تجاوزات اور شہر
نیا شہری طبقہ ریاست کی توجہ چاہتا ہے
تجاوزات اور شہر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کراچی میں ایمپریس مارکیٹ اور صدر سے تجاوزات ہٹانے کے لئے شروع ہونے والی مہم سندھ کے مٹھی، اسلام کوٹ، چھاچھرو، عمرکوٹ جیسے ان چھوٹے شہروں تک بھی پہنچ گئی ہے جو گزشتہ دو تہائی عشروں میں وجود میں آئے ہیں۔ جہاں پہلے سے سرے سے کوئی شہری منصوبہ بندی نہیں تھے۔ نتیجۃلاکھوں لوگ بے گھر اور متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین بڑھتی ہوئی آبادی کو بم قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس خطرناک بم کو پھٹنے سے روکنے کے لئے ریاست اور حکومتیں کوئی موثر اقدام نہیں کر سکی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے عہدے کے آخری ایام میں بڑھتی ہوئی آبادی کا تو نوٹس لیا ان کی ریٹائرمنت کے بعد اس عدالتی نوٹس کا کیا بنتا ہے؟ یہ نہیں معلوم، تاہم اب تک جو آبادی بڑھ چکی ہے اس کی ہاؤسنگ کا کیا ہوگا؟ اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اس کے بجائے شہروں میں تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردی جس کی وہ سے اور معاملہ الجھ گیا۔ تجاوزات کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے ملک رہائشی گھروں کی صورتحال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ لوگوں کو ہاؤسنگ، بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں رہائش کا مسئلہ سنگین اس لئے بھی ہے کہ یہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔لاکھوں لوگ اس طرح کے گھروں میں رہ رہے ہیں جنہیں گھر نہیں کہا جاسکتا۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق ملک میں4.64 فیصد پکے اور تقریبا 11 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور چوبتیس فیصد کچے مکانات ہیں۔آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 2.10 فیصدہے جو کہ بعض علاقوں میں 3 فیصدبھی ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میں آبادی کی شرح پونے تین فیصد ہے۔پاکستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھی ہے جس میں سے پینتالیس فیصد جھوپڑ پٹی میں رہتی ہے۔ سندھ میں 46.70 پکے اور 18.95 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور 34 کچے مکانات ہیں۔ سندھ میں کل 5022392 گھر ہیں جس کا 56 فیصد ایک کمرے والا اور 23.88 دو کمرے، 15.62 تین کمرے اور 3.56 چار سے پانچ کمرے والا ہے۔
گزشتہ دو عشروں کے دوران سندھ میں بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوا ہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق اب سندھ 52 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور تقریبا 48 فیصددیہی علاقوں میں۔ سندھ میں نقل مکانی کی لہر 1947، 1965 اور 1971 میں آئی۔ 1990 کے عشرے میں افغانستان کی پراکسی جنگ میں ملک کے شہری علاقوں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں آبادی آئی۔ صنعتکاری، شہری سہولیات، تعلیم صحت،ٹرانسپورٹ، روزگار اور معاشی مواقع اور آگے بڑھنے کی خواہش وغیرہ کی وجہ سے لوگ شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہ تاثر ہے کہ شہری علاقوں میں مختلف سہولیات بہتر ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت ہے۔ بااثر لوگوں کا راج ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے کسان اور ماہی گیر بھی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔لہٰذا دیہی علاقوں سے کئی لوگ شہروں کی طرف آرہے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ سیلاب کی وجہ سے بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ شہری علاقے مزدوری اور ملازمت کی مارکیٹ، تجارت، خدمات، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات کی اجہ سے بھی اہم ہیں جو لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہریوں کی طرف منتقلی اس وجہ سے بھی ہو رہی ہے کہ خود کفیل گاؤں کا ماڈل اپنی موت مر رہا ہے۔ ذات یا برادری کا سسٹم اور مال کے بدلے مال کا سسٹم آخری سانسیں لے رہا۔ ریاست کے پاس آبادی کی شہروں کی طرف منتقلی یا شہروں کی اپنی آبادی میں اضافے کے لئے ہاؤسنگ کی کوئی منصوبہ موجود نہیں۔مزید یہ کہ باہر سے آنے والی آبادی کا کچی آبادیاں مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق ملک کو سالانہ چار سے سات لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ بمشکل ڈیڑھ لاکھ گھر بن پاتے ہیں۔اس کی وجہ حکومتی پالیسیاں اور لوگوں کی قوت خرید یعنی غربت ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں عمودی ہاؤسنگ کی وجہ سے آبادی گنجان ہوئی ہے ۔ لوئر اور اپر مڈل کلاساس کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ گھروں کی طلب ہے۔ جس میں سے 62 فیصد کم آمدنی والوں کے لئے، 25 فیصددرمیانہ آمدنی کے لئے اور تقریبا 10 فیصد زیادہ آمدنی والوں کے لئے۔ مشکل سے ڈیڑھ لاکھ گھر فارمل طریقے سے ضرورت پوری ہوتی ہے، جبکہ دو لاکھ کا فرق ہے۔ یہ لوگ غیر روایتی طریقے سے اپنی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ یا سرکاری زمینوں پر کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں یا پھر قیمتی زرعی زمین استعمال میں لے آتے ہیں۔
ماضی میں مختلف ماڈل اختیار کئے گئے۔سرکاری نجی و سرکاری پارٹنر شپ نجی خواہ مخیر حضرات کے ذریعے۔ سینگاپور کا ہاؤسنگ ماڈل مثالی مانا جاتا ہے جہاں ساٹھ کے عشرے میں حکومت نے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی اور اب اسی فیصد لوگوں کو گھر حاصل ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ جس کے تحت پچاس لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ یہ ماڈل پیپلزپارٹی کے ماڈل سے ملتا جلتا ہے کہ قرضے دے کر گھر بنائے جائیں۔فرق یہ ہے کہ حکومت اپنی زیرنگرانی گھر تعمیر کرے گی، سوال یہ ہے کہ کیا یہ قیمتیں لوگوں کے قوت خرید میں ہونگی؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں حکومت غریب لوگوں کو اپنے گھر کا مالک کیسے بنا پائے گی ؟
افقی ترقی کے ذریعے اگر شہروں کا پھیلاؤ ہو تو میونسپل ادارے اپنا انفرااسٹرکچر اتنا وسیع کرسکیں گے؟ عمودی ترقی کی صورت میں بھی شہری سہولیات کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اس پر مزید دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔
شہروں میں بستیاں دو طرح کے لوگ بناتے ہیں ایک وہ جو باہر سے آتے ہیں۔ دوسرے خود شہروں میں پہلے سے بسنے والے آبادی بڑھنے کی وجہ سے بھی کچی بستیاں بناتے ہیں۔کیونکہ حکومت اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ ضروریات پوری نہیں کر پاتی۔یا پھر سرکاری اسکیموں تک ان رسائی سیاسی اثر رسوخ یا کمزورمالی حالت کی وجہ سے رسائی نہیں ہو پاتی۔ سادہ لوح لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ حکومت نے کوئی اسکیم شروع بھی کی ہے۔
چلیں کراچی کا 1940 مین پلان بنا تھا، جس پر عمل کرنے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔مختلف اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ دیہی علاقوں سے بھی بڑے پیمانے پر آبادی شہروں کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ اس آبادی نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنے طور پر گھر بنائے ۔بڑے یا مرکزی محل وقوع کے قصبے شہر ہو گئے، چھوٹے شہر بڑے ہوگئے۔ حکومتیں نہ انہیں ہاؤسنگ دے سکی اور نہ شہروں کا سروے کر کے کوئی منصوبہ بندی کر سکی۔نہ ہی کوئی پالیسی بنا سکی۔ اب جب لوگ حکومت کی کسی مدد اپنے وسائل سے بنا چکے تو انہیں تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔ کئی پرتوں پر مشتمل یہ ایک نیا شہری طبقہ ہے، جس کا ملکی ترقی میں حصہ ہے اور وہ ان شہری سہولیات کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کوئی اور۔ یہ طبقہ حکومت اور ریاست کی توجہ چاہتا ہے۔
تجاوزات اور شہر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کراچی میں ایمپریس مارکیٹ اور صدر سے تجاوزات ہٹانے کے لئے شروع ہونے والی مہم سندھ کے مٹھی، اسلام کوٹ، چھاچھرو، عمرکوٹ جیسے ان چھوٹے شہروں تک بھی پہنچ گئی ہے جو گزشتہ دو تہائی عشروں میں وجود میں آئے ہیں۔ جہاں پہلے سے سرے سے کوئی شہری منصوبہ بندی نہیں تھے۔ نتیجۃلاکھوں لوگ بے گھر اور متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین بڑھتی ہوئی آبادی کو بم قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس خطرناک بم کو پھٹنے سے روکنے کے لئے ریاست اور حکومتیں کوئی موثر اقدام نہیں کر سکی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے عہدے کے آخری ایام میں بڑھتی ہوئی آبادی کا تو نوٹس لیا ان کی ریٹائرمنت کے بعد اس عدالتی نوٹس کا کیا بنتا ہے؟ یہ نہیں معلوم، تاہم اب تک جو آبادی بڑھ چکی ہے اس کی ہاؤسنگ کا کیا ہوگا؟ اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اس کے بجائے شہروں میں تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردی جس کی وہ سے اور معاملہ الجھ گیا۔ تجاوزات کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے ملک رہائشی گھروں کی صورتحال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ لوگوں کو ہاؤسنگ، بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں رہائش کا مسئلہ سنگین اس لئے بھی ہے کہ یہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔لاکھوں لوگ اس طرح کے گھروں میں رہ رہے ہیں جنہیں گھر نہیں کہا جاسکتا۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق ملک میں4.64 فیصد پکے اور تقریبا 11 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور چوبتیس فیصد کچے مکانات ہیں۔آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 2.10 فیصدہے جو کہ بعض علاقوں میں 3 فیصدبھی ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میں آبادی کی شرح پونے تین فیصد ہے۔پاکستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھی ہے جس میں سے پینتالیس فیصد جھوپڑ پٹی میں رہتی ہے۔ سندھ میں 46.70 پکے اور 18.95 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور 34 کچے مکانات ہیں۔ سندھ میں کل 5022392 گھر ہیں جس کا 56 فیصد ایک کمرے والا اور 23.88 دو کمرے، 15.62 تین کمرے اور 3.56 چار سے پانچ کمرے والا ہے۔
گزشتہ دو عشروں کے دوران سندھ میں بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوا ہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق اب سندھ 52 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور تقریبا 48 فیصددیہی علاقوں میں۔ سندھ میں نقل مکانی کی لہر 1947، 1965 اور 1971 میں آئی۔ 1990 کے عشرے میں افغانستان کی پراکسی جنگ میں ملک کے شہری علاقوں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں آبادی آئی۔ صنعتکاری، شہری سہولیات، تعلیم صحت،ٹرانسپورٹ، روزگار اور معاشی مواقع اور آگے بڑھنے کی خواہش وغیرہ کی وجہ سے لوگ شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہ تاثر ہے کہ شہری علاقوں میں مختلف سہولیات بہتر ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت ہے۔ بااثر لوگوں کا راج ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے کسان اور ماہی گیر بھی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔لہٰذا دیہی علاقوں سے کئی لوگ شہروں کی طرف آرہے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ سیلاب کی وجہ سے بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ شہری علاقے مزدوری اور ملازمت کی مارکیٹ، تجارت، خدمات، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات کی اجہ سے بھی اہم ہیں جو لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہریوں کی طرف منتقلی اس وجہ سے بھی ہو رہی ہے کہ خود کفیل گاؤں کا ماڈل اپنی موت مر رہا ہے۔ ذات یا برادری کا سسٹم اور مال کے بدلے مال کا سسٹم آخری سانسیں لے رہا۔ ریاست کے پاس آبادی کی شہروں کی طرف منتقلی یا شہروں کی اپنی آبادی میں اضافے کے لئے ہاؤسنگ کی کوئی منصوبہ موجود نہیں۔مزید یہ کہ باہر سے آنے والی آبادی کا کچی آبادیاں مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق ملک کو سالانہ چار سے سات لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ بمشکل ڈیڑھ لاکھ گھر بن پاتے ہیں۔اس کی وجہ حکومتی پالیسیاں اور لوگوں کی قوت خرید یعنی غربت ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں عمودی ہاؤسنگ کی وجہ سے آبادی گنجان ہوئی ہے ۔ لوئر اور اپر مڈل کلاساس کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ گھروں کی طلب ہے۔ جس میں سے 62 فیصد کم آمدنی والوں کے لئے، 25 فیصددرمیانہ آمدنی کے لئے اور تقریبا 10 فیصد زیادہ آمدنی والوں کے لئے۔ مشکل سے ڈیڑھ لاکھ گھر فارمل طریقے سے ضرورت پوری ہوتی ہے، جبکہ دو لاکھ کا فرق ہے۔ یہ لوگ غیر روایتی طریقے سے اپنی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ یا سرکاری زمینوں پر کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں یا پھر قیمتی زرعی زمین استعمال میں لے آتے ہیں۔
ماضی میں مختلف ماڈل اختیار کئے گئے۔سرکاری نجی و سرکاری پارٹنر شپ نجی خواہ مخیر حضرات کے ذریعے۔ سینگاپور کا ہاؤسنگ ماڈل مثالی مانا جاتا ہے جہاں ساٹھ کے عشرے میں حکومت نے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی اور اب اسی فیصد لوگوں کو گھر حاصل ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ جس کے تحت پچاس لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ یہ ماڈل پیپلزپارٹی کے ماڈل سے ملتا جلتا ہے کہ قرضے دے کر گھر بنائے جائیں۔فرق یہ ہے کہ حکومت اپنی زیرنگرانی گھر تعمیر کرے گی، سوال یہ ہے کہ کیا یہ قیمتیں لوگوں کے قوت خرید میں ہونگی؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں حکومت غریب لوگوں کو اپنے گھر کا مالک کیسے بنا پائے گی ؟
افقی ترقی کے ذریعے اگر شہروں کا پھیلاؤ ہو تو میونسپل ادارے اپنا انفرااسٹرکچر اتنا وسیع کرسکیں گے؟ عمودی ترقی کی صورت میں بھی شہری سہولیات کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اس پر مزید دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔
شہروں میں بستیاں دو طرح کے لوگ بناتے ہیں ایک وہ جو باہر سے آتے ہیں۔ دوسرے خود شہروں میں پہلے سے بسنے والے آبادی بڑھنے کی وجہ سے بھی کچی بستیاں بناتے ہیں۔کیونکہ حکومت اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ ضروریات پوری نہیں کر پاتی۔یا پھر سرکاری اسکیموں تک ان رسائی سیاسی اثر رسوخ یا کمزورمالی حالت کی وجہ سے رسائی نہیں ہو پاتی۔ سادہ لوح لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ حکومت نے کوئی اسکیم شروع بھی کی ہے۔
چلیں کراچی کا 1940 مین پلان بنا تھا، جس پر عمل کرنے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔مختلف اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ دیہی علاقوں سے بھی بڑے پیمانے پر آبادی شہروں کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ اس آبادی نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنے طور پر گھر بنائے ۔بڑے یا مرکزی محل وقوع کے قصبے شہر ہو گئے، چھوٹے شہر بڑے ہوگئے۔ حکومتیں نہ انہیں ہاؤسنگ دے سکی اور نہ شہروں کا سروے کر کے کوئی منصوبہ بندی کر سکی۔نہ ہی کوئی پالیسی بنا سکی۔ اب جب لوگ حکومت کی کسی مدد اپنے وسائل سے بنا چکے تو انہیں تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔ کئی پرتوں پر مشتمل یہ ایک نیا شہری طبقہ ہے، جس کا ملکی ترقی میں حصہ ہے اور وہ ان شہری سہولیات کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کوئی اور۔ یہ طبقہ حکومت اور ریاست کی توجہ چاہتا ہے۔
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/66970/Sohail-Sangi/Naya-Shehri-Tabqa-Hukumat-Ki-Tujhe-Chahta-Hai.aspx


