Thursday, March 29, 2018

بلوچستان: سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ

Jan 15, 2017
بلوچستان: سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ 
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بلوچستان میں نواز لیگ کے منحرف اراکین اسمبلی نے کام دکھا دیا۔اپنوں کے ہاتھوں پارٹی کے وزیراعلیٰ کی حکومت ختم ہو گئی۔ اس عمل کو تجزیہ نگار سیاسی جماعتوں میں چائنا کٹنگ کا نام دے رہے ہے ہیں۔ لیگ ”ن“ کی جگہ ”ق“ کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ لیکن یہ حکومت کھڑی ”ن“ لیگ کے سہارے پر ہی ہے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے 14 وزاء اور 4 مشیروں پر مشتمل 18 رکنی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 11 ، مسلم لیگ ق کا ایک وزیر، تین مشیر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کا ایک ایک وزیر بھی لیا گیا ہے۔ میر سرفراز بگٹی کو ایک مرتبہ پھر داخلہ امور ، جیل خانہ جات اور پی ڈی ایم اے کے محکمے مل گئے۔بلوچستان اسمبلی کے 65 کے ایوان میں مسلم لیگ ن کی تعداد 21 ہے جس میں سے گیارہ اراکین پارٹی سے منحرف ہوکر عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ بنے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایوان میں اپنی تقریر میں کرنے اور عدم اعتماد کی مہم کے دوران ساتھ دینے پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ یہ بھی کہا کہ اب کوئی جمہوریت ڈی ریل نہیں کرسکے گا۔
سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں کبھی بھی کسی پارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ ایسے حالات پیدا کئے جاتے رہے کہ وزیراعلیٰ مستعفی ہوتے رہے ۔ 
بلوچستان میں رونما ہونے والا حالیہ اچانک سیاسی بحران بظاہر جمہوری عمل کا حصہ نظر آتا ہے ۔لیکن بغور مطالعہ بتاتا ہے کہ اس بحران کے جمہوری اور سیاسی عمل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلوچستان کے مخصوص حالات میں سیاسی اور جمہوری عمل پر بلوچستان کے عوام کا جو اعتماد بحال ہو رہا ہے جس کو جھٹکا پہنچا ہے۔ سردار ثناءاللہ زہری کے مستعفی ہونے اور نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب سے بھی یہ بحران ختم نہیںہوا۔ کیونکہ بلوچستان حالیہ اسمبلیوں کی مدت شروع ہونے سے لیکر ملک میں جاری سیاسی اتار چڑھاو کسی گنتی میں ہی نہیں آرہا تھا۔ اچانک اس بحران کے پیدا ہونے سے لگتا ہے کہ بعض قوتیں بلوچستان میں سیاسی استحکام نہیں چاہتی۔ اس بحران کے تین سے زائد پہلو ہیں۔ ایک پہلو ملک کی مجموعی صورتحال سے متعلق ہے، اس کو تجزیہ نگار یوں بیان کرتے ہیں کہ جن حالات میں سابق وزیر اعلیٰ سردار ثناءاللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ، وہ غیر معمولی تھے۔ یعنی سینیٹ کے انتخابات۔ تاکہ نواز لیگ سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ کر سکے۔دوسرا پہلو صوبائی سطح کا ہے جہاں پر بیک وقت چار فیکٹر کام کر رہے ہیں۔ یعنی بلوچ بمقابلہ پشتون سیاست اور آبادی، ، بلوچستان میں قبائلی اثر اور متوسط طبقہ تیسرا اراکین اسمبلی کی انفرادی حیثیت۔ چوتھا فیکٹر جے یو آئی اور پختونخوا میپ کا آپس میں ٹکراﺅ تھا۔
یہ حالات تاحال تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ کیونکہ سردار ثنائاللہ زہری بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی وجہ سے مستعفی نہیں ہوئے ۔بلکہ اپنی ہی جماعت نواز لیگ کے ارکان کی بغاوت کی وجہ سے انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ نواز لیگ کے ارکان کی بغاوت بھی اچانک سامنے آئی۔ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ سینیٹ میں نواز لیگ کے اراکین پارٹی کے ہی امیدوار کو ووٹ ڈالیں گے؟ یہ نواز لیگ کے لئے دوسرے ایوانوں میں بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
 حالیہ تحریک عدم اعتماد اور بعد میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک کو کہنا پڑا کہ اراکین پر ادارے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ یہ دباﺅ اس صورت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت بے بس نظر آرہی تھی۔ ان کا کنٹرول اپنے اپنے اراکین اسمبلی پر نہیں چل رہا تھا۔ 2015 ءمیں جب نواز لیگ اپنے ہی اسپیکر جان جمالی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھی۔ تب مرکز میں حکمران جماعت اور بلوچستان میں مخلوط حکومت رکھنے والی نواز لیگ کو اپنے ارکان پر کنٹرول حاصل تھا ، جو چند ماہ قبل اچانک ختم ہو گیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد بھی نواز لیگ کے سربراہ محمد نواز شریف کا دفاع کرتے رہتے ہیں لیکن وہ نواز لیگ کے وزیر اعلیٰ ثناءاللہ زہری کو بچا نہیں سکے۔ ان کی جماعت کے رہنماﺅں کے پہلے یہ بیانات آتے رہے کہ بلوچستان حکومت کے خلاف ہونے والی سازش کا جمعیت حصہ نہیں بنے گی۔ کیا نواز لیگ کی طرح مولانا فضل الرحمن بھی اپنی جماعت کے ارکان بلوچستان اسمبلی پر کنٹرول نہیں کر سکے ۔
یہی صورتحال نیشنل پارٹی رہی۔ اس پارٹی کے سربراہ ،وفاقی وزیر اور نواز لیگ کے اتحادی میر حاصل بزنجو بھی یہی کہہ رہے تھے کہ وہ بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ بھی ثناءاللہ زہری کو بچانے میں بے بس نظر آئے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ثناءاللہ زہری کو استعفیٰ کا مشورہ دے دیا۔ آخر ان سب رہنماﺅں کا اپنے ارکان بلوچستان اسمبلی پر کنٹرول کیوںنہیں رہا ؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے ۔ اس کا جواب اراکین اسمبلی پر دباﺅ کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان سے ملتا ہے۔
بلوچستان میں تبدیلی اس وقت لائی گئی جب سینیٹ کے انتخابات سے صرف تین ماہ کے اور اسمبلیوں کی مدت کا خاتمہ پانچ ماہ کی مدت کے فاصلے پر ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بحران کی وجہ متوقع سینیٹ کے انتخابات ہیں۔۔ موجودہ بلوچستان اسمبلی میں نوازلیگ سینیٹ کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھی۔ اب یہ پوزیشن متاثر ہو گی ۔ اگربلوچستان اسمبلی نہیں رہتی، تو سینیٹ کے انتخابات ممکن ہیں؟ لیکن موجودہ بلوچستان اسمبلی برقرار رہتی ہے تو نواز لیگ کوشش تو کر سکتی ہے کہ وہ بلوچستان سے سینیٹ کی مطلوبہ نشستیں حاصل کرلے ۔ثناءاللہ زہری پر بھی دباﺅ تھا کہ وہ اسمبلی توڑ دیں۔ لیکن انہوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت کی بات مانی اور اسمبلی توڑنے سے انکار کردیا تھا۔ اب صوبائی اسمبلی توڑنے کا آپشن پک گیا ہے۔ مسلم لیگ قاف کے ویزراعلیٰ اسمبلی توڑ سکتے ہیں ۔ بعض اراکین اسمبلی کے بیانات شایع ہوئے تھے جس میں انہوں نے بلوچستان اسمبلی توڑنے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ 
نواز لیگ اور نیشنل پارٹی کے دس اراکین نے ووٹ نہیں دیا۔ پختوکخوا عوامی ملی پارٹی نے اپنا امیدوار آغا لیاقت میدان میں کھڑا کیا تھا، جنہیں 13 ووٹ ملے ۔ بزنجو کا وہ سیاسی قد نہیں کہ وہ اس حساس اور تضادات کی زد میں آئے ہوئے صوبے میں وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال سکے۔ جان بوجھ کر ایک نئے کھلارٰ کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ کیونکہ کوئی اور رکن اسمبلی یہ گلہ اپنے سر لینا نہیں چاہ رہا تھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو، طاہر محمد اور سرفراز بگٹی ایک عرصے سے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سردار اختر مینگل کے لئے بھی موقعہ تھا کیونکہ نوے کے عشرے میں نواز شریف نے ان کی حکومت کو جانے پر مجبور کیا تھا۔ بلوچستان کی سابق حکومت کی اصل طاقت پختونخو عوامی ملی پارٹی اور اس کے لیڈ محمود خان اچکزئی تھے۔ صوبے میں اسی پارٹی کی چلتی تھی، جس کی وجہ سے حکومت میں شامل اراکین اسمبلی بھی ایک طرف تھے۔
وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جمہوریت کا تسلسل جاری ہے،صوبے میں ہماری پارٹی کی حکومت نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ بلوچستان میں ق لیگ، نواز لیگ، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا اتحاد تھا۔ ایک تضاد یہ بھی تھا کہ جے یو آئی اور پختونخوا عوامی ملی پارٹی وفاق میں نواز لیگ کی اتحادی ہیں لیکن بلوچستان میں ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ن لیگ کی اعلیٰ سطح پر پشتونخوا میپ کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس پر جے یو آئی کو ناراضگی تھی۔نوازلیگ ایک پارٹی کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں یہ پارٹی ایسے افراد پر مشتمل تھے جو ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں، جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت بلوچستان میں اپوزیشن میں تھی۔ بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کو اتحاد کا حصہ بنانے سے انکار کردیا تھا۔ نواز لیگ کے ارکان ثناءاللہ زہری کے استعفے سے پہلے ان پر کرپشن اور غلط ترجیحات کے الزامات لگاتے تھے۔ یہ بھی صورتحال رہی کہ بلوچستان میں ن لیگ کا کوئی منحرف رکن وزیراعظم سے ملنے کیلئے تیار نہیں تھا۔
 نئے ویزر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے عام انتخابات میں 554 ووٹ حاصل کئے تھے ۔بلوچستان اسمبلی کے موجودہ ارکان کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں انتخابات کس طرح ہوئے تھے اور وہ کس طرح منتخب ہوئے۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ حقائق سے آنکھیں نہ چرائیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ بلوچستان میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح انتہائی کم رہی ۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔بلوچستان کے لوگوں نے یا تو کسی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالے یا ان کا موجودہ سیاسی اور جمہوری عمل پر اعتماد نہیں ہے۔ بلوچستان ایک عرصے سے سیاسی عمل کے بجائے سیاسی مکینزم سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر سیاسی استحکام پیدا کرنے کے بجائے مکینزم کو ہی ترجیح دی گئی۔ جس میں اسمبلی بھی موجود ہے، منتخب وزیراعلیٰ بھی ہے اور ایسا وزیر اعلیٰ جو کسی بھی وقت فرمائش پر اسمبلی توڑنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔ بلوچستان میں بحران ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل تبدیل ہوئی ہے۔



No comments:

Post a Comment