Thursday, March 29, 2018

Sohail Sangi Columns on Bathak Dot com 2018

اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے اشارے
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-27-2018-161683

سندھی زبان کو لازمی مضمون قرار دیا جائے
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-20-2018-160845

واٹر پالیسی پر سندھ کے تحفظات
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-17-2018-160552
سینیٹ بلوچستان
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-16-2018-160377

سندھ کی تقسیم اردو آبادی کے مفاد میں نہیں
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-13-2018-159862

خواتین کا عالمی دن اور سندھ کی عورت
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-10-2018-159570

رضا ربانی بطور چئیرمین سینیٹ کیوں قبول نہیں؟
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-9-2018-159422
نواز لیگ نواز شریف کی ہی رہی
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-mar-2-2018-158458
سیاسی مسائل بدستور موجود ہیں

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-27-2018-158028
اغوا انڈسٹری پھر سرگرم
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-24-2018-157718
نواز شریف حکومت میں بھی اور اپوزیشن میں بھی
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-20-2018-157124
سندھ؛ نئی لیپر پالیسی 
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-17-2018-156807
لودھراں کے نتائج کے اثرات و اسباق
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-16-2018-156658
قومی اور صوبائی زبانوں کا بل
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-10-2018-155876
عدالتی نظام میں اصلاحات نیا سیاسی تحرک
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-9-2018-155730

وزیراعظم چیف جسٹس ملاقات: ملاقات ہوئی کیا بات ہوئی

March 29 
ملاقات ہوئی کیا بات ہوئی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات ہر حلقے میں موضوع بحث ہے۔ مختلف پیشگوئیاں، چمہ گوئیاں، تبصرے اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات غیر معمولی ہی ہوتی ہے۔ ریاست کے ان دو اہم ستونوں کا دونوں کا دائرہ کار و اختیار مختلف ہے۔ آج کے پاکستان کے حالات میں یہ ملاقات مزید غیر معمولی ہے۔ جب عدلیہ نے حکمران جماعت کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ کے عدہے سے ہٹا دیا۔ پارٹی کی سربراہی کا عہدے سے بھی نااہل قرار دے دیا۔ پارٹی کے پہلے وزیراعظم اور سربراہ نواز شریف کے خلاف عدالتوں میں مختلف الزامات کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں۔ قانونی ماہرین اس رائے کے ہیں کہ ان مقدمات میں سابق وزیراعظم سزا سے بچ نہیں سکتے۔ دوسری جانب اسٹبلشمنٹ پارٹی کو ان کی گرفت ک سے نکالنے کے لئے مختلف جتن بھی کئے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اب اسٹبلشمنٹ نے بعض سیاسی و غیر سیاسی اقدامات کے ذریعے حکمران جماعت خواہ حکومت کو بند گلی کی طرف دھکیل چکی ہے۔ لہٰذا ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ ملک ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ 
 یہ ملاقات وزیراعظم کی فرمائش پر ہوئی۔ اور پیغام رسانی اٹارنی جنرل کے ذریعے ہوئی۔ اگرچہ اس ملاقات کو سیاسی معاملات سے منسلک کیا جارہا ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل کے ذریعے پیغام رسانی سے لگتا ہے کہ اس قصے میں عدالتی اور قانونی معاملات بھی شامل ہیں۔ اگر صرف سیاسی ہوتے تو کوئی اور کے ذریعے رابطہ ہو سکتا تھا۔ یہ ملاقات دن دہاڑے سپریم کورٹ میں ہوئی۔ دو گھنٹے کی ملاقات جس کے بعد فوٹ سیشن بھی ہوا، اس کے بارے میں گئی گھنٹے تک کسی بھی فریق سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ رات کو تقریبا گیارہ بجے سپریم کورٹ کے ترجمان نے اس ملاقات کے بارے میں اعلامیہ جاری کیا۔ پورا دن ملاقات کا قصہ میڈیا اور اینکرپرسن کے حوالے تھا، جو ملاقات کی مختلف توضیحات اور تشریحات بیان کر رہے تھے۔ 
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پرسوں ہونے والی ملاقات سے کھویا کچھ نہیں،پایا ہی ہے۔
 اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کا خیال ہے کہ ملاقات کے لئے یہ وقت مناسب نہیں تھا۔ ان کے نزدیک نامنا سبت کی وجہ سابق وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف زیر سماعت مقدمات اور ملکی صورتحال ہے۔ نواز لیگ کے سخت لہجے اور زیادہ بات کرنے والے رہنما سعد رفیق کا موقف ہے کہ اداروں کے درمیان ڈائلاگ ہونا چاہئے۔ اور یہ کہ اس ملاقات کو غلط رنگ نہیں دینا چاہئے۔ 
تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی کھیپ اس ملاقات کو نواز شریف کی حکمت عملی اور بیانیہ کی ناکامی قرار دے رہی ہے۔ ان کی تشریح یہ ہے کہ سابق وزیراعظم ” اداروں کے ساتھ لڑائی“ کے موقف سے پیچھے ہٹے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کا موقف حاوی ہوا ہے کہ اداروں کے ساتھ لڑائی کر کے نہیں چلا جاسکتا۔ اس سوچ کی وکالت کرنے والوں کے مطابق نواز شریف کوئی رلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نواز شریف اور مریم نواز تھک گئے ہیں یا ڈر گئے ہیں۔ وہ کوئی ڈیل تلاش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک ہفتہ قبل نواز شریف کے اس بیان کا حوالہ دیا جارہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر ادارے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بعد میں چیف جسٹس نے ایک تقریب میں واضح کیا کہ ملک میں کوئی جڈیشل مارشل لاءنہیں آرہا ہے۔ ابھی ان بیانات پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تبصرے اور تجزیے چل رہے تھے کہ آرمی چیف سے منسوب بات سامنے آئی جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایک ہفتے تک میڈیا میں بحث چلتی ہے اس کے بعد آرمی کی میڈیا ونگ نے ترید کی کہ عسکری ادارے سے منسوب یہ بات درست نہیں۔ اب عسکری حلقوں سے منسوب ایک اور خبر چل رہی ہے کہ انتخابات وقت پر نہیں ہونگے۔ ممکن ہے کہ چند ہفتوں کے لئے ملتوی ہوں۔ یہ اشارہ ریٹائرڈ جنرل عبدلقادر بلوچ کے اس بیان سے بھی ملتا ہے۔ ان کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات ک کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ یوں تین اہم اداروں اور حکمران جماعت کے رہنماﺅں کی جانب سے جو بیانات آتے رہے، عام لوگ خواہ تجزیہ نگار ان بیانات کی روشنی میں ہی ملکی صورتحال کو پڑھتے رہے۔ 
 ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا سخت لہجے میں ذکر کیا۔ وزیراعظم کے الفاظ اتنے ہی سخت تھے جتنے اس موضوع پر ان کے قائد نواز شریف کے تھے۔ اس سے قبل حکمران جماعت کے رہنما چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن وزیراعظم نے پہلی مرتبہ اس الیکشن کو غلط قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر جو چائنا کٹنگ ہوئی ہے اس کا کسی طرح سے ازالہ کیا جائے۔ اور جو فاﺅل پلے ہوا ہے اسکو ٹھیک کیا جائے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات میں نواز شریف یا ان کی پارٹی کی کمزوری ڈھونڈنا درست نہیں لگ رہا۔ نواز شریف نے محاذ آرائی کا موقف بہت ہی سوچ بچار کے بعد اختیار کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کی پارٹی میں متعدد رہنما ان کے موقف پر خوش نہیں تھے۔ وہ مصلحت پسندی کی حکمت عملی کا مشورہ دے رہے تھے۔ لیکن نواز شریف نے مصلحت کی حکمت عملی کو ایک طرف رکھ کر اپنے موقف پر قائم رہے۔ اور تمام عرصہ اسی موقف پر کھڑے رہے۔ وقت کے ساتھ متبادل موقف رکھنے والے بھی نواز شریف کے ساتھ ہو گئے۔ نواز شریف کو اندازہ تھا کہ محاذ آرائی کے موقف کے نتیجے میں انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اور وہ سزا کے لئے تیار تھے۔ اور اب بھی اس موقف پر قائم ہیں۔ مختلف حلقوں سے نئے این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نہیں لگتا کہ نواز شریف این آر او چاہتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ملک کے مقتدرہ حلقے بھی این آر او نہیں چاہتے۔ 
 نواز شریف اور اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کا بھی یہ موقف بنا کہ اگر حکمران جماعت اور حکومت پر قانون اور آئین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ اور حدود تجاوز نہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، تو دوسرے ادارے اور افراد پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھائیں۔ کیا ان کی کارکردگی قابل ستائش ہے؟ اگر ایسا نہیں کیا جاتا، تو چاہے کوئی بھی فیصلے ہوں، لوگ اس وک دلی طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔ معاملہ صرف افراد کا نہیں اداروں کی ساکھ کا آ جائے گا۔ نواز شریف جانتے ہیں کہ احتساب عدالت انہیں سزا دے گی۔ ہر احتساب عدالت یہی کرتی ہے۔ لیکن بعد میں اپیل عدالت یا ہائی کورٹ اس فیصلے کو الٹ دیتی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کسی این آر او یا رلیف مانگ کر اپنی سیاسی موت کیوں چاہئے گا؟ وہ تو تمام کھیل ہی سیاسی طور پر زندہ رھنے کا کھیل رہے ہیں۔ انہیں ہائی کورٹ یا اپیل کورٹ سے رلیف ملنا ہی ملنا ہے۔ نواز شریف نے وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے بعد جو بیان دیا ہے اس میں اپنے پرانے موقف کا اعادہ کیا ہے جس کو محاذ آرائی کا موقف گردانا جاتا ہے۔ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی آج اس بات پر کھڑے ہیں کہ جس طرح سے سینیٹ میں چائنا کٹنگ کی گئی وہ اس کو نہیں مانتے اور آئندہ بھی کوئی ایسی کٹنگ اور انجنیئرنگ ہوئی اس کو بھی نہیں مانیں گے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ” درست ہے کہ ہم قانون اور آئین پر عمل کریں لیکن آپ بھی تو عمل کر کے دکھائیں۔“ ملکی سیاست اور قانونی نکات پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم چیف جسٹس کو یہی بتانے آئے تھے۔ اس بات سے ہٹ کر کوئی اور بات صورتحال میں فٹ ہی نہیں ہوتی۔ 

https://www.naibaat.pk/29-Mar-2018/11139

اب ملک میں آئینی نسخہ چلے گا۔



میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

طاہر القادری تو اب پارلیمانی سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے۔ خبر ہے کہ علامہ طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن واقعہ پر اقدام کے لئے احتجاجی سیاست کو خیرباد کہہ کر قانون کا راستہ اختیار کیا ہے۔ا س ضمن میں انہوں تمام بوجھ چیف جسٹس آف پاکستان پر ڈال دیا ہے کہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔ وہ شاید نواز شریف کی جانب سے عدلیہ کے بارے میں جارحانہ رویے کا فائدہ اٹھانا چاہ ر ہے ہے ہیں۔ ویسے بھی 17 اگتس کا لاہور شو کئی حوالوں سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ اول یہ کہ جلسے میں بندے کم آئے۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اس کو صرف علامہ کا ہی شو قرار دیا اور اس کو کامیاب کرانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ ان دونوں پارٹیوں نے علامہ سے یکجہتی کا اظہارتو کیا لیکن اپنا پورا وزن ان کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ مزید یہ کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے دور کھڑی رہی۔ عمران خان اور آصف علی زرداری کا طاہر القادری کے کنٹینر تک تو لے آئے لیکن دونوں کے درمیان تلخی ختم نہیں ہوسکی۔ 
پاکستان میں مختلف نسخے آزمائے جاتے رہے۔ لیکن کوئی بھی نسخہ کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ ایوب خان نے مارشل لاء ، بنیادی جمہوریتیں آزمائیں۔ جنرل ضیاء نے مارشل لاء اور غیرجماعتی انتخابات کا نسخہ استعمال کیا۔ مشرف نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک طرف رکھ کر تجربہ کیا۔ دلچسپ امر ہے کہ مارشل لاء لگانے والوں کی کیمیا گری میں بلدیاتی انتخابات بھی شامل تھے۔ ان تمام نسخوں میں عوام کی شرکت و شمولیت خال خال ہی رہی۔ جب جمہوریت آئی تو عوام کی سیاسی شرکت تو ہوئی لیکن آئین کی حکمرانی اور اچھی حکمران کا فقدان رہا۔ سیاسی جماعتیں وہ غیر ساسی قتوں کا آلہ کار رہیں۔ یوں ملک کو ایک سیاسی اور جمہوری نظام دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا حصہ رہیں۔ نتیجے میں عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ 
اب حالات چکھ اور عندیہ دے رہے ہیں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن نواز لیگ کی حکومت قائم ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ تبدیل ہوا لیکن اسمبلی قائم رکھی گئی۔ اور نیا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔مقتدرہ حلقوں نے ملک کو آئینی نسخے پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔یعنی جمہوریت کا تسلسل بھی جاری رکھا جائے اور منتخب نمائندوں اور ایوانوں پر بھی آئین اور قانون کی رٹ قائم کی جائے۔ فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور اور چیف جسٹس کے بیانات سے لگتا ہے کہ اب مقتدرہ حلقوں میں خاموشی ہے۔آرمی چیف سینیٹ میں گئے ۔چیف جسٹس کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور گڈ گورننس اور آئین کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل، شفاف احتساب، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ، کرپشن کا خاتمہ اب ایجنڈا پر ہیں۔
نواز شریف اگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو احتساب کے پنجے سے باہر نکل آئیں گے۔ ڈرایا جارہا ہے کہ اگر نواز شریف نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی تو وہ عدلیہ اور فوج پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔ اس ضمن میں ججز اور جرنیلوں کے احتساب کے معاملہ زیر بحث رہا ہے اور ابھی تک کہیں ایجنڈے پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اپنے بارے میں عوام میں موجود اپنا امیج بہتر بنانا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی حوالے سے سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ صرف نواز شریف اپنے حلقہ انتخاب سے رجوع نہیں کر رہے ہیں، بلکہ عدلیہ بھی اپنی صفوں کو بہتر بنانے کی طرف جارہی ہے۔ چیف جسٹس اآف پاکستان چیف جسٹس ثاقب نثار نے مقدمات کے جلد نمٹانے اور جلد انصاف دلانے کے لئے صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر متعلقین سے ا 15روز میں ٹھوس تجاویز مانگی ہیں۔ تیز رفتار اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے تنازعات کے حل کا متبادل طریقہ متعارف کرایا جارہا ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن جس کا اجلاس گزشتہ جمعرات کو ہوا، ایک ماہ کے اندر اس کا دورباہ اجلاس تھا۔ چیف جسٹس نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا ہے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر بننے والی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو تیز اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے متحرک کیا جارہا ہے۔ عدلیہ کے اندر خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ عدلیہ، حکومت اور پارلیمنٹ پر بھی عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے موجودہ قوانین میں ترامیم پر بھی زور دے گی۔ چیف جسٹس نے حال ہی میں ججوں اور وکلاء سے خطاب کا سلسلہ شروع کیا ہے انہوں نے حال ہی میں ججز کے قواعد کار میں نئی دفعات متعارف کرانے کی جانب بھی اشارہ کیا ۔



سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں نواز شریف کا عدلیہ کی طرف جارحانہ رویہ برقرار ہے بلکہ اس میں روز بروز تیزی آتی جارہی ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ’’ وہ ‘‘کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دو، میں پوچھتا ہوں پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے، وہ کس طرح اس قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ اگر مجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا تو پھر قوم خود نوٹس لے گی۔ جڑانوالا میں انہوں نے آئین کی شق 62ون ایف کی تشریح کے حوالے سے قائم سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر بے پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلی ایک دن کیلئے ہو یا عمر بھر کی عوام سے رشتہ کوئی نہیں توڑسکتا۔ تحریک عدل اب رکنے والی نہیں ۔اس تحریک سے سستا اور فوری انصاف یقینی بنائیں گے۔ یعنی عدلیہ کے بارے میں اصلاحات نواز شریف کے ایجنڈا پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرمجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا توقوم خودنوٹس لے گی ۔ اگلا الیکشن میری نااہلی کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔ نواز شریف نے عوام سے رجوع کرتے ہوئے انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔ ہم ایسا نیا پاکستان بنائیں گے جہاں لوگوں کو باعزت روز گار ملے گا، ر، توانائی کا بحران قصہ پارینہ بنے گا۔پاکستان کے ہر اس شخص کو اپنا گھر اور ذاتی چھت دیں گے ۔یہ وہ نعرہ ہے جس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے 70 ع کا الیکشن جیتا تھا۔ 


عدلیہ اور نواز شریف کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اب صورتحال کچھ اس طرح کی بن رہی ہے۔اب صف بندی اس طرح ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان قربت کے امکانات کم ہیں۔ نواز لیگ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی میں ہے اور پیپلزپارٹی کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ قربت۔ آرائی پر تلی ہوئی ہے ۔ عمران خان اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کے باوجود آصف علی زرداری کے ساتھ بھی کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ اس ضمن میں علامہ قادری کی کوششیں ثمر نہیں دے سکیں۔ تحریک انصاف سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے۔ ایسا ہی دھچکا علامہ قادری کو پہنچا کہ یہی اب سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سیاست نہیں ہوسکتی لہٰذ انہوں نے احتجاج کے بجائے قانونی راستے پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔۔ سب سے بڑھ کر تین چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ۱) اب ملک میں آئینی نسخہ چلے گا۔ ۲) سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ ۳) فوری انتخابات کے مطالبہ عملا ختم ہو گیا۔ کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ 
Sohail Sangi
Nai Baat Jan 30, 2018

رضا ربانی کیوں قبول نہیں؟


رضا ربانی بطور چہئرمین سینیٹ کیوں قبول نہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری جو دراصل پارٹی کے فیصلے خود کرتے ہیں ان کو رضا ربانی بطور چیرمین قبول نہیں۔زرداری صاھب کو فرحت اللہ بابر بی بطور پارٹی کے ترجمان اب قبول نہیں انہیں سینیٹ میں گزشتہ روز کی تقریر کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رضا ربانی اور زرداری صاحب کے درمیان اختلافات کی کہانی پرانی ہے۔ بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ پارٹی اجلاسوں اور جلسوں میں نہیں آتے تھے۔ میاں رضا ربانی نے و ¿مریکی صدر ٹرم پ کو ٹوئٹ کے کر کے جواب دیا تھا ۔ بلاول ہاﺅس سے وضاحت جاری کرنی پڑی تھی۔ لیکن اندرونی ذرائع بتاتے ہین کہ اور بھی کئی مواقع پر رضا رابنی کی لائن پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے مختلف رہی۔ وہ جمہوری اداروں اور جمہوری تسلسل کے حق میں رہے۔ یوں یہ اختلافات بڑھتے گئے۔ صورتحال یہ آکر بنی کہ زرداری نے رضا ربانی کو اس مرتبہ سینیٹ کا ٹکٹ بھی دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں سید خورشید شاہ اور بلاول بھٹو کی مداخلت پر انہیں پارٹی ٹکٹ دے دی گئی۔ رضا ربانی پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ ان کاترقی پسندی اور روشن خیالی کے نظریات سے تعلق ہے۔ ان کے کنٹری بیوشن میں اٹھارویں ترمیم کے علاوہ پاکستان میں مشرف دور کے بعد جمہوری عمل کو جاری رکھنے اور ڈی ریل نہ ہونے دینے میں بہت اہم رول ہے۔ وہ ہمیشہ صوبائی حقوق کے حامی رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کا یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ جہموری عمل جاری رہے گا، اتنے منتخب ایوان مضبوط ہونگے۔ 
سینیٹ کے انتخابات ملک کے ایک ایسے سیاسی کلچر کو سامنے لائے ہیں جس سے ندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں کیا ہونے جارہا ہے۔ اس بری طرح سے اور اس بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی کہ لوگوں کا اعتماد منتخب اداروں سے اٹھ جائے۔ 
یہ درست ہے کہ اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کا کاروبار صرف سینیٹ کے انتخابابت تک ہی محدود نہیں۔ یہ کاروبار حکومتیں بنانے اور پارٹی ٹکٹ دینے کے وقت بھہو ¿ی ہوتا ہے جب بااثر شخصیات اس شرط پر بڑی پارٹیوں میں شمولیت کری ہیں کہ انہیں وزیر یا مشیر بنایا جائے گا۔ یہ سودے بازی الیکشن سے پہلے کی ہے۔ بعد میں یہ سودے بازی اور کاروبار کسی ایک پارٹی کے اکثریت حاصل نہ کرنے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ ان دو صورتوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ بہر حال ہارس ٹریڈنگ اپکستان کی ہر الیکشن کا خاصہ ہے۔ 
اب ووٹ کے بیچنے کا کام کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ جب اسمبلی اراکین بک رہے ہوں تو کرپشن کے خلاف واویلا فضول سی بات لگتیہے۔ وہ لوگ جو حکومت اور ریاست میں اختیار رکھتے ہیں۔ چاہے کوئی بھی پارٹی ووٹ خرید کرے اس رقم کی ادائیگی بلاآخر عوام سے ہونی ہے۔ کوئی شخص ی پارٹی ذاتی طور پر اتنے پیسے کیوں خرچ کرے گی۔ یعنی رقومات اور عہدے پر کشش بن جانتے ہیں کہ اس چمک کی کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں ایم پی ایز کی قیمت اس وجہ سے بھی بڑھی کہ عام انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں اور اراکین اسمبلی کو یقین نہیں کہ وہ کہ نئے ا انتخابات میں جیت بھی پائیں گے یا نہیں؟ دوسری وجہ سینیٹ کے چیئرمین کا عدہ ہے۔ یہ عہدہ ملک کے حالیہ بحران کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر حکمران جماعت کسی طور پر یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آئندہ وقت میں اس کو بعض اہم قوانین اور آئینی ترامیم منظور کرانے میں سہولت ہوگی۔ اگر عام حالات ہوتے تو اس طرح ایم پی ایز کی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ نہ ہوتا۔ 

ملک کی دو بڑی پارٹیوں نے جو امیدوار نامزدکئے ہیں اس سے ان کی طرز حکمرانی اور ویزن کا پتہ چلتا ہے ۔ سیاسی رہنماﺅں کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ کسی اور شعبے کے مقابلے میں ان کی صفوں میں کرپشن زیادہ ہے۔ اس میں یہ بات مزید اضافہ کردیتی ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس صورتحال میں چاہے نعرے کچھ بھی لگائیں۔ لیکن عملا اس سے سیاسیدانوںہاتھوں ہی سویلین حکمرانی اور جمہوریت کا بیانیہ کمزور ہوتا ہے۔ 
پیپلزپارٹی ملک کی بڑی نظریاتی اور جمہوری پارٹی ہونے کا دعوا کرتی ہے۔ اس میں اب صورتحال یہ بن رہی ہے کہ اصول پسند اور نظریاتی لوگ اقلیت میں تبدیل ہو چکے ہیں اکثریت ان لوگوں کی سامنے آرہی ہے جو کاروباری ہیں ۔ جن کا پارٹی کے نظریے، اصول پسندی ، جمہوری اداروں اور جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مفادات کے پیش نظر قتدار کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور بزینس کمپنیوں میں کوئی فرق نہیں نظر آرہا۔ پیپلزپارٹی تھر کی دلت لڑکی کرشنا کولہی کو سینیٹ کی ٹکٹ دے کر ملک خواہ عالمی میڈیا یں واہ واہ تو وصول کرنا چاہتی ہے لیکن رضارابنی کو چیئرمین سینیٹ بنا کر ملکی اداے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا نہیں چاہتی۔ کرشنا کولہی کو سینیٹ کی تخٹ دینا اچھا لگتا ہے لیک وہ اس ایوان میں کیا رول دا کرے گی اس کا اندازہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ ہاں یہ بھی عجیب بات ہے کہ کرشنا کے قبیلے خواہ اس طرح کے دیگر پچھڑے ہوئے طبقات کے نجی جیلوں میں بند کرنے والے بھی اس پارٹی میں بیٹھے ہیں۔ 
 گزشتہ مرتبہ راضا رابنی کو چیئرمین بنانے کی تجویز عوامی نشنل پارٹی نے دی تھی۔ لیکن تب حالات مختلف تھے پیپلزپارٹی نے اتحادی ہونے کے ناطے ان کی یہ تجویز قبول بھی کر لی تھی۔ اس مرتبہ چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے یعنی حاصل بزنجو، ڈاکٹر عبدالملاک، اے این پی، محمود خان اچکزئی نے بھی یہ تجویز دی ہے کہ رضا ربانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کیا جائے۔ یہ تجویز صرف نواز شریف کی نہیں۔ 
 اس تمام منظر میں دو چیزیں ابھر کر سمنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ دن بدن مضبوط آواز کمزور کی جارہی ہے اور اور کو مزید پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ کہ دوسرا یہ آنے والے وقتوں میں سنینٹ کمزور ہو۔ اور اس کی وہ حیثیت ہو جو ضیا اور مشرف کے زمانے میں تھے۔ یعنی سینیٹ کا ہ کردار نہ رہے جو وہ صرف اس ایوان کو ہی نہیں بلکہ قومی سمبلی کو بھی مظبوط کر رہا تھا۔

ایم کیو ایم اور سینٹ

ایم کیو ایم اور سینٹ 
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سینیٹ اور چیئرمین سنیٹ کے انتخابات نے ایم کیو ایم کے اندر گروہ بندی کو کھول کے رکھ دیا ہے۔ یہ اختلافات پارٹی کے اندر برسہا ابرس تک چل رہے تھے۔ اور نصف درجن کے قریب رجحانات ابھرتے رہے، جنہیں کبھی دشتگردی کے ذریعے تو کبھی کسی اور طریقے سے روکا جاتار ہا۔ ان اختلافات کو مختلف مقتدرہ حلقے استعمال بھی کرتے رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ایم کیو ایم ٹکڑوں تقسیم ہوتی رہی ہے۔ پرویز مشرف دور اس کی دہشتگردی اور اقتدار میں عروج تھا۔ وہ ملک کی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کو سیاست اور اقتدار سے باہر رکھنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایم کیو ایم کی مدد کی ضرورت پڑی، اور ایم کیو ایم کو سرکاری سرپرستی کی ضرورت تھی۔ وہ اسکو مل گئی۔ اس کے بعد متعدد حقائق کی وجہ سے یہ بحران کا شکار ہو گئی۔ یوں یہ جماعت اپنے منطقی انجام کی طرف جانے لگی۔ اس کی وجہ ایم کیو ایم کے بانی کی تقریر ہی نہیں تھی۔ بلکہ کئی اور بھی وجوہات بھی تھیں۔ ا گر ملکی سیاست کو دو منٹ کے لئے ایک طرف رکھ کر صرف کراچی یا سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والوں کی طبقاتی مفادات اور صف بندی کو دیکھا جائے تو معروضی صورتحال سمجھ میں آسکتی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ اردو بولنے والے بالائی طبقے یا درمانیہ بالائی طبقے کو ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کی اب ضرورت نہیں رہی، اس نے بعض دیگر پارٹیوں میں جگہ بنا لی ہے جس میں تحریک انصاف کا ابھرنا ایک اہم عنصر کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود کراچی کی ڈیموگرافی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ یہاں پر صوبے کے اندرونی علاقوں ، اور پختونخوا خواہ دیگر شمالی علاقہ جات سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا کہ اردو بولنے والوں کے بالائی طبقے اور درمیانہ بالائی طبقے نے گزشتہ برسوں میں نئے گروپ پیدا کر لئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم اب ان دو طبقوں کے مفادات کو مکمل طور پر پورا نہیں کر رہی تھی۔ یہ درست ہے کہ سیاست پر کنٹرول ان دو طبقوں یعنی بالائی اور درمیانہ بالائی طبقات کا ہوتا ہے۔ لیکن اکثیرت میں عام لوگ اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ نچلے اور درمیانے طبقے کا کیا ہوگا؟ ایم کیو ایم کے اندر پیدا ہونے والے مختلف دھڑے ذات کے ٹکراﺅ یاور دیگر تنظیمی معاملات کی وجہ سے ہونگے لیکن یہ تمام دھڑے کسی نہ کسی طبقے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں ۔ اور کسی نہ کسی طبقے کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
 قیام پاکستان سے لیکر ساٹھ کی دہائی کے آخر تک کراچی شہر میں بائیں بازو کی سیاست حاوی رہی۔ یہ ضرور ہوا کہ مذہبی جماعتیں مذہب کے ساتھ ساتھ مہاجر سیاست کرتی رہیں۔ کراچی کا مسئلہ اس وجہ سے بھی شدت اختیار کر گیا کہ یہ شہر صنعتی اور بندرگاہ والا شہر ہی نہیں تھا۔ بلکہ اس شہر میں بھارت سے آکر بسنے والوں کی بڑی تعداد تھی، ، جنہیں نے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی تھی۔ لہٰذا یہ شہر اہم بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو صوبہ سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کا دارلحکومت بنادیا گیا۔ آگے چل کر ایوب خان کے زمانے میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ لیکن ون یونٹ کی وجہ سے کراچی کی حیثیت وفاقی علاقے کی ہی رہی۔ کراچی میں بسنے والی اردو آبادی انتظامی اور عملی اور ذہنی طور پر سندھ کی شہری کے بجائے خود کو ”پاکستان“ کا سمجھنے لگی۔ اس ضمن میں وفاقی خواہ صوبائی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے کہ لوگوں میں کیا سوچ پیدا ہو رہی ہے۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد صوبے بحال ہوئے تو کراچی سندھ صوبے کو واپس ملا اور اس کا دارلحکومت بن گیا۔ اردو آبادی اس حقیقت کو جو کہ پہلے بھی تھی لیکن اجاگر نہیں ہوسکی تھی، قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اردو آبادی ملازمتوں اور اقتدار میں بیوروکریسی کے ذریعے پنجاب کے ساتھ شراکت دار تھی۔ لیکن اب سکو یہ شراکت سندھی آبادی کے ساتھ کرنا پڑ رہی تھی۔ یہاں سے مہاجر نفسیات کا سندھی آبادی کے ساتھ تضاد شروع ہوا۔ ون یونٹ کے بعد پیپلزپارٹی پہلی پارٹی تھی جو انتخابات کے ذریعے سندھ میں برساقتدار آئی۔ اس نے سندھی آبادی کے لئے جو اقدامات کئے وہ اقدامات کوئی اور پارٹی ہوتی تو بھی کرتی۔ لیکن اس پارٹی کو مہاجر نفسیات نے سندھ کی حامی او ر مہاجروں کی مخالف سوچ کے طور پر لیا۔ یوں معاملہ الجھتا گیا۔ 70کے انتخابات میں اگرچہ جماعت اسلامی، اور جے یو پی (نورانی) نے کراچی میں نشستیں حاصل کیں۔ لیکن ان کی سیاست کی بنیاد مہاجر نفسیات کی بنیاد پر تھی۔ یہ جماعتیں مہاجروں کو ”کھویا ہوا مقام“ یعنی جو انہیں قیام پاکستان سے لیکر ساٹھ کے عشرے کے آخر تک حاصل تھا۔نہیں دلا سکیں تو ایم کیو ایم وجود میں آئی اور خالصتا مہاجر نعرے پر سیاست کرنے لگی۔ 
 یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی تنظیمی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران یہ بھی بتاتا ہے کہ اردو بولنے والے نفسیاتی اور سیاسی الجھاوﺅں کا شکار ہیں ۔ وہاس تمام بحرانی صورتحال میں کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ پا رہے ہیں۔ وہ گزشتہ تین عشروں کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست انہیں عدم سلامتی کے بلاجواز خوف میں مبتلا رکھتی رہی۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط طور پر اذاتی یا گروہی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا۔ ایک طرف انہیں اس خوف میں مبتلا کیا گیا دوسری طرف یہ بھی باور کرایا گیا کہ حکومت، اقتدار، ریاست تک رسائی کے لئے ایم کیو ایم واح دذریعہ ہے۔ اگر وہ نہیں رہتی تو اقتدار سے ان کا تعلق اور رشتہ کٹ جائے گا۔ لیکن عملا یہ بھی ہوا کہ ایم کیو ایم کی سیاست نے انہیں ملک بھر میں تنہا کر دیا۔ پھر ایم کیو ایم کے اندر جو بحران ہوئے انہوں نے اردو آبادی کو مزید سیاسی اور تنظیمی الجھنوں میں ڈال دیا۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سندھ بھی اس تبدیل شدہ صورتحال میں اپنے رویے تبدیل کرے۔ سندھ کی سیاست میں مہاجر نفسیات اور اس کی بنیاد پر مہاجر سیاست قیام پاکستان کے فوری بعد شروع ہو گئی تھی۔ لیکن اس کی صورت مختلف تھی۔ شاید اس کی بدترین شکل 1985 کے بعد قائم ہونے والی ایم کیو ایم بنی۔ 
 غیر جاندارانہ اور جمہوری سوچ کے نقط نظر سے سوچا جائےایم کیو ایم کی سیاست نے ملک کی جمہوری جدوجہد کو نقصان پہنچایا وہاں سندھ کو بھی۔ بلکہ اس سیاست نے خود مہاجروں کو بھی نقصان پہنچایا۔اعدا وشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین عشروں کے دوران اس تنظیم نے سب سے زیادہ مہاجروں کو ہی مارا ہے۔ ایم کیو ایم نے تین دہائیوں تک اقتدار کے مزے لئے۔ کراچی میں دہشت کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ رکھا لیکن دیکھا جائے تو دیکھا جائے تو اس سیاست نے اردو بولنے والوں کی کئی نسلوں کو ایسی ضرب کاری لگائی ، جس سے نکلنے اور اس کی تلافی کے لئے اس مدت سے زیادہ ہی عرصة چاہئے۔ اس کے نچلے اور درمیانہ طبقے کے ہاتھوں سے کتابیں چھن گئیں ، اس کی جگہ پر بندقو ں آگئی اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ” صرف خود کو ہی اعلیٰ اور طاقت ہیں“ سمجھنے والی نفسیات میں مبتلا رہی۔ اس کے نوجوانوں کا رخ علم، ادب، انسانی تعمیر کے علم اور ہنروں کے بجائے جرائم دہشتگردی کی طرف ہو گیا۔ یہ منفی امیج مزید اردو بولنے والوں کو پیچھے لے گیا۔ اس سوچ، نفسیات اور سیاست نے اردو بولنے والی آبادی کو تنہائی کا شکار کر دیا۔ ریاستی اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی سیاسی اور نفسیات کے حوالے سے صورتحال بہتر نہیں۔ نچلے اور درمیانی طبقے کی تنہائی کا یہ احساس حقیقت پسندی کی طرف ایک مثبت رخ میں بھی سفر کر سکتا ہے تاہم یہ خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کوئی اور بھی بدترین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سوال صرف اردو بولنے والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ سندھ اور ملک بھر کے دنشوروں کے لئے ہے۔ بھارت سے آکر یہاں بسنے والوں بہرحال اب سندھ کی سندھ کی مستقل آبادی ہیں۔ لہٰذا ان کے مسائل کو اسی انداز میں سمجھنا پڑے گا۔ اور اس کا حل ڈھونڈنا پڑے گا۔ عارضی یا وقتی طور پر خواہ کچھ بھی ہو ان کے طویل مدت کے مفاد سندھ کے مجموعی مفادات کے ساتھ نتھی ہیں۔ حالیہ تضادات ملک کے کسی خاص طبقے خاص طور پر حکمران طبقے کے مفادات کو پورا کر سکتے ہیں لیکن آنے والی نسلوں کے مفادات سے قطعی طور پر ہم آہنگ نہیں۔ لہٰذا یہ مفادات جہاں اردو آبادی کے حق میں نہیں اسی طرح سے سندھی آبادی کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ اردو آبادی کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے مفادات سندھ کی تقسیم یا اس طرح کے کسی فارمولے میں پنہاں نہیں۔ اس طرح کی نفسیات اور سیاست ان کو مزید تنہائی کی دلدل میں جھونک دے گی۔ 

سینیٹ اور بلوچستان - طویل مدت کی نگراں حکومت

سینیٹ بلوچستان 
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سینیٹ الیکشن نوشتہ دیوار ہے، نوشتہ دیوار بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی بھی لیکن اسے بہت کم لوگوں نے پڑھا۔ تجزیہ نگار اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا ایوان بالا جو ملک میں جمہوری عمل اور نظام کو مضبوط کر رہا تھا وہ اسٹبلشمنٹ کے ماتحت ہو گیا ہے۔ بالفاظ دیگرے اس ایوان کی وہی صورتحال جا کر بنی ہے جو جونیجو دور کے ایوان کی تھی۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، یہ نواز شریف کے امکانی طور پر سیاسی بحالی کو روکنے کا عمل بھی بن رہا ہے۔ اگر سینٹ میں اپنا چیئرمین منتخب کر کے نواز لیگ اکثریت ثابت کر لیتی تو بلاشبہ نواز لیگ نہ صرف عوام میں بلکہ ایوان میں بھی سہولت ہوتی اور ان کا بیانیہ ایک اہم ادارے میں مضبوط ہوتا۔ نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان اس مقابلے باقی میں چھوٹے چھوٹے گروپ اہم بن گئے۔ لہٰذا ضیا نے غیر جماعتی انتخابات کرائے اور ابھی سینیٹ کے انتخابات غیر جماعتی ہوگئے۔
سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں اچانک بلوچستان اہمیت اختیار کر گیا۔ اور اس کے ساتھ بلوچستان ، پختونخوا اور فاٹا بھی شامل ہوگئے ۔ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ ماضی میں بھی اسٹبلشمنٹ پارلیمنٹ کے اندر توازن اپنے حق میں رکھنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ بلوچستان کو بھی استعمال کیا گیا۔ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی بحران چل رہا ہے ، جس کے لئے مخلتف نسخے ہائے بھی استعمال ہوتے رہے۔ یعنی جام آف لسبیلہ سے لیکر نواب اکبر بگٹی تک اور بلوچستان کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والے رہنماﺅں تک مختلف فارمولے آزمائے گئے۔ پہلے یہ ہوتا رہا کہ وہاں کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو مقوعہ نہیں دیا جاتا رہا ۔اس مرتبہ حد یہ ہوئی کہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں کواپنی مرضی پر نہیں چھوڑا گیا۔ یہ تاثر ابھرا کہ یہاں کے منتخب نمائندے چمک یا پھر دھمک ( ڈنڈے) کے ماتحت ہیں۔ بظاہر بھلے یہ نظر آئے کہ بلوچستان اہمیت حاصل کر گیا ہے، سنجرانی صاحب کو چیئرمین سینیٹ بنا کر بلوچستان کواقتدار میں حصہ دار بنانے کی کوشش ہوری ہے۔ لیکن ماضی اس سے زیادہ موثر تجربات بھی بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکے ہیں۔
 ایک صورتحال یہ بھی ہے کہ عمران خان، اور مذہبی بیانیے کو مضبوط کرنے کے باوجودنواز شریف کو جب پنجاب سے نہیں نکالا جاسکا تو حکمت عملی تبدیل کردی گئی۔ پنجاب نواز لیگ کی مضبوط پچ ہے۔ اب حکمران جماعت کو ایک ایسی پچ کی طرف دھکیلا گیا جو کمزور تھی۔ وہ تھی چھوٹے صوبے اور چھوٹے گروپ۔ لہٰذا نواز لیگ کو قومی اسمبلی کے بجائے صوبوں کے نمائندہ ایوان یعنی سینیٹ میں اکیلا کیا گیا اور شکست دی گئی۔ کیونکہ نوا لیگ نے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ چھوٹے صوبوں اور چھوٹے گروپوں کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے ہارا ہے۔ کل جب نواز لیگ حکومت پر کوئی چارج شیٹ بنے گی تو یہ نقطہ بھی اس میں اہم ہوگا کہ تین صوبوں اور فاتا نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہوا ہے۔ نواز شریف اور ان کی پارٹی کا یہ نعرہ ہے کہ سویلین بلادستی اور جمہوری نظام کاتسلسل رہے۔ یعنی اسٹبلشمنٹ بمقابہ نواز شریف یا جمہوریت ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال پنجاب بمقابلہ چھوٹے صوبے ہیں۔ اس سوچ کو نواز لیگ نے کسی بھی مرحلے پر نہ چیک کیا نہ ایڈریس کیا۔ یہاں تک کہ چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرتے وقت بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ راجا ظفرالحق کو میدان میں لایا گیا۔ راجا صاحب ضیا دور کے اوپننگ کھلاڑی کہلاتے تھے۔ لیکن آج نہ وہ دور ہے کہ وہ صورتحال۔ آج تو صوبوں کے سیاسی مضہر کو ایڈریس کرنا اہم ہو گیا تھا۔ جب صوبوں کی پچ پر کھیل چل رہا تھا ایسے میں راجا صاحب کے بجائے حاصل بزنجو سیاسی طور پر بہتر امیدوار ہو سکتے تھے۔ یقیننا حاصل بزنجو سینیٹ کا الیکشن جیت نہیں سکتے تھے لیکن اس کا سیاسی فائدہ یقیننا ہوتا۔ راجا صاحب کی فراست، تجربہ اپنی جگہ پر، لیکن یہ نامزدگی موجودہ صورتحال میں میچ نہیں کر رہی تھی۔
جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءکے بعد جب انتخابات کرائے تو وہ غیر جماعتی تھے۔ لیکن بعد میں مسلم لیگ کو فعال کر کے محمد خان جونیجو کی قیادت میں ایوان کو سیاسی بنایاگیا۔ 
ایک طرف چھوٹ صوبے بمقابلہ پنجاب ہو رہے ہیں دوسری طرف جمہوریت کے حامیوں اور مخالفین کو آ منے سامنے لایا جارہا ہے۔ یعنی بیچ کا کوئی راستہ نہیں۔ جب بیچ کا کوئی راستہ نہیں تو معتدل سیاست کرنے والوں کا کوئی کردار ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اور موجودہ محاذ آرائی تصادم کی طرف جانے لگتی ہے۔ 
 اس طرح کی صورتحال کا ایک نقشہ مخدوم جاوید ہاشمی نے گزشتہ روز کھینچا ہے۔سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے موقع پر بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور انکشاف کیا تھا کہ پارلیمنٹ کی مدت کم کرنے یعنی قومی اسمبلی کو توڑنے کے لئے تمام تیاریاں کی گئی ہیں ۔ تب وہ تحریک انصاف میں ہی تھے۔ اب انہوں نے مزید کچھ پی پیشگوئی کی ہے کہ نگران حکومت پر وزیراعظم اور اپوزیشن متفق نہیں ہو سکیں گے ۔معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا ۔ بالآخر سپریم کورٹ نگران حکومت بنائے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نگران حکومت انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرے گی۔اگر ایسا ہوا تو پھر اندھیرا ہے اجالا نہیں۔نواز شریف اور ایم کیو ایم کی باری آچکی۔ اب اگلا ہدف زرداری اور عمران خان ہوں گے۔نگران حکومت بننے کے بعد عمران خان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ جاوید ہاشمی ملک کے سینیئر سیاستداں ہیں۔ انہوں نے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں۔ ان کی اس پیشگوئی کا عکس نواز شریف کی بدھ کے روز کی تقریر سے بھی ملتا ہے کہ جس میں انہوں نے وقت پر انتخابات کے انعقاد پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ نواز شریف کے پاﺅں نکالنے کے لئے اب ایک ہی نسخہ رہ گیا ہے وہ یہ کہ ہر حال میں نواز شریف کو آﺅٹ یا پھر نواز شریف اور مرین نواز کو بند میں رکھا جائے۔ اور وقت پر انتخابات نہ کرائے جائیں۔ جس کا اشارہ جاوید ہاشمی نے دیا ہے۔ طویل مدت کی نگراں حکومت اور نواز شریف اور مریم نواز کی منظر پر عدم موجودگی میں نواز لیگ اپنا ٹیمپو اور حکمت عملی شاید ہی برقرار رکھ 

نواز شریف حکومت میں اور اپوزیشن میں بھی

نواز شریف کے ہاتھوں میں دونوں کارڈ 
 نواز شریف حکومت میں اور اپوزیشن میں بھی
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
وقت بدل گیا ہے۔ آج کا نواز شریف کہتا ہے کہ جنہوں نے مجھے نااہل قراردیا ہے ان سے 2018ءمیں بدلہ لینا ہے،عام انتخابات میں امپائر کی انگلی والوں کے ڈبے خالی نکلیں گے۔ یہ منظورنہیں کہ 22کروڑعوام ایک شخص کووزیراعظم منتخب کریں اور چندلوگ ا سے گھربھیج دیں۔ 1999 والا نواز شریف ڈیل کرکے سعودی عرب چلا گیا تھا۔آج وہ جیل جانے کے لئے تیار ہے۔ ان کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ” یہ اکیلے نوازشریف کا مقدمہ نہیں،ہر اس وزیراعظم کا مقدمہ ہے جو 5سال مکمل نہ کرسکا۔میں پوچھتی ہوں کہ 20سال سے مائنس نوازشریف فارمولے پر کام کررہے ہوتمہیں کیا ملا؟“ 
اب پاکستان میں جمہوری عمل کو دس سال ہونے کو ہیں ۔آئین و قانون کی بالادستی واضح طور پر قائم ہوتی معلوم دے رہی ہے۔ اس دوران یہ ضرور ہوا کہ گزشتہ دور میں عدالتوں کے ذریعہ سید یوسف رضا گیلانی کو حالیہ دور میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے ہٹایا گیا۔ لیکن اسمبلیاں برقرار رہیں۔ اس عرصے میں کوئی مارشل لا نہیں لگا۔ لگتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں غیر سیاسی قوتوں کی براہ راست اور کھلے بندوں مداخلت اب نہیں چل سکتی۔ اب آئینی طریقے سے ہی معاملات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یعنی یہ بیانیہ مقبول ہو گیا کہ بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے۔ اب یہ امر یقینی ہو گیا ہے کہ تیسری مرتبہ عام انتخابات ہونگے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کرشمے سے کم نہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اس عرصے میں ایک اور نمایاں چیز یہ بھی سامنے آئی کہ عوام میں عدلیہ اور غیر سیاسی اداروں پر اعتماد میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ اب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی یہ کہنے کی جرئت ہو رہی کہ ” میری نااہلی کا فیصلہ پارلیمنٹ کے خلاف تھا۔ “ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق موجودہ صورتحال سے خوش نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں موجود سیاسی نظام فیل ہوچکا ،ملک کو انقلابی لیڈر کی ضرورت ہے۔ وہ اس لئے ایسا کہہ رہے ہیں کہ 2008 کے الیکشن کے بعد جو نظام بحال ہوا ہے اس میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔پیپلزپارٹی یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں مزاحمتی کردار ادا نہ کرسکی۔ اگر تب وہ مزاحمتی رول ادا کرتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔بہرحال پیپلزپارٹی نے مصلحت پسندی سے کام لیا۔ 
بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ بھی اہم ہے کہ ایک بھاری مینڈیٹ والے اور ایک انتہائی مضبوط وزیراعظم کو جج صاحبان نے کر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ دے دیا۔اب وہ وزیراعظم عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں ۔اس طرح کی رائے رکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ کڑے احتساب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی رائے سے اختلاف بھی کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ چند مثالیں یقیننا قائم ہو رہی ہیں کہ احتساب بھی ہو سکتا ہے اور یہ کہ وزیراعظم عدالتوں کا بھی سامنا کر سکتے ہیں۔ 
 ملکی صورتحال کچھ اس طرح سے بنی ہے کہ پیپلزپارٹی یہ آس لگائے بیٹھی ہے کہ اسٹبلشمنٹ نواز شریف سے ناراض ہے، عدلیہ بھی اس کے حق میں نہیں ایسے میںمعلق پارلیمنٹ آئے گی، اور اس کسی طرح سے حکمرانی اس کے حصے میں آئے گی۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوا تو کسی طرح سے سندھ والا حصہ وہ بلاشرکت غیرے اپنے نام کروا لے۔ یہ درست ہے کہ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ الیکشن کے نتائج ایک بنے بنائے نقشے کے مطابق حاصل کر لئے جاتے تھے۔ یحیٰ خان کے انتخابات ہوں یا اس کے بعد 80 اور 90 کے عشروں میں منعقدہ انتخابات ،تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے گئے تھے۔لیکن آج کے بدلے حالات میں جس طرح سے مارشل لاءلگانا یا آئین سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنانا مشکل ہو گیا ہے اسی طرح مطلوبہ نتائج لانے بھی ممکن نہیں رہا۔ 
عمران خان نے طویل اور خطرناک حد تک چال چلی۔ انہوں نے جس طرح سے ہیوی منیڈیٹ رکھنے والے حکمران کو للکارا، اس کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ اور بعد میں یہ احتساب شروع بھی ہوا۔ جس کے مقدمے زیرسماعت ہیں۔ یہ سب کچھ نیا تھا۔ اور عام لوگوں کو بلکہ بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں کو بھی بہت پرکشش لگتا رہا۔ لیکن آگے چل کرعمران خان کی حکمت عملی پٹ گئی۔ وہ انتخابات میں دھاندلی یا بعد میں پاناما لیکس میں ایک ہی مطالبہ لئے ہوئے تھے کہ نواز شریف کو ہٹاﺅ۔ انگلی اٹھنے والی بات تو نہیں ہوئی،۔ چلیں جی، عدالتی فیصلے سے نواز شریف ہٹ گیا۔ اب کیا ہے۔ وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نواز شریف نے جو موقف اختیار کیا اور جو حکمت عملی بنائی، اس کے نتیجے میں عمران خان کے اقتدار کی طرف جانے کے راستے مسدود ہو گئے۔ وہ اس لئے بھی مسدود ہوئے کہ عمران کان صرف نواز شریف کے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کوئی متبادل پروگرام یا نظام نہیں دے رہے تھے۔ کوئی واضح شکل میں مشور نہیں دیا۔ بلکہ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا جو سبز چراگاہوں میں چرنے کے ماہر تھے۔ 
 جب عمران خان وزیراعظم نواز شریف کو للکارتے تھے تو وہ بہادر لگتے تھے۔عوام کو بھاتے تھے۔ اب اگر وہ ایسے نواز شریف کو چیلینج کر رہے ہیں جو خود ”مظلوم “ہے۔ جن پر مقدمات بھی چل رہے ہیں ، مختلف تحقیقات بھی ہو رہی ہے۔ عمران خان کے مقابلے میں نواز شریف نے جو حکمت عملی بنائی۔ بدلے ہوئے حالات سے مطابقت رکھتی تھی۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو چیلینج کیا، اور وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنے کے لئے اسے ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ پر بھی تنقید کی۔ اگر کوئی دوسرا لیڈر ایسی تنقید کرتا تو جیل میں سزا کاٹ رہا ہوتا۔ وہ ایک نڈر لیڈر کے طور پر ابھڑے۔ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے عوام کا مخصوص مزاج ہے۔وہ یہ کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کو چیللینج کرنا اور بہادری کے ساتھ کھڑے ہونے والے لیڈر کا وہ ساتھ دیتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہیں لیکن حکمرانی نواز شریف کی ہی چل رہی ہے۔ نواز شریف بیک وقت اپوزیشن اور حکمران کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ وفاقی خواہ پنجاب میں صوبائی حکومت رکھتے ہوئے حکمران جماعت کے تمام لوازمات اور مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اپوزیشن اور حکمران دونوں کردار اتنے خوبصورتی سے ادا کر رہے ہیں کہ اصل اپوزیشن عمران خان ہوں یا پیپلزپارٹی ، اپوزیشن کے میدان سے باہر ہیں۔نواز شریف حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ 









نواز لیگ نواز شریف کی ہی رہی

March 1, 2018
نواز لیگ نواز شریف کی ہی رہی
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مسلم لیگ ن ایک بار پھر پ بحران سے نکل آئی۔ نواز شریف کو پارٹی عہدے پر نااہلی سے متعلق عدلیہ کا فیصلہ عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھائی کو جگہ تو دی لیکن وہ بدستور پارٹی کے قائد رہیں گے لہٰذا یہ پارٹی نواز شریف کی ہی رہے گی۔ یہ صرف بڑا فیصلہ ہی نہ تھا بلکہ سیاسی مستقبل کیلئے بہت اہم بھی تھا ۔یہ ایک بڑی سیاست بھی تھی۔ 
سپریم کورٹ نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار دینے کے ساتھ ان کے تمام فیصلوں، اقدامات اور نوٹیفکیشنز کو غیرقانونی قرار دئے تھے۔نواز لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے منگل کو شہباز شریف کو پارٹی صدر منتخب کرلیا اور نواز شریف کو تاحیات قائد بنادیا،شہباز شریف کو مستقل صدر بنانے کی منظوری ن لیگ کے جنرل کونسل اجلاس میں دی جائے گی۔نواز لیگ کے اس فیصلے کے اندر دو تضادات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔شہباز شریف اداروں کے درمیان محاذآرائی سے دور رہنے والے ہیں جبکہ نواز شریف کا بیانیہ اس کے برعکس ہے۔ شہباز شریف کے لئے یہ امتحان ہوگا کہ وہ اپنے قائد کی بات بھی مانیں۔
مسلم لیگ نون کی سربراہی بظاہر شہباز شریف کے پاس آگئی ہے۔ لیکن حقیقی اختیار ابھی تک میاں نواز شریف کے پاس ہی رہیں گے جنہیں تاحیات پارٹی کا قائد چن لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باوجود وہ پارٹی کے معاملات میںحاوی رہیں گے۔ عدالتی فیصلے کے بعد پارٹی قیادت میں یہ تبدیلی قانونی تقاضے پورے کرنے کے لے ضروری تھی۔کسی اور کو یہ منصب دیا جاتا تو پارٹی کے اندر دھڑے بندی کا خطرہ تھا۔ ضیاءدور میں اسٹبلشمنٹ نے دو پارٹیاں بنائیں۔ ایک نواز لیگ دوسری ایم کیو ایم۔ جب ایم کیو ایم کا رول باقی نہیں رہا تو اس کے خلاف آپریشن ہوا اور وہ آج دھڑے بندی کا شکار ہے۔ لیکن اسٹبلشمنٹ تمام تر کوششوں کے باوجود نواز لیگ کی تاحال دھڑے بندی 
 نہیں کر سکی ہے۔ اس کی وجوہات ایک سے زائد ہیں۔ 
شہباز شریف کا ملکی امور اور حالیہ تضاد کو دیکھنے کا نقطہ نظر وہ نہیں جو میاں نواز شریف کا ہے۔ شہبازشریف شریف نے کی سوچ کا عکس ان کے پتوکی کے جلسے سے بھی ملتا ہے۔ شہباز شریف نے عمران خان پر تنقید کی اور اپنے ترقیاتی کام گنوائے۔انہوں نے نہ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں پر کوئی بات کی، نہ اداروں کے حوالے سے کوئی سخت بیان دیا، نہ ہی محاذآرائی کی بات کی بلکہ صرف اپنے ترقیاتی کاموں کی بات کی۔ وہ بھلے اس طرح پالیسی رکھیں۔ لیکن پارٹی کے قائد کے طور پر ان کے بڑے بھائی کا سایہ رہے گا۔ ایک اور دقت یہ بھی ہوگی کہ نواز شریف کا بیانہ عوامی اور مقبول ہو چکا ہے جس سے شہباز شریف یا اداروں سے محاز آرائی نہ کرنے کا حامی آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ صرف اتنا ہی نہیں ۔ مریم نواز بھی اب ایک لیڈر کے طور پر ابھری ہے۔ وہ بہرحال آنے والے وقت میں یا بوقت ضرورت میدان میں آسکتی ہیں۔مریم نواز نے ایک نیا کیڈر پیدا کیا ہے۔ان کے مقبول لیڈر کے طور پر ابھرنے سے شہباز شریف پر فرق پڑا ہے۔ مریم نواز سے مختلف سوچ رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ ان کے لہجے، حکمت عملی اور زبردست کوششوں نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ 
 جب میاں نواز شریف کو وزارت سے ہٹایا گیا اس وقت شہباز شریف پارٹی کے اعلیٰ منصب کے قریب تھے۔ لیکن انتخابی قوانین میں ترمیم کے ذریعے بڑے میاں صاحب کو پارٹی کے عہدے پر بحال ہو گئے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر صورتحال تبدیل کردی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ شریف خاندان کی کلی طور پر شہباز شریف کو حمایت حاصل ہے اور وہ مکمل یا کلی طور پر خاندان کے نمائندہ ہیں۔ ایک تضاد بہرحال موجود ہے، جو کسی طور پر حل نہیں ہو رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق احتساب عدالت کے امکانی فیصلے کے بعد مزید شدت اختیار کرے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے پارٹی کی صدارت چھوتے میاں صاحب کے حوالے تب کی ہے جب اپنی صاحبزادی بطور لیڈر اپنی حیثیت منوا چکی تھی۔ 
شہباز شریف کو پارٹی اور آئندہ انتخابات جیتنے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے منصب کا موقع مل جائے گا۔ شہباز شریف صوبے میں اچھے منتظم ثابت ہوئے ہیں ضروری نہیں کہ وہ قومی سطح پر بھی اچھے لیڈر ثابت ہوں۔ وہ کوئی ایسا کرشماتی یا مقبول لیڈر نہیں جو اپنے بھائی کے بغیر انتخابات جیت سکے۔ خاص طور پر جب دوسری طرف ان کے بڑے بھائی اور بھتیجی زیادہ مقبول ہوں۔ 
ا شہباز شریف کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ جب پارٹی کی صفیں دو متوازی رجحانات کے ساتھ ہوں۔ اس صورتحال میں انہیں نہایت ہی خبرداری سے چلنا پڑے گا۔ ایک طرف محاذ آرائی کی پالیسی ہوگی دوسری طرف ان کی مصالحت کی ۔پارٹی کے رہنما کو یقین ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی انتخابات جیتنے کے لئے ضرورت پڑے گی۔ صرف ترقیاتی کام جو شہباز شریف نے پنجاب میں کرائے ہیں وہ انتخابات جیتنے کے لئے ناکافی سمجھے جارہے ہیں۔ 
نواز شریف کی مزاحمت اور عوام میں مقبولیت اپنی جگہ پر پارٹی کو ایک اور سنجیدہ چیلینج درپیش ہیں۔ سپریم کورٹ نے جب نواز شریف کے بطور پارٹی کے صدر کئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کی ۔لہٰذا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پارٹی کی یہ توقعات پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ نواز لیگ کے امیدوار آذادانہ حیثیت سے انتخابات لڑ سکتے ہیں اور بعد میں کوئی بھی پارٹی میں شمولیت کر سکتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد کتنے پارٹی کے وفادار رہیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
 شہابز شریف کو پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے لیکن اس سے پارٹی کے اندر مقتدرہ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اب نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ چند ماہ میں تب معاملات تبدیل ہوں جب نواز شریف کے خاندان کو سزا ملے گی۔ نواز شریف اقتدار میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ وہ مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ بھی لیں گے اور پنجاب میں ترقی کا بھی۔ پہلے قبل از وقت انتخابات کرانے کی بات کی جارہی تھی۔ کیا اب یہ کوشش کی جائے گی کہ انتخابات کو آگے لے جایا جائے؟ ۔ تاکہ نواز لیگ اور شریف خاندان کے اندر کے تضادات مزید ابھر کر آسکیں۔

 نواز لیگ نواز شریف کی ہی رہی
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
مسلم لیگ ن ایک بار پھر پ بحران سے نکل آئی۔ نواز شریف کو پارٹی عہدے پر نااہلی سے متعلق عدلیہ کا فیصلہ عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھائی کو جگہ تو دی لیکن وہ بدستور پارٹی کے قائد رہیں گے لہٰذا یہ پارٹی نواز شریف کی ہی رہے گی۔ یہ صرف بڑا فیصلہ ہی نہ تھا بلکہ سیاسی مستقبل کیلئے بہت اہم بھی تھا ۔یہ ایک بڑی سیاست بھی تھی۔ 
سپریم کورٹ نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار دینے کے ساتھ ان کے تمام فیصلوں، اقدامات اور نوٹیفکیشنز کو غیرقانونی قرار دئے تھے۔نواز لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے منگل کو شہباز شریف کو پارٹی صدر منتخب کرلیا اور نواز شریف کو تاحیات قائد بنادیا،شہباز شریف کو مستقل صدر بنانے کی منظوری ن لیگ کے جنرل کونسل اجلاس میں دی جائے گی۔نواز لیگ کے اس فیصلے کے اندر دو تضادات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔شہباز شریف اداروں کے درمیان محاذآرائی سے دور رہنے والے ہیں جبکہ نواز شریف کا بیانیہ اس کے برعکس ہے۔ شہباز شریف کے لئے یہ امتحان ہوگا کہ وہ اپنے قائد کی بات بھی مانیں۔
مسلم لیگ نون کی سربراہی بظاہر شہباز شریف کے پاس آگئی ہے۔ لیکن حقیقی اختیار ابھی تک میاں نواز شریف کے پاس ہی رہیں گے جنہیں تاحیات پارٹی کا قائد چن لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باوجود وہ پارٹی کے معاملات میںحاوی رہیں گے۔ عدالتی فیصلے کے بعد پارٹی قیادت میں یہ تبدیلی قانونی تقاضے پورے کرنے کے لے ضروری تھی۔کسی اور کو یہ منصب دیا جاتا تو پارٹی کے اندر دھڑے بندی کا خطرہ تھا۔ ضیاءدور میں اسٹبلشمنٹ نے دو پارٹیاں بنائیں۔ ایک نواز لیگ دوسری ایم کیو ایم۔ جب ایم کیو ایم کا رول باقی نہیں رہا تو اس کے خلاف آپریشن ہوا اور وہ آج دھڑے بندی کا شکار ہے۔ لیکن اسٹبلشمنٹ تمام تر کوششوں کے باوجود نواز لیگ کی تاحال دھڑے بندی 
 نہیں کر سکی ہے۔ اس کی وجوہات ایک سے زائد ہیں۔ 
شہباز شریف کا ملکی امور اور حالیہ تضاد کو دیکھنے کا نقطہ نظر وہ نہیں جو میاں نواز شریف کا ہے۔ شہبازشریف شریف نے کی سوچ کا عکس ان کے پتوکی کے جلسے سے بھی ملتا ہے۔ شہباز شریف نے عمران خان پر تنقید کی اور اپنے ترقیاتی کام گنوائے۔انہوں نے نہ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں پر کوئی بات کی، نہ اداروں کے حوالے سے کوئی سخت بیان دیا، نہ ہی محاذآرائی کی بات کی بلکہ صرف اپنے ترقیاتی کاموں کی بات کی۔ وہ بھلے اس طرح پالیسی رکھیں۔ لیکن پارٹی کے قائد کے طور پر ان کے بڑے بھائی کا سایہ رہے گا۔ ایک اور دقت یہ بھی ہوگی کہ نواز شریف کا بیانہ عوامی اور مقبول ہو چکا ہے جس سے شہباز شریف یا اداروں سے محاز آرائی نہ کرنے کا حامی آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ صرف اتنا ہی نہیں ۔ مریم نواز بھی اب ایک لیڈر کے طور پر ابھری ہے۔ وہ بہرحال آنے والے وقت میں یا بوقت ضرورت میدان میں آسکتی ہیں۔مریم نواز نے ایک نیا کیڈر پیدا کیا ہے۔ان کے مقبول لیڈر کے طور پر ابھرنے سے شہباز شریف پر فرق پڑا ہے۔ مریم نواز سے مختلف سوچ رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ ان کے لہجے، حکمت عملی اور زبردست کوششوں نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ 
 جب میاں نواز شریف کو وزارت سے ہٹایا گیا اس وقت شہباز شریف پارٹی کے اعلیٰ منصب کے قریب تھے۔ لیکن انتخابی قوانین میں ترمیم کے ذریعے بڑے میاں صاحب کو پارٹی کے عہدے پر بحال ہو گئے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر صورتحال تبدیل کردی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ شریف خاندان کی کلی طور پر شہباز شریف کو حمایت حاصل ہے اور وہ مکمل یا کلی طور پر خاندان کے نمائندہ ہیں۔ ایک تضاد بہرحال موجود ہے، جو کسی طور پر حل نہیں ہو رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق احتساب عدالت کے امکانی فیصلے کے بعد مزید شدت اختیار کرے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے پارٹی کی صدارت چھوتے میاں صاحب کے حوالے تب کی ہے جب اپنی صاحبزادی بطور لیڈر اپنی حیثیت منوا چکی تھی۔ 
شہباز شریف کو پارٹی اور آئندہ انتخابات جیتنے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے منصب کا موقع مل جائے گا۔ شہباز شریف صوبے میں اچھے منتظم ثابت ہوئے ہیں ضروری نہیں کہ وہ قومی سطح پر بھی اچھے لیڈر ثابت ہوں۔ وہ کوئی ایسا کرشماتی یا مقبول لیڈر نہیں جو اپنے بھائی کے بغیر انتخابات جیت سکے۔ خاص طور پر جب دوسری طرف ان کے بڑے بھائی اور بھتیجی زیادہ مقبول ہوں۔ 
ا شہباز شریف کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ جب پارٹی کی صفیں دو متوازی رجحانات کے ساتھ ہوں۔ اس صورتحال میں انہیں نہایت ہی خبرداری سے چلنا پڑے گا۔ ایک طرف محاذ آرائی کی پالیسی ہوگی دوسری طرف ان کی مصالحت کی ۔پارٹی کے رہنما کو یقین ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی انتخابات جیتنے کے لئے ضرورت پڑے گی۔ صرف ترقیاتی کام جو شہباز شریف نے پنجاب میں کرائے ہیں وہ انتخابات جیتنے کے لئے ناکافی سمجھے جارہے ہیں۔ 
نواز شریف کی مزاحمت اور عوام میں مقبولیت اپنی جگہ پر پارٹی کو ایک اور سنجیدہ چیلینج درپیش ہیں۔ سپریم کورٹ نے جب نواز شریف کے بطور پارٹی کے صدر کئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کی ۔لہٰذا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پارٹی کی یہ توقعات پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ نواز لیگ کے امیدوار آذادانہ حیثیت سے انتخابات لڑ سکتے ہیں اور بعد میں کوئی بھی پارٹی میں شمولیت کر سکتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد کتنے پارٹی کے وفادار رہیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
 شہابز شریف کو پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے لیکن اس سے پارٹی کے اندر مقتدرہ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اب نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ چند ماہ میں تب معاملات تبدیل ہوں جب نواز شریف کے خاندان کو سزا ملے گی۔ نواز شریف اقتدار میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ وہ مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ بھی لیں گے اور پنجاب میں ترقی کا بھی۔ پہلے قبل از وقت انتخابات کرانے کی بات کی جارہی تھی۔ کیا اب یہ کوشش کی جائے گی کہ انتخابات کو آگے لے جایا جائے؟ ۔ تاکہ نواز لیگ اور شریف خاندان کے اندر کے تضادات مزید ابھر کر آسکیں۔



کچھ نئے سوالات

Feb 26 
کچھ نئے سوالات
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
 دنیا معاشی و تجارتی حوالے سے ایک جہت کے ساتھ نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ مختلف ممالک اپنی ترقی، تحفظ کے لئے مختلف حکمت عملیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے نہ طویل اور نہ ہی قلیل مدت کی تیاری ہے۔ بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کو ان تمام تبدیلیوں کا ادراک ہی نہیں۔ پاکستان نے پاکستان میں بمشکل ایک منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ لیکن دوسری حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے بعد جو عشرہ بحالی جمہوریت شروع ہوا تھا وہ اب اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ پر اسٹبلشمنٹ کی بالادستی ہی نہیں بلکہ اجارہ داری کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم کٹھن حالات کے باوجود وہ اپنی آئینی مدٹ مکمل کرنے کی دہلیز پر ہے۔ ایک مرتبہ پھر سیاسی انجنیئرنگ سامنے آئی ہے۔ جس کا مقصد پسند کے منتخب ایوان لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ عام انتخابات میں اببھی تین چار ماہ باقی ہیں۔ الیکن مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں انجیئرنگ کرنا ضروری سمجھی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کی حکمران پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے آﺅٹ کرنے کی مکینزم پر عمل کیا جارہا ہے۔ عدلیہ نے وہ تمام فیصلے جو انہوں نے آئینی ترمیم کے ذریعے دوبارہ پارٹی کا صدر بننے کے بعد کئے تھے ان کو کالعدم قرار دیا ہے۔ جس میں خاص طور پر سینیٹ کے الیکشن کے لئے حال ہی میں جاری ہونے والے پارٹی ٹکٹس ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران پنجاب میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور میاں صاحب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی سخت پالیسی کے انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔ جوابا اسٹبلشمنٹ بھی انہیں اپنے مروجہ اور غیر مروجہ طریقوں سے جواب دے رہی ہے۔ ملک ایک شدید محاذ آرائی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسی محاذ آرائی جس کا بم کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ 
 ملک میں بدترین حکمرانی، عوام کے مسائل پر کم توجہ دینے، حکمرانوں کی جانب سے منتخب نمائندوں اور ایوانوں کو حساب میں نہ لانے جیسے معاملات کی وجہ سے سیاسی مسائل بہرحال موجود ہیں۔ملک کی دو بڑی جماعتیں خود کو جمہوری بنانے میں ناکام رہی۔ جس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ کہ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو اپنی تمام تر عوامی حیثیت اور مقبولیت کے باوجود زوال پذیر ہونا شروع ہو گئیں۔ سیاسی جماعتوں میں عوام کی حقیقی نمائندگی اور شرکت کی عدم موجودگی اور خراب حکمران نے ایک خلاءپیدا کیا۔اس خلاءکا کسی کو فائدہ تو لینا تھا۔ یہ خلاءکسی کو تو بھرنا تھا۔ فوج نے ماضی کے تلخ تجربات اور نتائج کی وجہ سے اس مرتبہ یہ خلاءبراہ راست فوج نے نہیں بھرا۔ بلکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے عزم کا بار بار اظہار کیا۔ یہ خلاءاسٹبلشمنٹ اور عدلیہ نے بھرا۔ ان میں سے عدلیہ ایک آئینی ادارہ ہے۔اس کے فیصلوں کو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کا کردار فعال ہوا ا اور قومی امور میں بڑھتا گیا، جبکہ عشرہ جمہوریت کی دونوں ادوار میںحکمران جماعتوں میں پارلیمان کا مقام اپنے آئینی کردار کے حوالے سے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔ 
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کیا اب سیاست میں رہ سکیں گے یا نہیں ؟ یہ ا?ج کا بہت اہم سوال ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف پر سیاست کے
 دروازے بند ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 جولائی 2017 ءکو پاناما کیس میں انہیں وزارت عظمی سے ہٹا دیا تھا اور کسی سرکاری عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا۔ 21 فروری 2018 ءکو سپریم کورٹ نے انہیں اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیا اور کسی بھی سیاسی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ اب ایک کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ نااہلی کی مدت کیا ہونی چاہئے۔ اس کیس کے فیصلے پر منحصر ہو گا کہ میاں محمد نواز شریف جلد یا بدیر سیاست میں واپس آسکتے ہیں یا نہیں۔ 
 نواز لیگ پنجاب میں تو مضبوط ہو رہی ہے۔ جس کی سیاسی وجوہات ہ کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق بھی ہیں کہ کس طرح سے صرف پنجاب حکومت ہی نہیںوفاقی حکومت نے بھی چھوٹی خواہ طویل مدت کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی ترقی ہونی چاہئے۔ لیکن اس طرح کی توجہ وفاق کی جانب سے سندھ یا دیگر صبوں میں نظر نہیں آتی۔ سندھ ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی رقم نہیں دی۔ پہلے یہ شکایات سیاسی سطح پر تھی۔ گزشتہ روز سندھ حکومت نے معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق کی جانب سے سندھ کو کس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے اس کی چند مثالیں دی جاسکتی ہے۔ تھر کول پانی کی فراہمی، لیاری ایکسپریس وے، حیدرآباد ، پیکیج، منصوبوں سمیت گزشتہ سات ماہ کے دوران کوئی رقم نہیں جاری کی گئی۔ کراچی کے منصوبے جی تھری کے 36 ارب روپے میں سے پچاس فیصد رقم جاری ہو سکی۔ وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے لئے 27 ارب روپے مختص کئے تھے۔ مگر اس میں سے صرف 7 ارب روپے جاری کئے گئے۔ حیدرآباد ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لئے پونے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے ۔ یہ وہ منصوبے اور رقومات ہیں جن کا نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے دینے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق زرعی ترقیاتی بینک کے جاری کئے گئے قرضوں میں بھی سندھ کو نظرانداز کیا گیا۔سندھ حکومت نے حیدرآباد کراچی موٹر موٹر وے کے لئے زمین مفت دینے سے ناکر کردیا ہے۔ ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ شاہراہ کے دونوں ا طراف کیٹل فارم، بستیاں، فیکٹریز اور لوگوں کی ذاتی زمینیں ہیں۔ حکومت سندھ سے موٹر وے کے لئے 7 ہزار ایکڑ زمیں طلب کی تھی۔ بعد میں رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر زمین کی الاٹمنٹ رد کردی گئی تھی۔ اس طرح کی صورتحال سے یہ تاثر مزید پختہ ہو رہا ہے کہ معاشی، تجارتی اور ترقیاتی معاملات میں وفاقی حکومت خصوصا سندھ کو وہ جگہ نہیں دے رہی جو پنجاب کو دے رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ نواز لیگ ملک بھر کی ترقی کے بجائے صرف پنجاب کی حد تک ترقی چاہتی ہے۔ اس صورتحال سے پیپلزپارٹی سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جتنا پنجاب میں پیپلزپارٹی کو سکڑیا گیا اتنا یہ پارٹی چھوٹے صوبوں کی سیاست کی طرف لے کر جارہا ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور بلوچستان میں پارٹی کا ایک بھی ایم پی اے نہ ہونے کے باجود سینیٹ میں امیدوار کھڑے کرنے کے پیچھے دوسری سیاست کے ساتھ ساتھ چھوٹے صوبوں کو نواز لیگ کی جانب سے نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھانا ہے۔ اس رخ میں نواز لیگ کی تاحال کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ جبکہ پارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں اسکو صوبوں میں کمزور کررہی ہیں۔ 
 ممکن ہے کہ حالیہ بحران نواز شریف ذاتی طور پر آﺅٹ ہو جائیں۔ لیکن نواز لیگ کو آﺅٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات بلاشبہ فیصلہ کن ہیں جس میں نواز لیگ کے امیدواروں آزاد حیثیت میں کھڑے ہیں۔ جینتے کے بعد وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند نہیں ہونگے۔ لہٰذا نواز لیگ کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی خواہش پورے نہیں ہو رہی۔ کھیل صرف یہیاں پر ختم نہیں ہوتا۔ عام انتخابات باقی ہیں۔ جس میں نواز لیگ پنجاب کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ آئندہ انتخابات میں نواز لیگ حکومت بنا لیتی ہے تو وہ کسی طرح سے سینیٹ کو مینیج کر لے گی۔ لیکن اس موقع پر باقی تین صوبوں کو مینج کرنا باقی رہے گا۔ یہ ایک اہم سیاسی مورچہ ہے۔ نواز لیگ کی حالیہ یا آئندہ قیادت کو اس کا ادراک ہونا چاہئے۔ 

سندھی کو اسکولوں میں پڑھانے میں حکومت سندھ کی ناکامی


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
گزشتہ دنوں ڈاﺅ میڈیکل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی جانب سے ایک معاون ڈاکٹر کو ایک مریض سے سندھی میں بات کرنے پر نہ صرف ڈانٹابلکہ اس کو شو کاز نوٹس جاری کردیا۔ اس معاملے پر اشتعال پھیل گیا۔ صوبے کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بڑے پیمانے پر زیر بحث آیا۔ سندھ کے لوگ زبان اور ثقافت حوالے سے حساس ہیں۔ اس احتجاج کے بعد ڈاکٹر فہیم کی سوشل میڈیا پر ویڈیو آئی جس میں انہوں نے معافی مانگی اور کہا کہ اب وہ خود بھی سندھی سیکھیں گے اور سندھی میں بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ 
 تاریخ بتاتی ہے کہ زبان کا معاملہ پاکستان میں حساس رہا ہے۔ بنگال میں قوم پرست تحریک کا آغاز بھی بنگالی زبان کے مسئلہ پر ہوا تھا۔ سندھی زبان کا مسئلہ سب سے پہلے اس وقت کھڑا ہوا جب ون یونٹ کے بعد ایوب خان نے سندھی زبان کو محدود کردیا تھا۔ اور اردو پڑھائی جانے لگی۔ قیام پاکستان کے بعد بڑے پیمانے پر بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ بڑے پیمانے پر سندھ میں بسائے گئے۔ جبکہ اس بٹوارے کی وجہ سے سندھ سے مڈل کلاس جو کہ ہندو آبادی پر مشتمل تھا، بھارت چلا گیا۔ اس طبقے کا خلاءباہر سے آنے والی آبادی نے بھرا۔ لہٰذا سندھی کو خطرے محسوس ہوا۔ یہ خطرہ ایوب کے احکامات اور ون یونٹ کی وجہ سے مزید بڑھ گیا۔ سندھ کے لوگ زبان کو بچانے اور اس کو سرکاری حیثیت دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ 
سندھ کے لوگوں کی وسیع القلبی ہے کہ سندھ کا تقریبا ہر باشندہ اردو بول سکتا ہے بلکہ بولتا بھی ہے۔ سندھی کا ہر پڑھا لکھا بندہ اردو پڑھ سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے۔ بلکہ سندھی بولنے والے کئی لکھاری اردو میں لکھتے ہیں اور اس وجہ سے شہرت بھی حاصل کی ہے۔ ایک صورتحال یہ بھی ہے کہ پنجاب سے آکر سندھ میں بسنے والے آبادکار گھروں چاہے پنجابی بولتے ہوں لیکن پڑھتے سندھی رہے ہیں اور کسی عام سندھی جتنی ہی سندھی جاتے ہیں بولتے ہیں۔ سندھی کے ایک بڑے شاعر وفا ناتھن شاہی بنیادی طور پر پنجابی سیٹلر ہیں۔ ان کی شاعری سے کہیں نہیں لگتا کہ وہ سندھی بولنے والے سندھی نہیں۔ سندھ کے ایک مشہور گائیک سرمد سندھی جو سندھی قوم پرست سندھ نغمے گانے کی وجہ سے مشہور ہوئے، وہ بھی پنجابی سیٹلر ہیں۔ 
 سندھ میں سندھی، اردو،سرائکی، براہوی ،، بلوچی، ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ اسی طرح سے پنجاب میں پنجابی کے علاوہ سرائکی ، بلوچستان میں بلوچی، براہوی اور پشتو، جبکہ صوہ خیبر پختونخوا میں پشتو کے علاوہ بلتی، شینا، اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔
 اردو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دی گئی ہے لیکن عملی طور پر انگریزی ہی سرکاری زبان ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عام فہم ہونے کی وجہ سے اردو حقیقی معنوں میں رابطے کی زبان ہے۔ لہٰذا یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ ملک کی دوسری زبانوں کی ترقی کی وجہ سے پاکستان میں اردو کو خطرہ ہے۔ دنیا میں کئی ممالک اور صوبے موجود ہیں جہاں ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ 
سندھ کا یہ المیہ ہے کہ زبان کے نام پر سیاست بھی ہوتی رہی اور فسادت بھی۔ دنیا کا کوئی بھی قانون اور مذہب کسی بھی زبان بولنے سے نہیں روکتا۔ یہ دسرت ہے کہ ایک سے زائد زبانیں آنا ایک اضافی صلاحیت مانی جاتی ہے ۔ لیکن کسی زبان کو دبانا یا اس سے نفرت کرنا تعصب مانا جاتا ہے اور وہ نسلی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ 
 ہمارے ہاں زبان کی سیاست بھی ہوتی رہی ہے۔ اس بنیاد پر فساد ات بھی ہوئے تھے۔ اردو کو مہاجر سیاست کا بھی حصہ بنایا جاتا رہا۔ 
 اگر ایک ڈاکٹرسندھی نہیں بولتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کے ہسپتال میں ڈاکٹر یا مریض کو پنجابی میں، بلوچستان میں بلوچی میں اور خیبرپختونخوا میں پشتو میں بات کرنے سے روکنا کتنا صحیح ہوگا؟ جبکہ سندھ میں سندھی قانونی طور پر سرکاری اور دفتری زبان ہے۔یہ درست ہے کہ سندھی صوبے کے اسکولوں میں نہیں پڑھائی جارہی ہے۔ لہٰذا سندھی کا استعمال کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ میں اگرچہ گریڈ 17 سے زائدگریڈ میں ترقی کے لئے مقامی زبان یعنی سندھی آنا لازمی ہے۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ اب جب انتخابات کا موسم شروع ہونے والا ہے ایسے میں اگر لسانی بنیاد پر کوئی واقعاہ رونما ہوتا ہے، اس کو کیش کرانے کے لئے مختلف سیاسی گروہ موجود ہیں۔ جو اس واقعہ کو بہت آگے تک لے جاسکتے ہیں۔ 
 سندھی اس صوبے کی نہ صرف اصل زبان ہے بلکہ اکثریت یہی زبان بولتی ہے۔ سندھی پاکستان کے واحد صوبائی زبان ہے جس کی کئی صدیوں سے رسم الخط ہے اور یہ زبان بطور ذریعہ تعلیم رہی ہے۔ اس زبان کا ادب ہزروں بلکہ لاکھوں کتابوں پر مشتمل شایع ہو چکا ہے۔ اس زبان میں ایک سو سے زائد اخبارات حکومتی سطح پر قانونی لحاظ سے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اگرچہ حکومت نے سندھی زبان لینگوئج اتھارٹی کا قیام اس مقصد کے لئے لایا تھا کہ وہ سندھی کو دفتری زبان بنانے کے لئے اقدامات کرے۔ لیکن اس ادارے کی کارکرادگی خال خال رہی۔ دوسری جانب صوبے میں سرکاری شعبے کے ا اسکولوں کی کارکردگی نہایت ہی خراب رہی۔ نتیجة لوگ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخلا دلانے لگے۔ جہاں پر سندھی تھرڈ لینگوئج کے طور پڑھائی جاتی ہے۔ عملی طور پر یہاں بھ سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایانہیں جارہا ہے۔ دراصل یہ حکومت سندھ کی ناکامی ہے کہ وہ پورے طور پر سندھی کو اسکولوں میں لازمی طور پر پڑھا سکی اور نہ دفتری زبان بنا سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت سرکاری اسکولوں میں سندھی مضمون کو لازمی اور بہتر طور پر پڑھانے کو یقینی بنائے۔ سندھی کو دفتری زبان بنانے کے لئے مطلوبہ اور ٹھوس اقدامات کرے۔ اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے لازمی شرط پر سختی کے ساتھ عمل کرے۔ اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ معاملے کو لسانی رنگ دینے یا نفرت پیدا کرکے تعصب پھیلانے کے بجائے ایک انسانی غلطی قرار دے کر معافی مانگنے پر ”ملزم“ ڈاکٹر کو معاف کردیا جائے۔ 

سیاسی مسائل جوں کے توں رہے

Feb 26
سیاسی مسائل جوں کے توں رہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
 دنیا معاشی و تجارتی حوالے سے ایک جہت کے ساتھ نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ مختلف ممالک اپنی ترقی، تحفظ کے لئے مختلف حکمت عملیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے نہ طویل اور نہ ہی قلیل مدت کی تیاری ہے۔ بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کو ان تمام تبدیلیوں کا ادراک ہی نہیں۔ پاکستان نے پاکستان میں بمشکل ایک منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ لیکن دوسری حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے بعد جو عشرہ بحالی جمہوریت شروع ہوا تھا وہ اب اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ پر اسٹبلشمنٹ کی بالادستی ہی نہیں بلکہ اجارہ داری کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم کٹھن حالات کے باوجود وہ اپنی آئینی مدٹ مکمل کرنے کی دہلیز پر ہے۔ ایک مرتبہ پھر سیاسی انجنیئرنگ سامنے آئی ہے۔ جس کا مقصد پسند کے منتخب ایوان لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ عام انتخابات میں اببھی تین چار ماہ باقی ہیں۔ الیکن مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں انجیئرنگ کرنا ضروری سمجھی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کی حکمران پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے آﺅٹ کرنے کی مکینزم پر عمل کیا جارہا ہے۔ عدلیہ نے وہ تمام فیصلے جو انہوں نے آئینی ترمیم کے ذریعے دوبارہ پارٹی کا صدر بننے کے بعد کئے تھے ان کو کالعدم قرار دیا ہے۔ جس میں خاص طور پر سینیٹ کے الیکشن کے لئے حال ہی میں جاری ہونے والے پارٹی تکٹس ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران پنجاب میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور میاں صاحب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی سخت پالیسی کے انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔ جوابا اسٹبلشمنٹ بھی انہیں اپنے مروجہ اور غیر مروجہ طریقوں سے جواب دے رہی ہے۔ ملک ایک شدید محاذ آرائی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسی محاذ آرائی جس کا بم کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ 
 ملک میں بدترین حکمرانی، عوام کے مسائل پر کم توجہ دینے، حکمرانوں کی جانب سے منتخب نمائندوں اور ایوانوں کو حساب میں نہ لانے جیسے معاملات کی وجہ سے سیاسی مسائل بہرحال موجود ہیں۔ملک کی دو بڑی جماعتیں خود کو جمہوری بنانے میں ناکام رہی۔ جس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ کہ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو اپنی تمام تر عوامی حیثیت اور مقبولیت کے باوجود زوال پذیر ہونا شروع ہو گئیں۔ سیاسی جماعتوں میں عوام کی حقیقی نمائندگی اور شرکت کی عدم موجودگی اور خراب حکمران نے ایک خلاءپیدا کیا۔اس خلاءکا کسی کو فائدہ تو لینا تھا۔ یہ خلاءکسی کو تو بھرنا تھا۔ فوج نے ماضی کے تلخ تجربات اور نتائج کی وجہ سے اس مرتبہ یہ خلاءبراہ راست فوج نے نہیں بھرا۔ بلکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے عزم کا بار بار اظہار کیا۔ یہ خلاءاسٹبلشمنٹ اور عدلیہ نے بھرا۔ ان میں سے عدلیہ ایک آئینی ادارہ ہے۔اس کے فیصلوں کو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کا کردار فعال ہوا ا اور قومی امور میں بڑھتا گیا، جبکہ عشرہ جمہوریت کی دونوں ادوار میںحکمران جماعتوں میں پارلیمان کا مقام اپنے آئینی کردار کے حوالے سے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔ 
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کیا اب سیاست میں رہ سکیں گے یا نہیں ؟ یہ ا?ج کا بہت اہم سوال ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف پر سیاست کے
 دروازے بند ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 جولائی 2017 ءکو پاناما کیس میں انہیں وزارت عظمی سے ہٹا دیا تھا اور کسی سرکاری عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا۔ 21 فروری 2018 ءکو سپریم کورٹ نے انہیں اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیا اور کسی بھی سیاسی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ اب ایک کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ نااہلی کی مدت کیا ہونی چاہئے۔ اس کیس کے فیصلے پر منحصر ہو گا کہ میاں محمد نواز شریف جلد یا بدیر سیاست میں واپس آسکتے ہیں یا نہیں۔ 
 نواز لیگ پنجاب میں تو مضبوط ہو رہی ہے۔ جس کی سیاسی وجوہات ہ کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق بھی ہیں کہ کس طرح سے صرف پنجاب حکومت ہی نہیںوفاقی حکومت نے بھی چھوٹی خواہ طویل مدت کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی ترقی ہونی چاہئے۔ لیکن اس طرح کی توجہ وفاق کی جانب سے سندھ یا دیگر صبوں میں نظر نہیں آتی۔ سندھ ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی رقم نہیں دی۔ پہلے یہ شکایات سیاسی سطح پر تھی۔ گزشتہ روز سندھ حکومت نے معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق کی جانب سے سندھ کو کس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے اس کی چند مثالیں دی جاسکتی ہے۔ تھر کول پانی کی فراہمی، لیاری ایکسپریس وے، حیدرآباد ، پیکیج، منصوبوں سمیت گزشتہ سات ماہ کے دوران کوئی رقم نہیں جاری کی گئی۔ کراچی کے منصوبے جی تھری کے 36 ارب روپے میں سے پچاس فیصد رقم جاری ہو سکی۔ وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے لئے 27 ارب روپے مختص کئے تھے۔ مگر اس میں سے صرف 7 ارب روپے جاری کئے گئے۔ حیدرآباد ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لئے پونے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے ۔ یہ وہ منصوبے اور رقومات ہیں جن کا نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے دینے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق زرعی ترقیاتی بینک کے جاری کئے گئے قرضوں میں بھی سندھ کو نظرانداز کیا گیا۔سندھ حکومت نے حیدرآباد کراچی موٹر موٹر وے کے لئے زمین مفت دینے سے ناکر کردیا ہے۔ ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ شاہراہ کے دونوں ا طراف کیٹل فارم، بستیاں، فیکٹریز اور لوگوں کی ذاتی زمینیں ہیں۔ حکومت سندھ سے موٹر وے کے لئے 7 ہزار ایکڑ زمیں طلب کی تھی۔ بعد میں رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر زمین کی الاٹمنٹ رد کردی گئی تھی۔ اس طرح کی صورتحال سے یہ تاثر مزید پختہ ہو رہا ہے کہ معاشی، تجارتی اور ترقیاتی معاملات میں وفاقی حکومت خصوصا سندھ کو وہ جگہ نہیں دے رہی جو پنجاب کو دے رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ نواز لیگ ملک بھر کی ترقی کے بجائے صرف پنجاب کی حد تک ترقی چاہتی ہے۔ اس صورتحال سے پیپلزپارٹی سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جتنا پنجاب میں پیپلزپارٹی کو سکڑیا گیا اتنا یہ پارٹی چھوٹے صوبوں کی سیاست کی طرف لے کر جارہا ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور بلوچستان میں پارٹی کا ایک بھی ایم پی اے نہ ہونے کے باجود سینیٹ میں امیدوار کھڑے کرنے کے پیچھے دوسری سیاست کے ساتھ ساتھ چھوٹے صوبوں کو نواز لیگ کی جانب سے نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھانا ہے۔ اس رخ میں نواز لیگ کی تاحال کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ جبکہ پارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں اسکو صوبوں میں کمزور کررہی ہیں۔ 
 ممکن ہے کہ حالیہ بحران نواز شریف ذاتی طور پر آﺅٹ ہو جائیں۔ لیکن نواز لیگ کو آﺅٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات بلاشبہ فیصلہ کن ہیں جس میں نواز لیگ کے امیدواروں آزاد حیثیت میں کھڑے ہیں۔ جینتے کے بعد وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند نہیں ہونگے۔ لہٰذا نواز لیگ کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی خواہش پورے نہیں ہو رہی۔ کھیل صرف یہیاں پر ختم نہیں ہوتا۔ عام انتخابات باقی ہیں۔ جس میں نواز لیگ پنجاب کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ آئندہ انتخابات میں نواز لیگ حکومت بنا لیتی ہے تو وہ کسی طرح سے سینیٹ کو مینیج کر لے گی۔ لیکن اس موقع پر باقی تین صوبوں کو مینج کرنا باقی رہے گا۔ یہ ایک اہم سیاسی مورچہ ہے۔ نواز لیگ کی حالیہ یا آئندہ قیادت کو اس کا ادراک ہونا چاہئے۔ 

لودھراں کے نتائج کے اثرات و اسباق

Feb 15
لودھراں کے نتائج کے اثرات و اسباق
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی ہار کے ساتھ بعض دیگر نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ چار سال سے ملک میں احتجاجی اور دھرنوں کی سیاست کرنے والی جماعت کے اہم ترین رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین کی عدلیہ سے نااہلی کے بعد پی ٹی آئی نے ان کے بیٹے علی ترین کو ضمنی انتخاب میں ٹکٹ دی۔ لیکن وہ زیر عتاب نواز لیگ کے امیدوار اقبال شاہ کے ہاتھوں ہار گئے۔ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات اور بعد میں اپناما اسکینڈل پر مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا۔ بعد میں عدلیہ میاں نواز شریف کو عدلیہ نے نااہل قرار دے کر ہٹادیا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کو اب بھی احتساب مقدمے کا سامنا ہے۔ جبکہ پارٹی کے اندر بھی گروہ بندی بھی سامنے آئی ہے۔ 
ان تمام حالات و واقعات سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ عمران خان نے ملک کے بڑے اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے صوبے میں اکثریت اور مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ ضمنی الیکشن کے نتائج کچھ اور بتاتے ہیں، وہ یہ کہ تمام واقعات نے پنجاب میں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ کردیا ہے۔ 
عموما ضمنی انتخابات سیاسی میدان میں کسی بڑی تبدیلی کا اشاریہ نہیں مانے جاتے۔ لیکن لودھراں کا معاملہ ملک میں موجود صورتحال کی وجہ سے اہم ہے اس کے نتائج ایک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دیکھا جائے ، حالیہ اسمبلیوں کی آئینی مدت کے دوران یہ پہلی بار نہیں ہوا۔اس مدت میں جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ان میں پی ٹی آئی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔پشاور کی نشست اے این پی نے چھین لی۔میانوالی کا حلقہ نواز لیگ نے چھین لیا۔جھنگ ،نارووال اور چکوال کی میں صوبائی نشستیں بھی نواز لیگ نے جیت لیں۔ یہی صورتحال ایبٹ آباد کی صوبائی نشست پر نظر آئی۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 پر بڑی زور آزمائی ہوئی۔ لیکن کلثوم نواز جیت گئیں۔ 
اس سے تجزیہ نگار یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا بیانیہ ہار رہا ہے اور نواز شریف کا بیانیہ جیت رہا ہے۔ 
ایک بحران ملک کے اندر ہے، دوسرا بحران نواز لیگ کی پارٹی کے اندر بھی ہے۔ ایسے میں نواز لیگ کی جیت کے کئی پہلو اور کئی معنی ہیں۔ ان کے مطالع سے ملکی صورتحال کو سمجھنے اور آنے والے وقت میں کیا ہونے جارہا ہے اس کا اندازیو ¿ہ کرنے میں مددملتی ہے۔ پہلے نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی مہم کے دوران بڑے بڑے جلسوں اور ان کے سخت موقف کے بعد ضمنی ناتخاب نے یہ دکھایا کہ تمام الزامات، عدالتی فیصلوں، یہاں تک کہ سیاسی و غیرسیاسی حلقوں کے شدید دباﺅ کے باوجود نواز لیگ نہیں ہار سکی۔ بلکہ اس کی مقبولیت بڑھی ہے۔ ورنہ لودھراں کی نشست پر جہاگیر ترین گزشتہ مرتبہ چالیس ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ ان کے بیٹے تقریبا 27 ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ دوسری چیز یہ بھی سامنے آئی کہ پیپلزپارٹی تمام تر کوششوں اور زرداری صاحب کی کارگری کے باوجود اپنے گراف میں اضافہ نہیں کر سکی۔ بلکہ پہلے کے مقابلے میں مزید کم آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کو ان اتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اتنی بڑی پارٹی کو اتنے کم ووٹ پڑنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب کا سیاسی موڈ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ پنجاب اپنی لیڈرشپ نہ عمران خان کو اور نہ پیپلزپارٹی کو دینے کے لئے تیار ہے۔ 
لودھران کی ضمنی الیکشن میں نہ نواز شریف اور نہ ہی شہباز یا مریم اور حمزہ شریف نے مہم چلائی۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنما ﺅں نے حلقہ کا دورہ کیا۔ نواز شریف کے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے جلسوں کا عکس اس مہم پر پڑتا رہا۔ جہاں پر وہ یہ کہتے رہے کہ انہیں نااہل قرار دینا غلط ہے۔ یہ فیصلے اور قدامات عوام کی رائے اور منتخب نمائندوں کے خلاف ہیں۔ ان کے اور انکی پارٹی کے خلاف جو عدلیہ میں یا اس سے باہر ہو رہا ہے، وہ سب کچھ اس طرح سے نہیں ہے جس طرح سے پیش کیا جارہا ہے۔ یوں نواز شریف کے بڑے بڑے جلسے ہوئے اور لوگوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ بھی ڈالے۔ اس سے تجزیہ نگار یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ پنجاب نواز شریف کے موقف کو صحیح سمجھتا ہے اور ان پر لگائے جاتے والے الزامات اور کے خلاف اقدامات کو غلط سمجھتا ہے۔ اس کی یہ بھی معنی نکلتی ہیں کہ پنجاب ابھی تک نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ 
منردجہ بالا ایک صورتحال ہے۔ دوسری صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف احتساب کے مقدمات، توہین عدالت ، نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کےاور نااہل قرار دیئے جانے والا شخص پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے کہ نہیں جیسے اہم معاملات عدالت میں زیر سماعت ہیں ۔ یہ تمام معاملات آخری مرحلے میں ہیں۔ اس کا اندازہ چیف جسٹس کے تازہ ریمارکس سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگرفیصلہ نوازشریف کیخلاف آیاتوان کی طرف سے جاری کئے گئے سینیٹ ٹکٹوں کاکیابنے گا؟ نواز شریف کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا لگنے میں باقی چند ہفتوں کا فاصلہ ہے۔ تجزیہ نگار اور خود نواز شریف بھی سمجھتے ہیں کہ عدلیہ میں انہیں کوئی رلیف یا سہولت ملنے کی امید نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عدالت میں نااہلی کی مدت کی درخواست میں فریق بننے سے انکار کردیا ہے۔ 
 حالیہ ضمنی انتخابات ایسے موقع پر منعقد ہوئے ہیں جب مذہبی کارڈ نواز شریف اور ان کی پارٹی کی حکومت کے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ اگرچہ پارٹی اور شہباز شریف کے بعض موقعوں پر مصلحت پنسدی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن صوبے میں مذہبی سیاست کا رنگ برقرار رہا۔ لیکن یہ مذہبی رنگ نواز شریف کے خلاف ووٹ میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ یہ نئی بات لگتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں مذہبی ووٹ نواز شریف کی انتخابی جیت میں ایک اہم جز رہا ہے اور اب بھی یہی سمجھا جارہا تھا کہ اگر نواز شریف اس ووٹ سے دور ہو جاتے ہیں یا یہ ووٹ ان سے الگ ہو جاتا ہے تو ان کی پارٹی کی جیت مشکوک ہو جائے گی۔اس مرتبہ ان دو میں سے کوئی ایک صورت ہو سکتی ہے کہ انہوں نے شاید ایسے ووٹ کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا ہے جو مذہبی رنگ کا نہیں تھا، اور یہ بھی کہ مذہبی ووٹ ان سے دور نہیں جاسکا۔ 
 عملی طور پر عدالتی فیصلے اور ان کے خالف کئے گئے اقدامات نواز شریف کی مقبولیت کو کم نہیں کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس مقبولیت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ اگر عدالتوں میں زیر سماعت باقی معاملات بھی ان کے خلاف جاتے ہیں تو حالیہ اتھمیٹکس کے مطابق عوام میں ان کی مقبولیت کو نہ صرف کم نہیں کریں گے بلکہ اضافے کا باعث بنیں گے۔ 
 نواز لیگ اور اس کی حکومت کے حوالے سے ایک اور واقعہ بھی سمانے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اگر راجا ظفرالھق کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی تو وزیر اعظم شہاد خاقان عباسی اور دیگر متعلقہ وزراءکو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی نشاندہی کے بعد بعض مذہبی جماعتوں نے گزشتہ نومبر میں فیض آباد چوک پر دھرنا دیا تھا۔ یہ دھرنا وزیر قانون زاہد ھامد کے استعیفا کے بعد ختم ہوا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق حلف نامے میں ترمیم حساس مذہبی معاملہ ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے تو وزیراعظم اور کم از کم تین اہم وزراءجو نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں وہ اس کی زد میں آئیں گے۔ اس میں دو اہم شخصیات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور راجا ظفرالحق بھی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی اور راجا ظفرالحق میاں نواز شریف کے اعتماد کے ساتھی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ان کی جگہ پر وزیراعظم ہیں اور خیال ہے کہ آئندہ وقت میں نواز شریف کی غیر موجودگی میں وہی وزیراعظم رہیں گے۔ جبکہ پارٹی کی صدارت اور وزیراعظم کے لئے شہباز شریف نام آگے بڑھایا جاتا رہا ہے۔ لیکن مریم نواز شریف کے سیاسی میدان میں متحرک کردار اور نواز شریف کی جانب سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کو سزا لگنے یا ان کی طویل مدت کی نااہلی اور پارٹی عہدہ نہ رہنے کی صورت میں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لئے شاہد کاقان عباسی اور پارٹی کی صدارت کے لئے راجا ظفرالحق جیسے مضبوط امیدوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالتی فیصلے کب سامنے آتے ہیں اور پارٹی کے اندر کیس یاست میں جو بل پڑا ہے اسکو پارٹی قیادت کس طرح سے سلجھاتی ہے۔ 

آئینی نسخہ ایجاد

 Jan 29, 2018 
آئینی نسخہ ایجاد
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
طاہر القادری تو اب پارلیمانی سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے۔ خبر ہے کہ علامہ طاہر القادری نے ماڈل ٹاﺅن واقعہ پر اقدام کے لئے احتجاجی سیاست کو خیرباد کہہ کر قانون کا راستہ اختیار کیا ہے۔ا س ضمن میں انہوں تمام بوجھ چیف جسٹس آف پاکستان پر ڈال دیا ہے کہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔ وہ شاید نواز شریف کی جانب سے عدلیہ کے بارے میں جارحانہ رویے کا فائدہ اٹھانا چاہ ر ہے ہے ہیں۔ ویسے بھی 17 اگتس کا لاہور شو کئی حوالوں سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ اول یہ کہ جلسے میں بندے کم آئے۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اس کو صرف علامہ کا ہی شو قرار دیا اور اس کو کامیاب کرانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ ان دونوں پارٹیوں نے علامہ سے یکجہتی کا اظہارتو کیا لیکن اپنا پورا وزن ان کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ مزید یہ کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے دور کھڑی رہی۔ عمران خان اور آصف علی زرداری کا طاہر القادری کے کنٹینر تک تو لے آئے لیکن دونوں کے درمیان تلخی ختم نہیں ہوسکی۔ 
پاکستان میں مختلف نسخے آزمائے جاتے رہے۔ لیکن کوئی بھی نسخہ کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ ایوب خان نے مارشل لاء، بنیادی جمہوریتیں آزمائیں۔ جنرل ضیاءنے مارشل لاءاور غیرجماعتی انتخابات کا نسخہ استعمال کیا۔ مشرف نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک طرف رکھ کر تجربہ کیا۔ دلچسپ امر ہے کہ مارشل لاءلگانے والوں کی کیمیا گری میں بلدیاتی انتخابات بھی شامل تھے۔ ان تمام نسخوں میں عوام کی شرکت و شمولیت خال خال ہی رہی۔ جب جمہوریت آئی تو عوام کی سیاسی شرکت تو ہوئی لیکن آئین کی حکمرانی اور اچھی حکمران کا فقدان رہا۔ سیاسی جماعتیں وہ غیر ساسی قتوں کا آلہ کار رہیں۔ یوںملک کو ایک سیاسی اور جمہوری نظام دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا حصہ رہیں۔ نتیجے میں عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ 
اب حالات چکھ اور عندیہ دے رہے ہیں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن نواز لیگ کی حکومت قائم ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ تبدیل ہوا لیکن اسمبلی قائم رکھی گئی۔ اور نیا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔مقتدرہ حلقوں نے ملک کو آئینی نسخے پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔یعنی جمہوریت کا تسلسل بھی جاری رکھا جائے اور منتخب نمائندوں اور ایوانوں پر بھی آئین اور قانون کی رٹ قائم کی جائے۔ فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور اور چیف جسٹس کے بیانات سے لگتا ہے کہ اب مقتدرہ حلقوں میں خاموشی ہے۔آرمی چیف سینیٹ میں گئے ۔چیف جسٹس کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور گڈ گورننس اور آئین کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل، شفاف احتساب، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ، کرپشن کا خاتمہ اب ایجنڈا پر ہیں۔
 نواز شریف اگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو احتساب کے پنجے سے باہر نکل آئیں گے۔ ڈرایا جارہا ہے کہ اگر نواز شریف نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی تو وہ عدلیہ اور فوج پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔ اس ضمن میں ججز اور جرنیلوں کے احتساب کے معاملہ زیر بحث رہا ہے اور ابھی تک کہیں ایجنڈے پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اپنے بارے میں عوام میں موجود اپنا امیج بہتر بنانا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی حوالے سے سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ صرف نواز شریف اپنے حلقہ انتخاب سے رجوع نہیں کر رہے ہیں، بلکہ عدلیہ بھی اپنی صفوں کو بہتر بنانے کی طرف جارہی ہے۔ چیف جسٹس اآف پاکستان چیف جسٹس ثاقب نثار نے مقدمات کے جلد نمٹانے اور جلد انصاف دلانے کے لئے صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر متعلقین سے ا 15روز میں ٹھوس تجاویز مانگی ہیں۔ تیز رفتار اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے تنازعات کے حل کا متبادل طریقہ متعارف کرایا جارہا ہے۔ لاءاینڈ جسٹس کمیشن جس کا اجلاس گزشتہ جمعرات کو ہوا، ایک ماہ کے اندر اس کا دورباہ اجلاس تھا۔ چیف جسٹس نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا ہے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر بننے والی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ لاءاینڈ جسٹس کمیشن اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو تیز اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے متحرک کیا جارہا ہے۔ عدلیہ کے اندر خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ عدلیہ، حکومت اور پارلیمنٹ پر بھی عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے موجودہ قوانین میں ترامیم پر بھی زور دے گی۔ چیف جسٹس نے حال ہی میں ججوں اور وکلاءسے خطاب کا سلسلہ شروع کیا ہے انہوں نے حال ہی میں ججز کے قواعد کار میں نئی دفعات متعارف کرانے کی جانب بھی اشارہ کیا ۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں نواز شریف کا عدلیہ کی طرف جارحانہ رویہ برقرار ہے بلکہ اس میں روز بروز تیزی آتی جارہی ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ” وہ “کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دو، میں پوچھتا ہوں پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے، وہ کس طرح اس قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ اگر مجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا تو پھر قوم خود نوٹس لے گی۔ جڑانوالا میں انہوں نے آئین کی شق 62ون ایف کی تشریح کے حوالے سے قائم سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر بے پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلی ایک دن کےلئے ہو یا عمر بھر کی عوام سے رشتہ کوئی نہیں توڑسکتا۔ تحریک عدل اب رکنے والی نہیں ۔اس تحریک سے سستا اور فوری انصاف یقینی بنائیں گے۔ یعنی عدلیہ کے بارے میں اصلاحات نواز شریف کے ایجنڈا پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرمجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا توقوم خودنوٹس لے گی ۔ اگلا الیکشن میری نااہلی کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔ نواز شریف نے عوام سے رجوع کرتے ہوئے انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔ ہم ایسا نیا پاکستان بنائیں گے جہاں لوگوں کو باعزت روز گار ملے گا، ر، توانائی کا بحران قصہ پارینہ بنے گا۔پاکستان کے ہر اس شخص کو اپنا گھر اور ذاتی چھت دیں گے ۔یہ وہ نعرہ ہے جس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے 70 ع کا الیکشن جیتا تھا۔ 

 عدلیہ اور نواز شریف کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اب صورتحال کچھ اس طرح کی بن رہی ہے۔اب صف بندی اس طرح ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان قربت کے امکانات کم ہیں۔ نواز لیگ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی میں ہے اور پیپلزپارٹی کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ قربت۔ آرائی پر تلی ہوئی ہے ۔ عمران خان اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کے باوجود آصف علی زرداری کے ساتھ بھی کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ اس ضمن میں علامہ قادری کی کوششیں ثمر نہیں دے سکیں۔ تحریک انصاف سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے۔ ایسا ہی دھچکا علامہ قادری کو پہنچا کہ یہی اب سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر سیاست نہیں ہوسکتی لہٰذ انہوں نے احتجاج کے بجائے قانونی راستے پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔۔ سب سے بڑھ کر تین چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ۱) اب ملک میں آئینی نسخہ چلے گا۔ ۲) سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ ۳) فوری انتخابات کے مطالبہ عملا ختم ہو گیا۔ کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ 

عدالتی نظام میں اصلاحات نیا سیاسی تحرک

Feb 8, 2018
 عدالتی نظام میں اصلاحات نیا سیاسی تحرک
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
گزشتہ کئی ماہ تک ”برداشت “کے بعد عدلیہ نے بالآخر جواب دینا شروع کردیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دور ان یہ ریمارکس دیئے کہ” ہم جلسہ کرسکتے ہیں اور نہ لوگوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کا کہہ سکتے ہیں، عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے، کوئی ججز کو نکال باہر نہیں کرسکتا۔ ڈرانے والے عدالت آکر دیکھیں ہم ڈرتے یا نہیں“۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کون صحیح تھا کون غلط فیصلہ عوام کرینگے، کسی آئینی ادارے کو دھمکانا، تنقید کرنا آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ 
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے تحریک عدل کا اعلان کرنے کے بعد دو رخوں میں بات کو آگے بڑھایا ۔ ایک عدلیہ پر تنقید دوسرا عدلیہ میں اصلاحات کی تجویز۔ 
اگرچہ وفاقی وزیربرائے نجکاری دانیال عزیزنے کہا ہے کہ ن لیگ کی عدلیہ پرتنقید کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔تاہم بیشتر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نوازلیگ پالیسی کے تحت جان بوجھ کرعدلیہ پرتنقید کررہی ہے،نواز شریف کی کوشش ہے کسی نہ کسی طرح انہیں بھی توہین عدالت میں سزا ملے۔ نواز شریف عدلیہ کو سیاسی حریف کے طور پر دکھا کر متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں،وہ خود اور اپنی پرٹی کوعدلیہ کے حملوں کا شکار ثابت کر کے عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ الیکشن قریبآئیں گے عدالت پرتنقید میں مزید شدت آئے گی،نواز شریف الیکشن سے پہلے جیل جانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کرسکیں۔ 
حکمران جماعت کے علاوہ وزارت قانون بھی اعلیٰ عدلیہ میں تقرر اور برطرفی کے میکنزم کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پارلیمانی نگرانی کا نظام متعارف کرایا جاسکے۔ جمہوریت کی ایک اہم خصوصیت ”چیک اینڈ بیلنس“ کا نظام ہے جس کے تحت ہر ادارے کی حدود نہ صرف معین ہیںپارلیمانی جمہوریت میں مجموعی نگرانی کی ذمہ داری اعلیٰ ترین ریاستی ادارے کی حیثیت سے پارلیمان پر عائد ہوتی ہے۔ کونسا ادارہ کس طرح ہونا چاہئے۔ قانون سازی مقننہ کا اولین کام ہے۔ اس کا تعین عوام کو اپنے منتخب ادارے یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا ہے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک اہم قانون کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔’مقدمہ بازی اخراجات ایکٹ یکم مارچ 2018ءسے نافذ العمل ہوگا۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں کو انصاف کے حصول کیلئے غیر معمولی مالی بوجھ سے بچانا کہا جاتا ہے۔ ملک کے ہر شہری کی انصاف تک رسائی ممکن بنانے کی ضرورتوں میں سے ایک اہم نکتہ ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ظلم کا شکار ہونے والے فرد کو اپنی داد رسی کے لئے اخراجات ریاست برداشت کرے۔یعنی حصول انصاف کا عمل کم خرچ کے اندر، اتنے سادہ طریقے سے او کم وقت میں یقینی بنانے کا دعوا کیا گیا ہے ۔ 
 دوسری جانب کچھ عرصے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سرکردگی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدلیہ کیلئے رہنما پالیسی خطوط جاری کئے ہیں جن کے تحت احکام امتناع، کرایہ اور وراثت جیسے مقدمات چھ ماہ میں فیصل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور ضلعی عدلیہ کو دلائل سننے کے بعد 30دن میں فیصلہ دینے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ ہائیکورٹوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فیصلے تین ماہ سے زائد عرصے کے لئے محفوظ نہ کریں۔ 
گزشتہ برسوں کے دوران سینیٹ کمیٹی نے ججوں کے تقرر اور ان کی برطرفی کے حوالے سے پارلیمینٹ کی نگرانی کو موثر بنانے کے لئے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی تھی ۔یہ معاملہ مختلف سطحوں پر زیر غور رہا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے وقت گزشتہ پارلیمنٹ نے پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے کا اختیار دینے کی سفارش کی تھی مگر بعدازاں سپریم کورٹ کی تجاویز منظور کرتے ہوئے متعلقہ ترمیم میں تبدیلی کر دی تھی۔ اب جن آئینی ترامیم پر کام ہورہا ہے۔ سینیٹ میں حکوممت کی کم عددی طاقت کے پیش نظرشاید یہ ترامیم عام انتخابات کے بعدپارلیمنٹ میں پیش ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات نواز لیگ خواہ اس کے مخالفین کے لئے زیاہد اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں۔ 
 ان دو طرفہ تحرک کے بعدعدالتی اصلاحات ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان گشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسی جنگ جو عدلیہ نہیں جیت سکتی۔ بڑے عدالتی اصلاحات کی دہلیز پر نہیں۔ فوجی عدالتوں سے متعلق دو آئینی ترامیم اور عدلیہ کی جانب سے ان کو تسلیم کرنا سے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی اصلاحات کا خواب اسی دن ختم ہو گیا تھا۔عدلیہ خود کو بطور ادارہ اپنا تحفظ کرے۔ یہ ایک اہم نقط ہے۔ معاملہ سیاسی بالادستی کا ہے۔ عدلیہ بڑی یا پارلیمان اور حکومت؟ 
آج صورتحال یہ ہے کہ نواز لیگ کے سینیٹر نہال ہاشمی کو جیل بھیج دیا اور ان کو پانچ سال کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ دو وزراءکو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیںَ۔ لاہور ہائکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ باتیں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو عدلیہ پر حملوں سے نہیں روک سکی ہیں۔عدلیہ کی جانب سے بھی جواب آرہے ہیں۔کوئی بھی فریق اس معاملے میں برداشت سے کام نہیں لے رہا۔ لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم کی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ بلکہ سپریم کورٹ کے حالیہ اقدامات کے بعد نواز شریف کیمپ کے جارحانہ انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں عدلیہ کی بحث کو سامنے لایا گیا ہے۔ ججزکا اس طرح کے سیاسی بحث میں آنا اچھی بات نہیں سمجھا جاتا۔ خاص طور پر جب سیاستدان کے خلاف اتنی سخت زبان استعمال کر رہے ہوں جس میں وہ اشتعال میں آجائے۔ تصادم کی طرف بڑھتی ہوئی صورتحال کو روکنے کی ضرورت ہے۔ 
لگتا ہے کہ نواز شریف اور ان کے رفقاءکی عدلیہ کے خلاف ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ تاکہ عدلیہ کو دباﺅ میں لایا جائے، ایک ایسے موقعہ پر جب نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف حتساب کا مقدمہ آخری مراحل میں ہے۔ نواز شریف عدلیہ کا شکار ہو کر ہمدردی کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں۔یہ بات انہیں آئندہ انتخابات میں مدد دے گی۔ 
جب یہ سمجھا جارہا ہے کہ عدلیہ ایکٹوازم کا رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہمیشہ حساس مواقع پر عدلیہ کا سیاسی معاملات میں پھنس جانے یا الجھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ جب وہ حکومت اور پارلیمنٹ کے حدود میں تجاوز کرتی ہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں عدلیہ کا تقدس پامال ہوا۔ عوام پسندی کے تحت کئے گئے فیصلے ادارے کے لئے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہ عدلیہ کے لئے آزمائش کی گھڑی ہے۔ ججوں کو زیادہ دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔