Thursday, January 10, 2019

سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب


سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سندھ کے قوم پرست جماعتیں ایک بار پھر متحد ہونے کا سوچ رہی ہیں لیکن تذبذب کا شکار ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران نے متحد ہونے کی ضرورت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ 
اٹھارہویں آئنی ترمیم کے تحت صوبوں کو آئین میں بڑی حد تک خود مختاری دی گئی ہے اگرچہ اس پر پر مکمل عمل درآمد ابھی باقی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے قوم پرستوں کے پاس کوئی نعرہ یا مطالبہ نہیں رہا۔قوم پرست اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے ٹیمپو بنا سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پیپلزپارٹی مضبوط ہوگی۔ اس کا اس وجہ سے بھی پیپلز پارٹی کو فائدہ ملے کیونکہ وہ اقتداری پارٹی ہے۔ گزشتہ عرصے میں قوم پرست سندھ کے اشوز یعنی صوبائی خود مختاری، این ایف سی ایوارڈ، پانی کی تقسیم، قدرتی وسائل پر صوبائی حق ، توانائی کے معاملات کے حوالے سے قابل قدر آواز نہیں اٹھائی گئی ہے۔ اس کے بجائے پیپلزپارٹی ہی یہ مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی سیاسی بحران کے وقت اس بات کو سندھ کارڈ کے طور پر بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ حالیہ بحران میں بھی پارٹی نے ایسا کیا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کی کارروایوں کے بعد یہ عمل پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف جب اٹھایا جانے لگا تو پیپلزپارٹی نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بعض حکومتی اقدامات سے پیپلزپارٹی کے اس دعواے کو تقویت ملی۔ سندھ میں قوم پرست رہنماؤں کو یہ بات عجیب لگ رہی ہے کہ جب اس ترمیم کو واپس کر کے صوبائی خودمختاری چھینی جارہی ہے، تب یہ لوگ خاموش ہیں۔ انہیں اس پر بھی ملال ہو رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اکیلے سندھ کے حقوق کی ترجمان بن رہی ہے۔ اس لئے وہ بھی اپنا حصہ ڈالنے کا سوچ رہے ہیں۔
سندھی قوم پرست جماعتیں گروہ بندی ہے ۔ وہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن ان کے دو بڑی کیٹگری ہیں۔ جیئے سندھ قومی محاذ ( بشیر خان گروپ) ، جیئے سندھ قومی محاذ ( آریسر گروپ) جیئے سندھ تحریک صفدر سرکی، جیئے سندھ محاذ ریاض چانڈیو، جیئے سندھ متحدہ محاذ شفیع برفت۔ یہ تمام گروپ بظاہر خود کو جی ایم سید کے پروکار ہونے کا دعوا کرتے ہیں۔ یہ وہ کیٹگری ہے جو پارلیمانی سیاست میں یقین نہیں رکھتی۔ 
دوسری کیٹگری میں قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی ہیں۔یہ گروپ پارلیمانی سیاست کرتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی الیکشن میں کوئی قابل قدر ووٹ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ 
سندھ میں کوئی بھی قوم پرست جماعت اکیلے سر کسی مسئلے پر موثر آواز یا احتجاج نہیں کرسکتی۔ لہٰذا ماضی کی طرح ایک بار پھر وہ ان مسائل پر متحد ہونے کا سوچ رہے ہیں اس ضمن میں پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتیں یعنی سندھ یونائٹیڈ پارٹی، قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی نے صلاح مشورے شروع کئے ہیں۔ تاحال وہ جماعتیں ابھی اظہار نہیں کر رہی ہیں جو پارلیمانی سیاست نہیں کرتی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کچھ اقتدار کی حالیہ جنگ کے دوران کا اشو ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں یہ جماعتیں انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی مخالف ملک گیر سیاست کرنے والی کسی جماعت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔نتیجے میں ان جماعتوں کو نہ ووٹ ملے اور نہ ہی انتخابات کے بعد سیاسی فائدہ۔ 
سندھ کی قوم پرست اکثرجماعتوں کے پاس تنظیمی نیٹ ورک سے خالی ہیں وہ اپنے لیڈر کے زیراثر ذاتی نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور قوم پرست سیاستدان پرامن جمہوری اور مقبول جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن سندھ کی سیاست جس نظام پر چلتی ہے اس میں اسٹبلشمنٹ مخالف سیاست ان کے لئے بہت ہی کم گنجائش نکلتی ہے۔ اسٹیٹسکو کی حامی قوتیں اور مقامی پاور بروکر ریاست کی حمایت سے ایسی قوتوں کا پارلیمنٹ میں داخلا بند کر دیتے ہیں۔ 
90 کے عشرے میں بینظیر بھٹو کامیاب ہوگئی تھی کہ وہ سندھ کے قوم پرستوں کو ایک چھتری کے نیچے جمع کر کے کالاباغ ڈیم کے خلاف دھرنا دے۔ 
سندھ میں قوم پرست اور پیپلزپارٹی دو الگ الگ سیاسی دھارے ہیں۔ جیئے سندھ تحریک کے بانی رہنما جی ایم سید سندھ کی سیاست کو اس طرح سے لینا چاہتے تھے کہ ابھرتے ہوئے طبقات ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے مسلم لیگ سے اختلافات کے بعد اپنی الگ تشخص بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے پاکستان کے دیگر قوم پرستوں کا ساتھ دیا۔ پہلے نیشنل پارٹی اور پھر نیشنل عوامی پارٹی بنائی۔ 
پاکستان واحد قوم کی ریاست کے طور پر وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ ایک ایسی ریاست تھی جس کو قوموں نے بنایا۔ پاکستان کے نام کی بھی بھی اس طرح سے ہے۔ بڑے پیمانے پر زراعت اور گھریلو صنعت اورکمرشل بنیاد نہ بن سکا۔ ریاست کی بڑھتی ہوئی لالچ اور معاشی بنیادوں کے بغیر حکمران طبقات نے بدترین استحصال کو جنم دیا۔ قومی استحصال بدترین شکل میں سامنے آگیا۔ 1940 کی قرارداد پاکستان نئے ملک کے قیام کی بنیاد تھی، اور یہی سمجھا جارہا تھا کہ نئے ملک کے آئین میں اس قرارداد اور اس کے اسپرٹ اور جوہر کو برقرار رکھا جائے گا۔ لیکن ملک کو دیئے گئے تینوں دساتیر میں ایسا نہیں کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 میں کراچی صوبے سے الگ کر کے وفاق کو دے دیا گیا اور وہاں وفاقی دارالحکومت بنادی گئی۔ ایوب کھڑو جو اسوقت وزیراعظم تھے انہوں نے اس کی مخالفت کی تو انہیں ہٹانے کے لئے ایبڈو لگا دیا گیا۔ 
سندھ میں صوبائی خود مختاری کی تحریک 1917 میں ابھری جب سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا۔ اس تحریک کی قیادت زمیندار طبقہ کررہا تھا۔ 
جی ایم سید کو بلاشبہ سندھی قوم پرستی کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 1947 میں سندھ پروگریسو پارٹی بنائی اور ایک سوشلسٹ فریم ورک میں صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کیا۔ 1953 میں انہوں نے سندھ عوامی محاذ بنایا۔ سید خود ایک درمیانہ درجہ کے زمیندار تھے۔ وہ اس طبقے کے مسائل کی ترجمانی کر رہے تھے۔ 
1958 میں ایوب خان کی ایجوکیشن کمیشن نے سندھی سمیت دوسری مقامی زبانوں کو بطور ذریعہ تعلیم پابندی عائد کردی۔ 
گزشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان کم ہی کامیابیاں حاصل کر سکا پارلیمانی جمہوریت بھی پروان نہ چڑھ سکی۔ انڈیا سے چار جنگیں ہوئی، معاشی ترقی بھی نہیں ہوئی۔ جو دولت پیدا ہوئی اس کے تقسیم بھی منصفانہ ایک سوال بنی رہی۔ صوبائی خود مختاری کے سوال پر مشرقی پاکستان بنگلادیش کی شکل میں الگ ملک بن گیا۔ مذہبی فرقہ بندی اور تنازعات نے سماجی، اور سیاسی طور پر عوام کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ لہٰذا ایک کامیاب ریاست کی صورتحال نہ بن سکی۔ 
ملک کا سیاسی نظام بالائی گروپوں پر مشتمل ہے۔ مزید یہ کہ مسلسل فوجی حکومت رہی۔ اکثر سیاسی جماعتیں صحیح طور پر کام نہ کر سکیں۔ پاکستان کی مکتصر تاریخ میں سینکڑوں سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ پاکستان کی سیاست عموما آپس کے رشتیداروں کے درمیان کم دستیاب وسائل اور وقار اور عزت کے درمیان جدوجہد کی کہانی لگتی ہے۔ لہٰذا کسی پارٹی سے وفاداری پارٹی پروگرام یا نظریات کے بجائے پارٹی کے اندر موجود کسی فرد سے وفاداری سے تعبیر ہے۔ 
ریاست کے اس کردار کو سمجھنا پاکستان کی قومی تحریکوں کے ابھار اور زوال کو سمجھنے کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پرپاکستان کی حکومتوں کی پالیسی قوم پرست تحریکوں کے ابھار کو موجب بنی ہیں۔لسانی اور علاقائی تشخص جو ایک نظر میں صوبائی ڈومیسائیل کا معاملہ لگتا ہے لیکن یہ نامکمل ہے تقسیم ہند کے اثرات اور اندرونی انتقال آبادی کی وجہ سے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کثیر رخ اور کثیر لسانی پس منظر رکھنے والی آبادی کا صوبہ ہے۔ یہاں سندھیوں اور غیر سندھیوں کے درمیان ایک نہایت ہی نازک توازن ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اور راجستھان سے لاکھوں افراد خاص طور پر کراچی میں ہی نہیں بلکہ حیدرآباد، سکھر، اور میرپورخاص م میںآکر بسے۔بڑے پیمانے پر مہاجروں کی آنے سے معیشت، ملازمتوں، اور سرکاری محکموں کی اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا۔ اگرچہ اس مظہر کا زیادہ اثر شہری علاقوں پر ہوا۔ لیکن اس کی محرومی سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی محسوس کی گئی جہاں پر سندھی متوسط طبقہ ابھر رہا تھا۔
پنجاب اورریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے سندھ میں سرکاری زمینیں حاصل کرنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اور سندھیوں میں احساس محرومی اور بڑھا۔ کئی دیگر عوامل بھی ہیں جنہوں نے ان جذبات کو بڑھاوا دیا۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں سے ایک بڑی بادی کراچی منتقل ہوئی،مہاجروں کے بعد ایوب خان کے دور میں بڑے پیمانے پر پنجابی اور پٹھان بھی آکر آباد ہوئے۔ کیونکہ یہ بحری بندرگاہ اور بڑا صنعتی شہر تھا ۔ اسلام آباد سے پہلے ملک کا دارلحکومت تھا۔ یہ سوال روز بروز مشکل ہوتا گیا کہ کون اصل سندھی، پختون یا بلوچ ہے؟ کیونکہ ان گروہوں کے درمیان حد لکیر جاری نقل مکانی کی وجہ سے مسلسل لچک پذیر رہی۔ 
حکمران طبقات اور ریاست کوپاکستان ایک قوم نہ بنا سکے۔ سندھ میں جس کے حکمران طبقات نے پاکستان بنانا پسند کیا تھا وہاں بھی گڑ بڑ ہوگئی کہ انڈیا سے منتقل ہونے والوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔ یہ لسانی ، قومی اور نسلی تعصبات وقت کے ساتھ بدتر ہوتے گئے۔ اور ان کو بعض عناصر استعمال کرتے رہے نتیجے میں 1980 اور 1990 کے عشروں کے فسادات ہوئے۔ 
عسکری بیوروکریسی نے بعض مخصوص پالیسیاں بنائیں۔ ایک طرف وہ ملک کے باشندوں کو ایک نظریاتی کمیونٹی بنانے میں ناکام رہی، دوسری طرف اس نے لسانی اور قومی رجحان کو سندھ، بلوچستان، خٰبرپختونخوا اور مشرقی پاکستان میں ہوا دی۔ خاص طور پر ایوب اور ضیا کے دور میں۔ جیئے سندھ اور بلوچ تحریکوں کو قیام پاکستان کے وقت معمولی حمایت حاصل تھی یہ تحریکیں ساٹھ سے لیکر اسی کے عشرے تک پاکستان کے منظر نامے پر بھرپور طریقے سے ابھر کر سامنے آئیں۔ 
پاکستان میں قوم پرست جذبات کے مطابق پنجابی قوم ملکی معیشت، سیاست، معاشرے اور ریاست پر حاوی ہے۔ اس تصور کی حمایت میں بہت سے ثبوت بھی موجود ہیں۔ مثلا پنجابی ملک کی کل آبادی میں اکثریت میں ہیں۔ دوئم ان کی سول اور فوجی بیوروکریسی میں بھی اکثریت ہے۔ پنجاب ایک شاہوکار اور دولتمند صوبہ ہے لہٰذا ملک کا ترقی یافتہ صوبہ ہے۔ اس تصور کو حکومتی پالیسیاں مزید مضبوط کرتی رہتی ہیں۔ 
تعلیم یافتہ درمیانہ طبقے کی اپنی شکایات اور مسائل تھے۔ وہ ملک کے دو بنیادی اداروں سول اور فوج میں اپنے لئے جگہ نہیں حاصل کر پارہے تھے۔ صوبے میں بدترین پرانا جاگیردارانہ نظام قائم رہا۔ جس کی چکی میں لاکھوں غریب کسان پس رہے تھے۔ جیئے سندھ تحریک کو زمینداروں اور تعلیم یافتہ درمیانہ طبقے کی ہی حمایت حاصل تھی۔ 
جیئے سندھ تحریک ابتدائی طور پر ثقافتی سطح پر رہی اور سیاسی سطح پر حمایت حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام تھا۔ جس کی قیادت ذولفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔ اس نوجوان اور کرشماتی رہنما کا تعلق زمیندار طبقے سے تھا۔وہ اسی حلق میں اپیل کر رہا تھا اور انہی مسائل اور شکایات کو اٹھارہا تھا۔جس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہورہی تھی۔ پیپلزپارٹی نے دو طرفہ کردار ادا کیا۔ سندھ میں سندھ کی شکایات کی چیمپیئن بنی اور ملکی سطح پر روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر پسماندہ طبقات کی نمائندہ یا ترجمان کے طور پر ابھری۔ یوں پیپلزارٹی ایک ماس پارٹی بن گئی۔ جیئے سندھ محاذ جون 1972 میں قائم کیا۔ جولائی میں اسی سال پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھی زبان کا بل اسمبلی سے منظور کیا۔ سندھی صوبائی زبان ہوگی اور سندھی اور اردو دونوں ذریعہ تعلیم ہونگی۔ چھٹی سے بارہویں جماعت تک اردو اور سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے گا۔ 
قیام پاکستان ک بعد سندھ میں متعدد تحریکیں اٹھیں۔ ان میں سے تین اہم ہیں جنہوں نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تحریکیں ہیں ساٹھ کے عشرے کی ون یونٹ کے خلاف تحریک، 1983 کی ایم آرڈی تحریک اور کسی حد تک 1986 کی تحریک ۔ یہ تمام تحریکوں کی شدت، کردار، بنیاد اور مقاصد مختلف تھے۔ سب سے بڑی تحریک ساٹھ کے عشرے کی تھی جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور ایک انقلابی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کاقومی بیانہ ریاست کے خلاف تھا۔ اس تحریک ن کے طبقاتی اور سماجی کردار یا جوہر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ موقعہ تھا جب صوبے کی شہری خواہ دیہی آبادیایک طبقاتی تحریک اور اس نے قومی، لسانی مذہبی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر میں متحد تھی۔
ضیا ء الحق کی غیر جماعتی سیاسی پالیسی نے صوبائی خواہ ملکی سطح پر تباہ کن اثرات ڈالے سندھ میں پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کے شوق کو پورا کرنے کے لئے سندھی قوم پرستوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جس سے ریاست کا جانبدارانہ امیج بنا جس نے ایم کیو ایم کو مشتعل کیا۔ ایم کیو ایم کوپروان چڑھانا سازش تھی۔ تاکہ کراچی اور اس کے بعد ملک بھر میں مزدور طبقے میں لسانی، نسلی، زبنا کی بنیاد پر تقسیم کی جائے۔ 
جیئے سندھ نے مارشل لاء کے ساتھ جزوی تعاون اور جزوی محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی قیادت نے ضیا حکموت کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ روابط رکھے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے سے گریز نہیں کیا۔ مارشل لاء حکومت یہ سب فوائد اس لئے دے رہی تھی کہ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو کمزور کرنا تھا۔ 
سندھ کے شہری علاقوں میں صنعت اور تجارت میں مزدور حاوی تھے اور دیہی علاقوں میں وڈیروں کا کسان گھیراؤ کر رہے تھے۔ 1971 کے بعد پیپلزپارٹی نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اور یہ قومی اتحاد لسانی اور مذہبی فرقوں میں تقسیم ہو گیا۔ 
پیپلزپارٹی نے قومی سوال کو حل کرنے کے بجائے اس ک تضادات کو مزید تیزکیا۔ 
کوٹا سسٹم اور سندھی زبان کو اسکولوں میں رائج کرنے نے سندھی عوام کے مصائب کم کرنے کے بجائے اس نے سندھ کی آبادی کو تقسیم کردیا۔ بلکہ اس نے تنگ نظر اور دوسری لسانی گروہوں کے بالادست طبقے لیڈروں کو کراچی اور دیگر شہری علاقوں میں بنیاد فراہم کی۔
تقسیم ہند کے وقت سندھی مڈل کلاس جو اتفاق سے ہندو تھی وہ انڈیا منتقل ہوگئی اور خلاء کو انڈیا اور موجودہ پاکستان کے دوسرے صوبوں سے آنے والوں نے بھرا۔ اس تحریک کو اس وقت چھال ملی جب 1955 میں ون یونٹ قائم ہوا۔ صوبوں کا تشخص ختم کردیا گیا۔ اس کا مطلب صبوں کو ان کی جغرافیائی اور ثقافتی شناخت سے محروم کرنا تھا۔ 1973 کا آئین اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ کیونکہ اس میں صوبائی خود مختاری کے اہم سوال کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ 
1977 میں بھٹو حکومت کے خاتمے اور دو سال ببعد اس کو پھانسی کی سزا نے سندھ میں قوم پرست تحریک کو نئی قوت بخشی۔ وجہ یہ تھی کہ بھٹو سندھی تھا۔ یہ تحریک ناکام ہوئی کیونکہ مارشل لاء حکومت خاص طور پرکراچی اور دیگر ملک کے شہروں میں لسانی تقسیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کراچی میں مارشل لاء حکومت ایم کیو ایم، پنجابی پختون اتحاد، مذہبی بیاد پرست اور دوسرے گروہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی جو تحریک کو طبقاتی بنیادوں پر جانے کی رفتار کو توڑ رہے تھے۔ اس تحریک میں 1263 افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس تحریک کے کئی بہادرانہ واقعات ہیں جو اب سندھی لوک ادب کا حصہ ہیں۔ یہ تحریک کامیاب ہو سکتی تھی اگر ایم آرڈی اور پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے انقلابی طبقاتی پروگرام سے نہ ہٹتے۔ حالانکہ یہی وہ بنیاد تھی جس پر شہری اور دیہی آبادیوں کو متحد کیا جاسکتا تھا۔ شاید ایم آرڈی کے لیڈر انقلابی تبدیلیوں سے انتے ہی خوفزدہ تھے جتنی مارشل لاء حکومت۔ 



پاکستان کے معاشرے میں ثقافتی، سماجی معاشی حوالے سے بدترین قسم کا قومی جبر ہے۔ سندھ اس جبر کا شکار ہے۔
پاکستانی حکمران طبقات اور سرمایہ دارانہ ریاست ایک متحدہ قوم یا ایک قوم والی ریاست قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا قومی استحصال اور بنیادی انسانی محنت کا استحصال ناگزیر طور رپ جاری ہے۔ 
مختلف پروجیکٹس مثلا کالاباغ ڈیم بنیادی طور پر کارپوریٹ منافع کے لئے ہے اسی طرح سندھ میں نجی اور سرکاری حصیداری کے تحت جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے کسی طور پر بھی عام لوگوں کی زندگی نہیں بدل سکتی۔ کالاباغ ڈیم اور دوسرے اس طرح کے پروجیکٹس پر سندھی لوگوں کے تحفظات اس لوٹ مار کے نظام کے تحت ختم نہیں ہو سکتے۔ 
موجودہ حکمران مالی اور سرمایہ کاروں کے مفاد کی نمائندگی کرتے ہیں نہ کہ عوام کی۔
سندھ کی ڈیموگرافک صورتحال کو تاریخی سیاسی طور پر اگر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہاستحصالی طریقے پر سرمایہ کی ترقی ہوئی ہے۔ تمام قومیتوں کے مزدوروں کو صنعت کاری نے نگل لیا ہے۔ موجودہ اجارہ داری سرمایہ داری میں ایک قومی ریاست کا تصور ختم ہو گیا ہے اور قومی معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ 
؂ پاکستان کی تاریخ کے ساٹھ سال کے دوران ریاست سندھ پر جبر جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس کے لئے سندھ کے زمیندار اور سرمایہ دار برابر کے شریک اور ذمہ دار ہیں۔ 



https://www.naibaat.pk/07-Jan-2019/20129

No comments:

Post a Comment