Tuesday, January 9, 2018

سانحہ مٹھی اور تھر میں نئے چیلینج


Sohail Sangi
 Nai Baat Jan 9, 2017
سانحہ مٹھی اور تھر میں نئے چیلینج
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
صحرائے تھر کے ضلع ہیڈکوارٹر مٹھی میں گزشتہ ہفتہ ڈکیتی کے دوران دو تاجر بھائیوں کے بیہمانہ قتل سے پورے علاقے میں صدمے اور خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا میں بڑے ذخائر رکھنے والا علاقہ گزشتہ بیس پچیس سال سے مسلسل ہر دو سال بعد مون سون کی بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی زد میں رہتا ہے۔بڑی ہندو آبادی رکھنے والے پر امن تھر میں صدیوں سے جرم تقریبا زیر و رہاہے۔یہاں پر شہر کے اندر ہتھیاروں کے استعمال نے پورے تھر ہی نہیں بلکہ صوبے بھر میں دہشت پھیلا دی ہے۔ واقعہ بظاہر دو افراد کا قتل ہے۔ دو انسانی جانیں بڑی بیش بہا ہوتی ہیں۔ لیکن جب کسی واقعہ کا پس منظر بڑا ہو اور اس کے اثرات بھی دور رس اور گہرے ہوں، ایسے میں خوف کے سائے اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔و تھر پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ناکافی مسجھا جارہا ہے۔اقعہ کے خلاف مٹھی شہر تین روز سے بند ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔
پولیس تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری اہم نکات ہیں۔ لیکن اس واقعہ کے بعض اہم امور کی نشاندہی کی ہے۔ ہو ہیں تھر کے حالات اور اس پسماندہ، قحط زدہ اور غریب علاقے میں، جو کوئلہ نکلنے باجود بھی غریب ہے، یہاں رونما ہونے والی ہر قسم کی تبدیلیاں اور اس کی طرف معاشرے اور حکومت کا رویہ ۔ 
تھر میں اب بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی معاشی، سیاسی سماجی اور ثقافتی حوالے سے تو ہے ہی، لیکن سماجی رشتے ناطے بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ کئی صدیوں سے معیشت میں بارٹر سسٹم رائج رہا۔ جو ماضی قریب تک بھی جاری رہا۔ یہاں کے لوگ سال بھر سمان میں آنکھیں ڈال کر بارش کا انتظار کرنے والے رہے ہیں۔ صبر، شکر اور انتظار میں خوش رہنے والے اپنے تئیں خود کفیل سمجھتے رہے۔ بیس سال پہلے ایک سابق ڈپٹی کمشنر نے بات چیت کے دوران مجھے بتایاتھا کہ تھر میں حکومت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس خود کفیل اور اپنے طور پر خوش رہنے والے یونٹ میں مداخلت ہے۔ جو ان کے معاملات میں غلط طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ضرورت صرف قحط کے وقت ہی پڑتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر چونکہ ایک شریف آدمی تھے ان کی خلوص نیت اور سوچ پر شک نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر تیس پینتیس سال تک یہاں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا تھا۔ نہ روڈ، نہ تعلیم و صحت کی سہولیات، ان معیشت اور پیداواری ذرائع۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ نے کچھ تبدیل کیا۔ لیکن تھر کی معیشت اور سماج نے اس لہر کو بھی ایڈجسٹ کر لیا۔ ستر کے عشرے کے دوران بھی حالت یہ تھی کہ قحط ہو یا تھر بارشوں سے خوشحال ہو، صوبے کے بیراج علاقہ سے تھر میں گندم لے جانے پر پابندی تھی۔ہزاروں کلومیٹر میں پھیلے ہوئے تھر میں پہلی سڑک 1985 کے بعد بنی۔
کوئلہ دریافت ہوا، تو حکومت اور حکومتی اداروں کا تھر کے بارے میں رویہ تبدیل ہوا۔ کیونکہ یہ تو کالاسون تھا۔ ان حکومتی اداروں کے نقشے میں تھر نظر آنے لگا۔ سڑکیں تعمیر ہوئی۔ غیر ملکی کمپنیاں، دیسی بدیسی لوگ، اور ملک کے بالئی علاقوں سے آبادی یہاں آنے لگی۔ کچھ کاروبار شروع ہوئے۔ اور آئندہ وقت میں مزید سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع نکلنے کی امید پیدا ہوئی۔ کوئلے اور اس سے متعلق کام میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہونے لگی۔ جن لوگوں کو پانچ کلو گندم لے جانے کی اجازت نہیں تھے ان کے نام پر پانی صاف کرنے کے آر او پلانٹ لگائے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ پلانٹ لگانے میں بھیدھندہ اور پیسہ براہ راست اور بلواسطہ کمانا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا، تھر اور تھر کے لوگوں کے نام پر۔ ہر سطح پر مخلتف تجربے اور سرگرمیاں ہوئیں۔ یہاں کے اہل فکر نظر لوگوں نے اسی وقت کہا تھا کہ ’’ برائے مہربانی تھر کو کاروباری نظروں سے نہ دیکھو‘‘۔ یوں بارٹر سسٹم کی معیشت میں اچانک اور بڑی تیزی کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر نے پیر جما لئے۔اور بارٹر سسٹم کی جگہ آذاد معیشت آگئی۔ بارٹر معیشت میں ایک دوسرے پر انحصار اور آپس کے سماجی رشتے ایک اہم اصول ہوتے ہیں۔ اس میں ایک دوسرے کی خبر گیری، اور خیال رکھنا لازم ہوتا ہے۔ احساس اور جذبے ایک اصول اور فریم ورک کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ یوں مذہبی، جنس، نسل اور فرقے کے بلامتیاز ایک سماجی توازن اور ہم آہنگی ہوتی ہے۔ آذاد معیشت نے پیداوار اور خدمات کی نوعیت اور طریقے تبدیل کردیئے۔ ایسے میں پرانے رشتے اور رابطے برقرار نہیں رہ سکتے۔ اس بدلتی ہوئی معیشت نے نئے طبقات، نئے اسٹیک ہولڈرز، نئے پاور بروکرز، بھی پیدا کئے ۔ یہ نئے طبقات اور اس مین مفادات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے اتحادی بھی تھے اور ایک دوسرے کا مقابلہ بھی کر رہے تھے۔ جب کہ پرانے رشتوں کا سمجا بھی مزحمت کر رہا تھا۔ اس تمام صورتحال کے لئے تھر کے لوگ نہ تیار تھے اور نہ ان کیصلاحیت تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ حکومت نے اس ضمن میں تھر کے لوگوں کی کوئی صلکاھیت نہیں بڑھائی اور نہ ان کی مدد کی۔ ایک اہم پہلو بارہ کا پیسہ باہر کے لوگ، اور باہر کا اثر رسوخ تھا۔ جس میں مقای لوگ ہر سطح پر مائنس تھا، نیتجے میں ان حالات کواہ اس دئنامکس کو سمجھنے اور ا میں زندہ رہنا آسان کام نہیں رہا۔ حکمرانوں کی نااہلی رہی کہ انہیں نہ اس بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے اثرات کا ادراک تھا اور نہ ہی اس کو سمجھنے اور حل کے لئے کوئی تحقیق کر کے راہ نکالیس گئی۔ حکومت کو یہ آسان لگا کہ حکمرانی اور انتظام کاری انگریزوں والی ہی رکھی جائے۔ باقی کوئلہ اور اس سے متعلق کاروبار کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کردیئے جائیں۔ عجب قصہ ہے کہ اس تمام معاملے میں حکومت مقامی لوگوں اور ان کے مفادات کے ساتھ کھڑیا ہونے کے بجائے کارپوریٹ سیکٹر اور دھندہ کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ اس کی چھوٹی مچالیں یون دی جا سکتی ہیں کہ دوسرے علاقوں کے لوگ یہاں پر لوگوں کو قرضہ پر مختلف اشیاء دے کر ان کے وسائل اور اثر رسوخ پر حاوی ہورہے ہیں۔ بڑی مثال کولے کی کمپنی کے طریقہ کار اور گوڑانو ڈیم کی ہے۔ ایکسال تک اسلام کوٹ میں جاری احتجاج کی سننے کے لئے بھی کوئی ذمہ دار نہیں پہنچا۔ جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ چاہے کچھ بھی ہو ، لوگوں کی نہیں سنی جائے گی۔ لوگوں میں بے بسی اور بیگانگی کا احساس جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ دوسری طرف معاشی خواہ سماجی و سیاسی حولاے سے جارحیت کرنے والوں کا بھی حوصلہ بڑھا۔ 
تھر کی سماجیات او رمعیشت کو مسلسل قحط سالی نے بھی تبدیل کیا۔ پہلے قحط پڑتے تھے تو لوگ صرف ایک موسم گزارنے کے لئے پانے بال بچوں اور مال مویشی کے ساتھ نقل مکانی کرتے تھے۔ سندھ کے بیراج علاقے میں جاکر محنتمزدوری کرتے تھے۔ قحط سالی کے مسلسل آنے کی وجہ سے گزشتہ تیس سال سے سورتحال بدلنا شروع ہوئی۔ اب کوشش کر کے ہر خاندان کا ایک فرد صوبے کے شہروں میں جاکر محنت مزدوری کرتا ہے۔تاکہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے متبادل ذرائع آمدنی موجود ہو۔ اس مظہر سے بھی تھر میں تبدیلی آئی۔ اور لوگوں کو آزاد معیشت کی طرف دھکیلا۔
اس صحرا میں امن و مان کی حکومتی سطح پر انتظام کاری بھی دلچسپ ہے۔ 21 ہزار مربع کلومیٹر پر پھلے ہوئے 24 سو گاؤں کے لئے 13 پولیس تھانے ہیں۔ یہ تعدا بھی اب بڑھائی گئی ہے، ورنہ پہلے ساتھ تھانے ہوا کرتے تھے۔ یعنی ایک تھانے کی حدود1600 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ جہاں پر ایک روایتی ’’ کاکا سپاہی‘‘ بیٹھا ہے۔ جس کو تیزی سے بلتی ہوئی صورتحالل کا علم ہے اور نہ ہی سوچ اور تربیت۔ اس کو یہ بھی پتہ نہیں کہ غیر ملکیوں کا پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟ ان کی حفاظت اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھنا کیسے رکھی جائے؟ کونسے گروپ کس مقصد کے لئے اور کس طرح سرگرم ہیں؟ ہر وہ شخص جو مقامی یا سندھی نہیں بولتا اس کے نزدیک وہ بڑا صاحب اور بڑا آدمی ہے۔ محکمہ پولیس کی صرف مثال دی ہے، یہ صورتحال تمام محکموں میں ہے۔ لہٰذا حکومت اور حکومتی ادارے ایک طرف کھڑے ہیں اور مقامی لوگ دوسری طرف۔ 
مقامی لوگ تربیت، تجربے ، معلومات اور سہولت نہ ہونے کی وجہ سے معیشت میں بڑی تیزی سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں کرسکے ہیں اور مواقع بھی کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔ پہلے تھر میں ٹرانسپورٹ ’’ کھیکھڑے‘‘ تھے۔ جو مقامی لوگ چلاتے تھے جن کے مقامی سطح پر کاروبار بھی ہوا کرتے تھے۔ اب بڑی ٹرانسپورٹ میں بار کے لوگ آگئے ہیں۔ یہی صورتحال فکری اور سیاسی صورتحال کی ہے۔ تھر میں عملی طرح کسی سیاسی پارٹی کا بور پارٹی وجود نہیں۔ پیپلزپارٹی کی دعوا بھی دو چار درجن جیالوں سے زیادہ نہیں۔ ورنہ چھوٹے خواہ بڑے گروپ ہیں جو آپس میں اتحاد کرتے ہیں یا ٹکراے ہیں۔ ٹھوس سیاسی ھوالے سے فکری یا نظریاتی طور پر بنیادیں نہیں۔ یہ فکری خلاء بھی باہر کی قوتیں آکر بھر رہی ہیں۔ جن کے اثرات آئندہ وقت میں نمودار ہونگے۔ 
ان بدلتے ہوئے حالات میں تھر کے اپنے تضادات اپنی جگہ پر، خطے اور عالمی تضادات کا ایک پہلوء بھی موجود ہے۔ جس سے تضادات اور واقعات کی نوعیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ تھر کے کوئلے کو سی پیک میں شامل کرنے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد اس تضاد کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ 
مٹھی کے اس سانحہ کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مٹھی اس صھرا کا ضلع ہیڈ کوارٹر ہے۔ مٹھی کی صوبائی اسمبلی کی نشست ملک کی واحد نشست ہے جہاں اقلیت اکثریت میں ہے۔ سیاسی طرح ملک کی اقلیت کی بہت بڑی آبادی یہاں رہتی ہے۔یوں اس علاقے کی حساسیت میں اور بھی اضافہ وہ جاتا ہے۔ تھر جہاں اسلح کی نمائش یا استعمال کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ چند سال قبل عمرکوٹ میں اس طرح کے دو واقعات ہوئے تھے۔ جن کو بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا جا سکا۔ اب مٹھی رونما ہونے والے واقعہ نے خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ اس مشکل صورتحال میں ایک مثبت اور مضبوط امر بھی سامنے آیا ہے۔ قتل کی واردات کے خلاف جب مٹھی شہر میں دھرنا دیا گیا تو اس میں لوگ بلا امتیاز کیس مذہب، نسل، فرقے اور سیاسی وابستگی کے لوگ شریک ہوئے ۔ اور متاثرہ آبادی کو اکلیلے نہ ہونے کا احساس دلایا۔ لوگوں میں موجود خوف کو حکومت ملزمان کی گرفتاری۔، مقامی آبادی کے ساتھ کھڑا ہونے اور بعض عملی اقدامات کے ذریعے کر سکتی ہے۔ تھر میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو صوبے بھر سے ہزاروں لوگ اس عجب علاقہ کا نظارہ کرنے اور لطف اندوز ہونے کے لئے پنچتے ہیں۔ گزشتہ سال سیر تفریح کے لئے تھر جانے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ لہٰذا تھر تو سب کا ہے اض جب یہ علاقہ ایک صدمے سے دوچار ہے ایسے میں ان لوگوں کی بھی ذمہ د اری ہے متاثرہ لوگوں کو تسلی دیں۔ حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تھر کے بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے اور اس میں اپنی جگہ بنانے کے لئے تربیت، سہولیات اور مدد دے شراکت کا احساس پیدا کرے۔ دنیا میں ایک اصول اب مانا جاچکا ہے کہ وہی ترقی اصل ترقی ہوتی ہے اور اچھی گورننس ہوتی ہے جس میں لوگوں ی شرکت ہو۔


http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-jan-9-2018-151629 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/54269/Sohail-Sangi/Saniha-Mutthi-Aur-Thar-Main-Naye-Challenges.aspx 

No comments:

Post a Comment