر
دو دن بعد وہ اپنے بیٹے سمیت زمیندار کے لوگوں نے قتل کردیا۔ٹنڈوالہٰیار کے قریب
ہار کارکنوں کے ایک گروپ پر زمیندار نے حملہ کردیا کیونکہ یہ کارکن کسانوں کو پچاس
فیصد بٹائی پر منظم کر رہے تھے اور اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کر رہے تھے۔ اس
حملے میں سات ہاری کارکن زخمی ہوئے جن میں خمیسو خاصخیلی زخموں تاب نہ لا کر
انتقال کر گئے۔ غلام مصطفےٰ عباسی اور بالاچ بروہی کو نوابشاہ میں قتل کیا گیا۔
ہاری رہنما اور شاعر عزیزاللہ مجروح کو گڑھی یاسین کے علاقے میں قتل کیا گیا۔ ہاری
رہنماؤں کے لیے ان کے ساتھ عزیزاللہ مجروح کا قتل ناقابل برداشت تھا، ان کے
ساتھیوں مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی اور دیگر نے ان کی تدفین کے بعد
قبر پر عہد کیا کہ وہ ہاری لیڈر کا پلاند کریں گے۔ اور بعد میں انہوں نے پلاند کیا
اور قاتلوں کو قتل کیا۔شہید بختاور کو کنری کے پاس زمینداروں نے قتل کای جب مرد
ہاری جھڈو میں منعقدہ ہاری کانفرنس میں گئے ہوئے تھے اور وہ گندم کے ڈھیر کی حفاظت
کر رہی تھی ۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکن منصور میرانی کا کہناہے کہ جس
طرح سے ہاری کمیٹی کے کامریڈوں نے سخت محنت کی، کٹھن زندگی گزاری، اپنی زندگیاں
وقف کر کے اپنے مشن کو آگے بڑھایا اس لحاظ سے اگر وہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی فوت
ہوئے، ان کے نزدیک وہ بھی شہید ہیں۔
خود کو وقف کرنے
والے:
ہاری کارکنوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جنہوں نے اپنی زندگی اور جوانی
ہاری کاز کے لیے وقف کی۔مختلف ادوار میں کام کرنے والوں بڑے بڑے نام بھی ہیں۔جیٹھ
مل پرسرام، قادربخش نظامانی، کامریڈ غلام محمد لغاری،مولوی عزیزاللہ جروار، کامریڈ
میر محمد تالپور، عبدالرحمان عیسانی، محمدعالم مگریو، عبدالقادر کھوکھر، کامریڈ
رمضان شیخ، رئیس بروہی، عبدالقادر انڈہڑ، قاسم پتھر ، باقر سنائی، عنایت
دھمچر،علامہ شامہ محمد امروٹی، صوفی جنن چن،سلیمان لاکھو، محمدخان لاکھو، غلام
حسین سومرو، جام ساقی، ماندھل شر، حسین مگسی،مولوی شاہ محمد بنگلانی، غلام حیدر
لغاری اور دیگر شامل ہیں۔
1980 کے بعد جن کارکنوں اور رہنماؤں نے نمایاں کردار ادا کیا ان
میں لالا شاہ محمد درانی، صوفی حضوربخش، غلام رسول سہتو،عثمان لغاری، احمدخان
لغاری، پھوٹو رستمانی،محب نظامانی، صالح بلو، گلاب پیرزادو، محب پیرزادو، اسماعیل
قریشی، تاج مری، یارمحمد جلالانی، غلام قادر مرڑانی، منصور میرانی، غلام حسین شر،
مراد چانڈیو، خادم چانڈیو، قاضی عبدلاخالق، شاہمیر بھنگوار، حسین بخش جج،
محمدعثمان شیدی، بقا بروہی، پیر شہاب الدین، حاجی حسین جونیجو، ولی محمد انڑ، دین
محمد انڑ، اسماعیل کھوسو، شامل ہیں۔
رسول بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک نے ستر کے عشرے
میں الگ سے ہاری تنظیم سندھی ہاری تحریک کے نام سے بنائی۔ اس تنظیم میں فضل راہو
نے بڑا اہم کردار داد کیا۔اس تنظیم کے دوسرے اہم لیڈروں میں علی سوڈھو، قادر
رانٹو، وشنو مل، شیرخان لنڈ اور گل حسن کیڑانو اہم رہنما تھے۔
طبقاتی کردار:
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امدا د قاضی کا کہنا ہے کہ
50کے عشرے میں ہاری کمیٹی نے بطور طبقاتی تنظیم کے بھرپورکردار ادا کرنا شروع
کیا۔جاگیرداری ختم کرنے اور پیداوار پر برابر ملکیت کے نعرے گونجنے لگے۔ اور اسی
حکمت عملی پر کام کیا گیا۔ انڈیا سے آکر یہاں آباد ہونے والے صاحب جائیداد طبقے میں
یہاں کی جائیداد دی جانے لگی۔ قوم پرستوں کا نعرہ تھا کہ جعلی کلیم رد کیے جائیں۔
جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ کامریڈ جتوئی کاموقف تھا کہ ہر طرح کے کلیم کوتسلیم نہ
کیا جائے۔ سندھ ہاری کمیٹی نے شاہ عنایت صوفی کے اس نعرے کو دوبارہ زندہ کیا ”جو
کھیڑے سو کھائے“ یعنی کو کھیت پر کام کرے وہی اس کی پیداوار کا مالک ہو۔ اس معاملے
پر جی ایم سید اور کامریڈ جتوئی کے درمیان دوری پیدا ہوگئی۔
گروہ بندی کا آغاز:
ساٹھ کی دہائی میں جب سووئیت یونین اور چین کے درمیان فکری
اختلافات پیدا ہوئے تودنیا بھر کے کمیونسٹوں کی طرح سندھ ہاری کمیٹی میں بھی
دوگروپ ہوگئے۔ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ہاری فرنٹ کی رہنمائی کرنے والے رہنما
کامریڈ عزیز سلام بخاری چین نواز لائن اختیار کی۔ نتیجتاً ہاری کارکنوں کی ایک بڑی
تعداد ان کے گروپ میں شامل ہوگئی۔اس گروپ کی جانب سے چمبڑ ہاری تحریک چلائی گئی۔ جس
میں کامریڈ احمد اور دیگر رہنماؤں نے حصہ لیا۔
کامریڈ جتوئی کے بعد:
چوتھا دور کامریڈ جتوئی کی وفات کے بعد کا ہے۔ کامریڈ جتوئی کی
زندگی میں ہی شاگرد، ہاری مزدور رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ ان دنوں میں سندھ میں
طلباء تحریک زوروں پر تھی۔ اور مزدور تحریک میں بھی ابھار آیا ہوا تھا۔ اس اتحاد
کا مقصد یہ تھا کہ تمام مظلوم طبقات مشترکہ جدوجہد کریں۔ دوسرا یہ کہ ہاریوں
کوطلباء اور مزدور تحریک سے فائدہ ملے۔
کامریڈ جتوئی کی زندگی میں ہی سکرنڈ ہاری کانفرنس بلانے کا فیصلہ
کیا گیا۔ مگر ان کی وفات کے بعد یہ کانفرنس ملتوی کردی گئی ۔ چند ماہ کے وقفے کے
بعد یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں ہاری کمیٹی کو منظم کرنے کے لیے کامریڈ
جام ساقی کو آرگنائزر مقرر کیا گیا۔
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امداد قاضی کا کہنا ہے کہ
جام ساقی کی شمولیت سے اگرچہ ہاری تنظیم کا رنگ زیادہ ریڈیکل ہوا مگر یہ تنظیمی
طور سکڑ گئی۔ان کے مطابق جام ساقی ہاری لیڈر کے بجائے پارٹی لیڈر کے طور پر کام
کرتے رہے ۔ انہوں نے نظریاتی پہلو پر زیادہ توجہ دی۔ اور ہاری کمیٹی ماس موومنٹ نہ
بن سکی ۔
اگرچہ بڑے پیمانے پر تحریک نہیں چل سکی تاہم چھوٹی چھوٹی کئی
تحریکیں چلیں ۔ہاری کمیٹی کے کچھ پاکٹس بنے جس میں بلہڑیجی، شہدادکوٹ، لاڑکانہ،
کھروہی کے سیکٹر زیادہ سرگرم رہے اور کئی معاملات میں رہنمایانہ کردار ادا کیا۔
یہاں تک کہ ہاری کمیٹی نے اپنے رہنما عرس سیلرو کو نادر مگسی کے مقابلے میں کھڑا
کیا ۔
کھروہی میں کامریڈ ماندھل شر کی قیادت میں ہاریوں کا ایک مضبوط
مرکزقائم ہوا۔نواب شاہ میں پیر شہاب اور ٹنڈوالہیار میں پہاڑ لغای کے علاقے میں
ہاریوں کے موثر مرکز قائم ہوئے ۔
جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ کامریڈ جتوئی کے بعد عملاً ہاری کمیٹی
اور ہاری تحریک ختم ہو گئی۔یہ زرعی معاشرے کا المیہ ہے کہ کوئی بڑاآدمی موجود ہے
تو تنظیم اور تحریک بنتی ہے۔جتوئی کے بعد کوئی بڑاآدمی ہاری کمیٹی میں نہیں آیا ۔
رسول بخش پلیجو کی رہنمائی میں عوامی تحریک نے ’’سندھی ہاری
تحریک‘‘ کے نام سے تنظیم بنائی۔ جامی چانڈیو کے مطابق اس ہاری تنظیم نے بھی ضیاء
دور میں کام بند کردیا۔ زیادہ تر رجحان قومی سوال کی طرف ہوگیا ۔
ستر کی دہائی سے لیکر اسی اور نوے کی دہائی میں مختلف شکلیوں میں
ہاری تنظیمیں بنیں مگر کوئی بھی نئی تنظیم فعال تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے
نہیں آئی۔ ضیاء مارشل لا میں ہاری تحریک ختم ہونے کی وجہ قومی سوال اور جمہوری سال
کا اولین ترجیح بننا تھا۔جس کو اٹھانا وقت کی ضرورت بھی تھی اور سیاسی جماعتیں ان
دو سوالوں کو ہی ترجیح دے رہی تھی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہاری تنظیموں نے ضیا
ءمارشل کے خلاف بھر پور جدوجہد کی اور ایم آرڈی تحریک میں بھی حصہ لیا۔
سیاسی کلچر اور ماحول
میں تبدیلی:
جی ایم سید ہاری کمیٹی کے شروع کے دو ادوار میں بھرپور طریقے سے
شامل رہے، مگر ساٹھ کی دہائی اور خاص کر سترکے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے
اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ۔ اور پھر ہاریوں کے مسائل کبھی نہیں اٹھائے۔
40کے عشرے سے لیکر 70 کے عشرے تک ہاری سوال پر سیاسی جماعتوں میں
کوئی مسابقت نہیں تھی۔ بلکہ وہ سب اس نقطے پر ایک ساتھ تھے۔کہیں اگر ہاریوں کا
مسئلہ ہوتا تھا تو سب ملکر جدوجہد کرتے تھے ۔بعد میں ہر سیاسی گروپ نے اپنی الگ سے
ہاری تنظیم بنالی ۔
دوسرا ابھار:
سندھ ہاری کمیٹی کے سابق جنرل سیکریٹری صوفی حضور بخش، جامی چانڈیو
کی اس رائے سے متفق نہیں کہ ضیا ءدور میں ہاری تحریک ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس ان کا
کہنا ہے کہ 80 کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی نے ایک اُچھال دی تھی جس سے ہاری تحریک
کو ایک بار پھر عروج مل گیا۔اس کی وجہ ہاریوں میں کام کرنے والے مختلف گروپوں کا
مل کر کام کرنا تھا۔اس دور میں سینکڑوں جلسے جلوس ہوئے ۔ ہاری جدوجہدیں بھی ہوئیں
جس میں سے بیشتر کامیاب بھی ہوئیں ۔ بعد میں ان گروپوں کے آپس کے اختلافات کی وجہ
سے خاص طور پر سگیوں کانفرنس کے بعد تنظیم میں توڑپھوڑ ہوگئی اور ہاری کمیٹی ایک
بار پھر کمزور ہوگئی۔
صوفی حضور بخش کا کہنا ہے کہ اگر کاز کے ساتھ خود کو وقف کرنے والی
لیڈرشپ اور کارکن موجودہوں اور ہاریوں میں کام کرنے والے بائیں بازو کے مختلف
گروپوں کی حمایت حاصل ہو تو ایک بار پھر ہاری کمیٹی فعال اور سرگرم ہوسکتی ہے۔
ہاری کمیٹی کی
حاصلات:
ون یونٹ مخالف تحریک کو دیہی علاقوں تک پہنچانا، روشن خیال فکر
پھیلانا اور سیاسی شعورپیدا کرنا، تنظیم کاری اوردیہی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی
جدوجہدیں کرنا ہاری کمیٹی کی اہم حاصلات ہیں۔جس سے مجموعی طور پر سندھ کے دیہی
علاقوں میں سیاسی جاگرتا پیدا ہوئی۔ اس جاگرتا کا فائدہ ذوالفقار علی بھٹو نے
اٹھایا ۔
اس کے علاوہ پانچ ٹھوس حاصلات ہیں جن کو یکھا اور ناپا جاسکتا ہے:
1۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری
2۔ بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کوانعام اور نیلام میں دینے کے
بجائے مقامی ہاریوں میں تقسیم کرنا
3۔ بوگس کلیموں کو روکنا
4۔ زرعی پیداوار میں ہاری کا آدھا حصہ قانونی طور پر تسلیم کرانا
اور اس پر عمل درآمد کرانا
5۔ ہاریوں کی بے دخلیاں روکنا ۔
ان پانچ حاصلات کے لیے سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی ن
کی رہنمائی میں جامع حکمت عملی کے ساتھ متواتر جدوجہد کی۔دراصل ہر حاصلات کی ایک
الگ الگ تحریک ہے جس نے سندھ کے زمینداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کامریڈ جتوئی ایک برجستہ اور بہادر رہنما تھے ۔ان کی جدوجہد
کثیرجہتی تھی۔یعنی قانونی جنگ بھی لڑتے تھے۔ احتجاج اور جلسے جلوس بھی کرتے تھے تو
دوسری پارٹیوں کے ساتھ لابنگ بھی کرتے تھے تاکہ ان کے مطالبے کودوسری حلقوں سے بھی
حمایت حاصل ہو۔
گزشتہ تین چار دہائیوں پیداوار کے ذرئع میں تبدیلی آئی ہے لوئر
سندھ میں گنے اور دوسرے نقص فصل کے عام ہونے سے بڑے پیمانے پر زرعی مزدور پیدا ہوا
ہے ۔ جس کی وجہ سے اس نیم ہاری نیم مزدور کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔لیکن باقی
علاقوں میں ہاری روایتی انداز میں موجود ہے۔اور اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب
ہے۔بھٹو دور کے بعد مسلسل زمیندار طبقہ سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہوا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ میں اثررسوخ کی وجہ سے مکمل طور پر ہاری اور دیہی آبادی پر
حاوی ہے۔ دوسری طرف ہاری تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں ۔ نتیجے میں
ہاری معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ پس رہا ہے۔
مارکیٹ اکونومی کی وجہ سے معاشی طور پر تمام نزلہ ہاری پر گرتا
ہے۔کارخانے دار، بڑا تاجر، چھوٹا دکاندار اور سرکاری خواہ نجی ملازم اپنا تمام
معاشی وزن عام حالات میں اور خاص طور پر معاشی بحران کی صورت میں ہاری پر ہی ڈال
دیتے ہیں۔ملکی ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہاری کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
اس کی وہی کسمپرسی والی حالت ہے۔
کسی منظم اور فعال تنظیم کی عدم موجودگی میں ہاری سوال سیاست اور
ریاست دونوں کے ایجنڈا سے غائب ہے۔
گزشتہ پندرہ سال کے دوران بعض این جی اوزہاریوں کے مسائل اٹھاتی
رہی ہیں ۔لیکن یہ حقیقی ہاری تنظیمیں نہیں۔یہ بعض واقعات کے بعد ان کو اشو کو
انسانی حقوق یا لیبر اشو کے طور پر اٹھاتی ہیں ۔جس سے صرف وقتی طور پر تورلیف ملتا
ہے۔
دراصل یہ سماج کا طبقاتی اور سیاسی سوال ہے۔ معاشی اور سماجی
نابرابری کا سوال ہے۔این جی اوز کا نہ ویزن ہے نہ ان میں صلاحیت اورنہ ارادہ۔یہ
ایک طبقاتی سوال ہے جسے سیاسی جماعتوں کو ہی اٹھانا چاہئے۔