Monday, January 29, 2018

کالا سون: کمزور لوگوں کی مضبوط جدوجہد



Jan 26, 2018
کالا سون: کمزور لوگوں کی مضبوط جدوجہد
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
تھر کول کے خلاف مقامی باشندوں کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیاہے۔ اب تھر کا نوجوان بھی اس تحریک میں شامل ہو گیا ہے۔ اور مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترقی ان سے بالاتر ہے، اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں بلکہ انہیں اپنی زمین، گھروں سے اور روزگار کے وسائل سے محروم کیا جارہا ہے۔ تھر میں کوئلہ کا 9000 سے زائد علاقے پر مشتمل ذخیرہ دنیا کے بڑے ذخائر میں چھٹے نمبر پر ہونے اور ملک کو درپیش توانائی کے بحران کے پیس نظر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ علاقے کی پسماندگی، غربت، جدید تعلیم کی سہولیات کی عدم موجودگی ، مقامی آبادی کے انخلاء اور باہر کی آبادی کی آمد کی وجہ سے اس منصوبے پر روز اول سے شبہ کیا جارہا تھا کہ اس منصوبے میں سے مقامی لوگوں کو کیا ملے گا؟ اس حوالے سے معیشت دانوں، سماجیات کے ماہرین اور دیگر حلقوں میں ایک مضبوط بیانیہ موجود تھا۔ وہ اس بڑے منصوبے میں مقامی آبادی کے لئے منصفانہ حصہ اور ایک موثر مکینزم چاہ رہے تھے۔ اس حوالے سے میڈیا، خواہ دیگر پروگراموں میں تجاویز اور سفارشات تو کبھی مطالبات بھی سامنے آتے رہے۔ لیکن یہ مخالفت عملا کوئی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار نہ کر سکی۔ مزاحمتی تحریک اس وقت سامنے آئی جب تھر میں کوئلے کے بلاک دو کی کھدائی کے دوران سمندر ی پانی کے برابر آلودگی والا پانی نکال کر بتیس کلومٹر دور گوڑانو کے مقام پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کوئلہ تقریبا 900 فت کی گہرائی پر ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لئے پانی کی دو تہوں سے گزرنا ہے۔ آخری تہہ میں بڑے مقدار میں پانی ہے۔ جس کی وجہ سے پورے تھر میں زیر زمین پانی کے ذکائر خشک ہونے اور زرعی اور مویشی پالنے پر مشتمل معیشت کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اتنے بڑے علاقے کی کھدائی اور وہاں آباد لوگوں کی بحالی اور سہولیات کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی متبادل منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔
مقامی باشندوں نے کمپنی کو آگاہ کیا، متعلقہ حکام کو زبانی خواہ تحریری درخواستیں دی۔ لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی۔ بالآخر گوڑانو گاؤں کے باشندوں نے مقامی شہروں اسلام کوٹ، مٹھی اور بعد میں کراچی اورحیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے کے۔ اور علامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا۔ جو تاحال جاری ہے۔ حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ کمپنی خواہ حکومت اس میگا پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو حصہ نہیں دینا چاہتی۔ اگر بعض اقدامات کےئے بھی ہیں تو صرف دکھاوا ہیں اور مقصد صرف پبلسٹی ہے۔ کمپنی اپنی سماجی قبولیت اور جواز حاصل کرنے کے لئے بے چین ہے۔
بلاک ٹو میں کام کرنے والی کمپنی کے لئے دو بڑے چیلینج تھے۔ ایک طرف مقامی آبادی کا احتجاج اور دوسری طرف صوبے پر بھر میں مخالف بیانیہ۔اگرچہ بجلی بنانے کے لئے قائم کی گئی اس کمپنی میں تقریبا 54 فیصد حصہ حکومت سندھ کا ہے۔ لیکن مخالف بیانیے اور احتجاج کی وجہ سے حکومت نے خود آگے آنے کے بجائے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ کمپنی کو ہی سب کام سونپا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اور عملا سرکاری اہلکار اور محکمے اس کمپنی کے ماتحت ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش ننظر کمپنی نے میڈیا اور رائے عامہ کو اپنے حق میں بنانے کے لئے مخصوص کارپوریٹ سیکٹر کی چالاکی دکھائی۔ بعض اچھی ساکھ رکھنے والے افراد کو بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھا۔ گزشتہ روز حیدرآباد میں منعقدہ حیدرآباد ادبی فیسٹیول کو کمپنی نے اسپانسر کیا ۔ اور تین روزہ اس فیسٹیول میں تین سیشن مکمل طور پر اپنے لئے مخصوص کرائے۔ ان تین نشستوں میں صرف کمپنی کی تعریف ،اس کے کارناموں کے لئے مقررین کو بلایا گیا۔ اور وہ بھی سب کے سب کمپنی کے ملازمین تھے۔ اس پر سندھ خاص طور براہ راست متاثر ہونے والے علاقے تھر کے نوجوانوں نے اعتراض کیا۔ جس پر انہیں دھمکایا گیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ نوجوانوں کا موقف یہ تھا کہ چونکہ فیسٹیول ایک عام بحث کا فورم ہے لہٰذا اس میں دوسرا نقط نظر اور بیانیہ بھی آنا چاہئے۔ کمپنی عام بحث کے فورم میں یک طرفہ موقف رکھ کر سندھ کے دانشوروں اور رائے عامہ بنانے والوں کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے اسپانسر کردہ دو سیشن میں سخت احتجاج کیا گیا۔ تھر کا کوئلہ اور خوشحالی کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں اعتراضات کے بعد شرکاء نے بائکاٹ کیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ کمپنی اپنی مشہوری کے لئے اگر کچھ رکنا چاہتیہ ہے اور اپنے ملازمین کے ذریعے صرف اپنا ہی موقف سنانا چاہتی ہے تو پریس کانفرنس کر لے یا کوئی اپنا الگ سے پروگرام منعقد کرلے۔ صوبائی محکمہ ثقافت کے مالی تعاون سے منعقدہ سیشن عوامی بحث کا فورم ہے۔ یہاں ون وے ٹریفک نہیں چل سکتا۔
دنیا بھر میں کارپوریٹ سیکٹر اس طرح کے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کی مالی اعانت اور اسپانسرشپ کرتا ہے۔ اور معاشرے کے ان شعبوں میں اپنا حصہ ڈالتا ہے جس کو ایک مثبت عمل سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ اس بھونڈے طریقے سے سپنے موقف کو آگے بڑھانے اور مخالف رائے کو کچلنے کی بیدردی سے کوشش کی جائے۔ اس کی ذمہ داری اس طرح کے پروگرام کے منتظمین اور خود حصہ لینے والے کارپوریٹ سیکٹر کے ادارے پر بھی آتی ہے۔ یہاں پر کمپنی کے ملازمین نے جس طرح سے اعتراض اور احتجاج کرنے ولاوں کو دھمکایا، ڈریا وہ قابل دید تھا۔ سندھ بھر سے آنے والے شرکاء نے کمپنی کا رویہ دیکھا۔ اندازہ لگایا کہ جب ایک کھلے اور عوامی فورم میں کمپنی اس طرح کا برتاؤ کرتی ہے تو فیلڈ میں عام لوگوں کے ساتھ کیا زیادتی کرتی ہوگی؟اس کے فوری طور پر دو نتائج سامنے آئے۔ ایک یہ کہ کمپنی کی مزید متنازع بنی۔اس کی ساکھ متاثرہوئی۔ دوسرا یہ کہ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ اور اس احتجاج کو مزید عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔
بعض ادبی حلقوں میں یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کوئلہ ادبی صنف ہے؟ جس کو ادبی فیسٹول میں موضوع بحث بنایا جارہا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔منتظمین اگر کوئلہ اور ادب کے تعلق پر کوئی بحث چاہتے تھے تو تھر میں کوئلہ پر بہت مزاحمتی ادب تخلیق ہوا ہے اس کو موضوع بنایا جاسکتا تھا لیکن یہ بات کمپنی کو مناسب نہیں لگتی۔۔ کول کمپنی تھر کے ادب اور ثقافت کے پروگرام کو اسپانسر کرتی۔ اگر کسی طور پر کوئلے کو یہ زیر بحث لانا ضروری تھا، تو مخالف نقطہ نظر بھی سننا ضروری تھا۔
ان نشستوں کو کمپنی کی فرمائش پر ہی ڈیزائن کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے یہ سیشن مکمل طور پر خرید کر لئے گئے تھے۔ ان سیشنز میں اگر مخالف بیانیہ یا غیر جانداررانہ بیانیہ یا نقطہ نظر رکھنے والے مقررین بھی بلائے جاتے تو کیا ہوتا؟ وہ بھی آکر اپنا موقف رکھتے۔ اور بات ہی کرتے، کوئی تلواریں تو نہیں چلاتے؟ مخالف نقطہ نظر نہیں سنا جارہا ہے ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کای جات ہے کہ کمپنی ضد پر ہے، وہ کوئی نقطہ نظر سننا نہیں چاہتی۔ دوئم یہ کہ وہ ایسا اس وجہ سے بھی کر رہی ہے کہ اس کا نقطہ نظر کمزور ہے اور مقامی آبادی ک انقطہ نظر مضبوط ہے۔ ان کی شکایات میں وزن ہے وہ اپنی بات میں حق بجانب ہیں۔

Sohail Sangi
Daily Nai Baat
Thar coal and Hyderabad festival

Thursday, January 25, 2018

سیاست کا میدان جنگ اسلام آباد سے لاہور منتقل

Sohail Sangi
Jan 19, 2018
سیاست کا میدان جنگ اسلام آباد سے لاہور منتقل
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اب سیاست کا میدان جنگ حکمران جماعت کے قلعہ لاہور منتقل ہو گیا ہے۔ طاہرالقادری کی قیادت میں ایک دوسری کی کٹر حریف جماعتوں کو ساتھ بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پہلے نواز شریف کے خلاف مہم چل رہی تھی۔ لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں جسٹس نجفی کی رپورٹ اور گزشتہ ہفتے قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعہ شہباز شریف کو احتجاج کی زد میں لے آیا۔ اس سے پہلے نواز لیگ کے اندر مقامی بااثر مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اندرونی بغاوت کی کوشش کی گئی۔ بعد کے واقعات میں نشانہ شہباز شریف تھے جو آئندہ انتخابات کے بعد نواز لیگ کے وزیراعظم امیدوار ہیں۔ میاں شہباز شریف نے بڑے بھائی کی محاذ آرائی کی حکمت عملی سے خود کو دور رکھ کر خود کو اسٹبلشمنٹ کے پاس قابل قبول بنایا تھا۔ لیکن اب وہ مخالف جماعتوں کا ٹارگٹ ہیں۔ 
احتجاج کی سیاست میں ایک نئے اور پیچیدہ باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ علامہ قادر ی خبط نے اس کے حامیوں اور نواز شریف کے مخالفین کو ایک لپیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ بظاہر ماڈل ٹاؤن واقعہ کے متاثرین کوانصاف دلانے کے نعرے پر جمع ہونے والے اب بات کو ہر جگہ نواز لیگ کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں تو ایسا کر دیا۔

مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا وزن قادری کے پلڑے میں ڈالا۔ جو کہ ملک میں جمہوری عمل کے لئے اچھا شگون نہیں۔ قادری کے اس احتجاج نے ایک تیز مہم کو نیا رخ دے دیا ہے۔بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ غیر جمہوری قوتیں بھی اس نقطے پر جمع ہو گئی ہیں 
لاہور شو ر دراصل پنجاب کے لئے جنگ ہے۔پنجاب کی بڑی جماعت نواز لیگ کو آؤٹ کرنے کے لئے وہ پارٹیاں بھی یکجا ہو گئی ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں۔ مہم کی اٹھان کچھ اس طرح سے کی جارہی ہے کہ جب انتخابی مہم شرو ع ہو یہ معاملہ بہت ہی اونچی سطح پر پہنچ چکا ہو۔ لگتا ہے کہ آئندہ پانچ ماہ پنجاب ہی سیاسی جنگ کا اکھاڑا ہو گا۔ پنجاب میں اقتدار کے حوالے سے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے بڑے اسٹیک ہیں۔ علامہ طاہر القادری انتخابی حوالے سے کسی گنتی میں نہیں آتے، ان کی حیثیت پریشر گروپ کی رہی ہے جو لاہور شہر یا پنجاب کے بعض شہروں میں زندگی معطل اور مفلوج کر سکتی ہے۔ 
لاہور شو نے کئی چیزوں کو واضح کردیا۔ اس شو میں پنڈال بھرا ہوا تھا یا نہیں، لیکن اسٹیج تو بھرا ہوا تھا۔ شو کے اہم باتوں میں شیخ رشید کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعیفا کا اعلان ، امبلی پر لعنت بھیجنا اور پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا تھا۔ شیخ رشید نے بار بار اسمبلی پر لعنت بھیجی اور عمران خان نے بھی لعنت کی حد تک ان کے ساتھ سر ملایا۔ استعیفا دینا ان کا ذاتی یا سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن ایک منتخب ایوان اور ادارے پر لعنت بھیجنا کسی طور پر بھی سیاسی یا جمہوری ا فعل نہیں کہا جاسکتا۔ اسمبلی پر لعنت بھیجنا تیکنکی طور پر بھی منطقی نہیں۔ عمران خان نے شیخ رشید کے اصرار پر کہا کہ وہ اسمبلیوں سے استعیفا کا معاملہ پارٹی میں رکھیں گے۔ اگر عمران خان کی پارٹی استعیفا نہیں دیتی تو کیا وہ لعنتی ہو جائے گی؟ یا جب تک فیصلہ کرے، تب تک ان اراکین کو اس خطاب سے پکارا جاسکتا ہے؟ ساڑھے چار سال اسی پارلیمنٹ کا حصہ بنے رہے۔ عملی طور پر استعیفا کے حق میں کوئی جماعت نہیں۔ پیپلزپارٹی نہ سینیٹ کے انتخابات میں تاخیر چاہتی ہے اور نہ صوبائی اسملبیوں کو وقت سے پہلے تحلیل کرنے کے حق میں ہے۔ خیر پختونخوا سے تحریک انصاف کے ایم این ایز، اور خود صوبائی وزیراعلیٰ بھی استعیفا نہیں چاہتے ۔ 
پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا سیاسی پاور شو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے انصاف دلانا تھا۔ اس احتجاج کا مقصد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ لینا تھا ۔ جلسہ حکومت کے خلاف لائحہ عمل کے اعلان کے بغیر ختم ہوگیا۔ 
تحریک انصاف اور علامہ قادری تحریک چلانا چاہتے ہیں، احتجاج کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی اس حد تک احتجاج کی طرف جائے۔، پیپلز پارٹی پنجاب میں حصہ چاہتی ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ہیں کہ ہم انصاف مانگنے آئے ہیں احتجاج کرنے نہیں۔
آصف زرداری اور عمران خان قادری کے بلاوے پر آئے لیکن ان دونوں پارٹیوں نے اپنے ورکرز اور سپورٹرز کو جلسہ کامیاب کرنے کی ہدایات نہیں دی۔ بندے کٹھے کرنے کا سارا بوجھ طاہر القادری پر ڈال دیا۔یعنی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نہ صرف ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر رہی تھی، بلکہ وہ اپنی طاقت قادری کے حصے میں بھی ڈالنا نہیں چاہ رہی تھی۔ جلسہ میں تقریریں تو اچھی اچھی ہوگئی ہیں لیکن اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔ یہ اختلافات نقطہ نظر کے بھی تھے اور ایک دوسرے کی قیادت کو تسلیم کرنے کے بھی تھے۔ 
پیپلزپارٹی اسلام آباد کی طرح الگ سے لاہور میں جلسے کا پروگرام بنائے رہے ہیں ۔
تحریک انصاف ، پاکستان عوامی تحریک اور شیخ رشید جاتی امراء کی طرف لانگ مارچ کرنے پر سے غور کررہے ہیں ۔لیکن پیپلز پارٹی احتجاج میں فی الحال کے موڈ میں نہیں۔ پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی نہیں توڑتی اور تحریک انصاف خیبر پختونخوا اسمبلی توڑ د یتی ہے تو بھی سینیٹ کے انتخابات ہوجائیں گا۔ بلوچستان میں اسمبلی توڑنے کے حامیوں کو نئی صوبائی حکومت میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ لوگ کیونکر اپنے اقتدار کا دورانیہ جو ویسے بھی پانچ ماہ ہے، اس کو کم کریں گے؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ بلوچستان سے نواز لیگ کو سینیٹ کی کچھ نشستیں کم لیں گی۔ یوں بلوچستان اسمبلی کے توڑنے کا خطرہ بھی فی الحال ٹل گیا ہے۔ پیپلز پارٹی، بی این پی مینگل اگرچہ نواز لیگ کے خلاف ہیں لیکن وہ اس نقطے پر متفق ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات ملتوی نہ ہوں۔ اسمبلیاں ٹوٹنے سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب سینیٹ کے الیکشن روکنے کے بجائے وہاں نواز لیگ کی اکثریت روکنے کے لئے کام ہورہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ضروری نہیں کہ آئندہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اکثریت میں ہو۔
عمران خان اور آصف زرداری ایک ساتھ جلسے میں تو شریک نہیں ہوئے لیکن دونوں رہنما ن لیگ کی حکومت کے خاتمے پر متفق نظر آئے۔ آصف زرادری جب تک کٹینر پر تھے عمران خان وہاں نہیں آئے۔ یعنی آصف زرداری کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کیا ۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو سیشنز ہوئے ۔آصف زرداری نے بھی حکومت کے خلاف اپنے عزائم واضح کیے۔ 
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے کے ساتھ کنٹینر شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ لہٰذا اس بات کا امکان نہیں کہ یہ دونوں جماعتیں باضابطہ طور پر کوئی اتحاد بنا لیں۔ لیکن سیاسی مصلحت کے تحت قادری کے بلائے گئے احتجاج میں ساتھ بیٹھ سکتی ہیں۔ ان کا بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب حکومت کو دباؤ میں رکھا جائے۔ پیپلزپارٹی کا مقصد اس صوبے میں اثر بڑھانا ہے جہاں اس کے پاؤں نکل چکے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو کتنا فائدہ ملتا ہے۔ قادری صرف ایک آلہ کار ہے۔ 
قادری کی حکومت کے خلاف تحریک اور بلوچستان کے واقعات کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس سے غیر منتخب عناصر کو موقعہ دیا کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی پوزیشن کو مزید کمزور کریں۔ جس سے پنجاب حکومت کمزور ہو سکتی ہے ۔ نتیجے میں پارٹی کے اندر دراڑیں گہری ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بلوچستان کی طرح شہباز شریف کے خلاف اسمبلی کے اندر بغاوت کا امکان نہیں لیکن سیاسی طور پر پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر جب انتخابات قریب ہیں۔نواز شریف نے عدلیہ پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔ وہ اسٹبلشمنٹ کو چھیڑ رہا ہے اور اسٹبلشمنٹ کیس بھی قیمت پر ان کو دوبارہ حکومت میں نہیں آنے دے گی۔ اس محاذ آرائی کے پورے جمہوری تسلسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 
اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہو رہی ہیں، اور پارٹی کی اندرونی دراڑیں گہری ہوتی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں نواز شریف کو دیوار کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ احتساب عدالت سے کرپشن کے الزامات میں سزا ان کے سیاسی مستقبل کو سر بمہر کردے گی۔ ایسے میں ان کے بعض کوئی زیادہ آپشنز نہیں۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ نواز شریف ریاست کے دو اہم اور حاوی اداروں کے ساتھ محاذ آرئی میں ہیں۔ ان کی پارٹی مرکز اور ملک کے ایک بڑے صوبے میں اقتدار میں ہے۔ نااہل قرار دیئے جانے کے باوجود وہ حکمران پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایک بڑا بحران ملک کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 
دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کی سزا کے بعد وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے کیا کرتے ہیں؟ مخالف سیاسی جماعتوں، اسٹبلشمنٹ اور حکمران جماعت اس صورتحال میں کیا کرتی ہیں؟ 

Sohail Sangi
Nai Baat Jan 19, 2018

Thursday, January 18, 2018

بلوچستان: سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ

 China cutting of political parties
?Is Balochistan crisis over 

Nai Baat Jan 16, 2018


بلوچستان: سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

بلوچستان میں نواز لیگ کے منحرف اراکین اسمبلی نے کام دکھا دیا۔اپنوں کے ہاتھوں پارٹی کے وزیراعلیٰ کی حکومت ختم ہو گئی۔ اس عمل کو تجزیہ نگار سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ کا نام دے رہے ہے ہیں۔ لیگ ’’ن‘‘ کی جگہ ’’ق‘‘ کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ لیکن یہ حکومت کھڑی ’’ن‘‘ لیگ کے سہارے پر ہی ہے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے 14 وزاء اور 4 مشیروں پر مشتمل 18 رکنی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 11 ، مسلم لیگ ق کا ایک وزیر، تین مشیر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کا ایک ایک وزیر بھی لیا گیا ہے۔ میر سرفراز بگٹی کو ایک مرتبہ پھر داخلہ امور ، جیل خانہ جات اور پی ڈی ایم اے کے محکمے مل گئے۔بلوچستان اسمبلی کے 65 کے ایوان میں مسلم لیگ ن کی تعداد 21 ہے جس میں سے گیارہ اراکین پارٹی سے منحرف ہوکر عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ بنے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایوان میں اپنی تقریر میں کرنے اور عدم اعتماد کی مہم کے دوران ساتھ دینے پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ یہ بھی کہا کہ اب کوئی جمہوریت ڈی ریل نہیں کرسکے گا۔

سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں کبھی بھی کسی پارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ ایسے حالات پیدا کئے جاتے رہے کہ وزیراعلیٰ مستعفی ہوتے رہے ۔

بلوچستان میں رونما ہونے والا حالیہ اچانک سیاسی بحران بظاہر جمہوری عمل کا حصہ نظر آتا ہے ۔لیکن بغور مطالعہ بتاتا ہے کہ اس بحران کے جمہوری اور سیاسی عمل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلوچستان کے مخصوص حالات میں سیاسی اور جمہوری عمل پر بلوچستان کے عوام کا جو اعتماد بحال ہو رہا ہے جس کو جھٹکا پہنچا ہے۔ سردار ثناء اللہ زہری کے مستعفی ہونے اور نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب سے بھی یہ بحران ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ بلوچستان حالیہ اسمبلیوں کی مدت شروع ہونے سے لیکر ملک میں جاری سیاسی اتار چڑھاو کسی گنتی میں ہی نہیں آرہا تھا۔ اچانک اس بحران کے پیدا ہونے سے لگتا ہے کہ بعض قوتیں بلوچستان میں سیاسی استحکام نہیں چاہتی۔ اس بحران کے تین سے زائد پہلو ہیں۔ ایک پہلو ملک کی مجموعی صورتحال سے متعلق ہے، اس کو تجزیہ نگار یوں بیان کرتے ہیں کہ جن حالات میں سابق وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ، وہ غیر معمولی تھے۔ یعنی سینیٹ کے انتخابات۔ تاکہ نواز لیگ سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ کر سکے۔دوسرا پہلو صوبائی سطح کا ہے جہاں پر بیک وقت چار فیکٹر کام کر رہے ہیں۔ یعنی بلوچ بمقابلہ پشتون سیاست اور آبادی، ، بلوچستان میں قبائلی اثر اور متوسط طبقہ تیسرا اراکین اسمبلی کی انفرادی حیثیت۔ چوتھا فیکٹر جے یو آئی اور پختونخوا میپ کا آپس میں ٹکراؤ تھا۔
یہ حالات تاحال تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ کیونکہ سردار ثنائاللہ زہری بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی وجہ سے مستعفی نہیں ہوئے ۔بلکہ اپنی ہی جماعت نواز لیگ کے ارکان کی بغاوت کی وجہ سے انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ نواز لیگ کے ارکان کی بغاوت بھی اچانک سامنے آئی۔ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ سینیٹ میں نواز لیگ کے اراکین پارٹی کے ہی امیدوار کو ووٹ ڈالیں گے؟ یہ نواز لیگ کے لئے دوسرے ایوانوں میں بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
حالیہ تحریک عدم اعتماد اور بعد میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک کو کہنا پڑا کہ اراکین پر ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ دباؤ اس صورت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت بے بس نظر آرہی تھی۔ ان کا کنٹرول اپنے اپنے اراکین اسمبلی پر نہیں چل رہا تھا۔ 2015 ء میں جب نواز لیگ اپنے ہی اسپیکر جان جمالی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھی۔ تب مرکز میں حکمران جماعت اور بلوچستان میں مخلوط حکومت رکھنے والی نواز لیگ کو اپنے ارکان پر کنٹرول حاصل تھا ، جو چند ماہ قبل اچانک ختم ہو گیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد بھی نواز لیگ کے سربراہ محمد نواز شریف کا دفاع کرتے رہتے ہیں لیکن وہ نواز لیگ کے وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کو بچا نہیں سکے۔ ان کی جماعت کے رہنماؤں کے پہلے یہ بیانات آتے رہے کہ بلوچستان حکومت کے خلاف ہونے والی سازش کا جمعیت حصہ نہیں بنے گی۔ کیا نواز لیگ کی طرح مولانا فضل الرحمن بھی اپنی جماعت کے ارکان بلوچستان اسمبلی پر کنٹرول نہیں کر سکے ۔
یہی صورتحال نیشنل پارٹی رہی۔ اس پارٹی کے سربراہ ،وفاقی وزیر اور نواز لیگ کے اتحادی میر حاصل بزنجو بھی یہی کہہ رہے تھے کہ وہ بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ بھی ثناء اللہ زہری کو بچانے میں بے بس نظر آئے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ثناء اللہ زہری کو استعفیٰ کا مشورہ دے دیا۔ آخر ان سب رہنماؤں کا اپنے ارکان بلوچستان اسمبلی پر کنٹرول کیوں نہیں رہا ؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے ۔ اس کا جواب اراکین اسمبلی پر دباؤ کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان سے ملتا ہے۔
بلوچستان میں تبدیلی اس وقت لائی گئی جب سینیٹ کے انتخابات سے صرف تین ماہ کے اور اسمبلیوں کی مدت کا خاتمہ پانچ ماہ کی مدت کے فاصلے پر ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بحران کی وجہ متوقع سینیٹ کے انتخابات ہیں۔۔ موجودہ بلوچستان اسمبلی میں نوازلیگ سینیٹ کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھی۔ اب یہ پوزیشن متاثر ہو گی ۔ اگربلوچستان اسمبلی نہیں رہتی، تو سینیٹ کے انتخابات ممکن ہیں؟ لیکن موجودہ بلوچستان اسمبلی برقرار رہتی ہے تو نواز لیگ کوشش تو کر سکتی ہے کہ وہ بلوچستان سے سینیٹ کی مطلوبہ نشستیں حاصل کرلے ۔ثناء اللہ زہری پر بھی دباؤ تھا کہ وہ اسمبلی توڑ دیں۔ لیکن انہوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت کی بات مانی اور اسمبلی توڑنے سے انکار کردیا تھا۔ اب صوبائی اسمبلی توڑنے کا آپشن پک گیا ہے۔ مسلم لیگ قاف کے ویزراعلیٰ اسمبلی توڑ سکتے ہیں ۔ بعض اراکین اسمبلی کے بیانات شایع ہوئے تھے جس میں انہوں نے بلوچستان اسمبلی توڑنے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔
نواز لیگ اور نیشنل پارٹی کے دس اراکین نے ووٹ نہیں دیا۔ پختوکخوا عوامی ملی پارٹی نے اپنا امیدوار آغا لیاقت میدان میں کھڑا کیا تھا، جنہیں 13 ووٹ ملے ۔ بزنجو کا وہ سیاسی قد نہیں کہ وہ اس حساس اور تضادات کی زد میں آئے ہوئے صوبے میں وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال سکے۔ جان بوجھ کر ایک نئے کھلارٰ کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ کیونکہ کوئی اور رکن اسمبلی یہ گلہ اپنے سر لینا نہیں چاہ رہا تھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو، طاہر محمد اور سرفراز بگٹی ایک عرصے سے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سردار اختر مینگل کے لئے بھی موقعہ تھا کیونکہ نوے کے عشرے میں نواز شریف نے ان کی حکومت کو جانے پر مجبور کیا تھا۔ بلوچستان کی سابق حکومت کی اصل طاقت پختونخو عوامی ملی پارٹی اور اس کے لیڈ محمود خان اچکزئی تھے۔ صوبے میں اسی پارٹی کی چلتی تھی، جس کی وجہ سے حکومت میں شامل اراکین اسمبلی بھی ایک طرف تھے۔
وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جمہوریت کا تسلسل جاری ہے،صوبے میں ہماری پارٹی کی حکومت نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ بلوچستان میں ق لیگ، نواز لیگ، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا اتحاد تھا۔ ایک تضاد یہ بھی تھا کہ جے یو آئی اور پختونخوا عوامی ملی پارٹی وفاق میں نواز لیگ کی اتحادی ہیں لیکن بلوچستان میں ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ن لیگ کی اعلیٰ سطح پر پشتونخوا میپ کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس پر جے یو آئی کو ناراضگی تھی۔نوازلیگ ایک پارٹی کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں یہ پارٹی ایسے افراد پر مشتمل تھے جو ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں، جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت بلوچستان میں اپوزیشن میں تھی۔ بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کو اتحاد کا حصہ بنانے سے انکار کردیا تھا۔ نواز لیگ کے ارکان ثناء اللہ زہری کے استعفے سے پہلے ان پر کرپشن اور غلط ترجیحات کے الزامات لگاتے تھے۔ یہ بھی صورتحال رہی کہ بلوچستان میں ن لیگ کا کوئی منحرف رکن وزیراعظم سے ملنے کیلئے تیار نہیں تھا۔
نئے ویزر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے عام انتخابات میں 554 ووٹ حاصل کئے تھے ۔بلوچستان اسمبلی کے موجودہ ارکان کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں انتخابات کس طرح ہوئے تھے اور وہ کس طرح منتخب ہوئے۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ حقائق سے آنکھیں نہ چرائیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ بلوچستان میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح انتہائی کم رہی ۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔بلوچستان کے لوگوں نے یا تو کسی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالے یا ان کا موجودہ سیاسی اور جمہوری عمل پر اعتماد نہیں ہے۔ بلوچستان ایک عرصے سے سیاسی عمل کے بجائے سیاسی مکینزم سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر سیاسی استحکام پیدا کرنے کے بجائے مکینزم کو ہی ترجیح دی گئی۔ جس میں اسمبلی بھی موجود ہے، منتخب وزیراعلیٰ بھی ہے اور ایسا وزیر اعلیٰ جو کسی بھی وقت فرمائش پر اسمبلی توڑنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔ بلوچستان میں بحران ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل تبدیل ہوئی ہے۔


China cutting of political parties 
Is Balochistan crisis over ?
 Nai Baat Jan 16, 2018



بلوچستان : سیاسی جماعتوں میں چائنہ کٹنگ - - سہیل سانگی





http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/54566/Sohail-Sangi/Balochistan-Siyasi-Jamaton-Main-China-Cutting.aspx

http://www.politics92.com/singlecolumn/54566/Sohail-Sangi/Balochistan-Siyasi-Jamaton-Main-China-Cutting.aspx

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-jan-16-2018-152548

https://www.pakdiscussion.com/baluchistan-siyasi-jamatoun-main-china-cutting-sohail-sangi/

:Also read
http://insightpk.com/urducolumns/nai-baat/sohail-sangi


Tuesday, January 9, 2018

سانحہ مٹھی اور تھر میں نئے چیلینج


Sohail Sangi
 Nai Baat Jan 9, 2017
سانحہ مٹھی اور تھر میں نئے چیلینج
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
صحرائے تھر کے ضلع ہیڈکوارٹر مٹھی میں گزشتہ ہفتہ ڈکیتی کے دوران دو تاجر بھائیوں کے بیہمانہ قتل سے پورے علاقے میں صدمے اور خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا میں بڑے ذخائر رکھنے والا علاقہ گزشتہ بیس پچیس سال سے مسلسل ہر دو سال بعد مون سون کی بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی زد میں رہتا ہے۔بڑی ہندو آبادی رکھنے والے پر امن تھر میں صدیوں سے جرم تقریبا زیر و رہاہے۔یہاں پر شہر کے اندر ہتھیاروں کے استعمال نے پورے تھر ہی نہیں بلکہ صوبے بھر میں دہشت پھیلا دی ہے۔ واقعہ بظاہر دو افراد کا قتل ہے۔ دو انسانی جانیں بڑی بیش بہا ہوتی ہیں۔ لیکن جب کسی واقعہ کا پس منظر بڑا ہو اور اس کے اثرات بھی دور رس اور گہرے ہوں، ایسے میں خوف کے سائے اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔و تھر پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ناکافی مسجھا جارہا ہے۔اقعہ کے خلاف مٹھی شہر تین روز سے بند ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔
پولیس تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری اہم نکات ہیں۔ لیکن اس واقعہ کے بعض اہم امور کی نشاندہی کی ہے۔ ہو ہیں تھر کے حالات اور اس پسماندہ، قحط زدہ اور غریب علاقے میں، جو کوئلہ نکلنے باجود بھی غریب ہے، یہاں رونما ہونے والی ہر قسم کی تبدیلیاں اور اس کی طرف معاشرے اور حکومت کا رویہ ۔ 
تھر میں اب بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی معاشی، سیاسی سماجی اور ثقافتی حوالے سے تو ہے ہی، لیکن سماجی رشتے ناطے بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ کئی صدیوں سے معیشت میں بارٹر سسٹم رائج رہا۔ جو ماضی قریب تک بھی جاری رہا۔ یہاں کے لوگ سال بھر سمان میں آنکھیں ڈال کر بارش کا انتظار کرنے والے رہے ہیں۔ صبر، شکر اور انتظار میں خوش رہنے والے اپنے تئیں خود کفیل سمجھتے رہے۔ بیس سال پہلے ایک سابق ڈپٹی کمشنر نے بات چیت کے دوران مجھے بتایاتھا کہ تھر میں حکومت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس خود کفیل اور اپنے طور پر خوش رہنے والے یونٹ میں مداخلت ہے۔ جو ان کے معاملات میں غلط طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ضرورت صرف قحط کے وقت ہی پڑتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر چونکہ ایک شریف آدمی تھے ان کی خلوص نیت اور سوچ پر شک نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر تیس پینتیس سال تک یہاں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا تھا۔ نہ روڈ، نہ تعلیم و صحت کی سہولیات، ان معیشت اور پیداواری ذرائع۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ نے کچھ تبدیل کیا۔ لیکن تھر کی معیشت اور سماج نے اس لہر کو بھی ایڈجسٹ کر لیا۔ ستر کے عشرے کے دوران بھی حالت یہ تھی کہ قحط ہو یا تھر بارشوں سے خوشحال ہو، صوبے کے بیراج علاقہ سے تھر میں گندم لے جانے پر پابندی تھی۔ہزاروں کلومیٹر میں پھیلے ہوئے تھر میں پہلی سڑک 1985 کے بعد بنی۔
کوئلہ دریافت ہوا، تو حکومت اور حکومتی اداروں کا تھر کے بارے میں رویہ تبدیل ہوا۔ کیونکہ یہ تو کالاسون تھا۔ ان حکومتی اداروں کے نقشے میں تھر نظر آنے لگا۔ سڑکیں تعمیر ہوئی۔ غیر ملکی کمپنیاں، دیسی بدیسی لوگ، اور ملک کے بالئی علاقوں سے آبادی یہاں آنے لگی۔ کچھ کاروبار شروع ہوئے۔ اور آئندہ وقت میں مزید سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع نکلنے کی امید پیدا ہوئی۔ کوئلے اور اس سے متعلق کام میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہونے لگی۔ جن لوگوں کو پانچ کلو گندم لے جانے کی اجازت نہیں تھے ان کے نام پر پانی صاف کرنے کے آر او پلانٹ لگائے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ پلانٹ لگانے میں بھیدھندہ اور پیسہ براہ راست اور بلواسطہ کمانا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا، تھر اور تھر کے لوگوں کے نام پر۔ ہر سطح پر مخلتف تجربے اور سرگرمیاں ہوئیں۔ یہاں کے اہل فکر نظر لوگوں نے اسی وقت کہا تھا کہ ’’ برائے مہربانی تھر کو کاروباری نظروں سے نہ دیکھو‘‘۔ یوں بارٹر سسٹم کی معیشت میں اچانک اور بڑی تیزی کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر نے پیر جما لئے۔اور بارٹر سسٹم کی جگہ آذاد معیشت آگئی۔ بارٹر معیشت میں ایک دوسرے پر انحصار اور آپس کے سماجی رشتے ایک اہم اصول ہوتے ہیں۔ اس میں ایک دوسرے کی خبر گیری، اور خیال رکھنا لازم ہوتا ہے۔ احساس اور جذبے ایک اصول اور فریم ورک کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ یوں مذہبی، جنس، نسل اور فرقے کے بلامتیاز ایک سماجی توازن اور ہم آہنگی ہوتی ہے۔ آذاد معیشت نے پیداوار اور خدمات کی نوعیت اور طریقے تبدیل کردیئے۔ ایسے میں پرانے رشتے اور رابطے برقرار نہیں رہ سکتے۔ اس بدلتی ہوئی معیشت نے نئے طبقات، نئے اسٹیک ہولڈرز، نئے پاور بروکرز، بھی پیدا کئے ۔ یہ نئے طبقات اور اس مین مفادات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے اتحادی بھی تھے اور ایک دوسرے کا مقابلہ بھی کر رہے تھے۔ جب کہ پرانے رشتوں کا سمجا بھی مزحمت کر رہا تھا۔ اس تمام صورتحال کے لئے تھر کے لوگ نہ تیار تھے اور نہ ان کیصلاحیت تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ حکومت نے اس ضمن میں تھر کے لوگوں کی کوئی صلکاھیت نہیں بڑھائی اور نہ ان کی مدد کی۔ ایک اہم پہلو بارہ کا پیسہ باہر کے لوگ، اور باہر کا اثر رسوخ تھا۔ جس میں مقای لوگ ہر سطح پر مائنس تھا، نیتجے میں ان حالات کواہ اس دئنامکس کو سمجھنے اور ا میں زندہ رہنا آسان کام نہیں رہا۔ حکمرانوں کی نااہلی رہی کہ انہیں نہ اس بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے اثرات کا ادراک تھا اور نہ ہی اس کو سمجھنے اور حل کے لئے کوئی تحقیق کر کے راہ نکالیس گئی۔ حکومت کو یہ آسان لگا کہ حکمرانی اور انتظام کاری انگریزوں والی ہی رکھی جائے۔ باقی کوئلہ اور اس سے متعلق کاروبار کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کردیئے جائیں۔ عجب قصہ ہے کہ اس تمام معاملے میں حکومت مقامی لوگوں اور ان کے مفادات کے ساتھ کھڑیا ہونے کے بجائے کارپوریٹ سیکٹر اور دھندہ کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ اس کی چھوٹی مچالیں یون دی جا سکتی ہیں کہ دوسرے علاقوں کے لوگ یہاں پر لوگوں کو قرضہ پر مختلف اشیاء دے کر ان کے وسائل اور اثر رسوخ پر حاوی ہورہے ہیں۔ بڑی مثال کولے کی کمپنی کے طریقہ کار اور گوڑانو ڈیم کی ہے۔ ایکسال تک اسلام کوٹ میں جاری احتجاج کی سننے کے لئے بھی کوئی ذمہ دار نہیں پہنچا۔ جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ چاہے کچھ بھی ہو ، لوگوں کی نہیں سنی جائے گی۔ لوگوں میں بے بسی اور بیگانگی کا احساس جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ دوسری طرف معاشی خواہ سماجی و سیاسی حولاے سے جارحیت کرنے والوں کا بھی حوصلہ بڑھا۔ 
تھر کی سماجیات او رمعیشت کو مسلسل قحط سالی نے بھی تبدیل کیا۔ پہلے قحط پڑتے تھے تو لوگ صرف ایک موسم گزارنے کے لئے پانے بال بچوں اور مال مویشی کے ساتھ نقل مکانی کرتے تھے۔ سندھ کے بیراج علاقے میں جاکر محنتمزدوری کرتے تھے۔ قحط سالی کے مسلسل آنے کی وجہ سے گزشتہ تیس سال سے سورتحال بدلنا شروع ہوئی۔ اب کوشش کر کے ہر خاندان کا ایک فرد صوبے کے شہروں میں جاکر محنت مزدوری کرتا ہے۔تاکہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے متبادل ذرائع آمدنی موجود ہو۔ اس مظہر سے بھی تھر میں تبدیلی آئی۔ اور لوگوں کو آزاد معیشت کی طرف دھکیلا۔
اس صحرا میں امن و مان کی حکومتی سطح پر انتظام کاری بھی دلچسپ ہے۔ 21 ہزار مربع کلومیٹر پر پھلے ہوئے 24 سو گاؤں کے لئے 13 پولیس تھانے ہیں۔ یہ تعدا بھی اب بڑھائی گئی ہے، ورنہ پہلے ساتھ تھانے ہوا کرتے تھے۔ یعنی ایک تھانے کی حدود1600 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ جہاں پر ایک روایتی ’’ کاکا سپاہی‘‘ بیٹھا ہے۔ جس کو تیزی سے بلتی ہوئی صورتحالل کا علم ہے اور نہ ہی سوچ اور تربیت۔ اس کو یہ بھی پتہ نہیں کہ غیر ملکیوں کا پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟ ان کی حفاظت اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھنا کیسے رکھی جائے؟ کونسے گروپ کس مقصد کے لئے اور کس طرح سرگرم ہیں؟ ہر وہ شخص جو مقامی یا سندھی نہیں بولتا اس کے نزدیک وہ بڑا صاحب اور بڑا آدمی ہے۔ محکمہ پولیس کی صرف مثال دی ہے، یہ صورتحال تمام محکموں میں ہے۔ لہٰذا حکومت اور حکومتی ادارے ایک طرف کھڑے ہیں اور مقامی لوگ دوسری طرف۔ 
مقامی لوگ تربیت، تجربے ، معلومات اور سہولت نہ ہونے کی وجہ سے معیشت میں بڑی تیزی سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں کرسکے ہیں اور مواقع بھی کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔ پہلے تھر میں ٹرانسپورٹ ’’ کھیکھڑے‘‘ تھے۔ جو مقامی لوگ چلاتے تھے جن کے مقامی سطح پر کاروبار بھی ہوا کرتے تھے۔ اب بڑی ٹرانسپورٹ میں بار کے لوگ آگئے ہیں۔ یہی صورتحال فکری اور سیاسی صورتحال کی ہے۔ تھر میں عملی طرح کسی سیاسی پارٹی کا بور پارٹی وجود نہیں۔ پیپلزپارٹی کی دعوا بھی دو چار درجن جیالوں سے زیادہ نہیں۔ ورنہ چھوٹے خواہ بڑے گروپ ہیں جو آپس میں اتحاد کرتے ہیں یا ٹکراے ہیں۔ ٹھوس سیاسی ھوالے سے فکری یا نظریاتی طور پر بنیادیں نہیں۔ یہ فکری خلاء بھی باہر کی قوتیں آکر بھر رہی ہیں۔ جن کے اثرات آئندہ وقت میں نمودار ہونگے۔ 
ان بدلتے ہوئے حالات میں تھر کے اپنے تضادات اپنی جگہ پر، خطے اور عالمی تضادات کا ایک پہلوء بھی موجود ہے۔ جس سے تضادات اور واقعات کی نوعیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ تھر کے کوئلے کو سی پیک میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد اس تضاد کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ 
مٹھی کے اس سانحہ کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مٹھی اس صھرا کا ضلع ہیڈ کوارٹر ہے۔ مٹھی کی صوبائی اسمبلی کی نشست ملک کی واحد نشست ہے جہاں اقلیت اکثریت میں ہے۔ سیاسی طرح ملک کی اقلیت کی بہت بڑی آبادی یہاں رہتی ہے۔یوں اس علاقے کی حساسیت میں اور بھی اضافہ وہ جاتا ہے۔ تھر جہاں اسلح کی نمائش یا استعمال کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ چند سال قبل عمرکوٹ میں اس طرح کے دو واقعات ہوئے تھے۔ جن کو بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا جا سکا۔ اب مٹھی رونما ہونے والے واقعہ نے خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ اس مشکل صورتحال میں ایک مثبت اور مضبوط امر بھی سامنے آیا ہے۔ قتل کی واردات کے خلاف جب مٹھی شہر میں دھرنا دیا گیا تو اس میں لوگ بلا امتیاز کیس مذہب، نسل، فرقے اور سیاسی وابستگی کے لوگ شریک ہوئے ۔ اور متاثرہ آبادی کو اکلیلے نہ ہونے کا احساس دلایا۔ لوگوں میں موجود خوف کو حکومت ملزمان کی گرفتاری۔، مقامی آبادی کے ساتھ کھڑا ہونے اور بعض عملی اقدامات کے ذریعے کر سکتی ہے۔ تھر میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو صوبے بھر سے ہزاروں لوگ اس عجب علاقہ کا نظارہ کرنے اور لطف اندوز ہونے کے لئے پنچتے ہیں۔ گزشتہ سال سیر تفریح کے لئے تھر جانے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ لہٰذا تھر تو سب کا ہے اض جب یہ علاقہ ایک صدمے سے دوچار ہے ایسے میں ان لوگوں کی بھی ذمہ د اری ہے متاثرہ لوگوں کو تسلی دیں۔ حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تھر کے بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے اور اس میں اپنی جگہ بنانے کے لئے تربیت، سہولیات اور مدد دے شراکت کا احساس پیدا کرے۔ دنیا میں ایک اصول اب مانا جاچکا ہے کہ وہی ترقی اصل ترقی ہوتی ہے اور اچھی گورننس ہوتی ہے جس میں لوگوں ی شرکت ہو۔


http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-jan-9-2018-151629 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/54269/Sohail-Sangi/Saniha-Mutthi-Aur-Thar-Main-Naye-Challenges.aspx 

Friday, January 5, 2018

بلوچستان جمہوریت کی کمزور کڑی

Nai Baat Jan 5, 2018
Sohail Sangi 


بلوچستان جمہوریت کی کمزور کڑی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملکی صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رہی ہیں۔ ایک تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات معاملات کو کسی فیصلہ کن موڑ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ شریف برادران کا معنی خیز دورہ سعودی عرب ،جماعۃ دعوہ کے خلاف کارروئی، امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو طعنے اور مزید امداد روکنے کی دھمکی کے معاملات چل ہی رہے تھے کہ اچانک مخلوط بلوچستان حکومت کی تین اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان کیخلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔
نواز لیگ کے صدر اور سبکدوش وزیراعظم کی دورہ سعودی عرب سے واپسی پر منعقدہ پریس کانفرنس دورے کی پر اسراریت کو ختم نہیں کر سکی ہے۔ انہوں ایک طرف امریکی دھمکی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان امریکی امدا کا محتاج نہیں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ملکی معاملات پر نواز شریف کا لہجہ نہیں بدلا ہے۔ نواز شریف نے ایک بار پھر سازش کی بات کی اور کہا کہ اگر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا ختم نہیں کیا گیا تو گزشتہ چار سال کے دوران ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کردیں۔ اگر پردے کے پیچھے کارروائیاں نہیں رکیں تو وہ سب کچھ بتا دیں گے کہ گزشتہ 4 برسوں سے ملک میں کیا کچھ ہوتا رہا۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے ردعمل کو خوش آئند قرار دیدیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم جن سازشوں کی بات کر رہے ہیں، وہ سامنے لائیں۔
ابھی شریف برادران سعودیہ میں ہی تھے کی بلوچستان حکومت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی تھی۔اس تحرک کو تجزیہ نگار ان کے دورہ سعودی عرب کا توڑ قرار دے رہے ہیں۔
2013 کے انتخابات کے بعد دو بڑی جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ جس کی روء سے پہلے ڈھائی سال بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے ۔ باقی دھائی سال بعد نواز لیگ کے حصے کے ہیں جس پر سردار ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ ہیں۔ دو صوبائی وزیر ایک وزیراعلیٰ کے مشیر استعیفا دے چکے ہیں۔ سب سے اہم استعیفیٰ وزیتر داخلا سرفراز بگٹی کا ہے جو عملی طور پر وزیر داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کے ترجمان بھی تھے ۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام کارروایوں اور آپریشنز کی وضاحتیں دینے والے متحرک وزیر تھے۔ کوئٹہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ان کی عسکری قوتوں کے ساتھ قربت کا ذکر عام رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کی تین اتحادی جماعتوں نے وزیراعلی بلوچستان کیخلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔تحریک 14ارکان نے جمع کرائی۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ خان زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کوہرصورت میں ناکام بنانے کا ارادہ کیا ہے اچکزئی کی جماعت اور ا ن کا خاندان موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ فوائد ھاصؒ کرنے ولاے سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’نواز شریف اور پارٹی قیادت، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین اور جمہوریت کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ غیر جمہوری قوتوں کاساتھ دے رہے ہیں انکو مشورہ ہے کہ وہ غیر جمہوری ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔ وہ اس طرف بھی اشارہ رکتے ہیں کہ اسلام آباد میں بھی کینیڈا والے صاحب اور کچھ اور لوگ جمع ہوگئے ہیں کہ اب جمہوری نظام کو نہیں چلنے دیا جائے گا مگر ہم جمہوریت کیساتھ ہیں۔ اچکزئی کے نزدیک نواز شریف اور مریم نواز جمہوریت کا جس طرح دفاع کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ عجیب بات ہے کہ بلوچستان میں سیاسی زلزلے کے آثار ظاہر ہونے کے بعد بھی نواز لیگ یہاں کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہی۔ یوں سمجھیئے کہ اس کام کاٹھیکہ محمود خان اچکزئی کو دیا ہوا ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شیپنگ میر حاصل خان بزنجو نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا۔لیکن انکی پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی پارٹی کی لائن کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔ حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات روکنے کے لئے بلوچستان کو لانچنگ پیڈ بنایا جارہا ہے۔
سینیٹ میں نواز لیگ کی کامیابی اور اسکے طاقت میں اضافے کو روکنے کیکوششیں ہورہی تھی۔ ایسے میں بعض استعیفے اور تحریک عدم اعتماد کی تحریک سامنے آ گئی ہے۔ بلوچستان موجودہ نظام میں سب سے کمزور کڑی ہے۔ جس کو بڑی آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔ یہاں کی مخصوص لسانی، جغرافیائی اور علاقائی حقائق کے پیش نظر بلوچستان میں قائم ہونے والی حکومتیں ہمیشہ کمزور رہی ہیں اور انہیں اسلام آباد کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ ستر کے عشرے میں سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کے بعد بننے والی حکومتیں کمزور رہی ہیں۔ لہذا نہیں اسلام آباد اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتا رہا ہے۔ بعض دفعہ تو بلوچستان کی حیثیت سیاسی طور پر فاٹا سے مشاہبہ رہی۔
یہ درست ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کل 52 میں سے نواز لیگ کی بظاہر 21 نشستیں ہیں۔ پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے پاس 14 اور نیشنل پارٹی کے پاس 11 نشستیں ہیں۔ سرزمین پربلوچستان میں نواز لیگ کی نہ تنظیم سازی ہے اور نہ ہی عوامی حمایت ۔ لیکن اسلام آباد میں حکومت ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں بھی موجود ہے۔ خبریں ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان زہری کو اسمبلی ٹوڑنے کا پیغام ملا ہے ۔ لیکن انہیں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔ اب زہری کے بجائے کسی اور لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو اسمبلی توڑ سکے۔
سعودیہ سے واپسی کے بعد ان کے رویہ میں بظاہر کوئی لچک محسوس نہیں ہوتی ۔بلوچستان میں ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان جھگڑا ختم نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو دہرایا ہے کہ خارجہ پالیسی پر ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی حب الوطنی پر ہمیشہ سے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں’’ ہمیں ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے، اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو یہ بہت بڑی خود فریبی ہوگی کیونکہ ایسی ہی خود فریبیوں کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا تھا۔‘‘ وہ اس موقعہ پر اسٹبلشمنٹ کو خود احتسابی یاد التے ہیں۔میاں صاحب نے ایک اور خطرے کی طرف بھی نشاندہی کی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں انجنیئرنگ ہوگی۔وہ کہتے ہیں کہ ملک کے وجود میں آنے کے 25 سال بعد پہلے انتخابات ہوئے جنہیں تسلیم نہیں کیا گیا اور ملک دولخت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں انتخابات کے نتائج کو قبول نہیں کیا گیا۔
کسی اور صوبے کی اسمبلی کو توڑنا انا آسان نہیں، اس میں کئی ’’اگر مگر‘‘ ، ’’ چونکہ‘‘، ’’چنانچہ‘‘ ہیں۔ لیکن بلوچستان کی زمین پتھریلی سہی، مگر اس سیاسی مقصد کے لئے نرم ہے۔ موسم کے حوالے سے ابھی بھلی یہاں برف باری ہو رہی ہے لیکن سیاسی موسم درست لگ رہا ہے جہاں یہ سیاسی کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔اگر 9 جنوری کو ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام بھی ہو جاتی ہے، بلوچستان حکومت اور اسمبلی میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہے گا۔ ۔ تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے رواں ماہ میں ہی اس کو گھر بھیج دیا جائے گا۔ بلوچستان اسمبلی کا زلزلہ پھر صرف کوئٹہ تک نہیں رکے گا۔ لگتا ہے کہ بلوچستان کے قلعہ پر محاصرہ تنگ کردیا گیا ہے۔ اور بلوچستان اسمبلی کے ذریعے سسٹم کو لپیٹا جارہا ہے۔
Balochistan: Weak ring of democracy
Nai Baat Jan 5, 2018

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-jan-5-2018-151183

Tuesday, January 2, 2018

این آر او یا ڈیل کیوں


این آر او یا ڈیل کیوں
ملکی سیاست میں ڈرامائی اور تکیلف دہ صورتحال 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
انتخابات ہوں یا نہ ہوں، نیا سال لگتا ہے کہ ملکی سیاست میں ڈرامائی اور تکیلف دہ ثابت ہوگا۔ غیر یقینی کے بادل چھٹ نہیں پائے ہیں۔ خطے میں مشکلاتیں بڑھ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی سعودی عرب سے واپسی کے بعد پارٹی کی حکمت عملی واضح ہو جائے گی۔ حکمراں جماعت کو سر دست ایوان بالا سینیٹ کے باون نئے ارکان چنے جائیں گے، نواز لیگ کو امیدواروں کی فہرست مرتب کرنے کے ایک مشکل مرحلے سے گزرنا ہے۔ 

قادری فارمولا 
یہ درست ہے کہ لاہور میں ہفتے کے روز منعقدہ پاکستان عوامی تحریک کی کل جماعتی کانفرنس نتائج خیز ظابت نہیں ہوئی ۔کیونکہ میزبانوں کا خیال تھا کہ کانفرنس میں شریک جماعتیں پارلیمنٹ سے اپنے استعفوں کا اعلان کانفرنس میں ہی کردیں گی۔ لیکن اس میں بڑی جماعتوں کے سربراہوں نے غیرحاضری نے کانفرنس اور اس کے فیصلوں کا درجہ کم کردیا۔ یہ جماعتیں شاید علامہ قادری کو خود سے بڑا لیڈر تسلیم کرنے یا بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کانفرنس میں ہونے والی بحث مفروضوں پر مبنی ہوگئی کیونکہ سبکدوش وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نجاب کے دورہ سعودی عرب نے یکسر صورتحال کو تبدیل کر دیا تھا۔ دعوت دیتے وقت یہ طے تھا کہ کانفرنس ایک نکاتی ایجنڈے یعنی ماڈل ٹاؤن کے واقعہ تک محدود رہے گی ۔تاہم میزبان طاہرالقادری نے اس کا دائرہ وسیع کرنے پر اصرار کیا اس میں ختم نبوت کا معاملہ بھی ڈال دیا گیا۔اس پر طرہ یہ کہ ایم کیو ایم نے بائکاٹ کیا۔ 
ایک نئے این آر او اور نئے سیاسی مصالحت کی بات فضا میں بازگشت ہے۔ نواز لیگ کی وضاحتوں اور تردید کے باوجود نواز شریف اور شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مائنس نواز شریف کی ڈیل ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف نہیں مان رہے ہیں۔ اور یہ کہ ڈیل کے لئے ضامن تلاش کیا جارہا ہے۔ 
آج پھر ایک نئے این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن اس بار این آر او آمرانہ قوتوں کو ہٹانے کیلئے نہیں بلکہ تین بار منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مزاحمت چھوڑنے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔
ایک ڈیل اور این آر او بینظیر بھٹو نے کیا تھا۔ محترمہ کی اس ڈیل نے میاں نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار کیا اور بات بعد میں جنرل مشرف کو رخصت کرنے تک جا پہنچی۔ یعنی نواز لیگ آن بورڈ تھی۔ حالیہ کیونکہ مواخذہ کی کارروائی سے بچنے کیلئے انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ این آر او سے انتخابات اور جمہوری عبور ممکن ہوئے۔ آصف علی زرداری نے نواز شریف کو ساتھ ملا کر مشرف کو چلتا کیا۔میاں صاحب ساتھ دینے کو تیار تھے مگر کابینہ میں شمولیت کے لئے تیار نہ تھے۔ حالیہ ڈیل میں پیپلزپارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت شامل نہیں۔ بلکہ نواز شریف کو آؤٹ کرنے کے لئے کی ڈیل بن رہی ہے ۔
ڈیل کے بعد کا منطر نامہ
ڈیل کے بعد کا منطر نامہ کیا ہو گا؟ اس کے ممکنہ آپشن یہ ہو سکتے ہیں۔ ستعیفا تھراپی اور دیگر اندرونی دباؤ کے بعد یہ مفروضہ پکایا گیا ہے اراکین اسمبلی یا استعیفا دیں گے یا عمران خان کا ساتھ دیں گے۔ اگر جنوری میں یا سینیٹ کے انتخابات کے موقع پرفارورڈ بلاک کے 30لوگ تحریک انصاف کیساتھ نہیں دیتے تو پھر کیا ہوگا؟ اپوزیشن میں آنے کے بعدپیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ رول ادا کرتی رہی، مگر اب وہ مکمل طور پر پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کر رہے ہیں۔ پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ معلق پارلیمان آنے والی ہے ۔ اس میں ان کی جماعت کا کردار اہم ہو جائے گا اور یوں انہیں وفاق کے اقتدار میں بھی شیئر مل سکتا ہے۔اس کے علاقہ سندھ کو محفوظ رکھنا بھی اس کا مقصد ہے۔ 
2007 میں سویلین حکومت کے دوران پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان قربت کی وجہ سے جمہوری عمل میں تسلسل رہا۔ لیکن گزشتہ پانچ سال کے دوران سیاسی ایکٹرز تبدیل ہو چکے ہیں ۔ 
پنجاب میں آخری معرکہ
پنجاب میں سیاسی حوالے جو موقف اختیار کئے جارہے ہیں ان کے مطابق نواز لیگ کو صرف تحریک انصاف کا ہی نہیں بلکہ قاف لیگ کا بھی سامنا ہے جو نواز لیگ سے امکانی طور پر علحدگی اختیار رکنے والوں کے لئے پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ نواز لیگ کا پورا زور الیکشن کی طرف جانے میں ہے۔ قاف لیگ چاہتی ہے کہ طویل مدت کی نگراں حکموت بنے۔ کیونکہ موجود سیاسی منظر میں انتخابات کی صورت میں نواز لیگ کو ہرانا نہ عمران خان کے بس کی بات ہے اور نہ پیپلزپارٹی اور قاف لیگ کی۔ طویل مدت کی نگراں حکومت کا مطلب بظاہر ٹیکنوکریٹس کی حکومت ہوگا، لیکن اس کے ذمے یہ کام بھی ہوگا کا نئے پاور بروکرز پیدا کرے۔ نئی قیادت لائے گی اور ملک میں ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھے ۔ نواز لیگ شاید قاف لیگ کے امیدواروں کو برداشت کر لے لیکن اس سے عمران خان کے امیدوار جیتیں یہ برداشت نہیں ہوگا۔ قاف لیگ کا یہ معاملہ ہے کہ وہ بعض انتخابی حلقوں میں مقامات پر عمران خان کی جانب سے حمایت کی متمنی ہے۔ لیکن عمران خان اس کے لئے تیار نہیں۔ 
کئی اجزاء اور کھلارٰ حرکت میں ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ اسٹبلشمنٹ نواز شریف یا ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سیاست میں نہیں چاہتے۔ گزشتہ پانچ ماہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ نواز شریف جتنا واپس سسٹم میں آنے کی کوشش کی ، اتنی ہی مزاحمت ہوئی۔ کوئی ایسا راستہ جو بغیرانتخابات کے یا براہ راست ٹیک اوور کے ہو۔ جس میں نواز شریف آف ہوں۔ لیکن کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف خاموش رہ گا؟ زیادہ تر اس پر منحصر ہے کہ نواز شریف کیا راستہ اختیار کرتا ہے؟ نواز شریف کو زبردستی انتخابی عمل سے آؤٹ کرنا معاملے کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔ لیکن نواز شریف پیچھے ہٹ جائیں اس کے بھی امکانات نہیں۔ایسے میں سمجھوتہ کیوں ہو؟ دراصل نواز شریف اور مریم نواز کو مقابلے کے لئے یکساں میدان چاہئے۔ صرف یہی ان کی ضرورت اور ترجیح ہو سکتی ہے۔ 
ضمانت کار کیوں چاہئے؟
این آر او پر عمل درآمد کو کیسے یقنی بنایا جائے؟ یہ بڑا سوال ہے۔ اس کے لئے کوئی بیرونی ضمانت کار چاہئے تاکہ فریقین کئے گئے فیصلے پر قائم رہیں گے۔ اگر نواز شریف آئندہ انتخابات سے باہر رھنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور شہباز شریف کو آگے آنے دیتے ہیں اس سے وہ اپنی حیثیت یا شناخت بنا لے گا۔ یوں ایک مساوات سامنے آئے گی جس میں نواز شریف مخل نہیں ہو سکتا۔ 
ایک صورتحال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حدود میں رھنے کے وعدے پر بجائے کچھ تبدیل کرنے کے نواز شریف کو اقتدار میں آنے کی اجازت دی جائے۔ وہ بھلے سیاست اور اقتدار میں آئے لیکن طریقے سے چلے۔ لیکن اسی کیا ضمانت ہے کہ انتخابات جیت کر اقتدار میں آنے کے بعد وہ تو اسی معاہدے پر کھڑا ہونگے؟ ایک آمر کے دور میں جلاوطنی ایک پر کشش ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بصورت دیگر آپ قید میں ہونگے۔ لیکن جمہوری دور کی صورت میں اس بات کے امکانات کم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے ایسے دور میں قید ہونا بجائے خود ایک پر کشش لگتا ہے۔ اگر نواز شریف جیل چلے جاتے ہیں تو کون مانے گا کہ ملک میں جمہوریت ہے؟ 
دراصل این آر او کا آپشن عملی طور پر نواز شریف کی سیاسی قوت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کا شہباز شریف اور سیاسی وغیر سیاسی فریقین و پتہ ہوگا ۔ نواز لیگ بھی واضح اکثریت حاصل کرنے کے لئے پرجوش انداز میں پرامید نہیں۔ 2008 کے انتخابات ایک بہت بڑی مایوسی تھی کیونکہ ہمدردی کی لہر ووٹ کی شکل میں تبدیل نہ ہو سکی۔ اگر نواز لیگ انتخابات ہار جاتی ہے (یہ ایک معجزہ ہوگا) پھر بہت کچھ ختم ہو جائے گا۔2018 کے انتخابات میں بظاہر لگتا ہے عمران کان پسندیدہ امیدوار ہے۔ اگر عمران خان اکثریٹ حاصل کرنے میں ناکام رھتے ہیں ، پارلیمنٹ میں آنے والے مذہبی انتہا پسند ابتدائی طور پر تحریک انصاف ی حمایت کے لئے استعمال ہونگے ۔ لیکن بعد میں یہی عناصر عدم استحکام کے لئے ہی استعمال ہونگے۔ 
ایک صورتحال یہ ہے سب کو ساتھ رکھا جائے ، نظام کو چلنے دیا جائے۔ اور پی ٹی آئی اگلے انتخابات میں اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ صورتحال اس سے مختلف ہے کہ اس کو دائیں بازو کی مذہبی اراکین کی ضرورت پڑے۔ اس صورت میں کیا پی ٹی آئی پانچ سال تک نواز لیگ یا پیپلزپارٹی کا سامنا کر پائے گی؟ کیا وہ سب کچھ دے پائے گی جس کا دعوا کر رہی ہے؟ نعرہ لگا رہی ہے؟ پی ٹی آئی پر صرف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ہی چیک نہیں ہیں بلکہ مذہبی دایاں بازو جس کو اتنا ابھارا گیا ہے، وہ اس کو اوقات میں رکھنے کی ضمانت ہے۔ معاملہ صرف انتخابات جیتنے کا نہیں۔ اس کے بعد حکومت چلانے کے بھی معاملات ہیں۔ نواز لیگ کو توڑنے یا ختم کرنے کے لئے جو ہندسہ استعمال ہوگا وہی فارمولا نواز لیگ کی جگہ لینے والے یعنی پی ٹی آئی کے خلاف بھی استعمال ہوگا۔ 2018 ایک غیر یقینی صورتحال کا سال لگتا ہے۔ 

What lies behind New NRO and Deal
Sohail Sangi
Nai Baat Jan 2, 2018

Monday, January 1, 2018

بلاول بھٹو کی چار باتیں


Dec 29, 2017 
Sohail Sangi 
Nai Baat

بلاول بھٹو کی چار باتیں 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی میں پیپلزپارٹی کے ملک بھر سے رہنما اور کارکنان شرکت کرتے ہیں۔ بلاشبہ پارٹی کا یہ ایک بڑا سالانہ اجتماع بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گرھی خدابخش میں ہوتا ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں شرکت محترمہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اب پارٹی قیادت کی جانب سے پارٹی کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں پر لازم قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ تعداد میں لوگوں کو لے آئیں۔ پہلے پیپلزپارٹی کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے بھی لوگ برسی کے موقع پر آیا کرتے تھے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ صرف پارٹی سے متعلق لوگ ہی آتے ہیں۔ 

ہر سال پارٹی کی قیادت اس موقع پر کوئی بڑا اعلان یا نئی حکمت عملی کا اعلان کرتی ہے۔ یوں جذباتی کارکنوں کو پارٹی پالیسیوں کے بارے میں براہ راست نہ سہی، بلاواسطہ طور پر اعتماد میں لیا جاتا پارٹی کارکنان اور سیاسی حلقے اس موقع پر پارٹی قیادت کی تقاریر کو غور سے سنتے ہیں کہ ملک کی یہ اہم پارٹی کیا حکمت عملی بنانے جارہی ہے؟گزشتہ برسوں کے دوران بلاول بھٹو کی تقریر اس وجہ سے بھی غور سے سنی جاتی رہی ہے کہ ان کی باتوں میں کتنی بلوغت اور نقطہ نظر میں بصارت آئی ہے۔ 

محترمہ کی دسویں برسی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے جوان سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر میں جذباتیت کم اور سنجدگی زیادہ تھی۔اگرچہ محترمہ کا دسویں برسی ایسے موقع پر منائی گئی جس کے چھ سات ماہ بعد ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ لیکن بلاول بھٹو کی تقریر میں کوئی پروگرام یا نیا نعرہ نہیں تھا۔ اس کے بجائے چند وضاحتیں اور الزامات تھے، جو ملک کے سیاسی منظر میں کی گئیں۔ تاہم ان کی تقریر اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے پارٹی کی آئندہ حکمت عملی اور پالیسی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 
ان کی تقریر کا خلاصہ سات نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے: ۱) آزاد علیہ کے لئے جدوجہد کریں گے۔ ۲) مذہب اور سیاست میں مذہب میں ملاوٹ درست نہیں ۔ ۳) بینظیر بھٹو کا قاتل مشرف ہے۔ اس کے لئے انہوں نے مشرف قاتل قاتل کے نعرے بھی لگائے۔ ۴) سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاں ۵) نواز شریف نے پارلیمنٹ کو مزور کیا ہے۔ ۶) صوبوں کو دھکیلا جارہا ہے۔ ۷) جمہوریت کی مضبوطی۔ ان سات میں سے آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد، بینظیر بھٹو کا قاتل مشرف ہے، سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاں صوبوں کو دھکیلنے کی بات اہمیت کے حامل ہیں۔

پیپلزپارٹی کو عدلیہ سے بھٹو قتل کیس سے رہی ہے کہ اس کو انصاف نہیں ملا۔ محترمہ بینظیر بھٹو بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کہتی تھی۔ اس کے بعد محترمہ اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف احتساب کے مقدمات میں بھی محترمہ کا یہی موقف تھا کہ لاہوراور لاڑکانہ میں فرق برتا جارہا ہے۔ لیکن نواز شریف کے خلاف حالیہ مقدمات اور ان کو اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے بعد پیپلزپارٹی کی ایک شکایت دور ہو گئی۔ اب لاڑکانہ اور لاہور کے درمیان خط امتیاز ختم ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ برسی کے موقع پر آصف علی زرداری نے بھی عدلیہ کی آزادی کی بات کی لیکن انہوں نے کہا کہ عدلیہ اپنا کام جاری رکھے۔ یعنی وہ نواز شریف کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کے حق میں ہیں۔ 

عمران خان کے دھرنوں، اسٹبلشمنٹ کے دباؤ اور عدالتی رویے کے پیش نظرملک میں ایک ماحول بن رہا ہے کہ اب ججز اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو۔ یہ نعرہ بنیادی طور پر حکمران جماعت نواز لیگ نے لگایا تھا۔ رواں سال اپریل میں جب احتساب قانون تبدیل کیا جارہا تھا تب وزیر قانون انصاف زاہد حامد کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی میں یہ تجویز شدت کے ساتھ زیر غور آئی۔ لیکن پارلیمنٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے یہ تجویز مجوزہ قانون میں شامل نہیں کی جاسکی۔ اکتوبر اور نومبر میں بھی پارلیمانی حلقوں میں زیر بحث رہا۔ جماعت اسلامی نے سرے سے اس بل کی مخالفت کردی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی عین موقع پر موقف سے پیچھے ہٹ گئی اور کہا کہ اس سے حکمران جماعت نواز لیگ اور اداروں کے درمیان تصادم ہو جائے گا۔ 
ملک میں رائج احتساب آرڈیننس 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نافذ کیا تھا جس میں عوامی عہدہ رکھنے والے، سول ملازمین، سیاستدان اور عام شہری کو بھی اس دائرہ لے لیا گیا تھا۔ لیکن مسلح افواج اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں منعقدہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سنیٹر فرحت اللہ با بر نے تجویز دی کہ عوامی عہدے کی تعریف کو اس طرح سے تشکیل دیا جائے کہ ججز اور جرنیل بھی اس میں شامل ہوں۔ چونکہ یہ معاملہ احساس تھا لہٰذا کمیٹی نے پارٹی قیادتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ سمجھا جارہا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ مطالبہ زور پکڑے گا۔

حکمران جماعت نواز لیگ کے اندر توڑ پھوڑ کی کوششوں اور عمران خان اورجہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر عمران خان کو اہل قرار دینے کے فیصلے میں دہرے معیار کی باتیں ہونے لگی۔ اس عدالتی فیصلے پر قانوندانوں اور سیاسی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا جانے لگا۔حکمران جماعت پارٹی کے صدر نواز شریف نے تحریک عدل چلانے کا علان کیا اور براہ راست عدلیہ پر تنقید کرنے لگے۔س سے صورتحال تبدیل ہوگئی۔نواز شریف واقعی تحریک عدل چلائیں گے؟ا یہ ایک الگ سوال ہے لیکن ایک مضبوط بیانیہ کے طور پر یہ بات یقیننا سامنے آئی ہے۔ 
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد کا اعلان تو کیا ہے لیکن کیا وہ عملی طور پر ایسا کریں گے؟ کیونکہ موجودہ حالات میں آزاد عدلیہ کی بات کرنا نواز لیگ کے موقف کی حمایت میں جائے گا۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ آزاد عدلیہ کے نعرے میں وزن ہے۔اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی کئی معاملات میں عدلیہ کا سامنا ہے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی اس بیانیہ کو اپنے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ممکن ہے کہ کل کو اس بیانیہ کی بنیاد پر کوئی تحریک چلے۔ 

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاں اور صوبوں کو دھکیلنے کی بات پیپلزپارٹی کے سندھ کارڈ کا حصہ ہیں۔ سندھ میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی ایک سیاسی اشو کے طور پر ابھر آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے بعض سینیٹرز یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھا چکے ہیں۔ پارٹی سندھ کے مقبول جذبات کے ساتھ اپنی شناخت کرانا چاہتی ہے۔ صوبوں کو دھکیلنے کی بات ایک طرف پیپلزپارٹی کے لئے وفاق میں شیئر کو لازمی قرار دینا اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے مطالبات کی حمایت کرنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی تقریر موجودہ حالات میں پارٹی کے موقف اور حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف بھی مجموعی طور پر ماحول بن رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کی سینیٹ میں بریفنگ میں اس طرح ریٹائرڈ جنرل جو فوج کے ترجمان بنے ہوئے ہیں ان سے لا تعلقی کا اظہار کیا گیا۔
اب نواز شریف نے بھی پہلی مرتبہ یہ کہا ہے کہ ان کی نااہلی کے پیچھے جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقد مہ ہے۔ اگرچہ پارٹی قیادت نے نواز شریف اور نواز لیگ کو اپنی تقاریر میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن آزاد عدلیہ، مشرف کے خلاف مقدمہ اور پارلیمنٹ کی بالدستی تین ایسے نکات ہیں جو کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ بنتے ہیں۔ جبکہ جمہوریت کی بات جس پرجوش انداز میں بلاول بھٹو نے کی ہے، اتنے ہی پرجوش انداز میں مریم نواز بھی کر چکی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں بڑی جماعتیں متحد ہو کر کوئی جدوجہد کرلیں گی۔
ان مشترکہ نکات سے پتہ چلتا ہے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا بنیادی طور پر سیاست میں ایک ہی رخ بنتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی اور اقدامات کے ذریعے منطقی طور پر ایک دوسرے کی حمایت میں جائیں گے۔