Jan 4, 20018
بلوچستان جمہوریت کی کمزور کڑی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملکی صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رہی ہیں۔ ایک تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات معاملات کو کسی فیصلہ کن موڑ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ شریف برادران کا معنی خیز دورہ سعودی عرب ،جماعة دعوہ کے خلاف کارروئی، امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو طعنے اور مزید امداد روکنے کی دھمکی کے معاملات چل ہی رہے تھے کہ اچانک مخلوط بلوچستان حکومت کی تین اتحادی جماعتوں کے رہنماﺅں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان کیخلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔
نواز لیگ کے صدر اور سبکدوش وزیراعظم کی دورہ سعودی عرب سے واپسی پر منعقدہ پریس کانفرنس دورے کی پر اسراریت کو ختم نہیں کر سکی ہے۔ انہوں ایک طرف امریکی دھمکی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان امریکی امدا کا محتاج نہیں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ملکی معاملات پر نواز شریف کا لہجہ نہیں بدلا ہے۔ نواز شریف نے ایک بار پھر سازش کی بات کی اور کہا کہ اگر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا ختم نہیں کیا گیا تو گزشتہ چار سال کے دوران ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کردیں۔ اگر پردے کے پیچھے کارروائیاں نہیں رکیں تو وہ سب کچھ بتا دیں گے کہ گزشتہ 4 برسوں سے ملک میں کیا کچھ ہوتا رہا۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے ردعمل کو خوش آئند قرار دیدیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم جن سازشوں کی بات کر رہے ہیں، وہ سامنے لائیں۔
ابھی شریف برادران سعودیہ میں ہی تھے کی بلوچستان حکومت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی تھی۔اس تحرک کو تجزیہ نگار ان کے دورہ سعودی عرب کا توڑ قرار دے رہے ہیں۔
2013 کے انتخابات کے بعد دو بڑی جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ جس کی روءسے پہلے ڈھائی سال بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے ۔ باقی دھائی سال بعد نواز لیگ کے حصے کے ہیں جس پر سردار ثناءاللہ زہری وزیراعلیٰ ہیں۔ دو صوبائی وزیر ایک وزیراعلیٰ کے مشیر استعیفا دے چکے ہیں۔ سب سے اہم استعیفیٰ وزیتر داخلا سرفراز بگٹی کا ہے جو عملی طور پر وزیر داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کے ترجمان بھی تھے ۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام کارروایوں اور آپریشنز کی وضاحتیں دینے والے متحرک وزیر تھے۔ کوئٹہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ان کی عسکری قوتوں کے ساتھ قربت کا ذکر عام رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کی تین اتحادی جماعتوں نے وزیراعلی بلوچستان کیخلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔تحریک 14ارکان نے جمع کرائی۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ خان زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کوہرصورت میں ناکام بنانے کا ارادہ کیا ہے اچکزئی کی جماعت اور ا ن کا خاندان موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ فوائد ھاصؒ کرنے ولاے سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ”نواز شریف اور پارٹی قیادت، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین اور جمہوریت کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ غیر جمہوری قوتوں کاساتھ دے رہے ہیں انکو مشورہ ہے کہ وہ غیر جمہوری ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔ وہ اس طرف بھی اشارہ رکتے ہیں کہ اسلام آباد میں بھی کینیڈا والے صاحب اور کچھ اور لوگ جمع ہوگئے ہیں کہ اب جمہوری نظام کو نہیں چلنے دیا جائے گا مگر ہم جمہوریت کیساتھ ہیں۔ اچکزئی کے نزدیک نواز شریف اور مریم نواز جمہوریت کا جس طرح دفاع کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ عجیب بات ہے کہ بلوچستان میں سیاسی زلزلے کے آثار ظاہر ہونے کے بعد بھی نواز لیگ یہاں کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہی۔ یوں سمجھیئے کہ اس کام کاٹھیکہ محمود خان اچکزئی کو دیا ہوا ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شیپنگ میر حاصل خان بزنجو نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا۔لیکن انکی پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی پارٹی کی لائن کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔ حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات روکنے کے لئے بلوچستان کو لانچنگ پیڈ بنایا جارہا ہے۔
سینیٹ میں نواز لیگ کی کامیابی اور اسکے طاقت میں اضافے کو روکنے کیکوششیں ہورہی تھی۔ ایسے میں بعض استعیفے اور تحریک عدم اعتماد کی تحریک سامنے آ گئی ہے۔ بلوچستان موجودہ نظام میں سب سے کمزور کڑی ہے۔ جس کو بڑی آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔ یہاں کی مخصوص لسانی، جغرافیائی اور علاقائی حقائق کے پیش نظر بلوچستان میں قائم ہونے والی حکومتیں ہمیشہ کمزور رہی ہیں اور انہیں اسلام آباد کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ ستر کے عشرے میں سردار عطاءاللہ مینگل کی حکومت کے بعد بننے والی حکومتیں کمزور رہی ہیں۔ لہذا نہیں اسلام آباد اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتا رہا ہے۔ بعض دفعہ تو بلوچستان کی حیثیت سیاسی طور پر فاٹا سے مشاہبہ رہی۔
یہ درست ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کل 52 میں سے نواز لیگ کی بظاہر 21 نشستیں ہیں۔ پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے پاس 14 اور نیشنل پارٹی کے پاس 11 نشستیں ہیں۔ سرزمین پربلوچستان میں نواز لیگ کی نہ تنظیم سازی ہے اور نہ ہی عوامی حمایت ۔ لیکن اسلام آباد میں حکومت ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں بھی موجود ہے۔ خبریں ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان زہری کو اسمبلی ٹوڑنے کا پیغام ملا ہے ۔ لیکن انہیں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔ اب زہری کے بجائے کسی اور لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو اسمبلی توڑ سکے۔
سعودیہ سے واپسی کے بعد ان کے رویہ میں بظاہر کوئی لچک محسوس نہیں ہوتی ۔بلوچستان میں ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان جھگڑا ختم نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو دہرایا ہے کہ خارجہ پالیسی پر ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی حب الوطنی پر ہمیشہ سے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں” ہمیں ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے، اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو یہ بہت بڑی خود فریبی ہوگی کیونکہ ایسی ہی خود فریبیوں کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا تھا۔“ وہ اس موقعہ پر اسٹبلشمنٹ کو خود احتسابی یاد التے ہیں۔میاں صاحب نے ایک اور خطرے کی طرف بھی نشاندہی کی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں انجنیئرنگ ہوگی۔وہ کہتے ہیں کہ ملک کے وجود میں آنے کے 25 سال بعد پہلے انتخابات ہوئے جنہیں تسلیم نہیں کیا گیا اور ملک دولخت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں انتخابات کے نتائج کو قبول نہیں کیا گیا۔
کسی اور صوبے کی اسمبلی کو توڑنا انا آسان نہیں، اس میں کئی ”اگر مگر“ ، ” چونکہ“، ”چنانچہ“ ہیں۔ لیکن بلوچستان کی زمین پتھریلی سہی، مگر اس سیاسی مقصد کے لئے نرم ہے۔ موسم کے حوالے سے ابھی بھلی یہاں برف باری ہو رہی ہے لیکن سیاسی موسم درست لگ رہا ہے جہاں یہ سیاسی کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔اگر 9 جنوری کو ثناءاللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام بھی ہو جاتی ہے، بلوچستان حکومت اور اسمبلی میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہے گا۔ ۔ تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے رواں ماہ میں ہی اس کو گھر بھیج دیا جائے گا۔ بلوچستان اسمبلی کا زلزلہ پھر صرف کوئٹہ تک نہیں رکے گا۔ لگتا ہے کہ بلوچستان کے قلعہ پر محاصرہ تنگ کردیا گیا ہے۔ اور بلوچستان اسمبلی کے ذریعے سسٹم کو لپیٹا جارہا ہے۔
No comments:
Post a Comment