Feb 5, 2018
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
آرمی چیف کی جانب سے پارلیمنٹ اور جمہوری تسلسل کا احترام کرنے کی بات کے بعد اب چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی جمہوری تسلسل سے عدلیہ کی جانب سے کسی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اگلے روز عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” عدلیہ آزاد ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ جمہوریت کو کبھی پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا۔ یہاں کوئی سازش ہو رہی ہے۔ آئین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ اس سے پہلو تہی نہیں کرینگے۔ “
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف عدلیہ کو اس کے ماضی کے کردار کے تناظر میں رکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا ئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ نواز لیگ کی قیادت مسلسل یہ تاثر دے رہی ہے کہ ماضی کی طرح سیاست دانوں کے خلاف کچھ قوتیں عدلیہ کا سہارا لے رہی ہیں ۔چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اسی تناظر میں لیا جارہاہے۔ جس طرح سے عدلیہ نے مختلف امور پرسو موٹو نوٹس لئے ہیں۔ یہ سوموٹو اکثر نواز لیگ کی حکومت سے متعلق ہیں۔ نتیجے میں دگر سیاسی جماعتیں اس پر خوش یا خاموش ہیں۔حالانکہ پیپلزپارٹی ایک زمانے میں عدلیہ پر سوالات اٹھاتی رہی ہے۔ اس طرح کے سوموٹو نوٹس لینے پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ عدلیہ کے سیاسی معاملات میں آنے کی وجہ سے عدالتی فیصلوں کے پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
عدالت کی جانب سے ازخود نوٹس لینے کے معاملے کو بعض حلقے جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب مسائل کا انبار ہو اور ادارے موثر طور پر کام نہیں کر رہے ہوں۔ حکومت بدعنوانی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہو، لوگ کس طرح سے معیاری اشیائے خوردنی، ادویات وغیرہ سے محروم ہیں اور حکومت اس میں اپنا کردار ادا نہیں کر پارہی۔ ایسے میں عدلیہ کا رول بنتا ہے۔ اگر اچھی حکمرانی ہو، عام لوگوں کو ریلیف ملتا رہے تو شاید عدلیہ کے اس رول کی گنجائش ہی نہیں بنتی۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کی بالادستی اور نظام کے تسلسل کا معاملہ ہے جس سے آنکھ نہیں چرائی جاسکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امر واقع ہے کہ جمہوری حکومتوں کو یہ شکایت رہی ہے کہ وہ مسلسل عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ یکسوئی کے ساتھ کام نہیں کر پاتی۔ نیتجے میں عوامی مسائل کو ایڈریس نہیں کر پاتی۔ لہٰذا یہ سب امور ایک دوسرے سے بظاہر الگ سہی لیکن جڑے ہوئے بھی ہیں۔ اس ملک کو ایک اچھی جمہوریت کی ہی نہیں بلکہ اچھی حکمرانی کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح کی کیوں صورتحال بنائی جاتی کہ عوام کو یہ آپشن دیا جاتا ہے کہ جمہوریت چاہئے تو پھر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ویسے عوام اس تجربے سے بھی متعدد بار گزر چکے ہیں کہ جمہوریت نہیں تھی تب بھی ان کے مسائل حل نہیں ہپوئے۔ انہیںریلیف نہیں ملا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنے حدود میں کام رکے اور خود کو آین کے تحت رکھتے ہوئے ذمہ داری نبھائے۔ مولوی تمیزالدین کیس سے لیکر جنرل مشرف تک مختلف وقتوں میں عدلیہ سے جو کام لیا گیا وہ ایک تاریخ کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے جب عدلیہ ایسے امور اٹھاتی ہے جس سے سیاست اور سیاست دان متاثر ہوتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں کہ کیا ایک بار پھر عدلیہ پرانا رول تو ادا کرنے نہیں جارہی؟
عام تاثر یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت بچ اور نظام بچ گیا ہے لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف سیاسی والے سے بچ نہیں سکے ہیں۔ وہ نااہلی کی زد میں ہیں۔ اب انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کا متقبل کے موضوع پر سیمینار کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے سول سوسائٹی سے بھی رجوع کیا ہے۔کراچی میں منعقدہ اس طرح کے ایک سیمینار سے خطاب بھی کر چکے ہیں۔ اس سیمینارسے اگرچہ محمود خان اچکزئی اور میر حاصل بزنجو نے بھی خطاب کیا۔ یہ دونوں رہنما ان کے اتحادی ہیں۔ ان کی طرف سے یکجہتی کا اظہار کوئی بڑی معنی نہیں رکھتا۔ تاہم آئی اے رحمان، انیس ہارون اور کرامت علی کا خطاب بہت اہم سمجھا جارہا ہے۔میاں صاحب کی کراچی میں آمد خود ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے اس سے قبل شاید ہی کبھی اس طرح کے سامعین کو خطاب کیا ہو۔ اصل میں میاں نواز شریف نے دو نکات سویلین اختیارات کی بالادستی اور پڑوسی ممالک سے دوستی پرسول سوسائٹی اور جمہوری حلقوں میں خوشگوار جگہ حاصل کی ہے وہ اس کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ان تمام یقین دہانیوں کے باوجود اپنی مہم جاری رکھی ہے۔ ان کی حالیہ مہم میں تیزی کی کچھ وجوہات تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ ان کی نااہلی کی مدت کا عدلیہ تعین کرنے جارہی ہے کہ یا عمر بھر کے لئے ہے یا صرف ایک آئینی مدت یعنی پانچ سال کے لئے۔ دوسرے یہ کہ سینیٹ کے انتخابات 3 مارچ کو ہونے والے ہیں۔ نواز لیگ اس میں زیادہ نشستیں حاصؒ کر کے ایوان بالا کی چیئرمن شپ لینا چاہتی ہے۔ تیسرے یہ کہ اگر عدلیہ ان کی نااہلی کی مدت سے متعلق اور پارٹی کی قیادت کرنے سے روکتی ہے ۔ اس فیصلے سے قبل وہ ایک سیاسی ماحول بنانا چاہ رہے ہیں تاکہ عام انتخابات کی مہم میں پارٹی کو آسانی ہو۔ تاہم چیف جسٹس کے حالیہ خطاب کے بعد بھی سابق ویزراعظم کی جانب سے جاری مہم لگتا ہے کہ چند روز میں کسی نیتجہ پر پہنچنے والی ہے۔
No comments:
Post a Comment