Thursday, August 20, 2015

وزیر داخلہ کے قتل کے بعد: سہیل سانگی

وزیر داخلہ کے قتل کے بعد
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
وزیر داخلہ پنجاب کے دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل نے یقننا لاہور اور اسلام آباد اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان کو الرٹ کردیا ہے ۔سیاسی حکومت اور ریاستی اداروں کا فوری بھی ردعمل بیانات کی شکل میں سامنے آیا ہے۔لیکن یہردعمل روایتی رلگتا ہے۔ اس میں کتنی گہرائی ہے، اس کو عمل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد یقین کے ساھ کچھ کہا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ یہ سازش کرنے والوں کو سزائیں ملیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان جاری رہے گا۔ پنجاب کابینہ نے ایک قراداد کے ذریعے مرحوم وزیر داخلہ کو دہشتگردی کے خلاف کوششوں کو سراہا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صوبے میں دہشتگردوں کے خاتمے کے کئے کوششیں جاری رہیں گی۔
یہ تمام باتیں اچھی ہیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ ی سب کچھ کس طرح سے ہوگا؟ کون کرے گا وغیرہ۔ ممکن ہے آنے والے چند ماہ میں کسی پریس رلیز کے ذریعے میڈیا کو بتایا جائے کہ ملزمان کسی فضائی حملے یا مقابلے میں مارے گئے۔ ہاں اس امر کا بھی امکان ہے کہ پریس رلیز یہ بتائے کہ ملزمان کو فوجی عدالت نے سزا سنادی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی ٹھیک ہے لیکن اس پورے قصے کے ایک دو آخری مناظر ہونگے۔ یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اس کے پیچھے دراصل کون تھے؟ اورپوری کہانی کیا تھی؟ا اس میں کیا موڑ آئے چھوٹے بڑے اداکار، ہدایتکار کون تھے؟ اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ جو پریس رلیز میں بتایا جائے گا وہ ایک سرکاری موقف ہوگا۔ جس کی تصدیق میڈیا یا کسی آزاد فریق یا ا دارے کی جانب سے کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ابھی تک اس امر کا جائزہ لینا باقی ہے کہ صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں رکا ہوا تھا؟

حکومتی اور عسکری ذرائع کہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان، اور خیبر پختونخوا میں دشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں ہوئی ہیں۔ اور دہشتگردوں کے حملوں میں خود شہری علاوں میں بھی کمی آئی ہے۔ کئی دہشتگرد مارے گئے ہیں ان کا نیٹ ورک ٹوڑ دیا گیا ہے ۔ اس طرح کے دعوے پبلک اسکول پشاور کے سانحے سے پہلے بھی کئے جارہے تھے۔ لیکن پھر یہ سانحہ ہوگیا۔
ملک ایک طویل عرصے سے دہشتگروں کی نرسری بنا رہا ہے۔ جس میں مختلف قسم، رنگ، فکر اور مقاصد رکھنے والے گروپ سرگرم عمل ہیں۔ ان گروپوں نے اپنی اپنی عسکری قوت کو مجبوط کرنے اور ایک دوسرے سے نیٹ ورک بنانے کے ساتھ ہمارے سماج میں سیاسی سماجی، معاشی اور فکری رشتے بھی بنا لئے ہیں۔ لہذا سیاسی اور عسکری قیادت کے وعدے اپنی جگہ پر لیکن ان کے خلاف ایک طویل، منظم، مربوط اور کثیر رخوں میں لڑائی لڑی جائے گی تب جا کر اس آسیب سے نجات ملے گی۔
پنجاب کے وزیر داخلہ ریٹائرڈ کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کا ایک پس منظریہی ہے۔ دوسرا پس منظر یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کے باقی صوبوں اور علاقوں میں کارروائیاں جاری تھیں۔ لیکن پنجاب واحد صوبہ تھا جہاں شاید اکا دکا کارروائی ہوئی ہو۔ جب خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع ہوا تو مسلح گروپ وہاں سے نکلنا شروع ہوئے اور وہ ملک کے دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہوئے۔ ان کے زیرین علاقوں میں آنے کا راستہ پنجاب ہی تھا۔ نہ صرف پنجاب کے راستے یہ ملک کے دوسرے حصوں میں پھیل گئے بلکہ بعض نے خود پنجاب کو بھی اپنا مسکن بنایا۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی شایع ہوتی رہی ہیں کہ ان لڑاکا گروپوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد اور گرپوں کی بھی اچھی خاصی تعداد میں تھے۔ ایک زمانے میں پنجابی طالبان کی اصطلاح بھی چلی تھی۔ اگرچہ پنجاب حکومت اپنی تئیں اس کی تردید کرتی رہی۔ لیکن خفیہ ادارے اور میڈیا کی اطلاعات حکومتی موقف سے مختلف تھیں۔ گزشتہ عام انتخابات کے موقعہ پر بعض ایسے گرپوں کی جانب سے پنجاب کی حکمران جماعت کی مجموعی حمایت اور نواز لیگ کے بعض اہم صوبائی وزیروں اور اسمبلی ممبران کے رابطوں کی خبروں کی بھی ابھی سیاہی خشک نہیں ہوئی ہوگی۔اس لئے یہ پلان بننے کے فورا بعد مختلف حلقوں سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ پنجاب میں یہ کارروائی کرنا نواز لیگ حکومت کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ نہ صرف اس کے ووٹ بینک کا مسئلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر مجموعی سیاسی حمیت کا اشو بھی ہے۔ 

تجزیہ نگار اس پر بھی مصر ہیں کہ نواز لیگ کی سیاسی یا فکری اساس بھی مذہبی ہ یا دائیں بازو کی ہے۔ اس وجہ سے بھی ایسے عناصر سے فکری اور سیاسی قربت فطری بات ہے۔ گزشتہ عام انتخابات سے پہلے جب پیپلزپارٹی مرکز اور سندھ میں حکومت میں تھی، دہشتگرد کارروائیوں کی ایک بڑی لہر اٹھی تھی۔ اس لہر کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا یہ بیان میڈیا کی زینت بنا جس میں انہوں نے دہشتگردوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پنجاب کو بخش دیں اور وہاں اس طرح کی کارروائیاں نہ کریں۔ اور پھر واقعی وہاں اس طرح کارروائیاں نہیں ہورہی تھیں جس کا شکار ملک کے دوسرے علاقے ہو رہے تھے۔ پنجاب میں یہ دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں تب ہونا شروع ہوئیں جب شجاع خانزادہ وزیر داخلہ بنے۔ اسی دوران ملک اسحاق اور ان کے درجن بھر ساتھ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ شجاع خانزادہ کے خود کش بم کے واقعہ میں قتل کے بعد یہ معاملات کسی حد تک سامنے آئے ہیں کہ انہوں نے نیشنل پلان پر عمل درآمد کے لئے پوری حکمت عملی بنائی ہوئی تھی۔ لہذا ان کا قتل صرف ملک اسحق اور اسکے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ نہیں بلکہ پوری اس حکمت عملی کو روکنے کی کوشش سمجھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک کی حکمران پارٹی کو اپنے گڑھ پنجاب میں ایسا کوئی شخص ڈھونڈنے میں مشکل آرہی ہے جو شجاع خانزادہ کی جگہ کو پر کر سکے۔ 

کیا صوبائی حکومت خود اب اس بڑے چیلینج سے نمٹے گی یا اس کو سندھ کی طرح رینجرز یا فوج کی ضرورت پڑے گی؟ خدشہ ہے کہ اگراب بھی پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف بھر پور کارروائی نہیں ہوتی تو یہ صوبہ ان کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہ بن جائے۔ 

سندھ بلکہ خود پنجاب کے اہل فکر حضرات کا خیال ہے کہ ملک کے اس بڑے صوبے میں دائیں بازو کی فکر سیاسی طور پر حاوی ہوگئی ہے۔ لبرل ، روشن خیال اور ترقی پسند س فکر سکڑ گئی ہے اور وہ انا اسپیس کھو بیٹھی ہے۔ اسی دائیں بازو کی فکر کے آپس کے تضادات اور ایک دوسرے پر بالادستی ھاصل کرنے کی وجہ سے مختلف لہریں اٹھ رہی ہے۔ عمران خان اور علامہ قادری کا دھرنا ہو یا کوئی اور واقعہ اس کے ڈانڈے یہیں پر جاکر ملتے ہیں۔
نئی بات کے لئے لکھا گیا
August 20, 2015
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AF%D8%A7%D8%AE%D9%84%DB%81-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%AA%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF

Thursday, August 13, 2015

ایم کیو ایم کے استعیفے: پیپلزپارٹی کو نقصان ، پی ٹی آئی کو فائدہ

ایم کیو ایم کے استعیفے: پیپلزپارٹی کو نقصان ، پی ٹی آئی کو فائدہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
اسلام آباد کوایم کیو ایم کے پارلیمینٹرین کے استعفوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ کہ جس طرف صورتحال جا رہی تھی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کی دعویدار جماعت کوئی ایسا ہی کارڈ کھیلے گی۔ ایک روز پہلے تک ایم کیو ایم نے کسی بھی مرحلے پر یہ اظہار نہیں کیا تھا کہ صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ معاملہ استعیفے تک چلا جائے گا۔ اسلام آباد ابھی پی ٹی آئی کے استعیفو ں سے بمشکل جان چھڑا پایا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعیفے گلے پڑ گئے۔ پاکستان کی سیاست بھی عجیب ہے۔ یہاں ہر ماہ ایک نیا ڈرامہ اسٹیج ہوتا ہے۔ ابھی لوگ اس ڈرامے کے مقاصد پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔
صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض سوالات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔1) ایم کیو ایم نے استعیفے کیوں دیئے؟ 2) کیا یہ استعیفے منظور کر لئے جائیں گے؟ 3) ان استعیفوں سے کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان؟
استعیفوں کی وجہ ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان آپریشن کے حوالے سے ٹکراؤ ہے۔ ایم کیو ایم کہا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ الطاف حسین نے گزشتہ شب استعیفوں کے فیصلے پر عمل کرانے کی ہدایت دینے سے پہلے اپنے اراکین اسمبلی پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ووٹرز اور پارٹی کے مفادات کے لئے ایوانوں میں موثر آواز اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی میں جاری آپریشن جس پر ایم کیو ایم تحفظات کا اظاہر کرتی رہی ہے، وہ صرف رینجرز کا فیصلہ یا عمل نہیں ہے۔ اس فیصلے اور عمل میں تمام عسکری قوتیں شامل ہیں۔ بلکہ فیصلہ کرتے وقت سندھ کی دیگر اہم جماعتوں بشمول ایم کیو ایم سے بھی مذاکرات کئے گئے تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران یہ تاثر ملتا رہا کہ اسٹبلشمنٹ ایم کیو ایم کی قیادت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ جس کا اظہار بارہا خود الطاف حسین بھی کرتے رہے۔ اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے یہ کہا جاتا رہا کہ بطور سیاسی جماعت کے اسکو ایم کیو ایم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس کی مسلح ونگ سے ہے۔ جو ہر طرح کے جرائم میں ملوث ہے اور س کراچی میں امن و امان کا امسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یوں الطاف حسین اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان یہ جھگڑا چلتا رہا۔ الطاف حسین نے اس کے دوران فوج کے خلاف بیان بازی بھی کی، بھارت اور نیٹو کو بھی مداخلت کی اپیل کی۔ جواب میں ملک کے کئی شہروں میں الطاف حسین کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے۔ اور منتخب ایوانوں میں ان کے خلاف قراددایں بھی منظور کی گئیں۔ اس بات نے الطاف حسین کو یہ سجھایا کہ اگر منتخب ایوان اس کو (یا اسکی پارٹی کو) اپنا حصہ نہیں سمجھتے تو وہ یہ کارڈ کھیلیں۔ اور ایک سیاسی یا پارلیمانی بحران پیدا کریں۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام نواز لیگ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم اور پر کھڑا ہے۔ پی ٹی آئی اگرچہ اس کا حصہ ہے لیکن وہ خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ جس میں اسے ناکامی ہوچکی ہے۔
یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ استعیفوں کا کارڈ الطاف حسین نے اس لئے کھیلا ہے کہ وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ اس کی گرفت پارٹی پر ہی نہیں بلکہ منتخب نمائندوں پر ابھی بھی مضبوط ہے۔ جس کو بظاہر اسٹبلشمنٹ الطاف حسین الگ رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
کیا استعیفے منظور ہونگے؟ پارلیمنٹ میں موجود ممبران میں سے سوائے مولانا فضل الرحمان کے کسی نے رسمی طور ہی صحیح ایم کیو ایم کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ مختلف صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے خلاد مذمتی قرادادیں منظور کرانے بعد ایک سیاسی ماحول بن گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ سب کو پتہ تھا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ایم ایم کے اراکین میں سے کسی کا یہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ الطاف حسین کا فیصلہ تھا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ہر رکن سے فردا فردا استعیفے کی تصدیق کی ہے، آئینی طور پر اس تصدیق کے بعد استعیفے منظور نہ ہونے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ استعیفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن تیار کر لیا گیا تھا لیکن عین وقت پر وزیراعظم ہاوس سے فون آنے پر یہ نوٹیفیکشن روک دیا گیا۔ الطاف حسین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبے منظور ہوتے ہیں تو استعیفے واپس ہوسکتے ہیں۔ یہی بات سندھ اسمبلی کے اسپیکر سراج درانی نے بھی کہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مطلب بات چیت کی گنجائش ہے۔ اور حکمت عملی کے حوالے سے پیپلزپارٹی اس کے حق میں نہیں س۔ قوی امکان یہی ہے کہ استیعفے منظور نہیں کئے جائیں گے۔ اول یہ کہ پی ٹی آئی کے اراکین کے استعیفے چھ ماہ سے زائد عرصے تک پڑے رہے اور منظور نہیں کئے گئے۔ اس کی وجہ فنی یعنی اراکین کا خودحاضر ہو کر تصدیق کرنا نہیں تھی بلکہ سیاسی تھی۔ اس لئے پارلیمنٹ دہرا معیار قائم نہیں کر سکتی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ ہو ایم کیو ایم کو منائے۔ نواز لیگ سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفیے بحران پیدا کریں گے۔ ایوان میں عدم موجودگی سے پورے پرانے سسٹم کا ایک چھوٹا ہی سہی لیکن اہم حصہ ٹوٹ کر الگ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سنیٹ میں پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔ کیونکہ ایم کیو ایم سنیٹ میں جو نشستیں خالی کرے گی وہ سندھ سے ہیں اور سندھ میں پیپلزپارٹی اکثریت میں ہے۔ سنیٹ میں نواز لیگ پہلے سے کمزور ہے اس کے بعد وہ مزید کمزور ہو جائے گی۔پیپلزپارٹی کو یہ فائدہ صرف سنیٹ کی حد تک ہوگا۔ لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے بڑا چیلینج ہوگا۔ اس بات کا عندیہ الطاف حسین کی تقریر سے بھی ملتا ہے جس میں وہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی سے مخاطب ہوئے ہیں۔ استعیفے منظور ہونے کے بعد ایم کیو ایم ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر دوبارہ مینڈیٹ لینے کی کوشش کرتی ہے یا بائکاٹ کرتی ہے؟ اس نے یہ آپشن ابھی اوپن رکھا ہے۔ اگر بائکاٹ کرتی ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی میں پی ٹی آئی اپنی جگہ بنائے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کو جگہ ملنے سے نہ صرف اسکو نئی ورکنگ رلیشن شپ میں جانا پڑے گا بلکہ مجموعی طور پر اس کو خطرہ ہے۔ ابھی نہ سہی، آئندہ انتخابات میںیہ جماعت خیبر پختونخوا اور کچھ نشستیں پنجاب سے لیکر باقی سندھ سے لے کر ایسی پارٹی بن سکتی ہے جس کے مرکز میں حکومت بنانے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم میں یہ صلاحیت نہیں۔ لہٰذا یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کوی پارٹی سندھ کی بنیاد پر مرکز میں حکومت بنانے کی کوشش کرے یا اس کی امیدوار ہو۔ مجموعی طور پر ملک ایک اور سیاسی بحران میں پھنس گیا ہے، اس بحران کا مرکز ایک مرتبہ پھر سندھ کی طرف ہو گیا ہے۔ آخری نیتجے میں باقی چیزوں کے علاوہ سویلین اختیار مزید کمزور ہونے کا احتمال ہے۔ 

Sohail Sangi
 Nai baat link
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%B5

Tuesday, August 11, 2015

ادریس بختیار میرا راجستھانی اور حیدرآبادی دوست

ادریس بختیار میرا راجستھانی اور حیدرآبادی دوست
سہیل سانگی
یہ واہمہ ہے کہ علم ، دانش، ادب کراچی یا پھر لاہور اور اسلام آباد پر ختم ہیں۔ ملک کے باقی حصوں کو دیہات یااندرون ملک، اندرون سندھ سے موسوم کیا جاتا ہے، جیسے یہاں پر بھاؤ لوگ یا پینڈو رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے۔ حیدرآباد کی اہمیت لکھنے پڑہنے کے حوالے سے کبھی بھی کم نہیں رہی ۔ صرف سندھی بولنے والے ہی نہیں بلکہ اردو بولنے والوں میں بھی بہت بڑے نام حیدرآباد نے ہی پیدا کئے۔ شاعروں میں حمایت علی شاعر، محسن بھوپالی، اختر اکبر آبادی کے نام سر فہرست ہیں۔ پاکستان کے مزاحیہ شاعری میں بھی عنایت علی خان، چھوٹے بحر میں اچھی غزلیں لکھنے والے قابل اجمیری کا تعلق بھی حیدرآباد سے تھا۔ رومانوی شاعری یا شاعری کو خاتون کے روپ میں بیان کرنے والی شاعرہ بھی فہمیدہ ریاض حیدرآباد سے ہیں۔ تاریخ کو نئے انداز سے بیان کرنے اور لکھنے والے ڈاکٹر مبارک علی یا مشہورتعلیم دان مرزا عابد عباس بھی حیدرآبادی ہیں۔

اسی طرح سے صحافت کی دنیا کے بڑے ناموں میں بات صرف ظفر عباس، مظہر عباس ، حبیب غوری پر ہی ختم نہیں ہوتی۔یوں صحافت، ادب اور تعلیم کے شعبوں میں اپنا پیدا کرنے والے حیدرآبادیوں کی ایل لمبی لسٹ ہے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ادریس بختیار اب بزرگی کی حدود کو چھو رہے ہیں۔ انہیں حال ہی میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا ہے ان کا تعلق بھی حیدرآباد سے ہے۔گزشتہ روز ان کے اعزاز میں کراچی میں بسنے والے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے حضرات نے رہائشیوں نے اپنی تنظیم ’’پھلیلین ‘‘ کے زیر اہتمام تقریب منعقد ہوئی ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے ہم شہر لوگوں نے انہیں تب تسلیم کیا جب انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی ملا۔

ادریس بختیار کے آباؤ اجداد اجمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے وہ صرف حیدرآبادی ہی نہیں کافی حد تک اجمیری بھی ہیں۔ حیدرآباد میں یہ محاورہ عام ہے کہ اجمیروں کو نہ خوشبو آتی ہے نہ بدبو، لیکن ادریس صاحب کے معاملے میں ایسا نہیں۔ وہ بہت سادگی پسند، مہامن نواز اور خوش مزاج طبیعت کے مالک ہیں۔
ادریس اور میں دو الگ انتہائیں ہیں۔ وہ پکا جماعتیہ اور میں ٹہرا سرخا۔ہماری دوستی زمان اور مکان کی قید سے ہٹ کر ہے۔ پکی اور پختی ۔ جب بھی ملیں جہاں بھی ملیں۔ ہم ویسے کے ویسے ہیں۔دنیا میں بہت بدلاؤ آیا ہے لیکن اس بدلاؤ نے آپس کے تعلق کے حوالے سے کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔
ادریس صاحب سے میری پہلے ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب خطے میں سرد جنگ کو گرم جنگ میں تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھی۔ پاکستان اور افغانستان میدان جنگ بننے والے تھے۔ اس تیاری کے طور پر پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف پی این اے کے نو ستاروں کی تحریک چلی تبدیل ہوری تھی۔ بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔ وہ انتخابات کی کوریج کے حوالے سے حیدرآباد تشریف لائے تھے۔ میرے دوست علی حسن، جن کے بارے میں مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ صرف میرے نہیں ادریس صاحب کے بھی دوست ہیں ملاقات ہوئی۔ وہ ہاتھ میں کیمرا لئے ہوئے تھے۔ باتوں سے مجھے وہ صحافی سے زیادہ فوٹوگرافر لگ رہے تھے۔

علی حسن نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں ہم دونوں کا ایک دوسرے تعارف کرایا۔ الفاظ تو مجھے یاد نہیں۔ مفہوم کچھ اس طرح کا تھا کہ ہم دو فکری اور سیاسی طور پر الگ الگ انتہا ہیں۔ میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والا اور پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت کا حامی۔ کچھ سیاسی صورتحال پر بحث ہوئی۔ میں ان خاصے عرصے تک شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا کہ وہ ہمارا سیاسی مخالف ہے۔ لیکن انہوں نے کسی لمحے بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کا سیاسی مخالف ہوں۔بہت جلد میرے شکوک دور ہو گئے۔ میں بھی انہیں ایک اچھا دوست سمجھنے لگا۔یعنی ہماری دوستی میں کبھی بھی نظریاتی سرحدیں آڑے نہیں آئیں۔ جب بھی وہ حیدرآباد آتے تھے رات کو اسٹیشن روڈ پر واقع کیفے فردوس کے تھلوں پر ان کے ساتھ محفلیں جمتی تھیں۔ ویسے بھی حیدرآباد کی تھلہ پالیٹکس اور مباحثے مشہور ہیں۔ تعلقات، آپس میں مل بیٹھ کر بحث اور باتیں کرنا حیدرّباد کا مخصوص کلچر ہے۔ حیدرآباد مکس آبادی کے باوجود شہر اور دیہات کا امتزاج ہے۔ شاید اس لئے بعض لوگ اس شہر کو بڑا دیہات کہتے ہیں۔
جماعتیہ ہونے کے باجود ادریس صاحب فکر اورسوچ میں رجڈ یا سخت گیر نہیں۔ وہ بندھے ٹکے فکر اور خیالات سے ہٹ کر سوچتے ہیں۔ اختلاف رائے، یا نئی معلومات پر ردعمل کے معاملے میں ان کا مخصوص ردعمل ہوتا ہے۔ مثلا’’ ایسا تھوڑے ہی ہے‘‘۔’’ ہو سکتا ہے‘‘، ’’شاید‘‘، ’’دیکھنا پڑے گا۔‘‘ اس معاملے میں خاصے اوپن ہیں۔ وہ اپنے اہل عیال سمیت جماعت اسلامی کے حامی ہیں۔ لیکن ان کی اس اوپن نیس کی وجہ سے مجھے ہمیشہ شک رہتا ہے کہ وہ واقعی اصلی تے وڈے جماعتیے ہیں بھی یا نہیں؟ کم از کم مجھے وہ خاصے mis fit لگتے ہیں۔ صلاح الدین صاحب جیسے سخت گیر ایڈیٹر کے ماتحت کام کرنے والے ادریس کے کھاتے میں یہ بات ب شمار ہوتی ہے کہ کراچی میں ایک سرخے کا بیٹے کو ایک جماعتیے نے بلا نظریاتی امتیاز یا تعصب کے اچھی تربیت دی اور بہت کچھ سکھایا۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ایم اے کیا۔ بعد میں کراچی میں ملازمت کے دوران کراچی یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کرنے کی کوشش کی۔ لیکن نہ کر پائے۔ کراچی یونورسٹی کو ان کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا یا وہ اس یونیورسٹی کا فلسفہ سمجھ نہ سکے۔کسی زمانے میں انہوں نے بہت پڑھا، ادب، سیاست، تاریخ ، فلسفہ ،کرنٹ افیئرس وغیرہ۔ اب شاید ہی پڑھتے ہوں۔ اب تو لوگ ان پر یا انکو پڑھنا چاہ رہے ہیں۔
ادریس بختیار صاحب کی صحافت کی مسافری خاصی لمبی ہے۔ ڈیلی انڈس ٹائیمز حیدرآباد سے شروع ہونے والا سفر عرب نیوز سے ہوتا ہوا، جسارت، اسٹار ،ہیرالڈ تک ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں۔ انہوں نے انڈین اخبار ٹیلیگراف اور بی بی سی میں بھی طویل عرصے تک کام کیا۔ آج کل جنگ گروپ سے وابستہ ہیں۔ انہیں مقامی، یا پھر جسارت جیسے خالصتا سیاسی پارٹی کے آرگن سے لیکر عالمی میڈیا تک کثیر جہتی صلاحیت اور تجربہ ہے۔ وہ صحافت کے معاملے میں بالکل ہی پروفیشنل ہیں۔
ادریس سے میرا ایک اور شتہ ہے وہ یہ کہ میں بھی راجستھانی ہوں اور وہ بھی۔ راجستھان اور تھر کی دھرتی بہت زرخیز ہے۔ جہاں کہیں جگہ ملے اس زمین کے لوگ اپنی جگہ ہی نہیں بلکہ نام بنا لیتے ہیں۔تھر کے مسکین جہان خان کھوسو ہوں یا ماہر نفسیاتی امراض ڈاکٹر ہارون احمدہوں ، مہدی حسن ہوں یا کراچی کے سابق میئرنعمت اللہ خان یا پھر ادریس بختیار۔ بلکہ میں باغ علی سلاوٹ کی اس تھیوری سے متفق ہوں کہ اس بر صغیر کی ابتدائی زبان سنسکرت وغیرہ نہیں راجستھانی ہے۔ اور میرا، کبیر اور اس دور کے دیگرشعراء نے ہندی میں نہیں راجستھانی میں شاعری کی ہے۔ اپنی اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لئے کراچی سے تعلق رکھنے والے باغ علی سلاوٹ نے راجستھانی ادب اور راجستھانی قاعدہ کے نام سے دو عدد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ باغ علی کا یہ دعوا مجھے اس لئے بھی درست لگتا ہے کہ برصغیر کے تمام گائک جب موسیقی سیکھتے ہیں تو ان کے لئے مشہور راجستھانی لوک گیت ’’کیسریا بالم آؤ نا مارے دیس‘‘ بطور قاعدہ کے گانا پڑتا ہے اور اس پر عبور حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ادریس بختیار حیدرآباد چھوڑ کر کراچی آئے۔حیدرآباد سے انسیت کا یہ عالم تھا کہ برسہا برس تک بھابھی ( ادریس صاحب کی بیگم ) ہر ماہ گھر کے راشن میں سے مصالحے حیدرآباد سے ہی خریدتی تھیں۔ لیکن انہوں نے حیدرآباد سے رشتہ نہیں توڑا۔ جب تک ان کی اولاد جوان ہوئی اور ان کی اولاد نے خود کو حیدرآباد کے بجائے کراچی کا بنا دیا۔
سیاست اور صحافت نظریاتی کے بجائے اب جب لسانی اختلاف کی شکل اختیار کرچکی، کئی لوگ اسی حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور بعض لوگ اس میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ ادریس بختیار اس پرانی جنریشن کے ہیں جس کے اختلافات نظریاتی تو تھے لیکن لسانی نہیں ہوتے تھے۔ یہ جنریشن اب ناپید ہوتی جارہی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہماری جنریشن تک صرف نظریاتی اختلافات تھے جس نے ذاتی دشمنی کی شکل اختیار نہیں کی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دریائے سندھ کی روانگی کی طرح ہماری دوستی چلتی رہی ہے اس نے ذہنوں اور دلوں کو سیراب تو کیا ہے لیکن کبھی بنجر نہیں بنایا۔

Thursday, August 6, 2015

سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی کوشش

سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی کوشش
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ نہایت ہی اہم دور سے گزر رہا ہے ۔ جہاں سیاسی ، انتظامی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ بعض ایسی بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، لیکن ان کا اثر کچھ مستقبل قریب میں اور کچھ آنے والے وقتوں میں نظر آئے گا۔ پہلے مرحلے میں بعض اعلیٰ افسران کت تبادلے کئے گئے، دوسرے مرحلے میں کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کور کمانڈر سے ملاقات کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
 چاند رات کوآٹھ سے زائد ڈپٹی کمشنروں اور بعض دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلوں اور بعد میں دبئی میں پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کے بعد پختہ خیال تھا کہ اب پیپلز پارٹی خود کو بھی تبدیل کرے گی اور سندھ میں بھی تبدیلی لے آئے گی۔
اس تمام مشق کا نتیجہ کیا نکلا؟ بعض وزرائے کے قلمدان تبدیل کردیئے گئے ہیں کچھ افسران کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ کیا یہ ردوبدل ان حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہے جو معاملات کو ٹھیک کرنے کا دعوا کرتے رہے ہیں۔ اسی دعوے سے کے ساتھ مختلف دفاتر پر چھاپے مارتے رہے ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی کر چکے ہیں۔
یہ امر باعث حیرت ہے کہ سندھ کے بارے میں اہم فیصلے کرنے کے لئے پارٹی کا اہم اجلاس آخر دبئی میں بلایا گیا۔ اس جلاس میں شرکت کے کئے نصف درجن سے وزراء اور وزیراعلیٰ نے دبئی کا سرکاری خرچ پر سفر کیا ۔ دبئی کے اجلاس میں کابینہ میں ردو بدل، مختلف انتظامی معاملات، اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمداوربلدیاتی انتخابات پر غور کیا گیا۔ ان سب معاملات پرغور کے لئے اجلاس صوبے کے دارلحکومت کراچی میں بھی ہو سکتا تھا۔ کراچی دبئی سے ایک گھنٹے کا ہوائی سفر ہے۔
دبئی میں اجلاس منعقد کرنے پر سیاسی حلقے دو طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں۔ کیا سابق صدر آصف علی زرداری نے اپیکس کمیٹی کے کرپشن کےخلاف اقدامات کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ہے؟ دوسرے یہ کہ کیاسندھ کے معاملات اتنے آسان ہیں کہ انہیں بڑے مزے سے ریموٹ کے ذریعے دبئی سے چلایا جاسکتا ہے؟
ایسا صوبہ جس کے دارحکومت میں امن و مان کی بدترین صورتحال کے بعد آپریشن چل رہا ہو، جس کا ساٹھ فیصد بارانی علاقہ دو سال سے قحط کا شکار ہو، تعلیم ، صحت اور بنیادی شہری سہولیات کا نظام ٹوٹ چکا ہو۔ اس کو ریموٹ پر کسے چلایا جارہا ہے؟

کابینہ میں ردوبدل ہو یا بعض افسران کا تبادلہ یہ فیصلے پیپلزپارٹی نے رضاکارانہ یا اپنے طور پر نہیں کئے ہیں۔ یہ سب بعد از خرابی بسیار کئے گئے ہیں۔ یہ تب ہوا جب صوبے کی حکمران جماعت عوام کا مینڈیٹ پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کرپشن، خراب حکمرانی اور خراب کارکردگی کے شدید الزامات کے بعد یہ فیصلے کئے ہیں۔
لہٰذا یہ مجبوری کے فیصلے ہیں۔ تبدیل کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہی پرانے چہرے کابینہ میں رکھے گئے ہیں ان کے صرف قلمدان تبدیل ہوئے ہیں۔ کیا اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ اگر کسی وزیر کے خلاف خراب کارکردگی ، خراب حکمرانی یا مبینہ بدعنوانی کے الزامات تھے، اس کا قلمدان تبدیل کرنے سے حالات اور معاملات سدھر جائیں گے؟
پیپلزپارٹی کے پاس تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔ اس پارٹی کے حصے میں ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی دوسری حکومت کو حاصل نہیں تھے۔ ان وزراءاور ایم پی ایز کو صرف حکومت میں وزیر یا حزب اقتدار میں رہنے کا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن میں رہنے اور وہاں بیٹھ کر سیاست کرنے کا بھی تجربہ ہے۔ یہ صرف افسوس کا نہیں بلکہ تعجب کا مقام بھی ہے۔
ہوتا یہ رہا ہے کہ محکمے کا قلمدان خواہ کسی کے پاس ہو، اس کو زیر کے بجائے عملی طور پر مختلف اشکال میں پراکسی ہی چلاتے رہے ہیں۔ یہ پراکسی کبھی سیکریٹری کی شکل میں تھی جو وزیر سے بھی زیادہ بااختیار تھی۔ تو کبھی نجی شخص جس کی سرکاری یا پارٹی میں خواہ کوئی حیثیت نہ ہو، کی شکل میں تھی جس کو تمام عملی اختیارات ہوتے تھے۔ مختلف وزراءیہ شکایات کرتے رہتے تھے کہ پارٹی کی ایک اہم رکن یا ان کی ” کچن کابینہ“ تمام فیصلے کرتی تھی اور حکم دیتی تھی۔ اس کے فیصلے اور احکامات کو وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ بلکہ سندھ اسمبلی سے بھی برتری اور بالادستی حاصل ہوتی تھی۔
 یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض فیصلے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جو گزشتہ چند برسوں سے سندھ کے معاملات دیکھ رہی تھیں اور چند ہفتے قبل اچانک بیرون ملک چلی گئی تھیں، ان کی لندن سے دبئی پہنچ کر اجلاس میں شرکت کے بعد تبدیل کئے گئے ہیں۔

 حد کمال یہ ہے کہ ان تمام شکایات اور الزامات کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ نہ کسی وزیر کو کابینہ سے نکالا گیا اور نہ ہی کوئی اور کارروائی کی گئی۔ اس کی سزا یہ قرار دی گئی کہ محکمہ تبدیل کردیاگیا۔ سوائے ناصر شاہ کے کوئی نیا چہرہ بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سردار علی شاہ اور فیاض بٹ دو ایسے نام تھے جن سے نوجوانوں کی امنگوں کی ترجمانی کی امید کی جاسکتی رہی ہے۔ان دونوں کے نام آخری مرحلے پر خارج کردیئے گئے۔ لہٰذا اب کابینہ کی ٹیم بھی پرانی ہے اور کپتان بھی پرانا ہے۔ جو ٹیم گزشتہ سات سال میں کارکردگی نہ دکھا سکی وہ اب کیا بہتری لے آئے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایک کے پاس ہے۔

پرانی ٹیم کے قلمدان تو تبدیل کردیئے گئے لیکن اس کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ان وزراءکو خود مختاری کے ساتھ فیصلہ سازی اور اپنے محکمے کے انتظامات چلانے کا اختیار حاصل ہوگا؟ تاکہ وہ اپنی کارکردگی دکھا سکیں۔
 حالیہ ردوبدل میں ایساکچھ ہونا خارج از امکان لگتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ متوقع بلدیاتی انتخابات عام لوگوں کو یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ کابینہ یا بعض افسران کی رد وبدل سے معاملات ٹھیک ہ وجائیں گے۔ لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ ” آئی واش“ لگتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پیپلزپارٹی خود کو خراب حکمرانی، خراب کارکردگی اور مبینہ کرپشن کے الزامات سے بری کرے۔ یہ وہ الزامات ہیں جو عوام بھی لگا رہے ہیں اور ریاستی ادارے بھی۔ ایسے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھاے جو نہ صرف لوگوں کو نظر آئیں بلکہ عملی طور پر محسوس بھی ہوں ۔
اگر فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو بطور متحرک جماعت رہنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ عوام کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرے۔ اسکو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنائے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور سویلین اختیار

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور سویلین اختیار
 میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث کے دروازے کھلے ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات پر بحث بھی ہوتی رہے گی۔ ممکن ہے کہ اس ضمن میں اپیل یا نظر ثانی کی درخواست بھی دائر ہو۔ آنے والے وقت نے وفاقی خواہ صوبائی حکومتوں پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ یہ حکومتیں سسٹم کو ٹھیک کریں۔ تاکہ ملک میں سویلین عدالتی سسٹم ٹھیک ہو۔ اگر ان حکومتوں نے روایتی سستی، اور کمی کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو فوجی عدالتوں کے بارے میں عوام یہی رائے دیتے رہیں گے جو وہ سندھ میں رینجرز کی تعینات کے بارے میں دیتے رہے ہیں۔

پارلمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے اکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ اس کے نیتجے میں سویلین شہری پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانا قانونی قرار دیا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے رواں سال جنوری میں دو تہائی اکثریت سے یہ آئینی ترمیم منظور کی تھی۔اس پر عدالت عظمیٰ نے بھی مہر ثبت کردی ہے۔ اب فوجی عدالتوں سے سویلین کو قید اور موت کی سزائیں بھی مل سکتی ہیں۔

 اب ملک میں 2016 تک عملا متوازی عدالتی نظام رائج ہو گیا ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا یہ حصہ قابل تحسین ہے کہ اس نے پارلیمنٹ کی رائے اور اسکی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پارلیمنٹ کی رائے میں نقص تھا، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں اس طرح سے فوجی عدالتیں نہیں ہوتی۔ جو ملک میں گزشتہ سال دسمبر میں پشاور سانحے کے بعد عسکری قیادت نے لاگو کردی ہیں۔

 وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ © ©” یہ ترمیم اعلیٰ جمہوری تصورات سے متصادم ہے۔ لیکن ملکی کی غیر معمولی صورتحال میں یہ ناگزیر ہے۔“

تب سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے لیڈر اور موجودہ چیئرمین سنیٹ رضا ربانی کے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ پارلیمنٹ خود اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرچکی ہے۔

 سترہ میں سے اکثریت نے اکیسویں ترمیم اور اس کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو جائز قرار دیا ہے جبکہ چھ ججوں نے اختلاف کیا ہے۔ سات ججز نے فیصلے میں اپنی الگ رائے لکھی اور دو ججز نے اضافی نوٹ لکھے۔
جسٹس جواد ایس خواجا جنہیں اب نئے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ اکیسویں ترمیم کو کالعدم ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ 

جسٹس اعجاز افضل ترمیم کو کالعدم قرار دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فوجی عدالتوں زیر التوا مقدمات خصوصی عدالتوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی ترمیم کو کالعدم قرار دے، خواہ یہ ترمیم انسانی حقوق سے متصادم کیوں نہ ہو۔

سیاسی پس منظر جس میں یہ ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہوئی اور جوں کی آراء کی وجہ سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ لہٰذا آنے والے وقتوں میں اس فیصلے پر بحث ہوتی رہے گی۔ کیونکہ اس میں بعض اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اور اس فیصلے کا ملک کی سیاست اور نظام پر دور رس اثرات ہونگے۔ مستقبل میں آئینی ترامیم کو عدالت میں چلینج کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جیسے بنیادی تصور کے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔ عدلیہ آزاد ہے۔ اور عدلیہ کو ختیارات دینے والی پارلیمنٹ سپریم ہے یا عدلیہ سپریم ہے؟

 ترمیم منظور کرتے وقت یہ کہا گیا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کو اکیسویں ترمیم کی کڑوی گولی کھلائی گئی۔ اور اس کے ری ایکشن کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا۔ جواس ری ایکشن کے لئے بطور نسخے کے کام آئے گا۔ایک نئے نظریہ ضرورت نے جنم لیا ہے۔ حکومت کو بھی جواز مل گیا۔ عسکری قوتوں کو قانونی اور عدلیہ کی مہر لگی ہوئی سند مل گئی۔ لوگوں کو امن چاہئے جو سویلین نظام اپنی بہت ساری خرابیوں کی وجہ سے نہیں دے پا رہا تھا۔

منتخب نمائندوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کا غیر جمہوری راستہ اختیارکرنے کے بعد ملک کو ا س حوالے سے دو طرفہ چیلینج کا سامنا ہے ہیں۔ اول یہ کہ کرمنل عدالتی نظام میں اس طرح اصلاحات کی جائیں کہ 2016 میں اکیسویں ترمیم کے خاتمے کی تاریخ کے بعد فوجی عدالتوں کی میعاد میں مزید اضافہ نہ ہو۔ بظاہر نہیں لگتا کہ وزارت قانون اس نکتے پر کام کر رہی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس زاہد حامد جن کو پرویز مشرف کے مقدمے میں ملوث کیا جارہا ہے اس کے بعد کل وقتی وزیر بھی نہیں۔ وزارت قانون کے ذمہ اس اہم کام کے علاوہ انتخابی اصلاحات کی سفارشات تیار کرنا بی ہے۔

جڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ کام اتنی ہی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بھی بظاہر کوئی انتظامی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں جس سے اندازہ ہو کہ عدلیہ کا نچلا نظام بہتر بنایاجارہا ہے۔ کرمنل جسٹس کا نظام نہ حکومت کی ترجیح ہے اور نہ عدلیہ کی ۔ لہذا اس شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ترمیم میں مقرر میعاد کے بعد فوجی عدالتی ختم ہوں۔

آخری تجزیے میں سول یا ملٹری بالادستی کا سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پچاس کے عشرے میں ایوب خان کے اقدامات کے موقع پر تھا۔ 1973 کے آئین میں آخری کوشش کی گئی۔ لیکن ضیاءالحق کے مارشل لاء نے اس کوشش کو لگتا ہے ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ عسکری اختیار اب زیادہ طاقتور ہو جائے گا کہ سول بالادستی کا سوال ایک خواب سا رہ جائے گا۔

دو سال تک فوجی عدالتیں اور ان کا طرییقہ انصاف چھایا رہے گا۔سویلین عدالتی نظام کونے میں لگ جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ نے یہ ترمیم پاس کرکے بقول رضا ربانی کے اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے تھے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس فیصلے سے عدالتوں نے اپنے اختیارات کم کر دیئے ہیں؟
 
 for August6, 2013 Nai Baat

پلی باگیننگ یا کرپشن کی اجازت

پلی باگیننگ یا کرپشن کی اجازت
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے دو فہرستیں سپریم کورٹ میں جمع کرا ئی ہیں۔ 150میگا کرپشن کیسزپر مشتمل پہلی فہرست  جولائی کے پہلے ہفتے میں جمع کرا ئی گئی تھی ۔فہرست کے مطابق سابق صدر، دو سابق وزرائے اعظم، ایک سابق نگران وزیراعظم، بلوچستان اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف بھی بد عنوانی کے مقدمات ہیں۔فہرست میں ریلوے کے چیئرمین ریٹائرڈ جنرل سعید الظفر کا نام بھی شامل ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رائل پام گالف کلب کی تعمیر کیلئے 103 ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کی تھی۔ ان 150میگا سکینڈلز کی تین کیٹگریز ہیں۔پہلے درجے میں 50 مالی میگا سکینڈلز، دوسرے درجے میں 50 زمینوں کے میگا سکینڈلز اور تیسرے درجے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق 50میگا سکینڈلز درج ہیں۔ 

دوسری فہرست میں 480 ارب کے مزید 29 میگا سکینڈلز درج ہیں۔ فہرست میں مالی بدعنوانی، زمینوں میں گھپلے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نئی فہرست میں شامل میگا کرپشن کیسز میں این ایل سی کی جانب سے سٹاک ایکس چینج میں بغیر منظوری کے4 ارب کی غیر تصدیق شدہ سرمایہ کاری کا کیس ہے، جس میںاین ایل سی کیس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد منیر اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد افضل کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب بینک کے سابق ڈائریکٹر خرم افتخار پر قومی خزانے کو چھ ارب کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔اسی طرح پیپکو اختیارات کے غلط استعمال کے باعث قومی خزانے کو 13ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں50ارب کی کرپشن کا الزام ہے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے350 ایکڑ اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے باعث خزانے کو350ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری میںحصص خرید کرنے والی غیر ملکی کمپنی انتظامیہ کی ملی بھگت سے800ملین ڈالر کی رقم نہیں وصول کی جاسکی۔
 
سندھ میں حال ہی میںپچا س سے زائد کرپشن کیسز سامنے آئے ہیں۔ بعض افسران کی گرفتاریاں ہوئی ہیں جبکہ بعض موقعہ ملتے ہی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ بعض نے قبل از گرفتاری ضمانتیں کرالی ہیں ۔ تاحال سندھ سے کسی سیاسی شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا۔ جولائی میں جس طرح سے نیب ، رینجرز اور ایف آئی اے کارروایاں کر رہی تھی ، وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں اب یہ کارروایاںمدھم پڑ گئی ہیں۔
 
دراصل یہ چند ایک کیسز ہیں جن کا ذکر نیب کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ وہ شاید اس وجہ سے کہ اس میں بڑے نام اور بہت بڑی رقم ہے۔ہمارے وطن عزیز میں کرپشن معمول بن گیا ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے تو اوپر سے لیکر نچلی سطح تک ہزاروں کیسز سامنے آئیں گے۔ اب کرپشن پاکستان کا سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ 

معاملہ صرف سیاسی حکومتوں کے دور کا نہیں مشرف دور میں غبن ، سکینڈلز ، 2005 کے زلزلے میں ملنے والی امدادی رقوم میں بدعنوانی پر پردہ ڈالا گیا۔  

اگر یہ ساری رقم کرپشن میں چلی نہ جاتی تو یقینا آج ہماری ملکی معیشت اور عوام کی صورتحال بہتر ہوتی۔ اس کرپشن کی وجہ سے سیاسی ابتری، معاشی بدحالی، امن و امان کی تباہی کا سامنا ہے۔اچھی حکمرانی اور عام لوگوں کو کچھ دینے کا معاملہ ایجنڈا کا حصہ ہی نہیں رہا۔ ملک بیرونی قرضوں پر چل رہا ہے۔ اور ہم سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر غیر ملکی ایجنڈے پر چل پڑے ہیں۔
 
سندھ میں بعض پلی باگیننگ کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ ماضی میں بھی نیب نے پلی بارگیننگ کے ذریعے کئی سو ارب روپے کے کرپشن کیسز میں صرف 15 ارب روپے کے عوض 285ملزمان سے معاہدہ کر کے انہیں رہا کیا۔ ان میں سے 150 ملزمان نے پلی بارگیننگ کے کئی سو ارب کے بجائے صرف 2 ارب روپے جمع کرائے۔ 

پلی بارگیننگ اپنے صحیح مفہوم میں اقبال جرم ہے اور ملزم کسی بڑی سزا سے بچنے کے لئے کرتا ہے۔اس کے عوض ملزم کو بعض مراعات مل جاتی ہیں۔ جبکہ استغاثہ طویل قانونی جنگ سے بچنے کے لئے یہ راستہ اختیار کرتا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں بعض مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوتا۔ مثلا بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم، یا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے کیسز۔ 

امریکہ جہاں دنیا میں سب سے زیادہ پر فوجداری مقدمات پلی بارگین کے ذریعے حل ہوتے ہیں وہاں بھی مندرجہ بالا مقدمات میں یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ عدالت سے باہر فریقین کے درمیان ڈیل یا مقدمے کا فیصلہ ہے لیکن اس پوری ڈیل کی عدالت سے منظوری ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ عدلیہ اگر بیچ میں نہ ہو ، صرف استغاثہ اور ملزم کے درمیان معاملات طے ہوں ، اس صورت میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ استغاثہ خود فریاد درج کرنے والا، تفتیش کرنے والا اور فیصلہ یا انصاف کرنے والا بن جاتا ہے۔  

۔ 2007 میں انڈیا کا سکھارام باندیکر مقدمہ مشہور ہوا جس میں عدالت نے پلی پارگین کو یہ کہکر مسترد کردیا تھا کہ یہ کرپشن کو معاملہ ہے لہٰذا پلی بارگین غلط ہے۔ بعد میں عدالت نے ملزم کو سزا سنادی۔ یہی عمل دنیا کے دیگر ممالک میں رائج ہے ۔
 
اگر کسی ملزم نے ایک ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔ اور وہ پکڑا جاتا ہے تو پلی بارگین کر کے چند کروڑ روپے ادا کر کے الزامات سے بری ہو جاتا ہے۔ اور دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ یہ رقم بھی قسطوں میں جمع کراتا ہے۔ مطلب ایک ارب روپے کی کرپشن کر کے کوئی کاروبار شروع کردیا جائے اور بعد میں اس رقم کا معمولی سا حصہ پلی بارگین کے ذریعے ادا کیا جائے۔ یہ سہولت کسی بینک سے قرضہ لینے کی صورت میں بھی حاصل نہیں ہوتی۔ 

کرپشن یا دیگر فوجداری مقدمات میں جہاں نقصان پیسے کی شکل میں بھی ہوتا ہے وہاں عموما عدالت تین سزائیں سناتی ہے۔ یعنی قید، جرمانہ، اصل رقم کی ادائگی، ملازمت سے برخواستگی، اور سزا کے نتیجے میں کوئی عوامی عہدہ یا رکن اسمبلی ہونے سے نااہلی۔ پلی بارگیننگ کی صورت میں صرف رقم کا معمولی حصہ وصول کی جاتی ہے۔ باقی کوئی سزا یا جزا لاگو نہیں ہوتی۔ یعنی ایک شخص جرم کرتا ہے، اس پر جرم ثابت ہوجاتا ہے وہ اقبال جرم بھی کرتا ہے ، پھر بھی ہو سرکاری ملازمت یا عوامی عہدہ رکھنے کا اہل ہی رہتا ہے۔ 

مطلب کرپشن کے بعد واپس سرکاری ملازمت کرے اور پھر کرپشن کرے۔اور پلی بارگیننگ کرے۔ یوں یہ سائیکل کا چکر چلتا رہے۔ یہ صورتحال کرپشن کو کم کرنے کے بجائے بڑہانے میں مدد دے گی۔ قومی خزانہ لوٹنے والے مجرموں کو تحفظ دے گی ۔ نتیجے میں اچھی حکمرانی، میرٹ ، عوامی مفادات اور خزانے کا تحفظ ایک خواب ہی رہے گا۔