Tuesday, May 30, 2017

کراچی کی سیاست میں کیا بدلاؤ آیا؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں تبدیلی آئی ہے اور ی تبدیلی بہتر کی طرف ہے۔ دہشتگردی کے واقعات سے بھی بڑی حد تک کراچی محفوظ ہے۔ اب پہلے کی طرح ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات نہیں ہوتے۔اسٹریٹ کرائیم میں بھی بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن عدم تحفظ کا احساس ابھی تک شہریوں کے ذہن سے نہیں نکلا۔ پرامن شہری زندگی کے اثرات روزمرہ کی زندگی اور سماجی حالات پر نظر آنے لگے ہیں۔ اور کسی حد تک کاروبار اور معیشت پر بھی مثبت اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔تنظیم کی مسلح ونگ کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں۔
ایم کیو ایم کے ایم قوت بننے کے پیچھے دیگر عوامل ہونگے سو ہونگے لیکن سیاسی مقبولیت اس کی بڑی وجہ تھی۔ اس نے اردو و بولنے والی آبادی سے خواہ کسی بھی نعرے پر ووٹ لئے۔ اور پھر اپنے ووٹ بینک کو اور اپنے حلقہ انتخاب کوتمام طریقے اور حربے استعمال کر کے اپنے قابو میں رکھا۔ اس کے پاس اقتدار اور اختیار بھی تھا، جس کی وجہ سے پیسہ اور وسائل بھی آگئے۔ مزید یہ کہ مسلح ونگ بھی تھی۔ صورتحال یہ بنی کہ کسی اور سیاسی جماعت کے لئے کراچی کو شجر ممنوع قرار دے دیا۔ تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں اردو بولنے والوں کی آبادی تقریبا 45 سے 47 فیصد تک ہے لیکن اردو آبادی کی نمائندگی کی دعوا کرنے ولای اس تنظیم کے پاس کراچی کی 80 فیصد سے زائد نمائندگ رہی۔ ایک طرح سے باقی تقریبا 55 آبادی کی عملا نمائندگی ہی ختم ہو گئی۔
حکومت اور ریاستی اداروں نے سندھ کے دارالحکومت کو معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام اور امن دینے کے لئے متعدد اقدامات کئے تھے۔ جن کے نتیجہ میں کراچی کی نمائندگی دعویدار تنظیم متحدہ قومی موومنٹ تین حصوں میں بٹ گئی۔ سابق میئر مصطٖفیٰ کمال نے کچھ ایم کیو ایم کے سنیئر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاک سرزمین پارٹی کے نام سے تنظیم بنا ڈالی ۔ الطاف حسین کے خلاف پاکستان مخالف تقریر اور سرگرمیوں کے الزامات نے پاکستان میں کام کرنے والی ایم کیو ایم کو مجبور کردیا کہ وہ لندن سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرے۔لہٰذا فاروق ستار کی قیادت ایم کیو ایم پاکستان بنا کر یہ اعلان کیا گیا۔ان اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں اس تنظیم کی دہشت میں بہت بڑی حد تک کمی آ گئی۔ مصطفیٰ کمال اور دیگر لوگوں کی بغاوت نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف بات کرنے کا ماحول پیدا کیا۔ اور یہ جگہ بھی پیدا کی کہ کراچی کے اردو بولنے والے ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے ہٹ کر بھی سوچیں۔
یہ سب تبدیلیاں اور اثرات اپنی جگہ پر سوال یہ ہے کہ حکومت کی ان کارروایوں اور اقدامات سے کیا کراچی میں کوئی سیاسی تبدیلی بھی آئی ہے؟ ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کے بعد ہونے والے دو تین ضمنی انتخابات کے نتائج اس کی نفی کرتے ہیں کہ اردو بولنے والی آبادی کی سیاسی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ان انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کامیابی تو دور کی بات چھی کارکردگی بھی نہیں دکھا سکی۔ بلاشبہ کراچی میں ایک سیاسی خلاء پیدا ہوا تھا۔ جسے مختلف پارٹیوں نے محسوس بھی کیا، اپنے تئیں کوشش بھی کی۔ اس طبع آزمائی کے لئے وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کرچی کے دورے کئے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کی سرگرمیوں کا مرکز ان کے مخصوص پاکٹ ہی رہے۔ مثلا نواز لیگ نے کراچی میں آباد پنجابی بولنے والوں سے اور عمران خان نے پختون آبادی سے رجوع کیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے خالی کئے گئے اسپیس کوحاصل کرنے کے لئے اردو آبادی سے موثر اور منظم انداز میں رابطہ نہیں کیا۔ مجموعی طور پر یہ لوگ نان ایم کیو ایم ووٹ سے ہی رجوع کر رہے تھے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کراچی کے پرانے باشندوں میں سے حاجی شفیع محمد جاموٹ رکن سندھ اسمبلی اور ان کے ساتھی نواز لیگ میں ہیں۔ لیکن پارٹی نے ان سے بھی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی ان کے ساتھ مل کر کوئی حکمت عملی بنائی۔ پیپلز پارٹی کا رویہ بھی اردو بولنے والی آبادی کے لئے نواز لیگ اور تحریک انصاف جیسا ہی رہا۔ پیپلزپارٹی نے سندھی آبادی کے بااثر لوگوں سے رابطے کر رہی ہے۔ جبکہ اردو آبادی کو ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر کوئی بڑی جماعت کوشش نہیں کر رہی ۔
کراچی میں ابھی تک مہاجر سیاست جس کی بنیاد پر الطاف حسین نے ایم کیو ایم کھڑی کی تھی اپنی جگہ پر موجود نظر آتی ہے۔ ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے مخلتف گروپ اور جماعت اسلامی کراچی کی ہی بنیاد پر سرگرمیاں کر رہی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان جو فاروق ستار کی قیادت میں چل رہی ہے اس نے کراچی حقوق ریلی نکالی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے پاک سرزمین پارٹی نے 14 مئی کو ’’ملین مارچ‘‘ کے نام سے ریلی نکالی، لیکن اس کی یہ کوشش موثر ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس نے ا پاک سرزمین پارٹی کے احتجاج کے خلاف کارروائی کی۔جماعت اسلامی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے خلاف مہم چلائی۔ اور گورنر ہاؤس کے سامنے دن بھر دھرنا دیا۔ ہر جماعت یہی کوش کر رہی ہے کہ کراچی کے مسائل کی بنیاد پر وہ جگہ حاصل کرے جو ایم کیو ایم کے تقسیم ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔ کراچی کی یہ سرگرمیاں پاناما پیپرز کے مقدمے اور ملکی سطح پر دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز نہیں بن سکیں۔
ایم کیو ایم اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کراچی میں اسمبلی کی نشستیں بڑھادی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کراچی شہر کی بلدیہ کے لئے زیادہ اختیارات مانگ رہی ہے۔ یعنی شہری حکومت جو کہ اس کاپرانا مطالبہ اور کوشش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم پاکستان زور دے رہی ہے کہ اردو بولنے والا ووٹ تقسیم نہ ہو۔ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم کا الطاف حسین کی طرف رویہ نرم ہے وہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں کی طرح نہیں۔ جو الطاف حسین پر براہ راست تنقید کرتے ہیں۔ اردو بولنے والے بعض دانشور پاک سرزمین پارٹی کے حامی بن گئے تھے لیکن ان کی کارکردگی نہ دیکھ کر اور مجموعی طور پر شہر میں الطاف حسین کے نرم گوشہ دیکھ کر واپس فاروق ستار کے حامی بن گئے ہیں۔ ایم کیو ایم حقیقی جس طرح نعرہ دے رہی ہے وہ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کو صرف مہاجر سیاست کی طرف دھکیلنے میں مدد کر رہی ہے۔
عومای نیشنل پارٹی کراچی میں دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے۔ یہ جماعت 2013 کے انتخابات کے بعد گم ہو گئی تھی۔ گزتہ دنوں اے این پی نے شہر میں بہت بڑا جلسہ کیا جس میں پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ اے این پی اور تحریک انصاف بنیادی طور پر شہر میں موجود پختون ووٹرز کے لئے ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں۔ ابھی پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف کو اپنی سرگرمیوں اور حکمت عملی کو مزید بہتر بنانا باقی ہے۔تاہم اس کی بنیادیں وہی رہں گی جو ابھی تک رہی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں تکنا اضافہ وہتا ہے اور یہ بھی کہ حلقہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟ یہ معاملات بھی کراچی کیس یاست پر اثر انداز ہونگے۔

Friday, May 26, 2017

Decrease in nationalists popularity

سندھ کی قوم پرست سیاست اور پیپلزپارٹی
سندھ کی قوم پرست سیاست کی مقبولیت میں کمی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے لیکن وفاق کے حوالے سے حکومت کی مخالف بھی ہے۔ روایتی طور پر سندھ کے قوم پرست وفاق کے ساتھ مخالفت میں رہے ہیں۔ سندھ میں قوم پرست تحریک کے ماٹھے ہونے کی جہاں اور اسباب ہیں وہاں ایک وجہ اٹھارویں آئینی ترمیم بھی ہے۔جس میں صوبوں کو زیادہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔یعنی قوم پرست عمومی طور پر جو مطالبات اٹھاتے تھے ان کو آئین اور قانون میں تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد کتنا ہورہا ہے؟ اور کس طرح سے ہو رہا ہے؟ یہ شکایات بھی موجود ہیں۔ماضی میں جو مطالبات قوم پرست اٹھاتے رہے ہیں وہ مطالبات اب پیپلزپارٹی اٹھارہی ہے۔ مثلا مالیات وسائل و اختیارات ، پانی کی منصفانہ تقسیم، گیس اور دیگر معدنی وسائل کی رائلٹی اور اس کے استعمال کا حق، سندھی کو قومی زبان کا درجہ دلانا، وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی کوٹہ کا معاملہ وغیرہ۔ ان سب معاملات کو اب آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ابھی بھی مسئلہ ہے۔ اب قوم پرستوں کی جانب سے یہ مطالبات نہیں کئے جارہے ہیں۔
قوم پرست اس بات کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ ان کو ایسی صورتحال میں بھی سیاست کرنی پڑے گی۔ یہ بات سندھ کے مختلف قوم پرست گروپ مانتے بھی ہیں کہ بدلے ہوئے حالات سے مطابقت رکھنیوالی سیاست نہیں ہو پارہی۔
سندھ میں قوم پرست سیاست کا محدود ہو جانا کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ قوم پرست سمجھتے ہیں کہ وہ کسی طور پر بھی اقتدار میں نہ شامل ہیں اور نہ ان کو اقتدار واختیارات کے تعین کے وقت گنا جاتا۔ایسے میں مطالبات کے اٹھانے کا مطلب ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے موقف کو مضبوط کرنا۔ رفتہ رفتہ سندھ میں پرامن طریقے سے قوم پرست سیاست کی مقبولیت میں کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ا۔ اور ان کے پاس کسی واضح موقف نہ ہونے کی وجہ سے کشش کھو بیٹھی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی زیادہ تر قوم پرست گروپ صرف اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ عملی میدان میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ میں ایک گروہ نے انتہا پسندی کی سیاست شروع کی۔ جس کی نتیجے میں پراسرار گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں کئی نوجوانوں کی جانیں چلی گئیں۔
دراصل یہ قوم پرست اور خود پیپلزپارٹی کی ناکامی ہے کہ وہ اس صورتحال کے لئے کوئی حکمت عملی نہ بنا سکی اورنوجوانوں کو اپنی طور راغب نہ کر سکی۔ کچھ عرصے تک سندھی مہاجر تضاد کی بنیاد پر بھی سیاست چلتی رہی، لیکن ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے اندر تین گروپ بن جانے کے بعد بظاہر کوئی جواز نہیں رہا کہ سندھی حلقے سے مہاجر مخالف نعرے پر سیاست کی جائے۔
اب چونکہ انتخابات کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے وجود کو منوانے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ وہاں دیگر چھوٹے موٹے گروپ بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی میں کراچی حقوق ریلی نکالی، اس کے بعد ایم کیو ایم سے علحدگی اختیار کر کے پاک سرزمین پارٹی کے نام سے الگ پارٹی قائم کرنے والے نے بھی حیدرآبادد اور کراچی میں ریلی نکالی۔ یہ تمام پارٹیاں مہاجر ووٹ کو ہی اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہی ہیں۔ لہٰذا وہ اس بنیاد پر ہی کھڑی ہیں جو الطاف حسین نے ڈالی تھی۔
سندھی قوم پرستوں کا ایک اجلاس کثیر جماعتی کانفرنس کے نام سے گزشتہ دنوں حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بعض بائیں بازو کے گروپوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن مین اسٹریم سیاست کرنے الی جماعتوں مثلا پیپلزپارٹی، نواز لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، اور ایم کیو ایم کے کسی گروپ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ ایک طویل مدت کے بعد یہ مشترکہ اجلاس تھا ۔ لیکن اس اجلاس میں عوامی تحریک کے دونوں گروپوں، اور ڈاکٹر قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی نے شرکت نہیں کی۔ یہ تینوں وہ جماعتیں ہیں جو پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں اور گزشتہ دو تین انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہیں۔ لہٰذا اس اجلاس میں ان پارٹیوں نے شرکت کی جو پارلیمانی سیاست نہیں کرنا چاہتی۔ اس اجلاس میں زیادہ تر سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کا معاملہ زیر موضوع رہا۔ اجلاس کے شرکاء کے مطابق سندھ میں اس وقت تیس سے زائد افراد پراسرار طور پر گم ہیں۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ملک کےّ ئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو اظہار کی آزادی کا حق ہے۔ اور کسی بھی کارکن کو محض اس وجہ سے گرفتار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی سیاسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ کانفرنس میں میں کہا گیا کہ ہمیں پرامن جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بچانا ہوگا۔ کانفرنس کے میزبان جیئے سندھ محاذ آریسر گروپ کے صدر میر عالم مری نے کہا کہ انسانی حقوق، سیاسی جدوجہد کرنے اور اظہار آزادی کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے۔ ہمیں ملک کے تمام قوم پرست، ترقی پسند، لبرل سیاستدانوں اور دانشوروں کو یکجا کرنا ہوگا۔لیکن اس موقع پر مجموعی طور پر سندھ میں قوم پرست سیاست اور اسکی حکمت عملی کے معاملات پر بھی بات ہوئی۔ جیئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان گروپ)کے نائب صدر نیاز نے کہا کہ جو لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر سندھ کا کیس لڑنے والے سندھ میں آکر عملی سیاست کریں۔ جیئے سندھ کے پرانے رہنما اور اب عوامی جمہوری پارٹی کے صدر امان اللہ شیخ کا ماننا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی تحریک اکیسویں صدی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتی۔شخصیت پرستی کا رجحان ہے فکر کا فقدان ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو اور ان کے بیٹے ایاز لطیف پلیجو پیپلزپارٹی کی مخالفت میں سیاست کر رہی ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کرپٹ ہے اور اس کی قیادت سندھ کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر وہی سیاست ہے جو ملکی سطح پر کی جارہی ہے۔ جس میں پیپلزپارٹی پر کرپشن، خراب حکمرانی وغیرہ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ان جماعتوں کی الگ حیثیت ہونے کے باوجود بھی کوئی الگ حیثیت نہیں بن رہی۔
طویل مدت کے بعد منعقدہ قوم پرستوں کا یہ پہلا اجتماع ہے۔ ان کے لئے انتخابات میں کوئی نشست جیتنا شاید مشکل ہو ، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس اتحاد کو کوئی عملی شکل دے کر ایک پریشر گروپ کی شکل اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

روزنامہ نئی بات
may 27, 2017

Decrease in nationalists popularity
Daily Nai Baat May 26, 2017



Also published on : http://www.bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-may-26-2017-123042

Tuesday, May 23, 2017

سندھی بلوچ تضاد کی کیا معنی؟

سندھی بلوچ تضاد کی کیا معنی؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر بلوچستان سے سندھ کے مزدوروں کی لاشیں پہنچی ہیں۔ اسے قبل تین مرتبہ اسی طرح سے سندھ اپنے مزدوروں کی لاشیں وصول کر چکا ہے جو بلوچستان میں بعض سرکاری پروجیکٹس خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر پر کام کر نے گئے تھے۔ اس مرتبہ سندھ بھر میں اس واقعہ کے خلاف احتجاج ہوا۔ بعض مقامات پر مظاہروں اور جلوس کے علاوہ میڈیٰا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی گئی۔ سندھ بلوچستان کے رہائشیوں کا دوسرا گھر رہا ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے لسبیلہ اور سندھ کی سرحد کے ساتھ والے علاقوں میں نہ صرف سندھی بولی جاتی ہے بلکہ آاپس میں تہذیبی اور خون کے رشتے بھی ہیں۔
واقعہ کی اگرچہ اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، ثنا بلوچ نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ لیکن مزید عوامی سطح پر احتجاج یا مذمت سامنے نہیں آئی ہے، سندھ کے چار درج سے زائد مزدوروں کے قتل پر صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مذمت۔۔۔ سندھ کے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت واقعی اس وقاعہ کو غلط سمجھتی ہے تو اسے مزید کھل کر سامنے آنا چاہئے۔ ذمہ دار بلوچ رہنماؤں کو تعزیت کے لئے مرحومیں کے ورثاء کے پاس جانا چاہئے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنیئر رہمنماؤں میں سے صرف سردار عطاء اللہ حیات ہیں جبکہ نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، اکبر بگٹی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ سردار عطاء اللہ اور غوث بخش بزنجو وہ رہنما ہیں جنہوں نے ون یونٹ کے خلاف اور بعد میں ملک میں جمہوریت اور صوبائی حقوق کی بحالی کے لئے سندھ کے ساتھ جدوجہد کی ہے لہٰذا سندھ اور بلوچستان کا مشترکہ سیاسی ماضی بھی رہا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ بلوچ سماج ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایسی صورتحال کہ 1974 کے بعد ہر دور دور حکومت میں اس صوبے میں آپریشن کیا جاتا رہا۔ آپریشن میں کئی نوجوان قتل ہو گئے۔ بلوچوں کی صوبائی حقوق سے شروع ہونے والی تحریک پھر آگے بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ اب وہ روایتی رہنماؤں اور سرداروں کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ جس کا یہ لوگ مختلف وقتوں میں اظہار و اقرار بھی کرتے رہے ہیں۔
1970 کے عام انتخابات کے بعد نشینل عوامی پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، جسے بعد میں بھٹو حکومت نے مبینہ طور پر شاہ ایران کی ایماء پر پابندی ڈال دی۔ اور آپریشن بھی شروع کر دیا گیا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قیادت کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ دور تھا جب بلوچستان میں صحیح طریقے سے اس صوبے کے لئے ترقیاتی کام کرائے جاسکتے تھے۔ اور نئے ابھرنے والے متوسط طبقے کو آسانی کے ساتھ اختیار اور اقتدار میں شامل کیا جاسکتا تھا۔
بظاہر بنجر اور کھیتی باڑی کے حوالے سے بنجر نظر آنے والا بلوچستان گیس، تانبے اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان وسائل میں انہیں دراصل معمولی حصۃ بھی نہیں دیا جاتا، اگر کہیں دیا جاتا ہے تو حکومت اور کمپنی کی جانب سے علاقے کے سرداروں کو ہی دیا جاتا ہے۔ یہ تضادات بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں حکومت اور اختیار دینے کے لئے مختلف تجربے کئے گئے۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ جو یہاں کی نوجوان قیادت جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ابھری تھی اس کے ہاتھ میں حکومت رہی۔ لیکن عام لوگوں کی زندگی کے حالات وہی رہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ تعلیم کسی حد تک نچلی سطح تک پہنچی اور متوسط طبقہ بڑھا۔ آج یہی طبقہ بیوروکریسی خواہ سیات میں آگیا ہے۔ اور اس کا ایک حصہ باغی بن گیا ہے اور بلوچستان کی علحدگی کے نعرے پر کام کر رہا ہے جس کے خلاف ریاست کارروائی کر رہی ہے۔ریاستی اداروں کے مطابق یہ لڑاکا لوگ بھارت یا کسی اور غر ملک کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ لڑاکا گروپ ایک نہیں بلکہ نصف درج سے زائد ہیں۔ جن کی آپس میں بھی اختلافات اور لڑائیاں ہیں تو ریاست اور حکومت کے ساتھ بھی۔
بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد بعض نئے مظاہر سامنے آئے، یعنی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کی قوم پرست سیاست جو ساتھ ساتھ اور مشترکہ طور پر چل رہی تھی وہ ٹوٹ گئی۔ پختون قیادت نے اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔ سندھ ویسے ہی بھٹو کی سیات کی لپیٹ میں آ چکا تھا لیکن جی ایم سید کی قیادت میں وہ عملی طور پر ساٹھ کے عشرے میں ہی چھوٹی قومیتوں کی مشترکہ جدوجہد سے علحدہ ہو چکے تھے۔ ایسے میں چھوٹے صوبوں کی وفاق کے اندرمشترکہ جدوجہد بہت کمزور ہو گئی۔ واقعات کے مطالعہ سے لگتا ہے کہ ہر صوبے نے اپنا اپنا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ اگر آج اس صورتحال کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ م وفاق اور ملک میں جمہوریت کو سب سے بڑا نقصان تھا۔ بعد میں نوے کے عشرے میں بینظیر بھٹو نے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر نواز شریف کے دور اقتدار میں کالاباغ ڈیم کے خلاف مشترکہ مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد ’’پونم‘‘ کے ذریعے ایک بار پھر اس آئیڈیا کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن تب تک صورتحال بہت بدل چکی تھی۔ ہر صوبے میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں قوم پرستوں کے متعدد گروپ بن چکے تھے۔ ان سب کو ایک لڑی میں پرونا مشکل کام ہو گیا تھا۔ لہٰذا ہر صوبہ اپنے حقوق کے لئے اپنے طور پر اور الگ الگ کھڑا ہو کر جدوجہد کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب چھوٹے صوبوں کی تحریکیں یا تو اسٹبلشمنٹ کی سیاست اور حمایت کر رہی ہیں یا پھر تنہائی کا شکار ہیں۔
یہ ایک بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کی سیاست کا مختصر پس منظر ہے۔
بلوچستان میں اس طرح کی حالیہ کارروائیوں کو چینی راہداری کے منصوبے کے خلاف بھی قرار دی اجارہا ہے۔ لہٰذا اس پوری لڑائی کا پس منظر خطے کی صورتحال سے جڑ جاتا ہے جہاں پہلے سے موجود ’’گریٹ گیم‘‘ کے کھلارٰ مختلف شکلوں میں پراکسی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔ یہ پراکسی لڑائیاں اتنی پیچیدہ ہیں اور ان کا آپس میں اس طرح کا تانابانا ہے کہ یہ سمجھنا کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسا کویں کر رہا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کسی سنجیدہ حکمت عملی سے عاری اور انارکی کا شکار لڑاکا گروہ سندھی مزدوروں کو قتل کر کے فخریہ طور پر اس کی ذمہ داری بھی قبول کر رہے ہیں۔ اس سے نہ ان کے طویل خواہ عارضی مدت کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے ہیں ۔ بلکہ عملی طور پر مزید سیاسی تنہائی میں لے گئے ہیں ۔ مزید یہ کہ عالمی طور پر بھی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔
ان واقعات کا ایک اور بھی پہلو ہے۔ سندھ اور بلوچستان دو ایسے صوبے ہیں جن کو وفاق خواہ اپنے ہی صوبے میں اختیار اور اقردار کے ھاولے سے شکایات رہتی ہیں۔ جس طرح سے سندھ میں اردو آبادی کی ایم کیو ایم کی سیاست صوبے کی معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کو روکے ہوئے ہے اسی طرح سے بلوچستان میں بھی پختون آبادی کا تضادا جس میں اب افغانیوں کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے بلوچستان کی ترقی کی راہ میں مسائل پیدا کر رہا ہے ۔ کئی مواقع پر ان دونوں برادریوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا ہونا پڑا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان میں پنجابیوں کے خالف بھی بعض واقعات ہوئے تھے۔ جس کو بھی سیایسی اور اہل فکر لوگوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا تھا اور اسکی مذمت کی تھی۔ جو بھی عناصر سندھ کے ان غریب مزدوروں کو قتل کر رہے ہیں، وہ دراصل غریب طبقے کے لوگوں کو یتیم کر رہے ہیں۔ اس سے وہ نہ ریاست کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت کے کسی منصوبے کو روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ایسا کر کے وہ عام لوگوں میں اپنی ہمدردیاں کھو رہے ہیں۔
سندھی بلوچ تضاد سے سندھ کو دو اور نقصانات بھی ہیں۔ ایک یہ کہ سندھی قوم پرستی جو فکری انداز میں چل رہی تھی اس میں نسلی رنگ آجائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں بعض حلقوں نے اس طرح کیا رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔دوئم یہ کہ خود سندھ کے اندر بڑی تعداد میں بلوچ قبائل موجود ہیں۔ ان کے اور سندھ کے باقی لوگوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی خطرناک امر ہے کہ سندھ کے لوگوں کو پہلے پنجابیوں سے ، بعد میں مہاجروں سے لڑایا گیا اور اب بلوچوں سے تضاد میں کھڑا کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود بلوچ پہل کر کے سندھ میں پیدا شدہ غلط فہمی کو دور رکیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے اہل دانش و نظر اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس تضاد کو بڑھنے نہ دیں۔

روزنامہ نئی بات میں شایع شدہ

سندھ میں ہاری تحریک - Peasants Movement in Sindh


حیدر بخش جتوئی نے ہاری کمیٹی کو ایک طبقاتی تنظیم کے طورپر منظم کیا۔ یہ ہاری کمیٹی کی کئی پہلوؤں سے ترقی کا دور تھا۔
آج سندھ میں ہاری تحریک یا ہاری سوال کا ذکرفکر نہیں، لیکن یہ کل ہی کی بات ہے کہ تقریباً چالیس برس تک یہ ایک مضبوط تحریک کے طور پر موجود تھی، جو سیاسی عمل اور فکر پر بھرپور طریقے سے اثرانداز ہوتی تھی۔ ہاری تحریک کے کمزور ہونے کے معروضی خواہ موضوعی دونوں اسباب ہیں۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی کی دانشمندی، بہادری اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث ہاری کمیٹی سے ہاری تحریک بنی۔ان کی برسی کے موقع پر ہاری تحریک کا جائزہ لیں گے۔     
سندھ ہاری کمیٹی برصغیر میں ترقی پسند تحریک کے تسلسل اور آل انڈیا کسان سبھا کے حصے کے طور پروجود میں آئی۔ جس کے قیام میں کمیونسٹوں کے علاوہ اس وقت کے روشن خیال اور حقیقی جمہوریت پسندوں جی ایم سید، جمشید نرسوانجی اور دیگر رہنماؤں نے اپنا کردار ادا کیا۔
سندھ کی ہاری جدوجہد کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ پہلا دور 1930ء کا عشرہ ہے جس میں ابتدائی طور پر تنظیم سازی، فکری بحث اور اجلاس ہوتے رہے۔ ہاری کمیٹی کے پہلے اور دوسرے دور میں روشن خیال اور جمہوریت پسند حلقوں کا اثر نمایاں تھا جس کی وجہ سے اس کے مطالبے میں سرکاری زمینیں کسانوں میں تقسیم کرنے اور کسانوں سے منصفانہ رویہ رکھنے پر زور تھا۔ جبکہ کمیونسٹوں کی جانب سے جاگیرداری ختم کرنے کا مطالبہ تھا۔ یہ دونوں رجحان ہاری کمیٹی کے ساتھ آخر تک چلتے رہے۔
دوسرا دور 1940ء کا ہے۔جس میں جیٹھ مل پرسرام اور قادر بخش نظامانی جیسی شخصیات نے ہاریوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔  1946ء میں ٹنڈوالیٰہار میں ہاریوں نے تالپوروں اور لغاریوں کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ جس کا ذکر آل انڈیا کسان سبھا کے ریکارڈ سے ملتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے لگتا ہے کہ ہاری تحریک میں شدت پسندی اور ہیروازم داخل ہوگیا  تھا۔
کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت چھوڑکر ہاری کمیٹی میں شمولیت اختیار کی تو اس تنظیم میں نیا جوش اورولولہ آگیا۔ کامریڈ جتوئی مارکسسٹ تھے۔ انہوں نے ہاری کمیٹی کو ایک طبقاتی تنظیم کے طورپر منظم کیا۔ یہ ہاری کمیٹی کی کئی پہلوؤں سے ترقی کا دور تھا۔
پرانے ہاری ورکر، شاعر اور صحافی منصور میرانی کامریڈ جتوئی کے ساتھی کامریڈ رمضان شیخ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس دور میں ضلعی سطح پر ہاری حقدار کے نام سے دفاتر ہوا کرتے تھے، جہاں باقاعدگی سے ہاری کارکن ڈیوٹی دیتے تھے۔ ان دفاتر میں ہاریوں کی بے دخلیوں، زمینداروں اور پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں شکایات نوٹ کی جاتی تھیں۔ اور اس ضمن میں متعلقہ حکام سے خط و کتابت کی جاتی تھی۔ اور عوامی سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا جاتا تھا۔
تیسرے دور میں سب سے بڑا کام سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری تھا۔ 1950ء میں سندھ ہاری کمیٹی کے پلیٹ فارم پر صوبے بھر سے کسانوں نے کراچی پہنچ کر سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا۔ یہ دھرنا اتنا مضبوط تھا کہ اسمبلی ممبران ایوان کے اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ یہاں تک کہ باہر سے ان تک کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں پہنچ پارہی تھیں۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ بہت بڑا کارنامہ تھا کیونکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسان اور زمیندار کو زراعت میں برابر کا حصہ دار تسلیم کیا گیاتھا۔ بیج، کھاد، زرعی اشیاء اور پیداوارمیں دونوں فریقین میں پچاس پچاس فیصد تقسیم کا فارمولا دیا گیاتھا۔
اسی دور میں سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی کو نواب سلطان احمد خان چانڈیو کے مقابے میں الیکشن میں کھڑا کیا۔ اس الیکشن ورک میں ممتاز انقلابی شاعر حبیب جالب سمیت ملک بھر کے ترقی پسند کارکنوں نے شرکت کی۔ جالب نے کامریڈ جتوئی کی انتخابی مہم کے لیے خصوصی نظمیں بھی لکھیں ۔سردار چانڈیو کے لوگوں نے ہاری کارکنوں پر کتے چھوڑے جس میں کامریڈ رمضان شیخ اور دیگر کارکن بری طرح زخمی ہوئے ۔ کتوں کے کاٹنے کے نشانات کامریڈ رمضان کی ٹانگ پر مرتے دم تک رہے۔
جرأتمندانہ جدوجہد کی وجہ سے ہاری سوال سیاسی بحث کا حصہ بنا۔ اس دور میں چینی وزیراعظم چو این لائی پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے پاکستان حکومت سے فرمائش کی کہ ان کی ملاقات کامریڈ حیدربخش جتوئی سے کرائی جائے۔
1957ء میں اپر سندھ میں پہلی ہاری کانفرنس تحصیل گڑھی یاسین کے گاؤں آرائیں میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس تاریخ میں آرائیں کانفرنس کہلاتی ہے۔ اس کانفرنس میں شیخ ایاز اور کراچی میں اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم طالب علموں نے شرکت کی۔ اس دور میں مختلف اضلاع میں دفاتر اور کارکنوں کا نیٹ ورک سوائے ہاری کمیٹی کے کسی اور پارٹی کے پاس نہیں تھا۔
اس دور کے ہاری لیڈرپڑھے لکھے اور عالم فاضل تھے، ہاری کمیٹی میں مذہبی پس منظر والے کمیونسٹ اور کانگریس کے حامی سب لوگ تھے۔ لیکن سب مل کر اس طرح کام کرتے تھے کہ ان کی سیاسی وابستگی یا فکر کبھی بھی آڑے نہیں آئی۔ کئی کا پس منظر مذہبی تھا اور وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے فکر سے متاثر ہوکر ہاری کمیٹی میں شامل ہوئے تھے۔ کامریڈ مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی، عبدالرحمان عیسانی، محمد عالم منگریو اس دور کے اہم لیڈر تھے جوبالائی سندھ میں ہر وقت گھومتے رہتے تھے اور ہاری جدوجہد کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔
دوسری اہم بات یہ تھی کہ سندھ ہاری کمیٹی صوبے میں کام کرنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ مورچہ تھی۔ جی ایم سید ہوں یا اللہ بخش سومرو سب ہاری کمیٹی کے مدگار تھے۔
پچاس کی دہائی میں جو بھی ہاری کانفرنس ہوئی وہ سندھ میں سیاسی ہلچل کے حوالے سنگ میل ثابت ہوئی۔ ایسی ہی ایک کانفرنس میں جام ساقی (جو بعد میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنے ) کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ صوبے میں طلباء تنظیم منظم کریں۔
شہیدوں کا قافلہ:
یہ وہ دور تھا جب زمیندار ہاریوں اور ہاری کارکنوں پر تشدد کرتے تھے۔ زمینداروں کی ننگی زیادتیوں کا کئی ہاری کارکن شکار ہوئے۔ ان پر قاتلانہ حملے ہوئے جس میں ایک درجن کارکن شہید بھی ہوئے۔ قتل کے زیادہ تر واقعات بٹائی تحریک کے دوران ہوئے جب قانون منظور ہرنے کے بعد بھی زمیندار عمل نہیں کر رہے تھے۔ ٹنڈو باگو کے ہاری پٹھائی انڑ کو اس وجہ سے قتل کردیا گیا کہ انہوں نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے قانون کی مدد لی۔ انہوں نے بٹائی میں اپنا قانونی حصہ تو لے لیا مگر دو دن بعد وہ اپنے بیٹے سمیت زمیندار کے لوگوں نے قتل کردیا۔ٹنڈوالہٰیار کے قریب ہار کارکنوں کے ایک گروپ پر زمیندار نے حملہ کردیا کیونکہ یہ کارکن کسانوں کو پچاس فیصد بٹائی پر منظم کر رہے تھے اور اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کر رہے تھے۔ اس حملے میں سات ہاری کارکن زخمی ہوئے جن میں خمیسو خاصخیلی زخموں تاب نہ لا کر انتقال کر گئے۔ غلام مصطفےٰ عباسی اور بالاچ بروہی کو نوابشاہ میں قتل کیا گیا۔ ہاری رہنما اور شاعر عزیزاللہ مجروح کو گڑھی یاسین کے علاقے میں قتل کیا گیا۔ ہاری رہنماؤں کے لیے ان کے ساتھ عزیزاللہ مجروح کا قتل ناقابل برداشت تھا، ان کے ساتھیوں مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی اور دیگر نے ان کی تدفین کے بعد قبر پر عہد کیا کہ وہ ہاری لیڈر کا پلاند کریں گے۔ اور بعد میں انہوں نے پلاند کیا اور قاتلوں کو قتل کیا۔شہید بختاور کو کنری کے پاس زمینداروں نے قتل کای جب مرد ہاری جھڈو میں منعقدہ ہاری کانفرنس میں گئے ہوئے تھے اور وہ گندم کے ڈھیر کی حفاظت کر رہی تھی ۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکن منصور میرانی کا کہناہے کہ جس طرح سے ہاری کمیٹی کے کامریڈوں نے سخت محنت کی، کٹھن زندگی گزاری، اپنی زندگیاں وقف کر کے اپنے مشن کو آگے بڑھایا اس لحاظ سے اگر وہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی فوت ہوئے، ان کے نزدیک وہ بھی شہید ہیں۔
خود کو وقف کرنے والے:
ہاری کارکنوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جنہوں نے اپنی زندگی اور جوانی ہاری کاز کے لیے وقف کی۔مختلف ادوار میں کام کرنے والوں بڑے بڑے نام بھی ہیں۔جیٹھ مل پرسرام، قادربخش نظامانی، کامریڈ غلام محمد لغاری،مولوی عزیزاللہ جروار، کامریڈ میر محمد تالپور، عبدالرحمان عیسانی، محمدعالم مگریو، عبدالقادر کھوکھر، کامریڈ رمضان شیخ، رئیس بروہی، عبدالقادر انڈہڑ، قاسم پتھر ، باقر سنائی، عنایت دھمچر،علامہ شامہ محمد امروٹی، صوفی جنن چن،سلیمان لاکھو، محمدخان لاکھو، غلام حسین سومرو، جام ساقی، ماندھل شر، حسین مگسی،مولوی شاہ محمد بنگلانی، غلام حیدر لغاری اور دیگر شامل ہیں۔
1980 کے بعد جن کارکنوں اور رہنماؤں نے نمایاں کردار ادا کیا ان میں لالا شاہ محمد درانی، صوفی حضوربخش، غلام رسول سہتو،عثمان لغاری، احمدخان لغاری، پھوٹو رستمانی،محب نظامانی، صالح بلو، گلاب پیرزادو، محب پیرزادو، اسماعیل قریشی، تاج مری، یارمحمد جلالانی، غلام قادر مرڑانی، منصور میرانی، غلام حسین شر، مراد چانڈیو، خادم چانڈیو، قاضی عبدلاخالق، شاہمیر بھنگوار، حسین بخش جج، محمدعثمان شیدی، بقا بروہی، پیر شہاب الدین، حاجی حسین جونیجو، ولی محمد انڑ، دین محمد انڑ، اسماعیل کھوسو، شامل ہیں۔
رسول بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک نے ستر کے عشرے میں الگ سے ہاری تنظیم سندھی ہاری تحریک کے نام سے بنائی۔ اس تنظیم میں فضل راہو نے بڑا اہم کردار داد کیا۔اس تنظیم کے دوسرے اہم لیڈروں میں علی سوڈھو، قادر رانٹو، وشنو مل، شیرخان لنڈ اور گل حسن کیڑانو اہم رہنما تھے۔
طبقاتی کردار:
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امدا د قاضی کا کہنا ہے کہ 50کے عشرے میں ہاری کمیٹی نے بطور طبقاتی تنظیم کے بھرپورکردار ادا کرنا شروع کیا۔جاگیرداری ختم کرنے اور پیداوار پر برابر ملکیت کے نعرے گونجنے لگے۔ اور اسی حکمت عملی پر کام کیا گیا۔ انڈیا سے آکر یہاں آباد ہونے والے صاحب جائیداد طبقے میں یہاں کی جائیداد دی جانے لگی۔ قوم پرستوں کا نعرہ تھا کہ جعلی کلیم رد کیے جائیں۔ جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ کامریڈ جتوئی کاموقف تھا کہ ہر طرح کے کلیم کوتسلیم نہ کیا جائے۔ سندھ ہاری کمیٹی نے شاہ عنایت صوفی کے اس نعرے کو دوبارہ زندہ کیا ”جو کھیڑے سو کھائے“ یعنی کو کھیت پر کام کرے وہی اس کی پیداوار کا مالک ہو۔ اس معاملے پر جی ایم سید اور کامریڈ جتوئی کے درمیان دوری پیدا ہوگئی۔
گروہ بندی کا آغاز:
ساٹھ کی دہائی میں جب سووئیت یونین اور چین کے درمیان فکری اختلافات پیدا ہوئے تودنیا بھر کے کمیونسٹوں کی طرح سندھ ہاری کمیٹی میں بھی دوگروپ ہوگئے۔ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ہاری فرنٹ کی رہنمائی کرنے والے رہنما کامریڈ عزیز سلام بخاری چین نواز لائن اختیار کی۔ نتیجتاً ہاری کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گروپ میں شامل ہوگئی۔اس گروپ کی جانب سے چمبڑ ہاری تحریک چلائی گئی۔ جس میں کامریڈ احمد اور دیگر رہنماؤں نے حصہ لیا۔
کامریڈ جتوئی کے بعد:
چوتھا دور کامریڈ جتوئی کی وفات کے بعد کا ہے۔ کامریڈ جتوئی کی زندگی میں ہی شاگرد، ہاری مزدور رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ ان دنوں میں سندھ میں طلباء تحریک زوروں پر تھی۔ اور مزدور تحریک میں بھی ابھار آیا ہوا تھا۔ اس اتحاد کا مقصد یہ تھا کہ تمام مظلوم طبقات مشترکہ جدوجہد کریں۔ دوسرا یہ کہ ہاریوں کوطلباء اور مزدور تحریک سے فائدہ ملے۔
کامریڈ جتوئی کی زندگی میں ہی سکرنڈ ہاری کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر ان کی وفات کے بعد یہ کانفرنس ملتوی کردی گئی ۔ چند ماہ کے وقفے کے بعد یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں ہاری کمیٹی کو منظم کرنے کے لیے کامریڈ جام ساقی کو آرگنائزر مقرر کیا گیا۔
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امداد قاضی کا کہنا ہے کہ جام ساقی کی شمولیت سے اگرچہ ہاری تنظیم کا رنگ زیادہ ریڈیکل ہوا مگر یہ تنظیمی طور سکڑ گئی۔ان کے مطابق جام ساقی ہاری لیڈر کے بجائے پارٹی لیڈر کے طور پر کام کرتے رہے ۔ انہوں نے نظریاتی پہلو پر زیادہ توجہ دی۔ اور ہاری کمیٹی ماس موومنٹ نہ بن سکی ۔
اگرچہ بڑے پیمانے پر تحریک نہیں چل سکی تاہم چھوٹی چھوٹی کئی تحریکیں چلیں ۔ہاری کمیٹی کے کچھ پاکٹس بنے جس میں بلہڑیجی، شہدادکوٹ، لاڑکانہ، کھروہی کے سیکٹر زیادہ سرگرم رہے اور کئی معاملات میں رہنمایانہ کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ ہاری کمیٹی نے اپنے رہنما عرس سیلرو کو نادر مگسی کے مقابلے میں کھڑا کیا ۔
کھروہی میں کامریڈ ماندھل شر کی قیادت میں ہاریوں کا ایک مضبوط مرکزقائم ہوا۔نواب شاہ میں پیر شہاب اور ٹنڈوالہیار میں پہاڑ لغای کے علاقے میں ہاریوں کے موثر مرکز قائم ہوئے ۔
جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ کامریڈ جتوئی کے بعد عملاً ہاری کمیٹی اور ہاری تحریک ختم ہو گئی۔یہ زرعی معاشرے کا المیہ ہے کہ کوئی بڑاآدمی موجود ہے تو تنظیم اور تحریک بنتی ہے۔جتوئی کے بعد کوئی بڑاآدمی ہاری کمیٹی میں نہیں آیا ۔
رسول بخش پلیجو کی رہنمائی میں عوامی تحریک نے ’’سندھی ہاری تحریک‘‘ کے نام سے تنظیم بنائی۔ جامی چانڈیو کے مطابق اس ہاری تنظیم نے بھی ضیاء دور میں کام بند کردیا۔ زیادہ تر رجحان قومی سوال کی طرف ہوگیا ۔
ستر کی دہائی سے لیکر اسی اور نوے کی دہائی میں مختلف شکلیوں میں ہاری تنظیمیں بنیں مگر کوئی بھی نئی تنظیم فعال تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آئی۔ ضیاء مارشل لا میں ہاری تحریک ختم ہونے کی وجہ قومی سوال اور جمہوری سال کا اولین ترجیح بننا تھا۔جس کو اٹھانا وقت کی ضرورت بھی تھی اور سیاسی جماعتیں ان دو سوالوں کو ہی ترجیح دے رہی تھی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہاری تنظیموں نے ضیا ءمارشل کے خلاف بھر پور جدوجہد کی اور ایم آرڈی تحریک میں بھی حصہ لیا۔
سیاسی کلچر اور ماحول میں تبدیلی:
جی ایم سید ہاری کمیٹی کے شروع کے دو ادوار میں بھرپور طریقے سے شامل رہے، مگر ساٹھ کی دہائی اور خاص کر سترکے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ۔ اور پھر ہاریوں کے مسائل کبھی نہیں اٹھائے۔
40کے عشرے سے لیکر 70 کے عشرے تک ہاری سوال پر سیاسی جماعتوں میں کوئی مسابقت نہیں تھی۔ بلکہ وہ سب اس نقطے پر ایک ساتھ تھے۔کہیں اگر ہاریوں کا مسئلہ ہوتا تھا تو سب ملکر جدوجہد کرتے تھے ۔بعد میں ہر سیاسی گروپ نے اپنی الگ سے ہاری تنظیم بنالی ۔
دوسرا ابھار:
سندھ ہاری کمیٹی کے سابق جنرل سیکریٹری صوفی حضور بخش، جامی چانڈیو کی اس رائے سے متفق نہیں کہ ضیا ءدور میں ہاری تحریک ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس ان کا کہنا ہے کہ 80 کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی نے ایک اُچھال دی تھی جس سے ہاری تحریک کو ایک بار پھر عروج مل گیا۔اس کی وجہ ہاریوں میں کام کرنے والے مختلف گروپوں کا مل کر کام کرنا تھا۔اس دور میں سینکڑوں جلسے جلوس ہوئے ۔ ہاری جدوجہدیں بھی ہوئیں جس میں سے بیشتر کامیاب بھی ہوئیں ۔ بعد میں ان گروپوں کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے خاص طور پر سگیوں کانفرنس کے بعد تنظیم میں توڑپھوڑ ہوگئی اور ہاری کمیٹی ایک بار پھر کمزور ہوگئی۔
صوفی حضور بخش کا کہنا ہے کہ اگر کاز کے ساتھ خود کو وقف کرنے والی لیڈرشپ اور کارکن موجودہوں اور ہاریوں میں کام کرنے والے بائیں بازو کے مختلف گروپوں کی حمایت حاصل ہو تو ایک بار پھر ہاری کمیٹی فعال اور سرگرم ہوسکتی ہے۔
ہاری کمیٹی کی حاصلات:
ون یونٹ مخالف تحریک کو دیہی علاقوں تک پہنچانا، روشن خیال فکر پھیلانا اور سیاسی شعورپیدا کرنا، تنظیم کاری اوردیہی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی جدوجہدیں کرنا ہاری کمیٹی کی اہم حاصلات ہیں۔جس سے مجموعی طور پر سندھ کے دیہی علاقوں میں سیاسی جاگرتا پیدا ہوئی۔ اس جاگرتا کا فائدہ ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھایا ۔
اس کے علاوہ پانچ ٹھوس حاصلات ہیں جن کو یکھا اور ناپا جاسکتا ہے:
1۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری
2۔ بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کوانعام اور نیلام میں دینے کے بجائے مقامی ہاریوں میں تقسیم کرنا
3۔ بوگس کلیموں کو روکنا
4۔ زرعی پیداوار میں ہاری کا آدھا حصہ قانونی طور پر تسلیم کرانا اور اس پر عمل درآمد کرانا
5۔ ہاریوں کی بے دخلیاں روکنا ۔
ان پانچ حاصلات کے لیے سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی ن کی رہنمائی میں جامع حکمت عملی کے ساتھ متواتر جدوجہد کی۔دراصل ہر حاصلات کی ایک الگ الگ تحریک ہے جس نے سندھ کے زمینداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کامریڈ جتوئی ایک برجستہ اور بہادر رہنما تھے ۔ان کی جدوجہد کثیرجہتی تھی۔یعنی قانونی جنگ بھی لڑتے تھے۔ احتجاج اور جلسے جلوس بھی کرتے تھے تو دوسری پارٹیوں کے ساتھ لابنگ بھی کرتے تھے تاکہ ان کے مطالبے کودوسری حلقوں سے بھی حمایت حاصل ہو۔
گزشتہ تین چار دہائیوں پیداوار کے ذرئع میں تبدیلی آئی ہے لوئر سندھ میں گنے اور دوسرے نقص فصل کے عام ہونے سے بڑے پیمانے پر زرعی مزدور پیدا ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس نیم ہاری نیم مزدور کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔لیکن باقی علاقوں میں ہاری روایتی انداز میں موجود ہے۔اور اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے۔بھٹو دور کے بعد مسلسل زمیندار طبقہ سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہوا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ میں اثررسوخ کی وجہ سے مکمل طور پر ہاری اور دیہی آبادی پر حاوی ہے۔ دوسری طرف ہاری تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں ۔ نتیجے میں ہاری معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ پس رہا ہے۔
مارکیٹ اکونومی کی وجہ سے معاشی طور پر تمام نزلہ ہاری پر گرتا ہے۔کارخانے دار، بڑا تاجر، چھوٹا دکاندار اور سرکاری خواہ نجی ملازم اپنا تمام معاشی وزن عام حالات میں اور خاص طور پر معاشی بحران کی صورت میں ہاری پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ملکی ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہاری کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی وہی کسمپرسی والی حالت ہے۔
کسی منظم اور فعال تنظیم کی عدم موجودگی میں ہاری سوال سیاست اور ریاست دونوں کے ایجنڈا سے غائب ہے۔
گزشتہ پندرہ سال کے دوران بعض این جی اوزہاریوں کے مسائل اٹھاتی رہی ہیں ۔لیکن یہ حقیقی ہاری تنظیمیں نہیں۔یہ بعض واقعات کے بعد ان کو اشو کو انسانی حقوق یا لیبر اشو کے طور پر اٹھاتی ہیں ۔جس سے صرف وقتی طور پر تورلیف ملتا ہے۔
دراصل یہ سماج کا طبقاتی اور سیاسی سوال ہے۔ معاشی اور سماجی نابرابری کا سوال ہے۔این جی اوز کا نہ ویزن ہے نہ ان میں صلاحیت اورنہ ارادہ۔یہ ایک طبقاتی سوال ہے جسے سیاسی جماعتوں کو ہی اٹھانا چاہئے۔