اگر پاناما لیکس نہ ہوتے ، سیاسی منظر کیا ہوتا
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت قائم ہونے والی تحقیقاتی ٹیم اور حکمران جماعت نواز لیگ کے درمیان دلائل اور الزامات کی جنگ جاری ہے۔ یہ تنازع بعض اوقات اداروں کے درمیان تنازع کی شکل میں بھی سامنے آرہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو ان افسران کے سامنے بھی حاضر ہو نا پڑا جن کا تقرر اور تبادلہ مروجہ قوانین اور ضوابط کے مطابق وزیر اعظم کر سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جے ٹی آئی کی تشکیل سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ہوئی ، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی۔ لیکن اس تمام محرکات کے پیچھے کچھ اور مضبوط ہاتھ بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ جے آئی ٹی زیادہ طاقتور سمجھی جاتی ہے۔ عدلیہ نے تو پرویز مشرف کو بھی پیش ہونے کے لئے کہا تھا، وہ بھی کوئی معمولی کیس نہیں تھا بلکہ آئین کو توڑنے کا مقدمہ تھا۔ لیکن وہ پیش نہیں ہوئے بلکہ انہیں بیرون ملک جانے کی بھی اجازت مل گئی۔ صرف اتنا ہی نہیں انہوں نے عدلیہ کو توڑا۔ جج صاحابن کو اپنے گھروں میں مقید کیا۔محترمہ بینظیر بھٹو پسندیدہ انصاف کی شکایات کرتی تھیں کہ لاہور اور لاڑکانہ کے لئے انصاف کے الگ پیمانے ہیں۔ اب ان پیمانوں نے نئی شکل اختیار کی ہے کہ سویلیں اور غیر سویلین کے لئے الگ پیمانے ہیں۔ بیان بازی اور جے آئی ٹی سے متعلق جواب درجواب اور شکوہ در شکوہ کے بعد جے آئی ٹی کا عمل متازع ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی ایک تشریح یہ بھی نکالی جاتی ہے کہ وزریاعظم نواز شریف کو کرپشن کے الزامات کے تحت ہٹانے کی مختلف درخواستوں پر جن تین جج صاحبان نے جے آئی ٹی بنانے سے متعلق فیصلہ دیا، وہ جو ثبوت اور دلائل پیش کئے گئے ان کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی کے لئے ناکافی سمجھ رہے تھے۔ اس طرح کے فیصلے کے لئے کوئی زیادہ ٹھوس ثبوت ضرورت محسوس کی گئی۔ انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ایسے ثبوت ہوں جس میں کوئی نقص نہ ہو۔اب جب جے آئی ٹی کا عمل متنازع بنا دیا گیا ہے، ایسے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر کیسے اطمینان ہو پائے گا؟
جے ٹی آئی کی خواہ کچھ بھی رپورٹ آئے لیکن اس رپورٹ کے ملک کے سیاسی نظام پر اثرات باگزیر ہیں۔ ملک میں لگاتار ہونے والے تیسرے انتخابات بہت ہی قریب ہیں۔ اس بات ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کو کبھی بھی تین لگاتار انتخابات نصیب نہیں ہوئے۔ کیا ایک مرتبہ پھر ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟ 1990 کے عشرے میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی ٹانگ کھینچ رہی تھیں۔ وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ ایسا کر کے وہ ایک دوسرے کو گرا رہی ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لئے پیلپزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک عشرے سے بھی زیادہ لگا کہ ان کی آپس کی یہ کشمکش سیاست اور سیاسی نظام کی ٹانگ کھینچنے کے مترادف ہے۔ اب پیپلزپارٹی آگے آگے نہیں۔اس کی جگہ پر تحریک انصاف ہے۔ جو انتخابی عمل کو بریک لگانا چاہتی ہے۔ اب جب جمہوری عمل کو ایک طرح سے اسٹاپ کیا جارہا ہے اس میں اکیلے عمران خان ذمہ دار نہیں۔ بلاشبہ وززیراعظم نواز شریف بھی اس عمل میں شامل ہیں، جنہوں نے ان خامیوں کو دور نہیں کیا ، عوام کو کچھ ڈؒ یور نہیں کیا، صوبوں کی شکایات برقرار رہیں۔ وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑ نہ سکے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی باضابطہ اپوزیشن کا اتحاد موجود نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی پارٹی نواز شریف کے ساتھ بھی نہیں۔
سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے سے دوری، اور سیاستدانوں پر کرپشن وغیرہ کے الزامات نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے جس میں ماحول سیاستدانوں کے خلاف بنا ہے۔ یعنی غیر جمہوری تصورات مضبوط ہوئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگ جمہوریت کے بارے میں مشکوک ہو گئے ہیں۔
پنجاب میں یہ تاثر ہے کہ وزیراعظم کو جے ٹی آئی میں حاضری دینی پڑی۔ اور بالائی طبقے کی اس تضاد نے وزیراعظم کی بے عزتی کی۔ اس حد تک کہ وہ اب چوتھی بار وزیراعظم نہ بن سکے۔ جے ٹی آئی کی رپورٹ چاہے کچھ بھی آئے۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی تیسری مدت کا تمام تر وقت اپنی حکومت بچانے میں ہی صرف ہوا۔
مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان ہرحال میں وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک نواز شریف موجود ہیں۔ تمام تر انحصار پنجاب کی 148 جنرل یا براہ راست انتخاب والی نشستوں پر ہے۔گزشتہ انتخابات میں ان میں سے 117نشستیں نواز لیگ نے جیتی تھی جبکہ 15 کے لگ بھگ آذاد اراکین نواز لیگ کے ساتھ ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کو شکست دے۔ اس مقصد کے لئے اسکو سیاسی فکر اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ لیکن پنجاب میں نواز لیگ کے پاؤں اکھڑتے نظر نہیں آتے۔ جے آئی ٹی کے عمل کے حوالے سے نواز لیگ بقول علامہ طاہرالقادری کے’’ مظلوم ‘‘ بن رہی ہے جو ہمدردی کا ووٹ لے سکتی ہے۔ عمران خان یہ طے کر کے بیٹھے ہیں کہ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ نواز لیگ کے خلاف نہیں آتے، یا بعد میں نواز شریف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں آتی، وہ احتجاج پر اتر آئیں گے۔ یہی صورتحال انتخابات کے موقعہ پر اور انتخابات کے نتائج پر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ شدید محاذ آرائی کی صورتحال ہوگی۔ کیا اس کے لئے کچھ ایسے انتخابات کرائے جائیں گے جو عمران خان کو سوٹ کرتے ہوں؟ اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہئے کہ حالات کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا سکتے ہیں۔
دو لمحے کے لئے سوچیں ک۔اگر پاناما لیکس کا سکینڈل سامنے نہ آتا تو پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوتا؟ عمران خان دھاندلی کے الزامات کی تحریک چلا چکے۔ اس سے نواز لیگ کی حکومت ختم نہ ہپو سکی۔ اس کے بعد بظاہر کوئی اور ایسا اشو نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاناما لیکس کے قصے میں ھقیقت ہوگی سو ہوگی، لیکن اس کا استعمال سیاسی ہو رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ بالائی طبقوں کے آپس میں تضادات ہیں۔ جن کا عوام کی بہبود اور بھلائی سے کوئی تعلق نہیں لگتا۔ لیکن اس سے عوام کا تعلق ضرور بنتا ہے کہ جے آئی ٹی جو بھی رپورٹ دے، اور اسکے بعد عدلیہ جو بھی کارروائی کرے اس کے نتیجے میں عوام کو کیا ملے گا؟ کتنی دولت واپس پاکستان آسکے گی؟ یہاں عام لوگوں کے روزمرہ کے حالات زندگی پر کیا اثرات پڑیں گے؟
کسی بڑی تبدیلی یا معجزے کی توقع نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ نواز حکومت کی حالیہ دور کی کارکردگی اور گورننس کو اشو بننا چاہئے۔ لیکن آئندہ انتخابات میں ماضی بعید کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے اور اسی کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ لوگوں کے مسائل سیاسی مسائل میں پھنس کے رہ گئے
ہیں۔کوئی ان کی بات نہیں کر رہا۔
No comments:
Post a Comment