Wednesday, January 30, 2019

تجاوزات اور شہر



تجاوزات اور شہر
نیا شہری طبقہ ریاست کی توجہ چاہتا ہے
تجاوزات اور شہر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
کراچی میں ایمپریس مارکیٹ اور صدر سے تجاوزات ہٹانے کے لئے شروع ہونے والی مہم سندھ کے مٹھی، اسلام کوٹ، چھاچھرو، عمرکوٹ جیسے ان چھوٹے شہروں تک بھی پہنچ گئی ہے جو گزشتہ دو تہائی عشروں میں وجود میں آئے ہیں۔ جہاں پہلے سے سرے سے کوئی شہری منصوبہ بندی نہیں تھے۔ نتیجۃلاکھوں لوگ بے گھر اور متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین بڑھتی ہوئی آبادی کو بم قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس خطرناک بم کو پھٹنے سے روکنے کے لئے ریاست اور حکومتیں کوئی موثر اقدام نہیں کر سکی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے عہدے کے آخری ایام میں بڑھتی ہوئی آبادی کا تو نوٹس لیا ان کی ریٹائرمنت کے بعد اس عدالتی نوٹس کا کیا بنتا ہے؟ یہ نہیں معلوم، تاہم اب تک جو آبادی بڑھ چکی ہے اس کی ہاؤسنگ کا کیا ہوگا؟ اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اس کے بجائے شہروں میں تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردی جس کی وہ سے اور معاملہ الجھ گیا۔ تجاوزات کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے ملک رہائشی گھروں کی صورتحال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ لوگوں کو ہاؤسنگ، بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں رہائش کا مسئلہ سنگین اس لئے بھی ہے کہ یہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔لاکھوں لوگ اس طرح کے گھروں میں رہ رہے ہیں جنہیں گھر نہیں کہا جاسکتا۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق ملک میں4.64 فیصد پکے اور تقریبا 11 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور چوبتیس فیصد کچے مکانات ہیں۔آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 2.10 فیصدہے جو کہ بعض علاقوں میں 3 فیصدبھی ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میں آبادی کی شرح پونے تین فیصد ہے۔پاکستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھی ہے جس میں سے پینتالیس فیصد جھوپڑ پٹی میں رہتی ہے۔ سندھ میں 46.70 پکے اور 18.95 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور 34 کچے مکانات ہیں۔ سندھ میں کل 5022392 گھر ہیں جس کا 56 فیصد ایک کمرے والا اور 23.88 دو کمرے، 15.62 تین کمرے اور 3.56 چار سے پانچ کمرے والا ہے۔ 
گزشتہ دو عشروں کے دوران سندھ میں بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوا ہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق اب سندھ 52 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور تقریبا 48 فیصددیہی علاقوں میں۔ سندھ میں نقل مکانی کی لہر 1947، 1965 اور 1971 میں آئی۔ 1990 کے عشرے میں افغانستان کی پراکسی جنگ میں ملک کے شہری علاقوں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں آبادی آئی۔ صنعتکاری، شہری سہولیات، تعلیم صحت،ٹرانسپورٹ، روزگار اور معاشی مواقع اور آگے بڑھنے کی خواہش وغیرہ کی وجہ سے لوگ شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہ تاثر ہے کہ شہری علاقوں میں مختلف سہولیات بہتر ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت ہے۔ بااثر لوگوں کا راج ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے کسان اور ماہی گیر بھی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔لہٰذا دیہی علاقوں سے کئی لوگ شہروں کی طرف آرہے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ سیلاب کی وجہ سے بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ شہری علاقے مزدوری اور ملازمت کی مارکیٹ، تجارت، خدمات، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات کی اجہ سے بھی اہم ہیں جو لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہریوں کی طرف منتقلی اس وجہ سے بھی ہو رہی ہے کہ خود کفیل گاؤں کا ماڈل اپنی موت مر رہا ہے۔ ذات یا برادری کا سسٹم اور مال کے بدلے مال کا سسٹم آخری سانسیں لے رہا۔ ریاست کے پاس آبادی کی شہروں کی طرف منتقلی یا شہروں کی اپنی آبادی میں اضافے کے لئے ہاؤسنگ کی کوئی منصوبہ موجود نہیں۔مزید یہ کہ باہر سے آنے والی آبادی کا کچی آبادیاں مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ 
عالمی بینک کے مطابق ملک کو سالانہ چار سے سات لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ بمشکل ڈیڑھ لاکھ گھر بن پاتے ہیں۔اس کی وجہ حکومتی پالیسیاں اور لوگوں کی قوت خرید یعنی غربت ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں عمودی ہاؤسنگ کی وجہ سے آبادی گنجان ہوئی ہے ۔ لوئر اور اپر مڈل کلاساس کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ گھروں کی طلب ہے۔ جس میں سے 62 فیصد کم آمدنی والوں کے لئے، 25 فیصددرمیانہ آمدنی کے لئے اور تقریبا 10 فیصد زیادہ آمدنی والوں کے لئے۔ مشکل سے ڈیڑھ لاکھ گھر فارمل طریقے سے ضرورت پوری ہوتی ہے، جبکہ دو لاکھ کا فرق ہے۔ یہ لوگ غیر روایتی طریقے سے اپنی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ یا سرکاری زمینوں پر کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں یا پھر قیمتی زرعی زمین استعمال میں لے آتے ہیں۔ 
ماضی میں مختلف ماڈل اختیار کئے گئے۔سرکاری نجی و سرکاری پارٹنر شپ نجی خواہ مخیر حضرات کے ذریعے۔ سینگاپور کا ہاؤسنگ ماڈل مثالی مانا جاتا ہے جہاں ساٹھ کے عشرے میں حکومت نے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی اور اب اسی فیصد لوگوں کو گھر حاصل ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ جس کے تحت پچاس لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ یہ ماڈل پیپلزپارٹی کے ماڈل سے ملتا جلتا ہے کہ قرضے دے کر گھر بنائے جائیں۔فرق یہ ہے کہ حکومت اپنی زیرنگرانی گھر تعمیر کرے گی، سوال یہ ہے کہ کیا یہ قیمتیں لوگوں کے قوت خرید میں ہونگی؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں حکومت غریب لوگوں کو اپنے گھر کا مالک کیسے بنا پائے گی ؟ 
افقی ترقی کے ذریعے اگر شہروں کا پھیلاؤ ہو تو میونسپل ادارے اپنا انفرااسٹرکچر اتنا وسیع کرسکیں گے؟ عمودی ترقی کی صورت میں بھی شہری سہولیات کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اس پر مزید دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔
شہروں میں بستیاں دو طرح کے لوگ بناتے ہیں ایک وہ جو باہر سے آتے ہیں۔ دوسرے خود شہروں میں پہلے سے بسنے والے آبادی بڑھنے کی وجہ سے بھی کچی بستیاں بناتے ہیں۔کیونکہ حکومت اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ ضروریات پوری نہیں کر پاتی۔یا پھر سرکاری اسکیموں تک ان رسائی سیاسی اثر رسوخ یا کمزورمالی حالت کی وجہ سے رسائی نہیں ہو پاتی۔ سادہ لوح لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ حکومت نے کوئی اسکیم شروع بھی کی ہے۔ 
چلیں کراچی کا 1940 مین پلان بنا تھا، جس پر عمل کرنے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔مختلف اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ دیہی علاقوں سے بھی بڑے پیمانے پر آبادی شہروں کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ اس آبادی نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنے طور پر گھر بنائے ۔بڑے یا مرکزی محل وقوع کے قصبے شہر ہو گئے، چھوٹے شہر بڑے ہوگئے۔ حکومتیں نہ انہیں ہاؤسنگ دے سکی اور نہ شہروں کا سروے کر کے کوئی منصوبہ بندی کر سکی۔نہ ہی کوئی پالیسی بنا سکی۔ اب جب لوگ حکومت کی کسی مدد اپنے وسائل سے بنا چکے تو انہیں تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔ کئی پرتوں پر مشتمل یہ ایک نیا شہری طبقہ ہے، جس کا ملکی ترقی میں حصہ ہے اور وہ ان شہری سہولیات کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کوئی اور۔ یہ طبقہ حکومت اور ریاست کی توجہ چاہتا ہے۔ 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/66970/Sohail-Sangi/Naya-Shehri-Tabqa-Hukumat-Ki-Tujhe-Chahta-Hai.aspx

نیا شہری طبقہ ریاست کی توجہ چاہتا ہے



نیا شہری طبقہ ریاست کی توجہ چاہتا ہے

تجاوزات اور شہر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
کراچی میں ایمپریس مارکیٹ اور صدر سے تجاوزات ہٹانے کے لئے شروع ہونے والی مہم سندھ کے مٹھی، اسلام کوٹ، چھاچھرو، عمرکوٹ جیسے ان چھوٹے شہروں تک بھی پہنچ گئی ہے جو گزشتہ دو تہائی عشروں میں وجود میں آئے ہیں۔ جہاں پہلے سے سرے سے کوئی شہری منصوبہ بندی نہیں تھے۔ نتیجۃلاکھوں لوگ بے گھر اور متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین بڑھتی ہوئی آبادی کو بم قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس خطرناک بم کو پھٹنے سے روکنے کے لئے ریاست اور حکومتیں کوئی موثر اقدام نہیں کر سکی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے عہدے کے آخری ایام میں بڑھتی ہوئی آبادی کا تو نوٹس لیا ان کی ریٹائرمنت کے بعد اس عدالتی نوٹس کا کیا بنتا ہے؟ یہ نہیں معلوم، تاہم اب تک جو آبادی بڑھ چکی ہے اس کی ہاؤسنگ کا کیا ہوگا؟ اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اس کے بجائے شہروں میں تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردی جس کی وہ سے اور معاملہ الجھ گیا۔ تجاوزات کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے ملک رہائشی گھروں کی صورتحال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ لوگوں کو ہاؤسنگ، بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں رہائش کا مسئلہ سنگین اس لئے بھی ہے کہ یہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔لاکھوں لوگ اس طرح کے گھروں میں رہ رہے ہیں جنہیں گھر نہیں کہا جاسکتا۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق ملک میں4.64 فیصد پکے اور تقریبا 11 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور چوبتیس فیصد کچے مکانات ہیں۔آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 2.10 فیصدہے جو کہ بعض علاقوں میں 3 فیصدبھی ہے۔ جبکہ شہری علاقوں میں آبادی کی شرح پونے تین فیصد ہے۔پاکستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھی ہے جس میں سے پینتالیس فیصد جھوپڑ پٹی میں رہتی ہے۔ سندھ میں 46.70 پکے اور 18.95 فیصد آدھے کچے آدھے پکے اور 34 کچے مکانات ہیں۔ سندھ میں کل 5022392 گھر ہیں جس کا 56 فیصد ایک کمرے والا اور 23.88 دو کمرے، 15.62 تین کمرے اور 3.56 چار سے پانچ کمرے والا ہے۔ 
گزشتہ دو عشروں کے دوران سندھ میں بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوا ہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق اب سندھ 52 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور تقریبا 48 فیصددیہی علاقوں میں۔ سندھ میں نقل مکانی کی لہر 1947، 1965 اور 1971 میں آئی۔ 1990 کے عشرے میں افغانستان کی پراکسی جنگ میں ملک کے شہری علاقوں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں آبادی آئی۔ صنعتکاری، شہری سہولیات، تعلیم صحت،ٹرانسپورٹ، روزگار اور معاشی مواقع اور آگے بڑھنے کی خواہش وغیرہ کی وجہ سے لوگ شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہ تاثر ہے کہ شہری علاقوں میں مختلف سہولیات بہتر ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت ہے۔ بااثر لوگوں کا راج ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے کسان اور ماہی گیر بھی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔لہٰذا دیہی علاقوں سے کئی لوگ شہروں کی طرف آرہے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ سیلاب کی وجہ سے بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ شہری علاقے مزدوری اور ملازمت کی مارکیٹ، تجارت، خدمات، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات کی اجہ سے بھی اہم ہیں جو لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہریوں کی طرف منتقلی اس وجہ سے بھی ہو رہی ہے کہ خود کفیل گاؤں کا ماڈل اپنی موت مر رہا ہے۔ ذات یا برادری کا سسٹم اور مال کے بدلے مال کا سسٹم آخری سانسیں لے رہا۔ ریاست کے پاس آبادی کی شہروں کی طرف منتقلی یا شہروں کی اپنی آبادی میں اضافے کے لئے ہاؤسنگ کی کوئی منصوبہ موجود نہیں۔مزید یہ کہ باہر سے آنے والی آبادی کا کچی آبادیاں مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ 
عالمی بینک کے مطابق ملک کو سالانہ چار سے سات لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ بمشکل ڈیڑھ لاکھ گھر بن پاتے ہیں۔اس کی وجہ حکومتی پالیسیاں اور لوگوں کی قوت خرید یعنی غربت ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں عمودی ہاؤسنگ کی وجہ سے آبادی گنجان ہوئی ہے ۔ لوئر اور اپر مڈل کلاساس کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ گھروں کی طلب ہے۔ جس میں سے 62 فیصد کم آمدنی والوں کے لئے، 25 فیصددرمیانہ آمدنی کے لئے اور تقریبا 10 فیصد زیادہ آمدنی والوں کے لئے۔ مشکل سے ڈیڑھ لاکھ گھر فارمل طریقے سے ضرورت پوری ہوتی ہے، جبکہ دو لاکھ کا فرق ہے۔ یہ لوگ غیر روایتی طریقے سے اپنی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ یا سرکاری زمینوں پر کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں یا پھر قیمتی زرعی زمین استعمال میں لے آتے ہیں۔ 
ماضی میں مختلف ماڈل اختیار کئے گئے۔سرکاری نجی و سرکاری پارٹنر شپ نجی خواہ مخیر حضرات کے ذریعے۔ سینگاپور کا ہاؤسنگ ماڈل مثالی مانا جاتا ہے جہاں ساٹھ کے عشرے میں حکومت نے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی اور اب اسی فیصد لوگوں کو گھر حاصل ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ جس کے تحت پچاس لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ یہ ماڈل پیپلزپارٹی کے ماڈل سے ملتا جلتا ہے کہ قرضے دے کر گھر بنائے جائیں۔فرق یہ ہے کہ حکومت اپنی زیرنگرانی گھر تعمیر کرے گی، سوال یہ ہے کہ کیا یہ قیمتیں لوگوں کے قوت خرید میں ہونگی؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں حکومت غریب لوگوں کو اپنے گھر کا مالک کیسے بنا پائے گی ؟ 
افقی ترقی کے ذریعے اگر شہروں کا پھیلاؤ ہو تو میونسپل ادارے اپنا انفرااسٹرکچر اتنا وسیع کرسکیں گے؟ عمودی ترقی کی صورت میں بھی شہری سہولیات کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اس پر مزید دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔
شہروں میں بستیاں دو طرح کے لوگ بناتے ہیں ایک وہ جو باہر سے آتے ہیں۔ دوسرے خود شہروں میں پہلے سے بسنے والے آبادی بڑھنے کی وجہ سے بھی کچی بستیاں بناتے ہیں۔کیونکہ حکومت اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ ضروریات پوری نہیں کر پاتی۔یا پھر سرکاری اسکیموں تک ان رسائی سیاسی اثر رسوخ یا کمزورمالی حالت کی وجہ سے رسائی نہیں ہو پاتی۔ سادہ لوح لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ حکومت نے کوئی اسکیم شروع بھی کی ہے۔ 
چلیں کراچی کا 1940 مین پلان بنا تھا، جس پر عمل کرنے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔مختلف اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ دیہی علاقوں سے بھی بڑے پیمانے پر آبادی شہروں کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ اس آبادی نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنے طور پر گھر بنائے ۔بڑے یا مرکزی محل وقوع کے قصبے شہر ہو گئے، چھوٹے شہر بڑے ہوگئے۔ حکومتیں نہ انہیں ہاؤسنگ دے سکی اور نہ شہروں کا سروے کر کے کوئی منصوبہ بندی کر سکی۔نہ ہی کوئی پالیسی بنا سکی۔ اب جب لوگ حکومت کی کسی مدد اپنے وسائل سے بنا چکے تو انہیں تجاوزات قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔ کئی پرتوں پر مشتمل یہ ایک نیا شہری طبقہ ہے، جس کا ملکی ترقی میں حصہ ہے اور وہ ان شہری سہولیات کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کوئی اور۔ یہ طبقہ حکومت اور ریاست کی توجہ چاہتا ہے۔

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/66970/Sohail-Sangi/Naya-Shehri-Tabqa-Hukumat-Ki-Tujhe-Chahta-Hai.aspx 

عمران خان حکومت کے لئے مشکل وقت



میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
منی بجٹ میں تحریک انصاف کی حکومت نے قبول کرلیا ہے کہ بزنس انوائرمنٹ بہت منفی ہوا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بکھرا ہوا ہے ، جس کی بحالی کے لئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان اور ان کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگے گا۔ کیونکہ پانچ ماہ بعد ایک اور بجٹ آنے والا ہے۔ اور ہر دوتین مہینے بعد ایک ایس آر او یا بجٹ آرہا ہے،صرف ماہرین اسکو درست نہیں سمجھتے بلکہ عوام میں بھی حکومت کے بارے میں خراب تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ بجٹ پر بحث یقیننا سیاسی فضا میں گہما گہمی پیدا کرے گا۔ لیکن حکومت خواہ اپوزیشن اپنی سابقہ سیاسی حکمت عملی پر قائم رہیں گے ۔
حکومت مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے درمیان خیلج پر خوش ہیں، جس کا اظہار وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ تقریر بھی یہ کہہ کر کیا کہ’’ شہباز شریف نے جس طرح زرداری کو لاڑکانہ اور لاہور کی سڑکوں پرگھسیٹا، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ بظاہر وزیر خزانہ کا یہ بیان اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم اپوزیشن مشترکہ عمل کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے پارلیمانی گروپ کا پہلا اجلاس 28 جنوری ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں خاص طور پرمنی بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔اپوزیشن جماعتیں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتوں کے اختیارات جاری رکھنے کیلئے آئینی ترمیم کی توسیع پر مشترکہ موقف اختیار کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ۔ اگراپوزیشن فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی حمایت کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لئے مدت کا تعین ضروری ہو جائے گا۔ تاکہ کچھ وقت کے بعد فوجی عدالتوں کی کوئی ضرورت نہ رہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹربیونلزدو سال کیلئے متعارف کرائے گئے تھے ، بعد میں انہیں مزید دو سالوں کیلئے توسیع دے دی گئی۔ فوجی عدالتوں کے بارے میں دو آراء ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہئے جبکہ دوسری رائے اس کے مخالف ہے اور زور دیتی ہے کہ جب آپریشنز کے باعث دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی آئی ہے تو اب فوجی عدالتوں کے قیام کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔پیپلزپارٹی نے بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کردی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آئینی ترمیم کے خلاف پارٹی کی اعلان کردہ رائے سے آگاہ کردیا ہے۔
پیپلزپارٹی خاص طور پر سندھ میں جلسے منعقد کرکے مسلسل دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ان جلسوں میں تین نکات خصوصی طور پر زور دیا جارہا ہے۔ ۱) تحریک انصاف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید ۔۲) پی پی پی کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے سلسلے میں جے آئی ٹی رپورٹ۔اور پارٹی قیادت پر بنائے گئے مقدمات ۔۳) اٹھارہویں آئینی ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ۔سندھ میں پیپلزپارٹی کی اس مہم کو پزیرائی ملی ہے۔ پارٹی فروری میں مزید جارحانہ حکمت عملی کی طرف جارہی ہے۔ اس نے سندھ کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا ہے۔اس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دی جائے گی ۔
پیپلزپارٹی متحدہ اپوزیشن بنانے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔ اور وہ اب عوامی میدان کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائیم دینے کی تیاری کررہی ہے۔ پی پی پی نے حکومتی اتحاد ی جماعتوں سے بھی رابطے کئے ہیں۔پارٹی کہتی ہے کہ وہ ’’ ایوانوں، عدالتوں اور سڑکوں پر جنگ لڑے گی‘‘ پارٹی کے ایک اہم اجلاس میں یہ بھی کہاگیا کہ پارٹی کا سیاسی ٹارگیٹ عمران خان ہوں گے ۔پیپلزپارٹی کی اکتوبر میں قرارداد یش کرنے کی دھمکی اس حکمت عملی کا اشارہ تھی۔
پیپلزپارٹی کے جلسوں اور عوامی رابطوں کے توڑ کے طور پر تحریک انصاف کی جوابی سیاسی حکمت عملی کے تحت سندھ میں پی پی پی دباؤ ڈالنے کے لئے جی ڈی اے سمیت ایم کیو ایم میدان میں اتارا ہے ۔ایم کیو ایم شہری علاقوں میں اور جی ڈی اے دیہی علاقوں میں اجتماعات کریگی۔ اس ضمن میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کو سودمند قرا دیا جارہا ہے ۔ ایم کیو ایم پارٹی کے بند دفتر کھلوانا، لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کرانااور کراچی کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج لینا چاہتی ہے، ایم کیو ایم کا دعوا ہے کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرادی ہے۔اگروزیراعظم عمران خان اس یقین دہانی کی پاسداری کر لیتے ہیں تو ایم کیو ایم اپنا تنظیمی ڈھانچہ ایک بار پھر بحال کرلے گی اور وہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ وزیراعظم سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے حیدرآباد میں جلسہ عام کیا۔ اور یہ نوید سنائی کہ ایم کیو ایم کے لئے اچھا وقت آنے والا ہے ۔
گزشتہ ہفتے ایک نئی صورتحال بھی ابھر کر سامنے آئی کہ قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ گزشتہ سال جولائی میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کچھ اس طرح کے آئے کہ تبدیلی کے نعرے پر آنے والی جماعت کو حکومت سازی کے لئے بعض دیگر چھوٹی جماعتوں اور گروہوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا پڑا۔ اسی فارمولا کے تحت پنجاب اور بلوچستان میں بھی حکومتیں بنائی گئیں۔ مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی اورایم کیو ایم نے اپنے اپنے شرائط رکھے۔ اگرچہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم ہر ایک کے پاس اگرچہ نصف درجن نشستیں ہیں۔لیکن ان میں سے کوئی بھی جماعت اگر اپنی حمایت واپس لیتی ہے تو حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔ایم کیو ایم کی شرائط کی پاسداری کرنا تحریک انصاف کے لئے دو وجوہات کی بناء پر مشکل ہے۔ ایک یہ کہ یہ دونوں جماعتیں آنے والے وقت میں بھی کراچی میں ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہیں۔ ایم کیو ایم یہ بھی سمجھتی ہے کہ کراچی سے پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کے حصے کی نشستیں ملی ہیں۔ مستقبل میں بھی اگر تحریک انصاف ملک کے صنعتی و تجارتی حب میں اپنا حصہ بڑھاتی ہے تو ایم کیو ایم کا ہی حصہ کم ہوگا۔ لہٰذا ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے تعلقات نفرت اور پیار دونوں کا امتزاج ہیں۔ ایم کیو ایم کا بلدیاتی اداروں کو اختیرات دینے کا مطالبہ بھی نہ صرف سندھ حکومت سے متعلق ہے بلکہ اس سے سندھ حکومت کے اختیارات کم ہونگے۔ یعنی ایم کیو ایم تحریک انصاف سے وہ چیز مانگ رہی ہے جوپی ٹی آئی کے پاس ہے ہی نہیں۔ تحریک انصاف کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک چھوٹے سے اتحادی کے لئے سندھ حکومت سے بگاڑے جس سے گزشتہ جولائی کے بعد وجود آنے والا سیٹ اپ بیٹھ جائے۔ کارکنوں کو رلیف دینے یا دفاتر کھولنے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں کہ سیاسی حکومت اپنے طور پر کر لے۔ ایسا کرنے کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کی ذمہ د اری کون دے گا؟ جس لئے اتنے سارے آپریشنز اور اقدامات کئے گئے؟
بلوچستان نیشنل پارٹی کی شرائط میں پراسرار گمشدگیوں کامعاملہ اہم ہے۔ اس مطالبے کی پاسداری بلوچستان کی قوم پرستوں کو قومی سیاسی دھارے میں جوڑ سکتی ہے لیکن اس سے قوم پرست سیاست کا احیاء بھی ہوگا۔ اس شرط کے بارے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادتوں پر احتساب کے شکنجے کے دباؤ کے ساتھ سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی کی بھی کوشش کی گئی۔ اس نے ملکی سیاست کو نئے رخ اور نئے اشارے دیئے۔ بی این پی اور ایم کیو ایم دنوں نے اتحاد کی شرائط یاد دلانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ قاف کو بھی اپنی شکایات یاد آئیں۔اس کا دعوا ہے کہ اسکو وعدے کے مطابق مرکز اور صوبے میں دو دو وزارتیں ملنی تھی۔بعض اور معاملات پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ قاف لیگ اور چوہدری برادران کے اختلافات بھی واضھ ہوئے۔
وزیراعظم سیاست کی ان جزئیات کو سلجھا نہ سکے۔ جس کا اظہار پارٹی کے اندرونی حلقوں میں کیا جارہا ہے۔ایسے میں پیپلزپارٹی کو تنگ گلی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے اکتوبر میں اپنی اعلان کردہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی حکمت عملی کو تازہ کر کے اس پر عمل کرنے کے لئے رابطے کئے۔ اسمبلی کے اس قرارداد کی خواہ قانونی حیثیت نہ ہو، مگر سیاسی اور اخلاقی اہمیت ضرور ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے اتحادی ایم کیو ایم اور قاف لیگ ذرا حکومت سے فاصلہ کرتی ہیں یا بلوچستان نیشنل پارٹی متحدہ اپوزیشن کی قرارداد کا حصہ بنتی ہے تو عمران خان حکومت کے لئے بھونچال جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اسلام آباد کے ایک تجزیہ نگار کے مطابق ممکن ہے کہ اس صورتحال میں تحریک انصاف کو اپنا پارلیمانی لیڈر تبدیل کرنا پڑے اور یہ قرع شاہ محمود قریشی کے نام نکلے ،شاہ محمود قریشی سافٹ سیاسی ہینڈلنگ کے لئے مشہور ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو عمران خان کے مقابلے میں زیادہ قابل قبول ہوسکتے ہیں۔یاد رہے کہ مخدوم صاحب سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ ’’دنگل‘‘ کے دوران خاموش تھے۔
Nai Baat - Sohail Sangi - PTI, ImranKhan-

Thursday, January 24, 2019

عوام کو بھی ٹھیک کرنے کی حکمت عملی


عوام کو بھی ٹھیک کرنے کی حکمت عملی 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
حکومت کی کارکردگی پرکھنے اور اس کو جاری رکھنے کے لئے تین باتیں نہایت ہی اہم ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ عام لوگوں کو کیاحقوق اور سہولت حاصل ہیں۔دوئم یہ سیاسی ماحولاور مجموعی طور پر جمہوری عمل اوراداروں کی مضبوطی، سوئم یہ کہ روزمرہ کے کاموں میں مصروف ملازمین اور افسران کی طرف رویہ۔ آئیے ان تین کسوٹیوں پر تحریک انصاف کی حکومت کو پرکھیں۔ عوام کو حقوق اور سہولت دینے کا کھاتہ تاحال خالی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، گیس، بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی صورتحال پہلے سے خراب ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا سو ہوا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردنی و عام تصرف کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملکی معیشت نمو نظر نہیں آتا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی بھی معاشی طور پر تنگی محسوس کر رہا ہے۔معیشت کس قدر مضبوط بنیادوں پر ہیں؟ لوگوں کو کیا مالی و سماجی فوائد دے رہے ہیں اور جو کچھ دے رہے ہیں اس کی کیا قیمت ہے۔ حکومت کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، اور انکو ساتھ لیکر چلنا ضروری ہے۔ اسٹیک ہولڈرز صرف طاقتور ادارے ہی نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ حکومتی رابطوں کی شفافیت اچھی حکمرانی کی نشانی ہے لیکن موجودہ حکومت کابینہ کا ایجنڈا وغیرہ بھی خفیہ رکھنے کے احکامات جاری کرہی ہے۔میڈیا پر قدغن بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات دکھاوے کے زیادہ ہیں۔ ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں حکومت کی اتھارٹی نظر آئے۔ اس کا رعب تاب محسوس ہو۔ یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ان پر حکومت کی جارہی ہے۔ احتساب اور کئی مقامات پر تجاوزات کی آڑ میں کئے گئے اقدامات اس زمرے میں آتے ہیں۔ لوگوں میں یہ دہشت بٹھائی جارہی ہے کہ اگر حکومت اپنی پر آئے تو ایسا بھی کر سکتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ عوام کے مفاد میں تاحال حکومت کی یہ اتھارٹی سامنے نہیں آئی ہے۔
ملکی تاریخ کا زیادہ حصہ مارشل لاء یا پھر مضبوط کے سائے میں چلنے والی حکومتوں پر محیط ہے۔ وہ ویسے ہی ڈرے ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسربرطانوی راج سے ورثے میں ملی بیوروکریسی کے نظام نے پوری کردی۔جس کا مطمع نظر یہ رہا کہ حکمرانی کرنی ہے لوگوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا کہ اگر حکومت کوئی عام فائدے کا کام کرتی ہے تو یہ نا کا حق یا حکومت کا فرض نہیں بلکہ حکومت کا احسان ہے۔ لہٰذالوگوں کو یہ تجربہ ہوا کہ حکومت کے حوالے سے کوئی بھی کام آسانی سے نہیں۔ اس کا ایک طویل طریقہ کارہے۔ طریقے کو آسان اور مختصر کرنے کے لئے بااثر کا سہارا اور مدد لینا ضروری ہے۔ کسی بااثر کے سایے تلے رہنا خوشحالی اور باعزت زندگی گزارنے کی نشانی ہے۔ تقریبا پاکستان کا ہر شہری اس تجربے کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔ اگر اثر رسوخ ہو تو ہر کام آسان اور جائز ہے، ورنہ ہر جائز کام بھی مشکل اور ناجائز ہے۔ 
لوگوں کے تجربے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ صحیح ہونا یا دلیل بازی انہیں عدالتوں میں انصاف نہیں دلا سکتے۔کیونکہ عدالتیں اونچے طبقے کے معاملات سلجھانے میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے پاس عام آدمی کے مسائل کے لئے وقت نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کبھی کبھی عدلیہ بالائی طبقے کے آپس کے تضادات یا پھر عدلیہ میں لوگوں کا اعتبار قائم رکھنے کے لئے بعض فیصلے دیتی ہے جو مثال ببن کر گائے جاتے ہیں۔ ورنہ شاید ہی کوئی نظیر ہو کہ کسی عام اور بے رسا آدمی کو انصاف ملا ہو۔ ایسے لوگوں میں حکومت کا خوف بٹھانا اور دکھاوے کے اقدامات کرناسماج میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے لوگوں کا بااختیار ہونا کیسے ممکن ہے؟ 
حکومت کرنا سیاست ہے اور سیاست کا مطلب مشاورت اور اپنی سوچ سے مختلف یا مخالف کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کوئی آج کے جمہوری دور میں ہر بھی حکومت ایک معینہ مدت کے لئے آتی ہے۔اس مدت کے دوران پورے معاشرے کو حکومت میں شرکت کا احساس دلانا ہوتا ہے۔اس میعاد کے بعد ملکی معاشرہ اور حکومت کسی اور پارٹی کے حوالے کرنا ہے۔اس مقصد کے لئے ایک خاص سیاسی ماحول انتہائی ضروری ہے۔ تبدیلی والی حکومت تاحال عوام دوست سیاسی ماحول پیدا نہیں کر سکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں آنے کے دو ماہ کے اندر عوام کو حکومت اور نظام میں شرکت کا اھساس دلا دیا تھا۔ آج حکمران جماعت کا تمام تر زور دو سیاسی مخالفین کو زیر کرنا ہے۔تاثر یہ ہے کہ بس ’’دو بدمعاشوں‘‘ کو قابو میں کرلیں تو ملک میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہنا شروع ہو جائیں گی۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو سیاسی میدان سے آؤٹ کرنا تحریک انصاف کی حکومت اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔لیکن تاحال یہ دونوں جماعتیں ’’ناٹ آؤٹ‘‘ ہیں۔دوسری جانب یہ بھی چرچہ ہے کہ نئے پاکستان میں نیا این آر او آرہا ہے۔ نیا این آر او پرانے کی طرح نیا قانون لاگوکرنے کی طرح نہیں ہوگا۔ بلکہ موجود قوانین کو استعمال کرتے ہوئے کوئی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ اس میں عدلیہ اور نیب کا اہم کردار ہوگا۔ بڑی جماعتوں میں سیکس کو کیا سہولت دی جائے؟ اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔اصل میں خود حکومت کو بھی رلیف چاہئے۔ اگر ایسا کوئی فارمولا بنتا ہے تو بھی موجودہ حکومت کے رویے میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ جمہوری عمل یا جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور عوام کو اس نظام میں شرکت کا احساس ہو۔ 
تیسری کسوٹی روزمرہ کے کاموں میں مصروف اداروں اور ان کے ملازمین و افسران کے ساتھ رویہ اور پالیسی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد انتظامی افسران کے نظام میں تبدیلی کے لئے ٹاسک فورس اور کمیشن بٹھائے۔ جہاں سے یہ سفارشات آئیں کہ اعلیٰ افسران کے تقرر میں وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات ختم کر کے ایک معینہ مدت تک کی تقرری کی پالیسی اختیار کی جائے۔ پہلے وزیراعظم نے ان سفارشاتلہٰذا ان سفارشات کو فائل میں بند کر کے سرد خانے کے حوالے کردیا گیا۔ یہ یو ٹرن اس وجہ سے یا کہ اعظم سواتی کے معاملے میںآئی جی پولیس نے حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت کا فون اٹینڈ نہیں کای۔ اس سے قبل پنجاب پولیس اور ضلع انتظامیہ کے حوالے سے چار واقعات رونما ہو چکے تھے۔ حال ہی میں حکومت نے اپنی ’’اہلیت‘‘ بچانے کے لئے گیس تقسیم کرنے والی دو کمپنیوں کے سربراہوں کی چھٹی کرادی۔ان کمپنیوں کے ذمہ گیس کی تقسیم ہے۔ گیس کی پیداوار ، درآمد اور ترجیحات کے لئے ذمہ دار نہیں ۔ کیونکہ یہ تینوں کام بعض دیگر وفاقی ادارے اور متعلقہ وزارتیں کرتی ہیں۔ایک غلط فیصلہ حکومت نے کیا لیکن خیمازہ افسران کو بھگتنا پڑا۔ اس طرح کے اقدامات کے بعد بیوروکریسی محتاط ہو گئی ہے۔اس سے قبل نواز لیگ کے دور حکومت کے بعض بعض کئے اور بعض نہ کئے گئے کاموں اور فیصلوں میں بھی بیوروکریسی سزا ملی تھے۔سوال یہ ہے کہ افسرشاہی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی پالیسیوں، فیصلوں یا احکامات پر عمل کرنے سے کیوں کترا رہی ہیں؟ اس کی بھی چند وجوہات ہو سکتی ہیں ممکن ہے کہا حکومت اپنی بات عمل درمد کرنے والی مشنری کو سمجھا نہیں پارہی ۔ اگرایسا ہے تو خود کابینہ یا فیصلہ کرنے والوں کی اہلیت پر سوالیہ نشان آتا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت کے فیصلے اور احکامات قوانین و ضوابط کے فریم ورک میں نہ آتے ہوں جس کی وجہ سے ان پر عمل درآمد مشکل ہو رہا ہو۔ تیسری صورت یہ ہے کہ غلط یا صحیح کام وزیراعظم یا کابینہ کا حکم ہے لہٰذا اس پر عمل کرنا ہے۔ اس صورت میں انہیں آنے والے وقت میں اس کے مضمرات کو بھگتنا پڑے گا۔ 
ابھی منی بجٹ بھی آنے والا ہے۔ جس کے لئے عوام کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کو تیار کیا جارہا ہے۔مشکل یہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ ہر حال میں اپنی اتھارٹی منوانا چاہ رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک کا انتظامی نظام، پارلیمنٹ یا عوام ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ریاست کے طاقتور ادارے ان کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے کھڑے ہیں لہٰذا کسی اور کی پروہ نہیں۔ سب کو ٹھیک کرنا ہے، پھر وہ سیاتداں ہوں یا بیرورکریسی یا پھر عوام۔
Sohail Sangi Column Nai Baat Jan 15, 2019

Saturday, January 12, 2019

تھر ترقی کے سفر میں کیسے پیچھے رہا


شکریہ ب شکریہ عثمان کاکڑ صاحب ! 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 


تھر کے لوگ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ تھر کے کولئے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے زمین ان کے پیروں تلے نکالی جارہی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ کی پسماندہ علاقوں سے متعلق کمیٹی نے اس قحط زدہ صحرا کا دورہ کرنے کے بعد وہی بات کہی ہے جو تھر کے لوگ گزشتہ ایک دہائی سے کہہ رہے ہیں۔ سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ ثقافت اور معاشرتی لحاظ سے مثالی خطہ خستہ حالی کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ترقی کے سفر میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی بھی یہ بات کہتی رہی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر سنہری خواب دکھا کر پسماندہ علاقے کے غریب لوگوں کو بے زمین اور بے گھر کر رہی ہے۔ حکومت سندھ کے عہدیداران یا تو اس بات سے ناواقف ہیں یا گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں۔ مجلس قائمہ کے چیئرمین نے درست فرمایا کہ وسائل کے باوجودلوگوں ترقی کے سفر میں تھر پسماندہ رہا۔ کوئلے مالک تھر باسی بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا؟کاکڑ صاحب نے بہت ہی اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ۔ تھر کی ترقی کے سفر کی کہانی دردناک ہے۔تقریبا 22 ہزار مربع کلو میٹر پر پہلے ہوئے اس علاقے میں 80 کے عشرے میں پہلی پکی سڑک بنی تھی۔ باقی سڑکیں گزشتہ بیس سال میں ہی بنی ہیں۔ مزید یہ کہ 90 کے عشرے تک قحط ہو یا عام حالات بیراج علاقے سے تھر کی طرف گندم لے جانے پر پابندی رہی۔ لوگ اتنی ہی گندم لے جاسکتے تھے جتنے اپنے سر پر اٹھا کر لے جاسکتے تھے۔ یہ رہی ہے بیسویں اور اکیسویں صدی کے تھر کی تصویر۔آج بھی 16 لاکھ آبادی کے لئے صرف دو کالج ہیں۔ کوئی میڈیکل یا انجنیئرنگ کالج نہیں۔ صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی یا کوئی کیمپس موجود ہے۔ بعض اضلاع اور شہروں میں دو دو تین تین یونیورسٹیاں ہیں۔ تھر ضلع میں کسی یونیورسٹی کا کوئی کیمپس بھی نہیں۔تھر کا سب سے بڑا سرمایہ افرادی قوت ہے۔ اس کی ترقی کے لئے تاحال کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ برسہا برس تک غربت، قحط سالی کا شکار لوگ بھوک اور غذائیت کی کمی میں مبتلا اور طبی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ڈاکٹروں کی اسامیان پر کی گئی ہیں۔ 
مجلس قائمہ کے چیئرمین کہتے ہیں کہ کوئلے کی رائلٹی کا ایک فیصد بھی تھر پر خرچ ہو تو یہ پسماندہ علاقہ ترقی کر سکتا ہے۔کمپنی نے رائلٹی اور کاپوریٹ سوشل ریسپانسنلٹی کا فنڈز استعمال کرنے کے الگ ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔تھر کے لوگ تاحال لاعلم ہیں کہ حکومت سندھ اور کول کمپنی کے درمیان پارٹنر شپ کی شارئط کیا ہیں؟ حکومت سندھ نے کوئلہ کی قیمت فروخت کیا مقرر کی ہے؟َ
دنیا بھر میں کاپوریٹ سیکٹر ک کا مخصوص طریقہ واردات ہے۔یہی طریقہ تھر میں بھی استعمال کیا گیا۔ چند بڑے نام، حکومت کی پشت پناہی، سنہری خواب اور ان مثالی پبلسٹی کی گئی نیتیجے میں اچھے بھلے دانشور بھی اس میں بہہ گئے۔ دنیا بھر میں تھر کی طرح جاں کہیں بھی کوئلہ کا کروبار نجی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کیا گیا ، حاصلات میں مقامی لوگوں کا کوئی حصہ ہی نہیں نکلا۔ کمپنی چاہتی ہے کہ پورا کو ایریا اس کے نام کھاتہ لکھ کر دیا جائے۔ جہاں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح سفید و سیاہ کی مالک ہو۔ اس کے بعد لوگ ملازمت اور روزگار سے لیکر، رہن سہن کے طریقے تک، ٹرانسپورٹ، سڑک، پینے کے پانی، صحت اور تعلیم سے لیکر مجموعی سماجی خواہ معاشی ترقی تک، یہاں تک کہ ذاتی حفاظت اور امن و امان تک لوگ کمپنی کی طرف دیکھیں۔ حکومت اس تمام قصہ میں خود کوبری الذمہ کردے۔ تھر میں ہو یہ رہا ہے کہ حکومت ہی کچھ کر رہی ہے جو کمپنی چاہتی ہے، اور کمپنی وہی چاہتی ہے اور کہتی جس میں اس کے مفادات ہیں۔زمین حاصل کرنے کا معاملہ ہو ، کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کی نکاسی یا اس کو جمع کرنے کا معاملہ ہو، (جیسا کہ گوڑانو کا مسئلہ ہے) حکومت کسی طور پر بھی ایک فریق کے طور پر نظر نہیں آتی۔ حد تو یہ ہے کہ کمپنی کی حکمرانی مضبوط کرنے کے لئے سندھ حکومت کمپنی کی ایک ذیلی تنظیم کو بطور عطیہ دے رہی ہے۔یہ تنظیم بظاہر ایک فاؤنڈیشن ہے لیکن مکمل طور پر کمپنی کے ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔حالیہ قحط کی صورتحال میں حکومت لوگوں کو امداد کے لئے گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم بھی اس کمپنی کے ذیلی ادارے کے ذریعے کر رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سندھ حکومت پورے ضلع میں تمام غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کررہی ہے۔یہاں تک کہ ان کا دائرہ کار بہت ہی محدود کردیا گیا ہے۔ نیتجے میں کول کمپنی کے ذیلی ادارے کو اس شعبے میں بھی اجارہ داری قائم کر کے دے رہی ہے۔بات لمبی ہو جائے گی لہٰذا ہم یہاں آر او پلانٹس وغیرہ کے قصے میں نہیں جانا چاہتے۔
کوئلے کی اس کہانی میں لوگوں کے مسائل مزید پیچیدہ اور تکالیف و مصائب میں اضافہ اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ نہ منتخب نمائندے اور حکومت اسٹیک ہولڈر نہیں بن رہی ہے۔لہٰذا پسماندہ علاقے کے سادہ لوگ کمپنی کے رحم کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ تھر سے حکمران جماعت پیپلزپارٹی ہی انتخابات جیتی ہے۔جب ان نمائندوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو کہ کہتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔ ایک شٹ اپ کال پر خاموش ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ نمائندے لوگوں کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں۔ 
کوئلے کے اس منصوبے کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئلہ نکالنے کے لئے اور نہ تھر کی مجموعی ترقی اور متاثرین کی بحالی کے لئے کوئی منصوبہ ہے۔ وقفے وقفے سے اعلانات کئے جاتے ہیں۔جن پر پورے طور پر عمل نہیں ہوتا۔ یا پھر وہ سب ایڈہاک قسم او رٹکڑوں میں کے ہوتے ہیں۔ کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہوتے۔اصل میں کوئلے اور لوگوں کی وارثی کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے۔حکومت سب سی بڑی فریق ہے۔اس کے پاس اختیار بھی ہیں۔ لیکن وہ اپنی اس پوزیشن س کے ساتھ سامنے نہیں آتی۔
اس سے قبل تھر کی پسماندگی، قحط، بچوں کی فوتگی اور کوئلے کے معاملات سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں ازخود نوٹس لینے خواہ د درخواستوں کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ عدالت یا حکومت نصف درجن کے قریب کمیٹیاں اور کمیشن بٹھا چکی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی وفاقی حکومت نے بھی نوٹس لیا، تین وزراء کی کمیٹی تھر پہنچی، بیانات دیئے، یقین دہانی کرائی۔ لیکن عملا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ 
سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین اوراراکین کا دورہ تھر یقیناًایک خوش آئندہ امر ہے۔ تھر کے لوگ کمیٹی کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کے مشکور ہیں کہ وہ تھر آئے اور ایک حساس دل کے ساتھ مسائل کو دیکھا۔ ۔ یہ ضروری ہے کہ تھر کی پسماندگی کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس سے متعلق ایوان بالا کو آگاہ کرنے کے لئے تھر کے کیس کو صحیح پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے پسماندہ علاقہ جات سے گزارش ہوگی کہ وہ ماضی کی بعض اہم سفارشات اور رپورٹس کا جرئزہ لے۔ 

توانائی : وفاق اور سندھ کے درمیان طاقت آزمائی



توانائی : وفاق اور سندھ کے درمیان طاقت آزمائی 

سندھ نامہ سہیل سانگی 

سندھ میں تین موضوعات زیر بحث ہیں۔کیا واقعی آصف علی زرداری گرفتار ہو جائیں گے؟ ٹھارویں ترمیم پر لٹکتی ہوئی تلوار،سندھ اور وفاق کے درمیان توانائی کے شعبے پر کشیدگی اور صوبے میں تعلیم نظام میں تبدیلیوں کی کوشش۔ جبکہ تھر کا معاملہ بھی بدستور زید بحث ہے۔ میں اکثر اخبارات نے سینیٹ کی مجلس قائمہ کے اراکین کی تھر آمد پر اداریے لکھے ہیں۔وفاق اور سندھ کے درمیان ایک بار پھر توانائی کے مسئلہ سر اٹھارہا ہے۔گرمیوں میں صوبہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہوا۔ اب سردیوں میں گیس کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ صوبہ 70 فیصد گیس اور تیل پیدا کرتا ہے اس کے باوجود صوبے کے لوگوں اور صنعتوں کو بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔

کابینہ کی کمیٹی توانائی کے معاملے پر فیصلے ، پالیسی اور قانون سازی نہیں کرسکتی۔ گزشتہ شتہ ماہ سے صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی سپلائی متاثر ہوئی اور سی این جی سپلائی بھی بند ہوئی۔ جس سے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اخبارات نے اس مسئلہ پر تبصرے شایع کئے ہیں۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے علاوہ کسی بھی کمیٹی یا کابینہ کی جانب سے کیا گیا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے لہٰذا کابینہ کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے چاروں خطوط واپس لئے جائیں۔ کابینہ کمیٹی کے یکطرفہ اور صوابدیدی اختیارات سے صوبائی مفادات متاثر ہونگے۔ توانائی سے متعلق کوئی بھی قانون سازی صرف مشترکہ مفادات کی کونسل کی منظوری کے بعد کی جاسکتی ہے۔ 
سندھ حکومت کو یہ بھی تحفظات ہیں کہ کابینہ کمیٹی نے ایک طرف سولر اور ونڈ پروجیکٹ کی عمر بیس سال کے بجائے پندرہ سال کی ہے۔ اور چھوٹے ہائیڈرو، سولر اور ونڈ پورجیکٹس پر پابندی عائد کی ہے۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون قاسم شہزاد کا کہنا ہے کہ وہ تمام منصوبے جو رینیوایبل انرجی پالیسی مجریہ 2006 کے تحت آتے ہیں انہیں جاری رکھا جائے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر رینیوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی)کے منصوبوں کا ٹیرف پانچ سینٹ سے زیادہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تو سرکاری خزانے سے ایندھن کی خریداری کے لئے زرمبادلہ باہر جاتا رہے گا۔ ایک انرجی کے ماہر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایک ہزار میگاواٹ کے رینیوایبل پروجیکٹ لگائے تو ہر سال زر مبادلہ میں 14 ارب روپے باچئے جاسکتے ہیں۔ اس لئے سندھ حکومت رینیوایبل منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔ صوبے سندھ کے پاد 60 کلو میٹر طویل اور 80 کلو میٹر کشادہ ساحلی اور ونڈ کاریڈور موجود ہے۔ سندھ پاکستان کی انرجی کا حب بن سکتا ہے۔ ضلع ٹھٹہ میں 55 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ 10گیگاواٹشمسی توانائی، 130 میگاواٹ ہائیڈرو، اور ایک ہزار میگاواٹ کچرے سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ہائیڈرو بجلی لو ہیڈ اور رن آف ریور کے ذریعے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ جبکہ کراچی روزانہ گیارہ ہزار ٹن کچرہ پیدا کرتا ہے، جس سے وافر مقدار میں بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ 550 میگاواٹ بجلی جیو تھرمل کے ذریعے پیدا کی جاسکتی ہے۔ رینیوایبل انرجی منصوبوں کی اجازت دی جائے تاکہ ان پر کام شروع کیا جاسکے۔
سندھ نے وفاقی حکومت کو صوبے میں بجلی کے مصائب کے لئے ذمہ دار ٹہرایا ہیاور کہنا ہے کہ بجلی کے منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں کو مصائب کا سامنا ہے۔ تیل کی تلاش کے منصوبوں اور متبادل توانائی کے منصوبوں کی منظوری میں تاخیر ملک کو اندھیرے میں ڈبو رہی ہے۔ جس سے عام لوگ ہی نہیں بلکہ صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ وفاقی حکومت ملکی وسائل استعمال کرنے کے بجائے پیٹرولیم اور ایل این جی جیسے مہنگے منصوبوں کی طرف جارہی ہے۔جس سے ملکی زرمبادلہ پر دباؤ پڑتا ہے۔ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے لاگت بڑھ جاتی ہے اورپاکستانی مصنوعات غیرملکی مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالے سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ سندھ حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ این ٹی ڈی سی، اوگرا اور نیپرا میں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں۔ 
گزشتہ روز حکومت سندھ نے عالمی بینک کے ساتھ بجلی کی پیداوار اور اس کی رسائی کے لئے دس کروڑ ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ بجلی کی پیداوار اور رسائی کے لئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے سولر پارک قائم کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں صوبائی دارالحکومت کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں سرکاری عمارتوں پر سولر پلیٹیں لگائی جائیں گی۔ وفاقی حکومت کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ سندھ میں رینیوایبل انرجی کے بعض بجلی گھر اومنی گروپ کے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ پرزیادہ زور دینے کے بعد وفاقی حکومت ایک حد تک صوبائی حکومت کے نکات پر غور رکنے کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ 
سندھ میں تعلیم کا گرتھے ہوئے معیار پر تشویش پائی جاتی ہے۔ صوبے میں ایک نیا نظام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ ڈرامائی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا داخلا ایک سرکاری اسکول میں کرایا تاکہ لوگوں کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ نجی اسکولوں نے قانون پر عمل نہیں کیا تو انیل کپور کی طرح خود جاکریہ اسکول بن دکراؤں گا۔ سرکاری محکمے عقل کل نہیں ہیں، اس لئے دوسرے لوگوں سے بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ روزنامہ کاوش ’’ سندھ کی تعلیم بہتر بنانے کے لئے مشاورت پر زور‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت سندھ خاص پورے ملک میں تعلیمی نظام کا تباہ کیا گیا، ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں کہ نجی شعبہ اس اہم شعبے پر حاوی ہوگیا۔ نتیجۃ تعلیم ایک عام اور غریب آدمی سے دور ہوگئی، جبکہ متوسط طبقہ بھی بمشکل اپنے بچوں کو تعلیم دلا پارہا ہے۔ اب محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کا تعلیم کو بہتر بنانے کے بجائے تمام تر زور ورکشاپ اور سیمینار کرانے پر ہے، تاکہ کہ لوگوں کو نظر آئے کہ کچھ ہورہا ہے۔عملا یہ سب کچھ دکھاوا ہے کہ حکومت معاملے میں سنجیدہ ہے۔ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہر ضلع میں ضعلی تعلیمی افسران اسمبلی اراکین کی سفارش پر رکھے گئے ہیں اور تعلیم کے لئے انہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ یہ مشاورت اور ڈرامائی طریقے اپنی جگہ پر اصل معاملہ یہ ہے کہ واقعتا کوئی چیز بہتر بھی ہو سکے گی؟ اخبار کا کہنا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے حکومتی چرچہ کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اس ضمن میں اپنی توانائیاں اور پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔ 




Energy dispute of Sindh - Nai Baat - Sohail Sangi - Column



http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-jan-12-2019-191303

https://www.naibaat.pk/11-Jan-2019/20247

شکریہ عثمان کاکڑ صاحب !



شکریہ عثمان کاکڑ صاحب ! 

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
تھر کے لوگ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ تھر کے کولئے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے زمین ان کے پیروں تلے نکالی جارہی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ کی پسماندہ علاقوں سے متعلق کمیٹی نے اس قحط زدہ صحرا کا دورہ کرنے کے بعد وہی بات کہی ہے جو تھر کے لوگ گزشتہ ایک دہائی سے کہہ رہے ہیں۔ سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ ثقافت اور معاشرتی لحاظ سے مثالی خطہ خستہ حالی کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ترقی کے سفر میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی بھی یہ بات کہتی رہی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر سنہری خواب دکھا کر پسماندہ علاقے کے غریب لوگوں کو بے زمین اور بے گھر کر رہی ہے۔ حکومت سندھ کے عہدیداران یا تو اس بات سے ناواقف ہیں یا گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں۔ مجلس قائمہ کے چیئرمین نے درست فرمایا کہ وسائل کے باوجودلوگوں ترقی کے سفر میں تھر پسماندہ رہا۔ کوئلے مالک تھر باسی بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا؟کاکڑ صاحب نے بہت ہی اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ۔ تھر کی ترقی کے سفر کی کہانی دردناک ہے۔تقریبا 22 ہزار مربع کلو میٹر پر پہلے ہوئے اس علاقے میں 80 کے عشرے میں پہلی پکی سڑک بنی تھی۔ باقی سڑکیں گزشتہ بیس سال میں ہی بنی ہیں۔ مزید یہ کہ 90 کے عشرے تک قحط ہو یا عام حالات بیراج علاقے سے تھر کی طرف گندم لے جانے پر پابندی رہی۔ لوگ اتنی ہی گندم لے جاسکتے تھے جتنے اپنے سر پر اٹھا کر لے جاسکتے تھے۔ یہ رہی ہے بیسویں اور اکیسویں صدی کے تھر کی تصویر۔آج بھی 16 لاکھ آبادی کے لئے صرف دو کالج ہیں۔ کوئی میڈیکل یا انجنیئرنگ کالج نہیں۔ صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی یا کوئی کیمپس موجود ہے۔ بعض اضلاع اور شہروں میں دو دو تین تین یونیورسٹیاں ہیں۔ تھر ضلع میں کسی یونیورسٹی کا کوئی کیمپس بھی نہیں۔تھر کا سب سے بڑا سرمایہ افرادی قوت ہے۔ اس کی ترقی کے لئے تاحال کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ برسہا برس تک غربت، قحط سالی کا شکار لوگ بھوک اور غذائیت کی کمی میں مبتلا اور طبی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ڈاکٹروں کی اسامیان پر کی گئی ہیں۔ 
مجلس قائمہ کے چیئرمین کہتے ہیں کہ کوئلے کی رائلٹی کا ایک فیصد بھی تھر پر خرچ ہو تو یہ پسماندہ علاقہ ترقی کر سکتا ہے۔کمپنی نے رائلٹی اور کاپوریٹ سوشل ریسپانسنلٹی کا فنڈز استعمال کرنے کے الگ ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔تھر کے لوگ تاحال لاعلم ہیں کہ حکومت سندھ اور کول کمپنی کے درمیان پارٹنر شپ کی شارئط کیا ہیں؟ حکومت سندھ نے کوئلہ کی قیمت فروخت کیا مقرر کی ہے؟َ
دنیا بھر میں کاپوریٹ سیکٹر ک کا مخصوص طریقہ واردات ہے۔یہی طریقہ تھر میں بھی استعمال کیا گیا۔ چند بڑے نام، حکومت کی پشت پناہی، سنہری خواب اور ان مثالی پبلسٹی کی گئی نیتیجے میں اچھے بھلے دانشور بھی اس میں بہہ گئے۔ دنیا بھر میں تھر کی طرح جاں کہیں بھی کوئلہ کا کروبار نجی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کیا گیا ، حاصلات میں مقامی لوگوں کا کوئی حصہ ہی نہیں نکلا۔ کمپنی چاہتی ہے کہ پورا کو ایریا اس کے نام کھاتہ لکھ کر دیا جائے۔ جہاں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح سفید و سیاہ کی مالک ہو۔ اس کے بعد لوگ ملازمت اور روزگار سے لیکر، رہن سہن کے طریقے تک، ٹرانسپورٹ، سڑک، پینے کے پانی، صحت اور تعلیم سے لیکر مجموعی سماجی خواہ معاشی ترقی تک، یہاں تک کہ ذاتی حفاظت اور امن و امان تک لوگ کمپنی کی طرف دیکھیں۔ حکومت اس تمام قصہ میں خود کوبری الذمہ کردے۔ تھر میں ہو یہ رہا ہے کہ حکومت ہی کچھ کر رہی ہے جو کمپنی چاہتی ہے، اور کمپنی وہی چاہتی ہے اور کہتی جس میں اس کے مفادات ہیں۔زمین حاصل کرنے کا معاملہ ہو ، کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کی نکاسی یا اس کو جمع کرنے کا معاملہ ہو، (جیسا کہ گوڑانو کا مسئلہ ہے) حکومت کسی طور پر بھی ایک فریق کے طور پر نظر نہیں آتی۔ حد تو یہ ہے کہ کمپنی کی حکمرانی مضبوط کرنے کے لئے سندھ حکومت کمپنی کی ایک ذیلی تنظیم کو بطور عطیہ دے رہی ہے۔یہ تنظیم بظاہر ایک فاؤنڈیشن ہے لیکن مکمل طور پر کمپنی کے ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔حالیہ قحط کی صورتحال میں حکومت لوگوں کو امداد کے لئے گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم بھی اس کمپنی کے ذیلی ادارے کے ذریعے کر رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سندھ حکومت پورے ضلع میں تمام غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کررہی ہے۔یہاں تک کہ ان کا دائرہ کار بہت ہی محدود کردیا گیا ہے۔ نیتجے میں کول کمپنی کے ذیلی ادارے کو اس شعبے میں بھی اجارہ داری قائم کر کے دے رہی ہے۔بات لمبی ہو جائے گی لہٰذا ہم یہاں آر او پلانٹس وغیرہ کے قصے میں نہیں جانا چاہتے۔
کوئلے کی اس کہانی میں لوگوں کے مسائل مزید پیچیدہ اور تکالیف و مصائب میں اضافہ اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ نہ منتخب نمائندے اور حکومت اسٹیک ہولڈر نہیں بن رہی ہے۔لہٰذا پسماندہ علاقے کے سادہ لوگ کمپنی کے رحم کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ تھر سے حکمران جماعت پیپلزپارٹی ہی انتخابات جیتی ہے۔جب ان نمائندوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو کہ کہتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔ ایک شٹ اپ کال پر خاموش ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ نمائندے لوگوں کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں۔ 
کوئلے کے اس منصوبے کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئلہ نکالنے کے لئے اور نہ تھر کی مجموعی ترقی اور متاثرین کی بحالی کے لئے کوئی منصوبہ ہے۔ وقفے وقفے سے اعلانات کئے جاتے ہیں۔جن پر پورے طور پر عمل نہیں ہوتا۔ یا پھر وہ سب ایڈہاک قسم او رٹکڑوں میں کے ہوتے ہیں۔ کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہوتے۔اصل میں کوئلے اور لوگوں کی وارثی کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے۔حکومت سب سی بڑی فریق ہے۔اس کے پاس اختیار بھی ہیں۔ لیکن وہ اپنی اس پوزیشن س کے ساتھ سامنے نہیں آتی۔
اس سے قبل تھر کی پسماندگی، قحط، بچوں کی فوتگی اور کوئلے کے معاملات سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں ازخود نوٹس لینے خواہ د درخواستوں کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ عدالت یا حکومت نصف درجن کے قریب کمیٹیاں اور کمیشن بٹھا چکی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی وفاقی حکومت نے بھی نوٹس لیا، تین وزراء کی کمیٹی تھر پہنچی، بیانات دیئے، یقین دہانی کرائی۔ لیکن عملا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ 
سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین اوراراکین کا دورہ تھر یقیناًایک خوش آئندہ امر ہے۔ تھر کے لوگ کمیٹی کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کے مشکور ہیں کہ وہ تھر آئے اور ایک حساس دل کے ساتھ مسائل کو دیکھا۔ ۔ یہ ضروری ہے کہ تھر کی پسماندگی کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس سے متعلق ایوان بالا کو آگاہ کرنے کے لئے تھر کے کیس کو صحیح پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے پسماندہ علاقہ جات سے گزارش ہوگی کہ وہ ماضی کی بعض اہم سفارشات اور رپورٹس کا جرئزہ لے۔ 

Thar - Senate Committee - Usman Kakar - Sohail Sangi - Nai Baat 

https://www.naibaat.pk/10-Jan-2019/20221

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/66490/Sohail-Sangi/Shukriya-Usman-Kakar-Sahib.aspx

Thursday, January 10, 2019

سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب


سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سندھ کے قوم پرست جماعتیں ایک بار پھر متحد ہونے کا سوچ رہی ہیں لیکن تذبذب کا شکار ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران نے متحد ہونے کی ضرورت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ 
اٹھارہویں آئنی ترمیم کے تحت صوبوں کو آئین میں بڑی حد تک خود مختاری دی گئی ہے اگرچہ اس پر پر مکمل عمل درآمد ابھی باقی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے قوم پرستوں کے پاس کوئی نعرہ یا مطالبہ نہیں رہا۔قوم پرست اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے ٹیمپو بنا سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پیپلزپارٹی مضبوط ہوگی۔ اس کا اس وجہ سے بھی پیپلز پارٹی کو فائدہ ملے کیونکہ وہ اقتداری پارٹی ہے۔ گزشتہ عرصے میں قوم پرست سندھ کے اشوز یعنی صوبائی خود مختاری، این ایف سی ایوارڈ، پانی کی تقسیم، قدرتی وسائل پر صوبائی حق ، توانائی کے معاملات کے حوالے سے قابل قدر آواز نہیں اٹھائی گئی ہے۔ اس کے بجائے پیپلزپارٹی ہی یہ مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی سیاسی بحران کے وقت اس بات کو سندھ کارڈ کے طور پر بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ حالیہ بحران میں بھی پارٹی نے ایسا کیا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کی کارروایوں کے بعد یہ عمل پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف جب اٹھایا جانے لگا تو پیپلزپارٹی نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بعض حکومتی اقدامات سے پیپلزپارٹی کے اس دعواے کو تقویت ملی۔ سندھ میں قوم پرست رہنماؤں کو یہ بات عجیب لگ رہی ہے کہ جب اس ترمیم کو واپس کر کے صوبائی خودمختاری چھینی جارہی ہے، تب یہ لوگ خاموش ہیں۔ انہیں اس پر بھی ملال ہو رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اکیلے سندھ کے حقوق کی ترجمان بن رہی ہے۔ اس لئے وہ بھی اپنا حصہ ڈالنے کا سوچ رہے ہیں۔
سندھی قوم پرست جماعتیں گروہ بندی ہے ۔ وہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن ان کے دو بڑی کیٹگری ہیں۔ جیئے سندھ قومی محاذ ( بشیر خان گروپ) ، جیئے سندھ قومی محاذ ( آریسر گروپ) جیئے سندھ تحریک صفدر سرکی، جیئے سندھ محاذ ریاض چانڈیو، جیئے سندھ متحدہ محاذ شفیع برفت۔ یہ تمام گروپ بظاہر خود کو جی ایم سید کے پروکار ہونے کا دعوا کرتے ہیں۔ یہ وہ کیٹگری ہے جو پارلیمانی سیاست میں یقین نہیں رکھتی۔ 
دوسری کیٹگری میں قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی ہیں۔یہ گروپ پارلیمانی سیاست کرتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی الیکشن میں کوئی قابل قدر ووٹ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ 
سندھ میں کوئی بھی قوم پرست جماعت اکیلے سر کسی مسئلے پر موثر آواز یا احتجاج نہیں کرسکتی۔ لہٰذا ماضی کی طرح ایک بار پھر وہ ان مسائل پر متحد ہونے کا سوچ رہے ہیں اس ضمن میں پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتیں یعنی سندھ یونائٹیڈ پارٹی، قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی نے صلاح مشورے شروع کئے ہیں۔ تاحال وہ جماعتیں ابھی اظہار نہیں کر رہی ہیں جو پارلیمانی سیاست نہیں کرتی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کچھ اقتدار کی حالیہ جنگ کے دوران کا اشو ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں یہ جماعتیں انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی مخالف ملک گیر سیاست کرنے والی کسی جماعت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔نتیجے میں ان جماعتوں کو نہ ووٹ ملے اور نہ ہی انتخابات کے بعد سیاسی فائدہ۔ 
سندھ کی قوم پرست اکثرجماعتوں کے پاس تنظیمی نیٹ ورک سے خالی ہیں وہ اپنے لیڈر کے زیراثر ذاتی نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور قوم پرست سیاستدان پرامن جمہوری اور مقبول جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن سندھ کی سیاست جس نظام پر چلتی ہے اس میں اسٹبلشمنٹ مخالف سیاست ان کے لئے بہت ہی کم گنجائش نکلتی ہے۔ اسٹیٹسکو کی حامی قوتیں اور مقامی پاور بروکر ریاست کی حمایت سے ایسی قوتوں کا پارلیمنٹ میں داخلا بند کر دیتے ہیں۔ 
90 کے عشرے میں بینظیر بھٹو کامیاب ہوگئی تھی کہ وہ سندھ کے قوم پرستوں کو ایک چھتری کے نیچے جمع کر کے کالاباغ ڈیم کے خلاف دھرنا دے۔ 
سندھ میں قوم پرست اور پیپلزپارٹی دو الگ الگ سیاسی دھارے ہیں۔ جیئے سندھ تحریک کے بانی رہنما جی ایم سید سندھ کی سیاست کو اس طرح سے لینا چاہتے تھے کہ ابھرتے ہوئے طبقات ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے مسلم لیگ سے اختلافات کے بعد اپنی الگ تشخص بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے پاکستان کے دیگر قوم پرستوں کا ساتھ دیا۔ پہلے نیشنل پارٹی اور پھر نیشنل عوامی پارٹی بنائی۔ 
پاکستان واحد قوم کی ریاست کے طور پر وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ ایک ایسی ریاست تھی جس کو قوموں نے بنایا۔ پاکستان کے نام کی بھی بھی اس طرح سے ہے۔ بڑے پیمانے پر زراعت اور گھریلو صنعت اورکمرشل بنیاد نہ بن سکا۔ ریاست کی بڑھتی ہوئی لالچ اور معاشی بنیادوں کے بغیر حکمران طبقات نے بدترین استحصال کو جنم دیا۔ قومی استحصال بدترین شکل میں سامنے آگیا۔ 1940 کی قرارداد پاکستان نئے ملک کے قیام کی بنیاد تھی، اور یہی سمجھا جارہا تھا کہ نئے ملک کے آئین میں اس قرارداد اور اس کے اسپرٹ اور جوہر کو برقرار رکھا جائے گا۔ لیکن ملک کو دیئے گئے تینوں دساتیر میں ایسا نہیں کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 میں کراچی صوبے سے الگ کر کے وفاق کو دے دیا گیا اور وہاں وفاقی دارالحکومت بنادی گئی۔ ایوب کھڑو جو اسوقت وزیراعظم تھے انہوں نے اس کی مخالفت کی تو انہیں ہٹانے کے لئے ایبڈو لگا دیا گیا۔ 
سندھ میں صوبائی خود مختاری کی تحریک 1917 میں ابھری جب سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا۔ اس تحریک کی قیادت زمیندار طبقہ کررہا تھا۔ 
جی ایم سید کو بلاشبہ سندھی قوم پرستی کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 1947 میں سندھ پروگریسو پارٹی بنائی اور ایک سوشلسٹ فریم ورک میں صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کیا۔ 1953 میں انہوں نے سندھ عوامی محاذ بنایا۔ سید خود ایک درمیانہ درجہ کے زمیندار تھے۔ وہ اس طبقے کے مسائل کی ترجمانی کر رہے تھے۔ 
1958 میں ایوب خان کی ایجوکیشن کمیشن نے سندھی سمیت دوسری مقامی زبانوں کو بطور ذریعہ تعلیم پابندی عائد کردی۔ 
گزشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان کم ہی کامیابیاں حاصل کر سکا پارلیمانی جمہوریت بھی پروان نہ چڑھ سکی۔ انڈیا سے چار جنگیں ہوئی، معاشی ترقی بھی نہیں ہوئی۔ جو دولت پیدا ہوئی اس کے تقسیم بھی منصفانہ ایک سوال بنی رہی۔ صوبائی خود مختاری کے سوال پر مشرقی پاکستان بنگلادیش کی شکل میں الگ ملک بن گیا۔ مذہبی فرقہ بندی اور تنازعات نے سماجی، اور سیاسی طور پر عوام کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ لہٰذا ایک کامیاب ریاست کی صورتحال نہ بن سکی۔ 
ملک کا سیاسی نظام بالائی گروپوں پر مشتمل ہے۔ مزید یہ کہ مسلسل فوجی حکومت رہی۔ اکثر سیاسی جماعتیں صحیح طور پر کام نہ کر سکیں۔ پاکستان کی مکتصر تاریخ میں سینکڑوں سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ پاکستان کی سیاست عموما آپس کے رشتیداروں کے درمیان کم دستیاب وسائل اور وقار اور عزت کے درمیان جدوجہد کی کہانی لگتی ہے۔ لہٰذا کسی پارٹی سے وفاداری پارٹی پروگرام یا نظریات کے بجائے پارٹی کے اندر موجود کسی فرد سے وفاداری سے تعبیر ہے۔ 
ریاست کے اس کردار کو سمجھنا پاکستان کی قومی تحریکوں کے ابھار اور زوال کو سمجھنے کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پرپاکستان کی حکومتوں کی پالیسی قوم پرست تحریکوں کے ابھار کو موجب بنی ہیں۔لسانی اور علاقائی تشخص جو ایک نظر میں صوبائی ڈومیسائیل کا معاملہ لگتا ہے لیکن یہ نامکمل ہے تقسیم ہند کے اثرات اور اندرونی انتقال آبادی کی وجہ سے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کثیر رخ اور کثیر لسانی پس منظر رکھنے والی آبادی کا صوبہ ہے۔ یہاں سندھیوں اور غیر سندھیوں کے درمیان ایک نہایت ہی نازک توازن ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اور راجستھان سے لاکھوں افراد خاص طور پر کراچی میں ہی نہیں بلکہ حیدرآباد، سکھر، اور میرپورخاص م میںآکر بسے۔بڑے پیمانے پر مہاجروں کی آنے سے معیشت، ملازمتوں، اور سرکاری محکموں کی اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا۔ اگرچہ اس مظہر کا زیادہ اثر شہری علاقوں پر ہوا۔ لیکن اس کی محرومی سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی محسوس کی گئی جہاں پر سندھی متوسط طبقہ ابھر رہا تھا۔
پنجاب اورریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے سندھ میں سرکاری زمینیں حاصل کرنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اور سندھیوں میں احساس محرومی اور بڑھا۔ کئی دیگر عوامل بھی ہیں جنہوں نے ان جذبات کو بڑھاوا دیا۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں سے ایک بڑی بادی کراچی منتقل ہوئی،مہاجروں کے بعد ایوب خان کے دور میں بڑے پیمانے پر پنجابی اور پٹھان بھی آکر آباد ہوئے۔ کیونکہ یہ بحری بندرگاہ اور بڑا صنعتی شہر تھا ۔ اسلام آباد سے پہلے ملک کا دارلحکومت تھا۔ یہ سوال روز بروز مشکل ہوتا گیا کہ کون اصل سندھی، پختون یا بلوچ ہے؟ کیونکہ ان گروہوں کے درمیان حد لکیر جاری نقل مکانی کی وجہ سے مسلسل لچک پذیر رہی۔ 
حکمران طبقات اور ریاست کوپاکستان ایک قوم نہ بنا سکے۔ سندھ میں جس کے حکمران طبقات نے پاکستان بنانا پسند کیا تھا وہاں بھی گڑ بڑ ہوگئی کہ انڈیا سے منتقل ہونے والوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔ یہ لسانی ، قومی اور نسلی تعصبات وقت کے ساتھ بدتر ہوتے گئے۔ اور ان کو بعض عناصر استعمال کرتے رہے نتیجے میں 1980 اور 1990 کے عشروں کے فسادات ہوئے۔ 
عسکری بیوروکریسی نے بعض مخصوص پالیسیاں بنائیں۔ ایک طرف وہ ملک کے باشندوں کو ایک نظریاتی کمیونٹی بنانے میں ناکام رہی، دوسری طرف اس نے لسانی اور قومی رجحان کو سندھ، بلوچستان، خٰبرپختونخوا اور مشرقی پاکستان میں ہوا دی۔ خاص طور پر ایوب اور ضیا کے دور میں۔ جیئے سندھ اور بلوچ تحریکوں کو قیام پاکستان کے وقت معمولی حمایت حاصل تھی یہ تحریکیں ساٹھ سے لیکر اسی کے عشرے تک پاکستان کے منظر نامے پر بھرپور طریقے سے ابھر کر سامنے آئیں۔ 
پاکستان میں قوم پرست جذبات کے مطابق پنجابی قوم ملکی معیشت، سیاست، معاشرے اور ریاست پر حاوی ہے۔ اس تصور کی حمایت میں بہت سے ثبوت بھی موجود ہیں۔ مثلا پنجابی ملک کی کل آبادی میں اکثریت میں ہیں۔ دوئم ان کی سول اور فوجی بیوروکریسی میں بھی اکثریت ہے۔ پنجاب ایک شاہوکار اور دولتمند صوبہ ہے لہٰذا ملک کا ترقی یافتہ صوبہ ہے۔ اس تصور کو حکومتی پالیسیاں مزید مضبوط کرتی رہتی ہیں۔ 
تعلیم یافتہ درمیانہ طبقے کی اپنی شکایات اور مسائل تھے۔ وہ ملک کے دو بنیادی اداروں سول اور فوج میں اپنے لئے جگہ نہیں حاصل کر پارہے تھے۔ صوبے میں بدترین پرانا جاگیردارانہ نظام قائم رہا۔ جس کی چکی میں لاکھوں غریب کسان پس رہے تھے۔ جیئے سندھ تحریک کو زمینداروں اور تعلیم یافتہ درمیانہ طبقے کی ہی حمایت حاصل تھی۔ 
جیئے سندھ تحریک ابتدائی طور پر ثقافتی سطح پر رہی اور سیاسی سطح پر حمایت حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام تھا۔ جس کی قیادت ذولفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔ اس نوجوان اور کرشماتی رہنما کا تعلق زمیندار طبقے سے تھا۔وہ اسی حلق میں اپیل کر رہا تھا اور انہی مسائل اور شکایات کو اٹھارہا تھا۔جس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہورہی تھی۔ پیپلزپارٹی نے دو طرفہ کردار ادا کیا۔ سندھ میں سندھ کی شکایات کی چیمپیئن بنی اور ملکی سطح پر روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر پسماندہ طبقات کی نمائندہ یا ترجمان کے طور پر ابھری۔ یوں پیپلزارٹی ایک ماس پارٹی بن گئی۔ جیئے سندھ محاذ جون 1972 میں قائم کیا۔ جولائی میں اسی سال پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھی زبان کا بل اسمبلی سے منظور کیا۔ سندھی صوبائی زبان ہوگی اور سندھی اور اردو دونوں ذریعہ تعلیم ہونگی۔ چھٹی سے بارہویں جماعت تک اردو اور سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے گا۔ 
قیام پاکستان ک بعد سندھ میں متعدد تحریکیں اٹھیں۔ ان میں سے تین اہم ہیں جنہوں نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تحریکیں ہیں ساٹھ کے عشرے کی ون یونٹ کے خلاف تحریک، 1983 کی ایم آرڈی تحریک اور کسی حد تک 1986 کی تحریک ۔ یہ تمام تحریکوں کی شدت، کردار، بنیاد اور مقاصد مختلف تھے۔ سب سے بڑی تحریک ساٹھ کے عشرے کی تھی جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور ایک انقلابی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کاقومی بیانہ ریاست کے خلاف تھا۔ اس تحریک ن کے طبقاتی اور سماجی کردار یا جوہر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ موقعہ تھا جب صوبے کی شہری خواہ دیہی آبادیایک طبقاتی تحریک اور اس نے قومی، لسانی مذہبی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر میں متحد تھی۔
ضیا ء الحق کی غیر جماعتی سیاسی پالیسی نے صوبائی خواہ ملکی سطح پر تباہ کن اثرات ڈالے سندھ میں پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کے شوق کو پورا کرنے کے لئے سندھی قوم پرستوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جس سے ریاست کا جانبدارانہ امیج بنا جس نے ایم کیو ایم کو مشتعل کیا۔ ایم کیو ایم کوپروان چڑھانا سازش تھی۔ تاکہ کراچی اور اس کے بعد ملک بھر میں مزدور طبقے میں لسانی، نسلی، زبنا کی بنیاد پر تقسیم کی جائے۔ 
جیئے سندھ نے مارشل لاء کے ساتھ جزوی تعاون اور جزوی محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی قیادت نے ضیا حکموت کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ روابط رکھے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے سے گریز نہیں کیا۔ مارشل لاء حکومت یہ سب فوائد اس لئے دے رہی تھی کہ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو کمزور کرنا تھا۔ 
سندھ کے شہری علاقوں میں صنعت اور تجارت میں مزدور حاوی تھے اور دیہی علاقوں میں وڈیروں کا کسان گھیراؤ کر رہے تھے۔ 1971 کے بعد پیپلزپارٹی نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اور یہ قومی اتحاد لسانی اور مذہبی فرقوں میں تقسیم ہو گیا۔ 
پیپلزپارٹی نے قومی سوال کو حل کرنے کے بجائے اس ک تضادات کو مزید تیزکیا۔ 
کوٹا سسٹم اور سندھی زبان کو اسکولوں میں رائج کرنے نے سندھی عوام کے مصائب کم کرنے کے بجائے اس نے سندھ کی آبادی کو تقسیم کردیا۔ بلکہ اس نے تنگ نظر اور دوسری لسانی گروہوں کے بالادست طبقے لیڈروں کو کراچی اور دیگر شہری علاقوں میں بنیاد فراہم کی۔
تقسیم ہند کے وقت سندھی مڈل کلاس جو اتفاق سے ہندو تھی وہ انڈیا منتقل ہوگئی اور خلاء کو انڈیا اور موجودہ پاکستان کے دوسرے صوبوں سے آنے والوں نے بھرا۔ اس تحریک کو اس وقت چھال ملی جب 1955 میں ون یونٹ قائم ہوا۔ صوبوں کا تشخص ختم کردیا گیا۔ اس کا مطلب صبوں کو ان کی جغرافیائی اور ثقافتی شناخت سے محروم کرنا تھا۔ 1973 کا آئین اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ کیونکہ اس میں صوبائی خود مختاری کے اہم سوال کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ 
1977 میں بھٹو حکومت کے خاتمے اور دو سال ببعد اس کو پھانسی کی سزا نے سندھ میں قوم پرست تحریک کو نئی قوت بخشی۔ وجہ یہ تھی کہ بھٹو سندھی تھا۔ یہ تحریک ناکام ہوئی کیونکہ مارشل لاء حکومت خاص طور پرکراچی اور دیگر ملک کے شہروں میں لسانی تقسیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کراچی میں مارشل لاء حکومت ایم کیو ایم، پنجابی پختون اتحاد، مذہبی بیاد پرست اور دوسرے گروہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی جو تحریک کو طبقاتی بنیادوں پر جانے کی رفتار کو توڑ رہے تھے۔ اس تحریک میں 1263 افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس تحریک کے کئی بہادرانہ واقعات ہیں جو اب سندھی لوک ادب کا حصہ ہیں۔ یہ تحریک کامیاب ہو سکتی تھی اگر ایم آرڈی اور پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے انقلابی طبقاتی پروگرام سے نہ ہٹتے۔ حالانکہ یہی وہ بنیاد تھی جس پر شہری اور دیہی آبادیوں کو متحد کیا جاسکتا تھا۔ شاید ایم آرڈی کے لیڈر انقلابی تبدیلیوں سے انتے ہی خوفزدہ تھے جتنی مارشل لاء حکومت۔ 



پاکستان کے معاشرے میں ثقافتی، سماجی معاشی حوالے سے بدترین قسم کا قومی جبر ہے۔ سندھ اس جبر کا شکار ہے۔
پاکستانی حکمران طبقات اور سرمایہ دارانہ ریاست ایک متحدہ قوم یا ایک قوم والی ریاست قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا قومی استحصال اور بنیادی انسانی محنت کا استحصال ناگزیر طور رپ جاری ہے۔ 
مختلف پروجیکٹس مثلا کالاباغ ڈیم بنیادی طور پر کارپوریٹ منافع کے لئے ہے اسی طرح سندھ میں نجی اور سرکاری حصیداری کے تحت جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے کسی طور پر بھی عام لوگوں کی زندگی نہیں بدل سکتی۔ کالاباغ ڈیم اور دوسرے اس طرح کے پروجیکٹس پر سندھی لوگوں کے تحفظات اس لوٹ مار کے نظام کے تحت ختم نہیں ہو سکتے۔ 
موجودہ حکمران مالی اور سرمایہ کاروں کے مفاد کی نمائندگی کرتے ہیں نہ کہ عوام کی۔
سندھ کی ڈیموگرافک صورتحال کو تاریخی سیاسی طور پر اگر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہاستحصالی طریقے پر سرمایہ کی ترقی ہوئی ہے۔ تمام قومیتوں کے مزدوروں کو صنعت کاری نے نگل لیا ہے۔ موجودہ اجارہ داری سرمایہ داری میں ایک قومی ریاست کا تصور ختم ہو گیا ہے اور قومی معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ 
؂ پاکستان کی تاریخ کے ساٹھ سال کے دوران ریاست سندھ پر جبر جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس کے لئے سندھ کے زمیندار اور سرمایہ دار برابر کے شریک اور ذمہ دار ہیں۔ 



https://www.naibaat.pk/07-Jan-2019/20129

سندھ میں مضبوط رائے عام پیپلزپارٹی کے حق میں


سندھ نامہ سہیل سانگی
ایک ہفتہ سے سندھ میں سیاسی سرگرمیاں اچانک عروج پر ہیں۔ سندھ حکومت جو ابھی ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی کے قتل کے بحران سے نہیں نکل پائی تھی کہ وہ ایک اور سخت دباؤ میں آگئی ہے۔ زرداری خاندان کے خلاف جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہو چکی تھی ، لیکن سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے قبل یہ رپورٹ لیک ہو گئی۔ وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ۔ اسی کے ساتھ تحریک انصاف نے مراد علی شاہ سے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شروع کردیا۔پھر سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں دی جانے لگی۔، پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں کی گئیں۔اگرچہ عدلیہ کے ریمارکس سے جے آئی رپورٹ پر پیپلزپارٹی کو ایک حد تک رلیف ملا۔ لیکن گزشتہ روز چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت سندھ پر برہمی کا اظہار کیام نہیں کرنا چاہتے تو حکومت چھوڑ دو ۔سندھ کی میڈیا جو پیپلزپارٹی اور سندھ کی بڑی نقاد رہی ہے، لیکن اس موقعہ پرشاید ہی کوئی کالم یا مضمون وفاقی حکومت کے موقف کے حق میں شایع ہوا ہو۔مجموعی طور پر میڈیا نے سندھ حکومت کا دفاع کیا۔اداریوں، کالم، مضامین، تجزیوں، اور تبصروں میں حکومت کے اس موقف کو غیر جمہوری ،اور غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی گئی۔ایک مرتبہ پھر سندھ میں مضبوط رائے عام پیپلزپارٹی کے حق میں کھڑی ہو گئی۔
حالیہ مہم جوئی کے دوران یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ کراچی میں وفاقی منصوبے گورنر سندھ کی سربراہی میں کمیٹی کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔ عمران حکومت پورے سندھ کے باجئے صرف کراچی میں ترقیاتی کام کرنا چاہتی ہے۔بعد میں وفاقی حکومت کے بعض فیصلوں کے ذریعے یہ بات مزید واضح ہو گئی۔ اس سے وفاقی حکومت خواہ تحریک انصاف کے لئے اس صوبے میں کوئی اچھا تاثر نہیں بن پایا جاتا۔
نیب بدستور سرگرم رہی۔ دو تین ہفتے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے خلاف تحقیقات اور اس حوالے سے گرما گرم خبریں اور’’ انکشافات‘‘ میڈیا کی زینت بنے رہے، جس کو پیپلزپارٹی میڈیا ٹارئل قرار دیتی رہی۔ لیکن اب پیپلزپارٹی سندھ کے چیئرمین نثار کھڑو، سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے بعدنیب بورڈ نے تین اہم سابق وزراء سہیل انور سیال ا جام شورو اور زاہد بھرگڑی کے خلاف تحقیقات کی منظوری دیدی ہے۔سابق وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور سابق وزر بلدیات جام شورو میڈم فریال تالپور کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے درجنوں ایم پی ایز نیب کی پکڑ میں لئے جارہے ہیں۔ سکھر میں محکمہ جیل کے چھ بنگلوز، اور زمین کے کھاتے تبدیل ہو گئے۔ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کی مہم کراچی شہر میں تو دم توڑ چکی ہے لیکن چھوٹے شہرو ں میں ابھی بھی جاری ہے۔ ایسے شہر بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں جہاں نہ ٹاؤن پلاننگ اور سٹی سروے کیا گیا ہے اور نہ کوئی میونسپلٹی موجود ہے۔ اس مہم میں جانبداری اور سیاست کی شکایات روز کا معمول ہیں جو میڈیا میں شایع ہو رہی ہیں۔
تھر میں قحط سالی اور بچوں کی اموات کا سلسلہ سندھ حکومت کے دعوؤں، سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود رک نہیں پارہا ہے۔ قحط زدگان میں گندم کی تقسیم منصفانہ نہیں ہو پارہی۔ پہلے مرحلے میں25750متاثرین کو اور دوسرے مرحلے میں 23164 متاثرین کو فہرستوں میں نام ہونے کے باوجود گندم نہیں مل سکی ۔ اب صوبائی حکومت نے تیسرا مرحلہ شروع کردیا ہے۔ دو مرحلوں میں گندم کی تقسیم کو یقینی نہ بنانے کے باوجود تیسرا مرحلہ شروع کردیا گیا ہے۔
سندھ میں ایک ہی محکمہ میں سرگرمی نظر آرہی ہے وہ ہے محکمہ تعلیم۔ حال ہی میں نئے اساتذہ کی بھرتی کے لئے تھرڈ پارٹی کے ذریعے ٹیسٹ لئے گئے۔ ایک اسامیاں آٹھ ماہ پہلے پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔سندھ حکومت نوجوان وزیر سید سردار علی شاہ کے ذریعے اس شعبے میں بعض اہم انتظامی، نصابی اور پالیسی کی تبدیلیاں کرنے جارہی ہے۔ گزشتہ روز صوبے کے اسکولوں میں امتحانات اپریل کے بجائے مارچ میں لئے جائیں گے۔ یکم مئی سے 30 جون تک موسم گرما کی چھٹیاں کی جائیں گی۔ اپریل میں امتحانات کرانے کی وجہ سے مئی میں پڑھائی نہیں ووتی عملا چار ماہ کی چھٹیاں ہو جاتی ہیں۔ تعلیمی سال 2020 کے بعد امتحانی پرچوں میں سوالات شعور پرکھنے سے متعلق سوالات کئے جائیں گے۔ 100 فیصد سوالات نصاب میں سے دینے کے بجائے تنقیدی جائزے سے متعلق سوالات دیئے جائیں۔ امتحانات کلاس رومز کے بجائے کھلے میدان میں لئے جائیں گے۔محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے امتحانات میں نصاب سے باہر سوالات دینے اور نصاب میں تبدیلی کے لئے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی حالیہ سرگرمیاں اپنی جگہ پر ۔ اس محکمے کو بعض مسائل بھی ورثے میں ملے ہیں۔ ان میں سے ایک ماضی میں قانون سے بالاتر کی گئی بھرتیاں ہیں۔ 2012 میں ہزارہا اساتذہ کی غیر قانونی اور جعلی بھرتیوں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کام شروع کردیا ہے۔ بھرتی ہونے والے ملازمین کو متعلقہ ڈاکیومینٹس پیش کرنے اور ان کے تقرر ناموں پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹر اور دیگر افسران سے تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن چار سو اساتذہ وملازمین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ان کے تقرر ناموں کی تصدیق کی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2012 میں محکمہ تعلیم میں ہزاروں ملازمین کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر بھرتی کیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم نے اس معاملے کی پہلے بھی مختلف انکوائریز کی تھی جن میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی ملازمین غیر قانونی طور پر اور مجاز افسران کے دستخط کے بغیر اور سیکریٹری کی منظوری کے بغیر بھرتی کئے گئے جس کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی سکی تھی۔ ان ملازمین میں سندھی لینگوئیج ٹیچر، عربی
ٹیچر، ڈرائنگ ٹیچر، اور دیگر ملازمین شامل ہیں ۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس نے سندھ میں غیر فعال فوڈ اتھارٹی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ صوبے میں ہزارہا فوڈ اسٹال موجود ہیں جہاں پر غیر معیاری کھانا مہیا کیا جاتا ہے ۔ پتہ تب پڑتا ہے جب کوئی فوڈ پوازننگ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یا موت کا شکار ہو جاتا ہے۔اس طرح کا ایک واقعہ کراچی میں ہو چکا ہے جبکہ دوسرا واقعہ حال ہی میں حیدرآباد میں ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق کراچی کے علاوہ صوبے میں کہیں بھی فوڈ اتھارٹی کا عملہ موجود نہیں۔لہٰذا یہ اتھارٹی عملا غیر فعال ہے۔
روزنامہ کاوش نے اداریے میں سندھ میں سرکاری جنگلات پر ناجائز قبضے کے عنوان سے اداریہ میں لکھا ہے کہ جنگلات کی ایراضی بڑھانا دور کی بات، جو ایراضی اس مقصد کے لئے مختص ہے اس کو بھی بااثر افراد کو الاٹ کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران جنگلات کی زمین الاٹ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔جب صوبائی حکومت خود کہہ رہی ہے کہ بااثر افراد کو جنگلات کی سرکاری زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی ہے تو پھر یہ قبضے خالی کیوں نہیں کرائے جاتے؟
اخبار لکھتا ہے کہ سندھ میں سرکاری جنگلات الاٹ کئے جا رہے ہیں اور وہاں موجود درخت بیدردی سے کاٹے جارہے ہیں۔ لیکن حکومت کوئی تحرک نہیں لے رہی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر اقتداری دور میں محکمہ جنگلات کی زمین سیاسی حمایت حاصل کرنے اور سیاسی وفاداریاں خرید کرنے کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ زمینیں من پسند لوگوں کو غیر قانونی طور پر الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں جنگلات تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔
دیہی معیشت اور مجموعی ماحول کا جنگلات سے گہراتعلق ہے۔اب بات سپریم کورٹ تک پہنچی ہے ۔ حکومت کے لئے بھی موقعہ ہے کہ وہ تمام سیاسی مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر جنگلات کی زمینیں خالی کرائے۔ اور جنگلات کی بحالی کا منصوبہ بنائے

PTI bid to destablise Sindh govt Sindh.
Nai Baat - Sindh Nama - Sohail Sangi. Reforms in Education system, NAB case, Forst, Food Athority

سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا؟

سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ملک کی سیاست میں طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ محض ایک رپورٹ ہے۔ جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے کہا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں قرار دیئے گئے ’’مشتبہ‘‘ افراد کو مجرم قرار دینے کے لئے ابھی ایک طویل قانونی سفر طے کرنا باقی ہے۔ اس رپورٹ کی ابھی سپریم کورٹ چھان بین کرے گی۔پی ٹی آئی کو آخراتنی کیا جلدی تھی؟ کہ اس نے جے آئی ٹی کے کہنے پر رپورٹ میں دیئے گئے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈال دیئے؟ عدالت کی قائم کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر عدالت اس رپورٹ کی عدلات کی جانب سے اسکروٹنی سے اور عدالتی احکامات کے بغیرحکومت کے کسی اقدام کی کیاقانونی حیثیت ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر جلد بازی سے یہ نظر آیاکہ حکومت عدلیہ کا کام خود کررہی ہے۔جبکہ اپنے کاموں کے لئے متعدد بار وہ عدلیہ کے احکامات کی محتاج رہی۔س دلچسپ امر یہ ہے کہ ای سی ایل میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نام ڈالنے کے بعد وفاقی حکومت نے سندھ حکومت گرانے، گورنر راج لانے کی مہم شروع کی گئی۔
سپریم کورٹ نے حکومت کے اس اقدام کا نوٹس کیا، لسٹ پر نظر ثانی کے لئے کہا تو حکومت بضد رہی اور معن وعن عدالت کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا۔ اور ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ حکومت کے اس قدم کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔ اور سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی سندھ میں پانی ناپ کے دیکھ لیا۔ پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت کو ہٹانے کا پلان کرتے وقت سوچا ہی نہیں کہ وہ کیا کرنے جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی صرف ایک صوبے میں ہی حکومت نہیں کرتی بلکہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی ہے۔ جس کی سینیٹ میں موثر موجودگی ہے۔ ایسے میں حکومتیں بنانا اور توڑنا ایک خطرناک مظہر ہے۔ جو ملک کے نظام کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑے گا۔
جب سندھ حکومت کو گرانے کے لئے وفاداریاں تبدیل کرنے کی مہم شروع کی گئی تو پیپلزپارٹی نے بھی وفاقی حکومت کو دھمکی دی۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ اگر بڑا زرداری اجازت دے تو مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت گرائی جاسکتی ہے۔یعنی آپ ہماری صوبائی حکومت گراؤ گے تو ہم آپ کی مرکزی حکومت گرائیں گے۔ کیا 90 کی سیاست کو دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے۔پی ٹی آئی چاہ رہی تھی کہ سندھ میں جام صادق علی ماڈل پر حکومت بنائی جائے۔ یعنی اکثریتی پارٹی کو نظر انداز کر کے چھوٹ چھوٹ گروپوں کو ملا کر انجنیئرنگ کر کے اپنا وزیراعلیٰ بنایا جائے۔
حالیہ بحران میں معاملہ چونکہ عدالتی تھا۔ا ور رپورٹ عدالت میں پیش ہوئی تو چیف جسٹس نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نوٹس لیا۔اور کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگایا گیا تو ایک منٹ میں اسے اڑادیا جائے گا۔ سندھ میں اس غیر جمہوری اقدام کے خلاف عام رائے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ روایتی خواہ سوشل میڈیا پر شور ہو گیا۔ موجودہ سندھ اسمبلی کو آسانی سے جوڑ توڑ ممکن نہیں۔یہ 90 کا عشرہ نہیں تھا۔ اول یہ کہ عدلیہ کی ہدایات پر جے آئی ٹی نے کام کیا تھا۔ لہٰذا اس کی رپورٹ اور سفارشات کو حکومت کو نہیں بلکہ عدلیہ کو ہی آگے بڑھانا تھا۔ بلاشبہ اس کوشش کو ناکام بنانے میں آصف علی زرداری کے دورہ گھوٹکی ، کشمور اور خانگڑھ کا بھی حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے ’’مشتبہ اراکین اسمبلی‘‘ کی جانب سے بھی وضاحتیں آئی۔ یہاں تک کہ فنکشنل لیگ نے بھی وضاحت کی کہ وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو توڑنے کا حصہ نہیں بنے گی۔
تحریک انصاف پہلے اچھی حکمرانی عام لوگوں کے حقوق اور تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ پھر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی مہم چلائی۔ لیکن ان کی یہ کوشش بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ ایسے میں پاناما لیکس آگئے۔ جس میں نواز شریف حکومت کو گھیر لیا گیا۔ تحقیقات اور مقدمے ہوئے۔بالآخر نواز شریف اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے آؤٹ کردیا گیا۔اس پورے پلان میں پہلے نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھینا گیا۔پھر پارٹی میں اختیارات ۔اب یہ نسخہ پیپلزپارٹی پرسندھ میں دہرائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر نسخہ ہر وقت اور ہر ایک کے لئے نہیں استعمال کیا جاسکے اور اس کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں۔
پتہ نہیں کیوں تحریک انصاف کو غلط فہمی ہو چلی کی سندھ میں سیاسی تحریک ناگزیر ہو گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ سندھ اسمبلی میں عددی لحاظ سے پی ٹی آئی دوسری بڑی پارٹی ہے۔ لیکن عوامی سطح پر وہ دوسرے نمبر پر نہیں۔عام انتخابات کے کراچی کے نتائج کے بارے میں بھی لوگ انجنیئرنگ قرار دے رہے ہیں۔ صوبے کے شہری علاقوں میں خواہ کتنی ہی تقسیم در تقسیم ہو، ابھی تک ایم کیو ایم کی سیاسی سوچ موجود ہے۔ صوبے کے دو بڑے شہر چھوڑ کر باقی علاقوں میں پیپلزپارٹی نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی ہے۔ اگر کوئی جگہ موجود بھی ہے تو ہو یا تحریک انصاف کے حق میں نہیں یا کم از کم پی ٹی آئی کے اس تحرک میں اس کے ساتھ نہیں۔ لہٰذا تحریک انصاف کا کوئی ایسا تحریک انجنیہئرنگ تو ہوسکتا ہے لیکن اس کو سندھ میں قبولیت نہیں مل سکے گی۔
پی ٹی آئی کے حالیہ موقف کی نہ سیاسی اور نہ قانونی منطق ہے، وہ اس کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ دو صوبوں اور وفاق میں اپنی پارٹی کی مکمل اور ایک صوبے میں حصہ داری سے حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اپنی سیاسی اور آئینی ذمہ داریوں کا زیادہ مظاہرہ کرناچاہئے۔ پی ٹی آئی کی ناکام کوشش نے سیاسی پانی کو مزید گندا کردیا ہے۔اس کے چھینٹے وفاقی حکومت پر بھی پڑیں گے۔
کیا پی ٹی آئی ملک کے دوسرے بڑے صوبے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا چاہ رہی ہے؟ اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ تحریک انصاف ملک کو ایک پارٹی کا نظام کی طرف دھکیل رہی ہے
اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ مضبوط مرکز اچھا لگتا رہاہے۔ لہٰذا اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ اسٹبلشمنٹ کے نزدیک کو اتنی پسند نہیں۔ مالی اور انتظامی اختیارات کی خود مختاری کو قومی سلامتی اور استحکام کے خلاف گردانا جاتا رہا ہے۔جس کا متعدد بار اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے رہنماؤں کے خلاف اقدام کو اٹھارویں ترمیم، قومی مالیاتی ایوارڈ سے منسلک کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں فریق نہیں تھی۔ اس لئے اس پارٹی کا ان دونوں چیزوں پر نہ کوئی کمٹمنٹ ہے اور نہ وعدہ۔ ویسے بھی کسی بھی مرحلے پر پی ٹی آئی نے مالی خواہ صوبائی خود مختاری کے حوالے سے خال خال ہی بات کی ہے۔ اگر وہ سرائیکی صوبے کی بات کرتی ہے تو اس کا کچھ اور پس منظر ہے۔
بامقصد پائیدار احتساب کے لئے منصفانہ اور مطلوبہ احتسابی عمل کی ضرورت ہے نہ سیاسی بیانات اور سیاسی انجنیئرنگ کی۔احتساب کو سیاست سے الگ کرنا ضروری ہے۔ سیاسی انجنیئرنگ کوئی حل نہیں۔ اس طرح کی انجنیئرنگ نہ پہلے کبھی چل سکی ہے اور اب تو بالکل ہی نہیں چلے گی۔

Political Engineering in Sindh Sohail Sangi

Nai Baat January 2019