Wednesday, March 28, 2018

لاہور تھیٹر

Dec 11, 2017

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 اب سیاست کا تھیٹر لاہور منتقل ہو گیا ہے۔ جہاں پنجاب حکومت کو گرانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ نومبرمیںاسلام آباد اور راولپنڈی میں وفاقی حکومت کو عضو معطل کرنے کے بعد نئی چال شروع ہو چکی ہے۔پنجاب نواز لیگ کا قلعہ ہے، جہاں پر اکثریت کی بیناد پر یہ جماعت ملک میں حکمرانی ک کر رہی۔ نواز شریف کو عوامی رابطے کی مہم سے روکنے کے لئے پارٹی کے اندر اسٹبلشمنٹ کے حامی عناصر تیسری قوت کی مداخلت کے لئے راستہ بنا رہے۔ ایک دباﺅ پارٹی کے اندر موجود دائیں بازو اور اسٹبلشمنٹ کے حامی عناصر کا ہے، تو دوسری طرف ماڈل ٹاﺅن سانحہ کا ہے، جو جسٹس باقر نجفی رپورٹ کے بعد ازسرنو سامنے آیا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاست کا مرکز علامہ طاہرالقادری بن رہے ہیں۔ علامہ طاہرالقادری کی کیناڈا وطن واپسی اور ان سے نواز لیگ مخالفین کی ملاقاتیں نیا منظر نامہ بنا رہی ہیں۔ علامہ قادری نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔منتخب حکومت کو ہٹانے کے لئے پہلے کرپشن کارڈ استعمال کیا گیا، پھر مذہبی کارڈ اور اب قتل نامے کا کارڈ استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ اقتدار کے شوقین حلقوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ نواز لیگ اب خطرے میں ہے لہٰذا وہ خود کو اس جماعت سے الگ کریں۔ 
یہ پہلا موقعہ نہیں کہ ایک منتخب حکومت کو چور دروازے کی سازشوں کے ذریعے ہٹایا جارہا ہے۔ ضیاءدور کے بعد تقریبا یہ ایک روایت چل پڑی تھی۔ 2010 میں اٹھارویں تریم اور آئین کی شق 6 کے مضبوظ ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کا رجحان بڑھا۔ حکومت کو ہٹانے کی حالیہ کوششوں کی بعض دیگر خصوصیات بھی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کو بغیر مقدمہ چلائے نااہل قرار دیا۔ نااہل قرار دینے کے دلائل کمزور تھے کہ قانونی ماہرین ان کی مناسبت پر سوالات کر رہے ہیں۔ جنرل مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ جس نے بعد میں غداری کے مقدمے میں پیش ہونے سے انکار کردیا۔ اس سے عدلیہ کی کمزوری ظاہر ہوئی کہ وہ یونیفارم والے کسی بھی شخص کے خلاف چاہے وہ ریٹائر کیوں نہ ہو کارروائی نہیں کر سکتی۔ 
نواز شریف اور جنرل مشرف کے خلاف مقدمات چلانے میں جو فرق ہے وہ قانونی ماہریں اور عوام سے ہضم نہیں ہو رہا۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں سست روی سے دوہری معیار کا تاثر ابھرا۔ نواز شریف نے کورٹ آرڈر ماننے سے انکار کردیا اور اس کے جواب میں عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ موجود کوششوں کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ کوئی متحدہ اور منظم اپوزیشن نہیں۔ جو حکومت کو حقیقی مسائل پر چیلینج کر سکے۔ پی ٹی آئی کنگز پارٹی کے طور پر عمل کر رہی ہے۔ 
فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ گراﺅنڈ میں مسلم لیگ نواز کے پانچ اراکین اسمبلی نے آستانہ عالیہ سیال شریف کے پیر حمید الدین سیالوی کو استعیفا دیا اور کہا کہ اگر شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ استعیفیٰ نہیں دیا تو اور اراکین اسمبلی بھی مستعفی ہو جائیں گے۔ پنجاب کے وزیر قانون ایک ٹی وی ٹاک شو میں مذہبی اقلیتوں کے بارے میں موقف رکھنے کے بعد مخالفت کا سامنا ہے۔ پیر سیالوی خود سابق سینیٹر ہیں ان کا دعوا ہے کہ پندرہ اراکین اسمبلی ان کے پیروکار ہیں وہ ان کے کہنے پر استعیفیٰ دے دیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ ہفتے پیر سیالوی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جلد ہی ان سے ملیں گے اور رانا ثناءاللہ کے رہمارکس کے بارے میں وضاحت پیش کریں گے۔ لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ یقین دہانی نہیں مانی گئی۔ 
 غیر متوقع پیش رفت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے لاہور جا کرپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماﺅں نے ا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن لاہور کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر اپنے اس مطالبے کو درست قرار دیا۔ اس ملاقات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو فون کیا اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔چوہدری بردران بھی علامہ قادری سے رابطے میں ہیں۔ موجودہ حکومت کی یہ خوش قسمتی رہی کہ اس کے خلاف متحدہ اپوزیشن سامنے نہیں آسکی تھی۔ جس کے لئے اب کوشش کی جارہی ہے۔
مخالف سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ آئندہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے الیکشن سے قبل نواز لیگ کی حکومت کو گرانے کیلئے نیا سیاسی اتحاد تشکیل دیا جائے۔ پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اگرچہ ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہیں اور دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن وہ نواز لیگ کی حکومت کو مارچ سے پہلے گرانے کے ایک نکتے پراب متفق ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ 
بلاشبہ جون 2014 ءکو ماڈل ٹاﺅن لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاجی کارکنوں پر فائرنگ کا واقع قابل مذمت ہے اور اس سانحہ کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے۔تعجب کی بات ہے اگر سیاسی جماعتیں اس سانحے کو وقاعی اگر اتنا بڑا سانحہ سمجھ رہی تھی، تو اس وقت یہ اتحاد کیوں نہیں بنایا؟ اس سانحہ کے بعد پاکستان عوامی تحریک نے تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد میں نواز لیگ کی منتخب حکومت کے خلاف دھرنا دیا ، اسے پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس دھرنے کوجمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔پھر کچھ اس طرح کے واقعات ہوئے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی رفاقت نہیں چل سکی۔ علامہ قادری کا رول وقتی طور پر ختم ہو گیا۔ 
آج کی صورتحال میں اگر کوئی سیاسی اتحاد بنتا ہے تو اس کا ایجنڈا کچھ اور ہی ہوگا۔ دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ کسی طرح سے وفاق کے بعد پنجاب میں شہباز شریف کو اور نواز لیگ کو کمزور کرنا۔ دوسرا یہ کہ نواز لیگ مارچ میں متوقع سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ شہباز شریف کو اس لئے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے کہ نواز شریف کوامکانی سزا وغیرہ کی صورت میں وہ پارٹی کی قیادت کریں گے۔ اس طرح سے نواز لیگ اس بحران سے باہر نکل آئے گی۔ اس لئے خود پارٹی کے اندر دراڑیں ضروری سمجھی گئیں۔
حکمران جماعت میں اگرچہ بعض ڈراڑیں پڑی ہیں لیکن یہ جماعت غیر متوقع طور پر مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کو جھکایا جا سکا ہے لیکن آﺅٹ نہیں کیا جا سکا۔ اسٹبلشمنٹ کے حامی سیاستدان سمجھتے ہیں کہ وہ انتخابات میں نواز لیگ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کوا مید تھی کہ یہ پارٹی نواز شریف کو نااہل قرار دینے اور دیکر اس طرح کے اقدامات کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ فیض آباد کے ڈرامے اور اس کے بعد لاہور میں ہونے والے واقعات سے یہ بات سامنے آئی کہ اس جماعت کو مارچ حکومت نہیں رہنے دیا جائے گا کہ وہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلے۔ 
 ایک اچھی خبر یہ ہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی کے لئے مطلوبہ آئینی ترمیم پرراضی ہوگئی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کی مخالفت کے لئے علامہ قادری کے ساتھ مل کر جو اتحاد بنا رہی تھی اس سے دستبردار ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ جس نئی صف بندی کا وہ حصہ بن رہی ہے اس میں علامہ قادری اور عمران خان اہم ہیں۔ اور ان کے ہی مطالبے اور بیانیئے چلیں گے۔ 

No comments:

Post a Comment