Friday, June 23, 2017

پنجاب واقعی سیاسی قیادت کی تبدیلی چاہتا ہے؟ سہیل سانگی


پنجاب واقعی سیاسی قیادت کی تبدیلی چاہتا ہے؟ 

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی
وزیراعظم نوز شریف کی جے ٹی آئی کے سامنے حاضری کو تاریخی موڑ قرار دیا جارہا ہے۔کیونکہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ایک وزیراعظم کے خلاف ان کے ہی دور حکومت میں تحقیقات ہورہی ہے۔ اور انہیں سپریم کورٹ کے سایے میں تشکیل کی کی گئی جے ٹی آئی میں ان کے املاک اور اثاثوں کے بارے میں سوالات کے جوابات دینے پڑ رہے ہیں۔ ورنہ اس سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ حکومت جانے کے بعد دوسری حکومت نے آکر اس طرح کی تحقیقات کی یا مقدمے بنائے۔ اصل میں عمران خان نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اور ان کی جگہ پر خود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ پاناما کیس تو اچانک بیچ میں آگیا اور عمران خان کی لاٹری کھل گئی۔ اور ان کو ایک ایسا آلہ ہاتھ لگا جس کے ذریعے وہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک اور تحریک چلائے۔ اس سے قبل انہوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف بھی تحریک چلائی تھی، جو جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آکر ختم ہوئی۔ اور دھاندلی اس طرح سے ثابت نہ ہو سکی جس طرح کے الزامات عمران خان لگا رہے تھے۔ تب بھی ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہوں۔ 
تحریک انصاف کی تحریک کے نتیجے میں عدلیہ پاناما کیس میں بیچ میں آئی۔ عدالتی فیصلہ جسے بعض تجزیہ نگار اور قانوندان ادھورا قرار دے رہے ہیں ، اس فیصلے کے تحت عدالت کی نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا آغاز ہوا اب اس میں ان کے دو بیٹے ،بیٹی اور بھائی شہباز شریف کا کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ 
پاناما کیس کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے اس سے ملک اور عوام کی قسمت بدل جائے گی۔ عملا ایسا ممکن نہیں۔ بعض حلقے عمران خان کو اسٹیٹس مخالف علامت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو اسٹیٹس کو کاکی علامت۔ ان جماعتوں کے منشور اور ساخت کا بغور جائزہ لینے پتہ چلتا ہے کہ ان تینوں میں معمولی فرق ہے۔ تحریک انصاف کے جو لوگ اہم عہدوں پر یا اسمبلیوں میں ہیں یا جاسکتے ہیں میں ہیں، ان کے پاؤں کے نشانات ابھی تازہ ہیں کہ وہ ’’ اسٹیٹس کو‘‘ کی سیاسی جماعتوں سے آئے ہیں۔ 
اگرچہ جے ٹی آئی کی ابھی تحقیقات مکمل ہونا اور اسکی جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونا باقی ہے، اس رپورٹ میں کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح سے اس رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کیا اقدامات کرے گی؟ اس کے بھی کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ پنجاب میں یہ گمان غالب پایا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے حق میں نہیں آئے گی۔ اس طرح کے بعض اشارے بھی مل رھے ہیں ۔ لیکن یہ تاثر سیاسی طور پر نواز لیگ کے حق میں جائے گا اور انتخابات میں انہیں ’’ہمدردی‘‘ کا ووٹ مل جائے گا۔ اگرچہ پنجاب میں بنیاد رکھنے والی تمام جماعتیں اس کے بارے میں فکر مند ہیں لیکن عمران خان کو سب سے زیادہ فکر ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ اور اس پر عدالتی کارروائی عمران خان کے سیاسی وجود کے لئے اہم ہیں۔اگر کسی طور پر یہ سب کچھ نہیں ہو پاتا کہ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان نااہل نہ ہو سکیں، اور نواز لیگ پنجاب میں اکثریت حاصل کر لے ۔ تو عمران خان کی یہ آخری سیاسی اننگ ہوگی۔ سب سے برا سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اپنی قیادت تبدیل کرنا چاہتا ہے؟ پنجاب کا بزنیس کلاس، صنعتکار، اور مڈل کلاس کیا چاہتا ہے؟ یہ خیال کیا جاتا ہے نوجوان اور شہری مڈل کلاس اور چھوٹا تاجرعمران خان کے ساتھ ہے جو عددی خواہ متحرک ہونے کے اعتبار سے مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔ پنجاب اب اتنا بدل چکا ہے جہاں دیہی بالائی طبقہ یعنی زمیندار وغیرہ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر پارہا ہے۔ پنجاب کے اس سیاسی مظہر کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح سے سندھ میں مجموعی رائے عامہ پیپلزپارٹی کے خلاف رہتی ہے، احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ووٹ دینے کے وقت لوگ اسی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔
نواز لیگ کی حکومت کی بنیاد پنجاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کوئی بھی اقتدار کا خواہشمند ہوتا ہے وہ پنجاب کی طرف دیکھتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں پنجاب نے پیپلزپارٹی کو صوبے سے نکال باہر کیا۔ اور نواز لیگ کو اکثریت حاصل ہوگئی لیکن اس کے ساتھ دوسرا بڑا دھچکا یہ لگا کہ اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف دوسرے نمبر پر آئی۔ اس صورتحال نے صوبے میں موجود سیاست کا پرانا سیاسی ماڈل اور ہیئت تبدیل کردی۔ اب اس کو اگر حکومت سے نکال کر باہر کرنا ہے تو پنجاب میں ہی کرنا پڑے گا۔ باقی صوبوں کے پاس نشستوں کی اتنی تعداد نہیں۔ ویسے بھی باقی صوبوں کی نشستیں کم وزن رکھتی ہیں۔ پنجاب کی کی نشست بھاری سمجھی جاتی ہے۔ 
آج پنجاب میں تین قسم کی سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ایک نواز لیگ، دوسری تحریک انصاف اور تیسرے پیپلزپارٹی، علامہ طاہرالقادری، جماعت اسلامی ، ق لیگ، وغیرہ۔ نواز لیگ پنجاب کے بڑے کاروباری اور صنعت کار کی نمائندہ جماعت کہی جاتی ہے۔ جس کا مفاد پڑوسی ممالک خاص طور پر انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات میں ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادہ تر دیہی علاقوں اور شہر کے دانشور حلقوں میں سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ علامہ طاہرالقادری کے حامی مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے چھوٹے موٹے کاروباری لوگ ہیں، جو نواز لیگ کو بڑے کاروباری طبقے کی جماعت سمجھتے ہیں۔ یہی نقطہ تحریک انصاف اور علامہ کی قربت کا ہے جس میں انہوں نے تحریک انصاف اور اپنی عوامی تحریک کے کارکنوں کو ’’کزن‘‘ قرار دیا تھا۔علامہ کے نظریات اور عمران خان کی سیاست اور ذاتی حوالے سے قربت اپنی جگہ پر لیکن یہ رشتہ طبقاتی طور پر بھی صحی فطری لگتا ہے۔ اس طبقاتی مفاد کے تحت ان دونوں کزن جماعتوں کی خارجہ پالیسی کے بارے میں وہ لائین نہیں بنتی جو نواز لیگ کی ہے۔ 
ابھی پنجاب میں نواز لیگ کو چیلینج کرنے کے لئے اتحاد بنانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کیا پنجاب میں واقعی نواز لیگ کے خلاف کوئی موثر اتحاد بن سکتا ہے؟ جس میں عمران خان، پیپلزپارٹی اور علامہ سمیت تمام نواز لیگ مخالف جماعتیں شامل ہوں۔ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو بن سکتا ہے۔ لیکن طبقاتی مفادات کے طور پر اور شخصیات کے آپس میں تضادات کے پیش نظر مشکل نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف یہ کہہ کر اتحاد میں آنے کے لئے تیار نہیں کہ فی الھال وہ پاناما کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مصروف ہے، اور کسی اور رپھڑے میں پڑنا نہیں چاہتی۔ ممکن ہے کہ وہ اس اتحاد میں شامل نہ ہونا چاہتی ہو، یا یہ کہ اس کو پاناما کیس کے آخری نتیجہ کے بارے میں شبہ ہو کہ معاملات ممکن ہے کہ اس طرح نہ بنیں۔ 
اکثر سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ چاہے کچھ بھی آئے دیر یا سویر انتخابات تو ہونے ہیں۔ اگر نواز شریف کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو نواز لیگ کی حکومت ختم نہیں ہوگی ۔ وزیراعظم کوئی دوسرا آ جائے گا۔ باقی چندماہ کی تو بات ہے۔ لہٰذا پاناما کیس کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھ کر ابھی سے حکمت عملی بنانی چاہئے۔یہ خیال زیادہ حاوی ہے کہ تحریک انصاف اکیلے ہی انتخابات لڑے گی۔ کیا تحریک انصاف اکیلے انتخابات لڑے گی تو وہ نواز لیگ کو شکست دے پائے گی؟ علامہ طاہرالقادری جو ابھی بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں، وہ اس اتحاد کے لئے بڑے کوشاں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ انتخابات میں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ یہی صورتحال پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی بھی ہے۔ یعنی ان تینوں جماعتوں کا مطمع نظر نواز لیگ کو شکست دینا ہے۔لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس مقصد کا حصول عمران خان کے بغیر ممکن ہے؟ اگر سہ فریقی مقابلہ نواز لیگ کے حق میں جائے گا۔ صرف پنجاب کی حد تک اتحاد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام جماعتیں راضی ہوں تو بعض مقتدرہ حلقوں سے بھی حمایت مل سکتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ صرف انتخابات کے لئے ہی نہیں بلکہ موجودہ صورتحال میں یہ پیغام دینا بھی ضروری ہے کہ پنجاباپنی سیاسی قیادت میں تبدیلی چاہتا ہے اور وہ بلا امتیازنواز لیگ کے خلاف ہے۔ اس اتحاد کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ اس میں باقی صوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام کسی طور پر بھی درست نہیں کہ باقی صوبوں کی اہمیت نہیں ۔ تبدیلی کا اسٹیئرنگ اور گیئر پنجاب کے پاس ہے۔ 

No comments:

Post a Comment