نواز شریف کے ہاتھوں میں دونوں کارڈ
نواز شریف حکومت میں اور اپوزیشن میں بھی
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
وقت بدل گیا ہے۔ آج کا نواز شریف کہتا ہے کہ جنہوں نے مجھے نااہل قراردیا ہے ان سے 2018ءمیں بدلہ لینا ہے،عام انتخابات میں امپائر کی انگلی والوں کے ڈبے خالی نکلیں گے۔ یہ منظورنہیں کہ 22کروڑعوام ایک شخص کووزیراعظم منتخب کریں اور چندلوگ ا سے گھربھیج دیں۔ 1999 والا نواز شریف ڈیل کرکے سعودی عرب چلا گیا تھا۔آج وہ جیل جانے کے لئے تیار ہے۔ ان کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ” یہ اکیلے نوازشریف کا مقدمہ نہیں،ہر اس وزیراعظم کا مقدمہ ہے جو 5سال مکمل نہ کرسکا۔میں پوچھتی ہوں کہ 20سال سے مائنس نوازشریف فارمولے پر کام کررہے ہوتمہیں کیا ملا؟“
اب پاکستان میں جمہوری عمل کو دس سال ہونے کو ہیں ۔آئین و قانون کی بالادستی واضح طور پر قائم ہوتی معلوم دے رہی ہے۔ اس دوران یہ ضرور ہوا کہ گزشتہ دور میں عدالتوں کے ذریعہ سید یوسف رضا گیلانی کو حالیہ دور میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے ہٹایا گیا۔ لیکن اسمبلیاں برقرار رہیں۔ اس عرصے میں کوئی مارشل لا نہیں لگا۔ لگتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں غیر سیاسی قوتوں کی براہ راست اور کھلے بندوں مداخلت اب نہیں چل سکتی۔ اب آئینی طریقے سے ہی معاملات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یعنی یہ بیانیہ مقبول ہو گیا کہ بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے۔ اب یہ امر یقینی ہو گیا ہے کہ تیسری مرتبہ عام انتخابات ہونگے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کرشمے سے کم نہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اس عرصے میں ایک اور نمایاں چیز یہ بھی سامنے آئی کہ عوام میں عدلیہ اور غیر سیاسی اداروں پر اعتماد میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ اب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی یہ کہنے کی جرئت ہو رہی کہ ” میری نااہلی کا فیصلہ پارلیمنٹ کے خلاف تھا۔ “ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق موجودہ صورتحال سے خوش نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں موجود سیاسی نظام فیل ہوچکا ،ملک کو انقلابی لیڈر کی ضرورت ہے۔ وہ اس لئے ایسا کہہ رہے ہیں کہ 2008 کے الیکشن کے بعد جو نظام بحال ہوا ہے اس میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔پیپلزپارٹی یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں مزاحمتی کردار ادا نہ کرسکی۔ اگر تب وہ مزاحمتی رول ادا کرتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔بہرحال پیپلزپارٹی نے مصلحت پسندی سے کام لیا۔
بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ بھی اہم ہے کہ ایک بھاری مینڈیٹ والے اور ایک انتہائی مضبوط وزیراعظم کو جج صاحبان نے کر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ دے دیا۔اب وہ وزیراعظم عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں ۔اس طرح کی رائے رکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ کڑے احتساب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی رائے سے اختلاف بھی کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ چند مثالیں یقیننا قائم ہو رہی ہیں کہ احتساب بھی ہو سکتا ہے اور یہ کہ وزیراعظم عدالتوں کا بھی سامنا کر سکتے ہیں۔
ملکی صورتحال کچھ اس طرح سے بنی ہے کہ پیپلزپارٹی یہ آس لگائے بیٹھی ہے کہ اسٹبلشمنٹ نواز شریف سے ناراض ہے، عدلیہ بھی اس کے حق میں نہیں ایسے میںمعلق پارلیمنٹ آئے گی، اور اس کسی طرح سے حکمرانی اس کے حصے میں آئے گی۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوا تو کسی طرح سے سندھ والا حصہ وہ بلاشرکت غیرے اپنے نام کروا لے۔ یہ درست ہے کہ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ الیکشن کے نتائج ایک بنے بنائے نقشے کے مطابق حاصل کر لئے جاتے تھے۔ یحیٰ خان کے انتخابات ہوں یا اس کے بعد 80 اور 90 کے عشروں میں منعقدہ انتخابات ،تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے گئے تھے۔لیکن آج کے بدلے حالات میں جس طرح سے مارشل لاءلگانا یا آئین سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنانا مشکل ہو گیا ہے اسی طرح مطلوبہ نتائج لانے بھی ممکن نہیں رہا۔
عمران خان نے طویل اور خطرناک حد تک چال چلی۔ انہوں نے جس طرح سے ہیوی منیڈیٹ رکھنے والے حکمران کو للکارا، اس کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ اور بعد میں یہ احتساب شروع بھی ہوا۔ جس کے مقدمے زیرسماعت ہیں۔ یہ سب کچھ نیا تھا۔ اور عام لوگوں کو بلکہ بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں کو بھی بہت پرکشش لگتا رہا۔ لیکن آگے چل کرعمران خان کی حکمت عملی پٹ گئی۔ وہ انتخابات میں دھاندلی یا بعد میں پاناما لیکس میں ایک ہی مطالبہ لئے ہوئے تھے کہ نواز شریف کو ہٹاﺅ۔ انگلی اٹھنے والی بات تو نہیں ہوئی،۔ چلیں جی، عدالتی فیصلے سے نواز شریف ہٹ گیا۔ اب کیا ہے۔ وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد نواز شریف نے جو موقف اختیار کیا اور جو حکمت عملی بنائی، اس کے نتیجے میں عمران خان کے اقتدار کی طرف جانے کے راستے مسدود ہو گئے۔ وہ اس لئے بھی مسدود ہوئے کہ عمران کان صرف نواز شریف کے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کوئی متبادل پروگرام یا نظام نہیں دے رہے تھے۔ کوئی واضح شکل میں مشور نہیں دیا۔ بلکہ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا جو سبز چراگاہوں میں چرنے کے ماہر تھے۔
جب عمران خان وزیراعظم نواز شریف کو للکارتے تھے تو وہ بہادر لگتے تھے۔عوام کو بھاتے تھے۔ اب اگر وہ ایسے نواز شریف کو چیلینج کر رہے ہیں جو خود ”مظلوم “ہے۔ جن پر مقدمات بھی چل رہے ہیں ، مختلف تحقیقات بھی ہو رہی ہے۔ عمران خان کے مقابلے میں نواز شریف نے جو حکمت عملی بنائی۔ بدلے ہوئے حالات سے مطابقت رکھتی تھی۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو چیلینج کیا، اور وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنے کے لئے اسے ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ پر بھی تنقید کی۔ اگر کوئی دوسرا لیڈر ایسی تنقید کرتا تو جیل میں سزا کاٹ رہا ہوتا۔ وہ ایک نڈر لیڈر کے طور پر ابھڑے۔ تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے عوام کا مخصوص مزاج ہے۔وہ یہ کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کو چیللینج کرنا اور بہادری کے ساتھ کھڑے ہونے والے لیڈر کا وہ ساتھ دیتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہیں لیکن حکمرانی نواز شریف کی ہی چل رہی ہے۔ نواز شریف بیک وقت اپوزیشن اور حکمران کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ وفاقی خواہ پنجاب میں صوبائی حکومت رکھتے ہوئے حکمران جماعت کے تمام لوازمات اور مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اپوزیشن اور حکمران دونوں کردار اتنے خوبصورتی سے ادا کر رہے ہیں کہ اصل اپوزیشن عمران خان ہوں یا پیپلزپارٹی ، اپوزیشن کے میدان سے باہر ہیں۔نواز شریف حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔
No comments:
Post a Comment