عوام کو بھی ٹھیک کرنے کی حکمت عملی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
حکومت کی کارکردگی پرکھنے اور اس کو جاری رکھنے کے لئے تین باتیں نہایت ہی اہم ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ عام لوگوں کو کیاحقوق اور سہولت حاصل ہیں۔دوئم یہ سیاسی ماحولاور مجموعی طور پر جمہوری عمل اوراداروں کی مضبوطی، سوئم یہ کہ روزمرہ کے کاموں میں مصروف ملازمین اور افسران کی طرف رویہ۔ آئیے ان تین کسوٹیوں پر تحریک انصاف کی حکومت کو پرکھیں۔ عوام کو حقوق اور سہولت دینے کا کھاتہ تاحال خالی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، گیس، بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی صورتحال پہلے سے خراب ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا سو ہوا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردنی و عام تصرف کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملکی معیشت نمو نظر نہیں آتا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی بھی معاشی طور پر تنگی محسوس کر رہا ہے۔معیشت کس قدر مضبوط بنیادوں پر ہیں؟ لوگوں کو کیا مالی و سماجی فوائد دے رہے ہیں اور جو کچھ دے رہے ہیں اس کی کیا قیمت ہے۔ حکومت کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، اور انکو ساتھ لیکر چلنا ضروری ہے۔ اسٹیک ہولڈرز صرف طاقتور ادارے ہی نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ حکومتی رابطوں کی شفافیت اچھی حکمرانی کی نشانی ہے لیکن موجودہ حکومت کابینہ کا ایجنڈا وغیرہ بھی خفیہ رکھنے کے احکامات جاری کرہی ہے۔میڈیا پر قدغن بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات دکھاوے کے زیادہ ہیں۔ ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں حکومت کی اتھارٹی نظر آئے۔ اس کا رعب تاب محسوس ہو۔ یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ان پر حکومت کی جارہی ہے۔ احتساب اور کئی مقامات پر تجاوزات کی آڑ میں کئے گئے اقدامات اس زمرے میں آتے ہیں۔ لوگوں میں یہ دہشت بٹھائی جارہی ہے کہ اگر حکومت اپنی پر آئے تو ایسا بھی کر سکتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ عوام کے مفاد میں تاحال حکومت کی یہ اتھارٹی سامنے نہیں آئی ہے۔
ملکی تاریخ کا زیادہ حصہ مارشل لاء یا پھر مضبوط کے سائے میں چلنے والی حکومتوں پر محیط ہے۔ وہ ویسے ہی ڈرے ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسربرطانوی راج سے ورثے میں ملی بیوروکریسی کے نظام نے پوری کردی۔جس کا مطمع نظر یہ رہا کہ حکمرانی کرنی ہے لوگوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا کہ اگر حکومت کوئی عام فائدے کا کام کرتی ہے تو یہ نا کا حق یا حکومت کا فرض نہیں بلکہ حکومت کا احسان ہے۔ لہٰذالوگوں کو یہ تجربہ ہوا کہ حکومت کے حوالے سے کوئی بھی کام آسانی سے نہیں۔ اس کا ایک طویل طریقہ کارہے۔ طریقے کو آسان اور مختصر کرنے کے لئے بااثر کا سہارا اور مدد لینا ضروری ہے۔ کسی بااثر کے سایے تلے رہنا خوشحالی اور باعزت زندگی گزارنے کی نشانی ہے۔ تقریبا پاکستان کا ہر شہری اس تجربے کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔ اگر اثر رسوخ ہو تو ہر کام آسان اور جائز ہے، ورنہ ہر جائز کام بھی مشکل اور ناجائز ہے۔
لوگوں کے تجربے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ صحیح ہونا یا دلیل بازی انہیں عدالتوں میں انصاف نہیں دلا سکتے۔کیونکہ عدالتیں اونچے طبقے کے معاملات سلجھانے میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے پاس عام آدمی کے مسائل کے لئے وقت نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کبھی کبھی عدلیہ بالائی طبقے کے آپس کے تضادات یا پھر عدلیہ میں لوگوں کا اعتبار قائم رکھنے کے لئے بعض فیصلے دیتی ہے جو مثال ببن کر گائے جاتے ہیں۔ ورنہ شاید ہی کوئی نظیر ہو کہ کسی عام اور بے رسا آدمی کو انصاف ملا ہو۔ ایسے لوگوں میں حکومت کا خوف بٹھانا اور دکھاوے کے اقدامات کرناسماج میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے لوگوں کا بااختیار ہونا کیسے ممکن ہے؟
حکومت کرنا سیاست ہے اور سیاست کا مطلب مشاورت اور اپنی سوچ سے مختلف یا مخالف کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کوئی آج کے جمہوری دور میں ہر بھی حکومت ایک معینہ مدت کے لئے آتی ہے۔اس مدت کے دوران پورے معاشرے کو حکومت میں شرکت کا احساس دلانا ہوتا ہے۔اس میعاد کے بعد ملکی معاشرہ اور حکومت کسی اور پارٹی کے حوالے کرنا ہے۔اس مقصد کے لئے ایک خاص سیاسی ماحول انتہائی ضروری ہے۔ تبدیلی والی حکومت تاحال عوام دوست سیاسی ماحول پیدا نہیں کر سکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں آنے کے دو ماہ کے اندر عوام کو حکومت اور نظام میں شرکت کا اھساس دلا دیا تھا۔ آج حکمران جماعت کا تمام تر زور دو سیاسی مخالفین کو زیر کرنا ہے۔تاثر یہ ہے کہ بس ’’دو بدمعاشوں‘‘ کو قابو میں کرلیں تو ملک میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہنا شروع ہو جائیں گی۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو سیاسی میدان سے آؤٹ کرنا تحریک انصاف کی حکومت اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔لیکن تاحال یہ دونوں جماعتیں ’’ناٹ آؤٹ‘‘ ہیں۔دوسری جانب یہ بھی چرچہ ہے کہ نئے پاکستان میں نیا این آر او آرہا ہے۔ نیا این آر او پرانے کی طرح نیا قانون لاگوکرنے کی طرح نہیں ہوگا۔ بلکہ موجود قوانین کو استعمال کرتے ہوئے کوئی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ اس میں عدلیہ اور نیب کا اہم کردار ہوگا۔ بڑی جماعتوں میں سیکس کو کیا سہولت دی جائے؟ اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔اصل میں خود حکومت کو بھی رلیف چاہئے۔ اگر ایسا کوئی فارمولا بنتا ہے تو بھی موجودہ حکومت کے رویے میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ جمہوری عمل یا جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور عوام کو اس نظام میں شرکت کا احساس ہو۔
تیسری کسوٹی روزمرہ کے کاموں میں مصروف اداروں اور ان کے ملازمین و افسران کے ساتھ رویہ اور پالیسی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد انتظامی افسران کے نظام میں تبدیلی کے لئے ٹاسک فورس اور کمیشن بٹھائے۔ جہاں سے یہ سفارشات آئیں کہ اعلیٰ افسران کے تقرر میں وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات ختم کر کے ایک معینہ مدت تک کی تقرری کی پالیسی اختیار کی جائے۔ پہلے وزیراعظم نے ان سفارشاتلہٰذا ان سفارشات کو فائل میں بند کر کے سرد خانے کے حوالے کردیا گیا۔ یہ یو ٹرن اس وجہ سے یا کہ اعظم سواتی کے معاملے میںآئی جی پولیس نے حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت کا فون اٹینڈ نہیں کای۔ اس سے قبل پنجاب پولیس اور ضلع انتظامیہ کے حوالے سے چار واقعات رونما ہو چکے تھے۔ حال ہی میں حکومت نے اپنی ’’اہلیت‘‘ بچانے کے لئے گیس تقسیم کرنے والی دو کمپنیوں کے سربراہوں کی چھٹی کرادی۔ان کمپنیوں کے ذمہ گیس کی تقسیم ہے۔ گیس کی پیداوار ، درآمد اور ترجیحات کے لئے ذمہ دار نہیں ۔ کیونکہ یہ تینوں کام بعض دیگر وفاقی ادارے اور متعلقہ وزارتیں کرتی ہیں۔ایک غلط فیصلہ حکومت نے کیا لیکن خیمازہ افسران کو بھگتنا پڑا۔ اس طرح کے اقدامات کے بعد بیوروکریسی محتاط ہو گئی ہے۔اس سے قبل نواز لیگ کے دور حکومت کے بعض بعض کئے اور بعض نہ کئے گئے کاموں اور فیصلوں میں بھی بیوروکریسی سزا ملی تھے۔سوال یہ ہے کہ افسرشاہی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی پالیسیوں، فیصلوں یا احکامات پر عمل کرنے سے کیوں کترا رہی ہیں؟ اس کی بھی چند وجوہات ہو سکتی ہیں ممکن ہے کہا حکومت اپنی بات عمل درمد کرنے والی مشنری کو سمجھا نہیں پارہی ۔ اگرایسا ہے تو خود کابینہ یا فیصلہ کرنے والوں کی اہلیت پر سوالیہ نشان آتا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت کے فیصلے اور احکامات قوانین و ضوابط کے فریم ورک میں نہ آتے ہوں جس کی وجہ سے ان پر عمل درآمد مشکل ہو رہا ہو۔ تیسری صورت یہ ہے کہ غلط یا صحیح کام وزیراعظم یا کابینہ کا حکم ہے لہٰذا اس پر عمل کرنا ہے۔ اس صورت میں انہیں آنے والے وقت میں اس کے مضمرات کو بھگتنا پڑے گا۔
ابھی منی بجٹ بھی آنے والا ہے۔ جس کے لئے عوام کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کو تیار کیا جارہا ہے۔مشکل یہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ ہر حال میں اپنی اتھارٹی منوانا چاہ رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک کا انتظامی نظام، پارلیمنٹ یا عوام ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ریاست کے طاقتور ادارے ان کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے کھڑے ہیں لہٰذا کسی اور کی پروہ نہیں۔ سب کو ٹھیک کرنا ہے، پھر وہ سیاتداں ہوں یا بیرورکریسی یا پھر عوام۔
Sohail Sangi Column Nai Baat Jan 15, 2019
No comments:
Post a Comment