Friday, June 23, 2017

سندھ میں جڈٰشل ایکٹوام: حکومتی فیصلے کالعدم

سندھ میں جڈٰشل ایکٹوام: حکومتی فیصلے کالعدم
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں ایک بار پھر جڈیشل ایکٹوازم سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ خواہ سندھ ہائی کورٹ نے بعض اہم حکومتی فیصلوں کو کالعدم قرار دیا ہے یا تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دہشتگردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے اس ملک میں جہاں صرف اپنے ہی ملک کے نہیں بلکہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے دہشتگرد سرگرم عمل ہیں، جن کے خلاف پاک افواج متعدد بار چھوٹ بڑے آپریشن کر چکی ہے۔ لیکن حالات قابو میں نہیں آسکے ہیں ۔ امن و مان کی بحالی بنیادی طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس اہم محکمہ کی نہ صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکا ہے اور نہ ہی اس میں تقرر اور تبادلوں میں خاص خیال رکھا گیا ہے۔اس ضمن میں سب سے زیادہ شکایات سندھ سے آتی رہی ہے۔ سندھ میں عدلیہ کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران متعدد بار مداخلت کرنی پڑی اور حکومت کو بعض اقدامات اٹھانے کے لئے پابند بھی کیا گیا۔ سندھ میں آئی جی سندھ پولیس ک کے تبادلے کا معاملہ گزشتہ دو تین ماہ سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مختلف مقدمات اور شکایات کی بنیاد پر سابق آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی کو عدالتی حکم پر ہٹایا گیا۔ اس منصب پر اچھی شہرت رکھنے والے سنیئر پولیس افسر اے ڈی خواجہ کو مقرر کیا گیا۔ لیکن جلد ہی سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے کمانی خواجہ کے درمیان اختلافات پیدا ہو نے کے بعد ان کا تبادلہ کیا گیا۔ عدالت نے ان تبادلہ روک دیا۔ چند ماہ بعد ایک بار پھر صوبائی حکومت نے ان کا تبادلہ کیا۔ اور عدالت نے پھر اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ۔ اس طرح سندھ ہائی کورٹ میں بھرتیوں ار تقرر و تبادلوں کے متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ جس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف عہدوں پر تقرریاں میرٹ یا مفاد عامہ کو نظر میں رکھنے کے بجائے سیاسی یا ذاتی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ نیتیجے میں لوگ مطلوبہ سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ اور مسائل اور شکایات کے انبار جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکمرانی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی امن و امان کی صورتحال کا نوٹس لیا تھا جو بعد میں کراچی بدامنی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔اس کیس میں بدامنی کے حوالے سے کئی پہلو سامنے آئے۔ جس میں لینڈ مافیا اور دیگر مافیا کے رول کا بھی ذکر ہوا۔ سیاسی جماعتوں کی مسلح جتھوں کا بھی حوالہ آیا۔ اسی کیس کے مشاہدات اور ریمارکس کے نتیجے میں کراچی میں ایک بار پھر آپریشن کرنا پڑا۔ رینجرز کو پولیس کے اختیارات بھی ملے۔ امن و مان کی بحالی میں رینجرز اور عسکری قوتوں کا کردار بھی بڑھا۔ ان تمام اقدامات کے بعد بھی حکومت اسی انداز سے فیصلے کرتی رہی اور اسی پالیسی پر گامزن رہی۔ قانوندان شہاب اوستو کی شہریوں کو پینے کے پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کی درخواست بھی اسی تسلسل کی کڑی ہے۔ شہاب اوستو کی درخواست پر قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سرکاری مشنری اور ادارے اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ اور متعلقہ اعلیٰ افسران اور وزیر صاحبان ان کاموں کی مانیٹرنگ کرنے میں ناکام رہے۔ نتیجے میں لوگ سہولیات سے محروم ہیں اور بڑی بڑی رقومات خرچ کرنے کے باوجود عام لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی عدالت کو آگے آنا پڑا۔ اس سے حکومت کی کارکردگی اور ’’اچھی حکمرانی‘‘ عیاں ہوتی ہے۔ اب شہری سہولیات کے فراہمی کی مانیٹرنگ کے لئے عدلیہ نے ایک کمیشن قائم کردیا ہے۔اور صوبائی حکومت نے ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس بھی تاحال کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ بھی ایک روایتی مانیٹنگ ادارے کی طرح ہو کر سسٹم کا حصہ بن گئی ہے۔
موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد تعلیم، صحت ، سر سبز تھر کو اپنی ترجیحات قرار دیا تھا۔ تعلیم اوع صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ لیکن یہ ایمرجنسی اور وزیراعلیٰ کی ترجیحات ان دونوں بنیادی شعبوں کی حالت کو سدھار نہیں سکی۔
تھر کو سرسبز بنانے کا وعدہ ایک خواب ہی رہا۔ وہاں پر کوئی خاص ترقیاتی کام شروع نہیں کئے گئے جو اس پسماندہ علاقے کی معاشی، سماجی صورتحال میں نمایاں تبدیلی لاسکیں۔ اب سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز تھر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک بار پھر نوٹس لیا ہے۔ پاکستان کا یہ ریگستانی علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے ہر دوسرے سال خشک سالی اور قحط کا شکار رہا ہے۔ برسہا برس تک ترقیاتی کام نہ کرانے کی وجہ سے علاقے کی پسماندگی، غربت اور بے بسی میں اضافہ ہوا ہے۔ تھر کے لوگوں کی مدد کے لئے یا عدلیہ پہنچی ہے یا پھر میڈیا۔ تھر کی صورتحال اب مزید خراب ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمدعلی شیخ کو ازخود نوٹس لینا پڑا۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سندھ حکومت کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے؟ تھر میں خوراک کی کمی کے باعث بچوں کی اموات واقع ہو رہی ہے۔ جس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت بتائے کہ وہ اس ضمن میں کیا کر رہی ہے۔ تھر کا کیس دو سال پرانا ہے۔ اس کے بعد کتنے منصوبے شروع کئے گئے؟ صوبائی حکومت نے تازہ ترین صورتحال کے بارے میں دو ہفتے کی مہلت مانگ لی۔
یہ درست ہے کہ سندھ کو وفاق سے گیس، بجلی، پانی ، مالیات کے حوالے سے شکایات ہیں۔ انہی شکایات کو بنیاد بنا کر پیپلزپارٹی سندھ بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ یہ احتجاج ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاناما مقدمے میں مزید تفتیش کرانے کا منقسم فیصلہ آیا ہے۔ جس میں پانچ میں سے دو ججز نے وزیرا عظم کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا ہے، جبکہ تین ججز نے مزید تفتیش کے لئے کہا ہے۔عملی اور قانونی طور پرتین ججز کے فیصلے کو ہی مانا جائے گا۔اس بنیاد پر اکثر سیاسی جماعتیں وزیراعظم سے استعیفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔اگلا سال انتخابات کا ہے، اس وجہ سے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔
پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومتی کارکردگی ویسے بھی عوام کے سامنے ہے، لیکن عدالتی فیصلوں اور ریمارکس نے اس پر مہر ثبت کردی ہے۔ صوبے میں حکومتی اور انتظامی معاملات 9 سال میں ٹھیک نہیں کئے جا سکے، وہ اب چند ماہ میں ٹھیک نہیں کئے جاسکتے۔ اگر امید پرستی کا دامن پکڑیں ، تو بھی اس کے لئے قوت ارادہ، خلوص نیت اور فیصلہ سازی میں میرٹ چاہئے۔ تاکہ لوگوں کو کچھ ہوتا ہوا نظر آئے۔ یہ بہت ہی زیادہ محنت طلب کام ہے۔پیپلزپارٹی شاید خود کو اس تمام بکھیڑے میں نہیں ڈالنا چاہتی، اس نے سندھ میں ہی احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ بات میں وزن اس وجہ سے بھی ہے کہ بنیادی طور پر اس کے مطالبات جائز ہیں۔ جن کو سندھ بھر میں قبولیت حاصل ہے۔ وفاقی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سندھ کو مسلسل نظرانداز کرنے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے’’ سندھ دوست‘‘ ہونے کے دعوے کو مدد ملی ہے۔ ایسے میں اس کی اپنی کارکردگی کا سوال پیچھے رہ جائے گا۔ اور سندھ کے اشوز آگے آ جائیں گے۔ جس سے ایک نئی سیاست کی حکمت عملی بن سکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment