Thursday, March 29, 2018

عدالتی نظام میں اصلاحات نیا سیاسی تحرک

Feb 8, 2018
 عدالتی نظام میں اصلاحات نیا سیاسی تحرک
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
گزشتہ کئی ماہ تک ”برداشت “کے بعد عدلیہ نے بالآخر جواب دینا شروع کردیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دور ان یہ ریمارکس دیئے کہ” ہم جلسہ کرسکتے ہیں اور نہ لوگوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کا کہہ سکتے ہیں، عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے، کوئی ججز کو نکال باہر نہیں کرسکتا۔ ڈرانے والے عدالت آکر دیکھیں ہم ڈرتے یا نہیں“۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کون صحیح تھا کون غلط فیصلہ عوام کرینگے، کسی آئینی ادارے کو دھمکانا، تنقید کرنا آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ 
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے تحریک عدل کا اعلان کرنے کے بعد دو رخوں میں بات کو آگے بڑھایا ۔ ایک عدلیہ پر تنقید دوسرا عدلیہ میں اصلاحات کی تجویز۔ 
اگرچہ وفاقی وزیربرائے نجکاری دانیال عزیزنے کہا ہے کہ ن لیگ کی عدلیہ پرتنقید کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔تاہم بیشتر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نوازلیگ پالیسی کے تحت جان بوجھ کرعدلیہ پرتنقید کررہی ہے،نواز شریف کی کوشش ہے کسی نہ کسی طرح انہیں بھی توہین عدالت میں سزا ملے۔ نواز شریف عدلیہ کو سیاسی حریف کے طور پر دکھا کر متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں،وہ خود اور اپنی پرٹی کوعدلیہ کے حملوں کا شکار ثابت کر کے عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ الیکشن قریبآئیں گے عدالت پرتنقید میں مزید شدت آئے گی،نواز شریف الیکشن سے پہلے جیل جانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کرسکیں۔ 
حکمران جماعت کے علاوہ وزارت قانون بھی اعلیٰ عدلیہ میں تقرر اور برطرفی کے میکنزم کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پارلیمانی نگرانی کا نظام متعارف کرایا جاسکے۔ جمہوریت کی ایک اہم خصوصیت ”چیک اینڈ بیلنس“ کا نظام ہے جس کے تحت ہر ادارے کی حدود نہ صرف معین ہیںپارلیمانی جمہوریت میں مجموعی نگرانی کی ذمہ داری اعلیٰ ترین ریاستی ادارے کی حیثیت سے پارلیمان پر عائد ہوتی ہے۔ کونسا ادارہ کس طرح ہونا چاہئے۔ قانون سازی مقننہ کا اولین کام ہے۔ اس کا تعین عوام کو اپنے منتخب ادارے یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا ہے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک اہم قانون کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔’مقدمہ بازی اخراجات ایکٹ یکم مارچ 2018ءسے نافذ العمل ہوگا۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں کو انصاف کے حصول کیلئے غیر معمولی مالی بوجھ سے بچانا کہا جاتا ہے۔ ملک کے ہر شہری کی انصاف تک رسائی ممکن بنانے کی ضرورتوں میں سے ایک اہم نکتہ ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ظلم کا شکار ہونے والے فرد کو اپنی داد رسی کے لئے اخراجات ریاست برداشت کرے۔یعنی حصول انصاف کا عمل کم خرچ کے اندر، اتنے سادہ طریقے سے او کم وقت میں یقینی بنانے کا دعوا کیا گیا ہے ۔ 
 دوسری جانب کچھ عرصے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سرکردگی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدلیہ کیلئے رہنما پالیسی خطوط جاری کئے ہیں جن کے تحت احکام امتناع، کرایہ اور وراثت جیسے مقدمات چھ ماہ میں فیصل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور ضلعی عدلیہ کو دلائل سننے کے بعد 30دن میں فیصلہ دینے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ ہائیکورٹوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فیصلے تین ماہ سے زائد عرصے کے لئے محفوظ نہ کریں۔ 
گزشتہ برسوں کے دوران سینیٹ کمیٹی نے ججوں کے تقرر اور ان کی برطرفی کے حوالے سے پارلیمینٹ کی نگرانی کو موثر بنانے کے لئے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی تھی ۔یہ معاملہ مختلف سطحوں پر زیر غور رہا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے وقت گزشتہ پارلیمنٹ نے پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے کا اختیار دینے کی سفارش کی تھی مگر بعدازاں سپریم کورٹ کی تجاویز منظور کرتے ہوئے متعلقہ ترمیم میں تبدیلی کر دی تھی۔ اب جن آئینی ترامیم پر کام ہورہا ہے۔ سینیٹ میں حکوممت کی کم عددی طاقت کے پیش نظرشاید یہ ترامیم عام انتخابات کے بعدپارلیمنٹ میں پیش ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات نواز لیگ خواہ اس کے مخالفین کے لئے زیاہد اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں۔ 
 ان دو طرفہ تحرک کے بعدعدالتی اصلاحات ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان گشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسی جنگ جو عدلیہ نہیں جیت سکتی۔ بڑے عدالتی اصلاحات کی دہلیز پر نہیں۔ فوجی عدالتوں سے متعلق دو آئینی ترامیم اور عدلیہ کی جانب سے ان کو تسلیم کرنا سے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی اصلاحات کا خواب اسی دن ختم ہو گیا تھا۔عدلیہ خود کو بطور ادارہ اپنا تحفظ کرے۔ یہ ایک اہم نقط ہے۔ معاملہ سیاسی بالادستی کا ہے۔ عدلیہ بڑی یا پارلیمان اور حکومت؟ 
آج صورتحال یہ ہے کہ نواز لیگ کے سینیٹر نہال ہاشمی کو جیل بھیج دیا اور ان کو پانچ سال کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ دو وزراءکو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیںَ۔ لاہور ہائکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ باتیں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو عدلیہ پر حملوں سے نہیں روک سکی ہیں۔عدلیہ کی جانب سے بھی جواب آرہے ہیں۔کوئی بھی فریق اس معاملے میں برداشت سے کام نہیں لے رہا۔ لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم کی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ بلکہ سپریم کورٹ کے حالیہ اقدامات کے بعد نواز شریف کیمپ کے جارحانہ انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں عدلیہ کی بحث کو سامنے لایا گیا ہے۔ ججزکا اس طرح کے سیاسی بحث میں آنا اچھی بات نہیں سمجھا جاتا۔ خاص طور پر جب سیاستدان کے خلاف اتنی سخت زبان استعمال کر رہے ہوں جس میں وہ اشتعال میں آجائے۔ تصادم کی طرف بڑھتی ہوئی صورتحال کو روکنے کی ضرورت ہے۔ 
لگتا ہے کہ نواز شریف اور ان کے رفقاءکی عدلیہ کے خلاف ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ تاکہ عدلیہ کو دباﺅ میں لایا جائے، ایک ایسے موقعہ پر جب نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف حتساب کا مقدمہ آخری مراحل میں ہے۔ نواز شریف عدلیہ کا شکار ہو کر ہمدردی کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں۔یہ بات انہیں آئندہ انتخابات میں مدد دے گی۔ 
جب یہ سمجھا جارہا ہے کہ عدلیہ ایکٹوازم کا رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہمیشہ حساس مواقع پر عدلیہ کا سیاسی معاملات میں پھنس جانے یا الجھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ جب وہ حکومت اور پارلیمنٹ کے حدود میں تجاوز کرتی ہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں عدلیہ کا تقدس پامال ہوا۔ عوام پسندی کے تحت کئے گئے فیصلے ادارے کے لئے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہ عدلیہ کے لئے آزمائش کی گھڑی ہے۔ ججوں کو زیادہ دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ 


No comments:

Post a Comment