Feb 7, 2020
سندھ میں نئی پارٹی کس کا متبادل؟
سہیل سانگی
خبر ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سندھ میں ایک نئی سیاسی جماعت بنائی جارہی ہے۔ یہ جماعت سندھ کے رٹائرڈ بیورکریٹس یا ایسے لوگ جو اپنے جوانی کا زمانہ بیرون ملک گزار کر آئے ہیں۔ پارٹی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بڑی بحث شروع ہوگئی۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ سندھ میں ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آخری کوشش دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے موقع پر ہوئی تھی۔ یہ کوشش بھی انہی لوگوں نے کی تھی جو ابھی نئی پارٹی بنانے جارہے ہیں، ان انتخابات میں اس گروپ کے حامی لوگ بطور امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ خیال تھا کہ مقتدرہ حلقے پیپلزپارٹی کو اکموڈٰیٹ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لہٰذا بطور متبادل یہ آئیڈیا پیش کیا گیا کہ ہم خیال لوگ اپنی اپنی حیثیت میں منتخب ہو کر آئیں پھر پارٹی بنائی جائے گی۔
سابق سفارت کار علی مردان راہوجو کی سربراہی میں پچاس افراد پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ علی مردان راہوجوگزشتہ چند سال سے سندھ ویزن کے نام سے ایک سماجی گروپ چلارہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تھر کول ایریا میں مقامی باشندوں کی جو تحریک چل رہی تھی اور ٹھنڈا کرنے میں کول کمپنی کی مدد کی تھی۔ اور فیس بک پر ایک صفحہ بھی بنایا گیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کا اجلاس اگلے ہفتے کراچی میں ہوگا۔ تاہم کمیٹی کے ممبران کی جانب سے سوشل میڈیا کے علاوہ نہ کوئی رابطہ اور نہ مشاورتی مہم چلائی گئی۔
نئی پارٹی سوشل میڈیا کے ذریعے کیڈر تلاش کر رہی ہے۔ جس پر سندھ کے سیاسی اور فکرو نظر حلقوں میں تنقید کی جارہی ہے۔ جبکہ بہت کم لوگوں نے اس خیال کی حمایت کی ہے۔ دانشور اور تجزیہ نگارجامی چانڈیو نے سوشل میڈیٰا پر لکھا کہ سندھ میں اب درمیانہ طبقہ زیادہ بڑا ہوا ہے وہ اپنی قومی اور طبقاتی کردار ادا کرنے کی یقیننا کوشش کرے گا۔ تاریخی اور طبقاتی طور پر درمیانہ طبقہ قومی اور جمہوری سوال کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان دوستوں کو بھی موقعہ دینا چاہئے۔ مجھے ان کے ٹیم کی تشکیل کا طریقہ غیر سیاسی لگ رہا ہے۔ پارٹیوں کا کیڈر ہم خیال ایک جیسے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ایک پروسیس کے ذریعے نکلتا ہے یہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے کیڈر کو کٹھا کر رہے ہیں۔ جس سے بنیادی فکر اور تنظیمی ڈھانچہ درست کھڑا نہیں ہوگا۔ دوستوں کی اولیت مقداری قوت کی طرف زیادہ ہے جبکہ ابتدائی طور پر مقداری طاقت سے زیاہد معایری قوت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ پارٹیوں کی تنظیمی طاقت، معیاری سے عوامیت یا عددی طاقت کی طرف جاتی ہے۔ درمیانہ طبقہ کا اصل امتحان اسی میں ہے کہ وہ وڈیرہ اور سرمایہ دار طبقے کو ضرب کاری لگاتا اور اس کے اتحادی ریاستی طاقت سے کس حد تک مزاحمت کرتا ہے۔ مظلوم طبقات سے کس حد تک جڑتا ہے۔ اس کا اظہار سیاسی کردار اوت تنظیمی ڈھانچے سے ہوگا۔ مزید اندازہ ان کے منشور تنظیمی کلچر اور فکری ڈھانچہ سامنے آنے کے بعد کیا جاسکے گا۔
نصیر میمن کا کہنا ہے کہ انہیں محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کرنا چاہئے کہ اس میں ریٹائرڈ بیروکریٹس ہیں۔ انہیں موقعہ ملنا چاہئے، اگر کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو خود بخود مسترد ہو جائیں گے۔ پارٹی بنانے ولاوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے تھر میں کول کمپنی کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے مقامی لوگوں کی جدوجہد کو سبوٹاج کیا تھا۔ دانشور اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم امر سندھو کا کہنا ہے کہ سندھ کو سوشل میڈیائی سیاست کی ضرورت نہیں۔ وہ پہلے ہی بہت سارے ہیں۔ تھر کے کوئلے کے کاروبار میں ثالثی کراکے انہوں نے ثابت کیا کہ عوام دوست نہیں بلکہ وہ اقتداری طبقوں کے ساتھی ہیں۔
بیوروکریٹس اپنے اچھے دن کرپشن کرتے رہے۔اب ان سے اچھائی کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اچھی حکمرانی یا کرپشن سے صاف حکومت کا خواب لے کر آنے والے اپنی سرکاری ملازمت کے زمانے میں خود بھی کرپشن کرتے رہے اور کرپشن کرنے کے لئے آلہ کار بھی بنتے رہے۔
مختار ملک کا خیال ہے کہ الیکشنی سیاست اور پریشر گروپ میں فرق ہے۔ انتخابات کی سیاست میں انتخابی گر زیادہ کارآمد ہوتے ہیں۔ پرویز ابڑو کا کہنا ہے کہ نئی پارٹی بنانے والوں کیا اکثریت اس فروٹ فروش کی طرح ہے جو اپنا فروٹ دن بھر منافع کے ساتھ فروخت کرتا رہتا ہے اور اصل رقم اور منافع کما لیتا ہے۔ سورج غروب کے وقت باقی بچا کھچا فروٹ یہ کہہ کر نکالنے کی کوشش کرتا ہے کہ ہوگئی شام گر گئے دام۔ اگر وہ اونے پونے یہ فروٹ نہ نکالے تو دوسرے روز یہ مال خراب ہو جائے گا۔ یہ گلا سڑا فروٹ کسی بھی طور پر نئے اور تازہ فروٹ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
سومار کھوسو کا کہنا ہے کہ نئی پارٹی بنانے سے پہلے بعض سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہیں۔ مثلا نئی پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ سندھ کی پرانی پارٹیاں اگر فلاپ ہوئیں تو ان کی وجوہات کیا تھیں؟ کیا اس پارٹی میں جانے پہچانے کرپٹ رٹائرڈ افسران بھی ہونگے؟
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی کوئی جماعت نہیں بن سکی ہے۔ خالق جونیجو، بخشل تھلو، وشنو مل محنت کشوں کے لیڈر ہیں لیکن تاحال یہ لوگ ماس موبلائزیشن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نئی سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں لیکن کچھ وقت کی سرگرمی کے بعد بیٹھ جاتی ہیں۔ اس سے قوم میں مزید مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ سیاست میں دلچسپی رکھنے والے اپنے خیالات یا نظریات کے قریب کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں؟
حیدر بھرگڑی کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں جب جاگیردار پیپلزپارٹی میں منظم شکل میں موجود ہیں یہ فیس بوک کی جماعت جس کی عوام میں جڑیں نہیں مشکل ہے کہ کوئی اس جماعت کو نقصان پہنچا سکے۔ درحقیقت پارٹی کو عوام کی صفوں میں سے ہی ابھرنا چاہئے۔ ظفراللہ بہلیم کہتے ہیں کہ بند کمروں میں عوامی سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ کارپوریٹ کمپنیاں بنتی ہیں۔ عوامی صلاح مشورے کے بغیر پارٹی تو بنائی جاسکتی ہے لیکن ایسی جماعت عوامی جمہوری نہیں ہوگی۔
مجوزہ پارٹی کے بارے میں کئی سوالات ہیں کیا یہ پیپلزپارٹی کا متبادل بننے جارہی ہے یاقو مپرستوں کا متبادل؟ ان ہرد دو صورتوں میں اسے عوامی، اور دانشور سطحوں پر سخت مزامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پارٹی کو مقتدرہ حلقوں میں کتنی قبولیت ملے گی؟
No comments:
Post a Comment