Thursday, August 6, 2015

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور سویلین اختیار

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور سویلین اختیار
 میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث کے دروازے کھلے ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات پر بحث بھی ہوتی رہے گی۔ ممکن ہے کہ اس ضمن میں اپیل یا نظر ثانی کی درخواست بھی دائر ہو۔ آنے والے وقت نے وفاقی خواہ صوبائی حکومتوں پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ یہ حکومتیں سسٹم کو ٹھیک کریں۔ تاکہ ملک میں سویلین عدالتی سسٹم ٹھیک ہو۔ اگر ان حکومتوں نے روایتی سستی، اور کمی کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو فوجی عدالتوں کے بارے میں عوام یہی رائے دیتے رہیں گے جو وہ سندھ میں رینجرز کی تعینات کے بارے میں دیتے رہے ہیں۔

پارلمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے اکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ اس کے نیتجے میں سویلین شہری پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانا قانونی قرار دیا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے رواں سال جنوری میں دو تہائی اکثریت سے یہ آئینی ترمیم منظور کی تھی۔اس پر عدالت عظمیٰ نے بھی مہر ثبت کردی ہے۔ اب فوجی عدالتوں سے سویلین کو قید اور موت کی سزائیں بھی مل سکتی ہیں۔

 اب ملک میں 2016 تک عملا متوازی عدالتی نظام رائج ہو گیا ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا یہ حصہ قابل تحسین ہے کہ اس نے پارلیمنٹ کی رائے اور اسکی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پارلیمنٹ کی رائے میں نقص تھا، کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام میں اس طرح سے فوجی عدالتیں نہیں ہوتی۔ جو ملک میں گزشتہ سال دسمبر میں پشاور سانحے کے بعد عسکری قیادت نے لاگو کردی ہیں۔

 وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ © ©” یہ ترمیم اعلیٰ جمہوری تصورات سے متصادم ہے۔ لیکن ملکی کی غیر معمولی صورتحال میں یہ ناگزیر ہے۔“

تب سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے لیڈر اور موجودہ چیئرمین سنیٹ رضا ربانی کے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ پارلیمنٹ خود اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرچکی ہے۔

 سترہ میں سے اکثریت نے اکیسویں ترمیم اور اس کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو جائز قرار دیا ہے جبکہ چھ ججوں نے اختلاف کیا ہے۔ سات ججز نے فیصلے میں اپنی الگ رائے لکھی اور دو ججز نے اضافی نوٹ لکھے۔
جسٹس جواد ایس خواجا جنہیں اب نئے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ اکیسویں ترمیم کو کالعدم ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ 

جسٹس اعجاز افضل ترمیم کو کالعدم قرار دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فوجی عدالتوں زیر التوا مقدمات خصوصی عدالتوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی ترمیم کو کالعدم قرار دے، خواہ یہ ترمیم انسانی حقوق سے متصادم کیوں نہ ہو۔

سیاسی پس منظر جس میں یہ ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہوئی اور جوں کی آراء کی وجہ سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ لہٰذا آنے والے وقتوں میں اس فیصلے پر بحث ہوتی رہے گی۔ کیونکہ اس میں بعض اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اور اس فیصلے کا ملک کی سیاست اور نظام پر دور رس اثرات ہونگے۔ مستقبل میں آئینی ترامیم کو عدالت میں چلینج کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جیسے بنیادی تصور کے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔ عدلیہ آزاد ہے۔ اور عدلیہ کو ختیارات دینے والی پارلیمنٹ سپریم ہے یا عدلیہ سپریم ہے؟

 ترمیم منظور کرتے وقت یہ کہا گیا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کو اکیسویں ترمیم کی کڑوی گولی کھلائی گئی۔ اور اس کے ری ایکشن کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا۔ جواس ری ایکشن کے لئے بطور نسخے کے کام آئے گا۔ایک نئے نظریہ ضرورت نے جنم لیا ہے۔ حکومت کو بھی جواز مل گیا۔ عسکری قوتوں کو قانونی اور عدلیہ کی مہر لگی ہوئی سند مل گئی۔ لوگوں کو امن چاہئے جو سویلین نظام اپنی بہت ساری خرابیوں کی وجہ سے نہیں دے پا رہا تھا۔

منتخب نمائندوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کا غیر جمہوری راستہ اختیارکرنے کے بعد ملک کو ا س حوالے سے دو طرفہ چیلینج کا سامنا ہے ہیں۔ اول یہ کہ کرمنل عدالتی نظام میں اس طرح اصلاحات کی جائیں کہ 2016 میں اکیسویں ترمیم کے خاتمے کی تاریخ کے بعد فوجی عدالتوں کی میعاد میں مزید اضافہ نہ ہو۔ بظاہر نہیں لگتا کہ وزارت قانون اس نکتے پر کام کر رہی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس زاہد حامد جن کو پرویز مشرف کے مقدمے میں ملوث کیا جارہا ہے اس کے بعد کل وقتی وزیر بھی نہیں۔ وزارت قانون کے ذمہ اس اہم کام کے علاوہ انتخابی اصلاحات کی سفارشات تیار کرنا بی ہے۔

جڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ کام اتنی ہی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بھی بظاہر کوئی انتظامی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں جس سے اندازہ ہو کہ عدلیہ کا نچلا نظام بہتر بنایاجارہا ہے۔ کرمنل جسٹس کا نظام نہ حکومت کی ترجیح ہے اور نہ عدلیہ کی ۔ لہذا اس شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ترمیم میں مقرر میعاد کے بعد فوجی عدالتی ختم ہوں۔

آخری تجزیے میں سول یا ملٹری بالادستی کا سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پچاس کے عشرے میں ایوب خان کے اقدامات کے موقع پر تھا۔ 1973 کے آئین میں آخری کوشش کی گئی۔ لیکن ضیاءالحق کے مارشل لاء نے اس کوشش کو لگتا ہے ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ عسکری اختیار اب زیادہ طاقتور ہو جائے گا کہ سول بالادستی کا سوال ایک خواب سا رہ جائے گا۔

دو سال تک فوجی عدالتیں اور ان کا طرییقہ انصاف چھایا رہے گا۔سویلین عدالتی نظام کونے میں لگ جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ نے یہ ترمیم پاس کرکے بقول رضا ربانی کے اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے تھے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس فیصلے سے عدالتوں نے اپنے اختیارات کم کر دیئے ہیں؟
 
 for August6, 2013 Nai Baat

No comments:

Post a Comment