Tuesday, January 2, 2018

این آر او یا ڈیل کیوں


این آر او یا ڈیل کیوں
ملکی سیاست میں ڈرامائی اور تکیلف دہ صورتحال 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
انتخابات ہوں یا نہ ہوں، نیا سال لگتا ہے کہ ملکی سیاست میں ڈرامائی اور تکیلف دہ ثابت ہوگا۔ غیر یقینی کے بادل چھٹ نہیں پائے ہیں۔ خطے میں مشکلاتیں بڑھ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی سعودی عرب سے واپسی کے بعد پارٹی کی حکمت عملی واضح ہو جائے گی۔ حکمراں جماعت کو سر دست ایوان بالا سینیٹ کے باون نئے ارکان چنے جائیں گے، نواز لیگ کو امیدواروں کی فہرست مرتب کرنے کے ایک مشکل مرحلے سے گزرنا ہے۔ 

قادری فارمولا 
یہ درست ہے کہ لاہور میں ہفتے کے روز منعقدہ پاکستان عوامی تحریک کی کل جماعتی کانفرنس نتائج خیز ظابت نہیں ہوئی ۔کیونکہ میزبانوں کا خیال تھا کہ کانفرنس میں شریک جماعتیں پارلیمنٹ سے اپنے استعفوں کا اعلان کانفرنس میں ہی کردیں گی۔ لیکن اس میں بڑی جماعتوں کے سربراہوں نے غیرحاضری نے کانفرنس اور اس کے فیصلوں کا درجہ کم کردیا۔ یہ جماعتیں شاید علامہ قادری کو خود سے بڑا لیڈر تسلیم کرنے یا بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کانفرنس میں ہونے والی بحث مفروضوں پر مبنی ہوگئی کیونکہ سبکدوش وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نجاب کے دورہ سعودی عرب نے یکسر صورتحال کو تبدیل کر دیا تھا۔ دعوت دیتے وقت یہ طے تھا کہ کانفرنس ایک نکاتی ایجنڈے یعنی ماڈل ٹاؤن کے واقعہ تک محدود رہے گی ۔تاہم میزبان طاہرالقادری نے اس کا دائرہ وسیع کرنے پر اصرار کیا اس میں ختم نبوت کا معاملہ بھی ڈال دیا گیا۔اس پر طرہ یہ کہ ایم کیو ایم نے بائکاٹ کیا۔ 
ایک نئے این آر او اور نئے سیاسی مصالحت کی بات فضا میں بازگشت ہے۔ نواز لیگ کی وضاحتوں اور تردید کے باوجود نواز شریف اور شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مائنس نواز شریف کی ڈیل ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف نہیں مان رہے ہیں۔ اور یہ کہ ڈیل کے لئے ضامن تلاش کیا جارہا ہے۔ 
آج پھر ایک نئے این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن اس بار این آر او آمرانہ قوتوں کو ہٹانے کیلئے نہیں بلکہ تین بار منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مزاحمت چھوڑنے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔
ایک ڈیل اور این آر او بینظیر بھٹو نے کیا تھا۔ محترمہ کی اس ڈیل نے میاں نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار کیا اور بات بعد میں جنرل مشرف کو رخصت کرنے تک جا پہنچی۔ یعنی نواز لیگ آن بورڈ تھی۔ حالیہ کیونکہ مواخذہ کی کارروائی سے بچنے کیلئے انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ این آر او سے انتخابات اور جمہوری عبور ممکن ہوئے۔ آصف علی زرداری نے نواز شریف کو ساتھ ملا کر مشرف کو چلتا کیا۔میاں صاحب ساتھ دینے کو تیار تھے مگر کابینہ میں شمولیت کے لئے تیار نہ تھے۔ حالیہ ڈیل میں پیپلزپارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت شامل نہیں۔ بلکہ نواز شریف کو آؤٹ کرنے کے لئے کی ڈیل بن رہی ہے ۔
ڈیل کے بعد کا منطر نامہ
ڈیل کے بعد کا منطر نامہ کیا ہو گا؟ اس کے ممکنہ آپشن یہ ہو سکتے ہیں۔ ستعیفا تھراپی اور دیگر اندرونی دباؤ کے بعد یہ مفروضہ پکایا گیا ہے اراکین اسمبلی یا استعیفا دیں گے یا عمران خان کا ساتھ دیں گے۔ اگر جنوری میں یا سینیٹ کے انتخابات کے موقع پرفارورڈ بلاک کے 30لوگ تحریک انصاف کیساتھ نہیں دیتے تو پھر کیا ہوگا؟ اپوزیشن میں آنے کے بعدپیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ رول ادا کرتی رہی، مگر اب وہ مکمل طور پر پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کر رہے ہیں۔ پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ معلق پارلیمان آنے والی ہے ۔ اس میں ان کی جماعت کا کردار اہم ہو جائے گا اور یوں انہیں وفاق کے اقتدار میں بھی شیئر مل سکتا ہے۔اس کے علاقہ سندھ کو محفوظ رکھنا بھی اس کا مقصد ہے۔ 
2007 میں سویلین حکومت کے دوران پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان قربت کی وجہ سے جمہوری عمل میں تسلسل رہا۔ لیکن گزشتہ پانچ سال کے دوران سیاسی ایکٹرز تبدیل ہو چکے ہیں ۔ 
پنجاب میں آخری معرکہ
پنجاب میں سیاسی حوالے جو موقف اختیار کئے جارہے ہیں ان کے مطابق نواز لیگ کو صرف تحریک انصاف کا ہی نہیں بلکہ قاف لیگ کا بھی سامنا ہے جو نواز لیگ سے امکانی طور پر علحدگی اختیار رکنے والوں کے لئے پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ نواز لیگ کا پورا زور الیکشن کی طرف جانے میں ہے۔ قاف لیگ چاہتی ہے کہ طویل مدت کی نگراں حکموت بنے۔ کیونکہ موجود سیاسی منظر میں انتخابات کی صورت میں نواز لیگ کو ہرانا نہ عمران خان کے بس کی بات ہے اور نہ پیپلزپارٹی اور قاف لیگ کی۔ طویل مدت کی نگراں حکومت کا مطلب بظاہر ٹیکنوکریٹس کی حکومت ہوگا، لیکن اس کے ذمے یہ کام بھی ہوگا کا نئے پاور بروکرز پیدا کرے۔ نئی قیادت لائے گی اور ملک میں ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھے ۔ نواز لیگ شاید قاف لیگ کے امیدواروں کو برداشت کر لے لیکن اس سے عمران خان کے امیدوار جیتیں یہ برداشت نہیں ہوگا۔ قاف لیگ کا یہ معاملہ ہے کہ وہ بعض انتخابی حلقوں میں مقامات پر عمران خان کی جانب سے حمایت کی متمنی ہے۔ لیکن عمران خان اس کے لئے تیار نہیں۔ 
کئی اجزاء اور کھلارٰ حرکت میں ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ اسٹبلشمنٹ نواز شریف یا ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سیاست میں نہیں چاہتے۔ گزشتہ پانچ ماہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ نواز شریف جتنا واپس سسٹم میں آنے کی کوشش کی ، اتنی ہی مزاحمت ہوئی۔ کوئی ایسا راستہ جو بغیرانتخابات کے یا براہ راست ٹیک اوور کے ہو۔ جس میں نواز شریف آف ہوں۔ لیکن کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف خاموش رہ گا؟ زیادہ تر اس پر منحصر ہے کہ نواز شریف کیا راستہ اختیار کرتا ہے؟ نواز شریف کو زبردستی انتخابی عمل سے آؤٹ کرنا معاملے کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔ لیکن نواز شریف پیچھے ہٹ جائیں اس کے بھی امکانات نہیں۔ایسے میں سمجھوتہ کیوں ہو؟ دراصل نواز شریف اور مریم نواز کو مقابلے کے لئے یکساں میدان چاہئے۔ صرف یہی ان کی ضرورت اور ترجیح ہو سکتی ہے۔ 
ضمانت کار کیوں چاہئے؟
این آر او پر عمل درآمد کو کیسے یقنی بنایا جائے؟ یہ بڑا سوال ہے۔ اس کے لئے کوئی بیرونی ضمانت کار چاہئے تاکہ فریقین کئے گئے فیصلے پر قائم رہیں گے۔ اگر نواز شریف آئندہ انتخابات سے باہر رھنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور شہباز شریف کو آگے آنے دیتے ہیں اس سے وہ اپنی حیثیت یا شناخت بنا لے گا۔ یوں ایک مساوات سامنے آئے گی جس میں نواز شریف مخل نہیں ہو سکتا۔ 
ایک صورتحال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حدود میں رھنے کے وعدے پر بجائے کچھ تبدیل کرنے کے نواز شریف کو اقتدار میں آنے کی اجازت دی جائے۔ وہ بھلے سیاست اور اقتدار میں آئے لیکن طریقے سے چلے۔ لیکن اسی کیا ضمانت ہے کہ انتخابات جیت کر اقتدار میں آنے کے بعد وہ تو اسی معاہدے پر کھڑا ہونگے؟ ایک آمر کے دور میں جلاوطنی ایک پر کشش ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بصورت دیگر آپ قید میں ہونگے۔ لیکن جمہوری دور کی صورت میں اس بات کے امکانات کم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے ایسے دور میں قید ہونا بجائے خود ایک پر کشش لگتا ہے۔ اگر نواز شریف جیل چلے جاتے ہیں تو کون مانے گا کہ ملک میں جمہوریت ہے؟ 
دراصل این آر او کا آپشن عملی طور پر نواز شریف کی سیاسی قوت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کا شہباز شریف اور سیاسی وغیر سیاسی فریقین و پتہ ہوگا ۔ نواز لیگ بھی واضح اکثریت حاصل کرنے کے لئے پرجوش انداز میں پرامید نہیں۔ 2008 کے انتخابات ایک بہت بڑی مایوسی تھی کیونکہ ہمدردی کی لہر ووٹ کی شکل میں تبدیل نہ ہو سکی۔ اگر نواز لیگ انتخابات ہار جاتی ہے (یہ ایک معجزہ ہوگا) پھر بہت کچھ ختم ہو جائے گا۔2018 کے انتخابات میں بظاہر لگتا ہے عمران کان پسندیدہ امیدوار ہے۔ اگر عمران خان اکثریٹ حاصل کرنے میں ناکام رھتے ہیں ، پارلیمنٹ میں آنے والے مذہبی انتہا پسند ابتدائی طور پر تحریک انصاف ی حمایت کے لئے استعمال ہونگے ۔ لیکن بعد میں یہی عناصر عدم استحکام کے لئے ہی استعمال ہونگے۔ 
ایک صورتحال یہ ہے سب کو ساتھ رکھا جائے ، نظام کو چلنے دیا جائے۔ اور پی ٹی آئی اگلے انتخابات میں اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ صورتحال اس سے مختلف ہے کہ اس کو دائیں بازو کی مذہبی اراکین کی ضرورت پڑے۔ اس صورت میں کیا پی ٹی آئی پانچ سال تک نواز لیگ یا پیپلزپارٹی کا سامنا کر پائے گی؟ کیا وہ سب کچھ دے پائے گی جس کا دعوا کر رہی ہے؟ نعرہ لگا رہی ہے؟ پی ٹی آئی پر صرف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ہی چیک نہیں ہیں بلکہ مذہبی دایاں بازو جس کو اتنا ابھارا گیا ہے، وہ اس کو اوقات میں رکھنے کی ضمانت ہے۔ معاملہ صرف انتخابات جیتنے کا نہیں۔ اس کے بعد حکومت چلانے کے بھی معاملات ہیں۔ نواز لیگ کو توڑنے یا ختم کرنے کے لئے جو ہندسہ استعمال ہوگا وہی فارمولا نواز لیگ کی جگہ لینے والے یعنی پی ٹی آئی کے خلاف بھی استعمال ہوگا۔ 2018 ایک غیر یقینی صورتحال کا سال لگتا ہے۔ 

What lies behind New NRO and Deal
Sohail Sangi
Nai Baat Jan 2, 2018

No comments:

Post a Comment