Wednesday, January 30, 2019

عمران خان حکومت کے لئے مشکل وقت



میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
منی بجٹ میں تحریک انصاف کی حکومت نے قبول کرلیا ہے کہ بزنس انوائرمنٹ بہت منفی ہوا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بکھرا ہوا ہے ، جس کی بحالی کے لئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان اور ان کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگے گا۔ کیونکہ پانچ ماہ بعد ایک اور بجٹ آنے والا ہے۔ اور ہر دوتین مہینے بعد ایک ایس آر او یا بجٹ آرہا ہے،صرف ماہرین اسکو درست نہیں سمجھتے بلکہ عوام میں بھی حکومت کے بارے میں خراب تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ بجٹ پر بحث یقیننا سیاسی فضا میں گہما گہمی پیدا کرے گا۔ لیکن حکومت خواہ اپوزیشن اپنی سابقہ سیاسی حکمت عملی پر قائم رہیں گے ۔
حکومت مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے درمیان خیلج پر خوش ہیں، جس کا اظہار وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ تقریر بھی یہ کہہ کر کیا کہ’’ شہباز شریف نے جس طرح زرداری کو لاڑکانہ اور لاہور کی سڑکوں پرگھسیٹا، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ بظاہر وزیر خزانہ کا یہ بیان اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم اپوزیشن مشترکہ عمل کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے پارلیمانی گروپ کا پہلا اجلاس 28 جنوری ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں خاص طور پرمنی بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔اپوزیشن جماعتیں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتوں کے اختیارات جاری رکھنے کیلئے آئینی ترمیم کی توسیع پر مشترکہ موقف اختیار کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ۔ اگراپوزیشن فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی حمایت کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لئے مدت کا تعین ضروری ہو جائے گا۔ تاکہ کچھ وقت کے بعد فوجی عدالتوں کی کوئی ضرورت نہ رہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹربیونلزدو سال کیلئے متعارف کرائے گئے تھے ، بعد میں انہیں مزید دو سالوں کیلئے توسیع دے دی گئی۔ فوجی عدالتوں کے بارے میں دو آراء ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہئے جبکہ دوسری رائے اس کے مخالف ہے اور زور دیتی ہے کہ جب آپریشنز کے باعث دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی آئی ہے تو اب فوجی عدالتوں کے قیام کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔پیپلزپارٹی نے بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کردی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آئینی ترمیم کے خلاف پارٹی کی اعلان کردہ رائے سے آگاہ کردیا ہے۔
پیپلزپارٹی خاص طور پر سندھ میں جلسے منعقد کرکے مسلسل دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ان جلسوں میں تین نکات خصوصی طور پر زور دیا جارہا ہے۔ ۱) تحریک انصاف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید ۔۲) پی پی پی کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے سلسلے میں جے آئی ٹی رپورٹ۔اور پارٹی قیادت پر بنائے گئے مقدمات ۔۳) اٹھارہویں آئینی ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ۔سندھ میں پیپلزپارٹی کی اس مہم کو پزیرائی ملی ہے۔ پارٹی فروری میں مزید جارحانہ حکمت عملی کی طرف جارہی ہے۔ اس نے سندھ کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا ہے۔اس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دی جائے گی ۔
پیپلزپارٹی متحدہ اپوزیشن بنانے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔ اور وہ اب عوامی میدان کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائیم دینے کی تیاری کررہی ہے۔ پی پی پی نے حکومتی اتحاد ی جماعتوں سے بھی رابطے کئے ہیں۔پارٹی کہتی ہے کہ وہ ’’ ایوانوں، عدالتوں اور سڑکوں پر جنگ لڑے گی‘‘ پارٹی کے ایک اہم اجلاس میں یہ بھی کہاگیا کہ پارٹی کا سیاسی ٹارگیٹ عمران خان ہوں گے ۔پیپلزپارٹی کی اکتوبر میں قرارداد یش کرنے کی دھمکی اس حکمت عملی کا اشارہ تھی۔
پیپلزپارٹی کے جلسوں اور عوامی رابطوں کے توڑ کے طور پر تحریک انصاف کی جوابی سیاسی حکمت عملی کے تحت سندھ میں پی پی پی دباؤ ڈالنے کے لئے جی ڈی اے سمیت ایم کیو ایم میدان میں اتارا ہے ۔ایم کیو ایم شہری علاقوں میں اور جی ڈی اے دیہی علاقوں میں اجتماعات کریگی۔ اس ضمن میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کو سودمند قرا دیا جارہا ہے ۔ ایم کیو ایم پارٹی کے بند دفتر کھلوانا، لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کرانااور کراچی کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج لینا چاہتی ہے، ایم کیو ایم کا دعوا ہے کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرادی ہے۔اگروزیراعظم عمران خان اس یقین دہانی کی پاسداری کر لیتے ہیں تو ایم کیو ایم اپنا تنظیمی ڈھانچہ ایک بار پھر بحال کرلے گی اور وہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ وزیراعظم سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے حیدرآباد میں جلسہ عام کیا۔ اور یہ نوید سنائی کہ ایم کیو ایم کے لئے اچھا وقت آنے والا ہے ۔
گزشتہ ہفتے ایک نئی صورتحال بھی ابھر کر سامنے آئی کہ قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ گزشتہ سال جولائی میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کچھ اس طرح کے آئے کہ تبدیلی کے نعرے پر آنے والی جماعت کو حکومت سازی کے لئے بعض دیگر چھوٹی جماعتوں اور گروہوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا پڑا۔ اسی فارمولا کے تحت پنجاب اور بلوچستان میں بھی حکومتیں بنائی گئیں۔ مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی اورایم کیو ایم نے اپنے اپنے شرائط رکھے۔ اگرچہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم ہر ایک کے پاس اگرچہ نصف درجن نشستیں ہیں۔لیکن ان میں سے کوئی بھی جماعت اگر اپنی حمایت واپس لیتی ہے تو حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔ایم کیو ایم کی شرائط کی پاسداری کرنا تحریک انصاف کے لئے دو وجوہات کی بناء پر مشکل ہے۔ ایک یہ کہ یہ دونوں جماعتیں آنے والے وقت میں بھی کراچی میں ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہیں۔ ایم کیو ایم یہ بھی سمجھتی ہے کہ کراچی سے پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کے حصے کی نشستیں ملی ہیں۔ مستقبل میں بھی اگر تحریک انصاف ملک کے صنعتی و تجارتی حب میں اپنا حصہ بڑھاتی ہے تو ایم کیو ایم کا ہی حصہ کم ہوگا۔ لہٰذا ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے تعلقات نفرت اور پیار دونوں کا امتزاج ہیں۔ ایم کیو ایم کا بلدیاتی اداروں کو اختیرات دینے کا مطالبہ بھی نہ صرف سندھ حکومت سے متعلق ہے بلکہ اس سے سندھ حکومت کے اختیارات کم ہونگے۔ یعنی ایم کیو ایم تحریک انصاف سے وہ چیز مانگ رہی ہے جوپی ٹی آئی کے پاس ہے ہی نہیں۔ تحریک انصاف کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک چھوٹے سے اتحادی کے لئے سندھ حکومت سے بگاڑے جس سے گزشتہ جولائی کے بعد وجود آنے والا سیٹ اپ بیٹھ جائے۔ کارکنوں کو رلیف دینے یا دفاتر کھولنے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں کہ سیاسی حکومت اپنے طور پر کر لے۔ ایسا کرنے کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کی ذمہ د اری کون دے گا؟ جس لئے اتنے سارے آپریشنز اور اقدامات کئے گئے؟
بلوچستان نیشنل پارٹی کی شرائط میں پراسرار گمشدگیوں کامعاملہ اہم ہے۔ اس مطالبے کی پاسداری بلوچستان کی قوم پرستوں کو قومی سیاسی دھارے میں جوڑ سکتی ہے لیکن اس سے قوم پرست سیاست کا احیاء بھی ہوگا۔ اس شرط کے بارے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادتوں پر احتساب کے شکنجے کے دباؤ کے ساتھ سندھ میں ان ہاؤس تبدیلی کی بھی کوشش کی گئی۔ اس نے ملکی سیاست کو نئے رخ اور نئے اشارے دیئے۔ بی این پی اور ایم کیو ایم دنوں نے اتحاد کی شرائط یاد دلانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ قاف کو بھی اپنی شکایات یاد آئیں۔اس کا دعوا ہے کہ اسکو وعدے کے مطابق مرکز اور صوبے میں دو دو وزارتیں ملنی تھی۔بعض اور معاملات پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ قاف لیگ اور چوہدری برادران کے اختلافات بھی واضھ ہوئے۔
وزیراعظم سیاست کی ان جزئیات کو سلجھا نہ سکے۔ جس کا اظہار پارٹی کے اندرونی حلقوں میں کیا جارہا ہے۔ایسے میں پیپلزپارٹی کو تنگ گلی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے اکتوبر میں اپنی اعلان کردہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی حکمت عملی کو تازہ کر کے اس پر عمل کرنے کے لئے رابطے کئے۔ اسمبلی کے اس قرارداد کی خواہ قانونی حیثیت نہ ہو، مگر سیاسی اور اخلاقی اہمیت ضرور ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے اتحادی ایم کیو ایم اور قاف لیگ ذرا حکومت سے فاصلہ کرتی ہیں یا بلوچستان نیشنل پارٹی متحدہ اپوزیشن کی قرارداد کا حصہ بنتی ہے تو عمران خان حکومت کے لئے بھونچال جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اسلام آباد کے ایک تجزیہ نگار کے مطابق ممکن ہے کہ اس صورتحال میں تحریک انصاف کو اپنا پارلیمانی لیڈر تبدیل کرنا پڑے اور یہ قرع شاہ محمود قریشی کے نام نکلے ،شاہ محمود قریشی سافٹ سیاسی ہینڈلنگ کے لئے مشہور ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو عمران خان کے مقابلے میں زیادہ قابل قبول ہوسکتے ہیں۔یاد رہے کہ مخدوم صاحب سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ ’’دنگل‘‘ کے دوران خاموش تھے۔
Nai Baat - Sohail Sangi - PTI, ImranKhan-

No comments:

Post a Comment