Tuesday, May 23, 2017

سندھی بلوچ تضاد کی کیا معنی؟

سندھی بلوچ تضاد کی کیا معنی؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک بار پھر بلوچستان سے سندھ کے مزدوروں کی لاشیں پہنچی ہیں۔ اسے قبل تین مرتبہ اسی طرح سے سندھ اپنے مزدوروں کی لاشیں وصول کر چکا ہے جو بلوچستان میں بعض سرکاری پروجیکٹس خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر پر کام کر نے گئے تھے۔ اس مرتبہ سندھ بھر میں اس واقعہ کے خلاف احتجاج ہوا۔ بعض مقامات پر مظاہروں اور جلوس کے علاوہ میڈیٰا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی گئی۔ سندھ بلوچستان کے رہائشیوں کا دوسرا گھر رہا ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے لسبیلہ اور سندھ کی سرحد کے ساتھ والے علاقوں میں نہ صرف سندھی بولی جاتی ہے بلکہ آاپس میں تہذیبی اور خون کے رشتے بھی ہیں۔
واقعہ کی اگرچہ اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، ثنا بلوچ نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ لیکن مزید عوامی سطح پر احتجاج یا مذمت سامنے نہیں آئی ہے، سندھ کے چار درج سے زائد مزدوروں کے قتل پر صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مذمت۔۔۔ سندھ کے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت واقعی اس وقاعہ کو غلط سمجھتی ہے تو اسے مزید کھل کر سامنے آنا چاہئے۔ ذمہ دار بلوچ رہنماؤں کو تعزیت کے لئے مرحومیں کے ورثاء کے پاس جانا چاہئے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنیئر رہمنماؤں میں سے صرف سردار عطاء اللہ حیات ہیں جبکہ نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، اکبر بگٹی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ سردار عطاء اللہ اور غوث بخش بزنجو وہ رہنما ہیں جنہوں نے ون یونٹ کے خلاف اور بعد میں ملک میں جمہوریت اور صوبائی حقوق کی بحالی کے لئے سندھ کے ساتھ جدوجہد کی ہے لہٰذا سندھ اور بلوچستان کا مشترکہ سیاسی ماضی بھی رہا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ بلوچ سماج ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایسی صورتحال کہ 1974 کے بعد ہر دور دور حکومت میں اس صوبے میں آپریشن کیا جاتا رہا۔ آپریشن میں کئی نوجوان قتل ہو گئے۔ بلوچوں کی صوبائی حقوق سے شروع ہونے والی تحریک پھر آگے بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ اب وہ روایتی رہنماؤں اور سرداروں کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ جس کا یہ لوگ مختلف وقتوں میں اظہار و اقرار بھی کرتے رہے ہیں۔
1970 کے عام انتخابات کے بعد نشینل عوامی پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، جسے بعد میں بھٹو حکومت نے مبینہ طور پر شاہ ایران کی ایماء پر پابندی ڈال دی۔ اور آپریشن بھی شروع کر دیا گیا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قیادت کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ دور تھا جب بلوچستان میں صحیح طریقے سے اس صوبے کے لئے ترقیاتی کام کرائے جاسکتے تھے۔ اور نئے ابھرنے والے متوسط طبقے کو آسانی کے ساتھ اختیار اور اقتدار میں شامل کیا جاسکتا تھا۔
بظاہر بنجر اور کھیتی باڑی کے حوالے سے بنجر نظر آنے والا بلوچستان گیس، تانبے اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان وسائل میں انہیں دراصل معمولی حصۃ بھی نہیں دیا جاتا، اگر کہیں دیا جاتا ہے تو حکومت اور کمپنی کی جانب سے علاقے کے سرداروں کو ہی دیا جاتا ہے۔ یہ تضادات بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں حکومت اور اختیار دینے کے لئے مختلف تجربے کئے گئے۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ جو یہاں کی نوجوان قیادت جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ابھری تھی اس کے ہاتھ میں حکومت رہی۔ لیکن عام لوگوں کی زندگی کے حالات وہی رہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ تعلیم کسی حد تک نچلی سطح تک پہنچی اور متوسط طبقہ بڑھا۔ آج یہی طبقہ بیوروکریسی خواہ سیات میں آگیا ہے۔ اور اس کا ایک حصہ باغی بن گیا ہے اور بلوچستان کی علحدگی کے نعرے پر کام کر رہا ہے جس کے خلاف ریاست کارروائی کر رہی ہے۔ریاستی اداروں کے مطابق یہ لڑاکا لوگ بھارت یا کسی اور غر ملک کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ لڑاکا گروپ ایک نہیں بلکہ نصف درج سے زائد ہیں۔ جن کی آپس میں بھی اختلافات اور لڑائیاں ہیں تو ریاست اور حکومت کے ساتھ بھی۔
بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد بعض نئے مظاہر سامنے آئے، یعنی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کی قوم پرست سیاست جو ساتھ ساتھ اور مشترکہ طور پر چل رہی تھی وہ ٹوٹ گئی۔ پختون قیادت نے اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔ سندھ ویسے ہی بھٹو کی سیات کی لپیٹ میں آ چکا تھا لیکن جی ایم سید کی قیادت میں وہ عملی طور پر ساٹھ کے عشرے میں ہی چھوٹی قومیتوں کی مشترکہ جدوجہد سے علحدہ ہو چکے تھے۔ ایسے میں چھوٹے صوبوں کی وفاق کے اندرمشترکہ جدوجہد بہت کمزور ہو گئی۔ واقعات کے مطالعہ سے لگتا ہے کہ ہر صوبے نے اپنا اپنا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ اگر آج اس صورتحال کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ م وفاق اور ملک میں جمہوریت کو سب سے بڑا نقصان تھا۔ بعد میں نوے کے عشرے میں بینظیر بھٹو نے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر نواز شریف کے دور اقتدار میں کالاباغ ڈیم کے خلاف مشترکہ مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد ’’پونم‘‘ کے ذریعے ایک بار پھر اس آئیڈیا کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن تب تک صورتحال بہت بدل چکی تھی۔ ہر صوبے میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں قوم پرستوں کے متعدد گروپ بن چکے تھے۔ ان سب کو ایک لڑی میں پرونا مشکل کام ہو گیا تھا۔ لہٰذا ہر صوبہ اپنے حقوق کے لئے اپنے طور پر اور الگ الگ کھڑا ہو کر جدوجہد کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب چھوٹے صوبوں کی تحریکیں یا تو اسٹبلشمنٹ کی سیاست اور حمایت کر رہی ہیں یا پھر تنہائی کا شکار ہیں۔
یہ ایک بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کی سیاست کا مختصر پس منظر ہے۔
بلوچستان میں اس طرح کی حالیہ کارروائیوں کو چینی راہداری کے منصوبے کے خلاف بھی قرار دی اجارہا ہے۔ لہٰذا اس پوری لڑائی کا پس منظر خطے کی صورتحال سے جڑ جاتا ہے جہاں پہلے سے موجود ’’گریٹ گیم‘‘ کے کھلارٰ مختلف شکلوں میں پراکسی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔ یہ پراکسی لڑائیاں اتنی پیچیدہ ہیں اور ان کا آپس میں اس طرح کا تانابانا ہے کہ یہ سمجھنا کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسا کویں کر رہا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کسی سنجیدہ حکمت عملی سے عاری اور انارکی کا شکار لڑاکا گروہ سندھی مزدوروں کو قتل کر کے فخریہ طور پر اس کی ذمہ داری بھی قبول کر رہے ہیں۔ اس سے نہ ان کے طویل خواہ عارضی مدت کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے ہیں ۔ بلکہ عملی طور پر مزید سیاسی تنہائی میں لے گئے ہیں ۔ مزید یہ کہ عالمی طور پر بھی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔
ان واقعات کا ایک اور بھی پہلو ہے۔ سندھ اور بلوچستان دو ایسے صوبے ہیں جن کو وفاق خواہ اپنے ہی صوبے میں اختیار اور اقردار کے ھاولے سے شکایات رہتی ہیں۔ جس طرح سے سندھ میں اردو آبادی کی ایم کیو ایم کی سیاست صوبے کی معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کو روکے ہوئے ہے اسی طرح سے بلوچستان میں بھی پختون آبادی کا تضادا جس میں اب افغانیوں کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے بلوچستان کی ترقی کی راہ میں مسائل پیدا کر رہا ہے ۔ کئی مواقع پر ان دونوں برادریوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا ہونا پڑا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان میں پنجابیوں کے خالف بھی بعض واقعات ہوئے تھے۔ جس کو بھی سیایسی اور اہل فکر لوگوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا تھا اور اسکی مذمت کی تھی۔ جو بھی عناصر سندھ کے ان غریب مزدوروں کو قتل کر رہے ہیں، وہ دراصل غریب طبقے کے لوگوں کو یتیم کر رہے ہیں۔ اس سے وہ نہ ریاست کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت کے کسی منصوبے کو روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ایسا کر کے وہ عام لوگوں میں اپنی ہمدردیاں کھو رہے ہیں۔
سندھی بلوچ تضاد سے سندھ کو دو اور نقصانات بھی ہیں۔ ایک یہ کہ سندھی قوم پرستی جو فکری انداز میں چل رہی تھی اس میں نسلی رنگ آجائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں بعض حلقوں نے اس طرح کیا رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔دوئم یہ کہ خود سندھ کے اندر بڑی تعداد میں بلوچ قبائل موجود ہیں۔ ان کے اور سندھ کے باقی لوگوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی خطرناک امر ہے کہ سندھ کے لوگوں کو پہلے پنجابیوں سے ، بعد میں مہاجروں سے لڑایا گیا اور اب بلوچوں سے تضاد میں کھڑا کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود بلوچ پہل کر کے سندھ میں پیدا شدہ غلط فہمی کو دور رکیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے اہل دانش و نظر اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس تضاد کو بڑھنے نہ دیں۔

روزنامہ نئی بات میں شایع شدہ

No comments:

Post a Comment