پلی باگیننگ یا کرپشن کی اجازت
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے دو فہرستیں سپریم کورٹ میں جمع کرا ئی ہیں۔ 150میگا کرپشن کیسزپر مشتمل پہلی فہرست جولائی کے پہلے ہفتے میں جمع کرا ئی گئی تھی ۔فہرست کے مطابق سابق صدر، دو سابق وزرائے اعظم، ایک سابق نگران وزیراعظم، بلوچستان اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف بھی بد عنوانی کے مقدمات ہیں۔فہرست میں ریلوے کے چیئرمین ریٹائرڈ جنرل سعید الظفر کا نام بھی شامل ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رائل پام گالف کلب کی تعمیر کیلئے 103 ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کی تھی۔ ان 150میگا سکینڈلز کی تین کیٹگریز ہیں۔پہلے درجے میں 50 مالی میگا سکینڈلز، دوسرے درجے میں 50 زمینوں کے میگا سکینڈلز اور تیسرے درجے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق 50میگا سکینڈلز درج ہیں۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے دو فہرستیں سپریم کورٹ میں جمع کرا ئی ہیں۔ 150میگا کرپشن کیسزپر مشتمل پہلی فہرست جولائی کے پہلے ہفتے میں جمع کرا ئی گئی تھی ۔فہرست کے مطابق سابق صدر، دو سابق وزرائے اعظم، ایک سابق نگران وزیراعظم، بلوچستان اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف بھی بد عنوانی کے مقدمات ہیں۔فہرست میں ریلوے کے چیئرمین ریٹائرڈ جنرل سعید الظفر کا نام بھی شامل ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رائل پام گالف کلب کی تعمیر کیلئے 103 ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کی تھی۔ ان 150میگا سکینڈلز کی تین کیٹگریز ہیں۔پہلے درجے میں 50 مالی میگا سکینڈلز، دوسرے درجے میں 50 زمینوں کے میگا سکینڈلز اور تیسرے درجے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق 50میگا سکینڈلز درج ہیں۔
دوسری فہرست میں 480 ارب کے مزید 29 میگا سکینڈلز درج ہیں۔ فہرست میں مالی بدعنوانی، زمینوں میں گھپلے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نئی فہرست میں شامل میگا کرپشن کیسز میں این ایل سی کی جانب سے سٹاک ایکس چینج میں بغیر منظوری کے4 ارب کی غیر تصدیق شدہ سرمایہ کاری کا کیس ہے، جس میںاین ایل سی کیس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد منیر اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد افضل کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب بینک کے سابق ڈائریکٹر خرم افتخار پر قومی خزانے کو چھ ارب کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔اسی طرح پیپکو اختیارات کے غلط استعمال کے باعث قومی خزانے کو 13ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں50ارب کی کرپشن کا الزام ہے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے350 ایکڑ اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے باعث خزانے کو350ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری میںحصص خرید کرنے والی غیر ملکی کمپنی انتظامیہ کی ملی بھگت سے800ملین ڈالر کی رقم نہیں وصول کی جاسکی۔
سندھ میں حال ہی میںپچا س سے زائد کرپشن کیسز سامنے آئے ہیں۔ بعض افسران کی گرفتاریاں ہوئی ہیں جبکہ بعض موقعہ ملتے ہی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ بعض نے قبل از گرفتاری ضمانتیں کرالی ہیں ۔ تاحال سندھ سے کسی سیاسی شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا۔ جولائی میں جس طرح سے نیب ، رینجرز اور ایف آئی اے کارروایاں کر رہی تھی ، وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں اب یہ کارروایاںمدھم پڑ گئی ہیں۔
دراصل یہ چند ایک کیسز ہیں جن کا ذکر نیب کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ وہ شاید اس وجہ سے کہ اس میں بڑے نام اور بہت بڑی رقم ہے۔ہمارے وطن عزیز میں کرپشن معمول بن گیا ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے تو اوپر سے لیکر نچلی سطح تک ہزاروں کیسز سامنے آئیں گے۔ اب کرپشن پاکستان کا سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔
معاملہ صرف سیاسی حکومتوں کے دور کا نہیں مشرف دور میں غبن ، سکینڈلز ، 2005 کے زلزلے میں ملنے والی امدادی رقوم میں بدعنوانی پر پردہ ڈالا گیا۔
اگر یہ ساری رقم کرپشن میں چلی نہ جاتی تو یقینا آج ہماری ملکی معیشت اور عوام کی صورتحال بہتر ہوتی۔ اس کرپشن کی وجہ سے سیاسی ابتری، معاشی بدحالی، امن و امان کی تباہی کا سامنا ہے۔اچھی حکمرانی اور عام لوگوں کو کچھ دینے کا معاملہ ایجنڈا کا حصہ ہی نہیں رہا۔ ملک بیرونی قرضوں پر چل رہا ہے۔ اور ہم سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر غیر ملکی ایجنڈے پر چل پڑے ہیں۔
سندھ میں بعض پلی باگیننگ کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ ماضی میں بھی نیب نے پلی بارگیننگ کے ذریعے کئی سو ارب روپے کے کرپشن کیسز میں صرف 15 ارب روپے کے عوض 285ملزمان سے معاہدہ کر کے انہیں رہا کیا۔ ان میں سے 150 ملزمان نے پلی بارگیننگ کے کئی سو ارب کے بجائے صرف 2 ارب روپے جمع کرائے۔
پلی بارگیننگ اپنے صحیح مفہوم میں اقبال جرم ہے اور ملزم کسی بڑی سزا سے بچنے کے لئے کرتا ہے۔اس کے عوض ملزم کو بعض مراعات مل جاتی ہیں۔ جبکہ استغاثہ طویل قانونی جنگ سے بچنے کے لئے یہ راستہ اختیار کرتا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں بعض مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوتا۔ مثلا بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم، یا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے کیسز۔
امریکہ جہاں دنیا میں سب سے زیادہ پر فوجداری مقدمات پلی بارگین کے ذریعے حل ہوتے ہیں وہاں بھی مندرجہ بالا مقدمات میں یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ عدالت سے باہر فریقین کے درمیان ڈیل یا مقدمے کا فیصلہ ہے لیکن اس پوری ڈیل کی عدالت سے منظوری ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ عدلیہ اگر بیچ میں نہ ہو ، صرف استغاثہ اور ملزم کے درمیان معاملات طے ہوں ، اس صورت میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ استغاثہ خود فریاد درج کرنے والا، تفتیش کرنے والا اور فیصلہ یا انصاف کرنے والا بن جاتا ہے۔
۔ 2007 میں انڈیا کا سکھارام باندیکر مقدمہ مشہور ہوا جس میں عدالت نے پلی پارگین کو یہ کہکر مسترد کردیا تھا کہ یہ کرپشن کو معاملہ ہے لہٰذا پلی بارگین غلط ہے۔ بعد میں عدالت نے ملزم کو سزا سنادی۔ یہی عمل دنیا کے دیگر ممالک میں رائج ہے ۔
اگر کسی ملزم نے ایک ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔ اور وہ پکڑا جاتا ہے تو پلی بارگین کر کے چند کروڑ روپے ادا کر کے الزامات سے بری ہو جاتا ہے۔ اور دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ یہ رقم بھی قسطوں میں جمع کراتا ہے۔ مطلب ایک ارب روپے کی کرپشن کر کے کوئی کاروبار شروع کردیا جائے اور بعد میں اس رقم کا معمولی سا حصہ پلی بارگین کے ذریعے ادا کیا جائے۔ یہ سہولت کسی بینک سے قرضہ لینے کی صورت میں بھی حاصل نہیں ہوتی۔
کرپشن یا دیگر فوجداری مقدمات میں جہاں نقصان پیسے کی شکل میں بھی ہوتا ہے وہاں عموما عدالت تین سزائیں سناتی ہے۔ یعنی قید، جرمانہ، اصل رقم کی ادائگی، ملازمت سے برخواستگی، اور سزا کے نتیجے میں کوئی عوامی عہدہ یا رکن اسمبلی ہونے سے نااہلی۔ پلی بارگیننگ کی صورت میں صرف رقم کا معمولی حصہ وصول کی جاتی ہے۔ باقی کوئی سزا یا جزا لاگو نہیں ہوتی۔ یعنی ایک شخص جرم کرتا ہے، اس پر جرم ثابت ہوجاتا ہے وہ اقبال جرم بھی کرتا ہے ، پھر بھی ہو سرکاری ملازمت یا عوامی عہدہ رکھنے کا اہل ہی رہتا ہے۔
مطلب کرپشن کے بعد واپس سرکاری ملازمت کرے اور پھر کرپشن کرے۔اور پلی بارگیننگ کرے۔ یوں یہ سائیکل کا چکر چلتا رہے۔ یہ صورتحال کرپشن کو کم کرنے کے بجائے بڑہانے میں مدد دے گی۔ قومی خزانہ لوٹنے والے مجرموں کو تحفظ دے گی ۔ نتیجے میں اچھی حکمرانی، میرٹ ، عوامی مفادات اور خزانے کا تحفظ ایک خواب ہی رہے گا۔
No comments:
Post a Comment