میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں تبدیلی آئی ہے اور ی تبدیلی بہتر کی طرف ہے۔ دہشتگردی کے واقعات سے بھی بڑی حد تک کراچی محفوظ ہے۔ اب پہلے کی طرح ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات نہیں ہوتے۔اسٹریٹ کرائیم میں بھی بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن عدم تحفظ کا احساس ابھی تک شہریوں کے ذہن سے نہیں نکلا۔ پرامن شہری زندگی کے اثرات روزمرہ کی زندگی اور سماجی حالات پر نظر آنے لگے ہیں۔ اور کسی حد تک کاروبار اور معیشت پر بھی مثبت اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔تنظیم کی مسلح ونگ کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں۔
ایم کیو ایم کے ایم قوت بننے کے پیچھے دیگر عوامل ہونگے سو ہونگے لیکن سیاسی مقبولیت اس کی بڑی وجہ تھی۔ اس نے اردو و بولنے والی آبادی سے خواہ کسی بھی نعرے پر ووٹ لئے۔ اور پھر اپنے ووٹ بینک کو اور اپنے حلقہ انتخاب کوتمام طریقے اور حربے استعمال کر کے اپنے قابو میں رکھا۔ اس کے پاس اقتدار اور اختیار بھی تھا، جس کی وجہ سے پیسہ اور وسائل بھی آگئے۔ مزید یہ کہ مسلح ونگ بھی تھی۔ صورتحال یہ بنی کہ کسی اور سیاسی جماعت کے لئے کراچی کو شجر ممنوع قرار دے دیا۔ تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں اردو بولنے والوں کی آبادی تقریبا 45 سے 47 فیصد تک ہے لیکن اردو آبادی کی نمائندگی کی دعوا کرنے ولای اس تنظیم کے پاس کراچی کی 80 فیصد سے زائد نمائندگ رہی۔ ایک طرح سے باقی تقریبا 55 آبادی کی عملا نمائندگی ہی ختم ہو گئی۔
حکومت اور ریاستی اداروں نے سندھ کے دارالحکومت کو معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام اور امن دینے کے لئے متعدد اقدامات کئے تھے۔ جن کے نتیجہ میں کراچی کی نمائندگی دعویدار تنظیم متحدہ قومی موومنٹ تین حصوں میں بٹ گئی۔ سابق میئر مصطٖفیٰ کمال نے کچھ ایم کیو ایم کے سنیئر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاک سرزمین پارٹی کے نام سے تنظیم بنا ڈالی ۔ الطاف حسین کے خلاف پاکستان مخالف تقریر اور سرگرمیوں کے الزامات نے پاکستان میں کام کرنے والی ایم کیو ایم کو مجبور کردیا کہ وہ لندن سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرے۔لہٰذا فاروق ستار کی قیادت ایم کیو ایم پاکستان بنا کر یہ اعلان کیا گیا۔ان اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں اس تنظیم کی دہشت میں بہت بڑی حد تک کمی آ گئی۔ مصطفیٰ کمال اور دیگر لوگوں کی بغاوت نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف بات کرنے کا ماحول پیدا کیا۔ اور یہ جگہ بھی پیدا کی کہ کراچی کے اردو بولنے والے ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے ہٹ کر بھی سوچیں۔
یہ سب تبدیلیاں اور اثرات اپنی جگہ پر سوال یہ ہے کہ حکومت کی ان کارروایوں اور اقدامات سے کیا کراچی میں کوئی سیاسی تبدیلی بھی آئی ہے؟ ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کے بعد ہونے والے دو تین ضمنی انتخابات کے نتائج اس کی نفی کرتے ہیں کہ اردو بولنے والی آبادی کی سیاسی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ان انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کامیابی تو دور کی بات چھی کارکردگی بھی نہیں دکھا سکی۔ بلاشبہ کراچی میں ایک سیاسی خلاء پیدا ہوا تھا۔ جسے مختلف پارٹیوں نے محسوس بھی کیا، اپنے تئیں کوشش بھی کی۔ اس طبع آزمائی کے لئے وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کرچی کے دورے کئے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کی سرگرمیوں کا مرکز ان کے مخصوص پاکٹ ہی رہے۔ مثلا نواز لیگ نے کراچی میں آباد پنجابی بولنے والوں سے اور عمران خان نے پختون آبادی سے رجوع کیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے خالی کئے گئے اسپیس کوحاصل کرنے کے لئے اردو آبادی سے موثر اور منظم انداز میں رابطہ نہیں کیا۔ مجموعی طور پر یہ لوگ نان ایم کیو ایم ووٹ سے ہی رجوع کر رہے تھے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کراچی کے پرانے باشندوں میں سے حاجی شفیع محمد جاموٹ رکن سندھ اسمبلی اور ان کے ساتھی نواز لیگ میں ہیں۔ لیکن پارٹی نے ان سے بھی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی ان کے ساتھ مل کر کوئی حکمت عملی بنائی۔ پیپلز پارٹی کا رویہ بھی اردو بولنے والی آبادی کے لئے نواز لیگ اور تحریک انصاف جیسا ہی رہا۔ پیپلزپارٹی نے سندھی آبادی کے بااثر لوگوں سے رابطے کر رہی ہے۔ جبکہ اردو آبادی کو ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر کوئی بڑی جماعت کوشش نہیں کر رہی ۔
کراچی میں ابھی تک مہاجر سیاست جس کی بنیاد پر الطاف حسین نے ایم کیو ایم کھڑی کی تھی اپنی جگہ پر موجود نظر آتی ہے۔ ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے مخلتف گروپ اور جماعت اسلامی کراچی کی ہی بنیاد پر سرگرمیاں کر رہی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان جو فاروق ستار کی قیادت میں چل رہی ہے اس نے کراچی حقوق ریلی نکالی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے پاک سرزمین پارٹی نے 14 مئی کو ’’ملین مارچ‘‘ کے نام سے ریلی نکالی، لیکن اس کی یہ کوشش موثر ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس نے ا پاک سرزمین پارٹی کے احتجاج کے خلاف کارروائی کی۔جماعت اسلامی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے خلاف مہم چلائی۔ اور گورنر ہاؤس کے سامنے دن بھر دھرنا دیا۔ ہر جماعت یہی کوش کر رہی ہے کہ کراچی کے مسائل کی بنیاد پر وہ جگہ حاصل کرے جو ایم کیو ایم کے تقسیم ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔ کراچی کی یہ سرگرمیاں پاناما پیپرز کے مقدمے اور ملکی سطح پر دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز نہیں بن سکیں۔
ایم کیو ایم اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کراچی میں اسمبلی کی نشستیں بڑھادی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کراچی شہر کی بلدیہ کے لئے زیادہ اختیارات مانگ رہی ہے۔ یعنی شہری حکومت جو کہ اس کاپرانا مطالبہ اور کوشش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم پاکستان زور دے رہی ہے کہ اردو بولنے والا ووٹ تقسیم نہ ہو۔ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم کا الطاف حسین کی طرف رویہ نرم ہے وہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں کی طرح نہیں۔ جو الطاف حسین پر براہ راست تنقید کرتے ہیں۔ اردو بولنے والے بعض دانشور پاک سرزمین پارٹی کے حامی بن گئے تھے لیکن ان کی کارکردگی نہ دیکھ کر اور مجموعی طور پر شہر میں الطاف حسین کے نرم گوشہ دیکھ کر واپس فاروق ستار کے حامی بن گئے ہیں۔ ایم کیو ایم حقیقی جس طرح نعرہ دے رہی ہے وہ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کو صرف مہاجر سیاست کی طرف دھکیلنے میں مدد کر رہی ہے۔
عومای نیشنل پارٹی کراچی میں دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے۔ یہ جماعت 2013 کے انتخابات کے بعد گم ہو گئی تھی۔ گزتہ دنوں اے این پی نے شہر میں بہت بڑا جلسہ کیا جس میں پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ اے این پی اور تحریک انصاف بنیادی طور پر شہر میں موجود پختون ووٹرز کے لئے ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں۔ ابھی پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف کو اپنی سرگرمیوں اور حکمت عملی کو مزید بہتر بنانا باقی ہے۔تاہم اس کی بنیادیں وہی رہں گی جو ابھی تک رہی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں تکنا اضافہ وہتا ہے اور یہ بھی کہ حلقہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟ یہ معاملات بھی کراچی کیس یاست پر اثر انداز ہونگے۔
No comments:
Post a Comment