نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں نیب میں طلب کر کے تیس سوالات پر مبنی سوالنامہ دے دیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ حکومتی مشنری ایک بار پھر بلاول بھٹو کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں پروپیگنڈا مشنری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کہتے ہیں کہ عدالت نے بلاول بھٹو کو بیگناہ نہیں معصوم کہا تھا، فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے خلاف کیس نواز لیگ دور کا ہے، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے پانچ پانچ سال حکومت کی اب دوسروں کو بھی برداشت کریں۔ جونئیر پارٹنر ز نے آرمی ایکٹ سے متعلق پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد بہتر سلوک کا مطالبہ کیا، ناراضگی دکھائی تو انہیں مصروف رکھنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ عجیب بات ہے کہ کراچی سے ایم کیو ایم اور پنجاب سے قاف لیگ مسلسل ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ لیکن وزیراعظم نے جب لاہور اور کراچی کا دورہ کیا تو ان اتحادیوں سے ملاقات تک نہیں کی۔ جیسے اتحادیوں کو منانا یا ساتھ رکھنا ان کا مسئلہ نہ ہو۔ اس سے وہ اتحادیوں کو شاید یہ پیغام دے رہے تھے کہ اتحادی عمراں خان کی وجہ سے نہیں کسی اور مقتدرہ قوت کی وجہ سے ساتھ دے رہے ہیں۔ نیب کے حالیہ اقدامات سے اتحادیوں کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بہتر سلوک نہیں کای جارہا ہے۔ لہٰذا اتحادی دوست بھی لمبی فرمائشیں نہ کریں۔
لندن میں شریف برادران کی سرگرمیوں کی بھی خبریں ہیں، جہاں چوہدری نثار علی خان موجود ہیں۔ خواجہ آصف کی جانب سے وزیراعظم نہ بننے کی تردید بھی ہے۔ خود حکمران جماعت اپنے اندرونی بحران کا شکار ہے۔ پہلے خیبرپختونخوا میں ہلکی پھلکی ”بغاوت“ ہوئی، جسے ’کچل‘ دیا گیا یا نمٹ لیا گیا۔ تام اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ اب جہانگیر ترین کو اتحادیوں کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی سے علحدہ کردیا گیا ہے۔ چاہے جہانگیر ترین الفاظ میں کچھ بھی کہیں لیکن وہ ناراض لگتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک نیا گروہ چھا رہا ہے۔ پارٹی کی اس اندرونی لڑائی کے اثرات بھی ہونے ہیں۔ پنجاب کا معاملہ پورے طور پر حل نہیں ہو سکا،بعض اہم امور سے نمٹنے تک فی الحال اسے التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک بو محسوس کی جارہی ہے۔کچھ کھچڑی پک رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اب ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ پیپلزپارٹی مہنگائی کے خلاف تحریک کس حد تک چلا پائے گی، یہ سوال اپنی جگہ پر لیکن آئی ایم ایف سے معاملات نہیں بن رہے ہیں اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھنے والا ہے، جس کی نشاندہی قومی اسمبلی کی مالیات سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی میں وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ جس میں بتای گیا ہے کہ ٹیکس کی وصولیاں کم ہوئی ہیں۔ معیشت کی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سب سازگار حالات بنتے ہیں کسی تحریک کے لئے۔ لیکن بات صرف مہنگائی کے خلاف تحریک کی نہیں، بات یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی بعض سیاسی فیصلوں کے آڑے آرہی ہے۔ جس کی وجہ سے بلاول بھٹو کو طلب کیا جارہا ہے۔
بلاول پر براہ راست کرپشن کا الزام، نہیں لیکن گروپ آف کمپنیز پر الزامات ہیں جن کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔ بلاول کو گزشتہ سال مارچ اور مئی میں نیب نے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ بلاول بی گناہ ہے۔ آج انہی ریمارکس کی حکومت وضاحت کررہی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں جب بلاول نے بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑے پیمانے پرمنانے کا اعلان کیا تب بھی نیب نے انہیں برسی سے تین روز قبل طلب کیا۔ بلاول بھٹو نے نیب کی اس پیشی پر نہ جانے کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ بلاول کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ کیونکہ انہی دنوں میں نواز لیگ کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کو نیب میں پیشی کے بعد گرفتار کیا جاچکا تھا؎؎؎؎۔لیکن چونکہ تب پیپلزپارٹی سے قانون سازی کے لئے کام لینا تھا لہٰذا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے دھڑلے سے کہا تھا کہ کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کو بھی گرفتار کرلیا جائے۔
نے حالات بتا رہے ہیں کہ مائنس ون فارمولہ نوازشریف اور زرداری تک محدود نہیں۔ اس میں مریم نواز اور بلاول کو بھی مائنس کرنے کی بات ہوری ہے۔ سینئر قیادت کے بعد بلاول اورمریم نوازپرمشتمل نوجوان قیادت دلیرانہ موقف رکھے ہوئے تھی۔ مریم نے باپ کی جگہ گرفتاری دی ہے تاکہ میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے جاسکیں۔ بقول ایک تجزیہ نگار کے مریم کو نواز شریف کے عوض قید میں رکھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو اسمبلی خواہ لابیوں میں بول رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کو قیادت کو اندازہ ہے کہ کسی بھی وقت بلاول بھٹو کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی گرفتاری سے خبردارکیا ہے ان کی گرفتاری سے صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔ اگر حکومت بلاول کو گرفتار کرتی ہے تو پیپلزپارٹی کو ایک بار پھرخاتون قیادت کا چہرہ ملے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت میں قیادت آصفہ بھٹو کریں گی۔ پاکستان کی تاریخ نے بتایا ہے کہ خاتوں رہنما کا چہرہ مقتدرہ حلقوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا بینظیر بھٹو کی صورت میں کر چکی ہے۔ شاید اس صورتحال کو بلاول بھٹو خطرناک کہہ کر خبردار کر رہے ہیں۔
اردو یونیورسٹی کراچی کے زیر اہتمام اپریل 2014 میں منعقدہ کانفرنس میں یہ مقالہ پڑھا گیا
سہیل
سانگی
ان دنوں سندھ کے کئی شہروں
میںالیکٹرانک میڈیا (ٹی وی چینلز ) کی نشریات
بند ہے ۔ اس
کی وجہ وہ رویہ ہے جو آج سے تقریبا تین دہائی پہلے مین اسٹریم میڈیا نے سندھ کے
لوگوں اور سندھ کے اشوز کے ساتھ روا رکھا تھا۔ حالیہ
بائیکاٹ
کی وجہ جیئے سندھ قومی محاذ نامی قوم پرست جماعت کا فریڈم مارچ بنا جو تئیس مارچ
کو ملک کے میڈیا سٹی کراچی میں نکالا گیا، جو اس مین اسٹریم میڈیا میں جگہ حاصل
نہیں کرسکا ۔
یہ
قوم پرست کارکن پوری دنیا اور پاکستان کی
ریاست کی توجہ سندھ کی محرومیوں اور مسائل کی منبذول کرانا چاہتے تھے، لیکن بعض دباؤ
اور نامعلوم اسباب کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ سندھ کے ایک بڑے حلقے نے مین
اسٹریم میڈیا کے اس رویے کو ” غیر ذمہ دارانہ“ اور تعصب پرستانہ قرار دیا، جس میں
سماجی ویب سائیٹوں پر تبصروں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور اس طرح ان چینلز کا غیر
اعلانیہ بائکاٹ کردیا گیا۔
مشرقی
پاکستان میں جب محرومیوں کا لاوا پک رہا تھا اس وقت بھی مین اسٹریم میڈیا کا کچھ
ایسا ہی کردار نظر آیا تھا، لائبریروں میں موجود اخبارات کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں
ہے کہ وہاں کوئی تحریک جاری تھی یا لوگ اس قدر بیزار ہوچکے تھے کہ انہیں الگ وطن
کا نعرہ لگانا پڑا، اس رویے کی دوسری مثال آج بلوچستان میں نظر آتی ہے جس کے ساتھ
بھی یہ رویہ روا رکھا گیا ہے، لیکن جب بات سندھ کی آتی ہے تو صورتحال قدرے مختلف
ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں سندھی زبان تحریری شکل میں موجود ہے اور اس کا متحرک میڈیا تینوں صنفوں
آڈیو ، ویڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں رائج ہے۔سوشل میڈیا پر ایکٹوازم کے علاوہ ہے۔ یہاں
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سندھ میں آج بھی الیکٹرانک میڈیا تفریح جبکہ پرنٹ میڈیا معلومات
کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
آل
پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مطابق موجودہ وقت 23 سندھی اخبارات شایع ہوتے ہیں۔
پاکستان پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل142 باقاعدہ اخبارات ہیں۔ یعنی
کل اخبارات کا 16فیصد سندھی اخبارات ہیں، اس طرح سندھ کی دیہی اور شہری آبادی
ملاکر پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا چوبیس فیصد بنتی ہے۔
اگرچہ
سندھ میں اردو، سندھی اور انگریزی اہم زبانیں ہیں جن میں اخبارات نکلتے ہیں۔اردو میڈیا
کنزرویٹو، مرکزیت پسند، قصے کہانیوں والی،
رجعت پسند اور سنسی پھیلانے والی ، جبکہ انگریزی ایلیٹ طبقے کی میڈیا تصور کی جاتی
ہے جو زیادہ لبرل اور پروفیشنل ہے۔
ڈسٹورشن
سندھ کے سیاسی شعور کا اظہار تو ون یونٹ میں
سامنے آچکا تھا، لیکن صحافت اس کا مظہر نہیں بن سکی، ون یونٹ کے قیام کے وقت سندھی
اخبارات نے احتجاجی اداریے لکھے لیکن بعد میں مارشل لا کی سخت پابندیوں کے باعث
موثرکردار ادا نہیں کرسکی۔ اس کی جگہ ادب اور ادیبوں نے لی۔ ادبی جرائد یا پھر خفیہ
پمفلیٹوں کے ذریعے اظہار اور احتجاج کیا جاتا رہا۔
پچاس کی دہائی کے آخر میں مسلم
لیگ کے رہنما قاضی محمد اکبر نے نامور ادیب محمد عثمان ڈیپلائی سے روزنامہ عبرت خریدا
تو سیاسی مقاصد کے لیے تھا، لیکن ان کی سربراہی میں عبرت وہ پہلا سندھی اخبار تھا جو
کمرشل بنیادوں پر استوار کیا گیا۔
ساٹھ
کی دہائی کے آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ
ہلال پاکستان خریدا لیا اور اس کو بطور پارٹی آرگن شایع کیا ۔انتخابات میں کامیابی
کے بعد اخبار کو حیدرآباد سے کراچی منتقل کیا گیا اور اس کی ٹیکنالوجی میں جدت کے
ساتھ ممتاز سندھی دانشور سراج الحق میمن کو ایڈیٹر تعینات کیا گیا۔
مذہبی
ریڈیکل اظہار ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جماعت اسلامی کے بعض اخبارات کے ذریعہ
ہوا۔ جماعت اسلامی اپنے ماہوار میگزین تو نکالتی رہی لیکن اس فکر کے اخبار کی سندھ
میں گنجائش نہیں تھی۔ البتہ مہران اخبار جو کہ پیر پاگارا کی زیرسرپرستی شایع ہوتا
تھا، اس کے ایڈیٹر سردار علی شاہ کے انتقال کے بعد یہ اخبار بھی ایک حد تک لبرل ہوگیا۔
عبرت،
آفتاب ، ہلال پاکستان قوم پرستانہ اور ترقی پسندانہ سوچ کے ساتھ چلتے رہے۔ ہلال
پاکستان اپنی پالیسی اور فکر میں حکومت کا حامی ہونے کے باوجود ترقی پسندانہ سوچ
کا حامی تھا۔ جو رنگ بعد میں ہلکا پڑتا گیا ۔
اسی
کی دہائی میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی نے سندھ کے ہر گلی اور گاؤں میں
ایک تحرک پیدا کیا، جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھر گئیں لیکن اس تحریک کی کوریج مین
اسٹریم میڈیا میں کراچی تک محدود رہی، جو سندھ میں سرگرمی اور فکر پیدا ہوا اس وقت
کے سندھی اخبارات اس کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔
سندھی
میڈیا میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب سیاسی کارکن صحافت میں شامل ہوئے، یہ لوگ
بائیں بازو کی تحریکوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا فکری اور سیاسی رجحان اور
جدوجہد اسٹبلشمنٹ یا بالائی طبقوں کے خلاف رہی تھی۔ یوں ایک نئی سندھی صحافت نے
جنم لیا۔ لہٰذا سندھ کے ترقی پسند کارکنوں
نے عوامی آواز کا اجراءکیا۔
میرے
لیے یہ امر باعث افتخار ہے کہ میں اس مزاحمتی صحافت کا بانی بنا۔ جبکہ فقیر محمد
لاشاری مرحوم، انور پیرزادو، بدر ابڑو، عبدالرحمان نقاش نے بھی مزاحمتی صحافت میں
اپنا رول ادا کیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض سرکاری ادارے اور ان کے حاشیہ بردار اس
مزاحمتی صحافت اور صحافیوں کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس مزاحمتی صحافت کے نقش
قدم پر بعد میں جاگو (ایڈیٹر فقیر محمد لاشاری)، پکار (ایڈیٹر بدر ابڑو)، کاوش (ایڈیٹر
علی قاضی) ، برسات (ایڈیٹر شیخ ایاز اور یوسف شاہین)بھی جاری ہوئے۔ عوامی آواز کی
انتظامیہ نے موقعہ پرستی اور مالی لالچ کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ اپنی پوزیشن کھو بیٹھی۔ جبکہ کاوش نے اس آئیڈیا
کو پالش کیا اور فنشنگ کی تو سندھی کا سب سے بڑا اخبار بن گیا۔
قومی
مالیاتی ایواڈ اور پانی کی تقسیم اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر مین اسٹریم میڈیا کے لیے
قومی اشوز تھے جبکہ سندھی میڈیا نے ایک لکیر کہینچ کر خود کو الگ کیا، نوے کی
دہائی سے لیکر دو ہزار تک یہ اشوز اس قدر میچوئر ہوچکے تھے جو سندھ کے لوگ مرنے
مارنے کے لیے تیار ہوچکے تھے، یہ آگاہی اور سیاسی شعور انہیں سندھی میڈیا نے دیا۔
نوے
کی دہائی میں اسٹبلشمنٹ کی سوچ کو سندھی معاشرے میں پھیلانے کے لیے الوحید اخبار
نکالا گیا۔ جس کے لیے سندھ میں یہ بات عام تھی کہ یہ ایجنسیوں کا اخبار ہے، لیکن تمام
تر مالی وسائل اور اطلاعاتی مراکز تک رسائی کے باوجود یہ اخبار بھی نہیں چل سکا۔
اسی طرح بعض غیر سندھی اداروں نے بھی سندھی میں اخبارات نکالنے کے تجربے کیے، جن
میں سے تقریبا تمام ہی کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس کی وجہ مالکان اور قاری کے
مزاج اور سوچ میں ایک واضح فرق تھا۔
پنجاب
کے ایک بڑے میڈیا گروپ نے کالاباغ ڈیم کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے سندھی میں
اخبار کا اجرا کیا، لیکن اس کو وہ پذیرائی نہیں ملی اور جب جنرل مشرف نے کالاباغ
ڈیم کی تعمیر کے لیے اشتہاری مہم چلائی تو اس سندھی اخبار کے نوجوان مستعفی ہوگئے۔
سندھی
صحافت نے سماج کے کئی پہلوں کو اجاگر کیا، انیس سو نوے کی دہائی کے بعد غیرت کے
نام پر قتل، جبری مشقت، جرگوں میں فیصلوں اور پسند کے شادی کے واقعات رپورٹ ہونے
لگے، اس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آنے لگیں، جس نے ریاست کو اس طرف بھی
متوجہ کیا، روایتی سرداری اور جاگیرداری نظام کو ہلانے اور مزاحمت کی قیمت خون سے
بھی ادا کی گئی، کندھ کوٹ سے لیکر میرپورخاص تک آٹھ سے زائد صحافیوں نے جانوں کے
نذرانے پیش کیے۔
حالات اور واقعات کچھ ایسے ہوئے کہ سندھی صحافت
کا کردار معلوماتی کے ساتھ مزاحمتی بھی بن گیا، اس طرح اس نے سیاسی جماعتوں کا
کردار اپنے سر لے لیا، جو بعض جماعتوں کو پسند نہیں آیا، بعد میں بعض سیاسی
جماعتوں نے اخبارات میں اپنے کارکن بھرتی کرانے کی کوشش کی، لیکن انہیں کوئی بڑی
کامیابی نہیں مل سکی۔ بعض قومپرست جماعتوں نے تشدد کا راستہ بھی اپنایا اور یوں اخبارات
کے بنڈل جلانا کا عمل شروع ہوا۔
پاکستان
پیپلز پارٹی اور سندھی میڈیا کے تعلقات کبھی کھٹے میٹھے تو کبھی تلخ رہتے ہیں، پیپلز
پارٹی اپوزیشن میں سندھی صحافتکو اپنا محبوب
پریس اور اقتدار میں ولن سمجھتی ہے۔ حالیہ دنوں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ
کے وزیر اطلاعات کبھی بھی سندھی چینل پر نہیں آتے۔
ہر
وفاقی حکومت کا بھی سندھی میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں۔
وزیراعظم بینظیر بھٹو ہوں یا، یوسف رضا گیلانی یا میاں نواز شریف، ایوان صدر میں
جنرل مشرف ہوں، آصف علی زرداری یا ممنون حسین سندھی پریس سے الگ ملاقات کرتے ہیں،
لیکن ان کی عملی اہمیت کے انکاری ہوتے ہیں۔
چیلینجز
سنہ
2000 کے بعد سندھی صحافت میں آنے والے نوجوان سیاسی تربیت اور ادبی پس منظر سے خالی
ہیں، وہ سندھی صحافت جس نے دو دہائی قبل اسٹیٹسکو کو چئلینج کر کے ایک نئی شناخت
بنائی تھی اب انحطاط کا شکار ہے۔ جس صحافی نے مقامی سردار، وڈیرے، سیاستداں اور بیوروکریسی
کے گٹھ جوڑ کو چیلینج کیا تھا، اب اس کے حاشیہ بردار نظر آتے ہیں۔
صحافت
کی باضابطہ تعلیم کے اداروں سے بھی جو لوگ اس شعبے میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں
ان کے لیے صحافت ایک گلیمر کی دنیا ہے جس میں وہ کسی سیاسی یا سماجی تبدیلی کے
بجائے خود نمائی اور خود پسندی کی سوچ رکھتے ہیں۔
میڈیا
کے اداروں کی شکایت اپنی جگہ پر ہے کہ تعلیمی اداروں سے صحافت کی تعلیم حاصل کرکے آنے
والے اکثر نوجوان ان کے کسی کام کے نہیں ۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ اکثر سندھی
اخبارات کے مدیر ورکنگ جرنلسٹ نہیں ہیں۔
وہ سوچ اور فکر جو پہلے بائیں
بازو کے زیر اثر یا وابستہ تھی اب وہ دباؤ، خوف ، لالچ یا پھر ترقی پسندانہ فکر کے
پیروکار نوجوانوں کی میدان میں عدم موجودگی کے باعث سینٹرل رائیٹ کی طرف بڑھ رہی
ہے۔ جس کی مثال پچھلے دنوں لاڑکانہ میں دھرم شالا کو نذر آتش کرنے، نیو دمبالو میں
تین ہندو نوجوانوں کی گرفتاری اور حیدرآباد میں کالی مندر کے واقعات ہیں، جس کی
کوریج غیر واضح اور مسخ کردی گئی ۔ یہ رویہ سندھی پریس کا پہلے کبھی بھی نہ تھا۔ ان
واقعات پر سندھی میڈیا کے عمل کو ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے دو قدم پیچھے جانے سے
تعبیر کیا جارہا ہے۔
اردو
میڈیم میڈیا سے یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے سندھ کے اشوز کو رپورٹ کرنے میں ان کی کوئی
دلچسپی ہے اور نہ ہی مفاد۔ یہی وجہ ہے کہ انگلیوں پر گننے کے برابر سندھی لوگ اس میڈیا
میں لیے گئے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں سندھی کالم نویس۔ قابل حیرت اور افسوس امر
یہ بھی ہے کہ نیوز چینلز پر کسی بھی ٹاک شو کا کوئی سندھی میزبان نہیں۔
اس
صورتحال میں مین اسٹریم میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے کے خیالات اور سوچ کے تبادلہ کے
بجائے ایک ایسے مرکزیت پسندی کے تنگ نظر چشمے سے دیکھتی ہے جس کو نام تو قومی مفاد
کا نام دیا جارہا ہے لیکن عملا اس کے برعکس ہے۔ یوں مین اسٹریم میڈیا لوگوں کو
جوڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔
اطلاعات
کا خلاء
پاکستان
میں مجموعی طور پر میڈیا کی معلومات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی معلومات
ملتی بھی ہے تو وہ یک طرفہ ہوتی ہے یا پھر manipulated۔
اس ضمن میں سندھی میڈیا کے ساتھ ایک اور المیہ بھی ہے۔ وہ ہے معلومات اور ان کے ذرائع اور
اداروں تک رسائی۔
سندھ
اقتدار کے تکوں میں اکثر غیر موجود ہوتا ہے، یہی صورتحال مختلف اداروں کی بھی ہے، لہٰذا ان اداروں
تک سندھی میڈیا کی رسائی خاصی مشکل رہتی ہے۔ یہ انیس نوے کے عشرے کی بات ہے کہ
سندھی اخبارات نےاسلام آباد میں اپنے بیورو آفیسز قائم کئے۔ روزنامہ کاوش واحد
اخبار ہے جس کے نمائندے ملک کے باقی تین دارالحکومتوں میں بھی ہیں۔
مالی
حالت
سندھی
اخبارات کا انحصار سرکاری اشتہارات پر زیادہ ہے، یہ بات حکومت وقت بخوبی جانتی ہے،
اس لیے اشتہارات کے اجرا سے لیکر ادائیگی تک کبھی بلواسطہ تو کبھی بلا واسطہ دباؤ ڈال
کر اپنی تشہیر حاصل کرتی رہی ہے، ایسا بھی کئی بار ہوچکا ہے کہ کئی اخبارات کو سبق
سکھانے کے لیے ان کے اشتہارات بند کیئے گئے۔
کراچی،
نوری آباد، حیدرآباد اور کوٹڑی میں کئی صنعتیں اور چھوٹے بڑے کارخانے موجود ہیں لیکن
سندھی میڈیا ان سے بہت کم ہی اشتہار حاصل کرتے ہیں، اسی وجہ سے کچھ اخبارات تو یہ
سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا سندھی بچے چاکلیٹ، ٹافی، یا آئسکریم نہیں کھاتے، کیا
سندھی صابن، شیمپو، سگریٹ استعمال نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی دلیل ہوتی ہے کہ جب
خریدار موجود ہے تو پھر اس میڈیم کو کیوں یہ اشتہار ملتا ہے جو وہ پڑہتے یا دیکھتے
نہیں۔
صحافی
اور میڈیا ورکرز
پریس
قوانین خاص طور پر کارکنوں کی ملازمت، حالات کار، معاوضے وغیرہ کے حوالے سے سندھ
پرنٹ میڈیا میں عمل درآمد خال خال ہے۔ کراچی کے برعکس ان کی آواز بھی اتنے موثر
نہیں، اسلام آباد اور کراچی کی صحافتی تنظیمیں حیدرآباد، سکھر اور دیگر شہروں کے
صحافی مانتی ہی نہیں اور ان کی پیشورانہ صحافتی تنظیموں میں کوئی نمائندگی نہیں
ہوتی۔
باقی
تینوں صوبوں میں صحافتی تنظیموں کی صوبائی باڈیز ہیں لیکن سندھ واحد صوبہ ہے جہاں
کراچی یونین آف جرنلسٹس ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ترقی پسندی کی دعویٰ کرنے والے دوست بھی
اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں نیب میں طلب کر کے تیس سوالات پر مبنی سوالنامہ دے دیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ حکومتی مشنری ایک بار پھر بلاول بھٹو کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں پروپیگنڈا مشنری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کہتے ہیں کہ عدالت نے بلاول بھٹو کو بیگناہ نہیں معصوم کہا تھا، فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے خلاف کیس نواز لیگ دور کا ہے، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے پانچ پانچ سال حکومت کی اب دوسروں کو بھی برداشت کریں۔ جونئیر پارٹنر ز نے آرمی ایکٹ سے متعلق پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد بہتر سلوک کا مطالبہ کیا، ناراضگی دکھائی تو انہیں مصروف رکھنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ عجیب بات ہے کہ کراچی سے ایم کیو ایم اور پنجاب سے قاف لیگ مسلسل ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ لیکن وزیراعظم نے جب لاہور اور کراچی کا دورہ کیا تو ان اتحادیوں سے ملاقات تک نہیں کی۔ جیسے اتحادیوں کو منانا یا ساتھ رکھنا ان کا مسئلہ نہ ہو۔ اس سے وہ اتحادیوں کو شاید یہ پیغام دے رہے تھے کہ اتحادی عمراں خان کی وجہ سے نہیں کسی اور مقتدرہ قوت کی وجہ سے ساتھ دے رہے ہیں۔ نیب کے حالیہ اقدامات سے اتحادیوں کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بہتر سلوک نہیں کای جارہا ہے۔ لہٰذا اتحادی دوست بھی لمبی فرمائشیں نہ کریں۔
لندن میں شریف برادران کی سرگرمیوں کی بھی خبریں ہیں، جہاں چوہدری نثار علی خان موجود ہیں۔ خواجہ آصف کی جانب سے وزیراعظم نہ بننے کی تردید بھی ہے۔ خود حکمران جماعت اپنے اندرونی بحران کا شکار ہے۔ پہلے خیبرپختونخوا میں ہلکی پھلکی ”بغاوت“ ہوئی، جسے ’کچل‘ دیا گیا یا نمٹ لیا گیا۔ تام اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ اب جہانگیر ترین کو اتحادیوں کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی سے علحدہ کردیا گیا ہے۔ چاہے جہانگیر ترین الفاظ میں کچھ بھی کہیں لیکن وہ ناراض لگتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک نیا گروہ چھا رہا ہے۔ پارٹی کی اس اندرونی لڑائی کے اثرات بھی ہونے ہیں۔ پنجاب کا معاملہ پورے طور پر حل نہیں ہو سکا،بعض اہم امور سے نمٹنے تک فی الحال اسے التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک بو محسوس کی جارہی ہے۔کچھ کھچڑی پک رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اب ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ پیپلزپارٹی مہنگائی کے خلاف تحریک کس حد تک چلا پائے گی، یہ سوال اپنی جگہ پر لیکن آئی ایم ایف سے معاملات نہیں بن رہے ہیں اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھنے والا ہے، جس کی نشاندہی قومی اسمبلی کی مالیات سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی میں وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ جس میں بتای گیا ہے کہ ٹیکس کی وصولیاں کم ہوئی ہیں۔ معیشت کی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سب سازگار حالات بنتے ہیں کسی تحریک کے لئے۔ لیکن بات صرف مہنگائی کے خلاف تحریک کی نہیں، بات یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی بعض سیاسی فیصلوں کے آڑے آرہی ہے۔ جس کی وجہ سے بلاول بھٹو کو طلب کیا جارہا ہے۔
بلاول پر براہ راست کرپشن کا الزام، نہیں لیکن گروپ آف کمپنیز پر الزامات ہیں جن کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔ بلاول کو گزشتہ سال مارچ اور مئی میں نیب نے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ بلاول بی گناہ ہے۔ آج انہی ریمارکس کی حکومت وضاحت کررہی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں جب بلاول نے بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑے پیمانے پرمنانے کا اعلان کیا تب بھی نیب نے انہیں برسی سے تین روز قبل طلب کیا۔ بلاول بھٹو نے نیب کی اس پیشی پر نہ جانے کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ بلاول کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ کیونکہ انہی دنوں میں نواز لیگ کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کو نیب میں پیشی کے بعد گرفتار کیا جاچکا تھا؎؎؎؎۔لیکن چونکہ تب پیپلزپارٹی سے قانون سازی کے لئے کام لینا تھا لہٰذا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے دھڑلے سے کہا تھا کہ کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کو بھی گرفتار کرلیا جائے۔
نے حالات بتا رہے ہیں کہ مائنس ون فارمولہ نوازشریف اور زرداری تک محدود نہیں۔ اس میں مریم نواز اور بلاول کو بھی مائنس کرنے کی بات ہوری ہے۔ سینئر قیادت کے بعد بلاول اورمریم نوازپرمشتمل نوجوان قیادت دلیرانہ موقف رکھے ہوئے تھی۔ مریم نے باپ کی جگہ گرفتاری دی ہے تاکہ میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے جاسکیں۔ بقول ایک تجزیہ نگار کے مریم کو نواز شریف کے عوض قید میں رکھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو اسمبلی خواہ لابیوں میں بول رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کو قیادت کو اندازہ ہے کہ کسی بھی وقت بلاول بھٹو کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی گرفتاری سے خبردارکیا ہے ان کی گرفتاری سے صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔ اگر حکومت بلاول کو گرفتار کرتی ہے تو پیپلزپارٹی کو ایک بار پھرخاتون قیادت کا چہرہ ملے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت میں قیادت آصفہ بھٹو کریں گی۔ پاکستان کی تاریخ نے بتایا ہے کہ خاتوں رہنما کا چہرہ مقتدرہ حلقوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا بینظیر بھٹو کی صورت میں کر چکی ہے۔ شاید اس صورتحال کو بلاول بھٹو خطرناک کہہ کر خبردار کر رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کو ڈاکواور چور کے القابات دے کر وہ اِن سب کو جیل میں ڈالنے اورقوم کا پیسہ نکلوانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد نیبنے اہم اپوزیشن رہنمائوں پر مقدمات بنائے اورانہیں گرفتار کیا۔لیکن اب صورتحال مختلف ہورہی۔
ضرورت پڑی تو مفاہمت کے راستے نکلے۔ سزا یافتہ نواز شریف کوعلاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف بھی بیرون ملک چلے گئے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپوراور سید خورشید شاہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔
دسمبر کے آخر میں حکومت نیب آرڈیننس میں ترمیم پیش کی۔ جس سے تاجر، سرکاری افسران کے علاوہ سیاستدان بھی مستفید ہونگے۔
آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی پوزیشن کے اتفاق رائے اور ایوانوں میں اس کے حق میں ووٹ دینے کےبعد، نیب قانون میں ترمیم اپوزیشن کی مشاورت سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیاستدان قیام پاکستان کے فورا بعد ہی کرپشن کے الزامات کی لپیٹ میں آنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ الزام سیاسی اثر اور حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔
وزیراعلیٰ سندھ محمد ایوب کھڑو نے کراچی کو سندھ سے علحدہ کر مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی مخالفت کی انہیں وزارت سے برطرف کردیا گیا۔ ان کے خلاف اختیارات کے ناجائزاستعمالوغیرہ کے 62 الزامات عائد کئے گئے۔ ٹائپ رائٹر چوری کے الزام میں اڑھائی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں تین سال کے لئے سیاست میں حصہ لینے سے نااہل قراردیا گیا۔
جب مصالحت ہوگئی توایوب کھڑو کو کابینہ میں لے لیا گیا۔ لیکن ایک سال بعد گورنر سندھ نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرکے ان سے استعیفا لے لیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ چند ہی ماہ بعد انہیں نگران وزیراعلیی مقرر کیا گیا۔اگلے سال پھر ان پردیگر سندھ کے سیاستدانوں کے ساتھپروڈا میں مقدمہ دائر کیا گیا۔
وزیراعظم لیاقت علی خان نے پروڈا نافذ کیا جس کا مقصد کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے لئے بتایا گیا۔یہ قانون اگرچہ 1949 میں بنایا گیا لیکن اس کو نافذالعمل 1947 سے قرار دیا گیا۔
ایوب خاننے حکمرانی کے دو ہتھیاراستعمال کئے۔ اختیارات کا ارتکاز اور مخالفین کو دھونس دینا اوران کو دبائے رکھنا۔
صدراسکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں ان کے سیکریٹری رہنے والے قدرت اللہ شہاب اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ 'یہ قانون سیاسی عہدیداروں کے سر پر شمشیر برہنہ کی طرح آویزاں ہو گیا۔کسی بھی مرکزی یا سوبائی وزیر کے خلاف الزام لگا کرنہایت آسانی سے پروڈا کی صلیب پر لٹکایا جاسکتا تھا۔ '
وہ لکھتے ہیں کہ 'اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قانون ایک سیاسی ہتھیار کی حیثیت سے عالم وجود میں آٰیا اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی ہوا۔ ایوب خان صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی ہی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ان عناصر کو کانٹے کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔ '
دو سابق وزراء اعظمملک فیروز خان نون حسین شہید سہروردی ، تین سابق وزراء اعلیٰ ایوب کھڑو، افتخار محمد ممدوٹ، یوسف اے ہارون اور کئی ایک مرکزی و صوبائی وزراء ایبڈو کی زد میں آئے۔
ایوب خان کا اقتدار میں آنے کے بعد ترجیح یہ تھی کہ ملک میں موجود سیاسی نظام کو تباہ کرے۔
ایوب خان کے اس اقدام نے ایک پورے سیاسی کلاس کو ختم کردیا۔
1988 کے بعد جمہوری دورکی حکومتیں بھی اپنے حریفوں کے خلاف کرپشن چِپ استعمال کرتی رہیں۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن کا الزام لگا کربرطرف کیا گیا۔ بعد میں غلام اسحاق خان نے نجی مشیروں کی مدد سے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 20 مقدمات بنائے۔
حسن کمال دیکھئے کہ غلام اسحاق خان نے جب نواز شریف کی حکومت ختم کی تو اسی آصف علی زرداری کو نگراں حکومت میں وزیربنایا۔
بینظیر بھٹو1993 میں دوبارہ وزیراعظم بنیں تو انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر لاہور اسلام آباد موٹر وے اور ییلو کیب اسکیم میں کمیشن لینے سرکاری بینکوں سے قرضہ لینے اور پنجاب میں کوآپریٹیو اسکینڈل کے ذریعے 18 ارب روپے بنانے کا الزام لگایا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف 150 مقدمات دائر کئے گئے۔
نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کیا۔ انہوں نے احتساب آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت احتساب 1985 سے شروع کیا جاسکتا ہے یعنی جب ضیاء الحق نے مارشل لاء اٹھایا تھا۔ ضیاء کے مارشل لاء دور کو مستثنیٰ قراردیا گیا۔
نواز شریف دوسری مرتبہ اقتدار مین آئے توانہوں نے نیا احتساب ایکٹ لاگو کیا اور اپنے دوست سیف الرحمٰن کو چیف احتساب کمشنر مقرر کیا۔ بعد میں1998 میں احتساب سیل نام تبدیل کر کے احتساب بیورو رکھا گیا۔ اس احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔
نواز شریف کے تین سالہ دور میں عدلیہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی کومنی لانڈرنگ کے الزام میں پانچ سال قید اور 8۔6 ملین ڈالر جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا۔
پرویز مشرف نے اقتدارمیں آکر نواز شریف دور کے احتساب کے قانون کو بدل ڈالا اور ایک خطرناک احتساب آرڈیننس جاری کیا۔اس نئےقانون کے تحت نیب کسی بھی شخص کو گرفتار کے بعدکورٹ میں پیش کئے بغیر 90 روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے۔
جب پرویز مشرف کو اقتدار کو طول دینے کے لئے سیاسدانوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اکتوبر 2007 میں این آر او جاری کیا۔ جس میں کرپشن، منی لانڈرنگ، خواہ دہشتگردی کے الزامات میں ملوث سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں کو معافی دی۔
سوئیس اکائونٹس کے معاملے میں پیپلزپارٹی کو ایک وزیراعظم کی قربانی دینی پڑی۔
تیسری بارنواز شریف وزیراعظم بنے تو انہیں بھی سخت دبائو کو سامان کرنا پڑا بالآخر پاناما گیٹ کھلا تو انہیں پہلے نااہل قرار دیا گیا اور بعد میں سزا سنائی گئی۔
ہر پانچ دس سال بعد خاص انتظامات کے تحت چند افراد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتا رہا۔ پھر امید ہو چلتی ہے کہ بلاامتیاز احتساب ہوگا۔ لیکن اگلے دو تین سال میں یہ خواب ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس سے نہ کسی کو سزا ہوتی نہ کرپشن رکتا ہے بلکہ اس سے کسی کی سیاست ہی آگے بڑھتی ہے۔
کرپشن کا قانون اور اس کی روک تھام کا ادارہ ہمیشہ سیاست زدہ رہے ہیں۔ حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ کرپشن کے پروڈا، ایبڈو اور پوڈو ہو یا نیب قانون سیاسی انجینئرنگ کے لئے نافذ کئے گئے۔
پاکستان میں کرپشن اورسیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے لئے سیاست ہوتی ہے۔ دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے مخالفت کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ دونوں بیانیے گڈمڈ ہوگئے ہیں کہ نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ کرپشن کا خاتمہ ۔ یہ تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کہاں کرپشن ہے؟ کہاں سیاست؟
سندھ کے مسائل، ذمہ دار کون؟ 31 مئی
2019 2019-05-31
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت
غربت مٹائو منصوبے کے تحت بعض پروگرام شروع کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا
جارہا ہے کہ وفاقی حکومت بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا پہلے نام تبدیل کرنا
چاہ رہی تھی، اب اس پروگرام کو چھوٹا کر...
عمران خان کے سیاسی وجود کا سوال 30
مئی 2019 2019-05-30 اپ
اپوزیشن اچھی طرح سے جانتی ہے کہ
عمران خان کی پیٹھ مضبوط ہے، لہٰذا عجلت میں کوئی تحریک چلانا قابل عمل حکمت عملی
نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔ لوگ بھی بیزار ہونگے اور
تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔...
یونیورسٹیوں میں بحران کیوں؟ 27 مئی
2019 2019-05-27 ملک کے مختلف جامعات میں ہراسمنٹ، فکری بنیاد پراساتذہ یا طلباء
کے قتل، عدم برداشت کے واقعات کے سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ تعلیم
کس نہج پر جارہی ہے؟ اس میں مزید اضافہ اور بجٹ میں کٹوتی نے کردیا ہے۔حکومت عملی
طور اعلیٰ ٰ...
سندھ میں پولیس اختیارات کی گتھی 24
مئی 2019 2019-05-24 سندھ میں پولیس قانون کی گتھی نہ پولیس سربراہ اور حکومت کے
درمیان سلجھ سکی اور نہ ہی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ بل سے۔ اب معاملہ عدالت میں
ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم ڈویزن بنچ نے حال
ہی سندھ اسمبلی...
کیا تحریک چلنے والی ہے؟ 20 مئی 2019
2019-05-20 پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہائش گاہ پر ’’گرینڈ سیاسی
افطاری‘‘ نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ہے تحریک کا ماحول بنا دیا ہے اگرچہ
باقاعدہ ’گرینڈ اپوزیشن الائنس‘ نہیں بنا لیکن عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس
بلانے کا فیصلہ کیا...
بھرتیاں بطور سیاسی ہتھیار ؟ 17 مئی
2019 2019-05-17 سندھ میں صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن سرگرم ہو گیا ہے۔ دادو میں
گزشتہ سال تقریبا دو لاکھ گندم کی بوری گم ہوجانے پر محکمہ خوراک کے ضلعی افسران
اور فلو مل مالکان کے خلاف الگ الگ آٹھ مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔خردبرد کی گئی
گندم کی مالیت پچپن...
آئی ایم ایف معاہدہ نئی سیاسی گشیدگی
کو جنم دے گا 16 مئی 2019 2019-05-16 آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نئے معاہدے میں
بعض چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں، ۔ اس مالیاتی ادارے کو اپنے پرانے اور نئے قرضے
وصول کرنے ہیں۔ یہ وصولی کے لئے چار اقدامات ضروری ہیں جن کا ذکر ادارے کے جاری
کئے گئے اعلامیہ...
قرضہ کی قیمت کون ادا کرے؟ 13 مئی
2019 2019-05-13 خوشخبری آئی ہے کہ آئی ایم ایف نے ہاں کر لی ہے۔ اب قرضہ مل
جائے گا۔ حکومت پہلے یہ کہتی رہی کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی کوئی ضرورت
نہیں۔عرب ممالک سے لے کر ہند چینی اور خود چین تک سفر کئے گئے۔ آخر یہی رائے بنی
کہ آئی ایم ایف سے ہی قرضہ...
گورنر سندھ کے خلاف سندھ متحد ہوگیا
10 مئی 2019 2019-05-10 گورنر سندھ عمران اسماعیل کے سندھ کی وحدت کے خلاف بیان پر
سندھ بھر سے شدیدردعمل آیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے علاوہ قوم پرستوں، دانشوروں اور سول
سوسائٹی نے احتجاج کر کے گورنر سندھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا میں
مضامین، اور...
سیاست میں گولڈن ہینڈ شیک 09 مئی 2019
2019-05-09 اپوزیشن کی بڑی جماعت ن لیگ نے پارلیمانی عہدوں میں اہم تبدیلیاں کردی
ہیں۔ اس سے قبل یہ اشارے مل رہے تھے کہ پارٹی کی پالیسی پر اتفاق رائے نہیں تھا۔
پارٹی کے بعض رہنما شہباز شریف کی پالیسی کو صحیح سمجھتے تھے۔ جبکہ کئی رہنما نواز
شریف کے...
سندھ میں مسائل کیوں نہیں حل ہوتے؟ 01
مارچ 2019 2019-03-01 پاک بھارت کشیدگی پر سندھی میڈیا میں مضامین، کالم اور
اداریے شایع ہوئے ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ عوام کے
لئے نقصان دہ ہے۔ جنگ اگر کرنی ہے تو برصغیر میں غربت کے خلاف کرنی چاہئے۔ تمام
متنازع معاملات کو...
دوجنگوں اور ہجرت کاتجربہ 28 فروری
2019 2019-02-28 میں نے کبھی جنگ لڑی تو نہیں، لیکن جنگ لڑتے دیکھی ضرور ہے۔ اور
اس جنگ کے اثرات کا تجربہ بھی ہے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں جب تھرپارکر کے شہر
چھاچھرو ہائی اسکول میں نویں جماعت کا طالبعلم تھا تو 1965 کی جنگ ہوئی تھی۔ تب
تھر میں نہ سڑکیں تھیں...
کشمیر اور مودی کا بھارت 25 فروری
2019 2019-02-25 دو ہفتے تک برصغیر کے دو بڑے ممالک کے درمیان شدید کشیدگی رہی۔
کشیدگی کی حد یہ تھی کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے اپنے فوجی سربراہوں کو مناسب
صورت میں کارروائی کے اختیارات بھی دے دیئے تھے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات
بہت غیر معمولی...
سندھ حکومت اور آئی جی پولیس پھر آمنے
سامنے 22 فروری 2019 2019-02-22 سندھ حکومت اور آئی جی سندھ پولیس ایک بار پھر
آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ حکومت سندھ نے نئے پولیس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے۔ جس
میں ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جی کو چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت
رکھنے کی تجویز دی...
جمہوریت کے ساتھ ایک اور تجربہ 18
فروری 2019 2019-02-18 نئی صدی کے دوران ایک ایسا رجحان بڑھا ہے جو بظاہر عوامی
لگتا ہے لیکن اپنے جوہر میں جمہوری نہیں۔ نوآبادآبادیاتی خواہ جدید نوآبادیاتی
نظام میں جب عوامی تحریکیں چلتی تھی، تب دنیا میں اسطرح سے جمہوریت نہیں تھی، سرد
جنگ کی وجہ سے ان...
نئی تعلیمی پالیسی پر مشاورت 15 فروری
2019 2019-02-15 روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ میں نئی تعلیمی پالیسی پر مشاورت
جاری ہے۔ گزشتہ ماہ حیدرآباد میں منعقدہ ورکشاپ کے بعد کراچی میں بھی ایک ورکشاپ
منعقد ہوئی جس میں انہی تجاویز کو دہرایا گیا۔ تعلیمی پالیسی کے لئے دی گئی تجاویز
کے اہم نکات...
دنگل کا دوسرا راﺅنڈ 11 فروری 2019 2019-02-11 وزیراعظم عمران خان نے خاموشی توڑدی
کوئی این آر او نہیں آرہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب کسی قسم کی رعایت کسی کرپٹ آدمی کو
نہیں دیں گے، لٹیروں کیلئے این آراو ملک سے غداری ہوگی۔وزیراعظم کا یہ بیان سیاسی حوالے
سے پالیسی بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں...
مکالمہ ضرور کریں 04 فروری 2019
2019-02-04 چیف جسٹس آف پاکستان،مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ریاستی اداروں کے
درمیان مکالمہ سے متعلق ریمارکس ایک بار پھر اس موضوع کو نیا کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے
اسلام آباد میں منعقدہ ایک مکالمے میں بھی مقررین نے اس طرح کا مکالمہ کرنے پر زور
دیا۔ سابق چیف...
سندھ میں اپوزیشن کا کردار 01 فروری
2019 2019-02-01 سندھ کے عوام حکمرانی، پالیسی سازی، عوام کے مصائب کے حوالے سے
متعدد مسائل کا شکارہیں۔ سرکاری اعداد شمار اور رپورٹس کے مطابق صوبے میں دیہی اور
شہری علاقوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ لوگ پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات
سے محروم ہیں۔ ا...
این ایف سی ایوارڈ 31 جنوری 2019
2019-01-31 مالیاتی ایوارڈ اور وفاق کی جانب سے صوبوں کو گرانٹس پاکستان میں موضوع
بحث رہی ہیں۔صوبے خود کو وفاق کے رحم و کرم پر سمجھتے رہے۔اس صورتحال میں ساتویں
مالیاتی ایوارڈ کے بعد ایک حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جب مجموعی طور پر
صوبوں کا حصہ...
سندھ، گورننس سے پیدا
ہونے والے مسائل 03 مئی 2019 2019-05-03 ابھی پولیو کے قطرے پلانے سے انکار، اس
مہم میں حائل مختلف رکاوٹوں اور ڈاکٹرز کے ہاتھوں غلط علاج کے باعث بچوں کی
فوتگیوں تھر میں بچوں کی اموات روکنے میں ناکامی کے معاملات چل رہے تھے کہ سندھ
بھر سے ایڈز پھیلنے کی خبریں آرہی ہیں،...
ایم کیو ایم پھر سیاسی
تنہائی کا شکار 02 مئی 2019 2019-05-02 ’’سندھ کی تقسیم کے خلاف جو لوگ ہوں اٹھ
کھڑے ہوں‘‘، سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی اپیل پر جی ڈی اے
اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اٹھ کھڑے ہوئے۔ جس پر وزیراعلیٰ نے ان کا شکریہ
ادا کیا، جب کہ ایم کیو ایم کے...
سندھ میں برف کیسے
پگھلی؟ 29 اپریل 2019 2019-04-29 چند ماہ سے سندھ اور وفاق کی حکمران جماعتوںکے
درمیان جاری کشیدگی گزشتہ ہفتے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی جب دونوں جماعتوں کے
سربراہان سیاسی بدکلامی پر اتر آئے۔ بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کو مسلسل
سلیکٹیڈ وزیراعظم کہتے رہے ہیں۔ پہلے...
سندھ، ہسپتالوں میں
اموات، لڑکی سے زیادتی اور موت 26 اپریل 2019 2019-04-26 سندھ اسمبلی کا ایوان آج
کل جس طرح چل رہا ہے ، جو مناظردیکھنے اور جملے سننے کو ملتے ہیں ، وہ سب کچھ دیکھ
کر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سندھ بھر کے کروڑہا عوام کی نمائندگی کرنے والا منتخب
اور پڑھے لکھے لوگوں کا ایوان...
تبدیلی کا نعرہ اور ’’
اسٹیٹس کو‘‘ 22 اپریل 2019 2019-04-22 ہمارے دوست اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما
سینیٹر مولا بخش چانڈیو بادشاہ آدمی ہیں۔بہت سے لوگوں کوان کی باتیں اور بیانات
عام سی لگتے ہیں۔ لیکن ان کی باتوں میں گہرائی ہوتی ہے۔حیدرآباد کی مشہور شخصیت
میر رسول بخش تالپور کے...
سیاسی جنگ کا پانی پت
۔۔۔ اب سندھ 08 اپریل 2019 2019-04-08 پنجاب کے بعد اب سیاسی جنگ کا پانی پت کا
میدان سندھ ہونے جارہا ہے۔ حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پیپلزپارٹی کی قیادت کا
تعلق سندھ سے ہے۔ اس کے خلاف کارروائی ہونے جارہی ہے۔ اس پارٹی کی صوبے میں حکومت
بھی ہے اور حمایت بھی ۔ اسلام آباد...
وزیراعظم کے سیاسی
مقاصد اور ترقیاتی پیکیج 05 اپریل 2019 2019-04-05 سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو
کی برسی کے موقع پر سندھ بھر میں سرگرمی نظر آئی۔پیپلزپارٹی کی اپیل پر تمام
علاقوں سے لوگ قافلوں کی شکل میں گڑھی خدابخش پہنچے اور سابق اور پیپلزپارٹی کے
بانی کوخراج عقیدت پیش کیا۔پارٹی...
نئی صف بندی کے
اشارے۔۔۔ 05 اپریل 2019 2019-04-05 وزیر خزانہ اسد عمر نے اب دو ٹوک بات کہہ دی ہے
کہ ادائیگیوں کے توازن کیلئے 2 آپشنز ہیں، ملک دیوالیہ ہوجائے اور دوسرا آئی ایم
ایف کا پروگرام لے لیں۔ اگر دیوالیہ ہوتے ہیں تو پاکستانی روپے کی قدر بہت کم ہو
جائے گی ۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پاس جا...
سندھ، ہندو لڑکیوں کے
مبینہ اغوا کے واقعات 30 مارچ 2019 2019-03-30 سندھ کے شہر ڈہرکی سے دو ہندو
لڑکیوں کا مبینہ اغوا اور مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے کا معاملہ اخبارات اورسیاسی
حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس واقع کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے بھی
ہوئے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ...
نواز شریف کی ضمانت
لیکن زرداری کی ضمانت مسترد؟ 28 مارچ 2019 2019-03-28 وزیراعظم عمران خان نے تخفیف
غربت پروگرام ’’احساس‘‘ کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کر
کے روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم کو بطور بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا۔ ان اعلانات
کا اظہار سابق قیدی...
بلاول بھٹو کا ٹرین
مارچ کا پیغام 25 مارچ 2019 2019-03-25 پیپلزپارٹی احتجاج شروع کر چکی ہے۔ اس کی
پہلی جھلک راولپنڈی میں دیکھنے میں آئی جب پارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین منی
لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ پارٹی
کارکن یکجہتی کے لئے جمع ہوئے۔...
کیاتھر بدلائے گا
پاکستان؟ 22 مارچ 2019 2019-03-22 سندھ اینگرو کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ تھر کول
سے بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے اور اس بجلی کو نیشنل گرڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔یہ
موضوع میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ واقعی کول سے بجلی پیدا ہونا شروع
ہو گئی ہے؟کیونکہ صوبے کے دوسرے...
پیپلز پارٹی کی جانب سے
طاقت کا مظاہرہ 21 مارچ 2019 2019-03-21 پیپلزپارٹی پہلے ہی تحریک چلانے اور
احتجاج کے موڈ میں تھی اور اس طرح کی وارننگ دے چکی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے
منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات کراچی سے راولپنڈی منتقل کر کے آ بیل
مجھے مار کی طرح پیپلزپارٹی کو...
نواز لیگ اور
پیپلزپارٹی کے آپشن احتجاج یا تحریک؟ 18 مارچ 2019 2019-03-18 نواز شریف کی بیماری
اور آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سندھ اور پنجاب میں تحریک چل
سکتی ہے؟پیپلز پارٹی کی سندھ کونسل نے پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتار ہوئی تو تحریک
چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس سے قبل...
صرف قراردادیں ہی کیوں
؟ 15 مارچ 2019 2019-03-15 سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر کے
صوبے کے تمام اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ سندھی لازمی طور پر پڑھائیں۔ قرارداد کے
پس منظر میں وزیرتعلیم سردار علی شاہ نے زبردست قسم کی سندھ دوست اور سماج دوست
باتیں کی۔ بلاشبہ یہ قرارداد...
بلاول نواز شریف
ملاقات، میثاق جمہوریت کے احیاء کا امکان 14 مارچ 2019 2019-03-14 وزیراعظم عمران
خان نے شاید پہلی مرتبہ براہ راست پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تنقید
کا نشانہ بنایا۔اس سے پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں
بلاول کی تقریر پر تنقید کی...
وزیراعظم کوسندھ حکومت
کے طعنے 11 مارچ 2019 2019-03-11 یہ شاید گزشتہ اگست کا واقعہ ہے۔ انتخابات کے
بعدعمران خان وزیراعظم منتخب ہو چکے تھے۔ عارف علوی نے ٹوئٹر پر ایک فوٹو اپ لوڈ
کی۔ جس میں عمران خان نگرپاکر میں سو رہے ہیں۔ اس تصویر کا کیپشن یہ لکھا گیا تھا
کہ 80 کے عشرے میں نگر پارکر میں...
بااثر افراد کے سرکاری
زمینوں پر قبضے 08 مارچ 2019 2019-03-08 شہروں کے بڑھنے وہاں پر آبادی کی شرح میں
اضافہ کے باعث صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت مختلف شہروں میں زمین کا سوال نئے سرے
سے ابھر رہا ہے۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران شہروں کی طرف نقل مکانی ہوئی جس سے رہائش
کے لئے زمین کی مانگ بڑھ...
پاک بھار ت کشیدگی،
پاکستان کا پلڑا بھاری 07 مارچ 2019 2019-03-07 پاکستان اور بھارت میں حالیہ
کشیدگی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن پر صرف پاکستان
میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی ان کی واہ واہ ہو رہی ہے۔کالعدم تنظیموں کے خلاف
کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ طالبان...
ادبی فیسٹیول اور
حکمرانوں کی شرکت 05 مارچ 2019 2019-03-05 اشاعت، اظہار اور میڈیا میں ڈیجیٹل دور
اپنی جگہ پر لیکن پاکستان میں ادبی کانفرنسوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ پہلے لاہور
میں مختلف ادبی وثقافتی پروگرام ہوا کرتے تھے۔ یا حیدرآباد کے عالمی مشاعرے مشہور تھے۔
گزشتہ ایک عشرے سے سندھ کا...
وفاق اور سندھ میں کشیدگی 25 جنوری
2019 2019-01-25 سندھ سیاسی گہماگہمی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کے
خلاف ریفرنس کی تیاری کی جارہی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں عوامی جلسے جلوس کرنے
جارہی ہے۔ اس کے جواب میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتیں بھی اس صوبے میں سرگرمیاں
تیز کرنے جارہی...
منی بجٹ کے اثرات 24 جنوری 2019
2019-01-24 منی بجٹ میں تحریک انصاف کی حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ کاروباری ماحول
بہت منفی ہو چکا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد منتشر ہوا ہے ، جس کی بحالی کے لئے
مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان اور ان کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت
لگے گا۔ کیونکہ پانچ...
توانائی وفاق اور سندھ کے درمیان طاقت
آزمائی 11 جنوری 2019 2019-01-11 سندھ میں تین موضوعات زیر بحث ہیں۔کیا واقعی آصف
علی زرداری گرفتار ہو جائیں گے؟ اٹھارہویں ترمیم پر لٹکتی ہوئی تلوار، سندھ اور
وفاق کے درمیان توانائی کے شعبے پر کشیدگی اور صوبے میں تعلیم نظام میں تبدیلیوں
کی کوشش۔...
شکریہ عثمان کاکڑ صاحب ! 10 جنوری
2019 2019-01-10 تھر کے لوگ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ تھر کے کولئے سے انہیں کوئی
فائدہ نہیں ہورہا۔ بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے زمین ان کے پیروں تلے نکالی جارہی ہے۔
گزشتہ روز سینیٹ کی پسماندہ علاقوں سے متعلق کمیٹی نے اس قحط زدہ صحرا کا دورہ
کرنے کے بعد وہی بات کہی...
سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب 07 جنوری
2019 2019-01-07 سندھ کی قوم پرست جماعتیں ایک بار پھر متحد ہونے کا سوچ رہی ہیں
لیکن تذبذب کا شکار ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران نے متحد ہونے کی ضرورت کو اور بھی بڑھا
دیا ہے۔ خبر پڑھیں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ، کرس گیل اپنے بورڈ کے این او سی کے
منتظر اٹھارہویں...
پیپلز پارٹی کے خلاف مہم، رائے عامہ
پارٹی کے ساتھ 04 جنوری 2019 2019-01-04 ایک ہفتہ سے سندھ میں سیاسی سرگرمیاں
اچانک عروج پر ہیں۔ سندھ حکومت جو ابھی ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی
کے قتل کے بحران سے نہیں نکل پائی تھی کہ وہ ایک اور سخت دباؤ میں آگئی ہے۔ زرداری
خاندان کے خلاف جے...
سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا؟ 03
جنوری 2019 2019-01-03 جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ملک کی سیاست میں طوفان کھڑا ہو گیا
ہے۔ یہ محض ایک رپورٹ ہے۔ جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے کہا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں
قرار دیئے گئے ’’مشتبہ‘‘ افراد کو مجرم قرار دینے کے لئے ابھی ایک طویل قانونی سفر
طے کرنا باقی...
اکاؤنٹس سکینڈل ، بلدیاتی ادارے کرپشن
کے گڑھ 28 دسمبر 2018 2018-12-28 وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ نیب کی
انکوائریوں کی وجہ سے ڈر کے مارے سندھ میں افسران کام ہی نہیں کر رہے ہیں۔ اب جے
آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کل 172 افراد کے نام شامل ہیں ۔ چونکہ یہ
اومنی گروپ، اور زرداری...
کراچی کا امن ہاتھوں سے پھسل نہ جائے؟
27 دسمبر 2018 2018-12-27 صوبائی دالحکومت کراچی میں مشکل اور صبر آزما جدوجہد اور
آپریشن کے بعدامن قائم ہوا تھا۔ اس شہر کی روشنیاں اور رونقیں بحال ہوئی تھی کہ
اچانک دہشتگردی نے ایک بار پھر سر ٹھایا ہے۔چھ ہفتوں میں چھ دہشتگردی کے واقعات
ہوئے۔ پہلے...
زرداری اور نواز شریف کی ریٹائر کے
مشورے 24 دسمبر 2018 2018-12-24 خبر پڑھیں مریم نواز نے سوشل میڈیا پر طویل خاموشی
توڑ دی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے گرد جیسے جیسے دائرے تنگ ہو ر ہے ہیں۔ ان اقدام
سے لگتا ہے کہ سابق حکمران دو بڑی جماعتوں کو کھڈے
لائن لگایا جارہا ہے۔ اس کی توضیح یہ بھی...
ڈیرھ سال حکومت کے بعد وزیراعظم عمران خان
نے سندھ میں موجود اپنے سیاسی اتحادیوں ...
سیاست
میںجمع تفریق کے فارمولے
09 دسمبر 2019 2019-12-09
دو سوال ملک کی سیاست کا پیچھا کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے آرمی
چیف کے تقرر کا معاملہ سیاستدانوں یعنی پارلیمنٹ پر چھوڑ
دیا ہے جسے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کرنی ہے۔ دوسرے پارلیمنٹ کی
نوعیت کہ ان ہائوس تبدیلی ہو یا درمیانی مدت کے انتخابات۔سوال
یہ ہے کہ ملک کو درپیش مسائل اور بحران حل کرنے میں موجودہ پارلیمنٹ ناکام رہی ہے
یا موجودہ حکومت؟