Jan 26, 2018
کالا سون: کمزور لوگوں کی مضبوط جدوجہد
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
تھر کول کے خلاف مقامی باشندوں کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیاہے۔ اب تھر کا نوجوان بھی اس تحریک میں شامل ہو گیا ہے۔ اور مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترقی ان سے بالاتر ہے، اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں بلکہ انہیں اپنی زمین، گھروں سے اور روزگار کے وسائل سے محروم کیا جارہا ہے۔ تھر میں کوئلہ کا 9000 سے زائد علاقے پر مشتمل ذخیرہ دنیا کے بڑے ذخائر میں چھٹے نمبر پر ہونے اور ملک کو درپیش توانائی کے بحران کے پیس نظر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ علاقے کی پسماندگی، غربت، جدید تعلیم کی سہولیات کی عدم موجودگی ، مقامی آبادی کے انخلاء اور باہر کی آبادی کی آمد کی وجہ سے اس منصوبے پر روز اول سے شبہ کیا جارہا تھا کہ اس منصوبے میں سے مقامی لوگوں کو کیا ملے گا؟ اس حوالے سے معیشت دانوں، سماجیات کے ماہرین اور دیگر حلقوں میں ایک مضبوط بیانیہ موجود تھا۔ وہ اس بڑے منصوبے میں مقامی آبادی کے لئے منصفانہ حصہ اور ایک موثر مکینزم چاہ رہے تھے۔ اس حوالے سے میڈیا، خواہ دیگر پروگراموں میں تجاویز اور سفارشات تو کبھی مطالبات بھی سامنے آتے رہے۔ لیکن یہ مخالفت عملا کوئی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار نہ کر سکی۔ مزاحمتی تحریک اس وقت سامنے آئی جب تھر میں کوئلے کے بلاک دو کی کھدائی کے دوران سمندر ی پانی کے برابر آلودگی والا پانی نکال کر بتیس کلومٹر دور گوڑانو کے مقام پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کوئلہ تقریبا 900 فت کی گہرائی پر ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لئے پانی کی دو تہوں سے گزرنا ہے۔ آخری تہہ میں بڑے مقدار میں پانی ہے۔ جس کی وجہ سے پورے تھر میں زیر زمین پانی کے ذکائر خشک ہونے اور زرعی اور مویشی پالنے پر مشتمل معیشت کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اتنے بڑے علاقے کی کھدائی اور وہاں آباد لوگوں کی بحالی اور سہولیات کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی متبادل منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔
مقامی باشندوں نے کمپنی کو آگاہ کیا، متعلقہ حکام کو زبانی خواہ تحریری درخواستیں دی۔ لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی۔ بالآخر گوڑانو گاؤں کے باشندوں نے مقامی شہروں اسلام کوٹ، مٹھی اور بعد میں کراچی اورحیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے کے۔ اور علامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا۔ جو تاحال جاری ہے۔ حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ کمپنی خواہ حکومت اس میگا پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو حصہ نہیں دینا چاہتی۔ اگر بعض اقدامات کےئے بھی ہیں تو صرف دکھاوا ہیں اور مقصد صرف پبلسٹی ہے۔ کمپنی اپنی سماجی قبولیت اور جواز حاصل کرنے کے لئے بے چین ہے۔
بلاک ٹو میں کام کرنے والی کمپنی کے لئے دو بڑے چیلینج تھے۔ ایک طرف مقامی آبادی کا احتجاج اور دوسری طرف صوبے پر بھر میں مخالف بیانیہ۔اگرچہ بجلی بنانے کے لئے قائم کی گئی اس کمپنی میں تقریبا 54 فیصد حصہ حکومت سندھ کا ہے۔ لیکن مخالف بیانیے اور احتجاج کی وجہ سے حکومت نے خود آگے آنے کے بجائے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ کمپنی کو ہی سب کام سونپا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اور عملا سرکاری اہلکار اور محکمے اس کمپنی کے ماتحت ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش ننظر کمپنی نے میڈیا اور رائے عامہ کو اپنے حق میں بنانے کے لئے مخصوص کارپوریٹ سیکٹر کی چالاکی دکھائی۔ بعض اچھی ساکھ رکھنے والے افراد کو بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھا۔ گزشتہ روز حیدرآباد میں منعقدہ حیدرآباد ادبی فیسٹیول کو کمپنی نے اسپانسر کیا ۔ اور تین روزہ اس فیسٹیول میں تین سیشن مکمل طور پر اپنے لئے مخصوص کرائے۔ ان تین نشستوں میں صرف کمپنی کی تعریف ،اس کے کارناموں کے لئے مقررین کو بلایا گیا۔ اور وہ بھی سب کے سب کمپنی کے ملازمین تھے۔ اس پر سندھ خاص طور براہ راست متاثر ہونے والے علاقے تھر کے نوجوانوں نے اعتراض کیا۔ جس پر انہیں دھمکایا گیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ نوجوانوں کا موقف یہ تھا کہ چونکہ فیسٹیول ایک عام بحث کا فورم ہے لہٰذا اس میں دوسرا نقط نظر اور بیانیہ بھی آنا چاہئے۔ کمپنی عام بحث کے فورم میں یک طرفہ موقف رکھ کر سندھ کے دانشوروں اور رائے عامہ بنانے والوں کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے اسپانسر کردہ دو سیشن میں سخت احتجاج کیا گیا۔ تھر کا کوئلہ اور خوشحالی کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں اعتراضات کے بعد شرکاء نے بائکاٹ کیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ کمپنی اپنی مشہوری کے لئے اگر کچھ رکنا چاہتیہ ہے اور اپنے ملازمین کے ذریعے صرف اپنا ہی موقف سنانا چاہتی ہے تو پریس کانفرنس کر لے یا کوئی اپنا الگ سے پروگرام منعقد کرلے۔ صوبائی محکمہ ثقافت کے مالی تعاون سے منعقدہ سیشن عوامی بحث کا فورم ہے۔ یہاں ون وے ٹریفک نہیں چل سکتا۔
دنیا بھر میں کارپوریٹ سیکٹر اس طرح کے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کی مالی اعانت اور اسپانسرشپ کرتا ہے۔ اور معاشرے کے ان شعبوں میں اپنا حصہ ڈالتا ہے جس کو ایک مثبت عمل سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ اس بھونڈے طریقے سے سپنے موقف کو آگے بڑھانے اور مخالف رائے کو کچلنے کی بیدردی سے کوشش کی جائے۔ اس کی ذمہ داری اس طرح کے پروگرام کے منتظمین اور خود حصہ لینے والے کارپوریٹ سیکٹر کے ادارے پر بھی آتی ہے۔ یہاں پر کمپنی کے ملازمین نے جس طرح سے اعتراض اور احتجاج کرنے ولاوں کو دھمکایا، ڈریا وہ قابل دید تھا۔ سندھ بھر سے آنے والے شرکاء نے کمپنی کا رویہ دیکھا۔ اندازہ لگایا کہ جب ایک کھلے اور عوامی فورم میں کمپنی اس طرح کا برتاؤ کرتی ہے تو فیلڈ میں عام لوگوں کے ساتھ کیا زیادتی کرتی ہوگی؟اس کے فوری طور پر دو نتائج سامنے آئے۔ ایک یہ کہ کمپنی کی مزید متنازع بنی۔اس کی ساکھ متاثرہوئی۔ دوسرا یہ کہ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ اور اس احتجاج کو مزید عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔
بعض ادبی حلقوں میں یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کوئلہ ادبی صنف ہے؟ جس کو ادبی فیسٹول میں موضوع بحث بنایا جارہا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔منتظمین اگر کوئلہ اور ادب کے تعلق پر کوئی بحث چاہتے تھے تو تھر میں کوئلہ پر بہت مزاحمتی ادب تخلیق ہوا ہے اس کو موضوع بنایا جاسکتا تھا لیکن یہ بات کمپنی کو مناسب نہیں لگتی۔۔ کول کمپنی تھر کے ادب اور ثقافت کے پروگرام کو اسپانسر کرتی۔ اگر کسی طور پر کوئلے کو یہ زیر بحث لانا ضروری تھا، تو مخالف نقطہ نظر بھی سننا ضروری تھا۔
ان نشستوں کو کمپنی کی فرمائش پر ہی ڈیزائن کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے یہ سیشن مکمل طور پر خرید کر لئے گئے تھے۔ ان سیشنز میں اگر مخالف بیانیہ یا غیر جانداررانہ بیانیہ یا نقطہ نظر رکھنے والے مقررین بھی بلائے جاتے تو کیا ہوتا؟ وہ بھی آکر اپنا موقف رکھتے۔ اور بات ہی کرتے، کوئی تلواریں تو نہیں چلاتے؟ مخالف نقطہ نظر نہیں سنا جارہا ہے ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کای جات ہے کہ کمپنی ضد پر ہے، وہ کوئی نقطہ نظر سننا نہیں چاہتی۔ دوئم یہ کہ وہ ایسا اس وجہ سے بھی کر رہی ہے کہ اس کا نقطہ نظر کمزور ہے اور مقامی آبادی ک انقطہ نظر مضبوط ہے۔ ان کی شکایات میں وزن ہے وہ اپنی بات میں حق بجانب ہیں۔
Daily Nai Baat
Thar coal and Hyderabad festival
