Thursday, July 30, 2020

اٹھارویں ترمیم واپس لینے کا منصوبہ 18th Amendment


اٹھارویں ترمیم  واپس لینے کا منصوبہ  
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی
 اطلاعات و براڈ کاسٹنگ کی ذامہ داری سنبھالنے کے وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا ہے کہ یہ وقت 18 ویں ترمیم پر بحث کرنے کا نہیں  نہ ہی اس  ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے، اس سلسلے میں حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے کا بھی کوئی منصوبہ ہے۔شبلی بڑے  باپ کے بیٹے ہیں ان کی بات درست بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک ہفتے تک  وفاقی وزراء اور  ملک کی بڑی پارٹیوں کے رہمناؤں کے بیانات آتے رہے۔  ایک ہفتے بعد اس وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی۔  یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ  مقتدرہ حلقے اس ترمیم کو ختم کرنا یا تبدیل کرنا چہاتے ہیں۔ 
 اٹھارویں ترمیم پر مضبوط مرکز اور وفاقی نظام کے حامی  ایک دوسرے آمنے سامنے ہیں۔  اٹھارویں ترمیم کا مکمل خاتمہ مشکل ہے۔ تاہم اس کے بنیادی فوائد کم یا ختم  ہونے کا یقیننا خطرہ موجود ہے۔ 
 اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کی ایک سو شقوں میں ترامیم کی گئی تھی۔ لیکن وہ سب کی سب مسائل نہیں ہو سکتی۔ ترامیم میں مصنفانہ انہ مقدمہ چلانے، تعلیم، اور معلومات تک رسائی  کو بطور حق تسلیم کیاگیا تھا۔اگرچہ ترمیم شدہ شقوں پر مکمل طور عمل درآمد ہونا تاحال خواب ہی ہے۔ تاہم بعض امور جن پر عمل کیا گیا وہ شقیں ملک حکمران طبقے کو چبھتی ہیں۔  ان ترامیم میں ججز کی تقرری  کے طریقہ کار بھی شامل ہے۔ اگرچہ  عدلیہ میں تقرریوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے لیکن حکمرانوں کے لئے یہ بھی فوری مسئلہ نہیں۔  تحریکا انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد اٹھارویں ترمیم کی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کو پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن کی جماعتیں سازش قرار دے رہی ہیں۔ 
دوسری ترامیم حکمرانی کے عمل سے متعلق ہیں  جن پر کوئی بات نہیں کی جارہی۔  اٹھارویں ترمیم سے متعلق زیادہ زور اسلام آباد کے حلقوں سے دیا جارہا ہے۔  بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم  کے ہوتے ہوئے وفاق بعض چیزیں کرنا چاہتا ہے جو اس  کے ہوتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ 
اصل سوال مالی معاملات ہیں۔  اسٹبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ ترمیم نے ملک کو کمزور کیا ہے اور ملک کے حالیہ مسالی بحران کی وجہ صوبوں کو دیئے گئے زیادہ مالی وسائل ہیں۔ دوامور مسائل پیدا کر رہے ہیں۔  پہلا اختیارات کی صوبوں کو منتقلی اور دوسرا مالیات کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم  یعنی قومی مالیاتی کمیشن کا عمودی فارمولاہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے مرکز  عمودی لکیر کے یچے دب گیا ہے۔
 عمودی فارمولا کی وکالت کرنے والوں کا خیال ہے کہ وفاق نے کچھ زیادہ ہی مالی وسائل صوبوں کو دے دیئے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ملک کو درپیش حالیہ مالی بحران کا سبب مالیات کی عمودی تقسیم ہے۔ چونکہ وفاق کے پاس کم مالی وسائل بچتے ہیں لہٰذا وہ  اپنے اخراجات اور وعدوں کو بڑے پیمانے پر حل نہیں کرسکتا۔  وہ خسارے میں ہی چلتا ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر یہ فارمولا کسی طرح سے تبدیل کردیا جائے تو  وفاق کا خسارہ ختم یا کم ہو سکتا ہے۔ 
وسائل کی تقسیم کا معاملہ براہ راست دیگر محکموں یا اختیارات کی منتقلی سے منسلک ہے۔  اختیارات کے ارتکاز کو ختم کرنا اور ان کی منتقلی کو اکثر تسلیم کیا گیا ہے۔  وہ خدمات جو مقامی سطح پر مہیا کی جاتی ہیں  ان کا فیصلہ اوپر یعنیوفاقی سطح پر کیوں کیا جائے؟  اختیارات کا ارتکاز نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ اس کی وجہ سے کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔  اور موثر طور پر خدمات مہیا نہیں کی جاسکتی۔  ایک اسکول یا صحت مرکز کہاں پر ہو، کون اس کو چلائے کیسے چلائے، اس کی نظرداری کون کرے یہ مقامی معاملات ہیں  جنہیں مقامی سطح پر ہی موثر طور پر چلایا جاسکتا ہے۔ 
اگر صوبوں کو صحت، تعلیم، پینے کے پانی یا نکاسی آب، وغیرہ کے کام منتقل کئے گئے ہیں،انہیں یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے وسائل تو چاہئیں ہونگے۔ کل تک یہ اختیارات وفاق کے پاس تھے، اس پر وفاق رقم خرچ کر رہا تھا۔  اب اگر یہ محکمے واپس وفاق کو دیئے جاتے ہیں تووفاق کو بہرحال رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ اگر ہم اٹھاریوں ترمیم ختم بھی کردیں اور اٹھاریوں ترمیم کی این ایف سی یا اختیارات کی منتقلی سے متعلق شقیں ختم بھی کردیں تو کس طرح سے ملک کا مالی بحران حل ہو سکے گا؟  وفاق کو بھی تعلیم، صحت  اور دیگر خدمات کے لئے اس سے زیادہ نہیں تو اتنی ہی رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ اس سے وفاق کا خسارہ کیسے کم ہوگا؟  یا وفاق کو مالی اعتبار سے کوئی گنجائش ملے گی؟ موجودہ مالیاتی کی رقم صوبوں اور وفاق کے درمیان کسی اور طریقے سے تبدیل کرنے  سے ملک کا بحران حل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ وفاق تعلیم، صحت یا دیگر خدمات پر  اخراجات کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ مطلب اٹھاریوں ترمیم کا خاتمہ  بھی یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا۔  اگر وفاق کو خسارہ ہے تو وہ  ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب بڑھا کر پورا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کہ ہر حکومت یہی وعدے اور دعوے کرتی رہی ہے۔ 
وفاق کے پاس اختیارات یا مالیات کم ہو گئے یہ تاریخ سے برعکس ہے۔  بلکہ کے آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ 
سب سے پہلے ملک کے ایک طاقتور ادارے کے سربراہ نے  اٹھارویں ترمیم کے خلاف لب کشائی کی تھی۔ اس کے بعد وقت کے چیف جسٹس  چاقب نثار نے یہ فرمایا کہ اٹھارویں ترمیم  منظور کرنے سے پہلے اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے تھی۔ اب حکمران اتحاد کی اہم جماعت کے سربراہ چوہدری  شجاعت کہہ رہے ہیں کہ اکثریت کے زور پر کی گئی آئینی ترامیم کامیاب نہیں ہو سکتیں، انہوں نے کہا کہ وہ ان آئینی ترامیم کو مسترد کرانے کیلئے وہ تمام پارٹی سربراہوں سے رابطے کریں گے، تعلیمی نصاب کا اختیار صوبوں کو دیکر معیار تعلیم خراب کردیا گیا۔  چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں تمام پارٹی سربراہوں سے بات کروں گا کہ وہ بھی اس اکثریت کے بل بوتے پر پاس کی ہوئی ترمیم کو رد کریں، دنیا کے کسی بھی آئین میں تعلیمی نصاب ایک ہی ہوتا ہے اور وہ وفاق کے پاس ہوتا ہے۔
وفاقی وزراء کے متانزع بیانات کے بعد اپوزیشن نے تاریخی اٹھارویں ترمیم کا تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اور حکومت کو متنبیہ کیا ہے کہ کسی ایسی سرگرمی سے باز آئے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا  کے سیاسی اور عوامی حلقوں سے شدید ردعمل آیا۔.اصل میں آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت چاہئے۔ حکومت کے پاس یہ اکثریت موجود نہیں جس کا ذکر وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی کیا ہے۔ اس صورتحال میں دو سوال اٹھتے ہیں۔ اول یہ کہ حکمرانوں نے ایک ”فیلر“ چھوڑا کہ  سیاسی ماحول ایسا ہے کہ ترمیم کی جاسکے؟  دوسرا یہ کہ حکومت کے پاس  ترمیم کا آُشن موجود تھا۔ لیکن وہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پار رہی، لہٰذا اس نے یو ٹرن لے لیا۔ 

Federal Minister for Information and Broadcasting Shibli Faraz has said that this is not the time to discuss the 18th Amendment nor is there any such plan under consideration. There are also plans to hold talks with the opposition in this regard. Shibli is the son of a great father. He may be right. But for a week, statements from federal ministers and leaders of the country's major parties kept coming. A week later, the explanation was needed. It is no secret that the ruling circles want to repeal or change this amendment.
Strong center on the 18th Amendment and supporters of the federal system face each other. It is difficult to repeal the Eighteenth Amendment. However, there is a definite risk that its core benefits will diminish or disappear.


Sunday, May 17, 2020

صوبوں کی دوریاں نہ بڑھائیں Pushing the provinces away


 صوبوں کی دوریاں  نہ بڑھائیں  
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 
تحریک انصاف کی حکومت نے  صوبوں اور مرکز کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لئے گیارہ رکنی قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔  صدر نے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ کو اجلاس کی صدارت کرنے کا مجا ز ٹہرایاہے۔ جبکہ آئین کے مطابق مشیرکمیشن کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا۔ مالیاتی کمیشن ایک ایسے موقع پر تشکیل دیا گیا ہے جب اٹھارویں ترمیم اور اس کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات کا معاملہ پر شد ومد سے زیر بحث ہے۔ مضبوط مرکز کی بات کی جارہی ہے۔ کمیشن کی تشکیل کے لئے جاری کردہ صدر کے حکم نامے میں مالیاتی کمیشن کو اضافی ایجنڈا دیا گیا ہے جبکہ اس کا آئینی فریضہ اتنا ہی ہے کہ وہ مرکز  اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کرے۔ صدارتی حکم میں کہا گیاہے کہ صوبے دفاعی اخراجات، سرکاری اداروں کے نقصانات اور سبسڈی یا قر ضوں کی ادائیگی اور وف میں بھی حصہ دیں۔وفاق یہ بھی چاہتا ہے کہ آداز کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق فاٹا کے علاقوں کے لئے اخراجات میں بھی ہاتھ بٹائیں۔ 
آئین کے مطابق صوبوں کو قابل تقسیم پول سے ساڑھے ستاون فیصد سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حصہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ مین طے کیا گیا تھا۔لیکن وفاق نے آئینی حدود پھلانگ کر نیا ایجنڈا مالیاتی کمیشن کے سامنے رکھا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ صوبوں کا حصہ کم کرنے کی کوشش کی جارہی۔اس سے پہلے اپریل 2015  میں این ایف سی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا کس میں ردو بدل کیا جاتا رہا۔ لیکن کوئی نیا ایوارڈ نہیں دیا جا سکا۔ تاہم اس پورے عرصے میں مختلف حلقوں سے یہ آوازیں آتی رہی۔ ساتواں ایوارڈ 2010  سے لاگو ہے۔ جو پانچ سال کے لئے تھا۔یہ ایوارڈ تیس جون 2015 کو ختم ہوگیا۔  چونکہ ایوارڈ کو آئینی تحفظ حاصل ہے جس کے مطابق صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جاسکتا۔ 2015 میں نواز لیگ کے دورمیں وفاق نے تقسیم سے پہلے کے فنڈ  یعنی مجموعی ملکی آمدن میں سے سات فیصد حصہ وفاق کودینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل اور اختیارات کا معاملہ قیام پاکستان  کے فورا بعد سے جاری ہے۔ اس جھگڑے کو سلجھانے کی کم اور الجھانے کی زیادہ کوششیں کی جاتی رہیں۔ اس کوشش میں ون یونٹ کا تجربہ ناکام ہوا۔ اور بعد میں ملک دو لخت ہو گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط مرکز کی کوششیں وفاق کو مضبوط نہیں کمزور کرتی رہیں۔
اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ دونوں ایک دوسرے کے بغیر وجود نہیں رکھ سکتے۔ ترمیم کے نتیجے میں متعدد وزارتیں اور محکمے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے۔ این ایف سی ایوارڈ  کے ذریعے ان منتقل شدہ وزارتوں  کے لئے قابل تقسیم پول سے رقم مختص کرنے کے ساتھ ساتھ صوبوں کو اپنا ٹیکس بیس بڑھانے کا اختیار دیا گیا۔ اس طرح سے صوبوں کو سروسز ٹیکس اور  سی وی ٹی ٹیکس کا حق تسلیم کیا گیا تاکہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ اس ترمیم کے ذریعے قدرتی وسائل، بندرگاہوں، بجلی، پانی کے وسائل  مردم شماری  میں بھی صوبوں کی بالادستی تسلیم کی گئی تھی۔ یہ وہ اصول ہیں جو دنیا بھر میں اپنائے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ 
  اس کے نتیجے میں صوبوں کی آمدن میں اضافہ ہوا اور وہ صوبے کی مجموعی ترقی اور شہریوں کے لئے زیادہ رقم رکھنے کی پوزیشن میں آگئے۔صوبوں کی وفاق گزیری بھی کم ہوئی۔ 
اٹھارویں ترمیم  اور ساتویں مالیاتی ایوارڈ  کے تحت طے کئے گئے فارمولے کے مخالفین کی دلیل ہے کہ صوبوں کا مالی وسائل میں حصہ بڑھانے سے وفاقی حکومت کا خسارہ بڑھا ہے۔ لیکن یہ دلیل اور جواز حقائق پر مبنی نہیں۔  اصل وجہ یہ ہے کہ وفاقی مجموعی پیداوار اور ٹیکس کا تناسب بڑھانے میں ناکام رہاہے۔ یہ تناسب دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کرنا تھا۔وفاق  دیگر اضافی اخراجات بھی کر رہا ہے۔ مثلا  صوبو ں کو منتقل کئے گئے محکموں  کے ڈھانچے کو برقرار رکھے ہو ہیں۔ متوازی محکمے یا وزارتیں قائم کئے ہوئے ہے۔ جن پر خوامخواہ اضافی اخراجات کئے جارہے ہیں۔ اس کے پیچھے مرکز کے سیاسی عزائم ہیں۔یہ بھی حقیقت سرکاری تجارتی و کاروباری اداروں کا خسارہ کم کرنے میں ناکام رہی۔ 
نئے مالیاتی کمیشن کے سامنے کئی سوالات ہیں۔ سب سے بڑا یہ کہ مشیر خزانہ کمیشن کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔ حکومت سندھ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو خط لکھ  اس قانونی سقم کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو  ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت نیا این ایف سی تشکیل دیا جائے۔وزیانہوں نے خط میں لکھا ہے کہ مشیر خزانہ کو این ایف سی میں شامل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔اور یہ کہ مشیر خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت نہیں کرسکتے جبکہ وفاقی سیکرٹری خزانہ کی کمیشن میں شمولیت بھی درست نہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے لیے ارکان کی نامزدگی آئین میں درج طریقہ کار کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن میں نامزدگی وزرائے اعلیٰ کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ دو ہزار سترہ کی مردم شماری کا نوٹفکیشن تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔ ہر صوبے کے لئے این ایف سی ایوارڈ کو جانچنے کا پیمانہ مختلف ہے۔ جیسے خیبر پختونخوا میں  پچاس لاکھ کی آبادی شامل ہوئی ہے۔یعنی این ایف سی مردم شماری کے نتائج کی توثیق کرے. لیکن اس سے پہلے مردم شماری کے نتائج کی مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظوری  لازم ہے۔  
ساتویں ایوارڈ کے تحت  چاروں صوبوں کو  قابل تقسیم پول میں سے ساڑھے ستاون فیصد ملنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپٹل  ویلیو ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی میں سے بھی حصہ ملنا ہے۔  اس  ترکیب  کے تحت  پنجاب کا 51.74  فیصد، سندھ کا 24.55  فیصد،  خیبرپختونخوا کا 14.62 فیصد، اور بلوچستان کا 9.09 فیصد حصہ بنتا ہے۔
 اطلاعات ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان عمودی تقسیم کے تناسب کو تبدیل کئے بغیر وفاق نے صوبوں کے لئے فیڈرل ڈیویزبل پول (ایف ڈی پی) میں ان کے حصوں سے 15 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے نتیجے میں مرکز کا موجودہ حصہ 42.5 فیصد اور صوبوں کے 57.5 فیصد کے موکودہ تناسب میں بڑی تبدیلی واقع ہو جائے گی جس کے تحت وفاق کا حصہ 60 فیصد اور صوبوں کا 40 فیصد رہ جا ئے گا۔وفاق کا اخراجات کی چار بڑی مدات قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اور سلامتی سے متعلق اخراجات، ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات اور آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان میں این ایف سی ایوارڈ میں طے شدہ حوالہ شرائط پر عمل درآمد شامل ہیں۔
ٓٓمیڈیا میں نواز حکومت  کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں تبدیلیوں کی ضرورت نہیں کیونکہ مرکز اور صوبے دفاعی اخراجات کے مسئلے کو این ایف سی ایوارڈ میں کچھ ترمیم کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔سنیئر نائب صدر ن لیگ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبوں سے اختیارات واپس لیے گئے تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
عمران خان حکومت کے اس منصوبے کے نتیجے میں ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا۔این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے کے لئے صوبے تیار نہیں۔سندھ میں سخت مخالفت موجود ہے۔ رواں سال جنوری میں خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی جس میں صوبے کو مزید فنڈ دینے اور این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں حکمران جماعت تحریک انصاف بھی شریک ہوئی تھی۔ممکن ہے کہ ون یونٹ کی طرح مقتدرہ حلقے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل  
کرادیں لیکن اس سے ملک کا کوئی بھلا نہیں ہوگا بلکہ صوبوں کی مرکز سے دوری میں اضافہ ہوگا۔
--------------------------------------------------------- 
 تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مالیاتی وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔
 اپنی تشکیل کے فوراً بعد ہی دسواں قومی مالیاتی کمیشن متنازع ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر کمیشن کی تشکیل کو آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مشیرِ خزانہ کو کمیشن کا رکن بنانے اور ان کی صدارت میں کمیشن کا اجلاس ہونے پر اعتراض کیا ہے۔ 
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی سیکرٹری خزانہ کو ماہرِ معیشت کی حیثیت سے کمیشن کا رکن بنانے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ 
 وزیراعلیٰ سندھ اپنے خط میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے اخراجات وفاقی حکومت اپنے حصے سے ادا کرتی ہے۔ اگر اب حکومتوں کو زیادہ وسائل فراہم کرنا ہیں تو وفاقی حکومت اپنے حصے سے فراہم کرے، یعنی صوبے اپنے حصے کی رقم دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
 وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی باور کرا دیا کہ کسی اور مدد کے لیے صوبوں کے حصے سے کٹوتی پر سندھ کبھی بھی تیار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف کمیشن کی تشکیل کو بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔ 
 کمیشن میں بلوچستان کے نمائندے کے طور پر جاوید جبار کی تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید جبار ادیب اور لکھاری ہیں، ان کا معیشت سے کیا تعلق؟ 
ابھی سے نظر آ رہا ہے کہ کمیشن اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گا۔ 

تحریک انصاف حکومت کمیشن سے جو کام لینا چاہے گی، جو کام لینے کے لیے بعض حلقوں کے مطابق اس پر دباو? ہوگا، وہ کام ہو سکے گا یا نہیں۔ 

 مخصوص حلقہ مسلسل یہ دلائل دے رہا ہے کہ صوبوں کو زیادہ مالیاتی وسائل دے دیے گئے ہیں اور صوبے ان وسائل کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ وفاق کے پاس بہت کم وسائل ہیں، جس کی وجہ سے ملک بہت سے مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ نہ صرف بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالیاتی گنجائش نہیں ہے بلکہ سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے بھی وسائل نہیں ہیں۔ 
مارکیٹ میں یہ تجویز بھی گردش کر رہی ہے کہ قابل تقسیم پول (Divisible Pool) میں دفاعی اخراجات کو الگ کر دیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو چاروں صوبوں کی طرح الگ الگ حصہ دیا جائے۔ اس طرح قابل تقسیم پول میں سے دفاعی اخراجات الگ کرنے سے باقی جو رقم بچے، وہ وفاقی اور صوبوں میں تقسیم کے لیے نیا فارمولا بنایا جائے۔ صوبوں کے حصے میں سے پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو نئے فارمولے کے تحت رقوم تقسیم کی جائیں۔
اگر تحریک انصاف ان تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے بہت زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا

-----------------------------------------------------------

Do not increase the distances between the provinces
Sohail Sangi
The PTI government set up an 11-member National Finance Commission to distribute resources between the provinces and the center. The President has authorized the Advisor to the Prime Minister on Finance to preside over the meeting of NFC. However, according to the constitution, the advisor cannot chair the meeting of the commission. The Finance Commission has been set up at a time when the issue of the 18th Amendment and the powers given to the provinces under it are being hotly debated. There is talk of a strong center.

The President's order for the formation of the Commission has given the Finance Commission an additional agenda while its constitutional duty is to distribute financial resources between the Center and the provinces. The presidential order said that the provinces should also contribute to the defense expenditure, losses of government institutions and repayment of subsidies or loans and the WF. ۔
Part 7 was decided in the NFC Awards. But the federation has crossed the constitutional line and put a new agenda before the Finance Commission. This is not the first time that an attempt has been made to reduce the share of provinces. Earlier, an NFC commission was formed in April 2015 in which changes were made. But no new awards could be given. However, throughout this period, these voices kept coming from different circles. The seventh award has been in force since 2010. Which was for five years. This award ended on June 30, 2015. Since the award has constitutional protection, the share of the provinces cannot be reduced. In 2015, during the Nawaz League era, the federation had demanded that the pre-partition fund, ie 7% of the total national income, be given to the federation. 
-----------------------------------------------------------


 

Thursday, April 30, 2020

کورونا وائرس کا عالمی صحت پالیسیوں پرسوالیہ نشان

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/17-03-2020/details.aspx?id=p10_03.jpg
کورونا وائرس کا عالمی صحت پالیسیوں پرسوالیہ نشان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پوری دنیا میں کورونا وائرس وبا پھیلنے پر دہشت طاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں وائرس کے خطرے پر الرٹ جاری کردیا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی معمولات زندگی معطل ہیں۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ ہر ایک کو ہر ایک خطرہ ہے۔ پاکستان میں بھی سو کے لگ بھگ کیسز ظاہرہونے پر لوگوں خواہ حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ 
سب سے بڑا خطرہ صوبے سندھ میں محسوس کیا جارہا ہے جہاں کیسز بھی زیادہ ہوئے ہیں، اور حکومت نے حفاظتی تدابیر بھی زیادہ کی ہیں۔ سندھ میں ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی واقع ہے جس کو بری، بحری خواہ فضائی راستوں سے داخلے پوائنٹس ہیں۔ صنعتی، تجارتی دارالخلافہ کی حیثیت رکھنے والے شہر میں ایک سروے کے مطابق  ہر ماہ پینتالیس ہزار افراد کراچی پہنچتے ہیں، جبکہ کروبار وغیرہ  کے حوالے سے آنے والے اس کے علاوہ ہیں۔ گنجان آبادی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں چوبیس ہزار افراد فی مربع کلومیٹر میں رہتے ہیں۔ لہٰذا گنجان آبادی کے لحاظ سے سندھ کا دارلحکومت کا یہ شہر ڈھاکہ اور بمبئی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے شہر کے انفرا اسٹرکچر خواہ بنیادی سہولیات میں کوئی توسیع نہیں ہوئی لیکن بڑی تیز رفتاری سے اس کی آبادی میں اضاف ہوتا رہا۔شہر کا سیوریج، ڈرینیج اور صفائی کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔ پینے کے پانی کی صورتحال یہ ہے کہ ساٹھ فیصد آبادی کو واٹر سپلائی کا پانی میسر نہیں۔ رہائشی مکانات کی اکثریت کو کچی آبادی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔معاملہ صرف کراچی کا نہیں دیہی سندھ کی بھی صورتحال خراب ہے جہاں زرعی معیشت بڑھتی ہوئی آبادی کا وزن نہیں اٹھا رہی ہے، جس نے غربت اور سماجی نابرابری کی ایک اور شکل پیدا کردی ہے۔ چھوٹے شہر بڑے ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دس سال کے دوران سندھ حکومت نے  بڑے انفرا اسٹرکچر تو بنائے لیکن  بنیادی سہولیات کی طرف توجہ کم دی۔بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی لوگوں کو بھی پریشان کر رہی ہے، اور وبائی امرض کے پھوٹ پڑنے پرخود سندھ حکومت کسی اور صوبے کی حکومت کے مقابلے میں زیادہ پریشان ہے۔ 
حفظان صحت بنیادی نقطہ ہے جو کرورونا وائرس خواہ دیگر امراض سے بچائے رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہر بیس سیکنڈ کے بعد صابن سے ہاتھ ھوئیں اور سینسٹائیز استعمال کریں۔ بیماری کی صورت میں خود کو اکیلا اور دوسرے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیاعملاایسا ممکن ہے؟  پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ دو کروڑ افرادکو رہائش کی مناسب سہولت حاصل نہیں۔ جب دنیا میں ایک کھرب لوگ جھگیوں یا کچی آبادیوں میں رہتے ہوں۔ جہاں پانی کی بنیادی سہولت میسرنہ ہو، کیسے بیس منٹ کے بعد ہاتھ دھوئیں گے؟ جگہ کی اتنی تنگی کہ ایک کمرے میں دو سے چار افراد رہائش پذیر ہوں۔  دنیا بھر کی صحت پالیسیاں میڈیکل انڈسٹریل کامپلیکس ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ کرونا وائرس نے ان پالیسیوں کی قلعی کھول دی ہے کہ پالیسیاں ناقص اور یک طرفہ ہیں، جو کسی بھی بڑے چیلینج کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ کوریا اور اٹلی جیسے ممالک جہاں صحت کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے، اس وائرس کو روکنے میں ناکام رہے۔ ماہرین طبی تحقیق کی ساکھ اور ان کے کارآمد ہونے کو بھی چیلینج کرتے ہیں ادویا ت کا غلط اور زیادہ استعمال ان کی افادیت اور پراثر ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ علم اور تحقیق میں کرپشن،  دواساز کمپنیوں پر انحصار  اور ان کمپنیوں کا دائرہ اثربہت بڑے سوالات ہیں جو دنیا بھر میں امراض اور صحت کی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ 
 اصل خرابی کہیں اور ہے۔ سماجی، معاشی اور موسمیات  کے مسائل انسانی صحت پربری طرح سے اور بڑے پیمانے پر اثرانداز ہو رہے ہیں، جنہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔  آج دنیا میں کئی پھیلنے والے امراض میں اضافہ ہوا ہے جس میں ایڈز، یرقان اور دیگر وائرس وغیرہ شامل ہیں۔ جو آبادی میں تیزی سے اضافے، ماحولیاتی تبدیلیوں، سماجی اور ٹیکنالاجی میں تبدیلیوں اور رہن سہن کے طور طریقوں کی وجہ سے ہے۔ خود عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں منتقل ہونے والے امراض میں اضافے کا باعث ہیں۔ ماحول کو بگاڑنے میں منافع اور مزید منافع کا عنصر حاوی ہے۔
انیس سو تیس سے لیکر انیس سو اسی تک کا سہنری دور تھا جب ٹی بی،  اور دیگر کئی مہلک امراض کا علاج دریافت کرلیا گیا۔ اس کے بعد بڑی ترقی ہوئی ہے۔ لیکن ان دریافتوں کا عام لوگوں تک راسئی کا معاملہ اہم رہا۔  صرف صحت پر توجہ دینا کافی نہیں۔ بھوک غذائی قلت،  دسٹ، دھوئیں  سے بھی امراض وجود میں آتے ہیں۔
کیس نے خوب کہا ہے کہ صحت ہسپتالوں سے پیدا نہیں ہوتی، سماجی عناصر دولت، مکانات،  تعلیم اور درمیانہ طبقے کے اختیار صحت کے لئے اہم ہیں۔ صحت کے نظام میں سے صحت کو بے دخل کردیا گیا ہے۔  جس کے پاس دولت، اختیار، علم اور طریقہ کار ہے وہی طے کرتا ہے کہ صحت کیا ہے اور کی تعریف کا پیمانہ کیا ہے؟  ظاہر ہے کہ یہ طبقہ وہی بات طے کرے گا جس سے اس کے اختیار، اقتدار اور دولت میں اضافہ ہو۔بعض صحت کے نظام کو چلانے والے نظام کی نااہلی کو تسلیم کرتے ہیں کسی مرض کو علاج کرتے وقت جتنا وسائل خرچ ہوتے  ہیں تنے پیسے اس مرض کے اسباب کو روکنے پر بھی خرچ نہیں ہوتے۔ امراض کیوں جنم لیتے ہیں، کیوں پھیلتے ہیں؟ اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل اور حفاظتی ادویات اور تدابیر  کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے طبی تعلیم کے نصاب اور پالیسیوں میں غائب ہے۔  اس کی وجہ اختیارات رکھنے والوں کی جانبداری ہے۔ پورا نظام منافع اور پیسے کے گرد گھومتا ہے، وہ سماجی اور معاشی نابرابری کی طرف دیکھتا ہی نہیں۔ جبکہ سماجی صورتحال اور معاشی نابرابری خرابی صحت کے اہم نکات ہیں۔

Question mark on global health Policies
Sohail Sangi

Outbreaks appear to be exacerbated during the Corona virus epidemic. The World Health Organization has issued a worldwide alert on the threat of the virus. Even in developed countries, routine life is suspended. Economic activity has slowed. Everyone has a threat. There are concerns in Pakistan as well as in the government about the appearance of about 100 cases.

Security measures are also high. Karachi is the largest city in the country in Sindh, which has entry points by land, sea and air. According to a survey in the city, which is the industrial and commercial capital, 45,000 people visit Karachi every month, while those who come for business etc. are in addition. The dense population can be estimated from the fact that 24,000 people live here per square kilometer. Therefore, in terms of dense population, this capital city of Sindh is second only to Dhaka and Bombay.

Security measures are also high. Karachi is the largest city in the country in Sindh, which has entry points by land, sea and air. According to a survey in the city, which is the industrial and commercial capital, 45,000 people visit Karachi every month, while those who come for business etc. are in addition. The dense population can be estimated from the fact that 24,000 people live here per square kilometer. Therefore, in terms of dense population, this capital city of Sindh is second only to Dhaka and Bombay.
For the past several years, the city's infrastructure has not expanded, but its population has grown rapidly. The city's sewerage, drainage and sanitation systems have collapsed. The drinking water situation is that 60% of the population does not have access to water supply. The majority of residential houses can be counted in the slums. The situation is not only in Karachi but also in rural Sindh where the agrarian economy is not carrying the weight of the growing population, which has created another form of poverty and social inequality. Is.
Where basic water supply is not available, how to wash hands after 20 minutes? The space is so cramped that two to four people can live in one room. The medical industrial complex dictates health policies around the world. The corona virus has opened the floodgates of policies that are flawed and one-sided, which cannot meet any major challenge. Countries such as Korea and Italy, which have advanced health systems, have failed to stop the virus. Experts also challenge the credibility of medical research and its effectiveness. Misuse and overuse of drugs calls into question their effectiveness and effectiveness. 
Corruption in knowledge and research, reliance on pharmaceutical companies and the scope of influence of these companies are big questions that are responsible for diseases and health conditions around the world.
Today there is an increase in the spread of many diseases in the world, including AIDS, jaundice and other viruses. This is due to rapid population growth, climate change, social and technological changes and ways of life. The World Health Organization (WHO) says climate change is contributing to an increase in communicable diseases. There is an element of profit and more profit in spoiling the environment.
It is not enough to focus only on health. Hunger, malnutrition, dust, and smoke also cause diseases.
The case goes on to say that health does not come from hospitals, the social elements wealth, housing, education and middle class empowerment are important for health. Health has been excluded from the health system. He who has wealth, authority, knowledge and method decides what is health and what is the standard of definition?
=
Obviously, this class will decide what will increase its power, authority and wealth. There is no cost to prevent the causes of this disease. Why do diseases arise, why do they spread? This system needs to be fixed. Social and safety medications and measures are needed
There is a need for social and safety medicine and measures that are missing from our medical education curriculum and policies. This is because of the bias of those in power. The whole system revolves around profit and money, it does not look at social and economic inequality. While social status and economic inequality are important health issues

Tuesday, March 3, 2020

Nai Baat Columns Feb 2012



Sindh nama:  zuban k masly p Ehtjaja Feb 4
http://islamabad.naibaat.com/Presentation/User/Page11.aspx

2. Sindh main nasli imtiaz  Editorial page Feb 4

3. Senate elections to gen elections   Feb 9

4. Prof basheer murder Sindh nama Feb 11

5.  Balochon se muzakrat Feb  14

6.  Zala Badin ki Rally Sindh nama Feb 18

7. Thar ka coal Feb Feb 19

8. Sindh representation in senate Feb 21

9. Bashaoor log kahli pet Feb 24

10. Sindh nama  Feb 25

11. Rehaman malik briefing Feb 28





June

1. sindhnama 28                        Thu, 6/28/12         
2. sangi column 28                    Thu,   6/28/12       
3. sangi column 25                     Mon, 6/25/12        
4. sindh nama June 21                Fri, 6/22/12 
5. Sangi column June 21           Thu, 6/21/12
6. sindh nama June 15               Fri, 6/15/12 
7. sangi column June 14            Thu, 6/14/12         
8. sindh nama June 7                 Fri, 6/8/12   
9. sangi column june 7               Thu, 6/7/12 
10. column June4                       Mon, 6/4/12
11. sindh nama June 1                Fri, 6/1/12   

Monday, March 2, 2020

مادری زبانوں کے میلے میں

میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی
 مجمعے بھلے لاہور اور کراچی میں ہوتے ہوں لیکن اسلام آباد  کے میلے خواہ ادبی ہوں یا سمیلے اوریاسی،  ان کو ہمیشہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اب تو یہ رسم چلی ہے کہ سیاسی  احتجاج بھی  تب پراثر ہوتا ہے جب اسلام آباد میں ہو۔دسمبر سے مارچ تک سندھ کا  دارالحکومت کراچی اور صوبے کے دوسرے شہر وں میں ادبی اور ثقافتی میلوں کا موسم ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ آٹھ دس سال سے چل رہا ہے۔ جس طرح سے صوبے کسی شہر میں احتجاج کو اہم نہیں مانا جاتا اسی طرح باقی شہروں کے  ان ادبی اور فکری  مجمع کو بھی ل لفٹ نہیں کرائی جاتی۔ گزشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت  اسلام آباد میں  انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان کی ماری زبانوں کے ادبی میلے نے بھی رنگ دکھایا۔ میلے کی اختتامی تقریب میں  وفاقی وزیر شفقت محمود  بھی آئے، انہوں نے  وفاقی حکومت کی جانب سے مادری زبانوں کی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایک اہم وزیر کے اس اعلان سے لگا کہ میلے کے منتظمین کی محنت کا کچھ تو سلہ ملا، کہ مادری زبانوں کی ایک حد تک وجود کو تسلیم کیا گیا۔
 بعض لوگوں کی علمیت پر شک ہوتا ہے جنہیں نہیں معلوم کہ پاکستان میں  ابھی تک زبانوں اور ثقافتوں کی کتنی رنگا رنگی ہے۔ ہمارے ملک کے گلدستے میں 72 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن کا اپنا ادب، محاورے  اور دانش ہے۔  ان میں سے کم از کم 12  زبانوں کے لوگ اور ان پر بات کرنے والے موجود تھے۔  میلے کے چیف آرگنائزر نیاز ندیم  نے اپنی لکھنے پڑھنے کا آغاز حیدرآباد میں صحافت سے کیا، اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے ہوتے ہوئے آگاہی  پیدا کرنے والے اداروں  تک پہنچے۔ اس پورے سفر میں انہوں نے یہ سیکھا کہ جب تک سرگرمی نہیں ہوتی، مکالمہ نہیں ہوتا، معاشرے کو مثبت رخ میں نہیں لے جایا جاسکتا۔ ان کی ٹیم میں پاکستان نیشنل کونسل آف ارٹس کی موجودہ ڈائریکٹر جنرل فوزیہ سعید اور اسلام آباد کے کئی اہل دوانش و فکر لوگ شامل ہیں۔ وہ گزشتہپانچ برسوں سے مادری زبانوں ک میلہ منعقد کر رہے ہیں۔ 
 اس مرتبہ میلے میں ملک کی بعض بڑی زبانوں اردو، سندھی، بلوچی، پشتو، پنجابی، سرائیکی  کے مختلف پہلوؤں اور ان کے مسائل پر بات ہوئی۔ تین روز تک جاری اس میلے کی کئی نشستیں تھیں۔ اس کے علاوہ ہندکو، ہزارگی، شینا، ڈھاٹکی، براہوی سے متعلق بھی سیشن ہوئے۔ سندھی،سرائیکی اوربلوچ مختلف نشستوں خواہ باہر کے ماحول میں زیادہ سرگرم نظر  آئے۔ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ انہیں یہ احساس تھا کہ اسلام آبا میں بھی ان کی اہمیت ہے، ان کی بات، ان کی زبان کو سنا جارہا ہے۔ شمولیت اور شرکت کا ایک احساس تھا، جو باقاعدہ محسوس کیا جارہا تھا۔  یہ لوگ اپنی زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے موجود تھے۔ 
دنیا میں کل۔۔۔ممالک میں چھ ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یعنی ہر ملک میں کئی زبانیں موجود ہیں۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں  ڈیڑھ درجن سے زائد زبانیں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ 
 جب انسان ذات ایک زبان کھو دیتا ہے تو وہ  ہم  انسان کی  ادب، فن، موسیقی اور روایات کی کثیر رنگی کو کھوتا ہے۔ کیا کسی نے خوب کہا ہے کہ کیا سروانٹیز ایسی کہانیاں لکھ پاتا اگر اسے مجبور کیا جاتا کہ وہ اسپینی کے علاوہ کسی زبان میں لکھے؟ ہر دو ہفتے بعد ایک زبان مر رہی ہے۔ دنیا میں ایک تہائی زبانوں کے صرف ایک ہزار بولنے والے بچ گئے ہیں۔ ایک زبان کے ختم ہونے سے ہم اظہار، بات کرنے کے طریقے، علامات اور شناخت سے محروم ہورہے ہیں ہر زبان میں پیار، محبت، دکھ، غصے یا کسی اور جذبے  یا کیفیت  کا اظہار کے  الگ الگ ہوتا ہے، اور اسکی اپنی گہرائی ہوتی ہے۔ کسی ایک زبان کے جذبے  یا کیفیت کو کلی طور پر دوسری زبان میں ترجمہ رکنا مشکل ہوتا ہے۔
پاکستان میں زبان کا سوال روز اول سے رہا ہے۔ کیونکہ یہاں کثیر رنگی اور اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بنگالیوں کی اکثریت کے باوجود ان کی زبان کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یوں زبان کا معاملہ سیاسی بن گیا۔ بنگالیوں نے وقت کے حکمرانوں کی اس پالیسی مخالفت کی۔  اور زبان کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اکیس فروری 1952 میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے دنیا کے پہلے زبان کے شہید کہلائے۔  جس کو اقوام عالم نے بھی تسلیم کیا اور اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ اقوام عالم نے تو یہ بات تسلیم کرلی لیکن  ہم  اپنے ملک میں اس تجربے سے کوئی سبق لینے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ چند ہفتے پہلے خبر تھی کہ وفاقی حکومت  نے ملک بھر میں یکساں نصاب ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔  ایسی یکسانیت جس میں دوسرے کسی کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایسی یکسانیت ون یونٹ بنا کے مساوات کے ذریعے ہم بھگت چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کوئی اگر سندھی، بلوچی  یا کوئی اور زبان بول کر کہتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے، تو ہم کون ہوتے ہیں کہ محض زبان کی وجہ سے اس کو غیرپاکستانی کہیں یا بنائیں؟  اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم مکمل طور پر صوبائی اختیار ہے۔  ہونا تو یہ چاہئے کہ وفاقی حکومت ہر ایک کو اپنی اپنی  زبان، ثقافت کے ساتھ پاکستانی تسلیم کرے بلکہ انہیں اس کی یہ شناخت برقرار رکھنے میں مدد دے۔  جو زبانیں کمزور ہیں یا جن کی اپنی رسم الخط ابھی تک نہیں ہے، ان کو رسم الخط دینے اور ترقی دلانے میں مدد کرے۔ اس سے نہ اردو کو خطرہ ہے نہ  ملک کو۔ 
 زبانوں کے اس میلے میں مختلف ماہرین اور مفکرین نے کئی نئی باتیں بیان کی۔ پتہ چلا کہ  ہندکو علاقے میں رسم الخط کے معاملے پر کچھ لوگ ایک دوسرے کے خلاف عدلات میں چلے گئے ہیں۔زبان جو خود مکالمے یا افہام تفہیم کا ذریعہ ہے اس کو نہ لڑائی جھگڑے سے اور نہ  کورٹ کچہری کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے ایک بزرگ دانشور نے بتایا کہ عربی دنیا  کی کم عمر زبان ہے۔  لیکن اس کے باوجود ایک وسیع خطے میں بولی جاتی ہے اور اس کو کوئی خطرہ نہیں۔  سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ  اسفانہ نویس بھی ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ ان کے دور حکومت میں بلوچستان میں بولی جانے والی اہم زبناوں بلوچی، براہوی، پشتو، سرائیکی اور سندھی میں نصابی کتب شایع کی گئیں، اوران تمام زبانوں کی ترقی و ترویج کے لئے قائم ادارے کی گرانٹ میں دس گنا سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا۔  لیکن اب حکومت نے وہ نصابی کتب واپس منگوا لی ہیں اور ان کے مزید ایڈیشن شایع کرنا بند کردیئے ہیں۔ 
 اس معاملے پر یقیننا مختلف گوں کے ذۃنوں میں سوالات  تھے کہ مادری زبان کے معاملے پر پنجاب اتنا پرجوش کیوں نہیں ہے؟ 
 میلے میں ایک سیشن  زبانوں کی آئینی حیثیت کے حوالے سے بھی تھا۔  اس نشست میں باقی تینوں صوبوں کے سیاسی نمائندگان موجود تھے لیکن پنجاب سے کوئی نہیں آیا۔  پروگرام کے مطابق نواز لیگ کے  سنیٹرپرویز رشید اور پی ٹی اائی کے سنیٹر شبلی نے دعوت قبول کی تھی۔ بات چیت کے دوران  پیپلزپارٹی کی سسئی پلیجو، افراسیاب خٹک، اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سینیٹ میں قومی زبانوں کے حوالے سے پیش کردہ بل کی کہانی سنائی۔ کہ کس طرح سے سنیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی  میں بعض سیاسی جماعتوں اور حلقوں نے خوامخواہ خدشات  اور تحفظات دکھائے،  بڑی کوششوں کے بعد کمیٹی سے بل منظور ہو گیا۔ اب حکومت  پر ہے کہ سنیٹ اور قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کراتی ہے۔ بلکہ اس میلے کے شرکاء اور اکابرین کا بھی یہ موقف تھا کہ  پارلیمان کو  فی الحال ان زبانوں کا بل منظور کر لینا چاہئے۔  دلچسپ بات یہ تھی کہ  حکمران جماعت کے نمائندے  وفاقی وزیر شفقت محمود آئے تو انہوں نے قانون سازی اور اداراتی عمل سے ہٹ کر مادری زبانوں کی کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کردیا۔ 


At the Mother Tongue Festival
Mather languages Festival Islamabad
Sohail Sangi

 Meetings may be held in Lahore and Karachi, but Islamabad festivals, whether literary or sympathetic, are always considered important. It is now customary for political protests to take place when they are in Islamabad. From December to March is the season of literary and cultural festivals in Karachi, the capital of Sindh, and other cities in the province.

It is now customary for political protests to take place when they are in Islamabad. From December to March is the season of literary and cultural festivals in Karachi, the capital of Sindh, and other cities in the province. This has been going on for the last eight to ten years. Just as protests are not considered important in any city in the province, so these literary and intellectual gatherings in other cities are not lifted.
Last week, the Mother Languages ​​Literary Festival of Pakistan organized by the Indus Cultural Forum in the federal capital Islamabad also showed its colors. Federal Minister Shafqat Mahmood also attended the closing ceremony of the festival. He announced that a conference on mother tongues would be organized by the federal government. The announcement by a key PTI minister of the ruling party that some of the hard work of the festival organizers was rewarded, that the existence of mother tongues was recognized to some extent. 

Some people doubt the knowledge of those who do not know how diverse the languages ​​and cultures are in Pakistan. 72 languages ​​are spoken in the bouquet of our country. Who have their own literature, idiom and wisdom. There were people and speakers of at least 12 languages. Niaz Nadeem, the festival's chief organizer, began his career as a journalist in Hyderabad, then moved to Radio Pakistan to raise awareness.
Throughout this journey, he learned that unless there is activity, without dialogue, society cannot be taken in a positive direction. His team includes Fauzia Saeed, the current director general of the Pakistan National Council of the Arts, and several like-minded people from Islamabad. He has been organizing mother tongue festivals for the last five years

This time, various aspects of some major languages ​​of the country like Urdu, Sindhi, Balochi, Pashto, Punjabi, Seraiki and their issues were discussed at the festival. The three-day festival had several sessions. Apart from this, sessions were also held on Hindko, Hazaragi, Sheena, Dhatki and Brahui. Sindhis, Seraikis and Balochs seemed to be more active in different seats even in the outdoor environment. They were making their presence felt. He realized that he was important in Islamabad as well, his words, his language was being heard. There was a sense of involvement and participation, which was felt regularly. These people were there to protect and develop their language. 

There are more than 6,000 languages ​​spoken in the world today. In other words, there are many languages ​​in every country. According to the UNESCO report, more than one and a half dozen languages ​​are on the verge of extinction in Pakistan.

With the demise of a language, we lose the expression, the way we speak, the signs and the identity. Is. It is difficult to translate the spirit or mood of one language into another

The question of language in Pakistan has been around since day one. Because polygamy and majority are not recognized here. Despite the majority of Bengalis, their language was not recognized. Thus the issue of language became political. The Bengalis opposed this policy of the rulers of the time. And sacrificed his life for the protection of the tongue. Called the world's first language martyr who sacrificed his life on February 21, 1952. Which was also recognized by the United Nations and declared February 21 as the International Mother Language Day. The United Nations has acknowledged this, but we in our country are not ready to learn or understand from this experience.
A few weeks ago, it was reported that the federal government had decided to set up a uniform curriculum across the country. A uniformity in which the existence of another is not recognized. We have experienced such uniformity by creating one unit. The question is that if someone speaks Sindhi, Balochi or any other language and says that he is Pakistani, then who are we to make him non-Pakistani just because of the language? Somewhere or create? After the Eighteenth Amendment, education is entirely a provincial authority. However, the federal government should recognize everyone as a Pakistani with their own language and culture, but also help them maintain this identity. Help languages ​​that are weak or do not yet have their own script to develop and develop the script. 
This is not a threat to Urdu or the country.
 In this language festival, various experts and thinkers have come up with many new things. It is learned that some people have gone to court against each other on the issue of script in the Hindko area. Language which is itself a source of dialogue or understanding cannot be resolved through fights or court proceedings. "Arabic is the youngest language in the world," said a senior Punjab intellectual. But it is still spoken in a wide area and there is no threat to it.

Former Chief Minister of Balochistan Dr. Abdul Malik Baloch was found out that he is also a writer. He said that during his tenure, textbooks were published in Balochi, Brahui, Pashto, Seraiki and Sindhi, the main languages ​​spoken in Balochistan, and more than ten times as much as the grant of the institute established for the development and promotion of all these languages. Added more. But now the government has recalled those textbooks and stopped publishing more editions. 

There was also a session at the festival on the constitutional status of languages. Political representatives from the other three provinces were present at the meeting but no one from Punjab came. According to the program, Nawaz League Senator Pervez Rashid and PTI Senator Shibli had accepted the invitation. During the discussion, PPP's Sasi Palijo, Afrasiab Khattak and Dr. Abdul Malik Baloch narrated the story of the bill tabled in the Senate on national languages. How some political parties and constituencies in the Senate Standing Committee have expressed arbitrary concerns and reservations.
After great efforts, the bill was passed by the committee. It is now up to the government to pass the bill in the Senate and the National Assembly. Even the participants and dignitaries of the festival were of the view that the parliament should pass a bill on these languages ​​for the time being. Interestingly, when the representative of the ruling party, Federal Minister Shafqat Mahmood, came, he announced to call a conference of mother tongues instead of the legislative and institutional process.



Friday, February 28, 2020

بلاول بھٹو اور حکومت کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

Feb 14, 2020
بلاول بھٹو اور حکومت کی ایک دوسرے کو دھمکیاں 
نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد  انہیں نیب میں طلب کر کے تیس سوالات پر مبنی سوالنامہ دے دیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ  حکومتی مشنری ایک بار پھر بلاول بھٹو کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں پروپیگنڈا  مشنری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کہتے ہیں کہ عدالت نے  بلاول بھٹو کو بیگناہ نہیں معصوم کہا تھا،  فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے خلاف کیس نواز لیگ دور کا ہے، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے پانچ پانچ سال حکومت کی اب دوسروں کو بھی برداشت کریں۔ جونئیر پارٹنر ز نے آرمی ایکٹ سے متعلق پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد بہتر سلوک کا مطالبہ کیا، ناراضگی دکھائی  تو انہیں مصروف رکھنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ عجیب بات ہے کہ کراچی سے ایم کیو ایم اور پنجاب سے قاف لیگ مسلسل ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ لیکن وزیراعظم نے جب لاہور اور کراچی کا دورہ کیا تو ان اتحادیوں سے ملاقات تک نہیں کی۔ جیسے اتحادیوں کو منانا یا ساتھ رکھنا  ان کا  مسئلہ نہ ہو۔  اس سے وہ اتحادیوں کو شاید یہ پیغام دے رہے تھے کہ  اتحادی عمراں خان کی وجہ سے نہیں کسی اور مقتدرہ قوت کی وجہ سے ساتھ دے رہے  ہیں۔  نیب کے حالیہ اقدامات سے اتحادیوں کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بہتر سلوک نہیں کای جارہا ہے۔ لہٰذا اتحادی دوست بھی لمبی فرمائشیں نہ کریں۔ 
  لندن میں  شریف برادران کی سرگرمیوں کی بھی خبریں ہیں، جہاں چوہدری نثار علی خان موجود ہیں۔  خواجہ آصف کی جانب سے وزیراعظم نہ بننے کی تردید بھی ہے۔  خود حکمران جماعت اپنے اندرونی بحران  کا شکار ہے۔  پہلے خیبرپختونخوا میں ہلکی پھلکی ”بغاوت“ ہوئی، جسے ’کچل‘ دیا گیا یا نمٹ لیا گیا۔ تام اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ اب جہانگیر ترین کو اتحادیوں  کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی سے علحدہ کردیا گیا ہے۔  چاہے جہانگیر ترین الفاظ میں کچھ بھی کہیں لیکن وہ ناراض لگتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک نیا گروہ  چھا  رہا ہے۔  پارٹی کی اس اندرونی لڑائی کے اثرات بھی ہونے ہیں۔ پنجاب کا معاملہ پورے طور پر حل نہیں ہو سکا،بعض اہم امور سے نمٹنے تک  فی الحال اسے التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔  اسلام آباد  کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں  ایک بو محسوس کی جارہی ہے۔کچھ کھچڑی پک رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اب ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ پیپلزپارٹی مہنگائی کے خلاف تحریک کس حد تک چلا پائے گی، یہ سوال اپنی جگہ پر لیکن آئی ایم ایف سے معاملات نہیں بن رہے ہیں اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان اٹھنے والا ہے، جس کی نشاندہی  قومی اسمبلی کی مالیات سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی میں وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ جس میں بتای گیا ہے کہ   ٹیکس کی وصولیاں کم ہوئی ہیں۔  معیشت کی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔  یہ سب سازگار حالات بنتے ہیں کسی تحریک کے لئے۔  لیکن بات صرف  مہنگائی کے خلاف تحریک کی نہیں، بات یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی  بعض سیاسی فیصلوں کے آڑے آرہی ہے۔  جس کی وجہ سے بلاول بھٹو کو طلب کیا جارہا ہے۔ 
بلاول پر براہ راست کرپشن کا الزام، نہیں لیکن گروپ آف کمپنیز پر الزامات ہیں جن کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔ بلاول کو گزشتہ سال  مارچ اور مئی میں نیب نے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ بلاول بی گناہ ہے۔ آج انہی ریمارکس کی حکومت وضاحت کررہی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں  جب بلاول نے  بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑے پیمانے پرمنانے کا اعلان کیا تب بھی نیب نے انہیں  برسی سے تین روز قبل طلب کیا۔ بلاول بھٹو نے نیب کی اس پیشی پر نہ جانے کا  اعلان کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ بلاول کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ کیونکہ انہی دنوں میں نواز لیگ کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کو نیب میں پیشی کے بعد گرفتار کیا جاچکا تھا؎؎؎؎۔لیکن چونکہ تب پیپلزپارٹی سے قانون سازی کے لئے کام لینا تھا لہٰذا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے دھڑلے سے کہا تھا کہ کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائے۔  سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کو بھی گرفتار کرلیا جائے۔ 
نے حالات بتا رہے ہیں کہ مائنس ون فارمولہ نوازشریف اور زرداری تک محدود  نہیں۔ اس میں مریم نواز اور بلاول کو بھی مائنس کرنے کی بات ہوری ہے۔ سینئر قیادت کے بعد بلاول اورمریم نوازپرمشتمل نوجوان قیادت دلیرانہ موقف رکھے ہوئے تھی۔ مریم نے باپ کی جگہ گرفتاری دی ہے تاکہ میاں نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے جاسکیں۔  بقول ایک تجزیہ نگار کے مریم کو نواز شریف کے عوض قید میں رکھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو اسمبلی خواہ لابیوں میں بول رہے ہیں۔ 
پیپلزپارٹی کو قیادت کو اندازہ ہے کہ کسی بھی وقت بلاول بھٹو کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی گرفتاری سے خبردارکیا ہے ان کی گرفتاری سے صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔ اگر حکومت بلاول کو گرفتار کرتی ہے تو پیپلزپارٹی کو ایک بار پھرخاتون قیادت کا چہرہ ملے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت میں قیادت آصفہ بھٹو کریں گی۔  پاکستان کی تاریخ نے بتایا ہے کہ خاتوں رہنما کا چہرہ مقتدرہ حلقوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا سامنا بینظیر بھٹو کی صورت میں کر چکی ہے۔ شاید اس صورتحال کو بلاول بھٹو خطرناک کہہ کر خبردار کر رہے ہیں۔ 

Sunday, February 16, 2020

سندھی میڈیا مزاحمت، چلینجز اور آپشنز۔۔۔۔




سندھی میڈیا مزاحمت، چلینجز اور آپشنز۔۔۔۔
 اردو یونیورسٹی کراچی کے زیر اہتمام اپریل 2014 میں منعقدہ کانفرنس میں یہ مقالہ پڑھا گیا
سہیل سانگی

 ان دنوں سندھ کے کئی شہروں میں الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی چینلز ) کی نشریات بند ہے ۔  اس کی وجہ وہ رویہ ہے جو آج سے تقریبا تین دہائی پہلے مین اسٹریم میڈیا نے سندھ کے لوگوں اور سندھ کے اشوز کے ساتھ روا رکھا تھا۔ حالیہ  
بائیکاٹ کی وجہ جیئے سندھ قومی محاذ نامی قوم پرست جماعت کا فریڈم مارچ بنا جو تئیس مارچ کو ملک کے میڈیا سٹی کراچی میں نکالا گیا، جو اس مین اسٹریم میڈیا میں جگہ حاصل نہیں کرسکا ۔

یہ قوم پرست کارکن  پوری دنیا اور پاکستان کی ریاست کی توجہ سندھ کی محرومیوں اور مسائل کی منبذول کرانا چاہتے تھے، لیکن بعض دباؤ اور نامعلوم اسباب کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ سندھ کے ایک بڑے حلقے نے مین اسٹریم میڈیا کے اس رویے کو ” غیر ذمہ دارانہ“ اور تعصب پرستانہ قرار دیا، جس میں سماجی ویب سائیٹوں پر تبصروں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور اس طرح ان چینلز کا غیر اعلانیہ بائکاٹ کردیا گیا۔

مشرقی پاکستان میں جب محرومیوں کا لاوا پک رہا تھا اس وقت بھی مین اسٹریم میڈیا کا کچھ ایسا ہی کردار نظر آیا تھا، لائبریروں میں موجود اخبارات کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ وہاں کوئی تحریک جاری تھی یا لوگ اس قدر بیزار ہوچکے تھے کہ انہیں الگ وطن کا نعرہ لگانا پڑا، اس رویے کی دوسری مثال آج بلوچستان میں نظر آتی ہے جس کے ساتھ بھی یہ رویہ روا رکھا گیا ہے، لیکن جب بات سندھ کی آتی ہے تو صورتحال قدرے مختلف ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں سندھی زبان تحریری شکل  میں موجود ہے اور اس کا متحرک میڈیا تینوں صنفوں آڈیو ، ویڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں رائج ہے۔سوشل میڈیا پر ایکٹوازم کے علاوہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سندھ میں آج بھی الیکٹرانک میڈیا تفریح جبکہ پرنٹ میڈیا معلومات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مطابق موجودہ وقت 23 سندھی اخبارات شایع ہوتے ہیں۔ پاکستان پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل142 باقاعدہ اخبارات ہیں۔ یعنی کل اخبارات کا 16فیصد سندھی اخبارات ہیں، اس طرح سندھ کی دیہی اور شہری آبادی ملاکر پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا چوبیس فیصد بنتی ہے۔

اگرچہ سندھ میں اردو، سندھی اور انگریزی اہم زبانیں ہیں جن میں اخبارات نکلتے ہیں۔اردو میڈیا  کنزرویٹو، مرکزیت پسند، قصے کہانیوں والی، رجعت پسند اور سنسی پھیلانے والی ، جبکہ انگریزی ایلیٹ طبقے کی میڈیا تصور کی جاتی ہے جو زیادہ لبرل اور پروفیشنل ہے۔

ڈسٹورشن
 سندھ کے سیاسی شعور کا اظہار تو ون یونٹ میں سامنے آچکا تھا، لیکن صحافت اس کا مظہر نہیں بن سکی، ون یونٹ کے قیام کے وقت سندھی اخبارات نے احتجاجی اداریے لکھے لیکن بعد میں مارشل لا کی سخت پابندیوں کے باعث موثرکردار ادا نہیں کرسکی۔ اس کی جگہ ادب اور ادیبوں نے لی۔ ادبی جرائد یا پھر خفیہ پمفلیٹوں کے ذریعے اظہار اور احتجاج کیا جاتا رہا۔
  
 پچاس کی دہائی کے آخر میں مسلم لیگ کے رہنما قاضی محمد اکبر نے نامور ادیب محمد عثمان ڈیپلائی سے روزنامہ عبرت خریدا تو سیاسی مقاصد کے لیے تھا، لیکن ان کی سربراہی میں عبرت وہ پہلا سندھی اخبار تھا جو کمرشل بنیادوں پر استوار کیا گیا۔

ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ ہلال پاکستان خریدا لیا اور اس کو بطور پارٹی آرگن شایع کیا ۔انتخابات میں کامیابی کے بعد اخبار کو حیدرآباد سے کراچی منتقل کیا گیا اور اس کی ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ ممتاز سندھی دانشور سراج الحق میمن کو ایڈیٹر تعینات کیا گیا۔

مذہبی ریڈیکل اظہار ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جماعت اسلامی کے بعض اخبارات کے ذریعہ ہوا۔ جماعت اسلامی اپنے ماہوار میگزین تو نکالتی رہی لیکن اس فکر کے اخبار کی سندھ میں گنجائش نہیں تھی۔ البتہ مہران اخبار جو کہ پیر پاگارا کی زیرسرپرستی شایع ہوتا تھا، اس کے ایڈیٹر سردار علی شاہ کے انتقال کے بعد یہ اخبار بھی ایک حد تک لبرل ہوگیا۔

عبرت، آفتاب ، ہلال پاکستان قوم پرستانہ اور ترقی پسندانہ سوچ کے ساتھ چلتے رہے۔ ہلال پاکستان اپنی پالیسی اور فکر میں حکومت کا حامی ہونے کے باوجود ترقی پسندانہ سوچ کا حامی تھا۔ جو رنگ بعد میں ہلکا پڑتا گیا ۔

اسی کی دہائی میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی نے سندھ کے ہر گلی اور گاؤں میں ایک تحرک پیدا کیا، جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھر گئیں لیکن اس تحریک کی کوریج مین اسٹریم میڈیا میں کراچی تک محدود رہی، جو سندھ میں سرگرمی اور فکر پیدا ہوا اس وقت کے سندھی اخبارات اس کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔

سندھی میڈیا میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب سیاسی کارکن صحافت میں شامل ہوئے، یہ لوگ بائیں بازو کی تحریکوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا فکری اور سیاسی رجحان اور جدوجہد اسٹبلشمنٹ یا بالائی طبقوں کے خلاف رہی تھی۔ یوں ایک نئی سندھی صحافت نے جنم لیا۔  لہٰذا سندھ کے ترقی پسند کارکنوں نے عوامی آواز کا اجراءکیا۔

میرے لیے یہ امر باعث افتخار ہے کہ میں اس مزاحمتی صحافت کا بانی بنا۔ جبکہ فقیر محمد لاشاری مرحوم، انور پیرزادو، بدر ابڑو، عبدالرحمان نقاش نے بھی مزاحمتی صحافت میں اپنا رول ادا کیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض سرکاری ادارے اور ان کے حاشیہ بردار اس مزاحمتی صحافت اور صحافیوں کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 اس مزاحمتی صحافت کے نقش قدم پر بعد میں جاگو (ایڈیٹر فقیر محمد لاشاری)، پکار (ایڈیٹر بدر ابڑو)، کاوش (ایڈیٹر علی قاضی) ، برسات (ایڈیٹر شیخ ایاز اور یوسف شاہین)بھی جاری ہوئے۔ عوامی آواز کی انتظامیہ نے موقعہ پرستی اور مالی لالچ کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے  وہ اپنی پوزیشن کھو بیٹھی۔ جبکہ کاوش نے اس آئیڈیا کو پالش کیا اور فنشنگ کی تو سندھی کا سب سے بڑا اخبار بن گیا۔

قومی مالیاتی ایواڈ اور پانی کی تقسیم اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر مین اسٹریم میڈیا کے لیے قومی اشوز تھے جبکہ سندھی میڈیا نے ایک لکیر کہینچ کر خود کو الگ کیا، نوے کی دہائی سے لیکر دو ہزار تک یہ اشوز اس قدر میچوئر ہوچکے تھے جو سندھ کے لوگ مرنے مارنے کے لیے تیار ہوچکے تھے، یہ آگاہی اور سیاسی شعور انہیں سندھی میڈیا نے دیا۔

نوے کی دہائی میں اسٹبلشمنٹ کی سوچ کو سندھی معاشرے میں پھیلانے کے لیے الوحید اخبار نکالا گیا۔ جس کے لیے سندھ میں یہ بات عام تھی کہ یہ ایجنسیوں کا اخبار ہے، لیکن تمام تر مالی وسائل اور اطلاعاتی مراکز تک رسائی کے باوجود یہ اخبار بھی نہیں چل سکا۔ اسی طرح بعض غیر سندھی اداروں نے بھی سندھی میں اخبارات نکالنے کے تجربے کیے، جن میں سے تقریبا تمام ہی کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس کی وجہ مالکان اور قاری کے مزاج اور سوچ میں ایک واضح فرق تھا۔

پنجاب کے ایک بڑے میڈیا گروپ نے کالاباغ ڈیم کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے سندھی میں اخبار کا اجرا کیا، لیکن اس کو وہ پذیرائی نہیں ملی اور جب جنرل مشرف نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اشتہاری مہم چلائی تو اس سندھی اخبار کے نوجوان مستعفی ہوگئے۔

سندھی صحافت نے سماج کے کئی پہلوں کو اجاگر کیا، انیس سو نوے کی دہائی کے بعد غیرت کے نام پر قتل، جبری مشقت، جرگوں میں فیصلوں اور پسند کے شادی کے واقعات رپورٹ ہونے لگے، اس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آنے لگیں، جس نے ریاست کو اس طرف بھی متوجہ کیا، روایتی سرداری اور جاگیرداری نظام کو ہلانے اور مزاحمت کی قیمت خون سے بھی ادا کی گئی، کندھ کوٹ سے لیکر میرپورخاص تک آٹھ سے زائد صحافیوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

 حالات اور واقعات کچھ ایسے ہوئے کہ سندھی صحافت کا کردار معلوماتی کے ساتھ مزاحمتی بھی بن گیا، اس طرح اس نے سیاسی جماعتوں کا کردار اپنے سر لے لیا، جو بعض جماعتوں کو پسند نہیں آیا، بعد میں بعض سیاسی جماعتوں نے اخبارات میں اپنے کارکن بھرتی کرانے کی کوشش کی، لیکن انہیں کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔ بعض قومپرست جماعتوں نے تشدد کا راستہ بھی اپنایا اور یوں اخبارات کے بنڈل جلانا کا عمل شروع ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھی میڈیا کے تعلقات کبھی کھٹے میٹھے تو کبھی تلخ رہتے ہیں، پیپلز پارٹی اپوزیشن میں سندھی صحافت  کو اپنا محبوب پریس اور اقتدار میں ولن سمجھتی ہے۔ حالیہ دنوں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ کے وزیر اطلاعات کبھی بھی سندھی چینل پر نہیں آتے۔

ہر وفاقی حکومت کا بھی سندھی میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو ہوں یا، یوسف رضا گیلانی یا میاں نواز شریف، ایوان صدر میں جنرل مشرف ہوں، آصف علی زرداری یا ممنون حسین سندھی پریس سے الگ ملاقات کرتے ہیں، لیکن ان کی عملی اہمیت کے انکاری ہوتے ہیں۔

چیلینجز

سنہ 2000 کے بعد سندھی صحافت میں آنے والے نوجوان سیاسی تربیت اور ادبی پس منظر سے خالی ہیں، وہ سندھی صحافت جس نے دو دہائی قبل اسٹیٹسکو کو چئلینج کر کے ایک نئی شناخت بنائی تھی اب انحطاط کا شکار ہے۔ جس صحافی نے مقامی سردار، وڈیرے، سیاستداں اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کو چیلینج کیا تھا، اب اس کے حاشیہ بردار نظر آتے ہیں۔

صحافت کی باضابطہ تعلیم کے اداروں سے بھی جو لوگ اس شعبے میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ان کے لیے صحافت ایک گلیمر کی دنیا ہے جس میں وہ کسی سیاسی یا سماجی تبدیلی کے بجائے خود نمائی اور خود پسندی کی سوچ رکھتے ہیں۔
میڈیا کے اداروں کی شکایت اپنی جگہ پر ہے کہ تعلیمی اداروں سے صحافت کی تعلیم حاصل کرکے آنے والے اکثر نوجوان ان کے کسی کام کے نہیں ۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ اکثر سندھی اخبارات کے مدیر  ورکنگ جرنلسٹ نہیں ہیں۔

 وہ سوچ اور فکر جو پہلے بائیں بازو کے زیر اثر یا وابستہ تھی اب وہ دباؤ، خوف ، لالچ یا پھر ترقی پسندانہ فکر کے پیروکار نوجوانوں کی میدان میں عدم موجودگی کے باعث سینٹرل رائیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جس کی مثال پچھلے دنوں لاڑکانہ میں دھرم شالا کو نذر آتش کرنے، نیو دمبالو میں تین ہندو نوجوانوں کی گرفتاری اور حیدرآباد میں کالی مندر کے واقعات ہیں، جس کی کوریج غیر واضح اور مسخ کردی گئی ۔ یہ رویہ سندھی پریس کا پہلے کبھی بھی نہ تھا۔ ان واقعات پر سندھی میڈیا کے عمل کو ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے دو قدم پیچھے جانے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

اردو میڈیم میڈیا سے یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے سندھ کے اشوز کو رپورٹ کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی مفاد۔ یہی وجہ ہے کہ انگلیوں پر گننے کے برابر سندھی لوگ اس میڈیا میں لیے گئے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں سندھی کالم نویس۔ قابل حیرت اور افسوس امر یہ بھی ہے کہ نیوز چینلز پر کسی بھی ٹاک شو کا کوئی سندھی میزبان نہیں۔

اس صورتحال میں مین اسٹریم میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے کے خیالات اور سوچ کے تبادلہ کے بجائے ایک ایسے مرکزیت پسندی کے تنگ نظر چشمے سے دیکھتی ہے جس کو نام تو قومی مفاد کا نام دیا جارہا ہے لیکن عملا اس کے برعکس ہے۔ یوں مین اسٹریم میڈیا لوگوں کو جوڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔

اطلاعات کا خلاء
پاکستان میں مجموعی طور پر میڈیا کی معلومات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی معلومات ملتی بھی ہے تو وہ یک طرفہ ہوتی ہے یا پھر manipulated۔ اس ضمن میں سندھی میڈیا کے ساتھ ایک اور المیہ  بھی ہے۔ وہ ہے معلومات اور ان کے ذرائع اور اداروں تک رسائی۔
سندھ اقتدار کے تکوں میں اکثر غیر موجود ہوتا ہے،  یہی صورتحال مختلف اداروں کی بھی ہے، لہٰذا ان اداروں تک سندھی میڈیا کی رسائی خاصی مشکل رہتی ہے۔ یہ انیس نوے کے عشرے کی بات ہے کہ سندھی اخبارات نےاسلام آباد میں اپنے بیورو آفیسز قائم کئے۔ روزنامہ کاوش واحد اخبار ہے جس کے نمائندے ملک کے باقی تین دارالحکومتوں میں بھی ہیں۔

مالی حالت
سندھی اخبارات کا انحصار سرکاری اشتہارات پر زیادہ ہے، یہ بات حکومت وقت بخوبی جانتی ہے، اس لیے اشتہارات کے اجرا سے لیکر ادائیگی تک کبھی بلواسطہ تو کبھی بلا واسطہ دباؤ ڈال کر اپنی تشہیر حاصل کرتی رہی ہے، ایسا بھی کئی بار ہوچکا ہے کہ کئی اخبارات کو سبق سکھانے کے لیے ان کے اشتہارات بند کیئے گئے۔

کراچی، نوری آباد، حیدرآباد اور کوٹڑی میں کئی صنعتیں اور چھوٹے بڑے کارخانے موجود ہیں لیکن سندھی میڈیا ان سے بہت کم ہی اشتہار حاصل کرتے ہیں، اسی وجہ سے کچھ اخبارات تو یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا سندھی بچے چاکلیٹ، ٹافی، یا آئسکریم نہیں کھاتے، کیا سندھی صابن، شیمپو، سگریٹ استعمال نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی دلیل ہوتی ہے کہ جب خریدار موجود ہے تو پھر اس میڈیم کو کیوں یہ اشتہار ملتا ہے جو وہ پڑہتے یا دیکھتے نہیں۔

صحافی اور میڈیا ورکرز

پریس قوانین خاص طور پر کارکنوں کی ملازمت، حالات کار، معاوضے وغیرہ کے حوالے سے سندھ پرنٹ میڈیا میں عمل درآمد خال خال ہے۔ کراچی کے برعکس ان کی آواز بھی اتنے موثر نہیں، اسلام آباد اور کراچی کی صحافتی تنظیمیں حیدرآباد، سکھر اور دیگر شہروں کے صحافی مانتی ہی نہیں اور ان کی پیشورانہ صحافتی تنظیموں میں کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔
باقی تینوں صوبوں میں صحافتی تنظیموں کی صوبائی باڈیز ہیں لیکن سندھ واحد صوبہ ہے جہاں کراچی یونین آف جرنلسٹس ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ترقی پسندی کی دعویٰ کرنے والے دوست بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔