Saturday, February 15, 2020

مائنس ون فارمولہ سے آگے


http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/15-02-2020/details.aspx?id=p10_03.jpg

سہیل سانگی  
 میرے دل میرے مسافر
نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد  انہیں نیب میں طلب کر کے تیس سوالات پر مبنی سوالنامہ دے دیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ  حکومتی مشنری ایک بار پھر بلاول بھٹو کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں پروپیگنڈا  مشنری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کہتے ہیں کہ عدالت نے  بلاول بھٹو کو بیگناہ نہیں معصوم کہا تھا،  فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے خلاف کیس نواز لیگ دور کا ہے، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے پانچ پانچ سال حکومت کی اب دوسروں کو بھی برداشت کریں۔ جونئیر پارٹنر ز نے آرمی ایکٹ سے متعلق پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد بہتر سلوک کا مطالبہ کیا، ناراضگی دکھائی  تو انہیں مصروف رکھنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ عجیب بات ہے کہ کراچی سے ایم کیو ایم اور پنجاب سے قاف لیگ مسلسل ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ لیکن وزیراعظم نے جب لاہور اور کراچی کا دورہ کیا تو ان اتحادیوں سے ملاقات تک نہیں کی۔ جیسے اتحادیوں کو منانا یا ساتھ رکھنا  ان کا  مسئلہ نہ ہو۔  اس سے وہ اتحادیوں کو شاید یہ پیغام دے رہے تھے کہ  اتحادی عمراں خان کی وجہ سے نہیں کسی اور مقتدرہ قوت کی وجہ سے ساتھ دے رہے  ہیں۔  نیب کے حالیہ اقدامات سے اتحادیوں کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بہتر سلوک نہیں کای جارہا ہے۔ لہٰذا اتحادی دوست بھی لمبی فرمائشیں نہ کریں۔ 
  لندن میں  شریف برادران کی سرگرمیوں کی بھی خبریں ہیں، جہاں چوہدری نثار علی خان موجود ہیں۔  خواجہ آصف کی جانب سے وزیراعظم نہ بننے کی تردید بھی ہے۔  خود حکمران جماعت اپنے اندرونی بحران  کا شکار ہے۔  پہلے خیبرپختونخوا میں ہلکی پھلکی ”بغاوت“ ہوئی، جسے ’کچل‘ دیا گیا یا نمٹ لیا گیا۔ تام اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ اب جہانگیر ترین کو اتحادیوں  کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی سے علحدہ کردیا گیا ہے۔  چاہے جہانگیر ترین الفاظ میں کچھ بھی کہیں لیکن وہ ناراض لگتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک نیا گروہ  چھا  رہا ہے۔  پارٹی کی اس اندرونی لڑائی کے اثرات بھی ہونے ہیں۔ پنجاب کا معاملہ پورے طور پر حل نہیں ہو سکا،بعض اہم امور سے نمٹنے تک  فی الحال اسے التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔  اسلام آباد  کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں  ایک بو محسوس کی جارہی ہے۔کچھ کھچڑی پک رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اب ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ پیپلزپارٹی مہنگائی کے خلاف تحریک کس حد تک چلا پائے گی، یہ سوال اپنی جگہ پر لیکن آئی ایم ایف سے معاملات نہیں بن رہے ہیں اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھنے والا ہے، جس کی نشاندہی  قومی اسمبلی کی مالیات سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی میں وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ جس میں بتای گیا ہے کہ   ٹیکس کی وصولیاں کم ہوئی ہیں۔  معیشت کی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔  یہ سب سازگار حالات بنتے ہیں کسی تحریک کے لئے۔  لیکن بات صرف  مہنگائی کے خلاف تحریک کی نہیں، بات یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی  بعض سیاسی فیصلوں کے آڑے آرہی ہے۔  جس کی وجہ سے بلاول بھٹو کو طلب کیا جارہا ہے۔ 
بلاول پر براہ راست کرپشن کا الزام، نہیں لیکن گروپ آف کمپنیز پر الزامات ہیں جن کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔ بلاول کو گزشتہ سال  مارچ اور مئی میں نیب نے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ بلاول بی گناہ ہے۔ آج انہی ریمارکس کی حکومت وضاحت کررہی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں  جب بلاول نے  بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑے پیمانے پرمنانے کا اعلان کیا تب بھی نیب نے انہیں  برسی سے تین روز قبل طلب کیا۔ بلاول بھٹو نے نیب کی اس پیشی پر نہ جانے کا  اعلان کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ بلاول کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ کیونکہ انہی دنوں میں نواز لیگ کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کو نیب میں پیشی کے بعد گرفتار کیا جاچکا تھا؎؎؎؎۔لیکن چونکہ تب پیپلزپارٹی سے قانون سازی کے لئے کام لینا تھا لہٰذا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے دھڑلے سے کہا تھا کہ کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائے۔  سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کو بھی گرفتار کرلیا جائے۔ 
نے حالات بتا رہے ہیں کہ مائنس ون فارمولہ نوازشریف اور زرداری تک محدود  نہیں۔ اس میں مریم نواز اور بلاول کو بھی مائنس کرنے کی بات ہوری ہے۔ سینئر قیادت کے بعد بلاول اورمریم نوازپرمشتمل نوجوان قیادت دلیرانہ موقف رکھے ہوئے تھی۔ مریم نے باپ کی جگہ گرفتاری دی ہے تاکہ میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے جاسکیں۔  بقول ایک تجزیہ نگار کے مریم کو نواز شریف کے عوض قید میں رکھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو اسمبلی خواہ لابیوں میں بول رہے ہیں۔ 
پیپلزپارٹی کو قیادت کو اندازہ ہے کہ کسی بھی وقت بلاول بھٹو کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی گرفتاری سے خبردارکیا ہے ان کی گرفتاری سے صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔ اگر حکومت بلاول کو گرفتار کرتی ہے تو پیپلزپارٹی کو ایک بار پھرخاتون قیادت کا چہرہ ملے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت میں قیادت آصفہ بھٹو کریں گی۔  پاکستان کی تاریخ نے بتایا ہے کہ خاتوں رہنما کا چہرہ مقتدرہ حلقوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا بینظیر بھٹو کی صورت میں کر چکی ہے۔ شاید اس صورتحال کو بلاول بھٹو خطرناک کہہ کر خبردار کر رہے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment