مائنس ٹو مائنس تھری فارمولا
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اور عدالتی لڑائی تیز تر ہو گئی ہے۔ پاناما پیپرز کا معاملہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے گلے پڑا گیا ہے۔ ان کے خلاف عمران خان نے احتجاج کر کے ملک بھر میں رائے عامہ بنائی۔ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ نواز شریف اور عمران خان مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان مقدمات کی نوعیت سیاسی ہے۔عمران خان 2013 کے انتخابات کے بعد ہر حال میں نواز شریف کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ اور وزیراعظم اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں۔انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر عمران خان کی بات نہیں بنی۔ پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آگیا۔ پاناما پیپیرز کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس زیر تفتیش ہے جہاں وزیراعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے منگل کے روز پانچ گھنٹے تک بیان ریکارڈ کرایا۔ اور اب تیسری بار بلایا گیا ہے۔ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کو بھی جے ٹی آئی نے طلب کیا ہے لیکن انہوں نے ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لئے وقت مانگا ہے۔ جے ٹی آئی جس طرح سے تحقیقات کر رہی ہے اس سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا رخ شریف خاندان کے حق میں نہیں جارہا ہے۔ جے ٹی آئی کے دو ممبران پر حسن نواز شریف اعتراض کر چکے ہیں۔ جے آئی ٹی قطری شہزادے کا بیان بھی ہر صورت میں ریکارڈ کرنا چاہ رہی ہے۔ انہیں دوبارہ خط لکھ کر تین آپشنز دیئے ہیں ٹیم کے دو اراکین قطر میں جا کر ان کا بیان قلمبند کریں گے یا پھر انہیں سوالنامہ بھیجا جائے گا اس کے جوابات بھیجیں۔ تیسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ویڈیو لنک پر وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
نواز لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان سے کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنی کمپنی نیازی سروسز لمیٹیڈ نامہ آف شور کمنی سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ الیکشن کمیشن میں اثاثوں کے جو گوشوارے جمع کرائے ہیں ان میں اس کمپنی کا ذکر نہیں۔ عدالت نے یہ بات کاص طور رپ نوٹ کی کہ عمران خان نے نیازی سروسز اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں میں شامل نہیں کیا ہے۔ جمائما کی بھجوائی گئی پانچ ٹرانزیشن ثابت کریں۔ جمائما کے طرف سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب بدھ کے روز پاکستان الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان توہین عدالت کیس میں دائر کردہ جواب مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے کی مزید مہلت دی ہے کہ نئے سرے سے اپنا بیان داخل کریں۔پارٹی فنڈنگ کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بنچ نے کی اور فیصلہ دیا کہ کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ وہ پارٹی کی فنڈنگ کے معاملات کی تحقیقات کرے ۔ اور تحریک انصاف سے کہا ہے کہ وہ 22 جون تک اپنا رکارڈ کمیشن میں پیش کرے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ وہ فنڈنگ سے متعلق معاملات میں ازخود بھی نوٹس لے سکتی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے اس موقف سے مطمئن نہیں نظر آتی۔لہٰذاسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے کہ کیا وہ پارٹی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق معاملات ان کے دائرہ اختیار میں ہیں؟ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس کیس سے متعلق دس سوالات الیکشن کمیشن سے پوچھے ہیں۔
دو اہم جماعتوں کے درمیان اس چپقلش میں ایک اور عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میڈیا کے اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے بعض اداروں کے سربراہوں کو فون کئے گئے کہ جے آئی ٹی میں فلاں کو نامزد کریں وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز لیگ کے سنیٹر نہال ہاشمی نے نواز خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والوں کو دھمکی کی ویڈیو آگئی۔ نہال ہاشمی کے اس بیان وزیرعظم نے ان سے سنیٹ کے عہدے سے استعیفا لے لیا ہے۔ کے بعد ان کی پارٹی ممبرشپ معطل کردی گئی ۔ چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جے ٹی آئی شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نہال ہاشمی کے بیان کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ اور انہیں عدالت میں طلب کیا ہے۔
اس سیاسی لڑائی میں نہال ہاشمی نواز لیگ کے تیسرے سینیٹر ہیں جنہیں قربانی دینی پڑی اس سے پہلے دو وفاقی وزراء پرویز رشید اور مشاہداللہ خان قربانی دے چکے ہیں۔
دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو آؤٹ کرنا چاہتی ہیں۔گزشتہ دنوں عمران خان نے خود کے لئے بھی امکان کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئیٹ کہا کہ نواز شریف نااہل ہو جائیں گے تو ان کی اپنی نااہلی چھوٹی قربانی ہوگی۔ انہوں نے اس ضمن میں زرادری کا نام لئے بغیر اشارۃ کہا کہ انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔ لیکن تاحال ان کے خلاف براہ راست کوئی تحقیقات نہیں۔ مزید برآں یہ کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی یہ کہ چکے ہیں کہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ چوہدری نثار علی خان جو پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے رہے ہیں انہوں ایک ایسے موقع پر یہ بیان دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عندیہ ملا ہے کہ الیکشن کمیشن جس طرح کے معاملات چلا رہی ہے اس میں ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خان اور نواز شریف دونوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اسلام آباد کی سیاسی مارکیٹ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے صفائی مہم شروع ہونے والی ہے۔ جس میں مائنس کے فارمولے چل رہے ہیں۔ ملکی سیاست مائنس الطاف حسین ہے۔ اس مائنس میں مزید چل چیزیں پلس کی جارہی ہیں اور مائنس تھری کا فارمولا بنایا جارہا ہے۔
پاکستان کی سیات میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کے لئے 1958 میں ایوب خان نے’’ ایبڈو ‘‘کا قانون نافذ کیا۔ اس قانون نے تحت حکومت اپنے عزائم میں کامیاب رہی کہ پرانے سیاستدانوں کو نااہل قرار دیا اور اپنے حامی سیاستدانوں کی ایک کھیپ تیار کر لی۔ اس قانون کے تحت سات ہزار سیاستدانوں پر سیاست کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اور یہ شرط لاگو کی گئی کی اگر وہ 15 سال تک سیاست میں حصہ نہ لیں تو ان کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔ اس کے بعد کرپشن سے متعلق قوانین سیاسی انتقام کا ذریعہ بنے رہے۔ ایوب خان نے دس سال تک سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد رکھی۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی سیاسی جماعتوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ بعد میں 1985 میں ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے ۔ جنرل مشرف نے ملک کی دو بڑی جماعتوں کو باہر رکھ کر انتخابات کرائے۔ 1970 اور 1988 کے انتخابات اس لئے غیر جانبدارانہ سمجھے جاتے ہیں کہ ان انتخابات سے پہلے کوئی صفائی مہم نہیں چلائی گئی تھی۔ اور تمام پارٹیوں اور سیاستدانوں کو بغیر امتیاز کے انتخابات لڑنے دیا گیا تھا۔ 2008 میں متوقع انتخابات میں بینظیر بھٹو کو حصہ لینے روکا گیا تھا۔ اور انہیں قتل کردیا گیا۔ 2013 کے انتخابات بھی اس وجہ سے غیر جانبدارانہ نہیں تھے کیونکہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت بعض پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے میں رکاوٹیں حائل ہوگئی تھی۔
جب سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات سیاسی طور پر حل نہیں کر پاتی، تو کوئی اور حل نکلا جاتا ہے۔ یہ حل ان متحارب گروپوں کو آؤٹ کرنے کا رہا ہے۔ نواز شریف او ر عمران خان اس سطح پر پہنچ چکے ہیں۔اگر یہ دونوں آؤٹ ہوتے ہیں تو پیپلزپارٹی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق سندھ میں پیپلزپارٹی کے بعض اہم لیڈروں کے خلاف خاصا مسالہ موجود ہے۔ صرف اسکو گرم کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کا سیاسی مستقبل کا ہو، اس کا دو باتوں پر انحصار ہے ۔ ایک یہ کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اور یہ بھی کہ عدالتیں ملک کے ان اہم معاملات پر کیا فیصلہ دیتی ہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اور عدالتی لڑائی تیز تر ہو گئی ہے۔ پاناما پیپرز کا معاملہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے گلے پڑا گیا ہے۔ ان کے خلاف عمران خان نے احتجاج کر کے ملک بھر میں رائے عامہ بنائی۔ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ نواز شریف اور عمران خان مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان مقدمات کی نوعیت سیاسی ہے۔عمران خان 2013 کے انتخابات کے بعد ہر حال میں نواز شریف کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ اور وزیراعظم اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں۔انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر عمران خان کی بات نہیں بنی۔ پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آگیا۔ پاناما پیپیرز کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس زیر تفتیش ہے جہاں وزیراعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے منگل کے روز پانچ گھنٹے تک بیان ریکارڈ کرایا۔ اور اب تیسری بار بلایا گیا ہے۔ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کو بھی جے ٹی آئی نے طلب کیا ہے لیکن انہوں نے ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لئے وقت مانگا ہے۔ جے ٹی آئی جس طرح سے تحقیقات کر رہی ہے اس سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا رخ شریف خاندان کے حق میں نہیں جارہا ہے۔ جے ٹی آئی کے دو ممبران پر حسن نواز شریف اعتراض کر چکے ہیں۔ جے آئی ٹی قطری شہزادے کا بیان بھی ہر صورت میں ریکارڈ کرنا چاہ رہی ہے۔ انہیں دوبارہ خط لکھ کر تین آپشنز دیئے ہیں ٹیم کے دو اراکین قطر میں جا کر ان کا بیان قلمبند کریں گے یا پھر انہیں سوالنامہ بھیجا جائے گا اس کے جوابات بھیجیں۔ تیسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ویڈیو لنک پر وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
نواز لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان سے کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنی کمپنی نیازی سروسز لمیٹیڈ نامہ آف شور کمنی سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ الیکشن کمیشن میں اثاثوں کے جو گوشوارے جمع کرائے ہیں ان میں اس کمپنی کا ذکر نہیں۔ عدالت نے یہ بات کاص طور رپ نوٹ کی کہ عمران خان نے نیازی سروسز اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں میں شامل نہیں کیا ہے۔ جمائما کی بھجوائی گئی پانچ ٹرانزیشن ثابت کریں۔ جمائما کے طرف سے ریکارڈ آنے تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب بدھ کے روز پاکستان الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان توہین عدالت کیس میں دائر کردہ جواب مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے کی مزید مہلت دی ہے کہ نئے سرے سے اپنا بیان داخل کریں۔پارٹی فنڈنگ کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بنچ نے کی اور فیصلہ دیا کہ کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ وہ پارٹی کی فنڈنگ کے معاملات کی تحقیقات کرے ۔ اور تحریک انصاف سے کہا ہے کہ وہ 22 جون تک اپنا رکارڈ کمیشن میں پیش کرے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ وہ فنڈنگ سے متعلق معاملات میں ازخود بھی نوٹس لے سکتی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے اس موقف سے مطمئن نہیں نظر آتی۔لہٰذاسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے کہ کیا وہ پارٹی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق معاملات ان کے دائرہ اختیار میں ہیں؟ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس کیس سے متعلق دس سوالات الیکشن کمیشن سے پوچھے ہیں۔
دو اہم جماعتوں کے درمیان اس چپقلش میں ایک اور عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میڈیا کے اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے بعض اداروں کے سربراہوں کو فون کئے گئے کہ جے آئی ٹی میں فلاں کو نامزد کریں وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز لیگ کے سنیٹر نہال ہاشمی نے نواز خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والوں کو دھمکی کی ویڈیو آگئی۔ نہال ہاشمی کے اس بیان وزیرعظم نے ان سے سنیٹ کے عہدے سے استعیفا لے لیا ہے۔ کے بعد ان کی پارٹی ممبرشپ معطل کردی گئی ۔ چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جے ٹی آئی شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نہال ہاشمی کے بیان کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ اور انہیں عدالت میں طلب کیا ہے۔
اس سیاسی لڑائی میں نہال ہاشمی نواز لیگ کے تیسرے سینیٹر ہیں جنہیں قربانی دینی پڑی اس سے پہلے دو وفاقی وزراء پرویز رشید اور مشاہداللہ خان قربانی دے چکے ہیں۔
دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو آؤٹ کرنا چاہتی ہیں۔گزشتہ دنوں عمران خان نے خود کے لئے بھی امکان کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئیٹ کہا کہ نواز شریف نااہل ہو جائیں گے تو ان کی اپنی نااہلی چھوٹی قربانی ہوگی۔ انہوں نے اس ضمن میں زرادری کا نام لئے بغیر اشارۃ کہا کہ انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔ لیکن تاحال ان کے خلاف براہ راست کوئی تحقیقات نہیں۔ مزید برآں یہ کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی یہ کہ چکے ہیں کہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ چوہدری نثار علی خان جو پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے رہے ہیں انہوں ایک ایسے موقع پر یہ بیان دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عندیہ ملا ہے کہ الیکشن کمیشن جس طرح کے معاملات چلا رہی ہے اس میں ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خان اور نواز شریف دونوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اسلام آباد کی سیاسی مارکیٹ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے صفائی مہم شروع ہونے والی ہے۔ جس میں مائنس کے فارمولے چل رہے ہیں۔ ملکی سیاست مائنس الطاف حسین ہے۔ اس مائنس میں مزید چل چیزیں پلس کی جارہی ہیں اور مائنس تھری کا فارمولا بنایا جارہا ہے۔
پاکستان کی سیات میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کے لئے 1958 میں ایوب خان نے’’ ایبڈو ‘‘کا قانون نافذ کیا۔ اس قانون نے تحت حکومت اپنے عزائم میں کامیاب رہی کہ پرانے سیاستدانوں کو نااہل قرار دیا اور اپنے حامی سیاستدانوں کی ایک کھیپ تیار کر لی۔ اس قانون کے تحت سات ہزار سیاستدانوں پر سیاست کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اور یہ شرط لاگو کی گئی کی اگر وہ 15 سال تک سیاست میں حصہ نہ لیں تو ان کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔ اس کے بعد کرپشن سے متعلق قوانین سیاسی انتقام کا ذریعہ بنے رہے۔ ایوب خان نے دس سال تک سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد رکھی۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی سیاسی جماعتوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ بعد میں 1985 میں ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے ۔ جنرل مشرف نے ملک کی دو بڑی جماعتوں کو باہر رکھ کر انتخابات کرائے۔ 1970 اور 1988 کے انتخابات اس لئے غیر جانبدارانہ سمجھے جاتے ہیں کہ ان انتخابات سے پہلے کوئی صفائی مہم نہیں چلائی گئی تھی۔ اور تمام پارٹیوں اور سیاستدانوں کو بغیر امتیاز کے انتخابات لڑنے دیا گیا تھا۔ 2008 میں متوقع انتخابات میں بینظیر بھٹو کو حصہ لینے روکا گیا تھا۔ اور انہیں قتل کردیا گیا۔ 2013 کے انتخابات بھی اس وجہ سے غیر جانبدارانہ نہیں تھے کیونکہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت بعض پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے میں رکاوٹیں حائل ہوگئی تھی۔
جب سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات سیاسی طور پر حل نہیں کر پاتی، تو کوئی اور حل نکلا جاتا ہے۔ یہ حل ان متحارب گروپوں کو آؤٹ کرنے کا رہا ہے۔ نواز شریف او ر عمران خان اس سطح پر پہنچ چکے ہیں۔اگر یہ دونوں آؤٹ ہوتے ہیں تو پیپلزپارٹی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق سندھ میں پیپلزپارٹی کے بعض اہم لیڈروں کے خلاف خاصا مسالہ موجود ہے۔ صرف اسکو گرم کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کا سیاسی مستقبل کا ہو، اس کا دو باتوں پر انحصار ہے ۔ ایک یہ کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اور یہ بھی کہ عدالتیں ملک کے ان اہم معاملات پر کیا فیصلہ دیتی ہیں؟
Nai Baat June 2, 2017

No comments:
Post a Comment