Sunday, February 9, 2020

سیاست میں کرپشن کی چِپ




سیاست میں کرپشن کی چِپ

سہیل سانگی ۔ کراچی
Jan 12, 2020 
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کو ڈاکواور چور کے القابات دے کر وہ اِن سب کو جیل میں ڈالنے اورقوم کا پیسہ نکلوانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد نیب  نے اہم اپوزیشن رہنمائوں پر مقدمات بنائے اورانہیں گرفتار کیا۔  لیکن اب صورتحال مختلف ہورہی۔
ضرورت پڑی تو مفاہمت کے راستے نکلے۔ سزا یافتہ نواز شریف کوعلاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف بھی بیرون ملک چلے گئے۔ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپوراور سید خورشید شاہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔

دسمبر کے آخر میں حکومت نیب آرڈیننس میں ترمیم پیش کی۔ جس سے تاجر، سرکاری افسران کے علاوہ سیاستدان بھی مستفید ہونگے۔ 

آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی پوزیشن کے اتفاق رائے اور ایوانوں میں اس کے حق میں ووٹ دینے کےبعد، نیب قانون میں ترمیم اپوزیشن کی مشاورت سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیاستدان قیام پاکستان کے فورا بعد ہی کرپشن کے الزامات کی لپیٹ میں آنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ الزام سیاسی اثر اور حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔

وزیراعلیٰ سندھ محمد ایوب کھڑو نے کراچی کو سندھ سے علحدہ کر مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی مخالفت کی انہیں وزارت سے برطرف کردیا گیا۔ ان کے خلاف اختیارات کے ناجائزاستعمال  وغیرہ کے 62 الزامات عائد کئے گئے۔ ٹائپ رائٹر چوری کے الزام میں اڑھائی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں تین سال کے لئے سیاست میں حصہ لینے سے نااہل قراردیا گیا۔
  
جب مصالحت ہوگئی توایوب کھڑو کو کابینہ میں لے لیا گیا۔ لیکن ایک سال بعد گورنر سندھ نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرکے ان سے استعیفا لے لیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ چند ہی ماہ بعد انہیں نگران وزیراعلیی مقرر کیا گیا۔  اگلے سال پھر ان پردیگر سندھ کے سیاستدانوں کے ساتھ  پروڈا میں مقدمہ دائر کیا گیا۔

وزیراعظم لیاقت علی خان نے پروڈا نافذ کیا جس کا مقصد کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے لئے بتایا گیا۔  یہ قانون اگرچہ 1949 میں بنایا گیا لیکن اس کو نافذالعمل 1947 سے قرار دیا گیا۔ 
ایوب خان  نے حکمرانی کے دو ہتھیاراستعمال کئے۔ اختیارات کا ارتکاز اور مخالفین کو دھونس دینا اوران کو دبائے رکھنا۔

 صدراسکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں ان کے سیکریٹری رہنے والے قدرت اللہ شہاب اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ 'یہ قانون سیاسی عہدیداروں کے سر پر شمشیر برہنہ کی طرح آویزاں ہو گیا۔  کسی بھی مرکزی یا سوبائی وزیر کے خلاف الزام لگا کرنہایت آسانی سے پروڈا کی صلیب پر لٹکایا جاسکتا تھا۔ '
 وہ لکھتے ہیں کہ 'اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قانون ایک سیاسی ہتھیار کی حیثیت سے عالم وجود میں آٰیا اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی ہوا۔ ایوب خان صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی ہی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ان عناصر کو کانٹے کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔ '  

دو سابق وزراء اعظم  ملک فیروز خان نون حسین شہید سہروردی ، تین سابق وزراء اعلیٰ ایوب کھڑو، افتخار محمد ممدوٹ، یوسف اے ہارون اور کئی ایک مرکزی و صوبائی وزراء ایبڈو کی زد میں آئے۔
ایوب خان کا اقتدار میں آنے کے بعد ترجیح یہ تھی کہ ملک میں موجود سیاسی نظام کو تباہ کرے۔  

ایوب خان کے اس اقدام نے ایک پورے سیاسی کلاس کو ختم کردیا۔

 1988 کے بعد جمہوری دورکی حکومتیں بھی اپنے حریفوں کے خلاف کرپشن چِپ استعمال کرتی رہیں۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن کا الزام لگا کربرطرف کیا گیا۔ بعد میں غلام اسحاق خان نے نجی مشیروں کی مدد سے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 20 مقدمات بنائے۔

حسن کمال دیکھئے کہ غلام اسحاق خان نے جب نواز شریف کی حکومت ختم کی تو اسی آصف علی زرداری کو نگراں حکومت میں وزیربنایا۔

بینظیر بھٹو1993 میں دوبارہ وزیراعظم بنیں تو انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر لاہور اسلام آباد موٹر وے اور ییلو کیب اسکیم میں کمیشن لینے سرکاری بینکوں سے قرضہ لینے اور پنجاب میں کوآپریٹیو اسکینڈل کے ذریعے 18 ارب روپے بنانے کا الزام لگایا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف 150 مقدمات دائر کئے گئے۔

نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کیا۔ انہوں نے احتساب آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت احتساب 1985 سے شروع کیا جاسکتا ہے یعنی جب ضیاء الحق نے مارشل لاء اٹھایا تھا۔ ضیاء کے مارشل لاء دور کو مستثنیٰ قراردیا گیا۔
نواز شریف دوسری مرتبہ اقتدار مین آئے توانہوں نے نیا احتساب ایکٹ لاگو کیا اور اپنے دوست سیف الرحمٰن کو چیف احتساب کمشنر مقرر کیا۔ بعد میں  1998 میں احتساب سیل نام تبدیل کر کے احتساب بیورو رکھا گیا۔ اس احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔

نواز شریف کے تین سالہ دور میں عدلیہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی کو  منی لانڈرنگ کے الزام میں پانچ سال قید اور 8۔6 ملین ڈالر جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا۔

پرویز مشرف نے اقتدارمیں آکر نواز شریف دور کے احتساب کے قانون کو بدل ڈالا اور ایک خطرناک احتساب آرڈیننس جاری کیا۔  اس نئے  قانون کے تحت نیب کسی بھی شخص کو گرفتار کے بعد  کورٹ میں پیش کئے بغیر 90 روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے۔

جب پرویز مشرف کو اقتدار کو طول دینے کے لئے سیاسدانوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اکتوبر 2007 میں این آر او جاری کیا۔ جس میں کرپشن، منی لانڈرنگ، خواہ دہشتگردی کے الزامات میں ملوث سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں کو معافی دی۔

 سوئیس اکائونٹس کے معاملے میں پیپلزپارٹی کو ایک وزیراعظم کی قربانی دینی پڑی۔
تیسری بارنواز شریف وزیراعظم بنے تو انہیں بھی سخت دبائو کو سامان کرنا پڑا بالآخر پاناما گیٹ کھلا تو انہیں پہلے نااہل قرار دیا گیا اور بعد میں سزا سنائی گئی۔

ہر پانچ دس سال بعد خاص انتظامات کے تحت چند افراد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتا رہا۔ پھر امید ہو چلتی ہے کہ بلاامتیاز احتساب ہوگا۔ لیکن اگلے دو تین سال میں یہ خواب ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس سے نہ کسی کو سزا ہوتی نہ کرپشن رکتا ہے بلکہ اس سے کسی کی سیاست ہی آگے بڑھتی ہے۔

کرپشن کا قانون اور اس کی روک تھام کا ادارہ ہمیشہ سیاست زدہ رہے ہیں۔ حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ کرپشن کے پروڈا، ایبڈو اور پوڈو ہو یا نیب قانون سیاسی انجینئرنگ کے لئے نافذ کئے گئے۔

پاکستان میں کرپشن اورسیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے لئے سیاست ہوتی ہے۔ دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ کرپشن کے مخالفت کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ دونوں بیانیے گڈمڈ ہوگئے ہیں کہ نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ کرپشن کا خاتمہ ۔ یہ تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کہاں کرپشن ہے؟ کہاں سیاست؟




No comments:

Post a Comment